No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
از قلم قانتہ خدیجہ
“ہاں سوچا جاسکتا ہے؟” شاک سے نکلے وہ جواب دیتا وارڈروب کی جانب بڑھا جب حائقہ نے اسے کالر سے تھامے اپنی جانب کھینچا تھا۔
“سوچنا نہیں ہے کرنا ہے۔۔۔” وہ اسے مزید قریب کیے غصے سے بولی۔
“بیگم طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری؟۔۔۔ اور ارادے کیا ہیں؟” اس کا ماتھا چیک کرتے ہی اپنے کالر کی جانب اشارہ کیا تھا جبران نے۔
“فضول کی مت ہانکو، سیدھ سیدھا جواب دو مجھے۔۔۔” اس کی آنکھوں میں جبران نے ایک عجیب سا احساس دیکھا تھا، جو آج تک اسے نظر نہیں آیا تھا۔
“ہا۔۔۔۔میری ایک شرط ہے !” جبران نے ہاں کو منہ کھولا مگر فوراً منہ بند کرلیا تھا اس نے۔
“کیسی شرط؟” آنکھیں چھوٹی کیے حائقہ نے اسے گھورا۔
“تمہیں سموکنگ چھوڑنی ہوگی۔۔۔میرا مطلب ہے کہ سموکنگ آنے والے بےبی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔۔۔ اور تمہاری باڈی کو بھی۔۔۔اب تم سموکنگ کرو گی تو کیسے۔۔۔۔” جبران نے اپنی بات کہے اس کے چہرے کے تاثرات کو بھانپا جو خوشگوار نہیں تھے۔
“مجھے منظور ہے۔۔۔ میں تیار ہوں سموکنگ چھوڑنے کو!” حائقہ کی بات سن کر اس کی آنکھیں روشن ہوئی تھی۔
“تو اب؟” آنکھیں پھیلائے اس نے جبران سے سوال کیا۔
حائقہ کی شکل دیکھ کر جبران کا دل چاہا کھل کر قہقہ لگانے کو۔
“تو اب یہ کہ میں کل کی ہماری اپائنٹمنٹ لیتا ہوں ڈاکٹر سے۔۔۔ ایک بار چیک اپ کروالے تو بہتر رہے گا!”
“ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔۔” حائقہ نے سر اثبات میں ہلایا اور جانے کو مڑی جب جبران اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا۔
“یہ کیا حرکت ہے؟” حائقہ نے غصے سے اسے گھورا۔
“یار ایک طرف تمہیں بےبی چاہیے دوسری طرف قریب آؤ تو گھورنے لگ جاتی ہو۔۔۔ تم ڈیسائیڈ کیوں نہیں کرلیتی کہ کرنا کیا ہے؟” جبران نے منہ بنائے جواب دیا۔
“زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے ساتھ۔۔۔” اسے مسکراہٹ سے نوازتی زور سے جوتی میں مقید پاؤں اس کے پیر پر مارے وہ وہاں سے واک آؤٹ کرگئی تھی۔
“آؤچ!۔۔۔ یہ عورت ایسا کیا کھاتی ہے جو اتنی سخت جان ہے اس کی۔۔۔” اپنے ایک پیر کو دوسرے سے ملے جبران خود سے بڑبڑایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ آفس سے جلدی گھر آگئی تھی، جبران اور اسے لیڈی ڈاکٹر کے پاس جانا تھا مگر گھر داخل ہوئی تو ایک الگ ہی ڈرامہ لگا ہوا تھا۔
پورا لاؤنج پارٹی کی سجاوٹی چیزوں سے بکھرا پڑا تھا، کچھ غبارے ادھر ادھر فرش پر گھوم رہے تھے، صوفہ پر بیٹھا آدم مزے سے فیڈر پیے دونوں باپ بیٹا کی آپسی جھڑپ انجوائے کررہا تھا۔
“یار معیز سوری نا یار۔۔۔ اب مان بھی جاؤ۔۔۔” ہکا بکا جبران معیز کو منانے اس کے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا، جس نے جبران کو مکمل طور پر نظر انداز کیا تھا۔
“کوئی سوری نہیں۔۔۔ مجھے بات نہیں کرنی آپ سے۔۔۔” دونوں بازو سینے پر باندھے وہ صوفہ پر حائقہ کے ساتھ ٹک گیا تھا۔
حائقہ نے ابرو اچکائے اسے دیکھا جس کے چہرے پر آج پہلی بار اس نے ناراضگی دیکھی تھی۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟” اس نے آدم سے سوال کیا جو فیڈر پیتا مزے سے کندھے اچکا گیا۔
“یار یہ لے تیرے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہوں بخش دے مجھے۔۔۔” جبران نے دونوں ہاتھ معیز کے سامنے جوڑے جس پر وہ رخ موڑ گیا۔
“کیا کوئی مجھے بتائے گا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟” حائقہ نے اب ان دونوں سے سوال کیا۔
“یار بیگم اسے سمجھاؤ نا کہ مجھ سے بات کرلے۔۔۔ معاف کردے مجھے۔۔۔” جبران نے حائقہ سے سفارش کی۔
“پاپا کی وائف انہیں بتادے کوئی معافی نہیں ملے گی۔۔۔” معیز ویسے ہی منہ پھلائے بولا تھا۔
“بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے؟”
“یہ میری برتھڈے بھول گئے تھے!” معیز کا انداز شکائتی تھا۔
“بھولا نہیں تھا وہ بس زرا سا دماغ سے نکل گیا!” جبران نے اپنی گردن کھجائی۔
یکدم حائقہ کے دماغ میں کچھ کلک ہوا، پچھلے ویک معیز کا برتھڈے تھا، وہ سات سال کا ہوچکا تھا۔
“تمہارا برتھڈے تو پچھلے ہفتے تھا نا؟۔۔۔” ساتھ ہی حائقہ نے ڈیٹ دوہرائی تھی۔
“دیکھا انہیں بھی یاد ہے بس آپ بھول گئے بات نہیں کرنی مجھے آپ سے۔۔۔” وہ مزید ناراض ہوا۔
“یار معافی مانگ تو رہا ہوں!۔۔۔ اب بخش بھی دو اپنے باپ کو۔۔۔۔ بیگم!” جبران نے ایک بار پھر مدد طلب نگاہوں سے حائقہ کو دیکھا۔
“نو!۔۔۔ پاپا کی وائف آپ بیچ میں نہیں آئے گی۔۔۔” معیز نے اسے ٹوکا۔
“میں روم میں جارہی ہوں فریش ہونے۔۔۔” آنکھیں گھماتی وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ شاور لے کر چینج کیے باہر آئی تو دونوں باپ بیٹا کو ہنسی خوشی غبارے پھلائے دیکھ وہی ان کے پاس صوفہ پر جاٹکی۔
غور سے بس ان دونوں باپ بیٹا کی کاروائی دیکھے جارہی تھی جو غبارے پھلانے میں مصروف تھے اور ایک نگاہ آدم پر بھی ڈال لیتی جو اس وقت واقعی بچہ بنا غبارے سے کھیلنے میں مگن تھا۔
“لو بھئی کیک بھی آگیا تمہارا!” موبائل پر آئی کال کو سن جبران نے معیز کو خبر دی جس کی آنکھیں چمک اٹھی تھی۔
جبران والٹ سے پیسے نکالے کیک لینے جاچکا تھا۔
“بات سنو۔۔۔ تمہاری تو اپنے پاپا سے لڑائی چل رہی تھی یہ آدھے گھنٹے میں صلح کیسے ہوگئی؟” حائقہ نے تجسس کے مارے پوچھ ہی لیا۔
“لڑائی نہیں تھی بس میں ناراض تھا۔۔۔ اور پاپا نے سوری کرلی تو میں مان گیا!” معیز نے مزے سے سر ہلائے جواب دیا۔
“بس سوری پر مان گئے؟” حائقہ کو حیرت ہوئی۔
“ہوں!” معیز نے سر ہلایا۔
“ویسے آپ کی برتھڈے کب آتی ہے؟” معیز نے سر اٹھائے پیچھے کو گردن گھما کر سوال کیا۔
“میری؟۔۔۔۔ ٹائم ہے ابھی۔۔۔” حائقہ نے کندھے اچکائے۔
وہ اسے بتا نہ سکی کہ اس کی برتھڈے اگلے ہفتے ہے۔
“ایک اور سوال پوچھوں؟” معیز نے اجازت چاہی۔
“پوچھو!”
“آپ کے پاپا کبھی آپ کی برتھڈے بھولے ہے؟۔۔۔ کیا آپ کبھی ان سے ناراض ہوئی؟” معیز کا سوال عام تھا مگر وہ عام سوال حائقہ کے لیے عام نہیں تھا۔
ماضی کی یادیں اسے وقت میں پیچھے کھینچ لے گئی تھی۔
“پاپا آپ کب آئے گے؟۔۔۔ میری سب فرینڈز ویٹ کررہی ہیں، کیک کٹ کرنا ہے!” حائقہ نے موبائل پر ارسم صاحب سے شکوہ کیا تھا۔
“سوری بیٹا میں نہیں آسکتا، آپ کی بہن بیمار ہے میں کل آؤں گا نا پکا!” ارسم نے ماتھا مسلے اسے جواب دیا۔
“نو پاپا۔۔۔ نو ایکسکیوز آپ ہر بار کوئی نا کوئی ایکسکیوز دیتے ہیں، اس بار آپ آئے گے!” حائقہ غصے سے بولی۔
“حائقہ بدتمیزی مت کرو، کہاں نا نہیں آسکتا۔۔۔ اب تنگ نہیں کرنا!” غصے سے بولے وہ فون رکھ چکے تھے۔
اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھی۔
“تمہارے پاپا کب آرہے ہے حائقہ؟۔۔۔ کیک کٹ کرنا ہے۔۔۔” اس کی ایک فیلو نے سوال کیا تھا۔
“پاپا بزی ہے وہ نہیں آسکتے۔۔۔” اس نے دھیمی آواز میں جواب دیے۔
“تم ہر بار یہی کہتی ہو۔۔۔۔ ہر بار سب کو لیٹ کردیتی ہو۔۔۔ میری ماما سچ کہتی ہے تمہارے پاپا تمہیں چھوڑ کر جاچکے ہیں۔۔۔ وہ اب نہیں آئے گے۔۔۔” اس کی بات سن کر حائقہ بےآواز رونا شروع ہوگئی تھی۔
“یہ جھوٹ ہے ایسا کچھ نہیں ہے میرے پاپا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں وہ بس بزی ہے۔۔۔” وہ غصے سے چلائی۔
“تم جھوٹی ہو۔۔۔ میں اب تم سے بات نہیں کروں گی۔۔۔۔ جھوٹے لوگوں سے دوستی رکھنا غلط ہے۔۔۔ اور تم میں سے اب جس نے بھی حائقہ سے بات کی وہ مجھ سے بات نہیں کرے۔۔۔ یہ جھوٹی ہے۔۔۔” وہ بچی باقی دوستوں کی جانب مڑ کر بولی تھی۔
“ہم بھی نہیں کرے گے اس جھوٹی سے بات۔۔۔”
“جھوٹی
جھوٹی
جھوٹی”
سب بچے اسے تنگ کرنا شروع ہوچکے تھے، کانوں پر ہاتھ رکھے وہ وہی زمین پر بیٹھتی اونچی آواز میں رونا شروع ہوچکی تھی۔
کسی کی جلتی نگاہوں نے غصے سے یہ منظر دیکھا تھا۔
“آئی سوئیر ماما میں نے کچھ نہیں کیا!” خود کو کھینچتی ماں سے وہ روتے ہوئے بولی۔
“ماما پلیز لیوو می۔۔۔ مجھے درد ہورہا ہے۔۔۔” اس کے آنسوؤں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“تم اور تمہارا باپ دونوں ایک جیسے ہو۔۔۔ میری زندگی جہنم بنا ڈالی تم دونوں نے، خود تو وہ شخص وہاں دوسری بیوی کے ساتھ عیاشی کررہا ہے اور تم منحوس کو میرے گلے ڈال گیا۔۔۔” اس کے کمرے کا دروازہ کھولے انہوں نے حائقہ کو اندر پٹخا تھا۔
“اب رہو گی نا اس کمرے میں دو دن بھوکی پیاسی پھر عقل آئے گی، ہر وقت جا باپ باپ کا راگ زبان پر رہتا ہے دیکھتی ہوں کیسے نہیں اترتا!” اسے زمین پر دھکا دیے وہ غصے سے بولی۔
“ماما نہیں ، مجھے بند نہ کرے ماما۔۔۔ ماما۔۔۔۔” مگر ایک زوردار تھپڑ نے اسے مزید کچھ بولنے سے روکا تھا۔
اسے کمرے میں بند کیے وہ جاچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
“آنٹی، آنٹی۔۔۔” معیز کے گھٹنا ہلانے پر وہ ہوش میں آئی۔
“ہوں؟” وہ چونکی۔
“آپ ٹھیک ہے؟” متفکر انداز میں پوچھا۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم کیا پوچھ رہے تھے؟” حائقہ نے ماضی کو یادوں کو پیچھے جھٹکا۔
“آپ کے پاپا کبھی آپ کی برتھڈے بھولے ہیں؟”
“انہیں یاد کب رہتی تھی۔۔۔۔ ہربار!” پہلا جملہ خود سے بڑبڑائے بعد میں معیز کو جواب دیا۔
“پھر تو دونوں سیم ہوئے۔۔۔” معیز مسکرایا۔
“نہیں دونوں سیم نہیں ہیں۔۔۔ تمہارے پاپا کو اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔” اس کی آنکھوں میں ان دیکھا درد در آیا۔
ماضی کی یادیں پھر سے حملہ آور ہوئی، ماں کے گھر میں موجود وہ کمرہ یاد آیا جو ان تحفوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کا باپ بھیج دیتا تھا مگر خود نہ آتا۔
“آہ۔۔۔ آدم!” معیز کے چلانے پر وہ ہوش میں آئی۔
نظریں آدم پر گئی جو معیز کے بالوں کو غصے سے مٹھی میں تھامے ہوئے تھا اور خونخوار نگاہیں حائقہ کے چہرے پر ٹکائی تھی۔
حائقہ نے ایک ابرو اچکائے آدم کو گھورا جو منہ بنائے معیز کے بال چھوڑ، بڑی مشکل سے صوفہ پر چڑھتا حائقہ کی گود میں بیٹھ چکا تھا۔
اور معیز کو ان نگاہوں سے دیکھا کہ ‘یہ میری ملکیت ہے’ اس سے دور رہو۔
“تمہارا باپ کہاں رہ گیا ہے؟۔۔۔ کیک لینے گیا ہے یا بنانے؟” جبران کی غیرموجودگی محسوس کیے اس نے معیز سے سوال کیا جو آدم کے جلال کو مزید ہوا دینے کو کافی تھا۔
او آں کیے اس نے جواب دینے کی کوشش کی۔
“اتنی محنت نہ کرو تم سے نہیں ہو پائے گا!” طنزیہ مسکراہٹ سے حائقہ نے آدم کو چڑایا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ حائقہ کو ٹینک سے اڑا دے مگر ہائے رے سے چھوٹے ہاتھ، افسوس سے اپنے ہاتھوں کو گھورا اس نے۔
“وہ دیکھے آگئے!” معیز نے دروازے کی جانب اشارہ کیا جہاں سے جبران کیک کا ڈبہ تھامے اندر آیا تھا۔
“آپ کہاں رہ گئے تھے بابا آنٹی پوچھ رہی تھی آپ کا۔۔” معیز نے اسے بتایا جو کیک وہاں موجود ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔
“واقعی بیگم؟” جبران کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔
یکدم مسکان سمٹی، ماتھے پر بل پڑے۔
“اوہ شٹ!۔۔۔ یار رئیلی سوری بالکل مائنڈ سے نکل گیا۔۔۔ ہوسپٹل جانا تھا۔۔۔ یااللہ اپاؤنٹمنٹ کا ٹائم بھی نکل گیا۔” جبران نے پریشانی سے ماتھا مسلا۔
“اٹس اوکے ہم کل چلے جائے گے۔۔۔”
“آپ بیمار ہے؟” سوال معیز نے کیا تھا جبکہ آدم منہ اوپر اٹھائے اس کے ماتھے پر اپنا ننھا ہاتھ رکھا چکا تھا۔
دونوں کی آنکھوں میں اپنے لیے فکر دیکھ کر حائقہ کا شدت سے رونے کا دل چاہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا سر درد ہے۔۔۔” وہ دھیمی آواز میں بولی۔
“بخار تو نہیں؟” جبران نے بھی فکرمندی سے اس کا بخار جانچا۔
‘”نہیں ٹھیک ہوں میں۔۔۔ ریسٹ کروں گی کچھ دیر کے لیے تو ٹھیک ہوجاؤں گی۔۔۔” وہ زبردستی کی مسکراہٹ سے تینوں کو نوازتی آدم کو زمین پر بٹھائے کمرے میں جاگھسی تھی۔
کب سے روکے آنسوؤں بہنا شروع ہوگئے تھے۔
سر ہاتھوں میں گرائے وہ ایک بار پھر اپنی خامیوں پر جی بھر کر روئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
رات اترتے ہی طاہرہ بیگم، سارہ اور میسم بھی چلے آئے تھے۔۔۔ لاؤنج میں سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب وہ سب سے سلام لیے الگ صوفہ پر جا بیٹھی تھی۔
طاہرہ بیگم نے اس سے دو تین بار بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے کوئی خاص رسپونس نہیں دیا۔
سارہ اور میسم کے چہروں سے جھلکتی ناپسندیدگی جبران نے اچھے سے بھانپی تھی۔
ارسم امین ضروری اپاؤنٹمنٹ کی وجہ سے نہیں آ پائے تھے۔
“بس بیٹا ایک بہت امپورٹینٹ پیشنٹ آگیا تھا۔۔۔ ورنہ ارسم کا تو خود اتنا دل تھا آنے کا!” طاہرہ بیگم نے جبران کو جواب دیا۔
“وہ تو کبھی سگی بیٹی کے لیے نا آ پائے، اس کی سوتیلی اولاد کے لیے کیا خاک آتے۔۔۔” تنفر سے اس نے سوچا۔
تھوڑی ہی دیر میں کیک کاٹنے کے لیے وہ سب ٹیبل کے گرد اکٹھے ہوچکے تھے، حائقہ دور ہی رہی تھی ان سب سے۔
“چلو معیز کیک کاٹو!۔۔۔ اٹس آ کمپلیٹ فیملی” جبران کی گود میں موجود آدم اور اس کھڑے معیز کو دیکھ کر سارہ کیمرہ آن کیے بولی۔
“ایک منٹ۔۔” وہ حائقہ کی جانب بڑھا، ہاتھ سے تھامے جبران کے قریب لا کر کھڑا کرچکا تھا۔
“سارہ خالہ اب ہوئی کمپلیٹ فیملی۔۔۔ اب لے۔۔۔” وہ مسکرایا۔
طاہرہ بیگم کے لبوں پر مسکان گہری ہوئی، حائقہ کی آنکھیں حیرت سئ پھیلی اس نے معیز کو عجیب نگاہوں سے دیکھا، دل میں پھر سے وہی خوبصورت، انوکھا احساس اجاگر ہوا۔
سارہ نے آنکھیں گھمائی۔
“جبران بھائی اپنی وائف سے کہیے ٹو سمائل!” وہ جبران سے مخاطب ہوئی۔
“بیگم مسکرائیے” جبران کان میں بولا۔
حائقہ کے لبوں پر دھیمی مسکان در آئی۔
کیک کاٹے اس نے سب سے پہلے حائقہ کو کھلایا پھر جبران اور آدم کو۔
اب گفٹ سیشن شروع ہوچکا تھا۔
تمام لوگ باری باری اپنا گفٹ دے چکے تھے۔
“یہ آدم کی طرف سے۔۔۔” جبران نے ایک ویڈیو گیم معیز کی جانب بڑھایا جو راستے میں ہی آدم جانچ پڑتال کے لیے روک چکا تھا۔
مگر جب سمجھ سے باہر معملہ لگا تو معیز تک اسے جانے دیا۔
“اور آپ کی طرف سے؟” حائقہ نے دیکھا جبران نے تحفہ مانگتے وقت اس کی آنکھیں چمکی تھیں۔
“میری طرف سے؟۔۔۔ ابھی لایا!” جبران مسکراتا کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
“دیکھئیے گا پکا بائےسائیکل ہوگی، کب سے مانگ رہا تھا پاپا سے۔۔۔” وہ حائقہ کو بتائے خوشی سے چہکا۔ جبکہ حائقہ سوچ میں پڑگئی کہ اس نے تو کمرے میں ایسا کوئی تحفہ نہیں دیکھا تھا۔
معیز کے چہرے کی خوشی ماند پڑگئی جب جبران سائیکل کی جگہ ہاتھ میں فٹ بال کا سیٹ اٹھائے لایا اور اسے تھمایا۔
“کیسا لگا گفٹ؟” جبران نے سوال کیا۔
“بہت اچھا تھینک یو پاپا۔۔” اس نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔
اس کی یہ مسکان حائقہ کو زہر لگی، آج اس کا خاص دن تھا، یہ اداسی اس کے لیے نہیں تھی۔
“ویسے معیز سب نے گفٹ دے دیا۔۔۔ تمہاری پیاری نئی فیملی ممبر نے نہیں دیا کچھ؟” سارہ نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے سوال کیا۔
حائقہ کو یکدم ڈھیروں شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ سارہ کی کوئی بات اسے چبھی تھی۔
معیز نے حائقہ کو دیکھا جس نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔ اس سے پہلے معیز کچھ بولتا حائقہ بول اٹھی، وہ کسی صورت سارہ کو خود سے جیتنے نہیں دے سکتی تھی۔
“تمہیں ایسا کیوں لگا؟۔۔۔ میں نے معیز کو کچھ دیا نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اس کے لیے کچھ لیا بھی نہیں۔۔۔ معیز کا گفٹ آرڈر کرچکی تھی میں۔۔۔ مگر وہ کل ڈلیور ہوگا۔۔۔ اگر یقین نہ آئے تو شام میں آکر دیکھ لینا!” حائقہ نے شہد سے بھی زیادہ میٹھی مسکراہٹ سے سارہ کو نوازہ۔
“دیکھ لے گے۔” میسم حصہ ڈالنا نہ بھولا۔
“بہن کا چمچہ!” حائقہ نے زرا سی اونچی آواز میں اسے لقب سے نوازہ۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ تینوں اپنے گھر کو جاچکے تھے۔۔۔ اب بس لاؤنج میں جبران، حائقہ، معیز اور ادھ کھلی آنکھوں سے سویا آدم موجود تھے۔
“میں اسے سلانے جارہا ہوں، آجاؤ معیز تم بھی۔۔” آدم کو اٹھائے جبران کمرے کی جانب بڑھا۔
“آپ کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا” ان کے جاتے ہی معیز حائقہ سے بولا۔
“میں نے کون سا جھوٹ بولا؟” حائقہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“وہی گفٹ والا۔۔۔ آپ کی کوئی غلطی نہیں اگر آپ نے گفٹ نہیں لیا مگر جھوٹ نہیں بولتی آپ۔۔۔ اب سارہ خالہ اور میسم ماموں آپ کا مزاق بنائے گے جو کہ مجھے اچھا نہیں لگے گا”معیز کی فکر پر اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھل گئے تھے۔
“جھوٹ نہیں بولا تھا سچ میں گفٹ مل جائے گا تمہیں تمہارا کل۔۔۔ اب جاؤ سو جاؤ۔۔۔ لیٹ ہوگیا ہے!” اس کے ماتھے پر سے بال سنوارے وہ بولی۔
معیز اچھے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلائے جاچکا تھا۔
اس کے جاتے ہی حائقہ نے وانیہ کو کال ملائی تھی۔
“میں جھوٹی نہیں ہوں معیز” کال ختم کیے وہ خود سے بڑبڑائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“مسٹر اینڈ مسز جبران حیات!” اپنے نام کی پکار پر وہ دونوں اٹھے تھے۔
نرس نے انہیں ڈاکٹر کے کیبین میں جانے کا اشارہ کیا تھا۔
جبران نے دھیرے سے حائقہ کا ہاتھ دبایا تھا، وہ دونوں اندر داخل ہوئے تھے۔
مگر ان کا اندر جانا ایک حاسد کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا، ذولقرنین جو اپنی بیوی کے منتھلی چیک اپ کے لیے اس کی ڈاکٹر کے پاس آیا تھا، جبران اور حائقہ کو دوسری گائنی ڈاکٹر کے روم میں جاتے دیکھ وہ ٹھٹھکا، کچھ لمحوں کو دماغ کے گھوڑے دوڑائے اور پھر ایک کمینی مسکراہٹ ہونٹوں پر در آئی۔
ڈاکٹر سے بات چیت کرنے کے بعد وہ دونوں کچھ پریشان ہوئے تھے، خاص طور پر حائقہ ڈاکٹر کے مطابق حائقہ انہیں بچہ پیدا کرنے کے لیے مس فٹ لگی تھی، اسے وزن بڑھانے کی ضرورت تھی۔۔۔اور ساتھ ہی کچھ ٹیسٹ بھی لکھ دیے تھے حائقہ کے لیے جو اسے ہسپتال میں موجود لیبارٹری سے کروانے تھے۔
حائقہ ٹیسٹ کروانے جاچکی تھی جبکہ جبران وہی ٹہل رہا تھا۔
“ہیلو ڈئیر ایکس فرینڈ!” سامنے کھڑے ذولقرنین کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
“ذولقرنین۔۔۔ تم یہاں کیا کررہے ہو؟”
“میں تو یہاں اپنی وائف کا چیک اپ کروانے آیا ہوں۔۔۔ ویسے تمہیں دیکھا گائنی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہوئے؟ کوئی خوشخبری ہے؟ مجھ سے نہیں شئیر کرو گے؟” وہ ہنسا۔
“اپنے کام سے کام رکھو۔۔” جبران نے سر جھٹکا۔
“وہی رکھتا اگر مجھے تمہاری پرواہ نہ ہوتی، تم نے تو بیوی کے پیچھے لگ کر دوست کو چھوڑ دیا مگر میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا جبران آخر کو تمہارا مخلص دوست ہوں میں”
“تمہیں جو بکواس کرنی ہے جلدی کرو، میرا اور اپنا وقت برباد نہیں کرو” جبران دانت پیسے بولا۔
“چچ چچ!۔۔۔ مجھے تم پر ترس آرہا ہے جبران، کافی امیدیں لے کر آئے ہوگے نا تم دونوں میاں بیوی ڈاکٹر کے پاس مگر۔۔۔” ذولقرنین نے سر افسوس سے ہلایا۔
“میرے ساتھ فضول بحث نہیں کرو، دفع ہوجاؤ یہاں سے” جبران نے اسے انگلی سے جانے کا راستہ دکھایا۔
“غصہ کیوں ہورہے ہو؟۔۔۔ جارہا ہوں یار!۔۔۔ مگر جانے سے پہلے کچھ بتانا چاہتا ہوں تمہیں، وہ کیا ہے نا کہ دو خبریں ہیں تمہارے لیے میرے پاس!۔۔۔ ایک بری اور دوسری بہت بری۔۔۔ کون سی سننا چاہوں گے؟” گال کھجائے اس نے سوال کیا۔
جبران نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا۔
“چلو میں خود ہی سنا دیتا ہوں۔۔” وہ جبران کے قریب ہوا۔
“بری خبر جانتے ہوکیا ہے جبران حیات؟۔۔۔ حائقہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔” وہ اس کے کان میں بولا، جبران کی آنکھیں پھیلی۔
“اور اس سے بری خبر۔۔۔” ذولقرنین کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔
“اس بیچاری کو یہ بات خود بھی نہیں معلوم!” وہ ہنس کر پیچھے ہوا، جبران کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
“وہ کیا ہے نا جب مسکیریج ہوا تھا اس کا تب ہی ڈاکٹر یہ بات مجھے بتا چکا تھا، مگر میرے ذہن سے نکل گئی۔۔۔ اب یاد آیا تو تمہیں بتانے چلا آیا۔۔۔ سوچا دوست کا بھلا کردوں، ٹائم بچ جائے گا فضول کی محنت نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔”
“تمہیں تو میں۔۔۔” جبران غصے سے لاوا بنا اس پر جھپٹنے کو تیار تھا۔
“ریلیکس مین!۔۔۔ اب میں چلتا ہوں میری بیوی انتظار کررہی ہے میرا!” اسے آنکھ مارے وہ وہاں سے جاچکا تھا۔
ذولقرنین آگ لگا چکا تھا، جبران کی آنکھیں نم ہوئی، اس کے سامنے حائقہ کی امید بھری نگاہیں گھومنے لگی، مگر اس سچ سے وہ کیسے اسے آشنا کرتا؟۔۔۔ ذولقرنین کی لگائی آگ میں وہ اسے جلتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
