65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“میں شادی کررہا ہوں!” بہت ہمت جمع کیے بلآخر وہ بول پڑا تھا۔
اپنی بات کیے اس نے ذولقرنین کی جانب دیکھا جو سنجیدگی سے گاڑی ڈرائیوو کررہا تھا۔
“میں شادی کررہا ہوں!” ری-ایکشن کے لیے دوبارہ بات کی اس نے
“پلیز جبران مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں اس وقت میں۔۔۔” ذولقرنین کوفت سے بولا۔
“مزاق نہیں سچ ہے۔۔۔ پرسوں نکاح ہے میرا۔۔” ست جھٹکے اس نے جواب دیا۔
“اچھا کس کے ساتھ؟” استہزایہ انداز میں ذولقرنین نے سوال کیا۔
“حائقہ امین۔۔۔” وہ دھیمی آواز میں بولا
مگر یہ نام برابر ذولقرنین کے کانوں تک پہنچا تھا، ایک جھٹکے سے اس نے گاڑی سائڈ پر روکی۔
“کس کے ساتھ؟” ذولقرنین کو مانو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا۔
“حائقہ امین کے ساتھ پرسوں نکاح ہے میرا!”
“تمہاری اسٹیپ کزن حائقہ امین؟” ذولقرنین نے کلیئر کرنا چاہا
جبران نے سر اثبات میں ہلایا۔
ذولقرنین کو اپنے جسم میں بھانبھڑ جلتے محسوس ہوئے۔
“کب سے چل رہا ہے یہ سب؟” چند پل کی خاموشی کے بعد اس کی آواز گونجی تھی۔
“ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ یہ رشتہ سراسر خالہ امی کی خواہش ہے۔۔۔” وہ ذولقرنین کی بات کا مطلب سمجھتے بولا۔
“اور خالہ امی نے یہ خواہش کب ظاہر کی؟” سٹئیرنگ ویل پر اس کی گرفت سخت ہوگئی تھی۔
“لاسٹ ویک۔۔۔ اسی سلسلے میں خالہ امی سے ملنے گیا تھا۔”
“اور تم نے ہمیں بتانا گوارہ نہیں کیا؟”
“کیا بتاتا یار تمہیں؟۔۔۔ یہ کہ جس عورت سے میرا نکاح طے ہوا ہے وہ وہی ہے جس کی وجہ سے میرا دوست سلاخوں کے پیچھے ہے؟۔۔۔ میں تو خود شاکڈ رہ گیا تھا اسے سامنے پاکر۔۔۔ مگر خالہ امی کی وجہ سے خاموش رہا۔۔۔ سوچا کہ چلو ہفتے بعد تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔۔ جان چھوٹ جائے گی مگراب۔۔۔” وہ رک کر ہنسا، چہرے پر ایک انجانی خوشی در آئی جسے ذولقرنین نے شدت سے محسوس کیا۔
“اب تو لگتا ہے کہ تیرا دوست گھوڑی چڑھ کررہے گا!” وہ کھل کر ہنس دیا تھا۔
“پرسوں نکاح ہے تمہارا اور تم مجھے اب بتا رہے ہو۔۔۔ ویل ڈن!۔۔۔” ذولقرنین نے طنز کیا۔
“یار تو کیا کرتا میں؟۔۔۔ اس پوزیشن میں تھا کہ تمہیں بتا سکتا۔۔۔ اور پھر آذر نے جو کیا (جبران کے چہرے پر غصہ در آیا)۔۔۔ میں تو اب ہونے والی بیوی کے سامنے شرمندہ ہوکر رہ گیا ہوں۔۔۔ اور قسم لے لے مجھے تو ابھی سے اس کے تیوروں سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔” جبران نے جھرجھری لی۔
“میں انوائیٹڈ ہوں کہ نہیں؟” گاڑی دوبارہ سٹارٹ کیے ذولقرنین نے دانت چبائے سوال کیا۔
“بالکل تمہارے بنا تو نہیں کرنے لگا می ایسا کچھ بھی۔۔۔ آج مایوں ہے تو بھابھی کے ساتھ شرکت لازمی ہے تمہاری۔۔۔” جبران نے اس کا کندھا تھپتھپایا تھا۔
“ویسے تمہیں کیا لگتا ہے حائقہ جبران سننے میں کیسا لگتا ہے؟” اپنا نام اس کے نام کے ساتھ جوڑے اس نے ہنس کر پوچھا تھا، ذولقرنین کی آنکھیں لال انگارہ ہوچکی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
سیگریٹ کا آخری کش لیے اس نے کالےگہرے آسمان پر نگاہیں ٹکائی تھیں۔۔۔ ذہن میں بار بار جبران کے الفاظ گردش کررہے تھے۔
“حائقہ جبران۔۔۔” اچانک سے اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا۔
سیگریٹ کو پیروں میں مسلے وہ کمرے میں داخل ہوا جہاں اس کی بیوی اس کے بیٹے کو سلارہی تھی۔
آج رات اسے کسی اور کے نام کی مہندی لگنے جارہی تھی، وہ لڑکی جو اس کی دیوانی تھی وہ کسی اور کے نام اپنی زندگی لکھوانے جارہی تھی۔۔۔ ذولقرنین کو اپنے اندر وحشت اترتی محسوس ہوئی تھی۔
اسی وحشت سے چھٹکارا پانے کو اس نے اپنی بیوی کی جانب قدم بڑھائے جس نے ہاتھ جھٹکتے ‘آج نہیں’ کہہ کر کروٹ لے لی تھی۔
ذولقرنین کا وجود مزید انگاروں پر جل اٹھا تھا۔۔۔۔ وہ بنا کوئی لحاظ کیے اس پر قابض ہوتا اپنی تمام تر وحشت اپنی بیوی میں منتقل کرچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
مایوں اور مہندی کا فنکشن واقعی اس قدر بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کھلی کی رہ گئی تھی۔
آج برات کا دن آپہنچا تھا۔
پیور ڈیپ ریڈ لہنگے کے ساتھ ایک بیش بہا قیمتی ڈائمنڈ سیٹ پہنے وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے کو تیار تھی۔
اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی، نہ غم۔۔۔ دیکھنے والے یہ اخذ نہ کرپاتا کہ آیا وہ خوش ہے یا دکھی۔۔۔ ہاں مگر ایک سکون ضرور تھا۔
دوسری جانب نسرین نوے کی دہائی کی دکھی پیروئینز کی طرح ہال میں یہاں سے وہاں گھومتی بس کسی بھی طرح سے یہ شادی نہ ہونے کی دعائیں مانگتی جارہی تھی۔
“سارہ بی بی، میسم بابا کچھ کریں۔۔۔ مجھے بچالے۔۔۔” اب بس وہی دونوں بچے تھے اس کی فریاد سننے کو۔
“چلو میسم آخری بار مل لو نسرین سے۔۔۔ شائد پھر اس جنم ملاقات ہو نا ہو۔۔۔” آخر میں گانے کی لائن گائی تھی اس نے۔
“اچھا نسرین اپنا بہت بہت خیال رکھنا بہت یاد آئیں گی آپ ہمیں۔۔۔” ہمدردانہ انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا میسم نے۔
نسرین کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ آنسوؤں بھی درآئے تھے۔
اتنے میں ہی برات کا شور اٹھا ۔۔۔ بلیک شیروانی پہنے سب سے آگے کھڑا جبران حیات اور اس کے پہلو میں اسی جیسی شیروانی زیب تن کیے معیز اور آدم۔۔۔۔ اور پیچھے موجود براتی جن میں اس کے تمام سکول و کولج اور یونیورسٹی کے دوست احباب شامل تھے۔
معیز کی گرفت جبران کے ہاتھ پر سخت ہوئی تھی جبکہ آدم حیرانگی سے تمام منظر دیکھ رہا تھا۔
بارات کے استقبال کو وہ سب وہاں موجود تھے۔
جبران کو ہار پہنائے طاہرہ بیگم اور ارسم امین نے برات کا استقبال کیا تھا مگر جس منظر کو دیکھ طاہرہ بیگم اور ارسم امین کی آنکھیں پھیلی وہ تھی ذولقرنین کی وہاں موجودگی جو اپنی بیوی کی باہوں میں باہیں ڈالے مسکراتا اندر داخل ہوا تھا۔
“یہ شخص یہاں کیا کررہا ہے؟” ارسم امین نے ناگوار لہجے میں سوال کیا۔
“معلوم نہیں۔۔۔” طاہرہ کا سر نفی میں ہلا۔
“آپ کے بھانجے کی برات میں اس کے ساتھ آیا ہے اور آپ کہتی ہیں معلوم نہیں۔۔۔” وہ دھیمی آواز میں بیوی پر برسے۔
“ہوسکتا ہے کسی دوست کا جاننے والا ہو!”
“ایسا لگ تو نہیں رہا!”
ان کی بات سن ارسم نے آنکھوں سے سٹیج کی جانب اشارہ کیا جہاں جبران ہنس ہنس کر ذولقرنین سے بات چیت میں مگن تھا۔
“میں، میں جبران سے بات کرتی ہوں۔۔۔” وہ فوراً بولی
“بہتر یہی رہے گا۔۔۔ میں مزید اس شخص کی وجہ سے اپنی بیٹی کی زندگی برباد ہونے نہیں دے سکتا!” وہ ان کو سنائے باقی مہمانوں کے پاس چل دیے تھے۔
“ایکسکیوز می ایوری وان!۔۔۔ جبران بیٹا میری بات سننا!” طاہرہ بیگم نے اسے سائڈ پر آنے کو کہاں تھا۔
“جی خالہ امی۔۔۔” اسٹیج سے اترتا وہ سائڈ پر ان کے پاس آیا تھا۔
“تم۔۔۔ تم ذولقرنین کو کیسے جانتے ہو؟” وہ سیدھا مدعے پر آئی۔
“زولقرنین!۔۔۔ ذولقرنین شفیق کی بات کررہی ہے آپ؟” جبران کے سوال پر انہوں نے سر تیزی سے اثبات میں ہلایا۔
“وہ دوست ہے میرا۔۔۔ چھ سال پہلے ملاقات ہوئی تھی ہماری ۔۔۔ وہ اپنی وائف کے یورپ ٹرپ پر آیا تھا وہ ہنی مون۔۔۔ وہی ملاقات ہوئی اس کے بعد بزنس میٹس بن گئے ہم۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ خیریت؟” جبران نے سوال کیا۔
“ہاں سمجھو خیریت ہی ہے۔۔۔ نکاح کا وقت ہے چلو چلے۔۔۔” وہ مسکرا بھی نہ پائی۔
“بات ہوئی جبران سے۔۔۔” ارسم امین فوراً ان کے پاس پہنچے۔
“ہمم۔۔۔ مگر یہ وقت ماضی کو کریدنے کا نہیں ہے۔۔۔ ایک بار بخیروعافیت نکاح ہوجانے دے۔۔۔ فلحال کسی قسم کی کوئی بدمزہگی نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ جبران سے میں خود بات کرلوں گی۔۔” ارسم امین نے سر ہلایا تھا۔۔۔ انہیں اپنی بیوی کی نیت پر کوئی شک نہیں تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں ان کا نکاح انجام پایا تھا۔۔۔ باہر سے مسکراتا ذولقرنین اند سے جل کا خاک ہوچکا تھا۔
نکاح کے بعد مبارکباد کا سلسلہ چلا تھا۔۔۔ طاہرہ بیگم دونوں بچوں کو لیے انہیں ان کی نئی ماں سے ملوانے لےجاچکی تھی۔
برائیڈل روم میں موجود حائقہ کے نکاح نامہ پر سائن کرتے ہی اس کا دل پل بھر میں خالی ہوا تھا۔۔
ایک عجیب بےچینی اور وحشت اسے گھیر چکی تھی۔
آنکھیں جھپکتے اس نے آنسوؤں بہنے سے روکے تھے۔
اتنے میں برائیڈل روم کا دروازہ کھولے طاہرہ بیگم اندر داخل ہوئی تھی۔
“دیکھو حائقہ تم سے ملنے کون آیا ہے؟” طاہرہ بیگم کی پرجوش آواز پر وہ مڑی تھی۔
سامنے کھڑے معیز اور آدم دونوں نے اکٹھے اسے دیکھا۔
جہاں معیز کے چہرے پر شرمیلی مسکان در آئی تھی وہی آدم کا ہاتھ یکدم اپنے دل پر گیا تھا۔
سامنے تو وہی کھڑی تھی، اس کی ‘خونخوار حسینہ’۔۔۔۔ اس کا دوآتشہ روپ دیکھ آدم کے دل میں موجود گھنٹیاں اپنے آپ بج اٹھی تھی۔
طاہرہ بیگم ان کا تعارف کروارہی تھی مگر آدم بابا ہوش میں تھے ہی کہاں؟۔۔۔ وہ تو مدہوش ہوئے ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ چکےتھے۔
“۔۔۔یہ آپ کی نئی ماما اور آج سے یہ آپ کے ساتھ ہی رہے گی۔۔۔” انہوں نے اپنی بات مکمل کی تو آدم ہوش میں آیا۔
مگر ہوش میں آتے اس نے بس آخری کے فقرے سنے تھے کہ وہ اب ان کے ساتھ رہے گی۔
ٹھرک کہی پیچھے جاسوئی تھی، اب آدم کے اندر پنپتے بدلے کی آگ نے انگڑائی لی تھی۔
اس عورت نے اسے بھرے مجمے (بقول آدم کے ایک نوکرانی اور اس کے کئی کھلونوں کے سامنے) میں اس کو بےعزت کیا تھا۔
بدلہ تو بنتا تھا۔
معیز طاہرہ بیگم سے ہاتھ چھڑوائے دھیمے قدم اٹھاتا حائقہ کی جانب بڑھا تھا۔
“السلام علیکم میرا نام معیز ہے۔۔۔” اس نے تمیز سے سلام کیا۔
“اور یہ میرا چھوٹا بھائی آدم ہے۔۔۔ ہم بہت اچھے بچے ہیں بالکل بھی تنگ نہیں کرتے۔۔۔ اب ہم ساتھ مل کررہے گے اور مزے کرے گے۔۔۔” اس کی بات پر طاہرہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“آج سے آپ ہماری ماما ہے نا۔۔۔ تو آپ جو کہےگی ہم ویسے ہی کرے گے۔۔۔ بدتمیزی بھی نہیں کرے گے اور آپ کی سب باتیں مانے گے۔۔۔”
“میں آپ کو ماما بلا سکتا ہوں نا؟” روشن چمکتی آنکھوں میں آس لیے اس نے سوال کیا۔
حائقہ مسکرائی، نیچے جھکی، اسے اپنے قریب کیے ہونٹ اس کے کان کے پاس لائی۔
“ماما نہیں ہوں میں تمہاری۔۔۔ آئیندہ سے ماما مت بلانا مجھے۔۔۔” آواز اتنی دھیمی تھی کہ معیز کے علاوہ کوئی سن نا پایا۔
معیز کی آنکھیں آنسوؤں سے جھلملا اٹھی تھی۔
“اب میرا پیارا بچہ مسکراؤ!” حائقہ کی وارننگ پر وہ فوراً مسکرایا تھا۔
ان کو اتنا قریب دیکھے آدم کو آگ لگی تھی، طاہرہ بیگم سے ہاتھ چھڑواتا وہ تیزی سے حائقہ کی جانب بھاگا اس کا چہرہ معیز کی جانب سے اپنی جانب موڑے اس کے ہونٹوں پر بوسہ لیا تھا اس نے۔
ڈیڑھ سالہ وجود میں انگڑائی لیتے ٹھڑکی عمران ہاشمی کو گونا ڈھیروں سکون آ پہنچا تھا۔
حائقہ سے دور ہوئے وہ شرما اٹھا۔
جہاں حائقہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی، وہی معیز کی بھی خوف سے آنکھیں پھیلی تھی۔۔۔ طاہرہ بیگم نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے مسکراہٹ دبائی تھی۔
حائقہ تو پلکیں جھپکتی اس بونے کی بہادری پر عش عش کر اٹھی تھی۔
حائقہ کی شکل دیکھ آدم نے دونوں آنکھیں میچے اپنی جانب سے آنکھ مارنے کی کوشش کی تھی جس میں وہ بری طرح سے ناکام ٹھہرا تھا۔
ناچاہتے ہوئے بھی حائقہ کھل کر ہنس دی تھی۔۔۔ ہنسی سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا، آنکھوں سے پانی نکلا تھا۔
“حائقہ چلے میں تمہیں لینے آئی ہوں!” طاہرہ بیگم آگے بڑھ کر بولی۔
“جی ضرور۔۔۔” ہنسی ہونٹوں سے جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
اتنے سالوں بعد اسے کھل کر ہنستے دیکھ طاہرہ بیگم کو اپنا فیصلہ درست لگا تھا۔
ڈوپٹا درست کرتی وہ مسکراہٹ روکتی ان کے ساتھ چل دی تھی۔
ہال میں دلہن کے آنے کا شور اٹھا تھا اور ساتھ ہی جبران بھی فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
لڑکیوں کے جھرمٹ میں اسٹیج کی جانب آتی حائقہ پر سب کی آنکھیں ٹکی ہوئی تھی۔
اس کو دیکھ دو لوگوں نے گہری سانس بھری تھی
ایک جبران جو اس کے جسم و روح، محبت ہر ایک پر حق رکھتا تھا تو دوسرا ذولقرنین جو یہ حق چھ سال پہلے ہی کھوچکا تھا۔
ذولقرنین کو بےدردی سے نظرانداز کیے وہ بڑی شان سے جبران کا بڑھا ہاتھ تھامتی اس کے پاس ہی صوفہ پر براجمان ہوئی تھی۔
حائقہ کے آتے ہی تمام مہمان باری باری ان سے ملنے آئے تھے ذولقرنین بھی اپنی بیوی کے ساتھ ملا تھا ان دونوں سے۔۔۔ دعائیں بھی تھی جس پر حائقہ نے فقط سر جھٹکا تھا۔
سب احباب سے ملتے ملاتے وہ دونوں اب اسٹیج پر رہ گئے تھے، جبران کو آئی ایک کال پر وہ اسٹیج سے اترتا وہ سائڈ پر ہوا تھا۔
کسی کو حائقہ کے پاس نہ پاکر ذولقرنین موقع غنیمت جانتا اس کی جانب بڑھا تھا۔
“شادی کی بہت بہت مبارک ہو ڈئیر ایکس-وائف۔۔۔” وہ اس کے سامنے کھڑا طنزیہ لہجے میں بولا۔
“تھینک یو!” حائقہ نے جواب یوں دیا جیسے اس کا کوئی لینا دینا نہ ہو۔
“آج بھی اتنی ہی بےمروت ہو جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔۔۔ مگر میں نہیں تم نے تو نہ مجھے اپنی شادی پر بلایا اور نہ ہی مجھے شادی کی مبارک باد دی مگر مجھے دیکھو نہ صرف تمہیں مبارک باد دینے آیا ہوں بلکہ اپنی شادی کا کارڈ بھی بھیجا تھا!” وہ ماضی کا درد اسے دینا چاہتا تھا۔
“اممم۔۔۔ کانگریچولیشنز!” حائقہ کے پرسکون بولنے پر اسے گویا پتنگے لگ گئے تھے۔
“چھ سال بعد مل رہے ہیں۔۔۔ حال احوال نہیں پوچھو گی؟۔۔۔ پرانہ رشتہ نہ سہی پرانی دوستی کے حوالے سے ہی؟” ذولقرنین نے مزید بات آگے بڑھائی۔
حائقہ نے گہری سانس خارج کیے اسے دیکھا۔
“کیسے ہو ذولقرنین ۔۔۔ اور لائف کیسی جارہی ہے؟” مارے بندھے اس نے سوال کیا۔
“آج تمہارے نام میں میرے لیے وہ مٹھاس نہیں جو پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔۔”
حائقہ نے آنکھیں گھمائی تھی۔
“ویسے میں ٹھیک ہوں، بلکہ بہت خوش ہوں!۔۔ ایک اتنی خوبصورت، سلیقہ دار اور محبت کرنے والی بیوی ہے میری۔۔۔ ایک عدد پیارا اور سلجھا ہوا بیٹا بھی ہے میرا۔۔۔ ایک کمپلیٹ مکمل اور ہیپی فیملی، جو تم کبھی نہ دے پاتی۔۔۔” آخر میں اس کی زبان نے وہ زہر اگل ہی دیا تھا جوکب سے زبان کی نوک پر تھا۔
حائقہ کھل کر ہنسی تھی۔
“چھ سال ہوگئے ہیں شادی کو اور بس ایک چوزہ؟۔۔۔ میرے نکاح کو ایک گھنٹہ ہوا ہے اور ماشااللہ سے دو عدد بچے ہیں میرے۔۔۔۔ وہ بھی نہایت سلجھے، تمیزدار اور بااخلاق۔۔”
حائقہ پر اپنی کسی بات کا اثر نہ ہوتے دیکھ ذولقرنین کی آنکھیں جلی تھی۔
“پرائے بچے۔۔۔ میرا اپنا ہے۔۔۔” ذولقرنین مسکرایا
مگر حائقہ کی مسکان دیکھتے اس کی پھیکی پڑ گئی۔
“ایک سال کی بات ہے۔۔۔ ان شاءاللہ شادی کی پہلی اینیورسری پر اپنے شوہر کو یہ تحفہ دے دوں گی میں۔۔۔ کیا معلوم دو ہوجائے؟” اس کے اتنی بےباکی سے کہنے پر ذولقرنین کی آنکھوں میں غصہ در آیا۔
کوئی بات نہ بن پانے پر وہ غصے سے وہاں سے نکلا تھا۔
“کیا کہہ رہا تھا وہ؟” طاہرہ بیگم فوراً سے اس کی جانب بڑھی۔
“مجھے ریسٹ روم میں لے جائے پلیز۔۔۔” اس نے منت کی۔
“ٹھیک ہے چلو کھانا کھلنے والا ہے، اس کے بعد لے آؤ گی تمہیں میں” سر ہلائے وہ ان کے ساتھ چل دی تھی۔
جسم ڈھیلا پڑچکا تھا جیسے تمام سکت ختم ہوگئی ہو۔
برائیڈل روم میں آتے ہی انہوں نے اسے سپرائٹ پلائی تھی۔۔۔ حائقہ کا بی-پی لو ہوچکا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں آپ جائے۔۔۔”
“آر یو شیور؟”
“ہمم۔۔۔” اس نے سر ہلایا۔
ان کے جاتے ہی وہ ایک بار پھر اپنے کربناک ماضی میں چلی گئی تھی۔
ہاتھ میں موجود کارڈ دیکھ حائقہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تھا۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گارڈ اسے کارڈ دے کر گیا تھا۔
ذولقرنین کی جانب سے اس کی شادی کا دعوت نامہ تھا وہ، یا حائقہ کے لیے موت کا پروانہ۔
پاگلوں کی طرح چیختی چلاتی وہ اپنے بال نوچنا شروع ہوگئی تھی۔
گھر پر طاہرہ بیگم کے علاوہ کوئی بھی نہ تھا، بڑی مشکل سے انہوں نے اسے سکون آور انجیکشن لگائے سلایا تھا۔
نفرت بھری نگاہ سے طاہرہ بیگم نے اس کارڈ کو دیکھا تھا۔
ذولقرنین کے لیے حائقہ کا پاگل پن بڑھ چکا تھا۔
روزانہ کئی کئی گھنٹے وہ اس کے آفس اور گھر کے باہر اس کی ایک جھلک دیکھنے، دو پل بات کرنے کو گزار دیتی۔
وہ دن اچھے سے یاد تھا اسے جب بڑی شان سے وہ شخص اپنی نئی بیوی کو رخصت کروا کر لایا تھا۔
حائقہ وہی تھی سامنے ہی لٹی حالت میں اس کی خوشیوں کو دیکھتی جب ایک چڑادینے والی مسکراہٹ سے اسے نوازتا وہ اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے گھر میں داخل ہوا تھا۔
مگر ذولقرنین نے بس یہی تک معاملہ ختم نہ کیا تھا بلکہ اپنے بیٹے کی پیدائش پر بھی سب سے پہلا ڈبہ مٹھائی کا حائقہ امین کو بھیجوایا تھا جس پر وہ ایک بار پھر وحشتوں کی زنجیروں میں قید ہوکر رہ گئی تھی۔
آج سال بعد بھولے بھٹکے اپنی اولاد کی یاد ستائی جو اس کی کوکھ میں ہی ختم ہوگئی تھی۔
وہ تو یہ بھی نہ جانتی تھی کہ اس کو دفنایا کہاں گیا تھا۔
“حائقہ کہاں جارہی ہو؟” طاہرہ بیگم نے سوال کیا۔
“ذولقرنین شفیق سے اپنا بچہ لینے!” وہ بولتی باہر نکل گئی
طاہرہ بیگم بھی اس کے پیچھے لپکی تھی۔
ذولقرنین کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا تھا۔
“تم یہاں کیا کررہی ہو؟۔۔۔ اور یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟” ذولقرنین نے ناگواری سے سوال کیا۔
“میرا بچہ کہاں ہے ذولقرنین؟” وہ دھاڑی تھی۔
“کیا بکواس کررہی ہو؟ کون سا بچہ؟” شکر تھا کہ اس کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی ورنہ یہ پاگل عورت نہ جانے کیا تماشہ لگا دیتی اس کے سامنے۔
“وہی بچہ جو تمہاری خودغرضی اور بےوفائی کی نظر ہوگیا۔۔۔ دنیا میں آنے سے پہلے چلا گیا۔۔۔” وہ چلائی۔
“آوازنیچی رکھو جاہل عورت۔۔۔” وہ ناگواری سے بولا۔
“دیکھو ذولقرنین مجھے کچھ نہیں چاہیے تم سے۔۔۔ بس، بس اتنا بتا دو میرا بچہ کہاں ہے؟۔۔۔ اس کی قبر کا بتا دو مجھے۔۔۔” رندھی آواز میں بات بامشکل مکمل کی تھی اس نے۔
“میں۔۔ کچھ نہیں بتاؤ گا۔۔۔ تم جیسی عورت یہ ڈیزروو نہیں کرتی۔۔۔ ارے تم تو ماں بننا ڈیزروو نہیں کرتی تھی۔۔۔ مگر اللہ نے تمہیں نوازہ اور تم نے کیا کیا؟ میری اولاد کو مار دیا۔۔۔ قاتل ہو تم۔۔”
“قاتل نہیں ہوں میں۔۔۔ نہیں ہوں قاتل۔۔۔ تم ہو قاتل۔۔۔ تم نے مارا ہے میرے بچے کو۔۔۔” وہ حلق پھاڑ چلائی تھی۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔”
“کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے یہ؟” شفیق صاحب وہاں آکر گرجے تھے۔
“پپ۔۔۔پلیز انکل۔۔ مجھے میرے بچے کی قبر پر لے جائے؟۔۔ میں دوبارہ مڑ کر آپ لوگوں کی زندگی میں نہیں آؤں گی۔۔۔۔ بس اس کی قبر کا بتادے مجھے۔۔۔” وہ شفیق صاحب کے پیروں میں گرگئی تھی۔
انہوں نے افسوس سے حائقہ کو دیکھا۔
“اے لڑکی یہ کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے۔۔۔ چلو نکلو یہاں سے!” مسز شفیق نے نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“آؤ میرے ساتھ!” شفیق صاحب نے اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔
“ڈیڈ۔۔۔” ذولقرنین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔
“تم نے جو کرنا تھا کرلیا۔۔۔ میں کچھ نہیں بولا مگر اب مزید نہیں۔۔” اسے ٹوکتے وہ حائقہ اور طاہرہ بیگم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر موجود قبرستان لے آئے تھے۔
بہت سی قبروں کو پار کیے وہ اسے آخر میں موجود ایک چھوٹی مگر ٹوٹی پھوٹی سی قبر کے پاس لے آئے تھے۔
بنا کچھ بولے وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔
مٹی پر ہاتھ پھیرے حائقہ نے اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا۔
اس چھوٹی سی قبر پر سر ٹکائے وہ رو دی تھی۔
“حائقہ!
حائقہ!
حائقہ!”
“جی؟” زور سے کندھا ہلانے پر وہ ہوش میں آئی تھی۔
“فوٹو سیشن کے لیے بلا رہے ہیں باہر۔۔۔ آجاؤ!”
“جی۔۔۔” سر ہلائے وہ ان کے پیچھے چل دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔