Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

یہ دن بے حد روشن تھا….
جو بہت سی امیدیں، خوشیاں اور کامیابیاں لے کر طلوع ہوا تھا.
بہت گہما گہمی تھی…

این مینشن میں سب تیار ہو رہے تھے.

آف وائٹ ہلکے گلے پر کامدار شیروانیوں میں وہ شہزادے لگ رہے تھے..

ادھر عابد ہاؤس میں بھی پالر والی گھر میں ہی ان کو تیار کرنے آئی ہوئی تھی..بلڈ ریڈ لہنگوں میں وہ آسمان سے اتری پریاں لگ رہیں تھیں..
تاشی کے چہرے پر تو الگ ہی قسم کا الوہی روپ آیا تھا.. محبت کو پا لینے کی خوشی جو اتنی تھی.

مگر ماہی کے چہرے پر خود ساختہ فکریں تھیں جو وہ کسی سے شئر نہیں کر سکتی تھی.

تاشی تیار تھی… ماہی کو پالر والی فائنل ٹچ دے رہی تھی.
جب تاشی کو نازیہ بیگم سے کوئی کام پڑا….. کمرے میں ان تینوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا.. اسی لئے وہ اوپر سے آواز دینے خود ہی کمرے میں سے نکلی ابھی سیڑھیوں تک پہنچی ہی تھی.. جب سیڑھیوں سے سمیر اوپر آتا دکھائی دیا.
وہ اسے دیکھ کر بے اختیار مبہوت ٹھٹھک سا گیا تھا… اپنی جگہ بلکل ساکت.. کاٹو تو بدن میں لہو نہیں

اس کی خود پر سر تا پا غلیظ سی نظروں سے تاشی کو کراہیت سی محسوس ہوئی تو جھنجھنا کر پیچھے مڑی.

زری پلیز میری بات سنو… جو بھی ہوا اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی.. میں تمھیں سب سچ بتاتا ہوں..

مجھے تمھاری کسی بات سے اب کوئی دلچسپی نہیں ہے اب میں کسی اور کی امانت ہوں.. مجھے یوں دیکھنا بند کرو… اور دور رہو مجھ سے…
تاشی بری طرح جھڑکتی جلدی سے کمرے میں گھس گئی…

وہ پیچھے سے سانپ کی طرح پھنکار کر رہ گیا…. ایک تو اس کا یہ روپ دیکھ کر اپنے حصے میں آئے خساروں کو وہ تول رہا تھا کیونکہ زری کے سامنے کروڑوں کیا عربوں ٹھکرائے جا سکتا تھے…
دوسرا کسی اور کی امانت….. وہ جھنجھنایا
ہونہہ…اتنی پارسا….. جب میری امانت تھی تب تو خیال نہیں آیا….. کسی نامحرم کی بانہوں میں رات گزارتے وقت یہ پارسائی یاد نہیں آئی.. میرے حصے میں خسارے آئے تو تمھیں کیوں خوش رہنے دوں.. زری بی بی…
وہ زہر خند سا اپنے زہن میں شیطانی منصوبے بناتا رہا.

تاشی اندر آ کر ہر خیال جھٹک کر سکون سے بیٹھ گئی… بارات چل پڑی تھی. یش کے ذومعنی میسجز آئے جا رہے تھے… تبھی فون رنگ ہوا.

اسے لگا یش کی کال ہے
دھڑکتے شور مچاتے دل سے کال یس کر کے فون کان کو لگایا

مگر سامنے سے جو آواز سنائی دی اس حلق تک کڑوا ہو گیا.
اففف اب اسے کیا تکلیف ہے.. وہ جھنجھلا کر فون رکھنے والی تھی کہ
سمیر نے زہر اگلا…

زری… پلیز فون مت رکھنا..میں تو بس تمھیں ایک سچائی.. ایک حقیقت بتانا چاہتا تھا. مجھے تمھیں طلاق دینے کے لئے ایک کروڑ دیے گئے تھے.. اور یہ کرنے والا کوئی اور نہیں تمھارا وہ رئیس زادہ یشار خان یوسف تھا.تم مانو گی نہیں میں نے سٹام واٹس ایپ کیا ہے تمھیں. جو اپنے بھائی کے نام سے اس نے مجھے دیا. اگر وہ مجھے صرف پیسے دیتا تو میں کبھی نہیں مانتا مگر اس نے مجھے کہا کہ…… وہ کچھ پل کے لیے خاموش ہوا
تم وہ ایک رات اس کے ساتھ گزار چکی ہو.. اس لئے میں بھٹک گیا تھا زری…وہ اچھا انسان نہیں ہے… تم میرے پاس واپس آ جاؤ.. میں پیسے واپس کردوں گا.. اور سب کو سچ بتا دوں گا.. . وہ رئیس زادہ پیسے پھینک کر تمھیں بس چند دن جی بہلانے کے لئے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے.. ایک رات سے جی جو نہیں بھرا………….

شٹ اپ یو باسٹرڈ……. تاشی غرائی… اُس کو چھوڑو.. وہ میرا اور میرے شوہر کا معاملہ ہے.. تم اپنی سناؤ نیچ اور گھٹیا انسان… اپنی یہ نیچ حرکت مجھے اتنے فخر سے بتانے سے پہلے چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرتے…جو ایک کروڑ کے لئے اپنی منکوحہ بیچ سکتا ہے وہ کل کو دو کروڑ کے لئے اپنی بیوی بھی بیچ دے گا…. اسی لئے آئندہ مجھے اپنی منحوس شکل دکھانے یا آواز سنانے سے پہلے سو بار سوچنا…

یہ کہہ کر تاشی نے فون تو بند کردیا.. مگر عابد ہاؤس کی چھت جیسے اس کے سر پر گری تھی.
تصویر کھول کر دیکھی.. سٹام کی تھی.. ہر چیز واضح تھی.

مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ پیسوں والی بات کے علاوہ سمیر نے جو اس کے یش کی طرف سے باتیں بتائیں تھیں جھوٹ تھیں.. نری بکواس

مگر پیسے…. تاشی تڑپ ہی تو گئی…
یش آپ کو مجھے اتنا ارزاں نہیں کرنا چاہیے تھا.. آپ کے عشق میں تو اتنی طاقت تھی کہ جس نے میرا دل بدل دیا اور میں جلد ہی بابا سے کہنے والی تھی.. کہ مجھے سمیر سے نہیں آپ سے شادی کرنی ہے.

مگر آپ نے میری قیمت دے کر مجھے دوسروں کی نظروں جی بہلانے کا سامان بنا کر بے مول کر دیا… وہ سسکی.

بارات پہنچ گئی تھی.. مگر اب تاشی کو سامنے دہکتی آگ دکھائی دے رہی تھی جو اس کے وجود کو جلا کر خاکستر کر رہی تھی.

بارات آئی… انھیں نیچے لایا گیا.

وہ شہزادوں کی سی آن بان رکھنے والے قوم کے ہیرو بھی ایک مرتبہ ان کو دیکھ کر اپنا آپ بھول گئے تھے.. نظر تھی کے ہٹتی نا تھی… دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو ہوا.
انھیں اپنے دولہوں کے پہلو میں بٹھایا گیا..

یش اس نازک سی جان کی بے سکونی اور بے قراری نوٹ کر رہا تھا.. مگر اسے فطری ڈر اور اپنے بابا کا گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ جانے کا دکھ سمجھا.

ماہی بھی پہلو بدل رہی تھی.. رزم سکون سے بیٹھا اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا.. اور ہنسی روکنے کے لیے دانتوں تلے لب دبا رہا تھا.

.. رسمیں ہوئیں.. کھانا کھایا گیا.
اور رخصتی کا بھی وقت آن ہی پہنچا..

دلہنوں نے بابا اور نازیہ بیگم سے لپٹ کر خوب دل کی بھڑاس نکلالی.. منال بھی پاس کھڑی سوں سوں کرتی رہی.

پاگل بہنیں……. رزم بڑبڑایا.. یش نے واضح سنا.. اور دانت تلے لب دبایا.

بے تحاشا خوبصورتی سے سجائی گئی گاڑیوں میں تاشی کو یش اور ماہی کو رزم کی پہلو میں بٹھایا گیا… یوں لگتا تھا کے وقت کے امیر نئی دنیا فتح کر کے آئے ہیں.

گاڑیاں این مینشن کی جانب رواں دواں تھی..
کہ رزم کے فون پر میسج رنگ ہوا… اوپن کر کے دیکھا تو تاثرات پریشانی میں ڈھلتے بلکل دیر نا لگی…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

این مینشن میں جشن کا سماں تھا… تمام رسمیں ہو چکی تھیں…منال اور حرا نے تمام رسمیں نبھائی تھیں

آخر تھکن سے چور دلہنوں کو ان کے کمروں میں پہنچا دیا گیا تھا…. یش لاؤنج میں سب کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا…خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی.
رزم اچانک پتہ نہیں کہاں گیا تھا.
جب یش کے موبائل پہ رزم کا میسج آیا…

باہر لان میں آؤ..

یا اللہ خیر………. یشار بڑبڑاتا باہر آیا..

باہر وہ لان میں درختوں کے پاس سنجیدہ سا کھڑا تھا.

خیریت….

No… I have a bad news for you.

واٹ……. یش فکر مند ہوا… لیکن اگر وہ نیوز تاشی کے بارے میں ہے تو پلیز یار آج نہیں…

رزم خاموش ہو گیا…

اوکے… ناؤ ٹیل می واٹ ہیپنڈ؟……

شمس لالہ نے ایک کروڑ دیا سمیر کو تاشی کو طلاق دینے کے لیے….

واٹ….. رزم نے یش کے سر پہ بم پھوڑا

یس….. مجھے لالہ کی جانب سے شک تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے.. اسی لئے اعظم کو توڑا.. وہ لالہ کا اتنا وفادار ہے کہ سولجر بن کر توڑتا تو کبھی منہ نہیں کھولتا… تمھاری طرف سے اموشنل بلیک میل کرت ہوئے ایک چھوٹا بھائی بن کر توڑا تو آج اس نے مجھے یہ ڈیٹیلز سینڈ کر دیں.

رزم نے موبائل یش کے سامنے کیا.. تمام ڈیٹیل پڑھتے ہی اس کا سر گھوم گیا..

ہاتھ سے ماتھا سہلاتا بولا.. اب بس یہ سب تاشی کو نا پتہ چلے… یار وہ مجھے غلط نا سمجھے..

تم اس معاملے میں بھی بد قسمت ہو یشار…رزم کا چہرہ شدید اشتعال سے سرخ تھا

کیا مطلب……. یشار ٹھٹھک گیا.

اس الو کے پٹھے کی تمام ڈیٹیلز اور فون ریکارڈز نکلوائیں تو پتہ چلا اس نے آج تاشی کو کال کی تھی… مجھے شک ہوا اسی لئے کال کی ریکارڈنگ بھی میرے پاس موجود ہے.
اگر پیشنس رکھنے کا پرامس کرو تو سنا دیتا ہوں..لیکن مجھے پتہ ہے یہ ریکارڈنگ سننے کے بعد تمھاری ہاکی ایک خون کی پیاسی ہو جائے گی.

یشار کی رگیں تنی تھیں… اوکے… پرامس… کچھ نہیں کروں گا… سناؤ..

رزم نے ریکارڈنگ آن کر کے یش کے کانوں میں ہینڈ فری لگائے…
جیسے جیسے سنتا گیا.. یش کی آنکھیں اور چہرہ لہو ٹپکانے لگا..
ریکارڈنگ ختم ہوئی تو یش نے ہینڈ فری اتار کر رزم کی جانب بڑھائے.
اور اندر کی جانب جانے لگا پھر رکا..اور دانت پیس کر بولا

زرا اس خبیث کو اپنے ٹارچر سیل کہ ہوا تو کھلاؤ تاکہ وہ دوسروں کی بیوی تو کیا اپنی بیوی کو بھی فون کر کے جھوٹی بکواس کرتے ہوئے ہزار مرتبہ سوچے..

ابھی یہی کام کر کے آرہا ہوں…. رزم نے اطمینان سے کہا.

یشار جھنجھلایا سا اندر کی جانب بڑھا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

اپنے عجلہ عروسی کے لئے سجائے گئے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑا یش پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پاؤں جھلاتا اندر کے غم و غصے اور اشتعال کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا..
اففف لالہ یہ کیا کیا آپ نے میرے ساتھ…. میری محبت بے مول کر دی اس کی قیمت دے کر.. بہت ارزاں کر دی..

مگر یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو محبت کا حصول ناممکن تھا.

پر اب اس کا سامنا کیسے کرے جس کی سسکیاں اسے دروازے کے اِس پار تک سنائی دے رہیں تھی. پر اب سامنا تو کرنا تھا ناں…
اسی لیے ایک بہت گہرا سانس بھرا… اور چٹختے اعصاب کو شانت رکھنے کی کوشش کرتا اندر داخل ہوا اور دروازہ لاک کیا…
موتیے کے سفید پھولوں ، سرخ گلابوں اور روح میں بسے اس نازک سے وجود کی خوشبو سانسوں میں سمائی.

سامنے ہی وہ پھولوں کی مسہری پر باریک اور دبیز سفید جالی دار پردوں کے پیچھے گھٹنے فولڈ کیے چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونے کا شغل فرما رہی تھی.

بلڈ ریڈ بھاری کامدار لہنگے میں دوپٹہ سر پر سیٹ کئے بھورے بال آگے دائیں جانب گرا کر خوبصورت ہیر سٹائل میں چھوٹ چھوٹے موتی. یش کے دل پر قیامت گزر رہی تھی. اگر چہرہ دیکھ لے تو پھر تو ہوش ہی اڑ جاتے.

آہٹ پر خود میں سمٹی مگر ہاتھ پھر بھی نا ہٹائے..

تاشی…. جزبات سے بھر پور گھمبیر بھاری بوجھل آواز میں اسے پکارا یہ بتانے کے لئے کہ وہ جس وجہ سے اپنے اتنے قیمتی پلوں میں اپنے اتنے قیمتی آنسو بے مول کر رہی ہے اس میں یش کا زرا برابر بھی قصور نہیں پر اگلے پل جو سنا….. یش کو لگا اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا گیا ہے.

یش…… ہچکچائیے مت…. آگے بڑھیں اور اپنی قیمت وصول کریں..

کڑے ضبط کی انتہا سے یش کے گلے کی اور ماتھے کی رگیں یوں تنی تھیں جیسے ابھی پھٹ پڑیں گی. لال انگارہ چہرہ اور آنکھیں لئے وہ مڑ کر واپس دروازے کی جانب بڑھا تھا.

جب وہ ظالم پری ایک جھٹکے سے بیڈ سے اتر کر اس کے سامنے آئی تھی. بھیگے چہرہ آواز رندھی ہوئی پر پھر بھی یش کی روح اور دل کو بری طرح روند رہی تھی.

ایک کروڑ زیادہ ادا کر دئیے یش آپ نے میرے… میں تو اس سے بھی زیادہ بے مول اور ارزاں تھی…

یش کا ضبط اب جواب دینے لگا تھا.. پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے مٹھیاں بہت زور سے بھینچی ہوئی تھیں. جب اس نے پھر اس کی سائیڈ سے نکل کر باہر جانا چاہا..

تاشی نے یک دم خود سے دوپٹہ نوچ کر پرے پھینکا اور دونوں ہاتھوں سے اس کا کوٹ دبوچ لیا.

یش…کہاں جا رہے ہیں… میں نے کہا ناں وصول کیجئے اپنی قیمت… آگے بڑھیں

یش نے بری طرح دانتوں تلے اپنے لب کچلے.. جب اس کی نازک کلائیاں پکڑی تو گرفت میں بہت سختی تھی.. کئی چوڑیاں چٹخ کر اس کی کلائیوں اور یش کے ہاتھوں میں پیوست ہوئیں تھیں. وہ سسکی

یش نے ایک جھٹکے سے اپنا کوٹ چھڑایا اسے پیچھے بیڈ پر گرایا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا…
وہ تو چلا گیا…

پیچھے تاشی اوندھے منہ بیڈ پر گری پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
وہ تن فن کرتا سٹڈی میں داخل ہوا تھا.. کرسی پر بیٹھکر تیزی سے پاؤں جھلاتا اندر اٹھتے اشتعال کے طوفان کو دبانے کی کوشش کرتا رہا…جتنے غصے میں تھا اگر ایک پل بھی اندر رہتا تاشی کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے ہی نا دبا دیتا…
اففففففففففف……
کیا سوچا تھا کیا ہوا.
کاش کے انسان جو سوچتا ہے ہمیشہ ویسا ہی اچھا اچھا ہوتا.

شمس کسی کام سے سٹڈی میں داخل ہوا تھا. جب اسے اس دگرگوں حالت میں وہاں غصہ پیتے بیٹھے دیکھا.
ایک سیکنڈ بھی نا لگا اسے بات کی تہہ تک پہنچتے..
سنجیدگی سے اس کی جانب بڑھا اس کے سامنے آ کر پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بولا.

یشار….. تمھیں کیا لگتا ہے میں نے غلط کیا ہے؟

نہیں لالہ… آپ نے بلکل ٹھیک کیا.. اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو اپنے بھائی کی خوشی کے لئے پتہ نہیں کیا کر بیٹھتا.
لال انگارہ آنکھیں موندے اس نے جواب دیا.

جاؤ… اسے حقیقت بتاؤ…. کہ تمھارا اس چیز سے کوئی لینا دینا نہیں…

نہیں لالہ… میں اپنے غم و غصے کو کنٹرول نہیں کر پا رہا ہوں… ابھی نہیں جا سکتا اس کے پاس..
ہیڈ کوارٹر سے کال آئی ہے مجھے ابھی جانا ہوگا. رزم کو اس بارے میں مت بتانا… نہیں تو وہ بھی پیچھے چلا آئے گا

یہ کہہ کر وہ اٹھا… سٹڈی سے ملحقہ سیکرٹ روم میں گیا.. یونیفارم کی پینٹ کے اوپر بلیک ہڈی پہنے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

رزم کمرے میں داخل ہوا…..لاک لگایا اور دھیمے قدم اٹھاتا آگے بڑھا.
موتیے اور گلابوں کی خوشبو چہار سو بکھری ہوئی تھی..

سامنے ہی وہ نازک سی گھٹڑی گھونگھٹ نکلالے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہلکے ہلکے کپکپا رہی تھی.

وہ قریب گیا… بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھا.
تو وہ اور خود میں سمٹ گئی..
رزم نے مہربان سی مسکراہٹ سمیت اس کا گھونگھٹ پلٹایا. رخ کے چہرے پر واضح گھبراہٹ تھی.وہ مبہوت سا دیکھے گیا.

رخ…. تمھیں پتہ ہے میں تمھیں کب سے اور کتنی محبت کرتا ہوں… کہتے اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی… ایک خوبصورت رنگ اس میں سے نکالی اور ہاتھ آگے بڑھایا..

May i…….
وہ ایک مرتبہ پھر پوچھ رہا تھا…. .اب تو غنڈہ موالی نہیں ناں سمجھتی مجھے… سنجیدگی سے پوچھا. مگر آنکھوں میں واضح شرارت تھی.

اس نے شرمندگی سے نظریں جھکائیں.. رزم نے اس کا کپکپاتا ہاتھ ہاتھوں میں لیا اور رنگ پہنا دی.
ہلکے سے جھک کر اس کے ہاتھ پر محبت کی مہرثبت کی.

جزبوں سے بوجھل دہکتا لمس… رخ جی جان سے لرزی اور بے اختیار ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی..

او…… ہوں… نہیں جان… آج تو بلکل بھی نہیں… کوشش بھی مت کرنا مجھ سے گریز کی.
یہ کہتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر زور سے اپنی جانب کھینچا.
وہ ٹوٹی ڈال کی طرح اس کے چوڑے سینے سے آ لگی. وہ اس کی گردن پر جھکا تھا..
رزم کے پگھلاتے لمس میں بہت شدت تھی.
ماہی کا دماغ پھر جھنجھنایا..
یہ اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے.. میں ان کی پاکیزہ محبت کے قابل نہیں.. میرے ساتھ جانے کیا کیا ہو چکا ہے..
وہ تڑپ کر پیچھے ہٹی…
رزم چونکا….

کیا ہوا رخ..؟
وہ……. وہ….. رزم……. مم… مجھے….. کک… کچھ. وقت.. چاہیے…
رزم کے ماتھے پر بل آئے..
No…. I need you jaan right now…
یہ کہہ کر اس نے ایک مرتبہ پھر اسے اپنی جانب کھینچا.. بانہوں میں بھرا…. اور اس کی سانسیں اپنی سانسوں میں الجھائیں..

مزاحمت دم توڑ چکی تھی. رزم آنکھیں بند کیے اپنی محبت اپنا عشق محسوس کر رہا تھا جب اپنے گریبان میں کچھ گرم سیال گرتا محسوس ہوا.
اس نے نرمی سے اسے چھوڑ کر سر جھکا کر دیکھا تو تڑپ گیا..
اس کے بے تحاشا بہتے آنسو تھے جو اس کے گریبان میں قطرہ قطرہ گر رہے تھے..
وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی.

اب کچھ اور کہنے سننے کو بچا ہی نا تھا..
وہ خاموشی سے اٹھا اور کمرے سے نکلتا چلا گیا.

شمس سٹڈی میں بیٹھا اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا.. جب دھیمے سے دروازہ کھول کر رزم اندر داخل ہوا.
شمس سخت جھنجھلایا..

برخوردار…. کہیں تمھیں بھی تو ہیڈ کوارٹر سے فون نہیں آ گیا…

بھی………….. مطلب یشار…….. رزم سمجھ کر سخت جھلایا.

پاگل بہنیں… وہ بڑبڑاتا تن فن کرتا باہر چلا گیا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟