No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“سر میم کے تھوڑا قریب ہوئیے اور پلیز تھوڑا سا مسکرا بھی دیجیئے۔۔۔” کیمرہ میں کھینچی تصویر کو دیکھ کر فوٹوگرافر نے جھنجھلا کر جبران کو ٹوکا تھا۔
“جیسا وہ کہہ رہا ہے ویسا کرو۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں۔۔۔” مسکراتی نگاہیں اور لہجے میں وارننگ، جبران تھوک نگلتا اس کے تھوڑا سا قریب ہوا مگر حائقہ اس کی گردن کے گرد دائرہ بنائے اسے مزید قریب کھینچ چکی تھی۔
“تمہاری پچھلی حرکت بھولی نہیں ہوں میں، اب اگر تمہاری وجہ سے میری تصوریریں خراب آئی تو دیکھنا کیا کرتی ہوں تمہارے ساتھ میں۔۔” اس کے کان کے قریب وہ مسکرا کر بولی تھی جب فوٹوگرافر نے ان کی تصویر لی تھی۔
“سر سمائل۔۔۔”ایک بار پھر فوٹوگرافر نے ٹوکا۔
حائقہ کی وارننگ زدہ نگاہیں خود پر جمی دیکھ جبران فوراً مسکرایا تھا۔
“فائنلی۔۔۔” فوٹوگرافر نے ان کی تصویر لے لی تھی۔
کچھ دیر بعد رخصتی کا شور اٹھا، جبران کی قیادت میں وہ حال سے ہی وداع ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔
سارہ یا میسم میں سے کسی نے بھی اس سے ملنا ضروری نہ سمجھا ہاں مگر نسرین سے وہ دونوں ملے۔
یوں معلوم ہوتا تھا جیسے رخصتی حائقہ کی نہیں بلکہ نسرین کی تھی۔
طاہرہ بیگم اور ارسم امین دونوں آگے بڑھے تھے ملنے، طاہرہ بیگم نے اسے گلے لگایا جس کا اس نے جواب نہ دیا مگر جس چیز پر جبران حیات ٹھٹھکا تھا وہ تھا حائقہ جبران کا ارسم امین کے دعا دینے والا ہاتھ بڑھانے پر جھجھک کر دو قدم پیچھے کو لینا۔
جبران نے عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا۔
رخصتی کے وقت طاہرہ بیگم بھی اس کے ساتھ موجود تھی۔۔۔ جبران کے کمرے میں اسے بٹھائے، اور نسرین کو کچھ ضروری ہدایات دیے وہ وہاں سے گھر کو جاچکی تھی۔
کوئی غیر ضروری بات نہ کی تھی انہوں نے۔
تھوڑی ہی دیر میں کمرے میں داخل ہوئے وہ گلا کھنکھارے اس کے قریب بیٹھ چکا تھا۔
“الس۔۔۔”
“میں تھک گئی ہوں چینج کرنا ہے۔۔۔” اس کا سلام بھی پورا نہ سنا اور وہ بول اٹھی۔
“اوہ شیور۔۔۔” کندھے اچکائے جبران نے واشروم کے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا۔
حائقہ کے جاتے ہی کب سے اٹکی سانس خارج کی تھی اس نے۔
“گاڈ ۔۔۔ معیز ٹھیک کہتا تھا شی از رئیلی سکئیری۔۔۔” اپنی کہی بات پر وہ خود ہنس دیا تھا۔
شیروانی کا کوٹ اتار چکا تھا وہ، وارڈروب سے اپنا نائٹ ٹراؤزر نکالے وہ حائقہ کے انتظار میں تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہی کلک کی آواز سے واشروم کا دروازہ کھلا تھا۔
گردن موڑے جبران نے باہر نکلتی حائقہ کو دیکھ جب ایک چھت پھاڑ چیخ اس کے حلق سے نکلی تھی۔
“آہ۔۔۔!”
“کک۔۔کیا ہوا؟” اس کی چیخ سن کر حائقہ کا دل بھی ایک لمحے کو لرز اٹھا تھا۔
“تت۔۔۔ تم کون ہو؟” خوف سے جبران کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔
“یہ کس قسم کا فضول اور بچگانہ سوال ہے؟” حائقہ کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔
“مجھے سچ سچ بتاؤ کون ہو تم اور میری بیوی کہاں ہے؟” دروازے کے بالکل ساتھ چپکے اس نے سوال کیا تھا۔ اور ساتھ ہی حائقہ کے پیچھے موجود واشروم کے دروازے کو دیکھا جہاں سے وہ چینج کرکے نکلی تھی۔
“سچ سچ بتاؤ کیا کیا ہے تم نے میری بیوی کے ساتھ۔۔۔ ورنہ پولیس کو کال کردوں گا میں۔۔۔” جبران نے اسے د ھمکایا
“میں ہی تمہاری بیوی ہوں یو ڈفر!” غصہ دبائے دانت کچکچائے حائقہ نے جواب دیا تھا۔
“مگر جو اندر گئی تھی وہ تو بہت خوبصورت تھی۔۔۔” جبران نے آنکھیں پھیلائے جواب دیا۔
“میک اپ کا نام سنا ہے کبھی؟” استہزایہ انداز میں اسے جواب دیتی وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
“آج تک صرف سنا تھا آج دیکھ بھی لیا!” سامنے کھڑی حائقہ کے چہرے پر نگاہیں ٹکائے اس نے تھوک نگلے جواب دیا تھا۔
“تمہاری پہلی بیوی کیا مردانہ خصوصیات کی حامل تھی؟” ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑے منہ پر کریم ملے اس نے جبران سے سوال کیا تھا۔ (اب سوال تھا یا طنز یہ جبران نہ سمجھ سکا!)
“جیسی بھی تھی مگر ایسی نہ تھی۔۔۔ یہ دھوکا ہے۔۔۔” اس نے انگلی حائقہ کے چہرے کی جانب اٹھائی۔
“شٹ اپ۔۔۔!”
“اوکے۔۔۔” حائقہ کے چلانے پر سر جھکائے وہ جھرجھری لیتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔
“ڈفر!” اسے لقب سے نوازہ گیا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ صرف ٹراؤزر پہنے بال تولیے سے رگڑتا واشروم سے باہر نکلا تھا۔
مگر ایک بار پھر چلا اٹھا تھا۔
تولیہ سے اس نے اپنے جسم کو ڈھانپنے کی ناکام سے کوشش کی تھی۔
“واٹ آر یوں ایون ٹرائنگ ٹو ڈوں؟(تم کیا کرنے کی کوشش کررہے ہو؟)” حائقہ نے ناگواری سے اس سے سوال کیا جو واشروم کے دروازے کے ساتھ چپکا، آنکھیں پھیلائے تولیہ اپنے آگے پھیلا چکا تھا۔
“تم۔۔۔تم یہاں کیا کررہی ہو؟” ہکلائے اس نے سوال کیا۔
“یہ کیسا سٹوپڈ سوال ہے؟۔۔۔”
“سٹوپڈ تو ہے!” جبران خود سے بڑبڑایا۔
“اب کیا پوری رات وہی دروازے کے ساتھ لگ کر گزارنی ہے؟” جبران کی جانب گھومتی وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بولی تھی۔
“تم۔۔۔تم منہ ادھر کرو۔۔۔ شرم نہیں ہے تم میں کیسے دیدے پھاڑ پھاڑ دیکھے جارہی ہو!” جبران خفت مٹانے کو اس پر برسا۔
“انبلیووایبل!” حائقہ نے سر جھٹکا۔
“سنو تمہیں شرم نہیں آرہی؟” اسے سکون سے وارڈروب میں اپنے کپڑے سیٹ کیے جبران نے سوال کیا۔
“نہیں۔۔۔” ایک لفظی جواب۔
“واقعی میں نہیں آرہی؟”
شادی کی پہلی رات، کون سی بیوی (مشرقی بیوی) اپنے شوہر کو یوں دیکھ کر نہ شرمائے؟
“مین یو آر ناٹ مائی فرسٹ (تم میری زندگی میں آئے پہلے مرد نہیں ہو)۔۔۔ جو میں شرماتی پھیروں۔۔۔اور میں تو ویسے بھی اس سے زیادہ ہی دیکھ چکی ہوں” حائقہ نےاستہزایہ انداز میں جیسے اس کو یاد دلوایا تھا۔
“تم کس قدر۔۔۔” اس کے بولڈ انداز پر جبران کو سمجھ نہ آئے وہ اسے کیا کہے۔۔
“ہاں ہاں کہہ دو گھٹیا عورت۔۔۔” حائقہ کے طنز پر وہ شرمندہ ہوا
“اب ایسا تو کچھ نہیں کہنا تھا مجھے۔۔۔” جبران منمنایا۔
“کون سا پہلی بار کہہ رہے ہو!” ایک اور طنز۔
“اب کیا آج ہی تمام باتوں کا بدلا لو گی؟” اس نے ہاتھ ملتے شکوہ کیا۔
“فکر مت کرو ایک بار سے تو مجھے بھی چین نہیں ملنے والا۔۔۔ پوری زندگی پڑی ہے تمہیں زلیل کرنے کو۔۔۔” اس نے زبردستی کی مسکراہٹ سے جبران کو نوازہ
“ہاں!” جبران نے پورا منہ کھل چکا تھا۔
“تم۔۔۔تم منہ ادھر کرو۔۔۔”
“کیوں تمہیں شرم آرہی ہے؟” حائقہ نے اسے تنگ کیا تھا۔
“ہاں آرہی ہے۔۔۔ اب تم بےشرم ہو تو کیا سب ہی بےشرم بن جائے؟” جبران نے حصاب برابر کرنا چاہا۔۔۔”
“پہلی بیوی کی بار آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے تھے؟”
حائقہ کی بات سن کر جبران کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا تھا۔
‘یہ عورت سچ میں آدم جبران کی سگی ماں ثابت ہوئی تھی۔۔۔ بالکل اسی کی طرح بےشرم’
“کم آن ڈونٹ بی شائے۔۔۔ بیوی ہوں تمہاری وہ بھی دوسری۔۔۔ اور تم بھی تو دوسرے شوہر ہو میرے۔۔۔ جب میں شرم نہیں کررہی تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟” حائقہ اسے تنگ کرنے کا ایک موقع بھی ہاتھ سے نہ گنوارہی تھی۔
“ہاں بھول گیا تھا کہ آپ محترمہ تو ماشااللہء ایکسپیرینسڈ ہے۔۔۔”
“یہ بتا رہے ہو یا جتارہے ہو۔۔۔ طنز تھا کیا یہ؟” حائقہ نے ایک ابرو اچکائے اس سے سوال کیا۔
“کچھ نہیں تھا۔۔۔ تم تو گلے ہی پڑ جاتی ہو۔۔۔”
“خوشی خوشی گلے لگایا ہے تم نے میں کون سا مر رہی تھی۔۔۔” فوراً حساب بےباک کیا اس نے۔
“ہاں بھئی ہوگئی غلطی۔۔۔ معاف کردو مجھے تو تم!” جبران نے ہاتھ جوڑے۔
“تم سے تو ابھی بہت سی غلطیوں کے لیے معافی منگوانی ہے میں نے۔۔۔” وہ بڑبڑائی۔
“کیا میں واقعی بہت بدصورت ہوں؟” ایک بار پھر شیشے کے سامنے آئے اس نے جبران سے سوال کیا تھا جو تیزی سے وارڈروب میں گھسا اپنی شرٹ نکال رہا تھا جو بھوکلاہٹ کی وجہ سے اسے نہ مل رہی تھی۔
“ہوں کیا؟” شرٹ ملنے پر سکون کی سانس خارج کی تھی کہ حائقہ کی بات سن کر چونکا۔
“بدصورت؟۔۔۔ کیا واقعی میں تمہیں اتنی بدصورت لگی میں؟” اس نے سوال کیا۔
“استغفراللہء میں نے ایسا کب کہاں؟” جبران اس کے الزام پر تڑپ اٹھا۔
“تمہاری آنکھیں تو کچھ ایسا ہی کہہ رہی تھی۔۔۔ اور مجھے بھی یہی لگتا ہے۔۔” حائقہ نے کندھے اچکائے۔
“پھر تمہیں آنکھیں پڑھنا نہیں آتی۔۔۔ وہ تو بس تم ٹوٹلی چینج لگ رہی تھی اسی لیے میں۔۔۔”
“تم ڈر گئے؟” حائقہ کے لبوں پر دھیمی مسکان در آئی۔
“تم بدصورت نہیں ہو!” گہری سانس خارج کرتا وہ اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔
“دیکھو خود کو کس اینگل سے بدصورت ہو تم؟” جبران نے اس سے سوال کیا۔
“معلوم نہیں شائد ان کی وجہ سے؟” اس نے آنکھوں کے گرد موجود سیاہ حلقوں پر انگلی رکھی۔
“دنیا میں اسی فیصد لوگوں کے ہوتے ہیں تم الگ نہیں۔۔۔ اور میرے بھی تو ہیں۔۔۔” جبران نے نفی کی۔
“پھر شائد ان کی وجہ سے؟” اس نے چہرے پر موجود داغ دھبوں کی جانب اشارہ کیا۔
“میرے پاس بھی ہے!” اس نے اپنے چہرے کی جانب اشارہ کیا جہاں ہلکے ہلکے دانوں کے نشان موجود تھے۔
“پھر یہ رنگ ہوگا اس کی وجہ؟” اس نے اپنے گندمی رنگ پر چوٹ کی۔
“حائقہ بیگم آپ ایک ساؤتھ ایشین ہے۔۔۔ اور پچانوے فیصد ساؤتھ ایشینز کا رنگ یہی ہوتا ہے۔۔۔ اب مجھے ہی دیکھ لو۔۔۔” جبران نے اپنے چہرے کی جانب دوبارہ اشارہ کیا جس کا ہلکا گندمی رنگ تھا۔
“تمہارے پاس سب کچھ ہے مگر مجھ سے کم!” وہ چہرہ جھکائے ہنس دی۔
سر اٹھائے اس نے شیشے کی جانب دیکھا جہاں عکس میں نظر آتا جبران مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
حائقہ نے نگاہیں پھیری۔
“رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔ سونا چاہیے۔۔۔” گلا صاف کیے وہ اس کی سائڈ سے نکلتی بیڈ کی جانب بڑھی تھی جب جبران نے اس کی کلائی تھامے اسے روکا۔
حائقہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“ویٹ!” ڈریسنگ مرر کے ڈرا سے گفٹ باکس نکالے وہ حائقہ کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
“یور ویڈنگ گفٹ۔۔۔” اس نے حائقہ کی جانب وہ باکس بڑھایا جسے حائقہ نے تھامے کھولا تھا۔
اندر موجود گولڈ کی نازک بریسلیٹ دیکھ کر وہ چونکی۔۔۔
“لاؤ میں پہنا دوں!” جبران نے آگے بڑھ کر اسے پہنانا چاہی جب حائقہ پیچھے کو ہوئی۔
“کیا ہوا؟”
“وہ مجھے گولڈ پسند نہیں۔۔۔”
“مگر مجھے تو ہے۔۔۔” حائقہ کی کلائی میں بریسلیٹ پہنائے وہ مزے سے بولا تھا۔
نگاہیں اٹھائے حائقہ نے جبران کو دیکھا جس کی بولتی نگاہوں سے خائف ہوتی وہ نظریں جھکا گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آخری پہر سیگریٹ کا کش لیے اس نے گردن موڑے بیڈ پر سکون سے سوئے جبران کو دیکھا تھا۔
وہ اسے اس کا حق دے چکی تھی۔۔۔اس کی حق تلفی نہیں کی مگر اپنا آپ جیسے اس کا خالی ہوچکا تھا۔
لاتعداد سوچوں میں گھیرا دماغ ایک معصوم کی پرامید نگاہوں پر آرکا تھا۔
کانوں میں وہی معصوم آواز گونجی تھی۔
“کیا میں آپ کو ماما بلا سکتا ہوں؟” حائقہ کے لبوں پر دھیمی مسکان در آئی۔
دماغ میں اچانک ایک فقرہ گونجا۔
“خدا نے تم سے اولاد چھین لی کیونکہ تم ماں بننے کے قابل نہیں تھی۔۔۔ تم اس قابل نہیں کہ تمہاری کوکھ سے کوئی ذی-روح پیدا ہو اور تمہیں ماں کا درجہ دے۔۔۔” زہر سے بھی زہریلے یہ الفاظ اس کا دل چیر گئے تھے۔
آنکھوں کے گوشے نم ہوئے۔۔۔ موبائل کا لاک کھولے اس نے آج کی تاریخ دیکھی۔
کسی اور کو شائد یاد نہ ہو مگر آج کا سیاہ دن اسے اچھے سے یاد تھا۔۔۔ اپنی اولاد کھوئی تھی اس نے اس دن۔۔۔ طلاق کا تاج سجایا گیا تھا اس کے ماتھے پر۔۔۔
“میری اولاد ہوگی ذولقرنین۔۔۔ مجھے اللہ اولاد سے نوازے گا۔۔۔ پرائے بچے نہیں۔۔۔ میری اپنی اولاد۔۔۔ اس دن تمہارے بنگلے کے آگے کھڑے ہوکر آتش بازی نہ کی تو میرا نام بھی حائقہ نہیں۔۔۔” خود سے بولتی وہ سیگریٹ بجھاتی بیڈ پر موجود جبران کے قریب جالیٹی تھی۔
“تم ٹھیک کہتے ہو جبران مجھے واقعی میں آنکھیں پڑھنا نہیں آتی۔۔۔” کئی آنسوؤں آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہوگئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شور کی آواز پر اس کی آنکھیں کھلی تھی، مندی آنکھوں سے اس نے وال کلاک کی جانب دیکھا تھا جہاں دن کے گیارہ بج رہے تھے۔
بالوں میں انگلیاں چلائے وہ شور سنتی کمرے سے باہر نکلی تھی مگر قدم دروازے پر ہی رک گئے تھے۔
“واٹ دا ہیل!” کمرے کے دروازے سے نظر آتے کچن کے نظارے کو دیکھ اس کے قدم رکے تھے۔
پورے کچن کا ستیاناس ہوا پڑا تھا۔
حالات یوں تھے جیسے زلزلہ آیا ہو۔
کچن سے ہوتی اس کی نظریں اس شور پر جا ٹھہری تھی جس کی وجہ سے اس کی نیند ٹوٹی تھی۔
چولہے کے آگے کھڑا جبران، اس کے دائیں پیر سے چمٹا، سرخ چہرہ لیے روتا ہوا معیز اور اس کی باہوں میں موجود اپنا باجا زور و شور سے بجاتا آدم۔۔۔ اور ان دونوں کو چپ کروانے کی ناکام کوشش میں ہلکان ہوتا جبران۔
حائقہ کے سر میں درد کی ٹیس اٹھی تھی۔
“نسرین!” وہ اس قدر اونچی آواز میں چلائی کہ تینوں باپ بیٹا ٹھٹھک کر اس کی جانب مڑے تھے۔
معیز تو اسے دیکھ فوراً جبران کی ٹانگوں کے پیچھے چھپا تھا۔
حائقہ کو اس کے اصل حلیے میں دیکھ کر آدم کی آنکھوں میں بدلے کی آگ جل اٹھی تھی۔۔۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایک خاص قسم کی چمک بھی تھی۔
“گڈ مارن۔۔۔۔”
“نسرین!” جبران کا کھلتا منہ دیکھ وہ دوبارہ چلائی۔
“جج۔۔جی بی بی جی۔۔۔” نسرین سر پٹ دوڑتی اس کے سامنے حاضر ہوئی تھی۔
“پانچ منٹ میں میرا ناشتہ میرے کمرے میں۔۔۔” ان پر دوسری نگاہ ڈالے بنا وہ کمرے کی جانب مڑی۔
“اچھا ہوا نسرین تم آگئی اب ہمیں بھی ناشتے کی فکر نہیں۔۔۔” جبران نے شکر کی سانس لی۔
“چلو یہ ایک اچھا کام کیا اس کی بیوی نے کہ نسرین کو لے آئی تھی۔۔”
“جی صاحب۔۔۔”
“نسرین یہاں میرے ساتھ میرے لیے آئی ہے اسے میں تنخواہ دیتی ہوں تو وہ صرف میرے کام کرے گی۔۔۔ اپنے لیے کسی اور ملازمہ کا انتظام کرو۔۔۔” نسرین کے حامی بھرنے سے پہلے ہی وہ جبران کو ٹوکتی کمرے میں جاگھسی تھی۔
جبران کی آنکھیں پھیل گئی تھی اس نے نسرین کی جانب دیکھا جو “جیسا مالکن کا حکم” والا چہرہ لیے کچن میں داخل ہوئی تھی۔
کچن کی حالت دیکھ ایک بار میں تو نسرین بھی چکر کھاگئی تھی۔
“پاپا بھوک لگی ہے۔۔۔” معیز نے کہتے ہی ایک بار پھر سے رونا شروع کردیا تھا۔۔۔ آدم کا باجا بھی بج اٹھا تھا۔
سر نفی میں ہلائے وہ دونوں بچوں کو گاڑی میں پھینکتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے میکڈونلڈز کے راستے پر گاڑی لاچکا تھا۔
تقریباً دو گھنٹوں بعد ان تینوں باپ بیٹا کی گھر واپسی ہوئی تھی۔۔۔ مگر گھر میں قدم رکھتے ہی حیرت کا ایک جھٹکا تینوں کو لگا تھا۔
جیسا گند وہ چھوڑ کر گئے تھے انہیں ویسا ہی سب ملا تھا۔
“نسرین!” جبران نے اونچی آواز میں اسے بلایا جو تیزی سے ہال میں آتے جبران کے آگے دونوں ہاتھ کر چکی تھی۔
“اس سے پہلے آپ مجھے کچھ کہے یہ آپ کے لیے۔۔۔” نسرین نے دونوں ہاتھ آگے کیے جن میں ایک چٹھی تھی۔
ماتھے پر بل ڈالے جبران نے جیسے ہی چٹھی اٹھانا چاہی اس سے پہلے ہی آدم چٹھی پر جھپٹا۔
ننھے سے ماتھے پر بل ڈالے اس نے چٹھی کو کھولا۔
پانچ منٹ بعد منہ بنائے جبران کے آگے لہرا دی۔
“پورا پڑھ لیا جاں پناہ نے یا مزید پڑھنے کی خواہش ہے؟” جبران نے میٹھی زبان اپنائے طنز کیا جس پر آدم نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔
اس کے ہاتھ سے کاغذ کھینچے جیسے جیسے جبران پڑھتا گیا اس کی آنکھیں پھیلتی گئی۔
وہ حائقہ کی جانب سے لکھی تحریر تھی جس کے مطابق “نسرین اس کے لیے اس گھر میں آئی تھی تو وہ بس اس کے کام کرنے اور اس کا حکم ماننے کی پابند تھی اور اگر نسرین اس کی موجود یا غیر موجودگی میں جبران حیات یا اس کے بیٹوں کا کوئی بھی کام کرتی تو نسرین تو کیا اس کی آئیندہ آنے والی نسل بھی تا قیامت حائقہ امین اور اس کی آنے والی نسل کی خدمت کرنے میں وقف کردے گی۔۔۔”
“دیکھیئے جبران بابا میں تو جیسے تیسے یہ جبر سہہ لوں گی مگر میری آنے والی نسل؟۔۔۔ نا بابا نا۔۔۔ اگر حائقہ بی بی جیسی ایک اور کو سنبھالنا پڑگیا تو میں نے تو آنے والی نسل کو آنے سے انکار کردینا ہے۔۔۔ میری جانب سے تو معذرت سمجھیے۔۔۔” نسرین کے صاف چٹے انکار پر جبران کی آنکھوں میں آنسوؤں آگئے تھے۔
“خالہ امی!” وہ اتنی زور سے چلایا کہ گھر کی در و دیوار تک ہل گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
