65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ٹراؤزر کو تھوڑا اوپر کیے، گہری سانس بھرےجبران نےحائقہ کی ٹانگ کا جائزہ لیا تھا جہاں پر آدم کے دانتوں کے نشان بڑی شان سے براجمان تھے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہلکا ہلکا خون بھی رس رہا تھا۔
نظریں اٹھائے اس نے حائقہ کو دیکھا جس کی آنکھوں میں آنسوؤں اور چہرہ ضبط کی وجہ سے سرخ پڑچکا تھا۔۔۔ ہونٹوں کو اندر کیے اس نے اپنے درد پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔ اور پھر ایک نگاہ بیڈ کی پائنتی پکڑ کر کھڑے، اچھل اچھل کر حائقہ کی ٹانگ کو حیرانگی سے دیکھتے ڈھیٹ آدم جبران پر ڈالی تھی جو زخم کا معائنہ یوں کررہا تھا جیسے یہ کسی اور کی کارستانی ہو۔
فرسٹ ایڈ کٹ کھولے اس نے ٹانگ پر اینٹی سیپٹک ملے وہاں پٹی کی تھی۔
“آں!۔۔۔تمہیں اب آرام کرنا چاہیے۔۔۔” گردن کا پچھلا حصہ کھجائے جبران بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
حائقہ کی کاٹ دار نگاہوں پر وہ مزید شرمندہ ہوا تھا۔ ساتھ ہی موبائل نکالے ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔
“ذولقرنین سے ایکسکیوز کرلیتا ہوں میں۔۔۔ آج نہیں جا پائے گے ہم!” وہ بولا تھا۔
“نہیں!۔۔۔” حائقہ ایک دم چلائی۔
جبران نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
“اب اتنی بھی گہری چوٹ نہیں ہے کہ میں جا نہ پاؤں۔۔۔ بس اپنے اس ڈیڑھ فٹیاں بچے کو مجھ سے دور رکھنا!” اس نے گھور کر آدم کو دیکھا جس نے یوں آنکھیں پٹپٹائی جیسے اس سے معصوم کوئی اور دوسرا بچہ نہیں اس دنیا میں۔
اور ویسے بھی اتنے معمولی زخم کی بنا پر وہ ذولقرنین کو جلانے کا، یہ دیکھانے کا کہ وہ زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے۔۔۔ اتنا سنہری موقع وہ ہرگز ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتی تھی۔
“آر یو شیور۔۔۔ یہ زخم اتنا بھی معمولی نہیں ہے۔۔۔” جبران کے سوال پر اس کا سر تیزی سے اثبات میں ہلا تھا۔
“اوکے!” شانے اچکائے وہ آدم کو اپنے کندھے پر لادے کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔
آدم کے لاکھ احتجاج پر بھی جبران نے اسے نہ چھوڑا تھا۔
“دیکھ میرے پتر تو بھلے اپنی کچھار کا شیر کا ہے مگر وہ محترمہ پورے علاقے کی ببرشیرنی ہے۔۔۔ پنگے نہ لے اس سے۔۔۔ پہلی بار میں ہی چاروں شانے چت کردے گی تجھے۔۔۔ پھر میرے پاس مت آنا!” جبران کے الفاظ آدم کو اپنی توہین لگے تھے۔
اس کی کہی بات پسند نہ آنے پر وہ ایک زوردار مکا جبران کی آنکھ پر جڑچکا تھا۔
جس گھر میں کچھ دیر پہلے حائقہ کی چیخ گونجی تھی اب وہی جبران کی چیخ بھی گونج اٹھی تھی۔
ان سب سے بےنیازآدم جبران مزے سے اس کی گود سے نیچے اترے دوبارہ حائقہ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ اپنی دوسری سلامت آنکھ سے جبران نے اپنے شیر کی پھرتیاں دیکھی تھی جسے ابھی چلنا نہیں آتا تھا مگر وہ رینگنے میں ماہر تھا۔
دھاڑ سے دروازہ کھولے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔۔ آنکھیں بند کیے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی حائقہ کی جھٹ آنکھیں کھلی تھی۔
دروازے پر موجود اس ڈیڑھ فٹیاں بلا کو دیکھ کر حائقہ کی آنکھیں خوف سے پھیلی تھیں۔
“تت۔۔۔تم ۔۔۔ تم یہاں کیا کررہے ہو؟۔۔۔ یہاں۔۔۔آنے کس نے دیا تمہیں؟۔۔۔ دد۔۔دیکھو میرے قریب آنے،آنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ جانتے نہیں ہو تم مجھے۔۔۔۔ جبران!۔۔۔جبران!۔۔۔ کہاں مرگئے ہو؟” اپنی طرف بڑھتے آدم کو انگلی دکھائے اس نے جبران کو آواز لگائی تھی۔
اس کی حالت سے بےنیاز وہ مزے سے بیڈ پر چڑھتا اس کے پاؤں کے قریب آ بیٹھا تھا۔
اپنا دایاں ہاتھ آگے کیے اس نے آہستہ سے حائقہ کا ٹراؤزر اوپر کیا اور پٹی بندھی جگہ کو غور سے دیکھے وہاں منہ کھول کر لب رکھ چکا تھا۔
جبران کو پکارنے کو لب کھولے حائقہ کو زوردار جھٹکا لگا تھا، حیرانگی سے اس نے اپنی ٹانگ کی جانب دیکھا جہاں وہ چھوٹا فتنہ بیٹھا اپنے چھوٹے سے ہاتھ سے نہ صرف پٹی کو سہلا رہا تھا بلکہ بار بار اس پر منہ کھولے ہونٹ بھی رکھ رہا تھا جس نے تھوک پٹی کو لگ چکا تھا مگر حائقہ کو اس کی پرواہ کہاں تھی؟
اس کے لیے تو وقت ایک لمحے کو رک چکا تھا۔۔۔ آنکھوں میں انجان جذبات لیے اس نے آدم کو دیکھا جس کے ننھے ماتھے پر دو تین بل آگئے تھے۔۔۔ چہرے پر جیسے پریشانی تھی۔ حائقہ کے گلےمیں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
اس کی ٹٹکی جبران کے آنے پر ٹوٹی، جس نے آگے بڑھ کر آدم کو ایک جھٹکے سے اپنی گود میں لیا تھا۔۔۔ آنکھوں میں خوف اور چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے اس نے معافی کن نگاہوں سے حائقہ کو دیکھا۔۔۔ اچانک جبران کے آنے پر حائقہ کا سحر بھی ٹوٹا تھا گلا کھنکھارے وہ منہ موڑ چکی تھی۔
“ابے چل یہاں سے۔۔۔” پھر سے مچلتے آدم کو گھرکے جبران وہاں سے لے جا چکا تھا۔
حائقہ کی آنکھوں میں یکدم نمی در آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہیلو؟ ہاں یار کب تک پہنچو گے؟” وال کلاک پر نگاہ ڈالے ذولقرنین نے سوال کیا تھا۔
“بس یار میسم بچوں کو لے جائے تو نکلتے ہیں ہم!” پورچ میں گاڑی کے پاس کھڑے جبران نے جواب دیا تھا۔
“کیا مطلب بچوں کو نہیں لاؤ گے؟۔۔۔اپنی وائف کی وجہ سے؟” ذولقرنین کا ماتھا ٹھنکا۔
“ارے نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ بس بچے کسی انجان کے گھر ایڈجسٹ نہیں ہو پاتے۔۔۔ تنگ کرتے ہیں خاص طور پر آدم۔۔۔ تو اس سے اچھا انہیں نہ ہی لاؤں!” جبران نے وضاحت پیش کی تھی۔
“اوہ۔۔۔”
“اچھا میسم آگیا ہے ۔۔۔ میں بھی جیسے ہی نکلوں گا تجھے انفارم کردوں گا!” میسم کی گاڑی کو دیکھ کر جبران نے کال کاٹی تھی۔
بچوں کا بیگ اور دونوں بچے اس کے حوالے کیے وہ اب حائقہ کے انتظار میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔
“اففف اب آبھی جاؤ!” وہ خود سے بڑبڑایا۔
ہیل کی ٹک ٹک پر جھکا سر اٹھایا تو جیسے خود کو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔ نیوی بلو ساڑھی کے ساتھ سموکی آئیز اور لال لپ سٹک لگائے وہ ایک ادا، ایک نزاکت سے اس کی طرف چلتی آرہی تھی۔
سر جھٹکے جبران نے خود کو ہوش دلایا تو سمجھ آئی وہ نزاکت نہیں بلکہ آدم کا دیا تحفہ تھا جس کی بنا پر وہ چھوٹے قدم اٹھاتی اس کی جانب چلی آرہی تھی۔
آگے بڑھ کر جبران نے اسے سہارا دیے گاڑی میں بٹھایا تھا۔
پورے راستے گاڑی درائیو کیے وہ گاہے بگاہے اس پر بھی نگاہ ڈالے جارہا تھا جو اپنے موبائل میں گم تھی۔
“کیا مسئلہ ہے مسلسل گھورے جارہے ہو؟” سنگل پر گاڑی رکی تو وہ آخر کار پوچھ ہی چکی تھی۔
“تم۔۔۔ تم کافی مختلف لگ رہی ہو!” گلا کھنکھارے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی جبران نے
“میک اپ!” اس نے کندھے اچکائے۔
“تم بھی کافی مختلف لگ رہے ہو!” کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔
“اچھا؟۔۔ کیسے؟” جبران نے حیرت سے سوال کیا۔
“ایسے!” اس کے آنکھ کے ارد گرد موجود ہلکے پرپل رنگ کی چوٹ پر انگلی رکھی تھی حائقہ نے جس پر جبران کی سی نکلی تھی۔
“ہاں وہ یہ۔۔۔” آدم کی اس سوغات پر وہ شرمندہ ہوا۔
“کم ہیئر!”
“ہوں؟”
جبران کے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے وہ پرس سے کمپیکٹ پاؤڈر نکال کر اس کے آنکھ کے قریب موجود نشان کو ڈھک چکی تھی۔
اس کی اتنی نزدیکی پر ناولٹک ہیروئینز کی طرح جبران کا دل دھڑک اٹھا۔
اچھے سے نشان چھپائے وہ پیچھے کو ہوچکی تھی، کب سے رکی سانس جبران نے بحال کی۔
گاڑی کے شیشے پر ہوتی دستک پر جبران نے ایک آٹھ سال کے بچے کو ہاتھ میں گجرے تھامے پایا۔
“صاب گجرے لے لو نا۔۔۔ دو لے لو۔۔۔ ” جبران نے والٹ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
“مت لینا میں نہیں پہنتی۔۔۔” حائقہ نے ایک نگاہ اس پر ڈالے ناک چڑھائے جواب دیا تھا۔
باہر کھڑے بچے کا چہرہ اتر گیا تھا۔
اس کی کہی ان سنی کرتے جبران دو گجرے خرید چکا تھا۔
حائقہ کی دونوں کلائیاں تھامے وہ پہنا چکا تھا۔
“ارے یہ کیا حرکت ہے؟۔۔۔ بولا نا نہیں پسند!”
“مگر مجھے تو پسند ہے۔۔۔ اور تمہیں اپنی پسند میں سجا دیکھنا، اتنا حق تو بنتا ہے نا میرا؟” مسکرا کر بولتا وہ سگنل کھلتے ہی گاڑی نکال چکا تھا۔ حائقہکی گھوری کو اس نے مکمل طور پر نظرانداز کیا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں کیک لیے وہ دونوں ذولقرنین کے گھر کے باہر موجود تھے۔۔۔ چھ سال بعد اسی دہلیز پر قدم رکھنا حائقہ کے لیے آسان نہ تھا۔۔۔ نجانے کتنی بار اس نے اپنا آپ مارا تھا۔۔۔ خود کو تسلیاں دی تھی۔۔۔ تیار کیا تھا۔
ان کا ویلکم ذولقرنین کی بیوی نے کیا تھا۔
ذولقرنین کے ماں باپ گھر پر موجود نہیں تھے۔۔۔
ذولقرنین کی نگاہیں سب سے پہلے حائقہ کے ہاتھ میں موجود گجروں اور سونے کے برسلیٹ پر پڑی تھی۔
سب سے پہلا جھٹکا ذولقرنین کو لگ چکا تھا۔۔۔ یکدم وہ ماضی میں چلا گیا تھا۔
“تم گجرے کیوں نہیں پہنتی؟” ذولقرنین نے حائقہ سے سوال کیا تھا۔
“پلیز نین مجھے نہیں پسند یہ گجرے وجرے۔۔۔” حائقہ نے چڑ کر جواب دیا تھا۔
“اوکے ایز یوں وش!” ذولقرنین نے کندھے اچکائے تھے۔
سلام دعا کے بعد وہ چاروں ڈائنگ روم میں بیٹھے تھے۔۔۔ ذولقرنین حائقہ کے بالکل سامنے نشست سنبھال چکا تھا۔
“رامش کہاں ہے؟” جبران نے اس کے بیٹے کے حوالے سے سوال کیا تھا۔
“وہ اپنے ماموں کی طرف ہے۔۔۔ اچانک سب بچوں کا پلان بنا پلےلینڈ کا تو اس کی ماں نے اسے بھیج دیا۔۔۔ مجھ سے تو پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا!” جواب دیے اس نے حائقہ پر ترچھی نگاہ ڈالی جو ہاں ناں میں اس کی بیوی کو جواب دے رہی تھی۔
“صاحب کھانا لگ گیا ہے!” میڈ کی پکار پر وہ سب آگے بڑھے تھے۔
“آپ کی وائف ٹھیک ہے؟” ذولقرنین کی بیوی نے حائقہ کو دیکھ کر جبران سے سوال کیا تھا۔
“ہاں وہ بس ہلکی سی موچ آگئی تھی۔۔۔” جبران حائقہ کے کچھ بھی بولنے سے پہلے بول اٹھا اور آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا تھا۔۔
ذولقرنین کو جلانے کو وہ جبران کے کندھے پر سر رکھ چکی تھی۔
“زیادہ تکلیف ہورہی ہے؟” جبران نے تشویش سے سوال کیا۔
“نہیں اتنی نہیں۔۔۔” حائقہ نے مسکرا کر مدھم لہجے میں جواب دیا تھا۔
“یہ دونوں ساتھ میں کتنے اچھے لگتے ہیں نا؟۔۔۔ سچ آ میڈ فار ایچ ادر کپل۔۔۔۔” ذولقرنین نے اپنی بیوی پر نگاہ ڈالے پھر اپنے آگے چلتے کپل کو دیکھا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں میں غصہ در آیا تھا۔
کھانے کی میز پر ادھر ادھر کی باتیں کیے وہ لوگ اب بچوں پر آگئے تھے۔
“یار یہ بچے بھی نا کسی افلاطون سے کم نہیں۔۔۔ اب ہمارے رامش کو ہی دیکھ لو۔۔۔ ایک ہی ہے مگر دن میں تارے دیکھا دے گا۔۔۔”
“یار سیریسلی میرے دونوں بھی کچھ کم نہیں۔۔۔” جبران نے بھی ہنس کر حصہ ڈالا۔
“بس یار یہ تو ماؤں کا کام ہے۔۔۔ جب مائیں ہی تربیت اچھی نہ دے تو اولاد تو ایسی ہوجاتی ہے۔۔۔میرے تو اپنے گھر میں یہ سب چل رہا ہے۔۔۔ رامش میری ایک نہیں سنتا۔۔۔ انتہائی ضدی ہوگیا ہے۔۔۔ اور تو اور بدتمیز بھی۔۔۔” ذولقرنین کے کڑوے لہجے پر اس کی بیوی شرم سے سر جھکا گئی تھی۔
“مگر ہمارے بچے ایسے نہیں ہیں۔۔۔ کیوں جبران ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟۔۔۔۔ شرارتی ہے مگر بدتمیز اور بداخلاق نہیں۔۔۔ اور بچے بدتمیز ماں کی تربیت کی وجہ سے نہیں بلکہ گھر کے ماحول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔۔۔۔ اور ہمارے گھر کا ماحول تو اتنا فرینڈلی اور خوش اخلاق ہے۔۔۔ بچوں کے بدتمیز ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ کیوں جبران؟” جبران کی جانب دیکھ کر حائقہ نے سوال کیا تھا۔
“ہاں۔۔۔”
“شائد آپ یہ بات کرٹسی میں کہہ رہی ہے کیونکہ آپ کے اپنے نہیں سوتیلے ہیں!۔۔۔ اپنے بچے ایسے ہو تو کوئی بھی ماں باپ برداشت نہیں کرتے۔۔۔” ذولقرنین کی زبان نے پھر سے زہر اگلا تھا۔
“ذولقرنین۔۔۔۔” اس کی بیوی نے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا تھا۔
“بچیں ماں سے زیادہ باپ کا عکس ہوتے ہیں۔۔۔ وہ ماں کی کوکھ سے پیدا ضرور ہوتے ہیں مگر ان کی رگوں میں خون باپ کا ہوتا ہے۔۔۔ اتنا ان پر ماں کی طبیعت اثر نہیں کرتی جتنا باپ کی فطرت اور حرکتیں۔۔۔” چاؤمین کھائے حائقہ نے جواب دیا۔
“مطلب کیا ہے اس بات کا؟” ذولقرنین بھڑکا۔
“یہی کہ اپنی بیوی کی تربیت یا کسی دوسرے کی بیوی کی نیت پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنا جائزہ لے لے۔۔۔ ہوسکتا ہے ڈیفالٹ آپ میں ہو!” حائقہ نے مزے سے کندھے اچکائے تھے۔
“حائقہ سٹاپ اٹ!” جبران زبردستی مسکرا کر بولا تھا۔
“اوکے جان!” اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے حائقہ نے بھی مسکرا کر جواب دیا تھا۔
ان دونوں کو ایک دوسرے کی جانب مسکراتے دیکھ ذولقرنین کے تن بدن میں مزید آگ بھڑکی تھی۔
اس نے حائقہ کے پیچھے کھڑی میڈ کو آنکھوں سے اشارہ کیا تھا جو اشارہ ملتے ہی تیزی سے ڈائنگ ٹیبل کی جانب آئی اور خالی جگ اٹھانے کے بہانے جوس حائقہ کی ساڑھی پر گراچکی تھی۔
“ڈیم اِٹ!” وہ یکدم اپنی جگہ سے اٹھی۔
“سس۔۔۔سوری میم۔۔۔۔ وہ، وہ غلطی سے ہوگیا ۔۔۔۔” میڈ گھبرا کر تیزی سے بولی تھی۔
“اٹس اوکے۔۔۔ آپ جائے یہاں سے۔۔۔” جبران کے بولنے پر وہ فوراً وہاں سے غائب ہوئی تھی۔
“آپ۔۔۔آپ آئے میں آپ کو واشروم دکھا دوں۔۔۔”
“نہیں میں جانتی ہوں۔۔۔۔” ذولقرنین کی بیوی کے کہنے پر حائقہ نے جواب دیا مگر ساتھ ہی زبان کو بریک لگی تھی۔
“جی؟” اس نے ناسمجھی سے حائقہ کو دیکھا۔
“آئی مین شیور!” حائقہ نے اسے اشارہ کیا۔
حائقہ کو اپنے ساتھ لیے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
“آپ آرام سے جتنا چاہے اتنا ٹائم لے۔۔۔ ہمارا روم ہے یہ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی تھی۔
حائقہ کی نگاہوں نے اس کا کمرے کا جائزہ لیا جو کبھی اس کا ہوا کرتا تھا۔۔۔ بالکونی پر پڑتی نگاہ اور وہاں موجود اسے جھولے کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی در آئی۔
اچھی بری تمام یادیں اکٹھے اس پر حملہ آور ہوئی تھیں۔
“نین سنو نا میری۔۔۔” لیپ ٹاپ پر بزی ذولقرنین کا اس نے زور سے بازو ہلایا تھا۔
“ہاں یار بولو؟” اس نے مسکرا کر حائقہ کو دیکھا۔
“میں نے سوچا ہے کہ ہماری بالکونی کے لیے ہم ایک جھولا لے۔۔۔ کیسا آئیڈیا؟” اس نے چہک کر سوال کیا۔
“آئیڈیا کی کیا بات ہے آپ تو حکم کرے جناب۔۔۔ خادم حاضر ہے ہر خواہش پوری کرنے کو۔۔۔” ذولقرنین نے دل پر ہاتھ رکھے جواب دیا تھا۔
حائقہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
“حائقہ۔۔۔ حائقہ؟”
“ہوں؟” وہ چونک کر ہوش میں آئی۔
“میں کب سے بلا رہی ہوں۔۔۔ آر یو فائن؟”
“ہاں وہ بس۔۔۔ واشروم؟” حائقہ نے سوال کیا۔
“اس طرف!” واشروم کی جانب اشارہ کیا تھا اس نے۔
حائقہ سر ہلائے واشروم میں جاچکی تھی۔
“ارے آپ دونوں کہی جارہے ہیں؟” اس نے ٹیبل پر آکر ذولقرنین اور جبران سے سوال کیا۔
“ہاں ہم دونوں ٹیرس پر جارہے ہیں تھوڑی دیر کے لیے۔۔۔ تم یہاں سے سب کلئیر کروا دو۔۔۔ اور ہم دونوں کے لیے کافی بھیجوا دینا۔۔۔” ذولقرنین کے تحکمانہ لہجے پر اس نے سر ہلایا۔
“حائقہ؟” جبران نے سوال کیا تھا۔
“شی از سٹل ان واشروم!”
“اوہ اوکے!” جبران نے سر ہلایا۔
“ہمارے روم کے واشروم میں؟” ذولقرنین نے دھیمے لہجے میں اپنی بیوی کے کان میں سوال کیا جس پر اس بےخبر نے سر اثبات میں ہلایا۔
ذولقرنین کے لبوں پر مسکراہٹ مچلی جسے وہ مہارت سے چھپا گیا تھا۔
جبران اور ذولقرنین سیڑھیوں کی جانب چل دیے تھے۔۔
“جبران ویٹ آ منٹ۔۔۔ یہاں آ!”
“یہاں کیوں؟ ہم تو ٹیرس پر جارہے ہیں نا؟” جبران ذولقرنین کے اشارے پر حیران ہوا۔
“ہاں بھئی ٹیرس پر ہی جارہے ہیں۔۔۔ لیکن تجھے کچھ دکھانا ہے مجھے۔۔۔” ذولقرنین کے جواب پر وہ سر ہلائے اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوا۔
“کیا دکھانا ہے؟”
“کچھ خاص نہیں وہ بس بچوں کے لیے کچھ گفٹس لیے تھے۔۔۔ وہی دینے تھے تمہیں۔۔۔” ذولقرنین مسکرا کر بولا۔
“ابے یار۔۔۔ یہ کیا۔۔۔لگتا ہے تمہاری بھابھی نے ہمارے روم میں رکھ دیے ہیں۔۔۔ تو ویٹ کر میں لے کر آرہا ہوں!” ذولقرنین نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔
“ارے مگر اس کی ضرورت نہیں!” جبران نے ماتھے پر بل ڈالے جواب دیا۔
“میں کچھ نہیں سن رہا۔۔۔” ذولقرنین بولتا اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔
جبران نے سر جھٹکے کمرے کا جائزہ لیا اور ذولقرنین کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
یونہی نگاہیں گھمائے اس کی نگاہ بیڈ کی سائڈ ٹیبل پرموجود الٹے فوٹو فریم پر جا ٹکی، آگے بڑھ کر جبران نے اسے فوٹو فریم کو سیدھا کیا جب ایک گہرہ جھٹکا لگنے سے فریم ہاتھ سے زمین پر گر کر چکنا چور ہوگیا تھا۔
وہ شادی کی تصویر تھی۔
ذولقرنین اور حائقہ جبران کی شادی کی تصویر۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔