No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
از قلم قانتہ خدیجہ
خاموش لاؤنج میں اس کا اونچا باجا زوروشور سے بج رہا تھا، صبح کے سات بجے ہوئے تھے اس وقت گھر میں موجود باقی تمام لوگ جہاں میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہے تھے وہی وہ نیند میں ڈوبی سرخ آنکھوں میں غصہ سجائے کمرے سے لاؤنج میں آئی تھی۔
فجر کے قریب اس کی گھر واپسی ہوئی تھی، سکون کی نیند اسے نہ مل پائی تھی اور اب جب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوہی گئی تھی تو یہ بنا ٹینوگ باجا بجے جارہا تھا۔
لاؤنج میں آتے ہی اس کی کارپٹ پر بیٹھے آدم پر نگاہیں گئی جو پورا منہ کھولے بس روئے جارہا تھا، منہ بھی رونے کی شدت کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
“نسرین!۔۔۔۔ نسرین!” وہ دھاڑی تھی۔
اس کی دھاڑ پر آدم کا باجا بند ہوا تھا کھلے منہ کے ساتھ اس نے سامنے کھڑے اس نئے چہرے کو دیکھا جو آج سے پہلے اسے کبھی اس گھر میں نظر نہ آیا تھا۔
سامنے موجود ہستی کو دیکھ آدم کا دل دھڑک اٹھا تھا، منہ کو گول شیپ دیے داد دینے والے انداز میں اس نے بےدھڑک حائقہ کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا تھا۔
اس کے الجھے بالوں، لال آنکھوں سے لے کر اس کے پاؤں کی چھوٹی انگلی میں پہنی رنگ تک، ہر ایک چیز کا بڑی باریک بنی سے جائزہ لیا گیا تھا۔
تونے ماری اینٹریاں رے
دل میں بجی گھنٹیاں رے
ٹن ٹن ٹن ٹن
بیک گراؤنڈ میں گانا اپنے آپ بج اٹھا تھا۔
اپنے چھوٹے، نازک دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھے آدم نے مدہوش کن نگاہوں سے اسے دیکھا جو لال انگارہ نگاہوں سے اس دیڑھ ڈھائی فٹ کے بچے کو گھورے جارہی تھی۔
“نسرین۔۔۔۔” اس کی حلق پھاڑ چیخ پر جہاں آدم ہوش میں آیا وہی نسرین بھی ہاتھ میں فیڈر تھامے سر پٹ دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی۔
“جی بی بی جی؟” پھولی سانسوں سمیت اس نے سوال کیا۔
“کون ہے یہ بچہ؟ اور کیوں اس کا لاؤڈ سپیکر بند ہونے کا نام نہیں لے رہا؟” اس نے آدم کی جانب اشارہ کیے سوال کیا تھا جو اس کی ناک پر دھرا غصہ دیکھ ایک بار پھر مدہوش ہوا تھا۔
“جج۔۔۔۔جی وہ یہ آدم بابا ہے۔۔۔”
“آدم ہو یا خادم۔۔۔ اس کا منہ بند کرواؤ!” وہ دوبارہ غصے سے غرائی تھی۔
“وہ جی بس فیڈر لے آئی ہوں میں!” تیزی سے آگے بڑھ کر آدم کو گود میں اٹھائے وہ بولی۔
گود میں اٹھائے جانے کی بدولت وہ حائقہ کو سامنے سے دیکھ پایا تھا۔
آنکھوں میں عجب چمک لیے اس نے حائقہ کی جانب ہاتھ بڑھائے تھے جنہیں ناگواری سے جھٹکتی وہ دو قدم دور ہوئی۔
اپنے ہاتھ جھٹکے جانے پر آدم کے ننھے متھے پر دو بل در آئے، ایک آنکھ اٹھائے اس نے حائقہ کو گھورا جو نسرین کو گھور رہی تھی۔
“اپنا بچہ مجھ سے دور رکھو!” اس نے نسرین کو انگلی دکھائی۔
آدم کے تو دل کو ہاتھ لگا تھا، اس کا باپ کراچی کا ایک جانا مانا بزنیس مین تھا اور یہ عورت اسے ایک نوکرانی کا بچہ بنا چکی تھی۔
احساسِ تزلیل نے اس کا چہرہ سرخ کردیا وہ نسرین کی گرفت میں مچل اٹھا تھا
“نہ جی بی بی جی یہ میرا بچہ نہیں ہے جی۔۔۔” نسرین نے فوراً بات کی تصیح کی اور آدم کو صوفہ پر بٹھا دیا۔
“تمہارا نہیں ہے تو کس کا ہے؟۔۔۔ یا اس کے ماں باپ اس گھر کو داراالامان سمجھ کر اسے یہاں چھوڑ گئے ہیں؟” ماتھے پر بل ڈالے اس نے سوال کیا۔
“نا جی نا ۔۔۔۔ وہ جی یہ تو طاہرہ بی بی کا پوتا ہے۔۔۔” نسرین نے جواب دیا۔
“آنٹی کا پوتا؟۔۔۔ میسم نے یہ کارنامہ کب سرانجام دیا؟” اس نے حیرت سے آدم کو دیکھے سوال کیا۔ لبوں پر استہزائیہ ہنسی در آئی۔
“میسم بابا نہیں، جبران بابا۔۔۔۔ طاہرہ بی بی کی بڑی بہن کے ایک اکلوتے بیٹے ان کا چھوٹا بیٹا ہے یہ۔۔۔ آدم جبران۔۔۔” نسرین کے انٹرو پر دونوں بازو سینے پر باندھے، تھوڑی اوپر اٹھائے آدم بابا نے ناراضگی کا بھرپور اظہار کیا تھا۔
“واٹ ایور!۔۔۔ مگر اب مجھے اس کی آواز نہ آئے ۔۔۔۔ ورنہ اپنی نوکری گئی سمجھو۔۔۔ سمجھی؟” انگلی اٹھائے نسرین کو وارن کیا جس پر اس نے تیزی سے سر ہلایا
آدم جو معافی کے انتظار میں تھا اس کی نخریلی حسینہ کے اگنور کیے جانے پر جل بھن اٹھا تھا۔
پیدا ہونے سے لے کر اب تک وہ اپنے باپ اور بھائی سے بنا غلطی کے معافیاں منگواتا آیا تھا۔۔۔۔
شہنشاء تھا وہ تو۔۔۔ اور اب اس شہنشاء کے آگے نہ جھک کر یہ نخریلی کنیز اس کے جلال کو للکار گئی تھی۔۔۔
دل میں اس سے بدلا لینے کا ارادہ بنا چکا تھا وہ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کے ٹیبل پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
اور ایسی خاموشی عموماً حائقہ کی موجودگی میں ہی ہوتی تھی۔
اس وقت وہ سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے، آدم اور معیز ملازمہ کے ساتھ نزدیکی پارک میں گئے ہوئے تھے۔
طاہرہ بیگم نے چور نگاہوں سے اسے دیکھا جو سپاٹ چہرہ لیے کافی پینے میں مگن تھی، اس پر سے نگاہ ہٹائے انہوں نے گلہ کھنکھارے ارسم کو اپنی جانب متوجہ کیا اور نظروں ہی نظروں میں بات شروع کرنے کا اشارہ کیا تھا۔
جس پر ارسم نے کندھے اچکائے معذرت کرلی۔
گہری سانس بھرے انہوں نے گلا کھنکھارے حائقہ کو پکارا۔
“حائقہ؟”
“جی؟” موبائل سکرول کیے اس نے بنا نظر اٹھائے پکارنے کی وجہ دریافت کی۔
“آف پر ہو آج؟”
“نہیں۔۔۔ لنچ کے بعد جاؤں گی!۔۔۔ خیریت؟” اس نے نگاہیں اٹھائے سوال کیا۔
“وہ ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔۔” انہوں نے اپنا گلا تر کیا
“جی کہیے۔۔۔” وہ پوری طرح سے ان کی جانب متوجہ تھی۔
“ناشتے کے بعد روم میں آ جانا۔۔۔ وہی کرے گے۔۔۔” ان کی بات سن کر سارہ اور میسم دونوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے، دونوں نے اکٹھے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
“شیور!” اس نے کندھے اچکائے
ناشتے سے فارغ ہوکر وہ بھی طاہرہ بیگم کے پیچھے ان کےکمرے میں چلی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا ضروری بات کرنی تھی آپ کو مجھ سے؟” اس نے سوال کیا۔
“وہ دراصل ہم۔۔۔ میرا مطلب میں۔۔۔ وہ تم سے بات کرنا۔۔۔”
“کیا آپ ڈائیریکٹ مدعے پر آسکتی ہے؟”
“میں چاہتی ہوں کہ تم۔۔۔ تم دوسری شادی کرلو حائقہ!”
“آپ چاہتی ہے؟۔۔۔ اور یہ چاہنے والی آپ کون ہوتی ہے؟” اس نے استہزایہ انداز میں سوال کیا؟
طاہرہ بیگم کی نگاہیں شرمندگی کے مارے جھک گئی تھی۔
“یہ میری خواہش ہے حائقہ!” ارسم غصے سے بولے، انہوں نے طاہرہ بیگم کا دفاع کرنا چاہا تھا۔
“جی بالکل! اور میں کہوں گی آپ کی تمام خواہشیں سر آنکھوں پر!” اس نے انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
“بات کو سمجھو حائقہ کب تک اس شخص کی بےوفائی کا ماتم کرو گی تم۔۔۔۔ چھ سال ہوگئے ہیں، اب تمہیں زندگی میں آگے بڑھ جانا چاہیے۔۔۔” اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے طاہرہ بیگم نے سمجھایا تھا اسے
“میں تو پچھلے بائیس سالوں سے بےوفائی کا ماتم کررہی ہوں۔۔۔” اس کی بات کو سمجھ ان دونوں کے چہروں پر شرمندگی کے آثار در آئے تھے۔
“بات کو سمجھو حائقہ۔۔۔ زندگی ایسے نہیں گزرتی۔۔۔” اس وقت اسے سمجھانا زیادہ ضروری تھا۔
“میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔۔” ان کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالے تھے اس نے۔
“حائقہ۔۔۔”
“کیا چاہتی ہے آپ مجھ سے؟۔۔۔ کیوں نہیں جان چھوڑ دیتی ہے میری!” وہ یکدم چلائی
“میں تو صرف تمہارے بھلے۔۔۔”
“میرے بھلے برے کی فکر کرنے والی ہوتی کون ہے آپ؟” وہ اپنے حواس کھوچکی تھی۔
“زبان بند رکھو اپنی۔۔۔۔ تمیز سے بات کرو ماں ہے تمہاری۔۔۔”
“ماں نہیں ہے میری۔۔۔۔ کوئی نہیں ہے میرا نہ ماں نہ باپ۔۔۔۔” آواز مزید بلند ہوگئی تھی اس کی۔
“ارسم پلیز۔۔۔”
“رشتہ ڈھونڈ چکے ہیں ہم۔۔۔ اس سے ملو اور فیصلہ کرو۔۔۔ اور اگر کسی قسم کا کوئی فضول ڈرامہ کری-ایٹ کرنے کی کوشش کی تو عاق کردوں گا تمہیں!” انہوں نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔
حائقہ اس وقت فائنینشلی اسٹیبل نہ تھی۔۔۔ باپ کے پیسوں کی اشد ضرورت تھی اسے۔۔۔۔ بزنس بھی ارسم سے لون لے کر سٹارٹ کیا تھا اس نے۔
“شوق سے۔۔۔” اس تکلیف کو بھی سہہ لیا تھا اس نے۔
“انکار نہیں کرسکتی تم۔۔۔۔ ایک وعدہ کیا تھا تم نے مجھ سے۔۔۔ اسے پورا کرنے کے وقت آگیا ہے!” طاہرہ بیگم اچانک بولی تو اس کی زبان کو جیسے تالا لگ گیا تھا۔
کچھ سال پہلے کیا جانے والا ایک بھولا بھسرا وعدہ یاد آیا تھا اسے۔
“رشتہ ڈھونڈ چکے ہیں؟۔۔۔ اتنا حق رکھتی ہوں کہ جان سکوں کون ہے وہ؟” کئی آنسؤوں اس نے اپنے اندر اتارے تھے۔
“طاہرہ کا بھانجا ہے جبران۔۔۔ بہت اچھا اور نیک دل انسان ہے۔۔۔ پہلی بیوی مرچکی ہے ڈیڑھ سال پہلے۔۔۔۔ دو بچے ہیں اس کے۔۔۔”
“بھانجا ہے آپ کا؟۔۔۔ تو یعنی سب پہلے سے ہی ڈئیسائیڈ تھا!۔۔۔ ٹھیک ہے مل لیتی ہوں اس بھانجے سے بھی۔۔۔” سمجھے ہوئے اس نے سر ہلایا۔
“آج۔۔۔۔آج شام کی چائے پر بلایا ہے اسے۔۔۔ تاکہ مل سکو اس سے تم۔۔۔” وہ فوراً بولی۔
“فائن!” گہری سانس بھرے وہ بولی۔
“مجھے لگا تھا کہ آپ بدل گئی ہے مگر ۔۔۔ یو آر سٹل دا سیم۔۔۔ آ وچ۔۔۔” کمرے سے نکلنے سے پہلے وہ حقارت بھری نگاہوں سے انہیں دیکھتی جاچکی تھی۔
“شی سٹیل ہیٹ می!” ان کی آنکھیں نم ہوگئیں تھی۔
“شی ہیٹ از(وہ ہم دونوں سے نفرت کرتی ہے)” ارسم نے تصیح کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“جو کام بولا تھا وہ کیا؟” آفس کی جانب بڑھتے اس نے سوال کیا۔
“یس میم!” وانیہ ساتھ چلتی بولی
“اور کورٹ کی جانب سے لیٹر؟ وہ ایشو ہوا؟” اس نے ایک ابرو اچکائے سوال کیا تھا۔
“آپ کے لائر اندر موجود ہے۔۔۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک بار آپ بھی نوٹس پڑھ لے۔۔۔۔ پھر بھیجوا دیا جائے گا!” وانیہ کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔
کیبین میں داخل ہوتے ہی اس کی ملاقات اپنے وکیل سے ہوئی تھی، کورٹ نوٹس کو پڑھ کر ایک مطمئن مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا۔
“میں ایک بار ثبوت دیکھنا چاہوں گا!” وکیل کے بولنے پر اس نے وانیہ کو اشارہ کیا جس نے فوراً اسے ثبوت دکھایا تھا۔
“ہمارا کیس کافی سٹرونگ ہیں۔۔۔ جیت ان شاءاللہ ہماری ہوگی۔۔۔” اس سے اجازت لیے لائر وہاں سے جاچکا تھا۔
چئیر پر جھولتے ایک مطمئن مسکراہٹ اس کے لبوں پر در آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر یہ آپ کے لیے آیا ہے۔۔۔۔” ملازم نے اسے کورٹ کی جانب سے آیا نوٹس تھمایا تھا۔
“یہ کیا آگیا؟” آذر نے حیرانگی سے الٹ پلٹ کر اس چٹھی کو دیکھا۔
“کہی کوئی پریم پتر تو نہیں؟” ذولقرنین کے چھیڑنے پر جبران بھی ہنس دیا تھا۔
“یہ تو کھول کر ہی پتہ چلے گا!” اس نے بھی ایک آنکھ دبائی تھی۔
مگر کھولتے ہی اسے حیرت کا سب سے بڑا جھٹکا لگا تھا۔
“واٹ دا ہیل!” وہ غصے سے چلایا۔
جبران نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے نوٹس تھاما تھا جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا اس کی آنکھیں پھیلتی گئی۔
“کیا ہوا ہے تم دونوں کو؟۔۔۔ اور ایسا بھی کیا لکھا ہوا ہے جو اسٹیچو بن گئے ہو دونوں؟” ذولقرنین نے سوال کیا۔
“کورٹ کی جانب سے نوٹس آیا ہے۔۔۔۔ ہفتے بعد عدالت میں پیشی ہے اس کی۔۔۔۔”
“نوٹس؟۔۔۔ عدالت میں پیشی؟۔۔۔ کیوں اور کس لیے؟” ذولقرنین حیران ہوا۔
“ریپ اٹیمپٹ کا الزام لگایا گیا ہے اس پر۔۔۔۔ حائقہ امین نامی عورت کی جانب سے بھیجا گیا ہے یہ نوٹس اسے۔۔۔”
جبران کی بات جونہی مکمل ہوئی ذولقرنین کو اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل لگا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے، میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ وہ عورت بس میری امیج سپائل کرنا چاہ رہی ہے۔۔۔۔ جو چاہتی تھی وہ نہیں ملا تو یہ گیم کھیل رہی ہے وہ۔۔۔ میں ابھی اپنے وکیل سے بات کرتا ہوں!” یہ کہہ کر آذر نے اپنے وکیل کو کال ملائی تھی مگر اس کی جانب سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا تھا اسے۔
“سر آپ کی کال آنے سے پہلے ہی میں ان کے وکیل سے بات کرکے پیسوں کی پیشکش کرچکا ہوں۔۔۔۔ مگر وہ کسی قسم کی سٹیلمینٹ پر راضی نہیں ہے۔۔۔۔”
“گالی” وکیل کی بات سنے اس نے غصے سے کال کاٹی تھی اسی وقت پولیس کا ایک دستہ اندر داخل ہوا تھا۔
“مسٹر آذر یو آر انڈر اریسٹ ان کیس آف آٹمپینگ ریپ۔۔۔”
آفیسر کے اشارے پر ایک حوالدار نے آگے بڑھ کر اسے ہتکڑی لگائی تھی۔
غصے سے چیختے چلاتے آذر کو وہ اپنے ساتھ لے جاچکے تھے۔
جبران اور ذولقرنین نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے چار بجے وہ “بیک اینڈ ٹیسٹ” نام کے ایک کیفے میں داخل ہوئی تھی، موبائل کی رنگ ٹون پر “آنٹی” لکھا دیکھ اس نے کال کاٹی تھی۔
“کیوں بلایا ہے مجھے یہاں ۔۔۔۔ وہ بھی اتنی ایمرجینسی میں؟” سامنے بیٹھے بیس سال کے لڑکے سے اس نے سوال کیا تھا۔
“حاقو آئی نیڈ یور ہیلپ!” نچلا ہونٹ اندر کو بھینچے وہ نم آنکھوں کو جھپکتے بولا تھا۔
“ناٹ اگین جیری۔۔۔” اس نے سرد آہ خارج کی تھی۔
“پلیز۔۔۔۔ اس بار کا آڈیشن بہت امپورٹینٹ ہے میرے لیے۔۔۔ اس بار ساتھ دو گی تو سلیکشن پکا سمجھو۔۔۔”
“پچھلے دس ماہ سے تم یہی کہہ رہے ہو۔۔۔” کافی کا آرڈر لکھوائے وہ بولی۔
“وان لاسٹ ٹائم پلیز۔۔۔ پریٹی پلیز۔۔۔” اس نے دونوں ہاتھ جوڑے آنکھیں پٹپٹائی تو حائقہ مان ہی گئی تھی۔
جیری اس کی سگی ماں کی خاص ملازمہ جینا کا بیٹا تھا۔۔۔۔ وہ عمر میں حائقہ سے جتنا چھوٹا تھا دل کے اتنا ہی قریب بھی۔۔۔ پچھلے سال ہی گریجوایشن کے درمیان یونیورسٹی کے لیے ایک اسٹیج ڈرامہ پرفارم کیا تھا اس نے جس پر ناجانے کس انسان نے اس کی اسقدر تعریف کرڈالی کہ اسے ڈرامہ انڈسٹری جوائن کرنے کا مشورہ دیا اور تب سے ہی وہ کسی بھی طرح انڈسٹری میں گھسنے کے لیے اپنا سر کھپا رہا تھا۔
“اچھا بتاؤ کیا کرنا ہے؟” کافی ختم کیے اس نے پوچھا
“بس یہ ڈائیلاگز بولنے ہیں۔۔۔” اس نے ایک سکریپٹ اس کے سامنے رکھی تھی جسے اٹھائے حائقہ نے ایک بار پڑھا تھا۔
“فائن ود می۔۔۔” اس نے کندھے اچکائے
۔۔۔۔۔۔
“جبران کہاں ہو تم؟۔۔۔ وقت دیکھا ہے تم نے؟۔۔۔ چار بجے بلایا تھا میں نے اور اب پانچ بجنے والے ہیں۔۔۔۔طاہرہ بیگم اس کے کال اٹھاتے ہی اس پر برسی تھی۔
“آرہا ہوں راستے میں ہوں!” گاڑی ڈرائیو کیے اس نے جواب دیتے ہی کال کاٹ دی تھی۔
‘بیک اینڈ ٹیسٹ’ کے سامنے گاڑی روکے وہ اپنی خالہ کا فیورٹ بٹر کیک لینے کے لیے بیکری میں داخل ہوا تھا۔ آرڈر دیے اس نے موبائل استعمال کے لیے کھولا تھا
“حائقہ پلیز مت چھوڑو مجھے میں، میں مرجاؤں گا تمہارے بنا!” کسی کے گڑگڑانے اور رونے کی آواز سنتے ہی جبران نے سر اٹھائے سامنے دیکھا تو وہاں موجود وہی پارٹی والی لڑکی کو دیکھ اس کا میٹر گھوما تھا۔
وہاں اس کا دوست اس عورت کے جھوٹے مقدمے کی وجہ سے جیل میں تھا اور یہاں یہ کسی اور کے ساتھ ہی۔
“شوق سے مرو۔۔۔ مگر میری زندگی اور راستے میں اب کبھی نہ آنا!” انگلی اٹھائے اسے وارن کرتی وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
“سر یور آرڈر!” اس سے پہلے کے جبران اس کے پیچھے جاکر اس کا دماغ سیٹ کرتا اسے پکار لیا گیا تھا۔
اپنا آرڈر لیے وہ غصے سے وہاں سے نکلا تھا مگر سامنے ہی دوبارہ حائقہ کو پاکر اندر کا لاوا جیسے دوبارہ ابلا تھا۔
“تم!۔۔۔ تم کس قسم کی عورت ہو؟ خود کو سمجھتی کیا ہو؟۔۔۔ ہوکیا تم؟۔۔۔ میں نے تمہاری جیسی گھٹیا عورت آج تک اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔۔۔ ایک طرف میرے دوست پر جھوٹا کیس کروا کر اسے جیل بھیجوا دیا اور دوسری جانب یوں کسی اور کی فیلنگ کے ساتھ کھیل رہی ہو؟۔۔۔ گاڈ!۔۔۔ تمہیں تو اپنے عورت ہونے پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔۔۔۔” وہ اس پر چلایا تھا۔
حائقہ کا دل چاہا تھا کہ وہی اس کا منہ توڑ دے مگر خود پر قابو پائے رکھا اس نے۔
“راستہ دو مجھے۔۔۔” اسے سائڈ پر دھکیلے اپنی گاڑی نکالی تھی اس نے۔
“سنو سائکائٹرسٹ کا کارڈ دیا تھا تمہیں میں نے۔۔۔ جتنی جلدی ہوسکے اس سے رابطہ کرلو۔۔۔ تمہارے حق میں بہتر ہوگا!” گاڑی جبران کے پاس روکے اسے نصیحت کرتی وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
جبران کا شدت سے جی چاہا تھا کہ ہاتھ میں موجود کیک کا ڈبہ اس کے منہ پر دے مارے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے یہاں آئے دس منٹ ہوچکے تھے، معیز اور آدم کو میسم اور سارہ اپنے ساتھ پلے لینڈ لے کر چلے گئے تھے۔
“بہت شکریہ آنے کے لیے!” طاہرہ بیگم نے طنز کیا تھا۔
“خالہ امی۔۔۔” اس نے آنکھیں گھمائی تھی ان کے طنز پر۔
“کیا خالہ امی؟۔۔۔ کب سے کال کررہی ہوں تمہیں میں۔۔۔”
“خالہ امی ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا۔۔۔۔ مگر اب آگیا ہوں نا!”
“تم تو آگئے ہو مگر اب وہ بھی آجائے جس سے ملنے کو بلایا ہے۔۔۔” انہوں نے سر جھٹکا تھا۔
ان کے کہنے کی دیر تھی کہ انہیں حائقہ اندر آتی دکھائی دی۔
“لو حائقہ بھی آگئی۔۔۔” اسے خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب جاتے دیکھ وہ اونچی آواز میں بولی۔
حائقہ نے کوفت سے آنکھیں بند کیے غصے دبایا۔
“حائقہ ادھر آؤ۔۔۔” جبران کی پیٹھ اس کی جانب تھی جس کی بدولت وہ اسے نہ دیکھ سکا اور نہ ہی اسے فلحال دیکھنے کا شوق تھا۔
“حائقہ اس سے ملو یہ جبران ہے میرا بھانجا اور جبران یہ حائقہ ارسم کی بیٹی۔۔۔”وہ مسکرا کر بولی۔
اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر اس کی جانب مڑے جبران نے جب اسے دیکھا تو دونوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“تم؟” وہ دونوں ایک ساتھ چلائے۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس گھر میں قدم رکھنے کی؟” وہ غصے سے چلائی۔
“یہی سوال میں تم سے بھی کرسکتا ہوں!” جبران نے ناگوار نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“میرے باپ کا گھر ہے یہ۔۔۔”
“میری خالہ امی کا گھر ہے یہ۔۔” دوبدو جواب دیا اس نے بھی۔
“یاخدایا! کیا ہورہا ہے یہ۔۔۔ کیا تم دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہو؟” طاہرہ بیگم نے پریشانی سے ان دونوں کو دیکھا۔
“بہت اچھے سے۔۔” دونوں نے دانت چبائے جواب دیا
“میری طرف سے انکار سمجھے خالہ امی آپ کو میرے لیے پوری دنیا میں یہی عورت ملی تھی؟۔۔۔ ارے ایسی عورت پر تو میں تھوکو بھی نا!” جبران نے جس طریقے سے اس پر انگلی اٹھائی حائقہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔
“میری طرف سے ہاں ہے۔۔۔” وہ جو کچھ سخت سنانے کے موڈ میں تھی یکدم مسکرا کر بولی۔ اس کی مسکراہٹ جبران کو زہر لگی تھی۔
“تم۔۔۔”
“میں اس شادی کے لیے راضی ہوں۔۔۔ میری جانب سے ہاں سمجھے۔۔۔مگر ایک شرط ہے میری” جبران کو اگنور کیے اس نے طاہرہ بیگم کو جواب دیا جن کے پیر ہی خوشی کے مارے زمین پر نہ ٹک رہے تھے۔
“ہاں بولو کیا شرط ہے؟” انہوں نے بےتابی سے پوچھا۔
“خالہ امی میں انکا ر کرچکا ہوں!” مگر اس کی کسی نے نہ سنی۔
“شادی اگلے ہفتے ہی ہوگی۔۔” جبران کی جانب دیکھ وہ اسے مسکراہٹ سے نوازتی بولی
“بالکل جیسا تم چاہو۔۔۔میں۔۔۔میں ابھی ارسم کو کال کرکے یہ خوشخبری سناتی ہوں۔۔۔ افف ایک ہفتہ اور اتنے کام۔۔۔ میرا موبائل کہاں ہے!” وہ ماتھے پر ہاتھ مارے وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلی گئی تھی
اب لاؤنج میں بس وہی دونوں رہ گئے تھے۔۔۔ جبران نے شرارے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“کیا کہا تھا ابھی تم نے؟ ۔۔۔ ‘ایسی عورت’۔۔۔ یہ عورت کیسی ہے تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا جبران حیات۔۔۔ بس ایک ہفتہ زیادہ انتظار نہیں۔۔۔” اس کے کان میں سرگوشی کیے وہ مزے سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
جبران کی نفرت بھری نگاہوں نے اس کے آنکھوں سے اوجھل ہونے تک اسے گھورا تھا۔۔ ۔۔ اپنی پشت پر اس کی سلگتی نگاہیں محسوس کیے حائقہ ارسم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔
