No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“آذر۔۔۔۔!” ویٹینگ ایریا میں داخل ہوتے ہی اس نے اونچی آواز میں دور بیٹھے آذر کو آواز دی جس نے جبران کو دیکھ کر سکون کی سانس بھری تھی۔
“کیسا ہے بڈی؟” جبران اسے گلے ملنے کو آگے بڑھا جس پر اس نے جبران کے پیٹ میں مکا مارا تھا۔
“آؤچ!۔۔۔یہ کس لیے؟” جبران نے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
“فار میکنگ می ویٹ۔۔۔۔” آذر نے دانت پیسے جواب دیا۔
“ابے یاررر!۔۔۔ نہ ہی پوچھ آج کا دن ہی خراب ہے تیرے بھائی کا۔۔۔” جبران نے سر جھٹکا۔
“تیرا کب نہیں ہوتا؟۔۔۔ ویسے اب کیا ہوا؟” آذر نے ابرو اچکائے سوال کیا۔
“بتا دوں گا مگر ابھی چلو کیب ویٹ کررہی ہے باہر۔۔۔ کسی اور کو نہ لے جائے بڑا ہی خرانٹ بندہ ہے۔۔۔۔” اس کا بیگ تھامے جبران آگے آگے بڑھا۔
“کیب؟۔۔۔۔ واٹ یو مین بائے کیب؟۔۔۔ اب ہم کیب میں جائے گے؟” آذر کا منہ کھل گیا۔
جبران نے کندھے اچکائے۔
“گاڑی کہاں ہے تیری؟” اس کے ساتھ چلتے چلتے آذر نے سوال کیا۔
جبران نے اسے تمام کہانی سنا ڈالی تھی۔
“ایک تو ٹائر پنکچر۔۔۔ اور اوپر سے وہ ٹیکسی والی۔۔۔ ایڈیٹ وومین۔۔۔” اس کے چہرے پر غصہ در آیا تھا۔
“ٹیکسی والی؟۔۔۔۔ اولالا۔۔۔ کون؟” آذر کے لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔
“بتاتا ہوں۔۔۔ ہوٹل پہنچ جائے تو سب بتاتا ہوں۔۔۔” ٹیکسی ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیے وہ آذر کے ساتھ پیچھے بیٹھ چکا تھا۔
“اب بتا کون سی ٹیکسی والی؟” وہ دونوں اس وقت لنچ کرنے کے لیے ہوٹل کے ڈائنگ ایریا میں بیٹھے تھے۔
جبران نے گہری سانس خارج کیے اسے صبح کا واقعہ سنانا شروع کیا۔
“یہ ٹیکسی میری ہے۔۔۔” حائقہ کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی جبران آگے بڑھ کر دروازے پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔
“ایکسکیوز می؟” حائقہ کے ماتھے پر بل در آئے۔
“ایکسکیوز یو۔۔۔” جبران بھی اسی انداز میں بولا۔
“راستے سو ہٹو مجھے لیٹ ہورہا ہے۔۔۔” حائقہ نے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی۔
“نو نو ۔۔۔۔ یو آر ناٹ گوئنگ اینی وئیر۔۔۔ اس ٹیکسی میں تو میں جاؤ گا!۔۔ویسے بھی پہلے میں آیا تھا تو ٹیکسی میری۔۔۔” وہ گردن اکڑائے بولا۔
“لسن۔۔۔ جسٹ گیٹ ایوے فرام مائی ووے۔۔۔۔ ایم گیٹنگ لیٹ۔۔۔اور ویسے بھی ٹیکسی میرے پاس رکی تھی ۔۔۔ سو آئی ہیوو دا رائٹ تو یوز اٹ۔۔۔” حائقہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پیچھے ہونے کو کہاں۔
“دس از مائی ٹیکسی۔۔۔”
“تمہارا نام نہیں لکھا اس پر۔۔۔”
“لو لکھ دیا اب بولو۔۔۔” کوٹ کی جیب سے مارکر نکال پر وہ اس پر اپنا نام لکھ چکا تھا۔
“اب یہ ٹیکسی میری۔۔۔۔”
“انبلیووایبل!۔۔۔ یو نو واٹ یو آر ٹوٹلی میڈ۔۔۔ پاگل ہے آپ۔۔۔ یو نیڈ آ سائکائٹرسٹ۔۔۔” یہ شخص حائقہ کا دماغ گھما چکا تھا۔
“آئی ایم میڈ؟۔۔۔ تم میڈ، تمہارا بندہ میڈ۔۔۔ پورا خاندان میڈ۔۔۔” وہ غصے سے چلایا۔
“ارے صاحب، میم کیوں لڑ رہے ہو؟۔۔۔جانا کہاں ہے آپ دونوں کو۔۔۔” ٹیکسی والا اب تپ چکا تھا
ان دونوں نے ایک ساتھ اپنی اپنی جگہ کا نام بولا۔
“ارے یہ دونوں جگہ تو ایک ہی راستے میں پڑتی ہیں۔۔۔ ایسا کرو آپ دونوں بیٹھ جاؤ۔۔۔ پہلے میم کو چھوڑ کر پھر آپ کو چھوڑ دوں گا صاحب۔۔۔” ٹیکسی والا فوراً بولا۔
“نو نیور۔۔۔”
“فائن ود می۔۔۔بس یہ شخص میرے ساتھ پیچھے نہیں بیٹھے گا”
جبران کے انکار کرنے سے پہلے ہی حائقہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھ چکی۔
جبران کا منہ کھل گیا تھا۔
“ارے صاحب آجاؤ۔۔۔ نہیں تو اکیلی میڈم کو لے جاؤں گا میں۔۔۔” ٹیکسی ڈرائیور نے باہر سر نکال کر اسے آواز دی۔
جبران ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ والا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ چکا تھا۔
“کس قدر بےشرم ہو تم ۔۔۔۔ ایک نا محرم، غیر شخص کے ساتھ ٹکیسی شئیر کرنے کو تیار ہوگئی۔۔۔” جبران پیچھے کو منہ کیے بولا تھا۔
“انبلیوولی انبلیووایبل۔۔۔” حائقہ سر جھٹکے کانوں کو ہینڈ فری لگا چکی تھی۔
“ٹیک اِٹ۔۔۔ یو رئیلی نیڈ اِٹ۔۔۔”اپنی منزل آتے ہی اسے سائکائٹرسٹ کا ویزیٹنگ کارڈ دیے وہ جا چکی تھی۔۔
“میں پاگل ہوں؟۔۔۔ میں پاگل ہوں؟۔۔۔ کیا میں پاگل ہوں؟” وہ پہلے خود سے بولا۔۔۔ پھر ڈرائیور کو دیکھ کر سوال کیا اور آخر میں اونچی آواز میں چلا دیا۔
“رئیلی جبران کب بڑے ہوگے تم؟” آذر نے تمام کہانی سن کر سر جھٹکا۔
“کیا تم مجھے غلط کہہ رہے ہو؟” جبران نے دل پر ہاتھ رکھا۔
“کم آن۔۔۔ تم بھی جانتے ہو کہ تم غلط ہو۔۔۔ سٹاپ ایکٹینگ لائک آ کڈ۔۔۔ کون یقین کرے گا کہ تمہاے دو دو بچے ہیں۔۔۔” آذر مسکرا کر بولا۔
“غدار۔۔۔” جبران نے لب بھینچے۔
“ویسے سائکائٹرسٹ کو وزٹ کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟” یکدم آزر ہنس دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
“ایوری تھنگ ڈن؟” اس نے پاس کھڑی اپنی سیکریٹری سے سوال کیا تھا۔
“یس میم!۔۔۔” اس نے فوراً سر ہلایا۔
“ایک بار چیک کرلینا تھا۔۔۔ میں کسی قسم کی کوئی کمی بیشی نہیں چاہتی۔۔۔” وہ آگے چلتی بولی۔
“ڈونٹ وری میم۔۔۔ سب اچھا ہوگا۔۔۔”
“اچھا نہیں ایکسیلینٹ ہونا چاہیے۔۔ ورنہ اپنی نوکری جاتی سمجھو۔۔۔” اسے وارن کیے وہ وہاں سے جاچکی تھی۔
“ہٹلر۔۔۔” اس کی سیکریٹری غصے سے بڑبڑائی۔
۔۔۔۔۔۔
“اے میری ذوہرہ جبیں
تجھے معلوم نہیں
تو ابھی تک ہے حسیں
اور میں جواں
تجھ پے قربان۔۔۔۔” طاہرہ بیگم کے کندھوں پر پیچھے سے ہاتھ رکھے وہ ان کے کان میں گنگنائے تھے۔
“آنٹی میرا ڈریس۔۔۔۔” حائقہ جو وینیو سے واپس گھر چینج کرنے آئی تھی وہ یکدم رکی تھی۔
“جی بیٹا۔۔۔” طاہرہ بیگم نے اس سے سوال کیا۔
“وہ میرا ڈریس کہاں ہے؟۔۔۔ مجھے مل نہیں رہا۔۔۔” ارسم کو دیکھ اس کے چہرہ سنجیدگی کا لباس اوڑھ چکا تھا۔
آنکھوں میں بھی سختی در آئی تھی۔
“نسرین نے آپ کے روم میں نہیں رکھوایا۔۔۔؟” انہوں نے ماتھے پر بل ڈالے سوال کیا۔
“نو۔۔۔” اس نے کندھے اچکائے
“میں پتہ کرواتی ہوں۔۔۔” وہ فوراً کمرے سے نکلی تھی
حائقہ بھی ان کی تقلید میں مڑی جب ارسم صاحب کی آواز پر وہ رکی تھی۔
“کیسی ہو حائقہ؟”
“فائن!”
ان کی آنکھوں میں جھلکتی محبت، بےبسی، چاہت سب کو نظرانداز کیا تھا اس نے۔
“کہی جارہی ہو؟” اسے مڑتا دیکھ دوبارہ سوال کیا۔
“ایک بزنس پارٹی آرگنائز کی ہے وہی جارہی ہوں۔۔۔” شائد ہی اس نے اتنی لمبی بات کسی سے کی ہو۔
“آج برتھڈے ہے میرا۔۔۔”
“ہیپی برتھڈے۔۔۔” وش کرنے کا انداز ایسا تھا جیسے کہنا چارہی ہو ‘تو میں کیا کروں؟’
“حائقہ بیٹا اگر تم نہ جاؤ؟” ان کے لہجے میں امید تھی۔
“ویٹ آ منٹ۔۔۔ ایم آئی ہیلوسینیٹنگ (کیا میں خواب دیکھ رہی ہوں؟) یا سچ میں دا گریٹ ارسم امین ‘منت’ کررہے ہیں؟” اس کے لبوں پر حیران کن مسکراہٹ در آئی۔
“حائقہ پلیز۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اس خاص دن پر میری بیٹی میرے ساتھ ہو۔۔۔” ارسم امین کی آنکھوں میں آنسو در آئے۔
“کچھ سالوں پہلے میں بھی یہی چاہتی تھی، مگر ضرروی نہیں ہر چاہت پوری ہو۔۔۔۔لیٹ ہورہی ہوں میں۔۔۔” وال کلاک پر ٹائم دیکھ کر بڑبڑائی۔
“حائقہ بچہ پلیز۔۔۔”
“ڈونٹ۔۔۔ آئی ایم ناٹ یور بچہ۔۔۔۔” انگلی اٹھائے انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا۔
“لو بھئی مل گیا تمہارا ڈریس۔۔۔ غلطی سے سارہ کے کمرے میں رکھ دیا تھا نسرین نے۔۔۔۔” تبھی طاہرہ بیگم اس کا ڈریس اٹھائے دروازے پر آکر بولی۔
“سارہ وئیر اِٹ؟” اس کا پہلا سوال ہی یہی تھا
اس کے فیس ایکسپریشن سے معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ دو منٹ پہلے کسی تلخ کلامی کا حصہ رہی تھی وہ۔
“نو۔۔۔ اس نے نہیں پہنا۔۔۔۔” وہ کسی کا پہنا لباس پہننا پسند نہیں کرتی تھی۔
اگر سارہ اس لباس کوغلطی سے چھو بھی لیتی تو حائقہ اسے جلا دیتی پہنتی نا۔۔۔
“کب تک آؤ گی؟” انہوں نے سوال کیا
“لیٹ ہوجاؤں گی۔۔۔”
“چلو ٹھیک ہے دھیان رکھنا۔۔۔” ان کے لہجے میں جھلکتی ہمدردی پر فقط سر ہلائے وہ ڈریس ان سے تھامے وہاں سے جاچکی تھی۔
ارسم کی حسرت بھری نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔
“اس نے تمہیں معاف کردیا۔۔۔ وہ تم سے اچھے سے بات کرتی ہے۔۔۔” اس کے جاتے ہی وہ بولے۔۔۔ لہجہ مایوس کن تھا۔
“میں نے کوشش کی تھی۔۔۔۔ اگر آپ کرتے تو یقناً آج اس کی معافی کے نہ سہی مگر اس سے بات کرسکتے۔۔۔” ان نے سادہ انداز میں جواب دیا۔
“کوشش کی تھی میں نے بھی۔۔۔۔” انہوں نے جواب دیا۔
“نہیں۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔ رتی برابر کوشش نہیں کی تھی آپ نے۔۔۔۔ بلکہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ مہمان آنا شروع ہوگئے ہیں۔۔۔ آپ بھی چینج کرکے آجائیے۔۔۔۔” انہیں آئینہ دکھائے وہ باہر جاچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
“ویسے مان گئے جبران پارٹی تو بڑی کمال کی آرگنائز کی ہے تم نے۔۔۔” پورے سیٹ اپ کو دیکھے آذر نے اسے داد دی تھی۔
“ویسے آرگنائزر کون ہے؟۔۔۔ آئی وش آئی کڈ میٹ ہیم!”
“اٹس ہر!۔۔۔ وومین!” جبران نے اس کی تصیح کی۔
“گڈ ایوینگ ایوری وان!” تیسری آواز ان دونوں کے کانوں سے ٹکڑائی، مسکرا کر وہ پلٹے۔
سامنے کھڑے ذولقرنین کو دیکھ وہ دونوں مسکرا کر باری باری اس سے ملے تھے۔
“یو آر لیٹ!” جبران نے اسے گھورا۔
“ارے یار مت ہی پوچھو یہ عورتیں اور ان کی تیاریاں ۔۔۔ بلیوو می گائز اگر انہیں ایک دن پہلے بھی تیار ہونے کا بول دو تو لیٹ کروائے گی تمہیں یہ۔۔۔” ذولقرنین نے آنکھیں گھمائیں۔
“ویسے بھابھی ہے کہاں؟” آذر نے سوال کیا۔
ذولقرنین نے پیچھے مڑ کر اپنی بیوی کو ڈھونڈنا چاہا جو اسے کسی غیر مرد سے گلے ملتے نظر آئی۔۔۔ غصے سے اس کے دماغ کی رگیں پھول گئی تھی۔
“اگین میٹنگ سم اولڈ فرینڈ۔۔۔۔ خیر تم دونوں بتاؤ کوئی ملا یا پھر تمام عمر سنگل رہنے کا ارادہ ہے؟” اپنے غصے پر قابو پائے وہ ان دونوں کی جانب مڑا۔
“مجھ سے تو یہ سوال کرنا بنتا نہیں تمہارا!” جبران نے ہاتھ کھڑے کیے۔
“مجھے ایسے مت دیکھو میں خوش ہوں اپنی لائف میں۔۔۔” آذر نے بھی فوراً جواب دیا۔
“یس!۔۔۔ پلے بوائے۔۔۔” جبران کے طنز پر اس نے جبران جو اپنی بتیسی دکھائی تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں پارٹی شروع ہوچکی تھی مگر جس ‘ہستی’ کا جبران کو انتظار تھا اس سے ملاقات کا شرف ابھی تک حاصل نہیں ہوا تھا۔
پارٹی میں سب نے اس پارٹی کی آگنائزر سے ملنے کی خواہش کی تھی جس کی خواہش اسے بھی تھی۔۔۔ ‘حائقہ امین’ کتنا نام سنا تھا اس عورت کا اس نے مگر آج تک اسے ملا نہ تھا۔
پارٹی اپنے جوبن پر تھی جب وہ اپنی سیکریٹری کی تقلید میں اندر داخل ہوئی تھی جب ایک جھومتے مستانے سے ٹکڑاؤ پر اس کی ڈریس خراب ہوگئی تھی۔
“ربش!” وہ غصے سے چلائی۔
اس انسان کو غصیلی نگاہوں سے گھورتی وہ اپنی سیکریٹری کو وہی رکنے کا بولتی خود واشروم کی جانب چلی گئی تھی۔
بار کاؤنٹر پر شراب کی چسکیاں لیتے آذر نے ہوس بھری نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
شراب کی زیادہ مقدار کی بدولت اس کا دماغ اس وقت مکمل طور پر ماؤف ہوچکا تھا۔
چہرے پر شیطانی ہنسی سجائے وہ اس کے پیچھے سے چپکے سے نکل دیا تھا۔
حائقہ واشروم سے ڈریس صاف کرتی باہر نکلی تھی جب وہ پیچھے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتا ساتھ موجود کمرے میں اسے لے جا چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
“مس وانیہ وئیر از یور باس؟۔۔۔ پارٹی میں سب ان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اینڈ شی از سٹل ناٹ ہیئر۔۔۔” جبران نے ماتھے پر بل ڈالے سوال کیا۔
“سر وہ میم تو آدھا گھنٹہ پہلے ہی آگئی تھی، مگر ڈریس پر جوس گرنے کی وجہ سے وہ واشروم گئی تھی۔۔۔”
“اور ابھی تک وہ واپس نہیں آئی؟” جبران نے سوال کیا
وانیہ کا سر اثبات میں ہلا۔
“مس وانیہ آپ کی میم آدھے گھنٹے سے واشروم میں موجود ہیں اینڈ یو ڈونٹ ایون ٹرائے کہ آپ جاکر انہیں دیکھ لے مے بی شی نیڈ سم ہیلپ۔۔۔ دس از یور پروفیشنل بیہوئیر ؟” جبران کے تاثرات سخت نہ تھے مگر الفاظ تھے۔
“سوری سر۔۔۔”
“میرے ساتھ آئیے۔۔۔” وہ اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا واشروم کی جانب بڑھا تھا۔
ذولقرنین بھی اس کے چہرے پر موجود پریشانی دیکھ اس کے پیچھے ہی لپکا تھا۔
“کیا ہوا؟” اس نے جبران سے سوال کیا جو اسے تمام بات بتا چکا تھا۔
وہ دونوں واشروم کی جانب بڑھے تھے جب ساتھ والے کمرے سے آتی آواز پر ان کی آنکھیں پھیلی۔
جبران نے آگے بڑھ کر دو تین بار دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر لاک ہونے کی وجہ سے اسے توڑنا پڑا۔
اندر موجود آذر حائقہ کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لیے اس پر جھکا ہوا تھا جو اس کی گرفت سے آزاد ہونے کو سر توڑ کوشش کررہی تھی۔
“آذر چھوڑو اسے۔۔۔” جبران نے آگے بڑھ کر اسے حائقہ سے دور کیا تھا۔
“آپ ٹھیک ہے؟” بکھرے بالوں نے حائقہ کا چہرہ ڈھک دیا تھا۔
“آئی۔۔۔آئی ایم۔۔۔” دھیمی آواز میں جواب دیے ،کئی آنسوؤں اندر اتارے اس نے خود کو ٹھیک کیا تھا۔
اس شکل کو سامنے پاکر دو لوگوں کو سخت جھٹکا لگا تھا۔
ایک جبران اور دوسرا ذولقرنین۔
“یار جبران جو تم لوگ سمجھ رہے ہو ویسا بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ یہ عورت، یہ خود آئی تھی میرے پاس۔۔۔ میں نے کوئی زور زبردستی نہیں کی۔۔۔” آذر کی زبان لڑکھڑائی تھی۔
مگر اسے کوئی سن ہی کہاں رہا تھا۔۔۔ ان دونوں کی نگاہیں تو حائقہ پر ٹکی ہوئی تھی۔
“آپ ٹھیک ہے نا؟” جبران نے کنفرم کرنا چاہا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ عورت بار بار مجھے سگنلز دے رہی تھی۔۔۔ شی وانٹ سم منی ان ریٹرن۔۔۔ کوئی بھولی معصوم مت سمجھنا اسے، شی از آ کال گرل، آ ہوکر۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ آذر۔۔۔ منہ بند رکھ اپنا۔۔۔” جبران دھاڑا تھا اس پر۔
“آذر پر مت چلاؤ جبران ہی از رائٹ۔۔۔ میں اس عورت کو بہت اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ امیر کبیر لڑکے پھنسا کر ان کی زندگی برباد کردیتی ہیں۔۔۔ ایسی عورتوں سے اچھے سے آشنا ہوں میں۔۔۔ آئی ایم شیور اس کمرے میں جو کچھ بھی ہورہا تھا اس میں ان دونوں کی مرضی شامل تھی۔” ذولقرنین کی زبان خود بخود چلی تھی۔
حائقہ نے سر اٹھائے ساکت نگاہوں سے اسے دیکھا، چھ سال، چھ سال بعد وہی چہرہ اس کے سامنے تھا جس نے اسے برباد کرڈالا تھا۔
ذولقرنین کی آنکھوں میں نفرت کے علاوہ ایک اور جذبہ بھی تھا، جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
“بڈی یہ تو کیا بول رہا ہے؟” جبران کو شاک لگا اس کی بات سن کر اور پھر حائقہ کی حالت دیکھ کر کہی سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ ان سب میں اس کی مرضی شامل ہو۔
“سچ بول رہا ہوں۔۔۔ میں بہت اچھے سے جانتا ہوں اس عورت کو میرے ایک دوست کی لائف برباد کردی تھی اس نے، اس عورت کے لیے مرد بالکل کپڑوں کی مانند ہے جنہیں یہ جب جی چاہے بدل دے۔۔۔” وہ حائقہ کے سامنے کھڑے ہوئے لفظ چبائے بولا تھا۔
جبران کی آنکھیں پل بھر میں بدلی، جہاں پہلے حائقہ کے لیے فکر تھی وہاں اب اس کے لیے ناگواری در آئی۔
“ہاں!۔۔۔ ذولقرنین صحیح بول رہا ہے۔۔۔ اور اس لڑکی کو دیکھ لو اگر زبردستی کرتا میں تو یہ اس طرح پرسکون نہ کھڑی ہوتی۔۔۔ اور تم جانتے ہو مجھے زور زبردستی والا بندہ نہیں ہوں میں۔۔۔” آذر کی ہکلاہٹ اب ختم ہوگئی تھی سینہ چوڑا کیے وہ بھی بولا۔
جبران نے اس کی بات سے اکتفا کیا بھلے وہ ایک پلے بوائے تھا مگر آج تک جتنی بھی لڑکیاں اس کے ساتھ تھی وہ سب اپنی مرضی سے آتی تھی۔۔۔
“آؤٹ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں سکیورٹی کوبلوا کر تمہیں دھکے مار کر پارٹی سے باہر نکالو۔۔۔ خود بخود دفع ہوجاؤ!” جبران نے دروازے کی جانب اشارہ کیا تھا۔
“بٹ سر۔۔۔” وانیہ نے کچھ کہنا چاہا مگر حائقہ کی سخت نگاہوں پر چپ سادھ لی۔
بنا کوئی جملہ منہ سے نکالے وہ وہاں سے نکل چکی تھی وانیہ بھی خاموشی سے اس کے پیچھے نکل دی۔
“سوری یار آئیڈیا نہیں تھا کہ وہ اس قسم کی عورت ہوگی۔۔۔” آذر کے کندھے پر ہاتھ رکھے جبران نے معافی مانگی۔
“اٹس اوکے، تم نے تو بس مدد کرنی چاہی تھی، مگر میں تو اس عورت کی چالاکی پر حیران ہوں۔۔۔ کس طرح اس نے مجھے ٹریپ کرنے کی کوشش کی۔۔۔ تف ہے ایسی عورت پر!” آذر نے سر جھٹکے جب ذولقرنین کو دیکھا تو اس کی غصیلی نگاہیں خود پر پائے وہ نظریں چرا گیا۔
۔۔۔۔۔۔
“کون تھے وہ لوگ؟” اس نے چلتے چلتے وانیہ سے سوال کیا۔
“مسٹر جبران جن کی پارٹی آرگنائز کروائی ہے آپ نے، اور ان کے بزنس پارٹنر اور دوست آذر رحمان اینڈ ذولقرنین شفیق۔۔۔” وانیہ نے جواب دیا۔
“جس نے میرے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی اس کا نام؟”
“آذر رحمان۔۔۔”
“کیا وہ لوگ جانتے تھے کہ میں کون ہوں؟”
“نو میم!”
“ویری گڈ اور انہیں معلوم بھی نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور تمہیں میرا ایک اور کام کرنا ہے وانیہ۔۔۔ امید ہے تم مجھے ناامید نہیں کرو گی۔۔۔” گاڑی کا دروازہ کھولے وہ وانیہ سے مخاطب ہوئی۔
“یس میم!”وانیہ نے تعبدار شاگرد کی طرح سر ہلایا۔
حائقہ کی بات غور سے سنتی وہ سر ہلائے حائقہ کے جاتے ہی دوبارہ وینیو میں داخل ہوئی تھی۔
“مس وانیہ!۔۔۔ میں کب سے آپ کو تلاش کررہا ہوں، کہاں تھی آپ؟۔۔۔ اینڈ یور باس!” جبران سے اندر داخل ہوتے ہی اس کا ٹکڑاؤ ہوا تھا۔
“سوری سر! وہ دراصل میم کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ چلی گئی۔۔۔ انہیں ہی سی-اوف کرنے گئی تھی میں۔۔۔ انہوں نے کہاں کہ میں آپ سے ایکسکیوز کرلوں۔۔۔ وہ بھی دو تین دن میں خود آپ سے ملنے آئے گی۔۔۔” وانیہ کے جواب پر جبران نے سر ہلایا۔
“اٹس اوکے۔۔۔ ہوجاتا ہے۔۔۔ شی مسٹ بی ٹائیرڈ!۔۔۔ان شاءاللہ نیکسٹ ٹائم!” جبران نے مسکرا کر سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔
“حائقہ آئی نہیں ابھی تک؟” گھڑی پر نگاہ ڈالے انہوں نے طاہرہ بیگم سے سوال کیا۔
“نہیں۔۔۔ بتا رہی تھی کہ لیٹ ہوجائے گی!” انہوں نے جواب دیا۔
“ٹائم کافی ہوگیا ہے۔۔۔” مختصر الفاظ میں انہوں نے بات مکمل کی۔
ہاتھوں پر لوشن مل کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھتی ارسم کے قریب بیڈ پر نیم دراز ہوگئی تھی۔
“ارسم۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔” انہوں نے بات شروع کی۔
“جی!”
“وہ۔۔۔وہ آپ کو جبران کیسا لگتا ہے؟” انہوں نے سوال کیا۔
“جبران؟۔۔۔تمہارا بھانجا ماشااللہ بہت اچھا بچہ ہے۔۔۔” انہوں نے جواب دیا۔
“بہت تمیزدار، ٹیلنٹڈ اور بااخلاق انسان۔۔۔ آئی وش کا میرا بیٹا تھوڑا بہت اس پر چلا جاتا۔۔۔” وہ ہنس دیے۔
“میرے بھانجے کے طور پر نہیں ارسم۔۔۔ ایک باپ کے نظریے سے اپنی بیٹی کے لیے؟۔۔۔ کیسا لگتا ہے وہ آپ کو؟” طاہرہ بیگم کی نگاہیں ان پر ٹکی۔
“آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں طاہرہ؟۔۔۔ جبران بھلے ہی بہت اچھا ہے مگر میں کبھی بھی سارہ کے لیے اسے سوچ نہیں سکتا” ارسم بھڑک اٹھے تھے۔
“سارہ کی بات نہیں کررہی ہوں میں ارسم۔۔۔” انہوں نے آنکھیں گھمائی۔
“تو؟”
“حائقہ!۔۔۔ حائقہ کے حوالے سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔”
“حائقہ!”
“ہاں حائقہ۔۔۔۔ چھ سال ہوچکے ہیں ارسم۔۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم حائقہ کے مستقبل کو لے کر سنجیدہ ہو۔۔۔۔ وہ پوری زندگی یوں نہیں گزار سکتی۔۔۔”
“جبران اس کے لیے ایک اچھا آپشن ہے مگر۔۔۔۔ وہ نہیں مانے گی” انہوں نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“اور پھر جبران کیا وہ مان جائے گا؟” ساتھ ہی سوال بھی کر ڈالا
“جبران کی جانب سے ہاں ہے۔۔۔ اور حائقہ سے بھی ایک بار بات کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟” طاہرہ بیگم فوراً بولی۔
“ٹھیک جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔”
“حائقہ کو کال کرلے ایک بار۔۔۔۔ اتنی رات تک باہر رہنا ٹھیک نہیں۔۔۔” انہوں نے ہدایت دی تو سر ہلائے وہ موبائل اٹھاتی بالکونی کی جانب بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
گھر کے قریب موجود کافی شاپ کے باہر گاڑی روکے وہ لوگوں کی چہل پہل پر نگاہیں ٹکائے کسی اور ہی جہان میں جاپہنچی تھی۔
آج چھ سال بعد اسے یوں اپنے سامنے پاکر اپنی تمام حساسیات کھودی تھی اس نے۔
سوچیں ایک بار پھر اسے چھ سال پیچھے لےجا چکی تھی۔
“ذولقرنین!۔۔۔۔ ذولقرنین!” آفس سے باہر نکلتے ذولقرنین کے پیچھے بھاگی تھی وہ بکھری حالت میں، اس کی سدا سن کر بھی ان سنی کی تھی اس نے۔۔۔
“ذولقرنین۔۔۔۔” وہ اس کے سامنے آرکی تھی۔
“واٹ؟” وہ چلایا
“میں، میں کب سے انتظار کررہی تھی تمہارا!” آنکھوں میں اس کے لیے بےپناہ محبت سموئے وہ بولی۔
“گاڈ۔۔۔ تمہارا پرابلم کیا ہے؟ کیوں میرا پیچھا نہیں چھوڑ دیتی تم؟۔۔۔ طلاق دے چکا ہوں میں تمہیں، کوئی رشتہ نہیں بچا ہمارے درمیان!۔۔۔ جینا حرام کرکے رکھ دیا تم نے میرا!”
“نن۔۔۔نہیں کوئی طلاق نہیں ہوئی نین!۔۔۔ وہ، وہ تو تم غصے میں تھے تو جو منہ میں آیا بول دیا۔۔۔ ورنہ ہمارا رشتہ ابھی بھی قائم ہے۔۔۔۔ ہم محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے، ایسے کیسے رشتہ ختم ہوسکتا ہے۔۔۔ کچھ نہیں ہوا!۔۔۔۔ بس تم غصہ تھوک دو اور مجھے اپنے ساتھ ہمارے گھر لے چلو!” اس کے منہ پر ہاتھ رکھے وہ بولی۔
“ڈیم یو!۔۔۔۔ دو ہٹو مجھ سے پاگل عورت۔۔۔۔طلاق دے چکا ہوں تمہیں زبانی بھی اور کاغذی بھی، شادی بھی کرچکا ہوں اور اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہوں میں۔۔۔۔ میری زندگی میں زبردستی شامل ہونا چھوڑ دو۔۔۔۔” اسے زمین پر دھکا دیے وہ دھاڑا
آس پاس لوگوں کا چھوٹا سا ہجوم لگ چکا تھا۔
“میم۔۔۔ وہ حائقہ میڈم ہے نا؟”۔۔۔ روڈ کے اس پار سے آتی طاہرہ بیگم کی گاڑی ڈرائیو کرتے ڈرائیور نے انہیں آگاہ کیا۔
فوراً گاڑی رکوائے وہ اس کی جانب بڑھی تھی۔
“حائقہ۔۔۔” زمین پر گری حائقہ کو انہوں نے باہوں میں تھاما
“تم مجھے ایسے نہیں چھوڑ سکتے ذولقرنین۔۔۔۔ آئی لو یو!۔۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔ مرجاؤں گی میں، خدارا مجھے اپنالو!” اس کی دہائی نے ان کا دل دہلا دیا تھا۔
“تو مرجاؤ ۔۔۔۔ اور آپ اسے کسی اچھے پاگل خانے ایڈمیٹ کروائے دماغ گھوم چکا ہے اس کا!۔۔۔۔ زندگی عذاب بنا ڈالی ہے میری۔۔۔” اسے سو صلوتیں سناتا وہ وہاں سے جاچکا تھا۔
“ذولقرنین” وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح وہی ڈھے گئی تھی۔
موبائل کی مسلسل بجتی بیل اسے ہوش کی دنیا میں لائی تھی۔
‘آنٹی کالنگ’ دیکھ اس نے کال اٹھائی۔
“جی؟۔۔۔۔ نہیں ابھی تھوڑا ٹائم لگے گا، جی تقریباً گھنٹہ۔۔۔ جی گھر ہی آؤں گی۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ اللہ حافط!” کال کاٹے اس نے سر جھٹکا اور ڈیش بورڈ سے سگار نکالے اپنے اندر کے غم کو سلگھانا شروع کیا تھا اس نے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
