No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
پچھلے پندرہ منٹ سے وہ مسلسل اسے ہی دیکھے جارہا تھا، حائقہ نے ناشتے سے نگاہیں اٹھائے ایک دو بار اسے گھورا بھی مگر اس کی گھوری کو نظرانداز کیے وہ مسکرانے لگا۔
حائقہ کو اس کی دماغی حالت پر شک سا گزرا۔
“جبران تمہیں ہماری پہلی ملاقات یاد ہے؟” اچانک حائقہ نے سوال کیا۔
“ہاں کیوں؟” جبران نے اچھنبے سے سوال کیا۔
“میں نے تمہیں کچھ دیا تھا۔۔۔ یاد ہے کیا دیا تھا؟” کافی کا مگ لبوں کو لگائے حائقہ نے سوال کیا۔
بہت سوچنے کے بعد جبران کے ذہن میں جھماکا ہوا، وہ مسکرادیا، مسکرائے اس نے سر اثبات میں ہلایا۔
“تم نے مجھے سائیکائٹرسٹ کا نمبر دیا تھا!” وہ ہنس کر بولا۔
“مجھے لگتا ہے تمہیں واقعی اس کی ضرورت ہے، ایک بار مل آؤ!” حائقہ کے بولنے پر اس کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔ منہ بنائے اس نے اپنا ناشتہ پورا کیا۔
“میں جارہا ہوں!” اپنی جگے سے اٹھے وہ اونچی آواز میں بولا۔
“اللہ حافظ پاپا۔۔” معیز نے ہاتھ ہلایا۔
“میں جارہا ہوں؟” جبران مزید اونچی آواز میں بولا۔
حائقہ کے ماتھے پر بل پڑے، مگر موبائل پر آئے ایک اہم میسج پر اس کا تمام دھیان تھا۔
“میں جارہا ہوں!” جبران چلایا تو حائقہ نے غصے سے اسے دیکھا۔
“اس سے پہلے کہ میں یہ کافی مگ تمہارے سر پر دے ماروں تم واقعی میں چلے جاؤ!” دانت چبائے وہ بولی تو جبران وہاں سے سرپٹ بھاگا۔
“نجانے کون سے شوہر ہوتے ہیں جن کی بیویاں انہیں دروازے تک چھوڑنے آتی ہیں۔۔۔ میری تو اللہ حافظ کہنا بھی ضروری نہیں سمجھتی” خود سے بڑبڑائے وہ گاڑی لیے نکل چکا تھا۔
“تمہارے باپ کا دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔” اس کا گلا سنے حائقہ معیز سے بولی۔
“مجھے تو دل لگتا ہے۔۔۔” معیز نے کندھے اچکائے جواب دیا۔
حائقہ نے مڑ کر حیرت سے اسے دیکھا جو دوبارہ ناشتے پر جھک گیا تھا۔
“تم آج کل کچھ زیادہ ہی بڑے باتیں نہیں کرنے لگ گئے؟بچے ہو بچے ہی رہو!” حائقہ کلس کر بولی۔
“دو دن بعد سات کا ہوجاؤں گا۔۔۔ بچہ نہیں رہوں گا میں!” معیز نے ویسے ہی جواب دیا۔
“میری وین آگئی ہے میں جارہا ہوں ۔۔۔۔ اللہ حافظ!” اپنا بیگ کندھے پر ڈالے وہ آدم کو ماتھے پر پیار دیے حائقہ کی جانب بڑھا تھا۔
“مجھے لگتا ہے پاپا کو آپ پسند آگئی ہے۔۔” اسے مسکراہٹ سے نوازتا وہ اپنی بات کیے وہاں سے جاچکا تھا۔
حائقہ نے ایک لمحے کو اس کی بات کو سوچا۔
“یہ تمہارا بھائی کیا کہہ گیا ہے؟” حائقہ نے آدم سے سوال کیا جو معیز کی پیار کی جگہ کو ہاتھ کی ہشت سے رگڑے غصے سے اس کی پیٹھ کو گھور رہا تھا۔
اس کی اس حرکت پر حائقہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
“سیلف اوبسیسڈ بےبی۔۔۔” اسے ایک نئے لقب سے بھی نوازہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر؟” پی-اے نے دروازہ ناک کیے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی۔
“آجاؤ!” جبران نے اسے اجازت دی۔
“سر یہ آپ کے لیے آیا ہے۔۔۔” پی-اے نے ایک انویٹیشن کارڈ اس کے حوالے کیا تھا۔
کارڈ تھامے جبران نےاسے فوراً کھولا وہ ذولقرنین کی جانب سے تھا،غالباً اگلے ہفتے وہ کوئی پارٹی دے رہا تھا سب بزنس مینز کو۔
“کیا سب کو بلایا ہے؟” جبران نے کارڈ پر نگاہیں جمائے سوال کیا۔
“جی سر سب بزنس ریلیٹڈ لوگوں کو دعوت دی گئی ہے۔۔” پی-اے نے موؤدب انداز میں سر ہلائے جواب دیا۔
“پارٹی کی وجہ؟” جبران نے پی-اے سے سوال کیا۔
“سر ان کا کہنا ہے کہ سرپرائز ہے۔۔۔”
“ہمم! ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔” جبران کی اجازت پر سر ہلائے اس کا پی-اے وہاں سے جاچکا تھا۔
جبران کی نگاہیں بس کارڈ پر موجود دو الفاظ پر جمی ہوئی تھی۔
“ود سپوز(بیوی کے ساتھ)”
“اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟” وہ خود سے بڑبڑایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“واٹ ہیپنڈ وانیہ؟۔۔۔ کچھ کہنا ہے؟” حائقہ نے وانیہ سے پوچھا جو اپنے ہاتھ مڑوڑ رہی تھی۔
“وہ میم ایک ایوینٹ آرگنائز کروانا ہے۔۔۔ ارجنٹ ان آ ویک!” وانیہ نے اسے جواب دیا۔
“تم جانتی ہو نا ہم ارجنٹ ایوینٹس آرگنائز نہیں کرواتے، پہلے بکنگ کروانا ہوتی ہے؟” حائقہ نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
“آئی نو میم لیکن کلائنٹ کچھ سننے کو تیار نہیں۔۔۔ انہیں ایوینٹ آرگنائز کروانا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ سب آپ کے انڈر ہو!” وانیہ کے جواب پر حائقہ نے بھنویں اچکائے اسے دیکھا۔
“منع کردو!” حائقہ نے ہاتھ جھلایا۔
“میم وہ تین گنا زیادہ اماؤنٹ دینے کو تیار ہے۔۔” اب کی بار حائقہ بھی ٹھٹھکی تھی۔
اس تین گنا اماؤنٹ سے وہ بینک کا لون وقت سے پہلے اور آرام سے چکا سکتی تھی۔
“نام؟” حائقہ کے سوال پر وانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مسٹر اینڈ مسز آفان۔۔۔”
“ہمم!۔۔۔ تھیم؟”
“پارٹی تھیم”
“وچ وان؟”
“دراصل میم وہ ایکسپیکٹ کررہے ہیں ۔۔۔ تو وہ سب دوست رشتے داروں کو پارٹی پر بلوا کر انہیں سرپرائز دینا چاہتے ہیں!” وانیہ نے مکمل انفارمیشن انہیں دی۔
“کیا ہمارے شیڈیول میں انہیں ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے؟” حائقہ نے وانیہ سے سوال کیا جس نے فوراً شیڈیول دیکھا۔
“تھوڑا سا مشکل ہے مگر مینج ہوسکتا ہے۔” وانیہ نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے تم ان سے تمام انفارمیشن لے لو۔۔۔ کل جاکر وینیو کا چکر لگا آئے گے۔۔۔” حائقہ کی بات پر اس نے تیزی سے سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ کام نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوپہر میں ہی گھر لوٹ آئی تھی۔
نسرین سے پانی منگوائے صوفہ سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں موندے بیٹھی تھی جب سکول وین کی آواز پر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولے معیز کو اندر آتے دیکھا، مگر آج اس کی چال میں لرزش تھی۔
“السلام علیکم!” حائقہ کی جانب دیکھے بنا وہ دھیمی آواز میں سلام لیے کمرے میں چلا گیا تھا۔
حائقہ کو کچھ عجیب لگا اس کا انداز۔۔۔ ایک پل کو جی چاہا کہ اس کے پیچھے جائے مگر پھر خود ہی اپنی سوچ پرخود کو ڈپٹے وہ بیٹھی رہی، مگر نظریں بار بار معیز کے کمرے کی جانب اٹھے چلے جارہی تھی۔
“بی بی پانی!” نسرین نے پانی کا گلاس اسے تھمایا۔
“ہمم۔۔۔ یہ ادھر رکھو وہ معیز آیا ہے سکول سے جاؤ دیکھو اسے کچھ چاہیے تو نہیں؟” حائقہ نے نگاہیں ادھر ادھر گھمائے نسرین سے بولی۔
“جی؟” نسرین کو شاک لگا اس کی بات سن کر۔
“جی کی بچی میری شکل دیکھنا بند کرو اور جاؤ بچے سے پوچھو اسے کچھ چاہیےتو نہیں۔۔” حائقہ کے غصہ کرنے پر نسرین فوراً معیز کے کمرے میں بھاگی تھی۔
حائقہ کی نگاہیں اسی پر ٹکی تھی، دو منٹ بعد نسرین باہر آتی نظر آئی تو حائقہ نے دوسری جانب نگاہیں موڑ کی مگر ترچھی نگاہوں سے وہ نسرین کو فرسٹ-ایڈ باکس لےجاتے دیکھ پریشان ہوئی تھی۔
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟” حائقہ نے پریشانی چھپائے سخت لہجے میں نسرین سے سوال کیا۔
“کچھ خاص نہیں بی بی جی وہ بس بریک ٹائم کھیلتے وقت معیز بابا کو ہلکی سی کھروچ آگئی تھی تو میں نے سنی پلاسٹ لگا دی ہے۔۔۔” نسرین کے عام سے انداز میں بتانے پر حائقہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“اچھا ٹھیک ہے کھانا لگاؤ میرے لیے۔۔۔” حائقہ کی بات پر سر ہلائے وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
کھانا حائقہ نے اکیلے کھایا تھا، نسرین کے بتانے پر کہ دونوں بھائی سوئے ہوئے ہیں وہ چپکے سے ان کے کمرے میں گئی جہاں وہ آج پہلی بار آئی تھی۔
وہی لڑکوں کے لیے مخصوص دیواروں پر موجود نیلا رنگ اور ان پر موجود گاڑیوں اور سپرہیروز کے سٹیکرز۔۔۔
وہ دونوں بچوں کی جانب بڑھی، آہستہ سے معیز کا پاؤں تھامے اس نے ٹراوزر اوپر کیا۔۔۔ وہاں موجود سنی پلاسٹ دھیرے سے نکالی، وہاں چھوٹی سی چوٹ دیکھ کر اس کے ماتھے پر چند بل آئے، پرانی سنی پلاسٹ پھینکے ہاتھ میں موجود نئی سنی پلاسٹ لگائے وہ انہی قدموں کمرے سے باہر نکل چکی تھی۔
اس کے جاتے ہی معیز نے دھیرے سے دونوں آنکھیں کھول کر اس کی پیٹھ کو دیکھا۔
“ماما” لب ہلکے سے ہلے اور وہ دوبارہ سو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
“نیکسٹ ویک فری ہو تم؟” رات کے کھانے کے بعد جبران نے اس سے سوال کیا۔
“ہمم! کیا؟” ایوینٹ کی تھیم پر کام کیے اس نے جبران کی جانب دیکھا۔
“نیکسٹ ویک!۔۔۔ فری ہو تم؟”
“ایک ایوینٹ آرگنائز کروانا ہے۔۔ کیوں؟”
“پارٹی انویٹیشن آیا ہے ذولقرنین کی جانب سے، تمام بزنس مینز اور ان کی وائیوز کو بلایا ہے۔۔۔ سو آئی تھنک کے تم سے پوچھ لوں، مطلب کہ کوئی زبردستی نہیں ہے، نہ جانا چاہو تو اٹس یور ول۔۔۔” جبران تیزی سے بولا۔
“پارٹی ٹائمنگ کیا ہے؟” حائقہ نے بس اتنا سوال کیا۔
“رات کی ٹائمنگ ہیں۔۔”
“ٹھیک ہے چلے گے۔۔۔” وہ دوبارہ اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگئی۔
“سنو!”
“سنائیے؟” اچانک جبران کا انداز رومانوی ہوا۔
حائقہ کے غصے سے دیکھنے پر وہ گڑبڑایا۔
“اس طرح کی چھچھوری حرکتیں چھوڑ کر تھوڑا دھیان اپنے بیٹوں کا بھی رکھ لو۔۔۔ تمہارا بڑا لاڈلا سپوت آج چوٹ لگوا کر آیا ہے۔۔۔” حائقہ نے سر جھٹکے جواب دیا تو جبران تیزی سے کمرے سے نکلتا معیز کے کمرے کی جانب بھاگا۔
“ہنہ!۔۔۔ ویسے پوچھنا تک گوارہ نہیں کرنا، یوں کیسے خرگوش کی طرح بھاگا گیا ہے۔۔۔” اس کے لہجے میں کڑواہٹ در آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا پورا ہفتہ ان دونوں کا مصروف گزرا تھا۔۔۔ مگر اس مصروفیت میں بھی جو چیز حائقہ کو پریشان کیے جارہی تھی وہ معیز کی چوٹیں، وہ سکول سے روزانہ ہی کوئی نئی چوٹ لگوا لاتا۔۔۔ ایک بار تو حائقہ نے بھی پوچھا مگر وہ بات گول کرگیا تھا۔
پھر حائقہ نے بھی جانے دیا، جب باپ کو پرواہ نہیں تو وہ کیوں کرتی۔
اس وقت وہ وینیو میں موجود تمام انتظامات کروا چکی تھی۔
مسٹر افان سے اس کی ہی ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
“میم مسٹر افان آئے ہے آپ سے ملنا چاہتے ہیں!” وانیہ کے بلانے پر وہ سر ہلائے، چہرے پر پروفیشنل مسکراہٹ سجائے وانیہ کے ہم قدم ایک شخص کی جانب بڑھی۔
“مسٹر افان!” وانیہ کے پکارنے پر وہ مڑے۔
وانیہ نے تعارف کروایا۔
“ماننا پڑے گا مس حائقہ آپ واقعی میں کمال ہے، مطلب کہ جادو ہے آپ کے پاس۔۔۔ اٹس امیزنگ۔۔۔ آپ کی جتنی تعریف سنی تھی اس سے بڑھ کر پایا!” بدلے میں حائقہ نے بس پروفیشنل مسکراہٹ سے اس شخص کو نوازہ۔
ایسے جملے سننے کی وہ اب عادی تھی۔
“خوشی ہوئی سن کر مسٹر افان۔۔۔ اور زیادہ خوشی ہوگی جان کر کہ آپ کی پارٹی کو کیسا رسپانس ملا۔۔۔”
“ارے رسپانس کی فکر مت کرے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں 5/5 سٹار ملے گے اسے تو”
حائقہ نے سر خم کیے تعریف وصول کی۔
“بائے دا کانگریچولیشنز ٹو یو۔۔”
“کس لیے؟” مسٹر افان نے چونک کر سوال۔
“آپ ڈیڈ بننے والے ہیں!” حائقہ نے جواب دیا۔
“اوہ نو نو۔۔۔۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے دراصل یہ پارٹی میں نہیں دے رہا، یہ میرے باس کی جانب سے ہے۔۔۔” وہ جلدی سے بولے۔
“باس؟” حائقہ نے مڑ کر وانیہ کو دیکھا جس نے لاعلمی سے کندھے اچکائے۔
“جی میرے باس۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید بولتے حائقہ کے موبائل پر جبران کی کال آئی۔
وہ اسے گھر آنے کی تلقین کررہا تھا۔۔
حائقہ نے ٹائم دیکھا، اسے جبران کے ساتھ جانا تھا بس دو گھنٹے رہ گئے تھے اور آدھا گھنٹہ تو اسے واپس جانے میں لگ جانا تھا۔
“سوری مسٹر افان مگر مجھے ارجنٹلی نکلنا ہوگا۔۔۔ اپنے باس کو میری طرف سے کانگریٹس کہنا مت بھولیے گا۔۔۔ بائے!” وہ بیگ کندھے پر لٹکائے وہاں سے نکل آئی تھی۔
گھر آکر اس نے سب سے پہلے شاور لیا تھا۔۔۔ ڈھائی گھنٹوں میں وہ تیار ہوتی جبران کے ساتھ نکل چکی تھی۔۔۔ بچوں کے پاس سارہ اور میسم آچکے تھے۔
نہ انہوں نے حائقہ سے سلام لیا اور نہ ہی حائقہ نے انہیں کسی قسم کی اہمیت دی۔
وینیو کو دیکھ کر حائقہ کی آنکھیں پھیلی، شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اسے۔
“چلے؟” جبران کے پوچھنے پر وہ سر ہلائے، ٹرانس کی کیفیت میں اس کے پیچھے چل دی۔
اندر داخل ہوئے اسے زور کا جھٹکا لگا، ابھی تھوڑی دیر پہلے اسی وینیو کو تو وہ پارٹی تھیم کے لیے ڈیکوریٹ کروا کر گئی تھی۔
“آر یو شیور ذولقرنین نے یہی پارٹی ارینج کی ہے؟” حائقہ کے سوال پر جبران نے سر اثبات میں ہلایا۔
انہیں سامنے ہی ذولقرنین اور اس کی بیوی دونوں کھڑے نظر آئے۔
حائقہ کو دیکھ کر ذولقرنین نے اس کی جانب مسکراہٹ اچھالی۔
حائقہ اپنے دماغ میں تمام کڑیاں جوڑنے لگی، یکدم اس کی آنکھیں پھیلی۔۔۔ اس گھٹیا شخص نے جان بوجھ کر اس سے یہ سب کروایا تھا۔۔۔ وہ اسے اذیت دینا چاہتا تھا۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا تھوڑی ہی دیر میں ذولقرنین نے اپنے باپ بننے کی خبر وہاں موجود تمام لوگوں سے شئیر کی، مگر حائقہ کو چڑا دینے والی مسکراہٹ سے نوازنا مت بھولا۔
وہ اسے اذیت دینا چاہتا تھا اور اس میں کامیاب بھی ٹھہرا تھا۔اس نے چن کر حائقہ کی کمزوری پر وار کیا تھا، اس کے باپ بننے کی خبر سے سن کر حائقہ کے پرانے زخم اکھڑے گے وہ جانتا تھا اور اس میں کامیاب بھی ٹھہرا تھا۔۔۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر حائقہ کو اپنا نقصان شدت سے یاد آیا۔۔۔ اسے اذیت دینے کے لیے اسی سے یہ تمام ایوینٹ بھی آرگنائز کروایا۔
“گڈ ایوینگ مسز جبران”
اسے اکیلے پائے وہ اس کے پاس چلا آیا۔
حائقہ نے کوئی جواب نہیں دیا، اس وقت وہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
“سب مجھے مبارکباد دے چکے ہیں، مگر میں تو آپ کے منہ سے سننے کو بےتاب ہوں” حائقہ نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔
“ویسے کوئی مجھے کہہ رہا تھا کہ سال کے اندر اندر اولاد پیدا کروں گی، ہوسکتا ہیں دو ہوجائے؟۔۔۔ تو ملی کوئی خوشخبری کیا؟” جلادینے والی مسکراہٹ لبوں پر موجود تھی۔
حائقہ نے سرخ انگارہ نگاہوں سے اسے گھورا۔۔وہ جبران کی جانب بڑھی جو کچھ دوسرے بزنس مینز کے ساتھ کھڑا باتیں کررہا تھا۔
“جبران گھر چلو میری طبیعت نہیں ٹھیک۔۔” وہ فوراً اس کے پاس آتی بولی۔
“کیا ہوا؟۔۔۔ ایوی تھنگ فائن؟” جبران نے فکرمندی سے سوال کیا۔
حائقہ کا سر نفی میں ہلا۔۔۔
“بس گھر چلو!” وہ ضدی لہجے میں بولی۔
جبران سب سے معذرت کیے اسے وہاں سے لے کر نکل چکا تھا۔
اس کی حالت دیکھ کر ذولقرنین کے دل کو ڈھیروں سکون آیا تھا۔
“تم ٹھیک ہو نا؟” جبران نے فکرمندی سے اس سے سوال کیا۔
ان دونوں کے جلدی آجانے پر سارہ اور میسم کو حیرت ہوئی۔۔۔
“بھوک لگی ہے کچھ کھاؤ گی؟”
حائقہ اس پر چلانا چاہتی تھی، کہنا چاہتی تھی کہ اسے اکیلا چھوڑ دو مگر اس کی فکرمندی کو دیکھ کر اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
جبران پزا آرڈر کرچکا تھا۔
کھانا کھائے وہ کمرے میں واپس آچکی تھی، جبران کچھ دیر سارہ اور میسم کے پاس رہا، ان کے جانے کے بعد اور بچوں کے سوجانے کا یقین کیے وہ کمرے میں آیا تو حائقہ کو ادھر سے ادھر ٹہلتے پایا۔
“تم ٹھیک ہو؟” جبران واقعی میں اسے لے کر پریشان ہوگیا تھا۔
“تمہارا تیسرے بچے کے بارے میں خیال ہے؟یا پھر اکٹھے دو؟” حائقہ سیدھی مدعے کی بات پر آئی۔
“واٹ؟” جبران کی آنکھیں پھیل گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
