65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

از قلم قانتہ خدیجہ
“یار کہاں ہو تم؟ کب سے ویٹ کررہا ہوں میں تمہارا!” جبران کال پر جھنجھلا کر بولا تھا۔
“سوری بھائی مگر میں نہیں آسکتا۔۔۔ رامش کو کل رات سے تیز بخار ہے ابھی بھی ہوسپٹل میں ہوں میں!” اپنا ماتھا مسلے اس نے بیڈ کی جانب دیکھا جہاں اس کا بیٹا آنکھیں موندے سویا ہوا تھا۔
“اوہ!۔۔۔ اب کیسا ہے رامش؟”
“فلحال تو بس ٹھیک ہی ہے۔۔۔ باقی اللہ بہتر کرے۔۔۔” ذولقرنین نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“ان شاءاللہ ٹھیک ہوجائے گا وہ۔۔۔”
“ان شاءاللہ۔۔۔”
“جبران۔۔۔” اس سے پہلے وہ مزید بات کرتا خالہ امی کے بلاوے پر کال رکھتا وہ ان کی جانب بڑھا تھا۔
“یہ جبران ہے حائقہ کا شوہر اور جبران یہ وکٹوریا ہے حائقہ کی نینی۔۔۔ شی از جسٹ لائک آ مدر ٹو ہر” اس کے قریب آتے ہی طاہرہ بیگم نے اس کی ملاقات وکٹوریا سے کروائی تھی۔
جبران کے سلام پر انہوں نے نہایت محبت اور شفقت سے اسے پیار دیے بہت ساری دعائیں دی تھیں۔
حائقہ کے معملے میں انہیں طاہرہ بیگم پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں تھا۔۔۔ اور جبران طاہرہ کا بھانجا ہے اس سوچ نے انہیں مزید پرسکون کردیا تھا۔
حائقہ ان کی بیٹی جیسی نہیں بیٹی ہی تھی۔ اور جبران ان کی بیٹی کے لیے بہترین انتخاب تھا۔
وکٹوریا سے باتیں کیے جبران کی نگاہیں سٹیج پر اٹھی تھی جہاں موجود لڑکے کو دیکھ وہ پل بھر کو ٹھٹھکا تھا۔
جیری کو وہ پہلی ہی نظر میں پہچان چکا تھا جو حائقہ کے ساتھ نہایت ہنس کر اور خوش اسلوبی سے باتیں بھگارنے میں مگن تھا۔ حتیٰ کے وہ اس کا ہاتھ تک تھام چکا تھا۔
“میری بیوی کا ہاتھ ۔۔۔ کمینے۔۔۔” جبران نے اسے کئی گالیوں سے نوازہ۔
“جیری نہیں آیا؟” طاہرہ بیگم کے سوال پر اس نے انہیں دیکھا جنہوں نے وکٹوریا سے پوچھا تھا۔
“آیا تو تھا۔۔۔ ارے وہ رہا دیکھے پہلے ہی پہنچ گیا۔۔۔” سٹیج کی جانب دیکھ وکٹوریا ہنس کر بولی تھی۔
“جیری؟” جبران نے حیرت آنکھوں میں سموئے سوال کیا۔
“ارے ہاں جبران کو بتانا بھول ہی گئی۔۔۔ وہ جیری ہے وکٹوریا کا بیٹا۔۔۔” طاہرہ بیگم کے انٹرو پر اندر کا لاوا مزید ابلا تھا۔۔۔ وہ کمینہ اب اس کی بیوی سے گلے مل رہا تھا۔
وہ مزید جبران کو کچھ کہہ رہی تھی مگر اس کے دماغ میں بس اس کا اپنی بیوی کا ہاتھ تھامنا اور گلے ملنا ہی گھوم رہا تھا۔۔۔
یہ جیری شیری اس کی بیوی کی نینی کا بیٹا تھا، اس کا ملازم اور اس کی بیوی سے ناصرف اظہارِ محبت کررہا تھا بلکہ اب گلے بھی مل رہا تھا۔۔۔ اچھا کیا جو حائقہ نے منہ پر ہی انکار کردیا اس کمینے کو۔۔۔
ایک حلق پھاڑ چیخ پر وہ ہوش میں آیا تھا۔
سب کے سر یکدم سٹیج کی جانب مڑے۔۔۔
اپنی ٹانگ کو تھامے جیری نے درد پر قابو پانا چاہا تھا۔ سب کی نگاہیں جیری کے درد بھرے چہرے سے ہوتے اس کے پیروں میں بیٹھے آدم پر گئی جو آنکھیں چھوٹی کیے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے اسے گھور رہا تھا۔
یہ ظالم حسینہ اس کی تھی بھلا یہ کون تھا جو اس کے اتنا قریب تھا؟
یہ سوچ آتے ہی آدم کی آنکھیں ناولز کے ظالم ہیروز کی طرح سرخ انگارہ ہوگئی تھی۔۔۔۔ وہ اس ظالم حسینہ کو سزا دینا چاہتا تھا مگر حق ہا۔۔ نہ تو وہ اس کا سر دیوار میں مار سکتا تھا، نہ ہی تھپڑ اور نہ ہی بیلٹ کا استعمال کرسکتا تھا۔
یہ سوچ کر ہی کہ وہ اس ظالم حسینہ کو اس کے کیے کی سزا نہ دے پائے گا اسے اپنی مردانہ طاقت پر جی بھر کر افسوس ہوا تھا۔
مگر سامنے کھڑے اس بنا داڑھی کے ویلن کی آنکھوں میں تکلیف دیکھ کر دل میں گویا ڈھیروں سکون اتر آیا تھا۔
“جی او میرے شیر!” جبران کو آج پہلی بار اپنی اس اولاد پر پیار آیا تھا۔
“جیری!” وکٹوریا اور طاہرہ بیگم دونوں اس کی جانب بڑھی تھیں جس نے ابھی تک اپنی ٹانگ کو تھامے رکھا تھا۔
“بیٹا تم ٹھیک ہو نا؟” طاہرہ بیگم نے پریشانی سے سوال کیا
جبران آگے بڑھ کر آدم کو گود میں اٹھا چکا تھا جو حائقہ کے پاس جانے کو مچل رہا تھا، اور حائقہ کی گھوریوں کو نظرانداز کیے بڑے مزے سے اس کے کندھے سے جالگا تھا۔
“جی آنٹی۔۔۔ کافی مضبوط بچہ ہے یہ۔۔۔” جیری درد سہتا بولا۔
“آدم بیٹا یہ کیا طریقہ تھا؟” طاہرہ بیگم اس کی جانب مڑی جو حائقہ کی گردن میں منہ دے چکا تھا۔
“ارے یہ پیارا سا بچہ کون ہے؟” وکٹوریا اس بچے کو حائقہ کے اتنے قریب دیکھ کر حیران ہوئی۔
اپنے بارے میں اتنا میٹھا لفظ سن آدم نے ایک آنکھ کھولے حائقہ کی گردن سے منہ تھوڑا سا باہر نکالا تھا۔
“یہ آدم ہے جبران کا چھوٹا بیٹا اور بڑا معیز۔۔۔ معیز کہاں ہے؟۔۔۔ معیز بیٹا ادھر آؤ!” معیز کو بلایا انہوں نے جو چھوٹے قدم اٹھاتا جبران کے پاس آرکا تھا۔
“السلام علیکم!”
طاہرہ بیگم کے بولنے سے پہلے ہی معیز نے سلام لیا تھا۔
“ماشااللہ بہت پیارا بچہ ہے۔۔۔” وکٹوریا اس کے سلام پر مسکرائی اور اسے پیار دیا۔
“معیز یہ آپ کی ماما کی نینی اور ان کا بیٹا جیری۔۔۔” طاہرہ نے تعارف کروایا۔
“آر یو آل رائٹ۔۔۔ یو لک سک؟” معیز نے پریشانی سے جیری سے سوال کیا تھا۔
وکٹوریا کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
“ہی از فائن۔۔۔ مگر آپ کے بھائی کو شائد جیری پسند نہیں آیا۔۔۔” وکٹوریا نے مسکراہٹ دبائے جواب دیا جس پر آدم نے ناک چڑھائی تھی۔
“واٹ ہیپنڈ!” وکٹوریا نے مسکرا کر اس کے سوال پر تمام روداد اسے سنائی۔
“بری بات ہے آدم۔۔۔ وہ بڑے ہے ہم سے۔۔۔ ایسے نہیں کرنا چاہیے۔۔۔” ایک اچھے بڑے بھائی کی طرح معیز نے اسے سمجھایا تھا جس پر منہ بناتا وہ دوبارہ حائقہ کی گردن میں منہ دے چکا تھا۔
آدم کو یوں اپنے قریب پاکر حائقہ کے اندر اولاد کی خواہش مزید گہری ہوئی تھی۔
“اٹس اوکے معیز وہ بس ایک بچہ ہے۔۔۔” جیری نے مسکراتے ہوئے دانت پیسے تھے۔
“بائے دا وے آپ؟” اب وہ جبران کی جانب متوجہ ہوا۔
“جبران حیات ۔۔۔ حائقہ کا شوہر!” تیزی سے حائقہ کے گرد اپنا بازو پھیلائے وہ اس کے ساتھ چپک کر کھڑا ہوتا بولا۔
“نائس ٹو میٹ یو۔۔۔” جیری نے ہاتھ آگے بڑھا۔
“کاش میں بھی یہ کہہ پاتا۔۔۔” جبران بڑبڑایا۔
“جی؟” جیری نے حیرانگی سے پوچھا۔
“نائس ٹو میٹ یو ٹو!” دانتوں پر دانت جمائے اس نے نقلی مسکان کے ساتھ جواب دیا۔
“جبران حائقہ کے لیے بہترین ثابت ہوا۔۔۔ وہ اسے بدل رہا ہے۔۔۔” ان دونوں سے دور وکٹوریا طاہرہ بیگم کے پاس کھڑی بولی۔
“اتنی جلدی بدلاؤ وہ بھی حائقہ میں۔۔۔ یہ تو ایک خواب سا لگتا ہے۔۔” وہ ہنسی۔
“خواب نہیں حقیقت ہے یہ۔۔۔”
“اچھا اور آپ کو ایسا کیوں لگا؟”
“اپنی اولاد کھونے کے بعد بچوں سے دور بھاگنے والی حائقہ کو دیکھو کیسے آدم کو گود میں لیے بیٹھی ہے۔۔۔”
“آدم زبردستی بیٹھا ہے۔۔۔ حائقہ کی مرضی سے نہیں۔۔۔”
“کیا حائقہ کی مرضی کے بنا کوئی اس کے ساتھ زبردستی کرسکتا ہے؟” وکٹوریا کے سوال پر طاہرہ بیگم کو چپ لگی۔۔ سچ ہی تو بول رہی تھی وہ۔
“ویسے حائقہ نے گولڈ بریسلیٹ بھی پہن رکھا ہے۔۔۔” وکٹوریا کی مسکراہٹ بھری آواز پر طاہرہ بیگم نے چونک کر انہیں دیکھا۔
“آپ چاہے تو دیکھ لے۔۔۔۔”
“آپ نہیں جانتی وکٹوریا میں کتنی پرسکون ہوں یہ سن کر۔۔۔ یہ امید ہی کہ حائقہ وہ زندگی جی سکے گی جس پر اس کا حق ہے میرا دل انجانی خوشی سے بھر جاتا ہے۔۔۔ اللہ دنیا کی ہر بلا، ہر بری نظر سے اسے دور رکھے۔۔۔۔آمین!” انہوں نے محبت بھری نگاہوں سے حائقہ کو دیکھا جو آدم کو گود میں لیے فوٹوگرافس کھینچوا رہی تھی۔
“ثم آمین!۔۔۔ فکر مت کرے طاہرہ جس اولاد کے پاس آپ جیسی ماں کی دعا ہو۔۔۔ اسے کیا ہوسکتا ہے؟” وکٹوریا نے انہیں گلے لگایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈریسنگ مرر کے سامنے بیٹھ کر اپنی جیولری اتارتی حائقہ پر نگاہیں جمائے وہ اپنے خیالوں میں گم تھا۔
ولیمے کے پورے فکنشن وہ کسی سائے کی طرح حائقہ کے ساتھ رہا تھا۔۔۔ ایک پل کو بھی اس سے جدا ہوئے جیری کو اس سے بات کرنے کا موقع نہیں دیا تھا جبران نے۔۔۔ بلکہ جبران سے زیادہ تو خیال آدم نے رکھا تھا۔۔۔ مگر فکنشن کے عین آخر پر جیری اس سے اکیلے میں بات کیے تمام معملات سلجھا چکا تھا اور کیفے والے سین کے حوالے سے بھی جو کوئی شک جبران کے دل میں تھا وہ بھی دور ہوگیا تھا۔۔۔ مگر جس چیز نے جبران کو چونکایا تھا وہ تھا حائقہ کا اپنے ڈیڈ سے اجتناب۔۔۔ آج بھی جب وہ دعا دینے کو آگے آئے تو حائقہ نامحسوس انداز میں ان سے دو قدم پیچھے ہٹ گئی تھی۔
وہ باپ بیٹی کے معاملے میں پڑنا تو نہیں چاہتا تھا مگر اب وہ اس کی بیوی تھی اور اس کی بیوی سے جڑا ہر مسئلہ اس کا مسئلہ تھا۔
“کیا ساری رات جاگ کر گزارنی ہے؟۔۔۔ سونے کا ارادہ نہیں؟” حائقہ کب چینج کیے اس کے پاس آبیٹھی اسے معلوم ہی نہ ہوا۔
“ہوں؟۔۔۔ہاں؟” وہ چونک کر ہوش میں آیا۔
“سونا نہیں ہے؟۔۔۔ یا کچھ اور ارادے ہیں تمہارے؟” مسکراہٹ دبائے اس نے جبران کو دیکھا۔
اپنی بیوی کی بات پر شرمندہ ہوتا وہ غصے سے تنا لال چہرہ لیے واشروم میں جاگھسا تھا۔
جو بھی تھا مگر اپنی بیوی کا یہ بولڈ انداز اسے ہرگز پسند نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا آج شام میں تم فری ہو؟” صبح ناشتے کی ٹیبل پر جبران نے حائقہ سے سوال کیا۔
“خیریت؟” اپنا مخصوص ناشتہ نوش فرمائے اس نے جبران سے الٹا سوال کیا۔
اس کے بریڈ کے سلائس اور کافی کو دیکھ جبران کا منہ بنا تھا۔
کہاں وہ پراٹھے کھانے والا انسان اور کہاں یہ ڈبل روٹی کی دیوانی اس کی بیوی۔
“ہاں وہ ایک دوست کی طرف دعوت ہے آج!” جبران نے جواب دیے لسی گلاس میں ڈالی۔۔ (بھلا لسی کے بنا بھی کوئی ناشتہ ناشتہ ہوتا ہے؟)
حائقہ نے آنکھیں گھمائی۔۔۔ شادی اور اس کی بعد کی دعوتیں۔۔۔ سخت ناپسند تھی اسے۔۔۔
“کون دوست۔۔۔ آذر رحمان؟” حائقہ کے طنز پر جبران نے شکائتی نگاہوں سے اسے دیکھا جس پر حائقہ نے فقط کندھے اچکائے۔
وہ تو واقعی میں اسے قسطوں میں زلیل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
“ذولقرنین!” جبران نے تصیح کی۔
کافی پیتا ہاتھ رکا۔
“کتنے بجے جانا ہے؟” حائقہ کے اتنے آرام سے مان جانے پر جبران کو کچھ حیرانگی ہوئی۔
اسے تو لگا تھا کہ وہ منع کردے گی۔
“رات کا ڈنر ہے تو آئی تھنک سو آٹھ بجے۔۔۔”جبران نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
“ہمم!۔۔۔ فری ہوں میں!” حائقہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“آئی ایم ریڈی پاپا۔۔۔” معیز سکول یونیفارم میں تیار وہاں آیا تھا۔
“شگفتہ آپا ناشتہ لے آئے معیز کے لیے۔۔۔” جبران نے نئی میڈ کو آواز دی تھی جسے طاہرہ بیگم نے ہی بھیجا تھا۔
“یہ لے معیز بابا آپ کا ناشتہ۔۔۔” انہوں نے معیز کے سامنے ناشتہ رکھا۔
“آدم اٹھا کہ نہیں؟” جبران نے شگفتہ سے سوال کیا۔
“نہیں ابھی تک سو رہا ہے۔۔۔” جواب معیز نے دیا تھا۔
“حیرت ہے اتنی دیر تک سوتا تو نہیں ہے۔۔۔ کہی بخار تو نہیں۔۔۔ تم ناشتہ کمپلیٹ کرو میں دیکھ کر آتا ہوں اسے۔۔۔” معیز کے بالوں پر ہاتھ پھیرے جبران کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
اب ناشتے کی ٹیبل پر صرف دو لوگ موجود تھے حائقہ اور معیز۔۔۔ معیز نے ایک بار بھی اس کی جانب نہیں دیکھا تھا حائقہ نے بھی اسے مکمل اگنور کیا تھا۔
“الٹے نہیں سیدھے ہاتھ سے کھاتے ہیں۔۔۔۔” معیز ناشتہ کیے اچانک بولا۔
“ہوں؟” موبائل سکرول کرتی حائقہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
“الٹے نہیں سیدھے ہاتھ سے کچھ بھی کھاتے یا پیتے ہیں آنٹی!” اس نے دوبارہ اپنی بات دوہرائی۔
نظریں حائقہ کے بائیں ہاتھ میں موجود کافی مگ پر تھی جو وہ انجانے میں بائیں ہاتھ میں تھامے کافی پی رہی تھی۔
“آنٹی ہمم؟۔۔۔شکر ہے تم نے مجھے ماما نہیں بلایا!” وہ مسکرائی۔
“میں آپ کو ماما کیوں بلاؤں گا؟ جب آپ میری ماما ہے ہی نہیں۔۔۔” معیز نے الفاظ نہایت سادہ تھے مگر حائقہ کو بری طرح چبھے۔
“ناشتہ ہوگیا معیز؟۔۔۔ چلے سکول؟” جبران اسی وقت وہاں آدھمکا تھا۔
“جی پاپا۔۔۔” کرسی سے اتر کر گلے میں واٹر بوٹل اور ہاتھ میں لنچ باکس پکڑے وہ جبران کے ساتھ وہاں سے جاچکا تھا۔
جانے سے پہلے جبران شگفتہ آپا کو آدم کے حوالے سے ہدایت دینا نہ بھولا تھا۔ آدم کے اتنے دیر سونے پر اس نے طاہرہ بیگم کو کال کی تھی جن کے مطابق زیادہ تھک جانے کی بنا پر وہ اتنی دیر سویا تھا۔
“میں آپ کو ماما کیوں بلاؤں گا؟ جب آپ میری ماما ہے ہی نہیں۔۔۔” معیز کا یہ جملہ بار بار اس کے کانوں میں گردش کررہا تھا۔
“ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ نہیں ہوں میں اس کی ماما۔۔۔(پھر یہ تکلیف کیوں؟)” اس نے دل پر ہاتھ رکھا۔
وانیہ کی کال پر وہ سوچوں کے محور سے باہر نکلی تھی۔
“ہمم؟۔۔۔ ناٹ اگین۔۔۔ فائن۔۔۔” اس کی آج ایک اہم میٹنگ تھی مگر وہ صبح سے دوپہر پر چلی گئی تھی۔۔۔ فلحال آفس جانا فضول تھا اسی لیے ارادہ اس کا گھر پر ہی رہنے کا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں آدم صاحب بھی اپنی نیند سے جاگ چکے تھے اور پھر پوری سوسائٹی کو پتہ چل گیا تھا کہ آدم صاحب ہوش کی دنیا میں آچکے ہیں۔
اس کے لاؤڈ سپیکر نے حائقہ کا دماغ گھوما دیا تھا، نتیجاً وہ شگفتہ پر اچھی خاصی بھڑکی بھی تھی اور لگے ہاتھوں آدم کی بھی کرڈالی تھی۔
وہ جو اپنی پرانی بےعزتی بھول گیا تھا اب زخم نئے سرے سے تازہ ہوا تھا۔
بدلا
بدلا
بدلا
بس یہی الفاظ گونج رہے تھے اس کے دماغ میں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاؤنج میں کھلونے سے کھیلتے کسی کو ناپاکر اس کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔۔۔ اس وقت گھر پر صرف وہ دو لوگ تھے ایک آدم جبران اور دوسرا اس کا شکار حائقہ جبران۔
کھلونے وہی چھوڑے وہ نہایت خاموشی سے اپنے باپ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا جہاں سے باتوں کی آوازیں آرہی تھی۔ دھیمے سے دروازہ کھولے اس نے سر اندر کیے جھانکا۔
حائقہ موبائل کان سے لگائے، پیٹھ اس کی جانب کیے کسی سے بات کرنے میں مگن تھی۔ آنکھوں میں موجود چمک مزید ابھری۔۔۔۔ وہ لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجاتا بنا آواز پیدا کیے اس کے قدموں کے قریب جابیٹھا۔
اور پھر۔۔۔۔
پورے گھر میں حائقہ کی چیخیں گونج اٹھی تھی۔
اپنے تیز نوکیلے دانت آدم جبران اس کی ٹانگ میں گاڑھ چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔