No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ گلاس وال کے قریب کھڑا کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا کہ جب فون رنگ ہوا…
ہاں بولو اعظم… ملی وہ؟
نہیں سر….. پتہ نہیں کس کا کیا دھرا ہے.. کہ کہیں کوئی ریکارڈ موجود نہیں.. میں خفیہ طور پر بھی کالج کھنگال چکا ہو پر….
اعظم تم سے ایک کام کہا تھا وہ بھی تم ڈھنگ سے نہیں کر پائے.. کہا تھا اس پر نظر رکھنا… جتنے دن میں مصروف ہوں اس کی حفاظت کرنا… کہ اسے کوئی تکلیف نہ ہو.. اسے کوئی تکلیف نا پہنچائے.. اور اب تم مجھے یہ سب بتا رہے ہو.. پتہ نہیں اس کے اور اس کی فیملی کے ساتھ کیا ہوا… شمس پھر غصے سے بے قابو ہو کر دھاڑا..
اور اعظم کی ناکامی کا سن کر موبائل دیوار میں دے مارا..
اگر اعظم ناکام ہوا تھا تو یہ یقیناً تشویشناک بات تھی… کیونکہ اعظم اس کا وفادار وہ بندہ تھا جسے پھولوں کے ڈھیر میں سے سوئی ڈھونڈنے کا بولا جاتا تو وہ ڈھونڈ لاتا…اور یقینی طور پر اس نے پورا شہر چھان لیا ہوگا…
وہ قیصر کے گھر کے اوپر بنے پورشن پہ گلاس وال کے سامنے کھڑا تھا… ہر طرف پھولوں کے بڑے چھوٹے گملے رکھے تھے… اوپر چار آمنے سامنے کمرے تھے.. قیصر کو لگتا تھا پودوں سے بہت انسیت تھی..
وہ غصے میں جھنجھنا رہا تھا کہ گیٹ کھلا اور قیصر کی گاڑی اندر داخل ہوئی.. وہ مہربان سی مسکراہٹ لئے گاڑی سے باہر آئے.. دوسری جانب سے حجاب اوڑھے ایک لڑکی گاڑی سے باہر آئی..
شمس کو حیرت ہوئی.. نوال اس کے اعصاب پر اس قدر سوار تھی کے اسے قیصر کے ساتھ ہینڈ بیگ اٹھائے بلیک ڈریس میں چاندی کی طرح چمکتی اس لڑکی میں بھی نوال نظر آ رہی تھی… وہ بے چین سا ہو کر نیچے آیا.
قیصر اسے لئے لاؤنج میں داخل ہوئے کہ سامنے سے شمس سیڑھیوں سے تیزی سے اترتا دکھائی دیا..
وہ دیکھ کر مسکرائے.. جبکہ نوال اسے دیکھ کر اپنی جگہ ٹھٹھک گئی اور اس کی نظروں سے بری طرح نروس ہوئی..
شمس کی گنگ ہوتی زبان سے کوئی لفظ ادا نہیں ہو رہا تھا قیصر کچھ اور سمجھے..
ناراض مت ہو یار…. بغیر بتائے چلا گیا تھا.. لیکن حرا نے بتا دیا ہوگا کیوں گیا تھا..
اس سے ملو یہ میری بھتیجی ہے نوال.. کچھ دن پہلے یہ یہیں رہتے تھے پھر بھائی صاحب کا تبادلہ یہاں سے کہیں اور ہو گیا تو انھیں جانا پڑا.
اور نوال یہ حرا کا بھتیجا ہے شمس خان.
تڑپ اور محبت یوں حقیقی روپ دھار کر سامنے آجائے گی شمس نے سوچا بھی نہیں تھا… وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا تو نوال نے ہی مریل سی آواز میں سلام کیا.
وہ چونک کر سیدھا ہوا اور سلام کا جواب دیا..
نوال وہ سامنے حرا کا کمرہ ہے.. جاؤ اس سے مل لو… میں نے بتا دیا تھا اسے تمھارے بارے میں.. اور آرام کرو مجھے شمس سے ضروری باتیں ڈسکس کرنی ہیں.. پھر کچھ دیر بعد سب کھانا کھائیں گے..اور پھر کل نکاح کی تیاری شروع کر دینا
جی چاچو…… یہ کہہ کر وہ اس کی نظروں کی تپش کی تاب نہ لاتے ہوئے کمرے میں بھاگ گئی..
شمس پرسکون ہو کر گہرا سا مسکرایا.. یہ بھی اچھا ہو گیا تھا.. اس سے قریبی رشتہ نکل آیا تھا.. اب اسے حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا…
وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھ گئے.. قیصر شمس کا نوال کو دیکھ کر چوکنا… اس کی محویت اور اس کی نظر کا نوال کا تعاقب کرنا نوٹ کر چکے تھے. وہ انھیں بے حد عزیز تھا.. نیک سلجھا ہوا… اور سب سے بڑھ کر اپنے رشتوں کے معاملے میں بے حد حساس.. اس نے ہی تو ان کی حرا انھیں لا کر دی تھی اس لئے ڈائریکٹ پوچھ بھی لیا..
شمس خیریت.. تم نوال کو دیکھ کر چونک کیوں گئے.. خیریت تو ہے ناں..
پھر ان کے سامنے سے پوچھنے پر شمس نظریں جھکائے انھیں سب بتاتا چلا گیا کہ اس کے کھونے پر وہ کس طرح اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا..
قیصر مسکرائے .. تو یہ بات ہے برخوردار… پھر سنجیدہ ہوئے شمس تمھارا باپ اس رشتے کے لئے کبھی نہیں مانے گا.. تم تو جانتے ہو ناں سب.. جتنے طاقتور ہیں اگر انھیں پتہ چلا تو نوال کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں… آگے اب بڑی مشکل سے تم نے انھیں ڈاج دیا ہے.. ان کے حساب سے تو تم اس وقت لندن میں یشار کے ساتھ ہو.. جبکہ تم ایئرپورٹ میں جا کر دوسری طرف سے نکل کر یہاں چلے آئے.
شمس نے تڑپ کر ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے… بس اسی لئے…….. اسی لئے قیصر میں چاہتا ہوں.. کہ آپ کل ہی آپ کے اور پھپھو کے نکاح کے ساتھ میرا نکاح نوال سے کرا دیں… کسی کو بھی بتائے بغیر. میں اسے کسی بھی قیمت پر نہیں کھونا چاہتا . نکاح کے بعد وہ اپنے گھر چلی جائے گی.. میں پیچھے سے بابا کو بتا دوں گا.. تو وہ کچھ نہیں کر پائیں گے.. نا نوال کو ڈھونڈ پائیں گے .. وہ کچھ عرصے جھٹپٹائیں گے.. پھر جب ان کا غصہ شانت ہو جائے گا.. تو میں نوال کو پورے حق سے اپنا لوں گا.. اس فنکشن کے بعد میں خود اسے اس کے گھر چھوڑ کر آؤں گا… اور اس کے پیرنٹس کو سب بتا دوں گا.. آئی پرامس میں اس کا بہت خیال رکھوں گا.
قیصر کو اس کی بے چینی پر ہنسی آئی… اوکے ڈن.. دلہے میاں.. پھر تو تم بھی جلدی سے تیاری کر لو…
شمس خوشی سے پاگل ہوتا ان سے لپٹ گیا.. تو وہ کھل کر ہنس پڑے..
پھر کھانا لگا.. وہ سب آمنے سامنے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے . شمس بے شرموں کی طرح بار بار دہکتی نظروں سے اسے دیکھتا رہا.. وہ پہلو بدلتی رہی.. اور قیصر اور حرا نیچے منہ کیے ہنسی دباتے رہے.. قیصر نے حرا کو بھی بتا دیا تھا..
قیصر نے گلا کھنکار کر شمس کو وارننگ دی کے ان کی بھتیجی کو پریشان کرنا بند کرو.. وہ شرارتی سی ہنسی ہنس دیا.
وہ سہی طرح کھانا کھائے بغیر جلدی سے اندر بھاگ گئی تو حرا نے اسے ایک دھموکا جڑا.
پھر حرا اور قیصر نے نوال کو سب بتایا.. شمس کے بابا کے بارے میں اس کو اچھی طرح سمجھایا تو وہ راضی ہو گئی کیونکہ یہ سب کرنے کو اس کے عزیز از جان چاچو نے اسے کہا تھا.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
اگلا دن بہت روشن اور ان کے لئے بے شمار خوشیاں لئے طلوع ہوا تھا.. سب لاؤنج میں تھے..
حرا مکمل دلہن کے روپ میں اور نوال پارٹی ڈریس کے اوپر کامدار دوپٹہ اوڑھے تیار ہوئی ایک صوفے پر شرمائی ہوئی بیٹھی تھیں…
وہ دونوں بھی سامنے گہری مسکراہٹ لبوں پر سجائے بیٹھے تھے… قیصر کے کچھ دوست اور شمس کے دوست اور مولوی صاحب موجود تھے.
ایجاب و قبول کا مرحلہ طے ہوا تو ہر طرف مبارک باد کی صدائیں گونج اٹھیں…
سب خوش تھے بے حد خوش…
شمس تو ہواؤں میں اڑ رہا تھا.. اپنی زندگی میں آنے والے طوفانوں سے بے خبر جو اس کا سب کچھ تباہ و برباد کر کے اپنے ساتھ لے جانے والی تھیں..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
اس کی زندگی کے خوبصورت ترین یہ چند دن کیسے پر لگا کر اڑ گئے اسے پتہ ہی نا چلا..چاہے جانے اور پھر اس چاہت کو پا لینے کی خوشی دل میں ہر وقت کرنوں کی طرح پھوٹ رہی تھی
اگلے چار پانچ دنوں میں اس نے حرا چچی کے ساتھ مل کر گھر کی سیٹنگ کروائی..
شمس بھی ان کی مدد کرتا.. مدد کم کرتا اس کے اوسان زیادہ خطا کرتا… آتے جاتے کانوں میں ذومعنی جملے.. اس کی وارفتگی… نظروں کی تپش نوال کی ننھی سی جان پر بنائے رکھتی..
قیصر نے اسے کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا.. کیونکہ وہ خود جا کر عابد کو تمام حقیقت بتانے والے تھے.
مگر منال کسی نہیں تھی… وہ تو اس کے وجود کا حصہ تھی.. اور اس نے منال کو سب بتا دیا..اسے پتہ تھا منال کسی کو نہیں بتائے گی. پہلے تو وہ بھڑکی اتنا زور سے چلائی کہ پاس بیٹھی زری بھی سہم گئی تھی.. پھر منال نے زری کو پیار سے پچکار کے دوسرے کمرے میں بھیج دیا اور پھر چلانے لگی مگر پھر اس کے پوری بات بتا دینے پر شانت ہو گئی. مگر جب اس نے بتایا کے شمس کے بابا کی وجہ سے اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے وہ پھر بے چین ہو گئی.
نوال نے اسے نکاح کی پک بھی سینڈ کی تھی…
رات کا ایک بجے بھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی گھبراہٹ سی ہو رہی تھی..وہ اوپر والے پورشن میں گلاس وال کے قریب کھڑی تھی..
اور شمس کی باتیں یاد کر کے مسکرا رہی تھی جب کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی..
مجھے یاد کر رہی ہو… وہ خوف سے زرد پڑتی بوکھلا کر پیچھے مڑی.. گرنے والی تھی کہ کسی کے مضبوط ہاتھوں نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے گملے پر گرنے سے بچا لیا….
نوال نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو خود کو شمس کی مضبوط بانہوں میں پایا وہ بے تحاشا گھبرائی..
آپ……… آپ یہاں…. کک… کیوں آئے..
اپنی… زندگی… اپنی جان کی یہاں موجودگی محسوس کرنے.. اس کے جواب پر وہ سر نا اٹھا سکی…
مجھے چھوڑ کر کیوں گئیں نوال تم…. شمس نے شکوہ کناں لہجے میں اس کو کہتے ہوئے اپنی جانب کھینچا تو وہ نازک گڑیا کی طرح اس کے سینے سے آ لگی….اس اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور کمرے میں لا کر نیچے اتارا.. پر اس کی کمر شمس کے چٹانی حصار میں ہی تھی..
اس کی جسارتوں اور اتنی قربت سے نوال کے اوسان خطا ہو رہے تھے..
تم نے بتایا بھی نہیں مجھے کہ جا رہی ہو… ایسے کرتے ہیں؟
مم…. میں… کک… کیسے بتاتی آ…. آپ… آئے ہی نن…. نہیں
اس کی یہ بات سن کر شمس کی مسکراہٹ گہری ہوئی.
یعنی تم میرا انتظار کرتی رہی ہو.. ہے ناں.
وہ اس کے چہرہ کے اور قریب ہوا… کہ اس کی سانسیں نوال کو اپنے لبوں پر محسوس ہو رہی تھیں..پھر وہ بے خود سا ہو کر اس کی گردن پر جھکا اور اپنے پیار کی پہلی مہر ثبت کی.
پپ… پلیز…… چھوڑیں مجھے… کوئی آ جائے گا…نوال کی جان پر بنی…
آنے دو میں نہیں ڈرتا کسی سے.. ویسے بھی اپنی بیوی سے رومانس کر رہا ہوں… شمس نے ہوا میں بات اڑائی
گہری رات، تنہائی… بانہوں میں من چاہا ساتھی جس پر تمام حق حاصل ہوں.. شمس بہک چلا تھا.. اس کی گردن پر جھکا اور خود کو سیراب کرنے لگا….
نوال کی جان لبوں پر آ گئی..
شمس…. پلیز…. چھوڑیں مجھے…..
نہیں…. بلکل نہیں… نوال…
تم تو چلی گئیں.. پتہ ہے میں کتنا تڑپا اس تڑپ کا حساب دو..یہ کہہ کر شمس نے اسے بیڈ پر لٹایا… اس سے پہلے وہ اٹھتی خود اس پر جھک گیا..
نوال……… مجھے اتنے قریب آنے دو کہ پھر تمھارے دور جانے کا ڈر نہ ہو.. جزبات سے بوجھل لہجے میں کہا تو نوال کی روح کانپ گئی… اس سے پہلے وہ کچھ کہتی.. شمس نے اپنے لبوں سے اس کے نازک لب قید کر لئے…نوال تڑپی… مچلی.. پر شمس کی گرفت مضبوط تھی..
اس کی کوئی مزاحمت کام نہیں آ رہی تھی…. کافی دیر بعد جب شمس نے اسے آزاد کیا تو وہ آنکھوں میں آنسو لئے بول پڑی…
پلیز شمس نہیں کریں.. یہ غلط ہے…
شمس کو اس کے آنسو دیکھ کر دکھ ہوا… لیکن یونہی اس کو ریلیکس کرنے کو بولا.. خیر غلط تو کچھ بھی نہیں تھا….پر میں اپنی جان کے ایک بھی آنسو کا سبب نہیں بننا چاہتا… پھر شمس نے اسے سیدھا کیا اور کمفرٹر اوڑھایا… خود بھی کمفرٹر میں لیٹ کر اسے سینے سے لگایا…
وہ پھر مچلی…
تو شمس سے ناگواری سے کہا.
اونہو.ں……..کچھ نہیں کروں گا… سو جاؤ آرام سے….قیصر نے کہا ہے تمھیں چھوڑ کر آنا ہے صبح.. چلی جاؤگی مجھے تڑپا کر.. آج ساری رات ایسے ہی میری بانہوں میں سونا پڑے گا…
مم….. مگر………
چپ بلکل چپ……. نہیں تو پہلے کی طرح خاموش کرواؤں گا..
اس کے یہ کہنے پر نوال نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ چپ چاپ اس کے سینے میں منہ دئیے لیٹ گئی…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
تبریز کی خبر سن کر سردار یوسف خان اپنے ڈرائینگ روم میں غصے کی انتہا میں پھنکارتے ایسے ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھے…
جیسے کسی نے ان کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہو…
تبریز انھیں آگ بگولہ بنے دیکھ رہا تھا کہ اگلا حکم کیا جاری ہو گا جن سے وہ دوسروں کی خوشیاں بھسم کر دیا کرتے تھے..
یوسف خان اپنے دل میں شمس سے مخاطب ہوئے… شمس خان اپنےباپ کی انا کچل کر اور کھلِ عام یہ بغاوت کر کے تم نے اچھا نہیں کیا… کیا یاد کرو گے حرا کو معاف کیا پر تمھیں نہیں کروں گا.. ہر گز نہیں
تبریز…لڑکی کو ختم کردو…. .. تبریز نے حیرت کا جھٹکا کھا کر ان کی جانب دیکھا..
لیکن بڑے صاحب… شمس بابا……
اسے میں سنبھال لوں گا… تم سے جو کہا ہے وہی کرو…. وہ دھاڑے. جب بھی لڑکی واپسی کے لئے نکلے… ایکسیڈنٹ کروا دو..جی ٹی روڈز پر تو یوں بھی آئے دن ایکسیڈنٹ ہوتے رہتے ہیں. … بچنی نہیں چاہئے… نہیں تو تم نہیں بچو گے……… سرسراتا سرد لہجہ…. تبریز نے جھر جھری لی..
لیکن بڑے صاحب
بھونکنا بند کرو… تبریز.. اور دفعہ ہو جاؤ.. جو کہا ہے وہ کرو.
تبریز چلچلاتا وہاں سے نکلا… ہونہہ….. پاگل بڈھا..اپنی ضد انا اور ہٹ دھرمی میں یہ بھی نا سنا کہ اگر وہ جس گاڑی میں نکلی اس میں اپنا خود کا بھی بیٹا ہوا تو پھر کیا کرنا چاہیے..مجھے کیا… میں تو بول دوں گا.. جیسا حکم ملا کر دیا… بعد میں لکیر پیٹے گا… پاگل جاگیر دار
تبریز…….. یوسف خان کو دل میں کوستا وہاں سے نکلا.. پر کیا کرتا حکم ماننے کا پابند اور مجبور تھا..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
سامان گاڑی میں رکھو فض بابا ہم لیٹ ہو رہے ہیں…
نوال تیار ہو کر باہر آئی.. سفید فراک کے نیچے پاجامہ اوپر حجاب باندھے وہ کوئی پرنور سی مخلوق لگ رہی تھی.. شمس مبہوت سا ہوا…وہ تو خود بلیک شلوار قمیض میں مردانہ چادر کندھوں پر لئیے شہزادہ لگ رہا تھا
وہ حرا اور قیصر سے مل کر گاڑی کی طرف بڑھی.. شمس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا.. اسے بٹھا کرخود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا.. اور گاڑی زن سے بگھا لی.
وہ بار بار پر حدت نگاہوں سے اپنے پہلو میں شرمائی گھبرائی بیٹھی نوال کو دیکھ رہا تھا..
وہ بری طرح کنفیوز ہو کر انگلیاں چٹخا رہی تھی..
یار ایسے تو نا شرماؤ… نیت اور خراب ہوتی ہے.. میں نے یہاں سے گاڑی کسی ہوٹل کی طرف موڑ لینی ہے..
نوال نے ہق دق ہو کر شمس کی جانب دیکھا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا..
نوال نے مکا بنا کر اس کے بازو پر مارا… توبہ بہت خراب ہیں آپ.. جائیے میں نہیں بولتی آپ کے ساتھ…
یار ایسا………… وہ بول ہی رہا تھا کہ فون کی بیل بجی وہ فون کی طرف متوجہ ہوا.. اعظم کا نبمر دیکھ کر فون اٹینڈ کرنا ضروری سمجھا.
یس… اعظم… کوئی ضروری بات…..
سر آج اگر آپ میم کو کہیں بھیجنے لگے ہیں تو مت بھیجیں….
کیوں اعظم… شمس بے تحاشا چونکا..
سر. میری اطلاع کے مطابق قیصر سر کی گاڑی کے بریک فیل کروائے گئے ہیں.. میم کو… وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا.. میم کو مارنے کے لئے
واٹ… وہ دھاڑا.نوال سہم گئی. اور یہ سب کرنے کی جرات کس نے کی..
کون کر سکتا ہے سر آپ اچھے سے جانتے ہیں..
اعظم وہ اس وقت گاڑی میں ہے اور ڈرائیونگ میں کر رہا ہوں… ڈیڈ کو مبارک دے دو فون کر کے ان کا پلان کامیاب رہا…. شمس نے موبائل پچھلی سیٹ پر پھینکا اور گاڑی کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا اسے اس وقت خود سے زیادہ نوال کی فکر تھی.. وہ ہراساں سی یہ سب کاروائی دیکھ رہی تھی کسی انہونی کے ڈر سے اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا… سمجھ تو وہ بھی گئی تھی.
باقاعدہ پلاننگ جو کی گئی تھی اسی لئے اچانک سامنے ایک ٹرک آیا تھاشمس نے گاڑی ٹرن کرنے کی کوشش کی تو نوال والی سائیڈ ایک دھماکے سے ٹرک میں بجی تھی..
خون سے لت پت شمس کی غنودگی میں آنکھ کھلی تھی… وہ سڑک پر گرا ہوا تھا… جبکہ نوال کچھ ہی فاصلے پر خون میں نہائی بے جان پتلیوں سمیت پڑی تھی.. سفید فراک سرخ ہو چکی تھی…
شمس نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی.. ہونٹ پھڑپھڑائے.. نوال کو صدا دینے کی کوشش کی کہ مت جاؤ… خدارا مت جاؤ… اپنے شمس کے پاس رہو…
پر وہ تو اس کی سنے بغیر کب کی دنیا سے جا چکی تھی..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
