65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

گاڑی ڈرائیو کیے جبران نے اچٹتی نگاہ ساتھ بیٹھی حائقہ پر ڈالی تھی جس کے چہرے پر آج خوشی کی رمق اسے نظر آئی تھی، آنکھیں بھی ضرورت سے زیادہ ہی روشن تھیں۔
جبران کے دل میں تکلیف کا احساس جگا۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے اتنی بڑی بات حائقہ سے شئیر کرے، اسے ذولقرنین پر یقین نہیں تھا اسی لیے رپورٹس آنے کا انتظار کررہا تھا وہ۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ گھر پہنچ چکے تھے جب لان میں ہی سارہ اور میسم کو دیکھ کر حائقہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟” خود سے بڑبڑاتی وہ انہیں شان سے نظرانداز کیے اندر بڑھ گئی تھی۔
جبران ان دونوں کے پاس جا بیٹھا تھا۔
“تم دونوں یہاں؟ خیریت؟” جبران نے نارمل انداز میں سوال کیا تھا۔
“معیز کا گفٹ دیکھنے آئے ہیں!” حائقہ جو کمرے سے فریش ہوکر لان میں انہی کی جانب آرہی تھی، سارہ نے اسے طنزیہ مسکراہٹ سے نوازہ تھا۔
سر نفی میں ہلائے حائقہ نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔
حائقہ جبران کے ساتھ بیٹھ گئی تھی، سارہ کی بات پر معیز نے بھی امید بھری نگاہوں سے اسے دیکھا جس پر اس نے ایک ہلکی سی مسکان سے معیز کو نوازہ جو اسے پرسکون کرگئی۔
“میں نے کہاں تھا شام میں آنا!۔۔۔ ابھی شام ہوئی نہیں ہے، تمہیں شام اور سےپہر کا فرق نہیں معلوم، دوبارہ سکول جوائن کرلو!” وہ مزے سے بولتی سارہ کو جلا چکی تھی۔
آدھے گھنٹے بعد اسے وانیہ کی جانب سے کال آئی تھی، وہ سارہ کی جانب دیکھ کر مسکرائی، معیز کو پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔
ایک منٹ بعد ان سب نے معیز کی خوشی سے بھرپور چیخ سنی تو اس کی جانب دوڑے جو خوشی کے مارے حائقہ کی ٹانگوں سے لپٹا ہوا تھا۔
“بابا یہ دیکھیئے میرا برتھڈے گفٹ!” معیز نے اس بائے-سائیکل کی جانب اشارہ کیا جو گیٹ کے پاس موجود تھی۔
وہ کوئی عام بائے-سائیکل نہیں تھی، اس پر موجود برانڈ کا ٹیگ ہی اس کی قیمت بتارہا تھا۔
“سارہ خالہ، میسم ماموں دیکھیئے میرا گفٹ۔۔۔ تھینکیو آنٹی، تھینک یو سو مچ۔۔۔” وہ ایک بار پھر حائقہ کی ٹانگوں سے لپٹا تھا۔
“اچھا بس!”حائقہ تھوڑا سا پیچھے ہوئی تھی، اب یہ کچھ زیادہ ہی ہورہا تھا۔
سارہ اور میسم جاچکے تھے، معیز لان میں مزے سے اپنی سائیکل چلا رہا تھا جبکہ آدم رینگتا ہوا اسی کے پیچھے تھا۔
“تمہیں اسے سائیکل نہیں دینی چاہیے تھی” جبران حائقہ سے بولا۔
“کیوں؟” معیز سے نگاہیں ہٹائے حائقہ نے جبران سے سوال کیا۔
“وہ ابھی بچہ ہے اگر چوٹ لگ گئی تو؟” جبران کی فکرمندی پر اس نے آنکھیں گھمائی۔
“وہ تین کا نہیں سات سال کا ہے، اور یہی تو عمر ہوتی ہے نئی چیزیں سیکھنے کی، اور ویسے بھی بائے-سائیکل ہے یہ اس پر چوٹ نہیں لگے گی، تم بھی بچے کے سامنے ایسی بات کرکے اس کا کانفیڈینس مت کم کرنا!” حائقہ کی بات پر اس نے سر ہلایا کہ اچانک ان دونوں کو معیز کے چلانے کی آواز سنائی دی۔
سامنے دیکھا تو معیز گھاس پر گرا پڑا تھا، جبران تیزی سے اس کی جانب بھاگا۔
اسے اٹھایا سائیکل سیدھی کی۔
“پاپا۔۔۔ آدم، آدم نے مجھے گرایا پاپا۔۔۔ یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہے، اسے واپس چھوڑ آئے ہوسپٹل!” معیز شدت سے رو دیا۔
جبران نے گہری سانس خارج کی گھاس پر بیٹھے اس نمونے کو دیکھا جو سر پر موجود تھوڑے سے بالوں کو کھجاتا سائیکل پر بیٹھنے کی تگ و دو میں تھا۔
“کیا تم اسے ایک منٹ پکڑسکتی ہو؟” اس نے معیز حائقہ کے حوالے کیا جو اسے باہوں میں لیے کندھے سے لگا چکی تھی۔
خود جھک کر زمین پر موجود اس فتنے کو دیکھا!
“او بھئی! کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ؟۔۔۔ کیوں چین سکون سے نہ خود بیٹھتا ہے اور نہ ہمیں رہنے دیتا ہے؟” وہ جبران کے لفظوں کو اگنور کیے سائیکل کی جانب جھکا، اوں آں کیے اس نے سائیکل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
جبران اپنی اس ڈھیٹ ہڈی کو جانتا تھا، جب تک اپنی من مانی نہ کرلے اسے سکون نہیں آنا تھا اسی لیے اسے بائے-سائیکل پر بٹھا چکا تھا، آدم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، مگر یہ خوشی جلد ہی ماند پڑ گئی جب اس کے ننھے ہاتھ بائے-سائیکل کے ہینڈل تک نہ پہنچ پائے اور نہ ہی چھوٹے سے پاؤں پیڈل چھو سکے، ماتھے پر بل پڑے، گھور کر جبران کو دیکھا۔
“یار دیکھ مجھے ایسے مت گھور، گھورنا ہے تو اس عورت کو گھور، یہی لائی ہے!” جبران نے حائقہ کی جانب اشارہ کیا۔
آدم نے حائقہ کو غصے بھری گھوری سے نوازہ جس پر حائقہ نے ایک ابرو اچکائی تو منہ بنائے جبران کے آگے اپنے ہاتھ کیے تاکہ وہ اسے اٹھا سکے۔
جبران کے اٹھاتے ہی وہ زور سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر چھاپ چکا تھا۔
“ابے یار کیا دشمنی ہے تیری ہم باپ بیٹا سے؟” جبران نے کلس کر سوال کیا۔
‘بیٹا’ پر آدم کی نگاہ معیز پر گئی جو حائقہ کی باہوں میں مزے سے موجود تھا، اس کے اندر پھر سے آگ بھڑک اٹھی، باپ کی گرفت میں مچلتا وہ معیز کے قریب ہوا اور زور سے اس کے بالوں کو کھینچ ڈالا، معیز ایک بار پھر تڑپ اٹھا تھا!
آدم بار بار حائقہ کی جانب جانے کو مچل رہا تھا۔
جبران نے بےبسی سے گہری سانس خارج کی۔
معیز کو تھامے اس نے آدم حائقہ کے حوالے کیا، جو حائقہ کے پاس آتے ہی معیز کی طرح اس کے کندھے پر سر رکھ چکا تھا۔
“کیا کھا کر پیدا کیا تھا تمہاری بیوی نے اسے؟” حائقہ نے بھی یہ عزیم سوال کرہی ڈالا۔
“زندہ ہوتی تو ضرور پوچھتا!” سر جھٹکتا وہ اندر کی جانب بڑھا۔
اس کی حالت پر یکدم حائقہ کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے، سر نفی میں ہلائے وہ ان کے پیچھے ہی اندر جاچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی اب ایک ڈگر پر چلنا شروع ہوگئی تھی، چند دنوں میں حائقہ کی رپورٹس آجانی تھی جس پر وہ بہت بےچین تھی، مگربےچینی کے ساتھ ساتھ پریشانی نے بھی اسے گھیر لیا تھا، معیز کو دوبارہ سے چوٹیں لگنا شروع ہوگئی تھیں، حائقہ نے بہت بار جبران سے بات بھی کی تھی مگر وہ یہ کہہ کر بات ٹال دیتا کہ کھیلتے ہوئے لگ گئی۔۔۔۔ حائقہ کو جبران پر جی بھر کر غصہ آتا تھا۔۔۔ اپنی اولاد کو لےکر وہ اتنا نان سیریس کیسے ہوسکتا تھا؟
اس بات پر وہ جبران سے بحث بھی کرچکی تھی مگر وہ اس کی بات کو نظراندازکرچکا تھا، حائقہ بھی زیادہ زور نہ دیے دو حرف لعنت اس پر بھیج چکی تھی۔
ابھی ابھی اس کا آفس سے آنا ہوا تھا، دوپہر کا وقت تھا معیز سکول اور جبران آفس میں تھا۔
“نسرین ایک گلاس پانی لاؤ!” آنکھیں موندے گردن کو دبائے اس نے پانی مانگا۔
“یہ لے میم!” نسرین کی جگہ دوسری میڈ کی آواز سن کر حائقہ کی آنکھیں جھٹ کھلی تھیں۔
“تم؟ نسرین کہاں ہے؟” یکدم اسے آدم کا خیال آیا جو وہاں نہیں تھا۔
“وہ جی چھت پر کپڑے سکھانے گئی ہے، آدم بابا کو بھی ساتھ لے گئی ہے” حائقہ کے سوال سے پہلے ہی وہ آدم کے حوالے سے بھی آگاہ کرچکی تھی۔
حائقہ نے سر ہلائے پانی کا گلاس تھاما۔
پانی پیے اس نے گلاس ٹیبل پر رکھا جب اسے نسرین سیڑھیاں اترتی نظر آئی، اپنا موبائل اٹھائے اس نے کھولا ہی تھا جب یکدم وہ ٹھٹھکی، خوف سے آنکھیں پھیلی، نگاہیں اٹھائے سیڑھیوں کی جانب دیکھا جہاں سے آدم نسرین کے پیچھے ہی نیچے اترنے کی کوشش کررہا تھا۔
“آدم!” وہ چلائی، مگر دیر ہوچکی تھی۔
سیڑھیوں پر جھاگ والا پانی گرنے کی وجہ سے وہ پھسلتا سیڑھیوں سے نیچے گرگیا تھا۔
سیڑھیوں کے پاس کا حصہ خون سے رنگ چکا تھا۔۔۔۔ حائقہ کے قدم منجمند ہوئے، وہ کئی سال پیچھے چلی گئی، آدم کی جگہ اسے اپنا آپ نظر آیا، اپنی مری اولاد نظر آئی اور اس بےوفا کا چھوڑ کر چلے جانا نظر آیا۔
“آدم بابا!” نسرین بھاگ کر آدم کی جانب بڑھی، اس کے ماتھے سے رستے خون پر اپنا ڈوپٹہ رکھا، چیخیں مارے اس نے حائقہ کو بلایا۔
“حائقہ بی بی۔۔۔۔ حائقہ بی بی۔۔۔۔” حائقہ ہوش میں آئی وہ تیزی سے آدم کی جانب بھاگی۔
“آ۔۔۔آدم۔۔۔۔ آدم۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔ آدم۔۔۔” اس کا لہجہ بھیگ گیا۔
“بابا کو ہسپتال لیجانا ہوگا بی بی۔۔۔” نسرین کی آواز کانوں سے ٹکڑائی تو اس کے چھوٹے سے وجود کو باہوں میں اٹھائے وہ دیوانہ وار باہر بھاگی۔
ڈرائیور گھر پر ہی موجود تھا، حالات کا اندازہ لگائے فوراً گاڑی نکالی اور ارسم امین کے ہسپتال کی جانب موڑ لی۔
“ہیلو جبران صاحب۔۔۔” نسرین نے فوراً جبران کو کال کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آئی۔سی۔یو کے باہر موجود بنچ پر بیٹھے اس کی نگاہیں دروازے پرہی جمی تھی جہاں آدم موجود تھا۔
آنکھیں برس کر لال ہوچکی تھیں۔
“حائقہ۔۔۔” جبران نسرین کی کال پر سیدھا ہسپتال آیا تھا۔
وہ حائقہ کی جانب بڑھا۔
“جج۔۔۔جبران۔۔۔” وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھی۔
“جبران وہ آدم۔۔۔ وہ جبران۔۔۔” اس کی آواز بیٹھ چکی تھی۔
“وہ۔۔۔ میں نے، میں نے کوشش کی تھی جبران اسے بچالوں، مگر۔۔۔ میں، میں قاتل نہیں ہوں جبران۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں نے نہیں مارا!” اس کا سانس پھول چکا تھا۔
“شش حائقہ!” جبران اس کی حالت سمجھتا اسے گلے سے لگا چکی تھی جس پر وہ اونچی آواز میں رو دی۔
“آدم کو بچالو جبران، اسے بچالو۔۔۔” اس کی زبان پر بس یہی الفاظ موجود تھے۔
اسے اپنی باہوں میں لیے وہ وہی بنچ پر ٹک چکا تھا۔
آدھے گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد آخرکار ڈاکٹرز کی جانب سے خیر کی خبر انہیں مل گئی تھی۔
آدم کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔
حائقہ کی جان میں جان آئی تھی، جبران سے پہلے وہ ڈاکٹر کی جانب بڑھی تھی۔
“آدم۔۔۔ اس سے مل سکتے ہیں؟” اس کے لہجے کی بےچینی سب نے محسوس کی تھی۔
“ابھی انڈر ابزرویشن ہے۔۔۔ آپ تھوڑی دیر میں مل سکتے ہیں!” ڈاکٹر جبران کا شانہ تھپتھائے وہاں سے جاچکا تھا۔
جبران نے آنکھیں موندے رب کا شکر ادا کیے اپنی بیوی کو دیکھا، سرخ آنکھیں، بکھرا حلیہ اور کپڑوں پر موجود خون۔۔۔ اسے یوں اپنی اولاد کی فکر میں گھلتے دیکھ جبران آسودگی سے مسکرا دیا۔
پچھلے دنوں معیز کو لے کر ہوئی لڑائی میں حائقہ کی کہی بات یاد آئی، کتنے غصے سے بولی تھی وہ کہ ‘بچے جبران کے ہیں جب اسے پرواہ نہیں تو وہ بھی نہیں کرتی’۔۔۔
“حائقہ!” جبران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“ہوں؟” وہ چونکی
“آدم سے ملنا ہے؟” حائقہ کا سر میکانکی انداز میں ہلا۔
اپنے ساتھ لیے جبران روم کی جانب بڑھا جہاں آدم کو شفٹ کردیا گیا تھا۔
ننھے سے وجود کو مشینوں اور پٹیوں میں جکڑے دیکھ ایک بار پھر اس کی آنکھیں بھرآئیں تھیں۔
“شش! وہ ٹھیک ہے۔” اسے روتے دیکھ جبران نے دلاسہ دیا۔
“جبران میں نے کوشش کی تھی اسے بچالوں۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا” ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں اس نے اپنی بات مکمل کی تھی۔ اس کے لہجے میں موجود ڈر جبران نے اچھے سے بھانپا تھا۔
“مجھے یقین ہے” بس یہی الفاظ حائقہ کو اندر تک سکون پہنچا گئے تھے۔
“مگر ذولقرنین نے نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ کہتا ہے میں قاتل ہوں اس کی اولاد کی۔۔۔ مگرمیں نے تب بھی کچھ نہیں کیا تھا!۔۔۔ بھلا میں اپنی ہی اولاد کو کیسے مار سکتی ہوں؟” جبران اسے اپنے ساتھ لیے روم میں موجود صوفہ پر آبیٹھا۔
اس نے ٹوکا نہیں تھا حائقہ کو اسے بولنے دیا تھا۔
“مگر دیکھنا اب نا بہت خیال رکھوں گی ان دونوں کا، اور ذولقرنین کو غلط ثابت کروں گی میں۔۔۔اور پھر جب ہماری اولاد ہوگی” وہ بات کہاں سے کہاں لے جا چکی تھی۔
جبران کے چہرے پر سایہ آکر گزرا، افسوس بھری نگاہوں سے اس نے حائقہ کو دیکھا۔
“مم۔۔۔” آدم کی آواز پر وہ چونکا، حائقہ کو دیکھا جو تیزی سے اس کی جانب بھاگی۔
“آدم!” اس کا ہاتھ تھام کر بار بار چوما
دوائیوں کے زیرِ اثر آدم مسکرایا اور دوبارہ موند گیا۔
“آدم؟۔۔۔ آدم!۔۔۔ جبران دیکھو اسے، اس نے آنکھیں کھولی پھر بند کرلی، یہ۔۔۔یہ ٹھیک تو ہے نا؟” اس کی حواس باختہ حالت دیکھ جبران نے آگے بڑھ کر ایک بار پھر اسے تھاما۔
“وہ ٹھیک ہے حائقہ۔۔۔ بس دوائیوں کے زیر اثر ہے۔۔۔ ڈاکٹر سے بات ہوئی تھی کچھ گھنٹوں میں ہوش میں آجائے گا!”
“پکا؟” اسے یقین نہیں تھا۔
“پکا!” جبران نے آنکھیں میچے مسکرا کر اسے یقین دلایا۔
“تم گھر جاؤ حائقہ میں ہوں آدم کے پاس۔۔۔” کافی دیر سے وہ دونوں وہی موجود تھے، حائقہ کے چہرے پر تکان محسوس کیے جبران نرمی سے بولا۔
“نہیں۔۔۔میں یہی ہوں!” اس نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا۔
“حائقہ۔۔۔”
“جبران!”
اس سے پہلے جبران حائقہ کو کچھ کہتا طاہرہ بیگم، سارہ اور میسم اندر داخل ہوئے تھے۔
“خالہ امی آپ یہاں؟” جبران چونکا!
“آدم۔۔۔ کیا ہوا اسے؟” وہ تیزی سے آدم کی جانب لپکی نرمی سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“وہ اب ٹھیک ہے خالہ امی۔۔۔” جبران نے نرم لہجے میں جواب دیا۔
“پھر بھی ہوا کیسے یہ بتاؤ تو سہی؟” نظریں آدم پر ہی ٹکی تھی ان کی۔
ان کے پوچھنے پر جبران انہیں سب بتا چکا تھا۔
“مگر آپ کو کس نے بتایا؟نسرین نے؟” ساتھ ہی سوال کرڈالا۔
“جبران بھولو مت یہ ہسپتال تمہارے خالو کا ہے، انہیں ریسیپشن سے علم ہوا تو فوراً مجھے کال کی۔۔۔ اور اس نسرین کی خبر تو میں لیتی ہوں جس نے مجھے بتانا ضروری نہ سمجھا!” وہ سوچوں میں نسرین کا قتل کرچکی تھی۔
“اس سب کی ذمےدار یہ عورت ہے۔۔۔ جہاں جاتی ہیں منحوسیت اور مشکلیں ساتھ لے کر جاتی ہے!” سارہ نے حائقہ کی جانب انگلی اٹھائی۔
حائقہ نے گہری سانس بھرے آنکھیں گھمائی تھی۔
“سارہ!” طاہرہ بیگم نے اسے تنبیہ کی۔
“واٹ سارہ ماما؟۔۔۔ آپ دیکھ نہیں رہی آدم کی حالت!۔۔۔ یہ وہی موجود تھی اس نے دیکھا تھا اسے گرتے ہوئے، چاہتی تو آگے بڑھ کر تھام لیتی مگر اس نے گرنے دیا۔۔۔ بلڈی وچ!” وہ چلائی۔
“آواز نیچی رکھو اپنی۔۔۔” حائقہ آدم کی جانب دیکھتے بولی جو کسمایا تھا۔
یقیناً یہ شور اسے پسند نہیں آیا تھا۔
“کیوں؟ سچ سننا برداشت نہیں ہورہا؟۔۔۔” سارہ نے طنزیہ مسکراہٹ سے اسے نوازہ۔
“بالکل ایسا ہی ہے!” حائقہ بحث کے موڈ میں نہیں تھی تو سر ہلا دیا۔
مگر سارہ آج پورے موڈ میں تھی۔
“دیکھا، سن لیا آپ سب نےسچ؟۔۔۔اس کی وجہ سے آدم اس حالت میں پہنچا ہے ،یہ عورت کسی کی سگی نہیں ہے ارے یہ تو اپنے باپ کی سگی نہیں تو سوتیلی اولاد کی کیا ہوگی۔۔۔ تمہارے لیے تو جتنے گھٹیا الفاظ ہو کم ہیں!” سارہ کی آواز ایک بار پھر اونچی ہوچکی تھی۔
“آواز نیچی رکھو۔۔۔” دانت پیسے حائقہ دوبارہ بولی۔
“ورنہ کیا؟” سارہ چلائی۔ آدم کی نیند ٹوٹی اور وہ رو دیا، حائقہ کی آنکھوں میں غصہ در آیا۔
اس کے بعد تھپڑ کی آواز کمرے میں گونجی۔
“ورنہ یہ!” پھٹی آنکھیں، گال پر ہاتھ رکھے سارہ نے حائقہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس وقت سخت غصہ موجود تھا۔
“اپنی دونوں اولادوں کو لے اور یہاں سے چلی جائے۔۔۔” اب اس کا رخ طاہرہ بیگم کی جانب تھا جو خود غصے بھری نگاہوں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔
“چلو یہاں سے!”جبران کو معافی طلب نگاہوں سے دیکھتی وہ دونوں کو وہاں سے لے کر جاچکی تھی۔
گہری سانس بھرے وہ آدم کے پاس جابیٹھی، اس کے بال سہلائے حائقہ دوبارہ اسے سلانے میں کامیاب ہوچکی تھی۔
“تمہیں گھر چلے جانا چاہیے حائقہ!”
“نہیں میں آدم کے پاس رکو گی!” جبران کو دیکھے بنا جواب دیا۔
“وہ فلحال سویا ہوا ہے تین چار گھنٹوں میں جاگے گا تب تک تم گھر جاؤ، فریش ہوجاؤ۔۔۔ معیز بھی اکیلا ہے!” جبران کی بات پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی گھر جاچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس واقع کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا، اور اس ایک ہفتے میں دونوں باپ بیٹا اس چھوٹے فتنے سے عاجز آچکے تھے جس نے سب کو گھوما کررکھ دیا تھا۔
حائقہ پر تو اب بس اسی کا حق رہ گیا تھا۔
معیز تو نہیں مگر جبران کا حال غصے سے برا ہوچکا تھا، اس کی بیوی پر وہ چھوٹا مکمل طور پر قبضہ پاچکا تھا۔
اس وقت بھی وہ چھوٹا فتنہ حائقہ کی گود میں بیٹھا اوں آں کیے اس سے باتیں کرنے میں مگن تھا جس کا وہ پورا پورا جواب دے رہی تھی۔
مگر اب بس اور نہیں آج جبران اپنی بیوی واپس لے کر ہی رہے گا اس نے سوچ لیا تھا۔۔۔ اسی لیے اس نے آج اپنے اور حائقہ کے لیے دنڑ ڈیٹ کا پلان بنایا تھا۔
“بیگم تیار ہوجائے جانا نہیں ہے!” وہ کمرے میں داخل ہوتا شیریں لہجے میں بولا۔
مگر غصیلی نگاہوں سے اس فتنے کو گھورنا نہ بھولا جس نے آنکھیں چھوٹی کیے اپنے باپ کو برابر گھوری سے نوازہ۔
“مگرآدم؟” حائقہ کو اس کی پریشانی لاحق ہوئی۔
“میں ہوں آدم کے پاس آپ لوگ چلے جائے، نسرین آنٹی بھی ہے!” معیز کے جواب پر جبران کا دل چاہا بھنگڑے ڈالنے کو۔
حائقہ مسکرائی آدم کو گود سے اٹھائے معیز کے پاس بٹھایا مگر وہ بھی آدم جبران تھا اپنے نام کا ایک یکدم آنکھوں میں ڈھیروں آنسوؤں بھرلایا اور معصومیت سے حائقہ کی جانب دیکھا۔
“آدم کیا ہوا؟۔۔۔ درد ہورہا ہے؟” حائقہ کا دل بےچین ہوا۔
آنکھیں میچے اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا۔
حائقہ فوراً اسے باہوں میں لیے سابقہ جگہ پر بیٹھ گئی۔
“بیگم ڈنر؟”
“تمہارا بیٹا درد سے بےحال ہے اور تمہیں آؤٹنگ کی پڑی ہے؟ شرم سے ڈوب مرو جبران حیات!” آدم کو گود میں اٹھاتی وہ اسے غصے سے جھڑکتی کمرے سے باہر جاچکی تھی۔
جبران نے منہ بنائے اس کی پیٹھ کو دیکھا تو کندھے پر سر رکھے آدم نے نا صرف اسے دل جلادینے والی مسکراہٹ سے نوازہ بلکہ زبان بھی چڑھا چکا تھا۔
“تجھے تو میں چھوڑوں گا نہیں آدم جبران حیات!” دانت پیسے جبران غصے سے بڑبڑایا۔
جاری ہے