No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
پارک میں داخل ہوتے ہی معیز حائقہ کی جانب مڑا جس کی باہوں میں آدم تھا جب کہ جبران پیچھے پیچھے ہی تھا اس کے۔
“میں جھولے لینے جارہا ہوں ماما اگر یہ آپ کو تنگ کرے تو مجھے بتائیے گا اوکے؟” دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے وہ چھوٹی آنکھوں سے جبران کو گھورتا سلائیڈز کی جانب بھاگا تھا۔
“شیور ماما کی جان!” وہ مسکرائی، اس کے پیچھے اونچی آواز میں بولی۔
“ماما کی جان؟۔۔۔ یہ کل کی تازہ تازہ اولاد ماما کی جان بن گیا اور میں کئی ماہ پرانا شوہر ابھی تک جانِ جہان نہ بن سکا؟۔۔۔ خودغرض عورت۔۔۔” وہ بڑبڑایا مگر حائقہ صاف سن سکی۔
مسکراہٹ دبائے وہ آگے بڑھی، جبران بھی سائے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے رہا۔
آدم کو یونہی گود میں لیے وہ ایک بینچ پر آبیٹھی تھی جہاں سامنے سے معیز کو باآسانی کھیلتے وہ دیکھ سکتی تھی۔
جبران بھی ساتھ آن بیٹھا۔
گلا کھنکھارے اس نے حائقہ کو متوجہ کرنا چاہا جس نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کیا۔
“بیگم؟” میٹھا، شیریں لہجہ اپنایا گیا مگر کوئی جواب نہیں۔
“بیگم وہ میں۔۔۔” اس سے پہلے جبران کچھ بول پاتا آدم اپنی زبان میں بلی کی جانب اشارہ کیا اور حائقہ سے باتیں کرنا شروع ہوگیا تھا۔
جبران نے صبر کیا۔
کچھ لمحوں بعد وہ خاموش ہوا، جبران کو اپنی بات کہنے کا موقع ملا، گلا کھنکھارے دوبارہ حائقہ کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
“بیگم میں کہہ رہا تھا۔۔۔” ایک بار پھر آدم بول اٹھا، اس بار اس نے خوشی سے چہکتے گلہری کی جانب اپنی چھوٹی انگلی کی جس پر حائقہ اسے گلہری کے بارے میں بات کرنے لگ گئی تھی۔
جبران نے آنکھیں چھوٹی کیے اپنے اس فتنے سپوت کو گھورا جو شائد جان بوجھ کر اس کے اور اس کی بیوی کے مابین تعلقات بہتر نہیں ہونے دے رہا تھا۔
کچھ لمحوں بعد وہ پھر سے خاموش ہوئے۔
جبران نے چند لمحے انتظار کیا آدم کچھ نہ بولا بس مگن سا آسمان کو دیکھے گیا۔
جبران کو پھر سے موقع ملا۔
“بیگم میں کہہ رہا تھا کہ۔۔۔۔” اور ایک بار پھر خوشی سے چیخ مارے آدم نے آسمان پر اڑتے کوے کی جانب انگلی اٹھائی۔
جبران غصہ پی کر رہ گیا، آدم اسے حائقہ سے بات کرنے کا کوئی موقع نہیں دے رہا تھا، مگر حد تو تب ہوئی جب جبران نے حائقہ کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر آدم پہلے ہی اس ہاتھ پر اپنا چھوٹا ہاتھ مزے سے رکھ چکا تھا۔
“یار اسے تو دفع کرو یہاں سے۔۔۔” وہ غصے اور بےبسی سے چلایا۔
حائقہ سخت نگاہوں سے جبران کو گھورا، غصے کی آگ تو آدم کی آنکھوں میں بھی بھڑک اٹھی تھی۔
“گھورنا بند کرو اور اسے نکالو یہاں سے۔۔۔” وہ زبردستی حائقہ کی گود سے مچلتے آدم کو اٹھاتا زمین پر بٹھائے خود تیزی سے حائقہ کے ساتھ چپک کر بیٹھ چکا تھا۔
“کیا ہوا ماما؟ کیا یہ آپ کو تنگ کررہے ہیں؟” معیز تیزی سے وہاں دوڑا آیا۔
“ہاں کررہا ہوں تنگ، بیوی ہے میری کرسکتا ہوں تنگ تمہیں کوئی مسئلہ؟” جبران اس پر غصے سے برسا۔
حائقہ نے بار بار تیزی سے آنکھیں میچے اس شخص کو دیکھا جو اس کی خاطر اپنی سگی اولاد پر بھڑک رہا تھا؟۔۔۔ بےشک وہ غصہ نہ تھا مگر ‘اس کی خاطر؟’ وہ بھی سگی اولاد پر۔۔۔ کیا وہ اتنی اہم تھی اس کے لیے؟
“آپ میری ماما کو ایسے تنگ نہیں کرسکتے، چلے ماما یہاں سے!” معیز نے آگے بڑھ کر اس کا دوسرا ہاتھ تھاما۔
جبران سے نگاہیں ہٹائے اس نے معیز کو دیکھا جو اس کی خاطر اپنے باپ سے لڑ رہا تھا، سوتیلی ماں کی خاطر سگے باپ سے لڑ رہا تھا؟۔۔۔۔ ‘اس کی خاطر؟’ کیا وہ واقعی اتنی اہم تھی؟۔۔۔ کیا واقعی یہ سب اس کے لیے تھا؟۔۔۔ دنیا میں کوئی ایسا وجود تھا جو اس سے محبت کا دعویدار تھا؟
ہاں ان دونوں سے پہلے بھی بہت سے لوگ اس سے محبت کے دعویدار تھے، اس کی نینی، جیری، طاہرہ بیگم مگر کبھی بھی اس کے دل نے ان کی محبت کو اپنے لیے یوں محسوس نہ کیا جیسے اب کررہی تھی، یوں جیسے اس کے وجود کا گم حصہ اسے مل چکا ہو! جیسے برسوں سے انگاروں پر جلتے دل کو ٹھنڈک پہنچی ہو۔
“چلے ماما”
“میری بیوی کہی نہیں جارہی۔۔۔ اپنے بھائی کو پکڑو اور بیٹا تم نکلو یہاں سے۔۔۔” جبران معیز کے ہاتھ سے اس کا ہاتھ نکالے دونوں ہاتھ تھام چکا تھا۔
حائقہ نے لبوں پر مچلتی مسکراہٹ اور آنکھوں میں در آئی نمی کو چھپایا۔
“ماما؟”
“بیگم؟”
دونوں باپ بیٹا اس کے سر ہولیے۔
“معیز آدم کے ساتھ جاؤ میں ٹھیک ہوں!” حائقہ کی زبان سے ادا ہونے والے لفظوں پر جبران کا جی چاہا خوشی سے جھوم اٹھے۔
گردن اکڑائے اس نے دونوں بیٹوں کو دیکھا جو ماں کا کہنا مانتے باپ کو گھورتے وہاں سے نکل چکے تھے۔
“بیگم۔۔۔” جبران مسکراتا اس کے قریب ہوا۔
“اپنی زبان بند ہی رکھو تو بہتر ہوگا!” حائقہ مصنوئی غصے سے بھڑکی۔
“اب بس بھی کرو بیگم مان جاؤ نا!” اس کے کندھے پر سر رکھے وہ آنکھیں موندے بولا تھا۔
جبران کی اس قدر نزدیکی پر آج پہلی بار حائقہ جبران پزل ہوئی تھی، آج پہلی بار دل کی دھڑکنوں کو منتشر پایا تھا، تھوک نگلے گہری سانس لیے اس نے تیز ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرنا چاہا تھا۔
“تمہارا دل!۔۔۔ اس کی دھڑکن بہت تیز ہے، طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟” جبران نے فکرمندی سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“ہوں!” حائقہ نے تیزی سے سر اثبات میں ہلایا۔
“آر یو شیور؟” جبران کے چہرے پر موجود فکرمندی کے آثار مزید گہرے ہوئے۔
“میں ٹھیک ہوں جبران!” اس کا ہاتھ ماتھے سے ہٹائے گہری سانس خارج کیے وہ مسکرائی اور اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“پکا؟”
“ہمم!” اس نے سر ہلایا۔
“حائقہ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا۔
“اگر کل کے حوالے سے کرنی ہے تو مت کرنا۔۔۔” حائقہ نے نرمی سے انکار کیا۔
“کرنی ہے مگر اس حوالے سے نہیں جو تم سوچ رہی ہو۔۔۔ تمہاری مدر کے حوالے سے، تم نے مجھے کال کیوں نہیں کی حائقہ۔۔۔ مجھے بلالیا ہوتا۔۔۔”نرمی سے اس کے بالوں میں ہاتھ چلائے وہ بولا۔
“کیا تم آتے؟” حائقہ نے بےیقینی سے سوال کیا۔
“بالکل۔۔۔” حائقہ نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا۔
“تم نہیں آتے۔۔۔”
“میں کیوں نہیں آتا حائقہ؟” جبران نے نرمی سے سوال کیا۔
“کیونکہ وہ تمہاری خالہ امی کی سوتن تھی۔۔۔ تم کیوں آتے؟” اپنے ہاتھ میں موجود اس کے ہاتھ کی انگلیوں سے وہ کھیلنے لگی۔
“وہ میری حائقہ کی ماں تھی۔۔۔ میں ضرور آتا!”
‘میری حائقہ’۔۔۔ حائقہ جبران کا دل ایک بار پھر زوروں سے دھڑکا۔
“مگر مجھے اس وقت تمہاری ضرروت نہیں تھی، جن کی تھی وہ نہیں آئے۔۔۔” جبران کو اس آواز میں نمی محسوس ہوئی۔
“کاش کہ تمہاری ضرورت میں ہوتا۔۔۔ سرپٹ دوڑا چلا آتا!” وہ مسکرا کر بولا تو حائقہ ہنس دی۔
“جوروں کا غلام!” وہ ہنس کر بولی۔
“صرف اپنی جوروں کا۔۔۔” مسکرا کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔
حائقہ مسکرائی، مسکراتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں بینچ پر بیٹھی دو لڑکیاں انہیں دیکھ کر ہنستی ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کررہی تھی۔
حائقہ ہوش کی دنیا میں لوٹی، تیزی سے جبران سے پیچھے ہوئی، جبران نے چونک کر اس کے اس عمل کو دیکھا اور پھر سامنے بیٹھی دونوں لڑکیوں کو۔۔۔ انہیں سمائل پاس کیے وہ حائقہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے اپنے قریب کرچکا تھا دوبارہ۔
“جبران!۔۔۔ وہ دیکھ رہی ہیں!” حائقہ منمنائی۔
جبران نے حیرت سے اپنی بیوی کو دیکھا۔
“کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟۔۔۔ میری لیڈی دبنگ چھوئی موئی لڑکی کب سے بنی؟” جبران کی بات پر حائقہ نے اسے غصے سے دیکھا جس پر وہ دل کھول کر ہنس دیا تھا۔
“دیکھنے دو انہیں۔۔۔ اور سوچنے دو کہ ایسا کون سا عمل کردیا اس عام سی لڑکی نے جو یہ شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا لڑکا یوں اس کے عشق میں گرفتار ہوچکا ہے۔۔۔” اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہ ایک ادا سے بولا۔
“کیا تم نے ابھی ابھی مجھ سے اظہارِ محبت کیا ہے؟” حائقہ نے اس کا مزاق اڑانا چاہا۔
“ہاں کیا ہے۔۔ کہوں تو پوری دنیا کے سامنے اعلان کردوں؟” جبران کی آنکھوں میں جلتی محبت کی روشنی پر حائقہ شاک ہوئی۔
“میں مزاق کررہی تھی۔۔۔”
“مگر میں نہیں کررہا!” اس کے گال کو ہلکے سے چھوا جبران نے، حائقہ کے گالوں کا رنگ تیزی سے بدلا۔
“یہ تم نے لڑکا کس کو کہاں؟۔۔ انکل ہو پورے کے پورے کے۔۔۔ اور شہزادے کب سے بن گئے تم؟” بات بدلی حائقہ نے۔
اس کے بات بدلنے پر جبران سر جھکائے ہنس دیا۔
“بدتمیز انسان۔۔۔” حائقہ نے منہ بنائے اس کے شانے پر مکا جڑا تھا۔
جبران کی ہنسی مزید گہری ہوئی۔
“جبران!” وہ چلائی۔
“جی بیگم؟” اتنی ہی محبت سے سوال ہوا۔
“بہت بدتمیز ہو تم۔۔” وہ منہ بنائے بولی۔
“کتنا بدتمیز؟” اس کے کان میں سرگوشی نما انداز میں سوال کیا۔
“جبران اب مار کھاؤ گے تم۔۔۔” وہ غصے سے چلائی۔
“ہاں!۔۔۔ کیسی بیوی ہو تم؟۔۔۔ اتنی محبت کرنے والے شوہر پر ہاتھ اٹھاؤ گی؟۔۔۔ چچ چچ حائقہ بیگم نہایت افسوس کی بات ہے ویسے۔۔۔” اس نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا مگر ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ قائم و دائم رہی۔
“ماما۔۔۔ آدم کو منع کرے مجھے تنگ کررہا ہے۔۔۔” حائقہ کوئی جواب دیتی اس سے پہلے معیز نے اسے پکارا۔
حائقہ نے معیز کی جانب دیکھا جو سلائیڈ پر چڑھنے کی کوشش کررہا تھا مگر آدم نے زور سے اس کا پاؤں تھام رکھا تھا۔
“بات نہیں کرنا اب تم مجھ سے۔۔۔” جبران کو انگلی دکھائے وہ غصے سے وہاں سے اٹھ کے جاچکی تھی۔
“ارے بیگم۔۔۔ بیگم بات تو سنئیے۔۔۔ بیگم!۔۔۔ جانِ جہاں!۔۔۔” وہ اونچی آواز میں مسکرا کر بولا۔
سامنے بینچ پر بیٹھی دونوں لڑکیاں حائقہ کے پاس سے گزرتی کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
حائقہ نے مڑ کر غصیلی نگاہوں سے جبران کو گھورا جس نے آنکھ دبائے اسے منچلی مسکراہٹ سے نوازہ تھا۔
“کمینہ۔۔” بڑبڑاتی وہ دونوں بچوں کی جانب بڑھی تھی۔
پورا دن ساتھ گزارے مغرب کے وقت ان کی گھر واپسی ہوئی تھی۔
حائقہ نے گاڑی سے اترنا چاہا مگر جبران اسے روک چکا تھا۔
“یہی رہنا باہر مت آنا!” وہ اسے منع کیے دونوں بچوں کو ساتھ لیے اندر جاچکا تھا۔
حائقہ گاڑی میں بیٹھی اس کا انتظار کرنے لگی، پانچ منٹ بعد وہ واپس آتا گاڑی باہر کو نکال چکا تھا۔
“ہم کہاں جارہے ہیں؟ اور بچے؟” حائقہ یکدم چونکی۔
“لانگ ڈرائیو پر اور بچیں نسرین سنبھال لے گی۔۔۔” مزے سے گاڑی ڈرائیو کیے وہ بولا۔
“مگر پھر بھی بچوں کو یوں اکیلے چھوڑنا۔۔۔”
“پہلے بھی تو چھوڑا ہیں۔۔۔”
“پہلے کی بات اور تھی تب تمہارے وہ رشتے دار آجاتے تھے۔۔۔” اشارہ سارہ اور میسم کی جانب تھا۔
“تمہارا مطلب تمہارے بہن بھائی؟” جبران نے مسکرا کر پوچھا۔
“میرا مطلب تمہارے کزنز۔۔۔” حائقہ کا لہجہ یکدم بدلا۔
“اگر وہ تمہارے کچھ نہیں تو میرے بھی نہیں۔۔۔” اس کی جانب جھکے وہ مزے سے بولا۔
“بات سنو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟۔۔۔ ہوش میں ہو؟۔۔۔ کہی پی وی تو نہیں رکھی؟۔۔۔ صبح سے بہکی بہکی باتیں کیے جارہے ہو۔۔۔” حائقہ نے مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“بہک تو گئے ہے ہم مگر آپ کے عشق کے خمار میں۔۔۔” ایک بار پھر وہ اس کی جانب جھکا۔
“تمیز سے گاڑی چلاؤ!” حائقہ نے سڑک کی جانب انگلی کی جس پر شرافت کا مظاہرہ کیے جبران نے گاڑی چلائی تھی۔
تھوڑی دیر بعد وہ ایک آئسکریم پارلر کے سامنے گاڑی روک چکا تھا۔
اپنا آرڈر دیے وہ دونوں سب سے آخر میں موجود گلاس وال کے ساتھ ہی ٹیبل پر آبیٹھے۔۔۔ ادھر ادھر کی باتیں کیے ان کا آرڈر آچکا تھا۔
حائقہ آئیسکریم کھانے میں مگن تھی جب جبران نے گلا کھنکھارے اسے متوجہ کیا۔
“ہمیں بات کرنی ہے حائقہ۔۔۔” اس نے بات کا آغاز کیا۔
“ہم تب سے باتیں ہی تو کررہے تھے جبران۔۔۔” مسکرا کر اس نے آئسکریم کا چمچ لبوں سے لگایا۔
“ہمیں کل رات کے حوالے سے بات کرنی ہے حائقہ۔۔۔”
حائقہ نے چونک کر اسے دیکھا، کوئی جواب دیے بنا اپنی جگہ سے اٹھی، وہ وہاں سے جانے کو تھی کہ جبران نے اس کی کلائی تھامی۔
“پلیز حائقہ۔۔۔”
“میں نے کہاں تھا مجھے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنی، مجھے ان لوگوں سے جڑی کسی بات کا تذکرہ نہیں چاہیے۔۔۔” حائقہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“اور اگر میں کہوں اس کا تعلق ہم سے ہیں؟ میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں حائقہ۔۔۔ ہمارے اس رشتےکو مکمل ایمانداری اور محبت سے نبھانا چاہتا ہوں، مگر اس کے لیے تمہارا مجھ پر بھروسہ کرنا ضرروی ہے حائقہ، میں چاہتا ہوں کہ تم اپنا ماضی مجھ سے شئیر کرو تاکہ تمہارا مستقبل سنوارنے کی وجہ بن سکوں میں۔۔۔ تمہارے ڈیڈ نے تمہارا ماضی مجھ سے شئیر کیا ہے، مگر مجھے اس پر یقین نہیں۔۔۔ تمہاری ماضی کی زندگی میں ایک لمبا عرصہ وہ شامل نہیں تھے، ایسے میں جو کچھ انہوں نے مجھ سے شئیر کیا ہے میں اس پر یقین نہیں کرسکتا۔۔۔ بتاؤ حائقہ کرو گی نا بھروسہ مجھ پر؟” جبران نے مان سے سوال کیا۔
“مشکل ہے۔۔۔” لبوں پر زبان پھیرے وہ نظریں چرائے بولی۔
“ناممکن تو نہیں نا؟” جبران مسکرایا۔
جبران اسے ارسم امین کی سنائی گئی کہانی حرف با حرف سنا چکا تھا۔
حائقہ کے لبوں پر مسکراہٹ مچلی۔
“اس میں زرا سا بھی جھوٹ شامل نہیں جبران۔۔۔ ڈیڈ نے جو کہاں سچ کہاں ہے۔۔۔ میری ماما واقعی میں ایک ذہنی مریضہ تھی۔۔۔ میرے باپ کی خوشیوں کی دشمن۔۔۔یہ بھی سچ ہے کہ میری ماما نے برین واش کیا تھا مجھے وہی تھی جن کی وجہ سے مجھے تمہاری خالہ امی سے نفرت ہونے لگی، میں انہیں اپنی ہیپی فیملی کا قاتل سمجھنے لگی۔۔۔۔ نہ وہ ایک اچھی عورت تھی، نہ اچھی بیوی اور نہ ہی اچھی ماں!”
“پھر بھی تم نے انہیں چنا؟۔۔۔ اپنے ڈیڈ پر کیوں حائقہ؟”
“محبت!۔۔۔ میں ان دونوں سے بہت محبت کرتی تھی جبران۔۔۔ ڈیڈ کو اپنی خوشی مل چکی تھی، وہ خوش تھے مگر ماما؟۔۔۔۔ ان کے پاس میرے علاوہ کوئی نہیں تھا جبران۔۔۔ میں انہیں کیسے چھوڑ سکتی تھی؟” حائقہ کے سوال پر جبران کی زبان کچھ بھی بول نا سکی۔
جبران کی آنکھوں میں کیا کچھ نا تھا اپنی بیوی کے لیے۔۔۔ محبت، مان سب جذبات تھے۔۔۔
“تمہاری مدر تمہیں مارتی تھی حائقہ تم نے اپنے ڈیڈ کو کیوں نہیں بتایا؟” جبران کے سوال پر وہ ماضی کی یاد میں جاپہنچی۔
“ماما؟” حائقہ نے روتی ہوئی ماں کو پکارا۔
“حائقہ میری جان!۔۔۔ ایم سوری ماما کا بچہ، ماما نے تمہیں پھر سے مارا، مگر میں کیا کروں حائقہ میں نہیں رکھ پاتی خود پر کنٹرول۔۔۔ تم، تم اپنے باپ کو مت بتانا حائقہ وہ چھین لے گا تمہیں مجھ سے، میں تمہیں خود سے دور نہیں کرسکتی۔۔۔” زرتاج حائقہ کو زور سے خود میں بھینچ چکی تھی۔
“نو ماما۔۔۔ میں ڈیڈ کو نہیں بتاؤں گی۔۔۔ آپ مت روئے۔۔۔” حائقہ نے محبت سے زرتاج کے آنسوؤں صاف کیے تھے۔
“میری جان” زرتاج اسے گلے سے لگا چکی تھی۔
“تمہیں اپنے ڈیڈ کو بتانا چاہیے تھا حائقہ۔۔۔”
“وہ مجھے لے جاتے جبران، میں ماما کو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔۔۔” حائقہ نے کندھے اچکائے۔
“اب چلے؟” چند لمحے مزید باتیں کرنے کے بعد حائقہ بولی۔
جبران نے سر ہلایا، پیمنٹ کئے وہ دونوں بچوں کے لیے آئیسکریم لیے گھر کو روانہ ہوئے۔
“تم ایسا کرو یہ لے کر جاؤ میں ابھی آیا۔۔۔” اسے آئیسکریم تھمائی جبران نے۔
“تم کہاں چلے؟” حائقہ نے چونک کر سوال کیا۔
“آفس کا ارجنٹ کام ہے بس تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گا!” جبران نے جواز دیا۔
“اس وقت؟” حائقہ نے گھڑی کو دیکھا عشاء کا وقت ہوچکا تھا۔
“ہاں ضروری ہے فکر مت کرو گیارہ بجے سے پہلے آجاؤں گا!” جبران نے اسے تسلی دی۔
“دھیان سے جانا!” حائقہ کی فکر پر مسکرادیا۔
“تم دعا کرنا۔۔” ہنس کر بولتا وہ گاڑی ریورس کیے جاچکا تھا۔
مسکرائے حائقہ نے سر نفی میں ہلایا اور اندر کو قدم بڑھائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماما کیا ہوگیا ہے آپ کو کیوں اگنور کررہی ہے آپ مجھے؟” سارہ نے سوال کیا تھا۔
طاہرہ بیگم کا اگنور کرنا اسے بری طرح سے کھل رہا تھا۔
“جیسے تم وجہ نہیں جانتی؟۔۔۔ مجھے سچ بتاؤ سارہ ان باپ بیٹی کے درمیان میں لڑائی ڈلوا کر کون سی خوشی ملتی ہے تمہیں؟۔۔۔ مسئلہ کیا ہے تمہارا حائقہ سے؟” وہ اس پر برسی۔
“پہلے تو آپ مجھے بتائے آپ کی سگی اولاد کون ہے؟ میں یا وہ حائقہ؟۔۔۔ جب دیکھے حائقہ، حائقہ تنگ آگئی ہوں میں اس سے۔۔۔”
“سارہ۔۔۔”
“السلام علکیم!” جبران نے سلام لیا۔
“وعلیکم السلام! جبران تم یہاں؟۔۔۔ اس وقت؟۔۔۔ حائقہ اور بچے ساتھ آئے ہیں؟” طاہرہ بیگم نے فوراً پیچھے نگاہ دوڑائی۔
“نہیں اکیلا آیا ہوں۔۔۔ انکل گھر پر ہے؟” اس نے سوال کیا۔
“ہاں اپنے روم میں ہے وہ۔۔۔”
“بات کرنی ہے ان سے مجھے، آپ بھی ساتھ آئیے۔۔۔” سارہ پر ناپسندیدہ نگاہ ڈالے وہ انہیں پیچھے آنے کا اشارہ کیے آگے بڑھا۔
“تمہارا دماغ تو میں آکر ٹھکانے لگاتی ہوں!” وہ سارہ کو گھورتی کمرے کی جانب چل دی۔
“جبران تم یہاں؟” ارسم امین اسے وہاں پاکر چونکے۔
“جی انکل میں یہاں!۔۔۔ ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔” وہ ان کے سامنے نشست سنبھال چکا تھا۔
“کیا بات؟”
“بات کیا بس یہ سمجھ لے کہ رئیلیٹی چیک دینے آیا ہوں آپ کو!” اس کے چہرے کے تاثرات حد درجہ سنجیدہ تھے۔
جاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔
