No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
صبح یشار کی آنکھ کھلی توطبیعت بوجھل ہی تھی.. رات گئے تک وہ خود سے خفا خفا پھرتا رہا کل جو اس پر بیت گئی تھی وہ کبھی نہیں ہوا تھا اس کے ساتھ اسی لئے بے چین سا تھا..اپنے کام پر بھی کانسٹریٹ نہیں کر پا رہا تھا.
رزم بھی نوٹ کررہا تھا… پر خاموش تھا.. اسے پتہ تھا اسے وقفے وقفے سے تاشی نامی دورے پڑتے رہتے تھے.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
حرا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی.دن کے تین بج رہے تھے وہ لنچ بھی نہیں بنا پائی تھی. قیصر تو دو دن پہلے ہی چلے گئے تھے دبئی بزنس کے سلسلے میں .
اس نے فون اٹھایا اور زری کا نمبر ملایا…یہ سوچ کر کے وہ کالج سے آ کر فری ہوگی.. ویسے بھی وہ کچھ دیر تک بچوں کو پڑھانے آنے والی تھی.
جی میری ینگ سی چچی کیا حکم ہے.. سلام دعا کے بعد زری چہکی..
زری بیٹا. میری طبیعت خراب ہے یار.. پلیز آ جاؤ.. مہمان بھی آئے ہیں میں تو لنچ بھی نہیں بنا سکی.. ماہ رخ کو بھی لے آنا.. حرا کے بوجھل لہجے میں لجاجت تھی
ہم ابھی آئے… آپ فکر ناں کریں چچی جان …
یہ کہہ کر زری نے فون رکھا..
ماہی چچی کی طبیعت ٹھیک نہیں کھانا بھی بنانا ہے.. منال آپی تو جائیں گی نہیں.. ہم جا کر ہیلپ کروا دیتے ہیں پھر بچوں کو پڑھا کر واپس آ جائیں گے. زری نے بال سمیٹتے پونی ٹیل بنائی.. حلیہ دیکھا تو ٹھیک ہی تھا.. ہاف وائٹ فراک کے نیچے پاجامہ.. اوپر جلدی سے وائٹ اور شاکنگ حجاب اوڑھا..ماہی بھی تقریباً سیم حلیے میں تھی پر اس کے ڈریس کا کلر فیروزی تھا.زری لینز جو لگاتی تھی تو بچوں کو پڑھا کر آ کر ہی اتارتی تھی.
تم تیار ہو جاؤ میں مما کو بول دوں.. یہ کہہ کر وہ اوپر اپنے کمرے میں سے نکلی اور سیڑھیاں اتر کر نیچے نازیہ بیگم کہ پاس آئی..
ٹھیک ہے جاؤ… اپنا اور حرا کا خیال رکھنا.. نازیہ نے ان دونوں کا ماتھا چوما..
وہ باہر نکلنے لگیں تو نوال جو کہ ان کے پیچھے تھی بازو اوپر پھیلائے دھاڑیں مار مار کر رونے لگی. زری نے چونک کر پیچھے دیکھا..
او میری گڑیا رانی… آنی کے ساتھ جانا ہے.. چلو.. ہم نہیں چھوڑ کر جائیں گے تمھیں… اس نے نوال کے آنسو صاف کیے.. تیار تو وہ بھی تھی.. بے بی پنک فراک کے نیچے گھنٹوں تک سکرٹ پہنے وہ بلکل گڑیا لگ رہی تھی.
منال آپی… ہم نوال بے بی کو ساتھ لے جا رہے ہیں.. یہ رو رہی ہے ساتھ جانے کے لیے..
ٹھیک ہے زری لے جاؤ.. منال نے کچن سے جھانک کر کہا.
وہ باہر نکلیں… بہت تیز ہوا چل رہی تھی…. مٹی.. تنکے زرات ہوا کے ساتھ اڑ رہے تھے..
وہ قیصرمنزل پہنچیں…. تو سیدھا لاؤنج میں آ گئیں. حرا بھی وہیں صوفے پر نڈھال سی بیٹھی تھی.. .. زری کی آنکھیں لال انگارہ ہو چکی تھیں.. لینز والی آنکھوں میں شاید مٹی یا کوئی تنکا چلا گیا تھا روانی سے پانی بہہ رہا تھا
زری یہ کیا ہوا ہے…
شاید تنکا چلا گیا ہے..
فوراً لینز ریموو کرو… اور پانی کے چھینٹے مارو جا کر.. میں تو اس وقت کو ہی کوس رہی ہوں جب تمھیں یہ نایاب مشورہ دیا تھا میں نے.. ماہی پریشان ہوئی.حرا بھی فکر مند ہوئی…
ہم کچن میں جا رہے ہیں.. فریش ہو کر کچھ دیر اندر کمرے میں بیٹھو.. جب آنکھیں اسٹیبل ہوں جائیں تو آ جانا کچن میں… چلو شاباش.. حرا نے اسے واش روم روانہ کیا.
اور خود کچن میں چلی گئیں.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
آج پھر یشار کی بے چینی حد سے سوا تھی.. ہر ممکن کوشش کر رہا تھا تاشی کو ڈھونڈنے کی.پنجاب کے باقی شہروں میں بھی ڈھونڈ رہا تھا پر جب سے بابا جی سے ملاقات ہوئی تھی صرف لاہور میں ہی دوبارہ کوشش شروع کر دی تھی..
رزم ان گلیوں کا راؤنڈ لگانے گیا تھا تاکہ سعید کا پتہ چل سکے..
اس کا لاشعور کسی کا بے چینی سے منتظر تھا…جب دم سا گھٹنے لگا تو لیپ ٹاپ لئے لاؤنج سے نیچے آیا.. کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آئیں تو لاؤنج سے ملحقہ دو کمروں میں سے ایک میں چلا گیا..ملگجہ سا اندھیرا تھا.. جبکہ ساتھ والا روم میں دو تین انرجی سیورز کے آن ہونے سے بہت تیز روشنی تھی. صوفے پر بیٹھا.. سامنے کھڑکی میں سے گیٹ کا منظر واضح دکھائی دے رہا تھا.اور بائیں جانب سے دوسرا کمرہ تھا جس کے گلاس ڈور سے کمرے کا پورا منظر دکھ رہا تھا…
ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھا…ابھی کام شروع کرنے والا تھا کہ فون رنگ ہو.
فرید کی کال تھی.. جس کامطلب کال اہم تھی. اس نے فون یس کر کے کان کو لگایا
یس.. فرید… بولو
سر ایک گڈ نیوز ہے آپ کے لیے… فرید کے لہجے میں جوش تھا..
یشار چونکا….. کیا؟
سر ابھی کچھ دن پہلے یہاں ایک گورنمنٹ سکول میں عابد حسین صاحب نے اپنی ڈیوٹی جوائن کی ہے.. اور زرتاشہ عابد میم کا میڈکل کالج میں ایڈمیشن ہوا ہے.. ریکارڈز بتا رہے ہیں..
یشار کی روح تک میں سکون اترا.. آنکھیں موند کر صوفے سے ٹیک لگائی..
تھینک یو سو مچ… فرید مجھے اتنی اچھی نیوز سنانے کے لئے.
آگے کیا حکم ہے سر..
دونوں ریکارڈز میں سے ایڈریس دیکھو.. اگر میچ کرتے ہیں تو فوراً مجھے سینڈ کرو تمھارے پاس پانچ منٹ ہیں اور اس سے زیادہ میں پیشنس نہیں رکھ سکتا..
اوکے سر.. سمجھیں ہو گیا… فرید نے فون رکھا.. اب یہ پانچ منٹ بھی اس کے لئے پل صراط پہ سے گزرنے کے مترادف تھے…
اٹھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرتا… ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا… اچانک مڑا تو سامنے کمرے میں وہ منظر دکھائی دیا کہ دونوں جہان اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے.
زری نے لینز ریموو کیے اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے آنکھوں میں مار مار کر بے حال ہو گئی پر جلن تھی کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی…
افففف. میرے بابا کی توبہ جو پھر کبھی یہ خرافات پالی میں نے تو.وہ سخت جھنجھنلائی ہوئی تھی . آخر کافی کھپنے کہ بعد جلن کم ہوئی اور آنکھوں کی سرخی بھی کم ہوئی… تو زرا سکون ملا.. وہ دوپٹے سے چہرہ تھپتھپاتی باہر نکلی حجاب اور دوپٹہ صوفے پر رکھا اور گلاس ڈور کے قریب بائیں جانب نصب خوبصورت آئینے کی طرف بڑھی..
یشار اندھیرے کمرے میں بے تحاشا حیرت سے سامنے گلاس ڈور کے اس طرف قیامت خیز منظر دیکھ رہا تھا.. دوپٹے سے چہرہ تھپتھپاتی وہ باہر نکل تھی.. پھر جب نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو
وقت
لمحے
یہاں تک کے صدیاں ٹھہر گئی تھی.. وہ ان گرے آنکھوں کو غور سے دیکھ رہا تھا… پھر وہ گلاس ڈور کے قریب آئی.. تو وہ بھی اندھیرے میں چند قدم آگے گیا.. وہ اس کے بلکل سامنے ایسے کھڑی تھی کہ اس کی بائیں سائیڈ یشار کے سامنے تھی
چہرے کے ساتھ بال بھی گیلے ہو گئے تھے..کہ جب اس نے اپنےبے حد لمبے گھنے براؤن بال بائیں جانب سے سمیٹ کر دائیں طرف گرائے..اور ان میں انگلیوں سے برش کرنے لگی
یشار کی نظر اس کی گردن پر پڑی تھی تب اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ سی محسوس ہوئی.
اس کی آنکھوں کے بلکل سامنے وہ تل پوری آب و تاب سے اس کی صراحی دار گردن پر جگمگا رہا تھا جسے بچپن میں سینکڑوں بار اس نے اپنی انگلی سے چھو کر دیکھا تھا.
تاشی…. یشار کے لب کپکپائے… وہ اب بالوں کی پونی ٹیل کر رہی تھی.
وہ دوپٹے کے بغیر اپنی تمام تر نزاکتوں اور رعنائیوں سمیت کھڑی تھی..
مگر یشار کی نظر نے کوئی گستاخی نہیں کی تھی.. اس کی نظر تو بس اپنی تاشی کی گرے آنکھوں اور اس قاتل تل میں الجھی ہوئی تھیں…
زری گھبرائی… جیسے خود کو کسی کی سلگتی پر حدت نگاہوں کے حصار میں محسوس کیا…
مگر خود کے ڈرپوک طبیعت کو دل میں کوسا… وہاں تو کوئی نہیں تھا…
یشار نے اسے گھبراتے دیکھا تو ہونٹوں پر دلفریب سی مسکان سجی…
اسے دیکھتے رہنے کی خواہش رگوں میں خون بن کر دوڑی.
سویا تھا رگ رگ میں اب یہ جگ گیا…
لہو منہ لگ گیا……….
میری جان… مجھے اپنے آس پاس محسوس کرو..
یشار کو اپنے دل پر بھی ٹوٹ کر پیار آیا.. وہ تو کل کا ہی ہمک ہمک کر بول رہا تھا اسے دیکھو پہچانو..
وہ یہ کیسے بھول گیا کہ وہ کشش اور اٹریکشن جو اس نے کل محسوس کی وہ دنیا میں تاشی کے وجود کے علاوہ اسے کسی میں بھی محسوس نہیں ہو سکتی..
اس کی روح نے اسے محسوس کر لیا تھا.. مگر اتنا ٹینس تھا کہ دل کی سنی ہی نہیں.
اتنا ٹینس کہ کل لان میں کھڑا ہو کر حرا سے ہی ڈیٹیل پوچھ لیتا.
زری…….. میری زرتاشہ…. میری تاشی..
وہ حجاب اور دوپٹہ اٹھا کر جا چکی تھی..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
کچن میں آئی تو ماہی نے چکن پلاؤ دم پر لگائی ہوئی تھی.. اب سلاد بنا رہی تھی. حرا ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھی تھیں اور نوال پاس ہی کھیل رہی تھی
لاؤ میں رائتہ بنا لوں.. زری آگے بڑھی.
اب ٹھیک ہو…..
ہاں میں ٹھیک ہوں….
زری نے رائتہ بنایا…..تو انھوں نے کھانا ٹیبل پر لگا دیا
آپ اور آپ کے مہمان کھانا کھائیں.. ہم بچوں کو دیکھ لیں.. انھوں نے لنچ باکس میں سے کھا لیا ہوگا.
ارے تم لوگ تو کھاؤ. حرا نے اصرار کیا..
ہم نے تو کالج سے آ کر کھا لیا تھا چچی… آپ لوگ کھائیں.. وہ دونوں نوال کو لئے لان میں آ گئیں…
یشار کچن میں آیا… نظریں پیاسی اور متلاشی سی تھیں.
ٹیبل پر بیٹھا اور کھانا پلیٹ میں نکالا..
پھپھو جو بچوں کو لڑکی پڑھا رہی ہے.. وہ کون ہے..ڈیٹیلز بتائیں مصروف سا انداز تھا
کل بتا تو رہی تھی تم نے سنا ہی نہیں… حرا نے شکوہ کیا. اور پلیز ہر کسی پہ شک کرنا بند کرو.. وہ قیصر کے بھائی کی بیٹی ہے
مجھے ضروری میسج آ گیا تھا… اب بتا دیں.. فادر کا نام کیا ہے.
عابد حسین. نام ہے بھائی صاحب کا… وہ محبت سے بولیں..
اور لڑکی کا نام؟
زری ہے بتایا تو تھا… ارے میں بھی کتنی پاگل ہوں نک نیم بتا رہی ہوں.. زرتاشہ عابد نام ہے.. اس کے بابا گورنمنٹ سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے.. پھر ان کا ٹرانسفر یہاں سے کافی دور ہو گیا تھا.. اب پھر قیصر نے کوششیں کر کے ان کا ٹرانسفر یہاں کروایا ہے.جو اس کے ساتھ ہے وہ اس کی بہن ہے.. حرا نے تفصیل بتائی.اور نوال کی بات گول کر دی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اداس ہو.
وہ بظاہر خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا.
مگر اس کے دل میں کیسے کیسے طوفان اٹھ رہے تھے… یہ وہی جانتا تھا..
رزم کدھر ہے؟ حرا نے پوچھا..
پہنچنے والا ہے… ابھی وہ بات کر رہے تھے کہ رزم چلا آیا..
لو آ گیا…
رزم نے جوائن کیا.. اور کھانا کھانے لگا. اس نے حیرت سے یشار کو دیکھا جس کے چہرے پر پرسکون سی مسکراہٹ تھی.
یہ راوی اتنا چین کیوں لکھ رہا تھا…..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
وہ بے چین سی پڑھاتے ہوئے پہلو بدل رہی تھی اور ماتھا مسل رہی تھی.. مسلسل یوں لگ رہا تھا کہ کسی کی نظر کے حصار میں ہے… مگر جب چاروں طرف دیکھتی، کوئی نہیں ہوتا تو خود کو کوس رہی تھی…
پھر جیسے تیسے ان کی پڑھائی ختم ہوئی تو اس نے سکھ کا سانس لیا… نظر اوپر اٹھی تو گلاس وال کے پاس کوئی ہیولا سا نظر آیا مگر اگلی نظر میں وہاں کچھ نہیں تھا.
اس نے کنپٹیاں سہلائیں…
حرا بھی ان کے پاس کھلی ہوا میں چلی آئی تھی.
چلیں.. زری نے مڑ کر… ماہ رخ کو کہا.
نوال… آپ کی سینڈل کدھر ہیں….
اندل……. اندل… وہ توتلی زبان میں بولتی اندر کی جانب بھاگی…
ارے آہستہ ڈول گر جاؤ گی……. ماہ رخ اس کے پیچھے لپکی..
وہ لاؤنج میں بھاگ بھاگ کر اپنی سینڈل ڈھونڈ رہی تھی. جب ماہی لاؤنج کے دروازے میں داخل ہوئی. اتنے میں ہی نوال دوڑتی ہوئی کسی کے چٹانی سے پاؤں سے ٹکرا کر گری..
رزم جو کچن میں فون بھول گیا تھا.. اٹھانے آ ہی رہا تھا جب اس کے پاؤں کے سامنے اچانک بچی آئی اور الجھ کر گر پڑی.
ماہی غصے سے جھنجھناتی تڑپ کر آگے بڑھی…
اے مسٹر… اندھے ہو کیا نظر نہیں آتا.. کونسی ہواؤں میں ہو جو بچی نظر نہیں آئی
حالانکہ اس میں رزم کی کوئی غلطی نہیں تھی… نوال خود بھاگ کر اس کے سامنے آئی تھی.. مگر ماہی طیش میں اس پر الٹ پڑی.یہ دیکھے بغیر کہ نوال کو چوٹ نہیں لگی وہ تو سینڈل اٹھا کر کب کی اپنی آنی کے پاس بھاگ چکی ہے.
اس میں میری کوئی مسٹیک نہیں.. بےبی اچانک بھاگ کر میرے سامنے…..
ارے واہ… ماہی نے اسی کی بات بیچ میں ہی اچک لی.. بہت خوب…… اتنے بڑے اپنی غلطی چھپانے کے لئے اتنی سی بچی کا نام لے رہے ہیں.. آپ کی ہی غلطی ہے… آپ کا ہی سارا قصور ہے.
رزم کی رگیں تنی تھیں..وہ بول رہی تھی اور رزم کے کانوں میں کئی آوازیں گڈ مڈ کر رہی تھی. کوئی چلایا.
سب تمھاری غلطی تھی.
تمھارا قصور…..
تم ہی زمہ دار ہو اس سب کے..
رزم کا دماغ گھوما تھا اور دل کیا اس بولتی لڑکی کو کسی بھی طرح چپ کروا دے…
اور پھر اس نے اپنے چٹانی سنگلاخ ہاتھ سے اس کی نازک گردن دبوچی تھی اور ایک جھٹکے سے دیوار سے لگایا تھا..
ماہ رخ کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے
شاید وہ غلط بندے سے الجھ بیٹھی تھی.. گردن پر دباؤ بڑھا تو اس کی نازک سی جان پر بن گئ.. ہڈیاں چٹخنے ہی والی تھیں.وہ پوری جان لگا کر مزاحمت کر رہی تھی اس کا ہاتھ ہٹانے میں.. پر وہ ایسے پر سکون کھڑا تھا جیسے وہ خود اپنی گردن اس کے ہاتھ میں دئیے کھڑی ہو.
چھ….چھوڑو….. مجھے…… .پپ.. پاگل آدمی… میں… مم…. مر جاؤں گی.ہمت.. کک.. کیسے ہوئی مم…. مجھے چھونے کی……… گھٹی گھٹی آواز میں وہ چلائی….
وہ سرخ چہرہ لئے اس کے قریب ہوا..
اب میرے سامنے آنے کی مسٹیک مت کرنا.اگین مجھے نظر آئی تو اس نازک گردن کی ہڈیاں چٹخانے میں مجھے بہت مزا آئے گا.. سمجھیں..
سرسراتے لہجے میں کہتا اس نے ہاتھ جھٹکے سے ہٹایا تو وہ وہیں بیٹھتی چلی گئی… اور زور زور سے کھانستی سانس بحال کرنے لگی.
جو اس نے چند سیکنڈوں میں ہی بند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی. فون اٹھا کر وہ ظالم جانے لگا لاؤنج کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ
ماہی کا خوف وہراس کم ہوا تو….. وہ پھر جھنجھنائی…..
زلیل… کمینہ… کم ظرف..وہ بڑبڑائی
وہ ایک جھٹکا کھا کر سرخ چہرہ لئے پھر پیچھے مڑا.. تو وہ اپنی جان بچاتی اٹھ کر باہر کی طرف بھاگی..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
