65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

از قلم قانتہ خدیجہ
“پاپا آر یو آلرائٹ؟” گاڑی ڈرائیوو کرتے جبران سے معیز نے سوال کیا تھا۔۔۔ پچھلی سیٹ پر بےبی سیٹ پر بیٹھا آدم خراٹے ماررہا تھا۔
“ٹھیک ہی ہوں!” جلے دل سے اس نے جواب دیا تھا۔
“کیا آپ ان آنٹی سے شادی ہونے پر ناخوش ہے؟” معیز کے سوال پر جبران نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“ویسے ہونا بھی چاہیے شی از سکئیری!” معیز نے خود ہی اپنی بات کا جواب بھی دے ڈالا تھا۔
“تم ملے ہو اس سے؟” جبران نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“ملا نہیں ہوں مگر آج صبح جب آدم رو رہا تھا تو وہ نسرین آنٹی پر چلارہی تھی کہ اسے خاموش کروائے۔۔۔ میں کمرے سے دیکھ رہا تھا!” معیز نے سادہ سےے لہجے میں جواب دیا تھا۔
جبران کا دماغ یکدم کچھ دیر پہلے کے سانحے پر جا ٹھہرا تھا۔
سارہ اور میسم کے گھر آتے ہی ارسم کو بھی ہسپتال سے بلوائے انہوں نے سب کے سامنے جبران اور حائقہ کی اگلے ہفتے شادی کا اعلان کیا تھا۔۔۔ سارہ اور میسم کی یکدم چیخ پر اس نے گھبرا کر ان دونوں کو دیکھا جن کی آنکھیں خوفناک حد تک پھیل چکی تھی۔
کافی دیر تک وہ وہاں ان سب میں بیٹھا رہا مگر اس کے بعد حائقہ کمرے سے باہر نہ نکلی تھی، رات کا کھانا بھی اس نے کمرے میں ہی منگوایا تھا۔
جانے سے پہلے وہ دونوں بہن بھائی جبران سے اکیلے میں ملے تھے، میسم تو اس کے گلے لگ کر رو دیا تھا۔
“کیا ہوگیا ہے یوں کیوں رو رہے ہو جیسے آخری بار دیکھ رہے ہو مجھے۔۔۔” جبران نے حیرت سے سوال کیا۔
“سمجھ لے آخری بار ہی مل رہا ہوں کیونکہ جو سوغات آپ کے حصے میں آئی ہے۔۔۔۔ کیا معلوم پھر دوبارہ اس نورانی چہرے کا دیدار ہو یا نا ہو۔۔۔” میسم کی بات پر سارہ نے بھی اکتفا کیے سر اثبات میں ہلایا تھا۔۔۔۔
“فضول مت بکو۔۔۔” جبران نے انہیں جھڑک دیا تھا۔۔۔
مگر اب معیز کی بات سن کر یکدم جبران کی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔۔۔ یہ کون سا عذاب اس کی زندگی میں شامل ہونے جارہا تھا۔۔۔۔گاڑی موڑے اس نے آئسکریم پارلر کے سامنے کھڑی کی تھی۔
“آئسکریم کھاؤ گے؟” سوال کیے بنا جواب مانگے وہ گاڑی سے نکلتا معیز کو باہر نکالے اور سوئے ہوئے آدم کو گود میں اٹھائے اندر داخل ہوا تھا۔
“یس سر یور آرڈر؟” کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے سوال کیا۔
“ایک ونیلا، ایک مینگو، ایک سٹابری، ایک پستہ، ایک قلفہ اور ایک چاکلیٹ۔۔۔ اور تم کیا کھاؤ گے میرے پانڈا؟” اپنا آرڈر لکھوائے اس نے معیز سے سوال کیا تھا۔
“سر یہ سب آپ کھائے گے؟” لڑکے نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“ہاں!۔۔۔ کیوں کوئی مسئلہ ہے تجھے؟” جبران کے سوال پر وہ گڑبڑا اٹھا۔۔
“نن۔۔۔ نو سر!” اس نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا۔
“میرے لیے ایک ونیلا کون ود چاکلیٹ ساس۔۔۔” معیز نے اپنا آرڈر دیا تھا۔
“اچھا ایسا کرو پیک کردو!” جبران فوراً بولا۔
تھوڑی ہی دیر میں اپنا آرڈر رسیو کیے وہ پھر سے گاڑی میں سوار اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔۔۔۔
گاڑی سلو سپیڈ پر چلائے وہ ایک کے بعد دوسری آئیسکریم کھول چکا تھا۔
اپنی کون کھاتے معیز نے ترچھی نگاہوں سے باپ کو دیکھا جو اس وقت سخت قسم کے ڈیپریشن کا شکار تھا۔
“پاپا تو جب پریشان ہوتے ہیں تو آئیسکریم کھاتے ہیں۔۔۔ ان کی ہونے والی وائف کیا کرتی ہوگی؟” اچانک اس کے دماغ میں سوال در آیا۔
دوسری جانب بند کمرے میں بیڈ پر بیٹھی وہ ایک کے بعد دوسری سیگریٹ پھونکے جارہی تھی۔
اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا تھا دل و دماغ میں ایک عجیب سے جنگ چھیڑ چکی تھی۔
بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اس نے سیگریٹ کا گہرہ کش ہوا کے سپرد کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
گاڑی پورچ میں پارک کرکے وہ اپنی جگہ سے نکلتا معیز کی جانب آیا اور دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا تھا۔
“چل میرے پانڈا اب زرا اس سوئے ہوئے شیر کو اٹھایا جائے۔۔۔” جبران نے بیک سیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔
اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کر آدم کو گود میں اٹھاتا اس کے پیرسے زور سے جبران کے منہ پر سلامی پیش کی تھی۔
“یا وحشت۔۔۔” اچانک ملنے والی اس سوغات پر وہ ہڑبڑا گیا تھا۔
“ابے یار۔۔۔ یہ کیا تھا؟” گال پر ہاتھ رکھے جبران نے حیرت سے سوال کیے آدم کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسوؤں اور غصہ لیے اپنے باپ کو گھور رہا تھا۔
“یہ۔۔۔یہ گھور کیسے رہے ہو تم مجھے؟۔۔۔۔ بھولو مت میں باپ ہوں تمہارا۔۔۔” اس کے غصے سے خوف کھائے جبران مصنوئی اکڑ سے بولتا ایک بار دوبارہ اسے لینے کو اندر جھکا تھا جب اس بار اس کے بال آدم کے اعتاب کا نشانہ بنے تھے۔
“آہ۔۔۔” اسے گاڑی سے باہر نکالنے میں تو وہ کامیاب ٹھہرا تھا مگر اپنے بال نہ چھڑوا سکا تھا۔
“یار کم از کم میرا قصور تو بتادے۔۔۔۔” جبران کی بات سنتے آدم کی نگاہیں ڈش بورڈ پر موجود آئیسکریم کے خالی منہ چڑاتے ریپرز پر گئی تھی۔
ایک تو پہلے ہی وہ صبح والی خونخار حسینہ اسے یتیم، غریب اور نوکرانی کا بچہ سمجھ کر نجانے کیا کچھ سناچکی تھی اور اب اس کے باپ نے واقعی اس کے ساتھ یتیموں والا رویہ اختیار کیا تھا مطلب کے مزے سے آئسکریم کھاگیا اور اس کے بارے میں سوچا تک نہیں۔۔
اپنی غلطی کا اندازہ ہوتے ہی جبران نے خوف سے تھوک نگلے آدم کو دیکھا جو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا، آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا ‘اب کہوں کیا کہنا ہے؟’
“یار دیکھ آدم توں سویا ہوا تھا۔۔” جبران نے جواز پیش کیا۔
“تو جاگ بھی جانا تھا۔” نظروں سے ہی جواب دیا تھا آدم نے۔
“یار گہری نیند میں تھا توں، مجھے لگا اب صبح ہی جاگے گا تو صبح لادوں گا۔۔۔ پکا لادوں گا صبح!۔۔۔” جبران نے وعدہ لیا۔
“مگر اب تو میں جاگ چکا ہوں تو ابھی لاکر دو۔۔۔”
“یار اس وقت؟۔۔۔ رات کے بارہ بجنے والے ہیں۔۔۔ تم دونوں کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں۔۔۔”
“انکار کررہے ہے؟” آدم نے ایک ابرو اچکائی تھی۔۔۔۔
ساتھ ہی اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ مچلی تھی جسے سمجھ کر جبران کی آنکھوں میں خوف در آیا تھا۔
یہ کوئی عام مسکان نہ تھی، اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ تھی اور وہ تھی آدم جبران کا سپیکر۔۔۔ اگر اس کا باپ اسے آئسکریم نہ لاکر دیتا تو ایسا باجا بجانا تھا اپنی خوبصورت آواز کا استعمال کیے اس نے کے جبران تو کیا آس پاس کے پڑوسیوں کی بھی آج رات کی نیندیں حرام ہوجاتیں۔
اپنے اس ڈھیٹ بیٹے کی رگ رگ سے آشنا ہار مانتے وہ دوبارہ گاڑی نکالے اسے آئسکریم دلوا چکا تھا۔
فرنٹ سیٹ پر ساتھ بیٹھا معیز اب سوچکا تھا جبکہ پیچھے موجود آدم بڑی بڑی آنکھیں کھولے ریپر کو چاٹتے اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔
“ویسے بڑی ہی ہوئی کوئی خالص شیطانی اولاد سے نوازہ ہے اللہ نے مجھے۔۔۔۔ تجھے تو میں وکیل بناؤں گا بڑا ہوجا ایک بار توں۔۔۔ اوئے وکیل بن کر کہی مجھ پر ہی پراپرٹی کا کیس نہ کردینا۔۔۔ جیسی تیری نیچر ہے تو نے تو ایک سیکنڈ نہیں لگانا مجھے پرایا کرکے جیل بھیجوانے میں۔۔۔” اپنی سوچ پر جبران نے جھرجھری لی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
“مام یہ کیا ہے؟” ٹیبل پر موجود ڈبوں کو دیکھ سارہ نے حیرت سے سوال کیا تھا۔
“یہ میری شادی کا زیور ہے۔۔۔ اب ماشااللہ سے حائقہ اپنے گھر کی ہوجائے گی تو نکال لیا۔۔۔ جو اسے پسند آئے وہ رکھ لے۔۔۔” مانگ ٹیکا کو نکال کر دیکھتے انہوں نے مصروف انداز میں جواب دیا تھا۔
جہاں ان کی اس محبت پر سارہ اور میسم نے آنکھیں گھمائی تھی وہی ارسم مسکرا دیے تھے۔
“نسرین میرا ناشتہ تیار کرو۔۔۔۔” لاؤنج میں آتی حائقہ نےنسرین کو آواز دی تھی۔
“حائقہ بچے ادھر آؤ۔۔۔ میرے پاس بیٹھو۔۔۔” طاہرہ بیگم کی پکار پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کے پاس جابیٹھی تھی۔
“جی؟”
“یہ دیکھو کیسے ہیں؟” انہوں نے تین سیٹ اس کے سامنے رکھے اور ساتھ میں ایک کنگن اور ایک سونے کی چوڑیوں کا ڈبہ بھی موجود تھا۔
سوال کرتے ساتھ ہی انہوں نے ہاتھ میں موجود مانگ ٹیکا اس کے ماتھے پر سجایا تھا۔
“یہ آپ کیا کررہی ہے؟” حائقہ نے فوراً سر پیچھے کو کیا تھا۔
“چیک کررہی ہوں کہ ایسے ہی پیارا لگ رہا ہے یا سونار سے کہہ کر نیا بنوا لوں۔۔۔ تم بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے؟”
“آپ کا زیور ہے جو مرضی کیجیئے میرا اس سے کیا تعلق۔۔۔”
“تعلق ہے۔۔۔ یہ تمہارے لیے ہی تو نکالا ہے۔۔۔” وہ مسکرائی۔
“مگر کیوں؟” حائقہ کے ماتھے پر بل در آئے۔
“کیوں کا کیا مطلب۔۔۔ خیر سے اب شادی ہونے والی تمہاری ہے۔۔۔ اور ماں ہونے کے ناطے اتنا فرض تو بنتا ہے میرا۔۔۔”
“آپ میری ماں نہیں ہے۔۔۔” وہ درشت لہجے میں بولی۔
“اور اس زیور کا تعلق مجھ سے نہیں سارہ سے ہونا چاہیے۔۔۔ آپ کی بیٹی سے۔۔۔” اس کی آنکھوں میں سرد پن چھاگیا تھا۔
“حائقہ۔۔۔” اس سے پہلے ارسم اسے کچھ کہتے طاہرہ بیگم نے نظروں ہی نظروں میں انہیں منع کردیا تھا۔
“اچھا چھوڑو یہ سب۔۔۔ میں اور تمہارے ڈیڈ سوچ رہے تھے کہ گھر میں سادگی سے نکاح رکھ لیا جائےبس کچھ قریبی رشتہ داروں کو بلوا کر۔۔۔۔تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟” دل میں اٹھتی تکلیف کو انہوں نے نظرانداز کیا تھا۔
“سادگی سے کیوں؟۔۔۔ ارسم امین کی بیٹی کی شادی اور سادگی کتنا مس فٹ ہے نا یہ ورڈ؟”
“سادگی سے رکھنے کی وجہ ہے۔۔۔” ارسم پہلی بار بولے تھے۔
“کیا وجہ؟۔۔۔ یہ وجہ کہ میری دوسری شادی ہے یا یہ وجہ کے شادی سارہ امین کی نہیں بلکہ حائقہ امین کی ہے؟” باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس نے سوال کیا تھا۔
“ہم بس آپس میں ڈسکشن کی ہے فائنل فیصلہ تمہارا ہوگا!” طاہرہ بیگم فوراً بولی تھی۔
“تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ یہ شادی بالکل ویسے ہی ہوگی جیسے ہر لڑکی کی ہوتی ہے۔۔۔ برائڈل شاور سے لے کرمایوں، مہندی، برات، ولیمہ ہر فنکشن بڑے لیول پر رکھا جائے گا۔۔۔۔سب رشتہ دار، دوست احباب کے علم میں آنا چاہیے۔۔۔ نیوز چینلز کی ہیڈلائن ہوگی یہ شادی۔۔۔ فنکشن ایسا ہوکہ کے دیکھنے والا ہر ایک شخص دنگ رہ جائے۔۔۔۔کسی بھی چیز پر کمپرومائز میں برداشت نہیں کروں گی۔۔۔۔ سب کو معلوم ہو کہ مشہورِ زمانہ ہسپتال کے قابل سائکائٹرسٹ ڈاکٹر ارسم امین کی بیٹی حائقہ امین کی شادی ہے۔۔۔۔۔ وہ کیاں ہے نا پچھلی بار کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا تھا۔۔۔” اپنی خواہشات بتاتی آخر میں ارسم امین پر طنز کیے وہ ناشتے کے لیے جاچکی تھی۔
“بی بی جی اگلے ہفتے شادی ہوکر آپ یہاں سے چلی جائے گی؟۔۔۔” سوال تو بڑےعام انداز میں کیا تھا نسرین نے مگر اس کی آنکھوں سے پھوٹتی خوشی حائقہ کی آنکھوں سے مخفی نہ رہ سکی تھی۔
“ویسے جہیز میں کیا دے رہے ہیں آپ لوگ مجھے؟” کافی کا سپ لیے اس نے وہی بیٹھے بیٹھے سوال کیا تھا۔
“وہ بھی آپ محترمہ خود بتادے ۔۔۔ کیا پتہ ہمارا دیا پسند نہ آئے۔۔۔” سارہ نے جل بھن کر جواب دیا۔
حائقہ کے لبوں پر مسکراہٹ مچلی۔
“جہیز میں مجھے نسرین چاہیے۔۔۔”
“کیا؟”
جتنے عام انداز میں اس نے خواہش ظاہر کی تھی اتنی ہی بلند سب کی چیخ تھی۔۔۔ سب سے برا حال تو نسرین کا تھا جو بےہوش ہونے کے در پر تھی۔
“نسرین؟۔۔۔ مگر کیوں؟” طاہرہ بیگم نے نسرین کی جانب دیکھا جس کا سر تیزی سے نفی میں ہلا تھا۔
“نسرین کے ہاتھ کے کھانوں کی عادت سی ہوگئی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ کسی اور کا ذائقہ بھلا نہیں لگتا مجھے۔۔۔۔ اب اتنا تو کرہی سکتے ہیں آپ لوگ میرے لیے؟”
“ٹھیک ہے جیسا تم چاہو!” ایک بار پھر طاہرہ بیگم کو اس کی ہاں میں ہاں ملائے دیکھ سارہ اور میسم جل بھن گئے تھے۔
آخر ایسا کیا تھا اس عورت میں کہ ان کی ماں اسے انکار نہ کرپاتی تھی۔
“مجھے بھی وہ جادو سیکھنا جو ماما پر کیے یہ سارے کام نکلوا لیتی ہیں اپنے!” میسم سارہ کے کان میں بولا تھا۔
“سیکھ لو تو مجھے بھی سیکھا دینا!” سارہ دونوں بازو غصے سے سینے پر باندھے جل کر بولی تھی۔
“ڈیٹس گڈ۔۔۔ چلو پھر تیاری پکڑ لو نسرین کیونکہ ہفتے بعد میرے ساتھ ساتھ تمہاری بھی رخصتی ہے۔۔۔” نسرین کو ایک آنکھ مارے وہ مسکراہٹ دبائے اپنا بیگ اٹھاتی وہاں سے جاچکی تھی۔
نسرین بیچاری تو دکھی ہیروئینز کی طرح وہی کرسی پر ڈھے گئی تھی۔
حائقہ کے جاتے ہی طاہرہ بیگم نے سب سے پہلے جبران کو کال کیے حائقہ کی خواہشات سے آگاہ کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اسے وارن بھی کیا تھا کہ وہ کسی قسم کا انکار نہیں سنے گی۔۔۔ اس کی خواہشات کی لسٹ سنتے ہی جبران کا جی چاہا تھا کہ وہ اپنا سر دیوار میں مار لے۔
‘جیسا آپ کا حکم’ کہے اس نے کال کاٹی تھی۔
“چل بھئی شیر تیاری پکڑ لیے کیونکہ تیری سگی ماں آرہی ہے۔۔۔” آدم کو دیکھ وہ بڑبڑایا تھا جو اتنی سی عمر میں کارٹون دیکھنے کی بجائے سیریل کلر بیسڈ ڈوکومینٹری دیکھ رہا تھا۔
خالہ امی کے منہ سے ہونے والی ناپسندیدہ بیوی کی خواہشات سن کر اسے وہ آدم کی سگی ماں ہی لگی تھی، اسی کہ جیسی ضدی، بدتمیز اور ہٹ دھرم۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ پر لگائے اڑ چکا تھا ۔۔۔۔ جس کی شادی تھی اس کے علاوہ سب کی سپیڈے لگی ہوئی تھی۔۔۔ شہر بھر سے تمام معزز دوستوں اور رشتہ داروں کو دعوت دی گئی تھی۔
کچھ لوگوں نے خوشی، کچھ نے حیرانگی تو کچھ نے ایک ہفتے پہلے شادی کا کارڈ ملنے پر ‘دال میں کچھ کالا ہے’ جیسے جملوں سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
آج حائقہ امین کی مایوں تھی اور وہی گھر سے غائب تھی۔۔۔ ایک ضروری کام کا کہہ کر وہ گھر سے نکل چکی تھی۔
آج کورٹ میں آذر رحمان کے کیس کی ہئیرنگ تھی۔۔۔۔ میڈیا جس سے ایک ہفتے تک یہ بات چھپی ہوئی تھی آج وہ بھی وہاں موجود تھی۔۔۔ کئی چینلز کے نمائندے اپنے اپنے مائک ہاتھ میں تھامے کیمرہ کے سامنے موجود تھے۔
“یہ یہاں کیا کررہی ہے؟” وانیہ کو وہاں دیکھ کر جبران اور ذولقرنین دونوں کے قدم رکے تھے۔
“یہ تو تمہاری پارٹی کی مینیجر کی سیکریٹری ہے نا؟۔۔۔۔ بھلا اس کا یہاں کیا کام؟” ذولقرنین حیران ہوا تھا۔
“مے بی آ وٹنس؟۔۔۔ کیونکہ اس دن ہم دونوں کے علاوہ یہی وہاں موجود تھی!” جبران کے جواب پر ذولقرنین نے سر اثبات میں ہلایا۔
“مگر یہ اس کے ساتھ کیا کررہی ہے؟” اچانک وہاں نمودار ہوتی حائقہ کو دیکھ کر ان دونوں کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“ڈونٹ نو۔۔۔ اب کون سی نئی گیم کھیلنے والی ہے یہ عورت۔۔۔” جبران نے گہری سانس خارج کی تھی۔
وہ چاروں ہی کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تھے، آذر پہلے سے ہی کٹھہرے میں موجود تھا۔۔۔ جج کے آتے ہی عدالت کی سنوائی شروع کی گئی تھی۔
دونوں جانب سے وکیلوں نے جبران اور ذولقرنین سے اس دن کے واقع کے حوالے سے سوال جواب کیے اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
حائقہ کے وکیل نے اب وانیہ کو کٹھہرے میں بلایا تھا اور اس رات کے حوالے سے سوال جواب کیے تھے وانیہ نے بھی وہی سب بتایا جو جبران اور ذولقرنین نے بتایا تھا۔
“مس وانیہ کیا واقعی میں کمرے میں جو کچھ بھی ہورہا تھا وہ دونوں فریقین کی مرضی سے تھا؟” حائقہ کے وکیل کے سوال پر وانیہ کا سر نفی میں ہلا تھا۔
“بالکل بھی نہیں۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کیوں چلاتی؟۔۔۔ کیوں کسی کو مدد کے لیے پکارتی؟” وانیہ کے جواب پر وکیل جج کی جانب متوجہ ہوا۔
“سنا آپ نے جج صاحب اگر حائقہ امین کی مرضی ان سب میں شامل ہوتی تو وہ کیوں چیختی چلاتی؟۔۔ اپنی مدد کے لیے کسی کو پکارتی؟” وکیل نے اپنی دلیل پیش کی تھی۔
“ہوسکتا ہے مس حائقہ جان چکی ہو کہ مسٹر آذر کے دوست آرہے ہیں تو انہیں ٹریپ کرنے کو انہوں نے اچانک چیخنا چلانا شروع کردیا ہو؟” آذر کے وکیل نے اپنی دلیل دی۔
“میری موؤکلہ کوئی جن بھوت نہیں جو دروازے کے پار موجود لوگوں کو دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کردیا انہوں نے۔۔۔” حائقہ کے وکیل نے ہنس کرجواب دیا۔
“مگر جوتوں کی آواز تو سنائی دے سکتی ہے نا؟۔۔۔ جج صاحب جس روم میں یہ سب ہورہا تھا وہ حال کی بیک سائڈ پر تھا واشروم کے علاوہ کچھ نہیں تھا وہاں۔۔۔ اور ایسے میں ہلکی سی آواز بھی بڑی آسانی سے سنی جاسکتی ہے۔۔۔ تو ضرور ایسا ہوا ہوگا کہ جیسے ہی مس حائقہ نے جوتوں کی آواز سنی انہوں نے اپنے پلان پر عمل کرکے آذر رحمان کو پھنسوانے کی کوشش کی مگر چونکہ سامنے موجود لوگ ان کے دوست تھے تو وہ ناکام ٹھہری اور اب میرے موؤکل پر جھوٹا کیس کرکے انہیں مزید بدنام کرنے کی کوشش میں ہے وہ!” آذر کے وکیل کی دلیل ٹھوس تھی جس کی وجہ سے ان تینوں کی سانس بحال ہوئی تھی۔
“جج صاحب مجھے اجازت دے کہ میں اپنی اگلی گواہ بذاتِ خود مس حائقہ امین کو کٹھہرے میں بلاؤ!” وکیل کی اجازت پر جج نے انہیں اجازت دی تھی۔
“مس حائقہ امین آپ کا فیملی بیک گراؤنڈ کیا؟۔۔۔ کس فیملی سے تعلق ہے آپ کا؟” وکیل نے پہلا سوال کیا۔
“ٹی۔ایس۔ایم ہوسپٹل کے اونر ارسم امین کی بڑی بیٹی ہوں میں۔۔۔”
“غالباً ان کی پہلی بیوی سے؟”
“جی!” وکیل کے سوال پر اس نے سر ہلایا۔
“اس رات میں پارٹی میں کیا کرنے گئی تھی آپ؟۔۔۔ کیا تعلق ہے آپ کا جبران حیات اور ان کی پارٹی سے؟”
“جبران حیات میرے فادر کی سیکنڈ وائف مسز طاہرہ ارسم کے بھانجے ہے۔۔۔” حائقہ کئ جواب پر ذولقرنین نے گردن موڑے حیرت سے جبران کو دیکھا۔
“یہ تمہاری کزن ہے؟” اس نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“مجھے خود ہفتہ پہلے اس خوفناک رشتے کا علم ہوا ہے” دانت پیسے اس نے جواب دیا۔
“تو آپ جبران حیات کو پہلے سے ہی جانتی تھی؟”
“جی نہیں۔۔۔ میں ان سے پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔۔۔”
“تو آپ اپنی فیملی کے ساتھ پارٹی پر گئی تھی؟وہی ملاقات ہوئی ان سے؟”
“جی نہیں۔۔۔”
“تو پھر؟”
“جبران حیات کی پارٹی کی آرگنائزر ہوں میں۔۔۔” اس کے انکشاف پر ان تینوں کی آنکھیں پھیلی تھیں۔
جبران کا دماغ پل بھر کو سن ہوچکا تھا۔
“حائقہ امین
حائقہ امین
حائقہ امین”
کتنی بار یہ نام اس کے سامنے دوہرایا گیا تھا مگر کیا وہ اتنا بےوقوف تھا کہ نہ جان سکا کہ یہ دونوں شخصیات ایک ہی ہیں۔
“تو اس کا مطلب ہے کہ اس سے پہلے آپ کا کبھی بھی جبران حیات سے سامنا نہیں ہوا؟”
“جی نہیں۔۔۔”
“تو مطلب کہ آپ جبران حیات کے دوستوں سے بھی لاعلم تھی؟”
“جی بالکل!”
“واٹ ربش۔۔۔ سوتیلا ہی سہی مگر وہ آپ کا کزن ہے اور آپ ان سے پہلے کبھی نہیں ملی۔۔۔۔ واٹ کائنڈ آف جوک از دس۔۔۔” آذر کا وکیل غصے سے چلایا۔
“ریلکیس مائی فرینڈ اگر آپ کو میری موؤکلہ پر بھروسہ نہیں تو آپ کے موؤکل سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔”
“جی تو مسٹرجبران آپ بتائیے کیا آپ جانتے تھے مس حائقہ امین اور آپ کے درمیان موجود اس رشتے کو؟” حائقہ کے وکیل کے سوال پر جبران کا سر نفی میں ہلا تھا۔
“نہیں میں نہیں جانتا تھا!”
“اور کب سے علم ہوا آپ کو کہ وہ آپ کی خالہ کی سٹپ ڈاٹر ہے؟”
“جس دن آذر کے خلاف کورٹ کی جانب سے نوٹس آیا اسی دن میں اپنی خالہ امی کی جانب گیا تھا وہی علم ہوا مجھے۔۔۔۔”
“یعنی کے پارٹی کے بعد؟”
“جی!”
“تو کیا مسٹر آذر رحمان مس حائقہ کو پہلے سے جانتے تھے؟”
“اس حوالے سے میں لاعلم ہوں!” جبران نے کندھے اچکا دیے۔
“آپ بتائیے مسٹر آذر رحمان کیا مس حائقہ کو پہلے سے جانتے تھے آپ؟”
“جی وہ۔۔۔”
“جی وہ نہیں۔۔۔ ہاں یا ناں۔۔۔ ہاں یا ناں۔۔۔”
“جج صاحب میرے موؤکل پر پریشر ڈال رہے ہیں وکیل صاحب۔۔۔” آذر کا وکیل بھڑکا۔
“میں کسی قسم کا کوئی پریشر نہیں ڈال رہا بلکہ اپنا موؤقف ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔”
“کیسا موؤقف؟”
“یہی کہ جب مسٹر جبران مس حائقہ کو نہیں جانتے تھے، ان کے دوستوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں تو مس حائقہ کیوں اور کس بنا پر مسٹر آذر رحمان پر الزام لگانا چاہے گی؟۔۔۔ جب وہ مل ہی ان سے پہلی بار رہی تھی؟”
“کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔۔۔ سب سے بڑی وجہ پیسہ۔۔۔” آذر کا وکیل ایک بار پھر سے بولا تھا۔
“جج صاحب مجھے لگتا ہے میرے معزز دوست کے کان کام کرنا چھوڑ چکے ہیں۔۔۔۔ کیا آپ نے سنا نہیں ۔۔۔ مس حائقہ امین شہر کے ایک جانے مانے اور بڑے ہوسپٹل ٹی۔ایم۔ایس کے اونر کی نہ صرف بیٹی ہے بلکہ خود ایک بہت بڑی پارٹی آرگنائزر بھی ہے۔۔۔ ایسی صورت میں پیسہ تو بالکل بھی وجہ نہیں ہوسکتی۔۔۔” وکیل کے ہنس کر بولنے پر آذر کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔
“جج صاحب۔۔۔”
“یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ اس روز جو کچھ بھی ہوا تھا وہ دونوں فریقین کی مرضی نہیں بلکہ مسٹر آذر کی جانب سے زیادتی کی کوشش تھی میں آپ سب لوگوں کو کچھ دکھانا چاہوں گا!” آذر کے وکیل کی بات کاٹے وہ بولے تھے۔
“اجازت ہے۔۔۔” جج کے اجازت دیتے کمرے میں موجود چھوٹی سی ایل۔سی۔ڈی پر پارٹی والی رات کی واشروم سائڈ کی فوٹیج دکھائی گئی تھی۔
واشروم میں جاتی حائقہ اور اس کے پانچ منٹ بعد ہی وہاں آتا آذر اور اس کے واشروم سے نکلنے کے بعد زبردستی اسے کمرے میں لے جاتے ہوئے اور تھوڑی دیر بعد وہاں جبران، ذولقرنین اور وانیہ کی آمد۔۔۔
فوٹیج دیکھنے کے بعد کچھ کہنے سننے کو نہ بچا تھا۔۔۔ جج نے اپنے فیصلہ سنا دیا تھا۔
عدالت سے باہر نکلتے ہی رپورٹرز نے آذر اور حائقہ دونوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔۔۔ جہاں آذر منہ چھپانے کی ناکام سی کوشش کررہا تھا وہی حائقہ نے اپنی جیت کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹر کے جھرمٹ سے نکلتے وہ وانیہ کے ساتھ اپنی گاڑی کی جانب بڑھی تھی جب اسے سامنے ہی جبران اور ذولقرنین نظر آئے۔
چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ ان دونوں کی جانب بڑھی تھی۔
اس کے قریب آتے ہی دونوں کی سانسیں پل بھر کو منجمند ہوئی تھی۔
ذولقرنین کو مکمل طور پر نظرانداز کیے وہ جبران کی جانب مڑی تھی۔
“رات کو شدت سے انتظار ہوگا تمہارا دیر مت کرنا۔۔۔” سرگوشی نما انداز میں بولتی وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
“کیا مطلب تھا اس بات کا؟” ذولقرنین نے اچھنبے سےسوال کیا۔
“معلوم نہیں۔۔۔” اس کی بات کا مطلب اچھے سے سمجھنے کے باوجود بھی جبران انجان بن گیا تھا۔
دل میں ایک گلٹ سا ابھرا تھا۔
عدالت میں جو ہونا تھا سو ہوگیا مگر جو عدالت ارسم امین کے گھر میں لگ چکی تھی اس کا نشانہ وہ پوری فیملی بن گئی تھی۔
تمام رشتہ داروں نے نیوز چینل پر حائقہ کا کیس دیکھا تھا۔۔۔
سب لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں تھی۔
“اب سمجھ آیا کیوں اتنی اچانک اور اتنی جلدی میں بیٹی کی شادی کی جارہی ہے۔۔۔ ارے ایسی اولاد کو تو جتنی جلدی سر سے اتارا جائے اتنا اچھا ہے۔۔۔” رشتہ داروں کی زبانیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
ارسم امین کو جس بات نے سب سے زیادہ تکلیف دی تھی وہ تھی ان کی بیٹی کی بےاعتنائی نے۔۔۔ اس کی زندگی میں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اور اس نے اپنے باپ کو بتانا تک ضروری نہ سمجھا۔۔۔ کیا وہ اس کے لیے اتنے غیر اہم تھے۔
حائقہ کے گھر میں قدم رکھتے ہی تمام رشتہ داروں کی زبانوں کو تالا لگ گیا تھا۔۔۔ کسی میں ہمت نہ تھی اس کے سامنے کچھ بول سکے۔۔
ٹی۔وی پر چلتی نیوز کو دیکھ مسکراتی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی جب ارسم امین نے اسے اپنے پیچھے آنے کو کہاں تھا۔
آنکھیں گھمائے وہ ان کے پیچھے چل دی تھی۔
“آپ کو کچھ کہنا ہے یا میں جاؤں؟” جب وہ دس منٹ تک کچھ نہ بولے تو حائقہ نے کوفت سے سوال کیا۔
“کیا میں تمہارے لیے اتنا غیر اہم ہوں کہ تمہاری زندگی میں رونما ہونے والے اتنے بڑے واقع سے تم نے مجھے انجان رکھا؟” ان کے لہجے میں تکلیف در آئی۔
“غیر اہم؟۔۔۔ آپ تو میری زندگی میں سرے سے ہے ہی نہیں۔۔۔” اس نے عام انداز میں کندھے اچکائے۔
“اور جہاں تک بات رہی اس رونما ہونے والے ‘بڑے واقع’ کی تو اس سے بھی بڑا اور بدتر بہت کچھ رونما ہوچکا ہے میری زندگی میں جب وہاں خاموش تماشائی بنے رہے تھے تو اب یہ فکر کیوں؟” حائقہ کے لہجے میں ناچاہتے ہوئے بھی شکایت در آئی تھی۔
“تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا حائقہ۔۔۔ مجھے علم میں رکھنا چاہئے تھا۔۔۔ یہ لڑائی خود لڑنا سراسر بےوقوفی تھی۔۔۔ اب رشتے دار سو طرح کی باتیں بنارہے ہیں تمہارے حوالے سے۔۔۔”
“اپنی زندگی کی ہر لڑائی میں نے خود لڑی ہے۔۔۔ آپ کے علم میں تھا، مگر آپ نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔۔۔ اور رشتے دار کیا کہتے ہیں کیا نہیں اٹس ناٹ مائی ہیڈ ایک۔۔۔ جیسے پہلے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تھا اب بھی چھوڑ دے۔۔۔ کیونکہ اتنی آپ کی خالص بےاعتنائی نے مجھے تکلیف نہیں دی جتنا یہ جھوٹی محبت دے رہی ہے۔۔۔” اپنے لفظوں کے نشتر چلائے ان کا دل چھلنی کیے وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔