Man Maane Naw By Qaneeta Khadija Redelle50237 Episode 17 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17 Part 2
“حائقہ!۔۔۔ حائقہ بات سنو میری رکو!۔۔۔” گھر میں اس کے پیچھے پیچھے داخل ہوئے جبران اس کا راستہ روک چکا تھا۔
“بچے سو چکے ہیں جبران شور کی آواز سے اٹھ جائے گے۔۔۔ اس وقت کوئی تماشہ نہیں چاہتی میں تو پلیز۔۔۔” نگاہیں چرائے حائقہ بولی۔
“حائقہ۔۔۔”
“پلیز جبران اس پر کل بات کرے گے۔۔۔” اس کی رندھی آواز محسوس کیے جبران نے ناچاہتے ہوئے بھی سراثبات میں ہلادیا تھا۔
“تم کہاں جارہی ہو؟” اسے گیسٹ روم کی جانب بڑھتے دیکھ جبران نے اس کی کلائی تھامی تھی۔
“آج کی رات اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔” اس کا ہاتھ اپنی کلائی سے ہٹائے وہ جواب دیتی گیسٹ روم میں بند ہوگئی تھی۔
لب کچلے، بالوں میں ہاتھ پھیرے جبران نے اپنے کمرے کی جانب راہ لی تھی۔۔ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا مگر جانتا تھا وہ یہ وقت اکیلے رہ کر گزارنا چاہتی تھی۔
دروازہ بند کیے بیڈ پر بیٹھے وہ پھوٹ پھوٹ کررو دی تھی، سب سے مضبوط حائقہ، سٹرانگ گرل، ایک لمحے میں تمام بہادی ہوا ہوئی تھی۔
اس کا چہرہ رونےکی شدت سے سرخ پڑچکا تھا۔
یکدم دل میں طلب جاگی، سائڈ ڈرا سے سیگریٹ کی وہ ڈبی نکالی جو وہ یہاں کبھی چھپا چکی تھی۔
سیگریٹ پر سیگریٹ سلگائے اپنے اندر کا غم کم کرنے کی حد درجہ کوشش کی تھی اس نے۔
وہ رات حائقہ کی گزری راتوں میں سے ایک بھاری رات تھی، اگر وہ پوری رات اس نے جاگ کر گزاری تھی تو نیند جبران کی آنکھوں سے بھی کوسوں دور تھی۔
گھڑی پر نگاہیں جمائے اسے صبح ہونے کا انتظار تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وال کلاک پر نگاہ ڈالے، گہری سانس خارج کیے جبران نے گیسٹ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا مگر کوئی جواب نہیں ملا تھا اسے۔۔۔ معیز اور آدم دونوں نے حائقہ کی غیرموجودگی کو محسوس کیا تھا ناشتے کی میز پر۔۔۔ جبران دونوں بچوں کو بہلا پھسلا چکا تھا، معیز کو سکول بھیجے وہ آدم نسرین کے حوالے کیے اب یہاں موجود تھا۔
ایک بار، دو بار۔۔۔ لگاتار کئی بار اس نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر۔۔۔
“حائقہ؟۔۔۔ حائقہ دروازہ کھولو میں ہوں جبران!” جبران نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب نہ ملنے پر اس کے ماتھے پر بل در آئے ساتھ ہی ساتھ پریشانی بھی لاحق ہوئی۔
ماسٹر۔کی سے دروازہ کھولے وہ کمرے میں داخل ہوا تو سیگریٹ کے دھویں نے اسے خوشآمدید کہاں،جبران کو تیز کھانسی نے آن گھیرا۔
ناک پر ہاتھ رکھے اس نے جلدی سے کمرے کی لائٹ آن کی تھی، پورا کمرہ دھویں سے بھرا ہوا تھا۔
“حائقہ؟” اس کی نگاہوں نے حائقہ کو تلاشنہ چاہا جو بیڈ کی دوسری جانب زمین پر بیٹھی اسے نظر آئی۔
جبران تیزی سے اس کی جانب بڑھا، پیروں آتی ادھ جلی سیگریٹ دیکھ اس کی آنکھوں میں کرب در آیا۔
وہ حائقہ کے بالکل سامنے جابیٹھا، جبران نے اپنا ہاتھ آگے کیے اس کے کندھے پر رکھا۔
سر اٹھائے حائقہ نے اسے دیکھا، جبران کی آنکھیں پھیلی تھی اس نے خوف سے حائقہ کی سرخ انگارہ نگاہوں کو دیکھا۔۔۔ وہ پوری رات نہیں سوئی تھی۔
“حائقہ؟” جبران نے اس کے آنکھوں کے نیچے ہاتھ رکھا۔
حائقہ کی آنکھیں پھر سے بھیگ گئیں، جبران کے سینے لگے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اسے خود میں بھینچے جبران نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا، ساتھ ہی ساتھ خود کو صلوتیں بھی سناڈالی۔۔۔ کیا ضرورت تھی اسے حائقہ کو اکیلا چھوڑنے کی۔
اپنی جانب سے جبران نے اسے وقت دینا کا سوچا مگر یہ سوچ الٹی پڑگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نہیں خالہ امی کچھ کھاپی نہیں رہی وہ، نہ کمرے سے باہر نکل رہی ہے۔۔۔ آپ پلیز آجائے۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔” لاؤنج میں یہاں سے وہاں ٹہلتے وہ طاہرہ بیگم سے بولا تھا۔
بےبسی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔۔
“ساری غلطی میری ہے مجھے اسے یوں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، ایک نمبر کا ڈفر ہوں میں۔۔۔” جبران نے ایک بار پھر خود کو کوسا تھا۔
اب بس بےچینی سے انتظار تھا تو طاہرہ بیگم کا جنہیں کال کیے وہ جلد از جلد آنے کی تاکید کرچکا تھا۔
ابھی بھی پریشان نگاہیں کمرے کی جانب اٹھتی، ایک بار پھر ہمت کیے وہ ناشتے کی پلیٹ ہاتھ میں لیے کمرے میں داخل ہوا تھا۔
بیڈ پر بیٹھی حائقہ کسی اور ہی جہاں کو پہنچی ہوئی تھی۔
کھانے کی پلیٹ ہاتھ میں تھامے جبران اس کے برابر جابیٹھا تھا۔
“حائقہ کھانا کھالو!” خود لقمہ بنائے اس کے لبوں کے قریب کیا۔
“مجھے بھوک نہیں۔۔۔” وہ منہ دوسری جانب موڑے دھیمی آواز میں بولی۔
“پلیز حائقہ تھوڑا سا کھالو!”
حائقہ کا سر نفی میں ہلا۔
“حائقہ بس تھوڑا سا۔۔۔”
“کہاں نا بھوک نہیں ہے۔۔۔ کیوں سر پر سوار ہو میرے؟ دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔” جھٹکے سے پلیٹ کو ہاتھ مارے وہ چلائی جبکہ پلیٹ زمین بوس ہوچکی تھی۔
“حائقہ؟” ششد نگاہوں سے جبران نے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔
“جاؤ!” وہ اس قدر زور سے چلائی کہ گھر میں داخل ہوتی طاہرہ بیگم ٹھٹھکی تھی اس کی آواز پر۔
حالات کی سنگینی کا اندازہ لگائے وہ تیزی سے گیسٹ روم میں داخل ہوئی۔
نظر بیڈ پر موجود ہچکولے کھاتے حائقہ کے وجود پر پڑی اور ساتھ ہی پاس جبران کو کھڑے پایا جس آنکھوں میں ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ در آیا تھا۔
“جبران؟” طاہرہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“تم جاؤباہر۔۔۔” اشارے سے اسے باہر جانے کا کہاں جس پر بددلی سے سر ہلائے وہ جاچکا تھا۔
طاہرہ بیگم اب جبران کی جگہ پر بیٹھ چکی تھی۔
“حائقہ یہ سب کیا ہے؟۔۔۔ اور یہ تم نے کیا حالت بنارکھی ہے اپنی؟” طاہرہ بیگم نے آرام وپیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“آپ یہاں کیا کررہی ہے؟۔۔۔ میری حالت پر ہنسنے آئی ہے؟” گھٹنوں پر سے سر اٹھائے اس نے سردوسپاٹ نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے حائقہ۔۔۔” انہوں نے نرمی سے اس کے الزام کی نفی کی۔
“تو پھر؟ یہاں آنے کی وجہ؟۔۔۔ ہمدردی جتانے آئی ہے؟۔۔۔ افسوس کرنے آئی ہے؟۔۔۔ میرے زخموں پر نمک چھڑکنے آئی ہے؟” اس کی بدگمانی عروج پر تھی۔
“ایسا نہیں ہے حائقہ۔۔۔”
“تو پھر کیسا ہے؟۔۔۔ کیوں آئی ہے آپ یہاں؟” وہ اونچی آواز میں چلائی تھی۔
یہ پہلی بار تھا کہ حائقہ کی آواز ان کے سامنے اونچی ہوئی ہو۔
طاہرہ بیگم کو تکلیف ہوئی تھی اس کے لہجے سے مگر وہ جانتی تھی کہ اس کا غم کم نہ تھا، یہ وقت ہوش سے کام لیے اسے سنبھالنے کا تھا۔
“فکر مت کرو تم پر ہنسنے نہیں آئی ہوں۔۔۔ میں جانتی ہوں حائقہ تمہارا نقصان بہت بڑا تھا مگر اس کے نعم البدل پر بھی تو نگاہ ڈالو!” وہ نرمی سے بولی۔
“نعم البدل؟۔۔۔ کیسا نعم البدل؟” وہ اذیت بھری ہنسی ہنسی۔
“معیز اور آدم حائقہ۔۔۔۔ تم ماں نہیں بن سکتی تو دیکھو اللہ نے تمہارے خالی پن کو دور کردیا۔۔۔۔ دو معصوم پھول تمہیں دے دیے۔۔۔تم ان کی ماں ہو”
ان کی بات سنے حائقہ ہنسی، ہنستے ہنستے اس کی بھیگ گئی جن میں سے دوبارہ آنسوؤں بہہ نکلے۔
“نہیں بننا مجھے کسی اور کے بچوں کی ماں مجھے اپنا بچہ چاہیے۔۔۔” وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔
“حائقہ؟” طاہرہ بیگم کو اس سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی۔
“کیا حائقہ؟۔۔۔ سچ بول رہی ہوں۔۔۔ نہیں بننا مجھے کسی اور عورت کے وجود سے پیدا ہوئے بچوں کی ماں، مجھے میری اولاد چاہیے۔۔۔” اس کا دماغ اس وقت کام نہیں کررہا تھا طاہرہ بیگم سمجھ چکی تھی۔
“وہ کسی کے نہیں تمہارے بچے ہیں حائقہ!۔۔۔ ماں بلاتے ہیں تمہیں!”
“تو کیا؟۔۔۔ ماں بلادینے سے میں ان کی ماں بن جاؤں گی کبھی نہیں؟۔۔۔ اور کیا معلوم کل کو وہ مجھے چھوڑ دے جیسے باقی سب نے چھوڑ دیا۔۔۔ اگر میری اپنی اولاد ہوتی تو کم از کم مجھے اس بات کا ڈر یا خوف تو نہ ہوتا!”
وہ ڈرتی تھی؟۔۔۔ خوف کھاتی تھی کہ وہ دونوں بھی اسے چھوڑ دے گے جیسے باقی سب نے چھوڑ دیا۔۔۔
طاہرہ بیگم کو اس پر ترس آیا تھا۔۔۔ اور ارسم امین پر غصہ۔۔۔
“وہ ایسا کچھ نہیں کرے گے حائقہ۔۔۔ بہت محبت کرتے ہیں تم سے، دیکھا نہیں کیسے لڑتے رہتے ہیں ہر وقت تمہارے لیے؟” وہ مسکرائی۔
“بچے ہیں نا۔۔۔ نادان ہے، سگے اور سوتیلے کے بیچ کا فرق نہیں جانتے، جب بڑے ہوگے معاشرہ انہیں قدم قدم پر یاد دلائے گا کہ میں ان کی سگی ماں نہیں تو خود بخود چھوڑ دے گے مجھے۔۔۔”
ایک ڈر تھا جو اس کے دل میں کنڈلی مار کر بیٹھ چکا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا حائقہ۔۔۔”
“ایسا ہی ہوگا، مجھے معلوم ہے۔۔۔۔ میں ہوں ہی منحوس، جس کے سگے باپ نے اسے چھوڑ دیا، جس کی محبت نے اسے دربدر کردیا اسے سوتیلے رشتے کیا خاک اپنائے گے؟۔۔۔ کبھی نہیں!”
وہ دوبارہ سے ان کی جانب سے بددل ہورہی تھی، طاہرہ بیگم ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی۔۔۔ بہت مشکل سے حائقہ کو وہ خوشیاں مل پائی تھی جن کی وہ حقدار تھی مگر یوں اچانک سب دوبارہ سے بگڑ جائے گا یہ نہ سوچا تھا انہوں نے۔
“وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گے حائقہ۔۔۔وہ بہت محبت کرتے ہیں تم سے۔۔۔”
“جھوٹ، جھوٹ بول رہی ہے آپ کوئی محبت نہیں کرتا مجھ سے کوئی بھی نہیں۔۔۔” یکدم اس نے اپنے چہرے کو تھپڑوں سے پیٹنا شروع کردیا تھا۔
“حائقہ!۔۔۔ حائقہ یہ کیا کررہی ہو؟۔۔۔ جبران؟” اس حالت غیر ہوتے دیکھ وہ چلائی۔
جبران جو کچن میں موجود آدم کو سنبھالنے کی کوشش کررہا تھا جس کا بس ایک مقصد تھا حائقہ کے پاس جانا، طاہرہ بیگم کی پکار سنتا وہ تیزی سے آدم کو باہوں میں لیے کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“حائقہ؟” اس کی حالت دیکھ کر جبران کی آنکھیں پھیلی تھیں۔
طاہرہ بیگم نے بےبسی سے اسے دیکھا۔
“سمجنے کی کوشش کرو حائقہ یہ سب اللہ کی رضا ہے، بھول جاؤ سب کچھ۔۔۔”
“بھول جاؤ؟۔۔۔ اگر میری جگہ آپ ہوتی تو کیا آپ بھول جاتی؟۔۔۔ بتائے مجھے!۔۔۔ اگر آپ میری جگہ ہوتی تو اللہ کی رضا سمجھ کر بھول جاتی سب کچھ؟۔۔۔ کیا آپ کے دل میں کبھی ماں بننے کی خواہش نہ جاگتی؟۔۔۔کیا آپ مان لیتی مجھے اپنی اولاد؟۔۔۔ اگر سارہ اور میسم نہ ہوتے تو کبھی شکوہ نہ کرتی آپ؟” طاہرہ بیگم کو چپی لگی۔
ہاں یہ سچ تھا کہ وہ حائقہ کو اپنا لیتی مگر سارہ اور میسم کے بنا زندگی؟۔۔ یہ تصور کتنا جان لیوا تھا۔
“کیا ہوا اب خاموش کیوں ہوگئی آپ؟۔۔۔ نہیں رہ سکتی تھی آپ۔۔۔ آپ کے لیے کہنا آسان ہے کہ اللہ کی رضا سمجھ کر بھول جاؤ کیونکہ آپ کے پاس آپ کی اولاد ہے، مگر میں؟۔۔۔ میں خالی ہاتھ ہوں میں نہیں سمجھ سکتی اور نہ سمجھنا چاہتی ہوں!”
سر دوبارہ گھٹنوں میں دیے وہ رونا شروع ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں گھر آگیا ماما!” گھر میں داخل ہوتے ہی معیز مسکرا کر اونچی آواز میں چلایا تھا مگر کوئی جواب نہ ملنے پر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
“نسرین آنٹی سب کہاں ہیں؟” اس نے نسرین سے پوچھا کیونکہ اسے حائقہ اور آدم دونوں نظر نہیں آئے تھے۔
“وہ!” نسرین نے گیسٹ روم کی جانب دیکھا تو معیز بھی اسی جانب دیکھا گیسٹ روم کی جانب بڑھ چکا تھا مگر اندر داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔
“ماما؟” بیگ وہی زمین پر رکھے وہ تیزی سے بیڈ پر چڑھتا حائقہ کے پاس جا بیٹھا تھا۔
“کیا ہوا ماما؟۔۔۔ کسی نے کچھ کہاں ہے کیا؟۔۔۔ کیوں رو رہی ہیں آپ؟۔۔۔ کیا پاپا نے کچھ کہاں ہے؟”
حائقہ نے یونہی سر گھٹنوں میں دیے نفی میں ہلایا۔
“تو؟۔۔۔ آدم نے تنگ کیا ہے؟” معیز نے غصے سے آدم کو دیکھا جو اپنے سر لگے الزام پر بھونچکا کر رہ گیا۔
حائقہ کا سر پھر سے نفی میں ہلا۔
“تو کیا ہوا ہے ماما بتائے نا مجھے؟۔۔۔ روئے تو مت!” معیز نے اسے گلے لگایا تھا۔
طاہرہ بیگم پر نگاہ پڑتے اس کا دماغ چلا اس نے حائقہ کو دوبارہ سے مخاطب کیا۔
“ماما؟۔۔۔ نانا ابو(ارسم امین) نے ڈانٹا ہے؟۔۔۔ سارہ خالہ یا میسم ماموں نے بدتمیزی کی ہے؟”
حائقہ کا سر پھر سے نفی میں ہلتے دیکھ کر معیز کو فکر لاحق ہوئی۔
“بتائے نا ماما کیا ہوا ہے؟۔۔۔ روئے تو مت۔۔۔” معیز کی اپنی آواز بھیگ گئی تھی۔
حائقہ کا رونا اسے رلا رہا تھا۔
“ماما!” حائقہ کے گلے میں باہوں کا ہار بنائے وہ رو دیا تھا۔
حائقہ سختی سے اسے خود میں بھینچے رو دی تھی۔
آدم جبران کی گرفت میں پھڑپھڑا اٹھا تھا، جبران ہار مانتے اسے بیڈ پر بٹھاچکا تھا۔
آدم تیزی سے حائقہ کی جانب بڑھا تھا، ایک دو بار ہاتھ لگائے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا مگر حائقہ نے غور نہ کی۔
“مم۔۔ما۔۔ما۔۔” یکدم سب نے چونک کر آدم کو دیکھا۔
حائقہ کی آنکھیں پھیلی، معیز سے دور ہوئے اس نے آدم کو حیرانگی سے دیکھا جو آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوؤں لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
“آدم؟” اس کے لب ہلے۔
“ما۔۔۔ما۔۔۔” وہ حائقہ کے گلے لگ چکا تھا۔
حائقہ اپنی جگہ پر جم سی گئی تھی۔
“ماما۔۔۔ ماما۔۔۔” آدم بس ماما کی گردان کیے جارہا تھا۔
“ماما کیوں رو رہی ہیں بتائے نا؟”
“تم دونوں چھوڑ دو گے نا مجھے؟” حائقہ روتے ہوئے بولی تو معیز نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
“یہ آپ کو کس نے کہاں؟”
“مجھے معلوم ہے میں تم دونوں کی سگی ماما نہیں ہوں چھوڑ دو گے مجھے تم دونوں!” حائقہ کا لہجہ ضدی بچوں جیسا تھا۔
“آپ ہماری ماما ہے۔۔۔ ہم کیوں چھوڑے گے آپ کو؟۔۔۔ ہم کبھی نہیں چھوڑے گے۔۔۔” معیز کی پکڑ حائقہ پر مضبوط ہوگئی تھی۔
آدم بھی ‘ماما، ماما’ کی گردان پڑھتا سختی سے تھام چکا تھا۔
طاہرہ بیگم نے جبران کو اپنے پیچھے باہر آنے کا اشارہ کیا تھا، سر ہلائے وہ ان کے پیچھے ہی باہر نکل چکا تھا۔
“اس وقت وہ دماغی طور پر ٹھیک نہیں ہے جبران، کافی منفی سوچ ہوچکی ہے اس کی، بہتر یہی ہوگا اگر تم سائے کی طرح اس کے ساتھ رہو۔۔۔ ایک لمحہ، ایک پل کو بھی اس سے غافل مت ہونا۔۔۔”
انہوں نے جبران کو ہدایت دی
“اب میں چلتی ہوں!”
“خالہ امی کہاں جارہی ہیں آپ؟۔۔۔ کھانا کھاکر جائیے گا!” جبران نے انہیں روکا۔
“میرا جانا ضروری ہے جبران، کسی گھامڑ کی عقل ٹھکانے پر لگانی ہے۔۔۔” سوچ میں ارسم امین کو لائے وہ بولی۔
“مناسب۔۔۔” جبران بھی شائد ان کی سوچ تک پہنچ چکا تھا تبھی انہیں جانے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر سے شام اور پھر شام سے رات ہوچکی تھی مگر جبران دوبارہ کمرے میں نہیں آیا تھا، بچے دونوں حائقہ کے پاس موجود تھے۔
آدم کی زبان سے لفظ ‘ماما’ کسی صورت تھمنے کو تیار نہیں تھا۔
دل کا غبار ہلکا ہوا تو حائقہ کو اپنے استعمال کیے گئے سخت لفظوں کا احساس ہوا، اوپر سے جبران کی غیرموجودگی؟۔۔۔ تو کیا وہ سب سن چکا تھا؟۔۔۔
نگاہیں بھٹک بھٹک کر دروازیں پر جارہی تھی۔۔۔ نسرین انہیں آکر دونوں ٹائم کا کھانا دے چکی تھی مگر جبران ایک بار بھی نہیں آیا تھا۔
جلد ہی دونوں بچے تھکان کی وجہ سے وہی سوگئے تھے۔
احتیاط سے لحاف اوڑھائے حائقہ کمرے سے باہر نکلی تھی، پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
حائقہ پورے گھر کا چکر لگاچکی تھی مگر جبران اسے کہی نہیں ملا تھا۔
اب بس لان بچا تھا۔۔۔ وہ دبے پاؤں باہر نکلی تو اسے سیڑھیوں پر جبران بیٹھا نظر آیا جو اپنی سوچوں کے محور میں گم تھا۔
حائقہ خاموشی سے اس کے پاس جابیٹھی تھی، جبران نے چونک کر اسے دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ سے نوازے دوبارہ منہ سیدھا کرلیا۔
“ناراض ہو؟” حائقہ نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد سوال کیا۔
“ہوں؟” جبران چونکا اور سر نفی میں ہلایا۔
“میں جانتی ہوں تم ناراض ہو!۔۔۔ اور ہونا بنتا بھی ہے۔۔۔۔ میں نے بات ہی ایسی کی تھی۔۔۔” شرمندگی سے اس نے دونوں ہاتھ مسلے۔
“ایسی بات نہیں ہے حائقہ!” جبران نے اس کی نفی کی۔
“ناراض نہیں ہوں تم سے بس اداس ہوں۔۔۔ اداس ہوں کہ میری بیوی کی ایک خواہش ہے جو زندگی سے بڑھ کرہے مگر میں وہ خواہش پوری نہیں کر سکتا۔۔۔” جبران کے لہجے میں بےبسی نمایاں تھی۔
“اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں جبران تم اداس مت ہو!” حائقہ نے اس کے کندھے پر سر رکھا۔
جبران حائقہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے قریب کرچکا تھا۔
“غلطی تو تمہاری بھی نہیں حائقہ پھر کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو؟۔۔۔ مت کرو ایسا تم خود کو نہیں بلکہ مجھے اور ان دونوں کو تکلیف دے رہی ہو جنہیں اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت ہے تم سے۔۔۔” جبران کی بات پر اس کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئی تھی۔
“تمہیں کیا ہوگیا ہے حائقہ؟۔۔۔ کیوں اتنی کمزور بنتی جارہی ہو؟۔۔۔ جس حائقہ کو میں جانتا تھا وہ تو بہت مضبوط تھی وہ حائقہ کہاں کھوگئی ہے؟”
“حائقہ کبھی مضبوط نہیں تھی جبران وہ سب تو بس نظر کا دھوکا تھا، حائقہ ہمیشہ سے ایسی تھی کمزور،لاچار بےبس۔۔۔”
“میں تمہیں کمزور نہیں پڑنے دوں گا حائقہ۔۔۔ تمہیں مضبوط بننا ہوگا اپنےلیے، میرے لیے۔۔۔ ہمارے لیے۔۔۔،پھر چاہے تمہیں خود سے ہی کیوں نا لڑنا پڑے۔۔۔” جبران کا لہجہ مضبوط تھا۔
حائقہ نے کوئی جواب نہ دیا، چند پل مزید خاموشی کے گزرے تھے، ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔
“اندر چلتے ہیں۔۔۔ بیمار پڑ جاؤ گی تم!” جبران کہہ کراٹھنے کو تھا جب حائقہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔
“معیز اور آدم میرے بیٹے ہیں جبران۔۔۔ میں، میں ان کی ماما ہوں۔۔۔ وہ میرے بیٹے ہیں۔۔۔ کبھی مت سوچنا کہ وہ میری اولاد نہیں۔۔”
“حائقہ۔۔۔”
“وہ میرے بیٹے ہیں جبران مگر پھر بھی میرا دل، میرا دل خواہش کرتا ہے جبران کہ میری بھی اولاد ہو جو میرے وجود سے اس دنیا میں آئے۔۔۔ کیا یہ خواہش کرنا غلط ہے جبران؟۔۔۔ کیا یہ خواہش غلط ہے؟۔۔۔ کیا میں بری بن جاتی ہوں جبران؟”
“نہیں یہ غلط نہیں ہے۔۔۔”
“تم مانتے ہو نا کہ وہ دونوں میرے بیٹے ہیں؟”
جبران نے سر اثبات میں ہلایا۔
“مجھ سے بدگمان مت ہونا جبران، جو بھی کہاں وہ جھوٹ تھا وہ میری اولاد ہے، میرے بچے ہیں۔۔۔ بس، بس ایک خواہش ہے جبران۔۔۔”
“شش!۔۔۔ ریلیکس!۔۔۔ میں تم سے کبھی بدگمان نہیں ہوسکتا حائقہ!” اس کے ماتھے پر لب رکھے جبران نے اسے سنبھالا تھا۔
“مجھ سے بدگمان مت ہونا!” جبران کے سینے میں سر چھپائے وہ دوبارہ بولی تھی۔
جاری ہے۔۔۔
