Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ شدید غصہ ضبط کرتی بیڈ پر بیٹھی پاؤں جھلا رہی تھی..
ایک تو پہلے اتنا جان لیوا میسج بھیجا..
اوپر سے اتنے دن سے یہ بے ہودہ مزاق…

اعصاب چٹخنے کو تھے. جب وہ فریش سا واش روم سے باہر نکلا….
ستم تو یہ کہ وہ ہمیشہ کی طرح الجھ بھی نہیں رہا تھا اس سے.. ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بڑے سکون سے بال برش کر رہا تھا
الجھتا تو رخ دل کی بھڑاس نکال لیتی..
چٹختے اعصاب سے تنگ آ کر بھناتی اس کی جانب بڑھی.

گریبان سے پکڑ کر رزم کا رخ اپنی جانب کیا.

آپ کی ہمت کیسے ہوئی.. مجھے وہ میسج کرنے کی.. اور میرے ساتھ اتنا بے ہودہ مزاق کرنے کی..

ہمت تو ابھی میری دیکھی نہیں تم نے جان.. یہ کہہ کر اس نے رخ کی نازک کمر کو اپنی آہنی گرفت میں لیا…ہمت تو بہت ہے. مگر تم بتاؤ تمھیں کیا فرق پڑتا ہے میں جیوں یا
م………..

رخ نے تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا.. اور پھوٹ پھوٹ کر روتی اس کے سینے میں چہرہ چھپا لیا.
اتنے دنوں کی بے چینی، بے سکونی، تڑپ اور اس کی فکر اب آنسوؤں کی صورت غبار باہر آ رہا تھا..

رزم نے سکون سے آنکھیں موند کر اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا مزید تنگ کیا.

کہ ایک مرتبہ پھر وہ ہتھے سے اکھڑ گئی…..

چھوڑیں مجھے……. بہت برے ہیں آپ… میں نے بات ہی نہیں کرنی آپ سے… خبردار مجھ سے بات کی.
وہ نازک ہاتھوں کے مکے اس کے چوڑے اور آہنی سینے پر برسا رہی تھی..

جب اس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر اس نے رخ کی کمر کے پیچھے فولڈ کی اور اسے تھوڑا اوپر اٹھایا.

چلو ٹھیک ہے میری جان….. آج کی رات بلکل بات نہیں کریں گے…. مگر ایک اور کام تو کر سکتے ہیں ناں…
جی بھر کر پیار کریں گے اوکے…

وہ یہ کہتا اس کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنے ہونٹوں کا سلگتا نرم گرم لمس چھوڑ رہا تھا…
اس سے پہلے وہ مزاحمت کرتی…

رزم اسے اپنے بازوؤں میں بھر چکا تھا..
رخ کی جان پر بنی….
وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر جھکا… اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی…ماتھے سے گردن تک آیا.

وہ کسمسائی….رز…….رزم…. وہ… مم…. میں

رخ…جزبات سے بوجھل گھمبیر آواز تھی…. سب بھول جاؤ… صرف مجھے اور میری محبت محسوس کرو…رزم نے اسکے اپنے اور اس کے بیچ رکاوٹ بنتے ہاتھ ہٹا کر بیڈ سے لگائے.
میں نے تمھیں کتنی شدت سے چاہا… میری چاہت محسوس کرو…

وہ آنکھیں بند کیے اسے پور پور اپنی محبت کی بارش میں بھگو رہا تھا…

رزم…مم…. میں آپ کی پاکیزہ محبت کے قابل نن… نہیں. وہ کہتی سسک پڑی.

واٹ…… رزم کے جزبات بھک سے اڑے تھے…اس سے دور ہوا..وہ اٹھ کر فوراً دور ہوئی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس بھرنے لگی.

. اتنا تو جان چکا تھا کہ وہ بھی اس سے محبت کرنے لگی ہے مگر کچھ تو تھا… جو غلط تھا..

رخ… میری جان…. تمھارے دماغ میں کیا چل رہا ہے.. فورا مجھے بتاؤ…ابھی کہ ابھی شئر کرو مجھ سے… میں تم سے اس قدر محبت کرتا ہوں.. یہ میرا حق ہے کہ تم اپنی ہر پریشانی مجھ سے شئر کرو.
اس نے نرمی سے پوچھا

وہ… رزم…. وہ… مجھے کڈنیپ… انھوں نے مم.. مجھے انجیکشن لگایا.. اس… کک.. کے بعد.. مجھے.. کک… کچھ بتا نہیں.. مم. میرے ساتھ کیا ہوا.. مم… میں آ…. آپ کے قابل نہیں..

اس کے ٹوٹے پھوٹے جملوں سے ہی ساری بات سمجھ کر رزم جھنجھنا اٹھا

رخ پاگل ہو کیا…مجھے جانتی ہو ناں.ہم وقت پر پہنچ گئے تھے.. کچھ بھی نہیں ہوا تھا اس دن.. کچھ بھی نہیں.. تمھیں با حفاظت لائے تھے ہم..

رخ نے بے یقینی سے اسے دیکھا… رزم نے سر تھام لیا.اور اس کی جانب افسوس سے دیکھتا بولا. تو اتنے دن سے میری پاگل بیوی یہ بے ہودہ بات سوچ سوچ کر ادھ موئی ہوئی جا رہی ہے…. ربش.

آ… آپ… مجھے ایسے.. ہی بہلا… رہے ہیں… وہ پھر پٹڑی سے اتری…

نہیں سچ بول رہا ہوں… لیکن اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہوتا بھی تو تم میرے لئیے اتنی ہی پاکیزہ ہوتی جتنی کہ اب ہو… فرشتہ صفت….. دنیا کی کوئی غلاظت تمھارا دامن داغدار نہیں کر سکتی… میری نظر میں…
میری محبت کو سمجھو رخ… مجھے سمجھنے کی کوشش کرو…

وہ روتی بسورتی ٹس سے مس نا ہوئی تو رزم نے ٹھنڈی آہ بھری..

اوکے… تمھاری تسلی کے لیے میں صبح تمھیں ہوسپیٹل لے جاؤں گا… وہاں ہوسپیٹل ریکارڈز میں اپنی رپورٹس دیکھ لینا میری پاگل وائفی….

رخ نے سوں سوں کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا.

اور اگر جو تم یہ خرافات اپنے زہن میں پال کر بیٹھی ہو وہ رونگ ثابت ہو گئے تو کل رات خود بخود…….. خود کو میرے سپرد کر دینا… وہ بے حد شرارت سے بولا تو وہ خود میں سمٹ گئی…
چودہ کیا یہاں تو چار کے بھی آثار نظر نہیں آتے… رزم با آواز بلند بڑبڑایا. تو رخ بلش کر گئ.

اچھا ادھر آو…
وہ ہچکچائی…
رخ کچھ نہیں کروں گا یار…. ادھر آؤ…
وہ قریب آئی.. رزم نے بیڈ پر نیم دراز ہو کر اسے بانہوں میں بھر کر سینے میں بھینچا…
سو جاؤ….
لیکن……….
رخ… بحث چاہتی ہو تو جاگنا پڑے گا… جاگی تو میری شدتیں برداشت کرنی پڑیں گی ابھی… اسی لیے کہہ رہا ہوں سو جاؤ.

رخ نے عافیت اسی میں جانی کے اس کے سینے میں منہ دییے سو گئی…
اسے سکون سے سوتے دیکھ رزم بھی گہری نیند میں چلا گیا…..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ بیڈ پر بیٹھی انگلیاں چٹخاتی یش کا انتظار کر رہی تھی.
جب وہ دروازہ کھولتا سنجیدگی سے اندر داخل ہوا..

تاشی کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں.

وہ ڈریسنگ روم میں گیا…اور تھوڑی دیر بعد یونیفارم کی پینٹ کے اوپر براؤن ہڈی پہنے باہر نکلا…

تاشی… آرام کرو جان… میں ضروری کام سے جا رہا ہوں.. شاید ساری رات واپس نا آؤں… ویٹ مت کرنا… سو جانا.
وہ الماری میں منہ دئے پتہ نہیں کیا ڈھونڈ رہا تھا.

تاشی سخت بد مزہ ہوئی… کاش اسے کہہ سکتی.. یش مت جاؤ… یہیں رہو میرے پاس… مجھے آپ کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا…
مگر کچھ بھی کہہ نہیں پائی.. یونہی بیٹھی بے چینی سے انگلیاں چٹخاتی رہی…

اونہہ…. میری اس بکواس کی وجہ سے مجھ سے بھاگ رہے ہیں… کھل کر بات نہیں کر سکتے مجھ سے.. کیا ہے جو تھوڑی وضاحت دے دیں…. وہ دل میں تلملائی..

اور سچ بھی یہی تھا… تاشی کا یش اس سے بھاگ رہا تھا..

وہ اس پر ایک بھر پور نظر ڈال کر کمرے سے نکلا.. کمرہ آٹو لاک ہو گیا. وہ باہر نکلتا چلا گیا..

پیچھے وہ کانٹوں پر گھسیٹ لی گئی تھی..
چہار سو کمرے میں اس کی خوشبو تھی مگر وہ نہیں تھا..
رات کے بارہ بج چکے تھے.. مگر اب تو کروٹیں بدل بدل کر بھی تھک گئی تھی..

یش کو باہر ایک پل بھی سکون نہ آیا… دل تھا کہ اپنے گھر اپنے کمرے میں اس دشمن جاں کے قدموں میں ہی کہیں رہ گیا تھا…. بے چینی حد سے سوا تھی… جسم یوں ٹوٹنے لگا جیسے آڈکٹ ہو تاشی کا.. اسی لئے فلیٹ سے فورا واپسی کی راہ لی. بھاڑ میں جائیں ساری غلط فہمیاں….. اسے بس اپنی تاشی کے پاس جانا تھا..

تاشی کروٹیں بدل بدل کر فل بیزار ہوئی… مگر نیند نے نہیں آنا تھا نا آئی.. وہ جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی..
اب کیا کروں؟

یونہی وقت گزاری کے لیے اٹھ کر بڑے سے کمرے میں گھوم پھر کر دیکھا…
پھر الماری کی طرف گئی…..

وہاں یش کی چیزیں پڑی تھی… ڈریسنگ کھول کر دیکھی..
ایک سیکرٹ کیبن تھا الماری میں…..
پاسورڈ انگلش ایلفا بیٹ میں لگا تھا.

اور تاشی کو یش کے پاسورڈ کا نہ پتہ ہوتا… یہ سوچنا تو مزاق ہی تھا.

اس نے جلدی سے تاشی ملایا.. کیبن کھل گیا.. کیبن میں ڈھیر ساری ہاکی…بلیک اور اسی طرح کے ڈارک کلرز میں ہڈی والی ٹی شرٹس اور رومال رکھے ہوئے تھے..
جانے کیا سوچ کر ایک ہاکی،. ایک ہڈی اور ایک رومال اٹھایا اور کیبن دوبارہ لاک کر دیا…

ہاکی اور رومال ڈریسنگ پر رکھا… اور واش روم گئی…
تھوڑی دیر بعد باہر آئی تو اپنے مہرون ٹراؤزر اور مہرون شارٹ شرٹ کے اوپر یش کی بلیک ہڈی پہنی ہوئی تھی…

باہر آئی… آئینے میں خود کا بھر پور جائزہ لیا… رومال اٹھایا… منہ پر نقاب کی طرح باندھا… اور ہڈی سر پر لی

Wow……… Not bad Tashi…… That’s great………
Yash………. little part 2. Hahahahha

خود ہی کھلکھلا کر ہنس دی یہ جانے بغیر کے اس کی ایک ایک حرکت قدرے اندھیرے میں دروازے میں اطمینان سے ٹیک لگائے کھڑا یش گہری مسکراہٹ سے دیکھ کر انجوائے کر رہا ہے.

اب اس نے ہاکی اٹھائی.ایک ہاتھ ہڈی کی پاکٹ میں ڈالا.. اور یش کی طرح اٹیٹیوڈ سے ہاکی بائیں ہاتھ میں گھمانے لگی…

یش کا بے ساختہ قہقہہ بلند ہوا……. وہ بے تحاشا گھبرا کر اچھلی… تیزی سے گھومتی آہنی ہاکی… نازک سے پیر پر جا بجی…..

آؤچ……… تاشی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی… یش تڑپ کر اس کی جانب بڑھا.

یش کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوئے…

بھاگ کر واش روم میں جا کر بند ہونا چاہا… مگر پیر نے بےوفائی کر دی.. بھاگ نا سکی اسی لئے یش کی مضبوط اور آہنی گرفت میں پھنس گئی…

اب کہاں چل دیں ہنی… زرا مجھے بھی تو دیکھنے دو… Yash little part 2

تاشی کانوں تک سرخ تھی.

یہ کہہ کر اس نے ہڈی نیچے کرتے ہوئے شہادت کی انگلی پھنسا کر چہرے سے رومال نیچے کیا.. ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے تھامے خود سے لگایا ہوا تھا..

یش…. پلیز…اور آپ نے کہا تھا کہ آپ پوری نائٹ گھر نہیں آئیں گے.جھوٹے.. یش کی جسم پگھلاتی دہکتی قربت سے گھبرا کر اور اپنی خفت مٹانے کو وہ اسی پر چڑھ دوڑی.

شکر ہے آگیا… ورنہ Yash little part 2 کو دیکھنا تو مس کر دیتا.. وہ مسلسل اسے چھیڑ رہا تھا…
خوشبوؤں میں بسا نرم و نازک گداز وجود…. تاشی کا وجود… اس کی قانونی اور شرعی ملکیت کا وجود اس کی بانہوں میں تھا…
یش کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی

ی………. یش…… یش….. آج پھر اس کے کپکپاتے لبوں سے اپنا نام سن کر یش کی جان لبوں پر آئی…

اس نے بے خود سا ہو کر تاشی پر سے ہڈی اتاری… اسے بانہوں میں بھر کر اپنی جانب کھینچا اور اس کے نرم اور گداز لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیا…

یش کے بھڑکتے لمس کی شدت تاشی کی چھوٹی سی جان پر بن آئی تھی… اس نے سختی سے یش کی ٹی شرٹ ہاتھوں میں جکڑی ہوئی تھی..

یش کے ہاتھ اس کے پچھلے گلے کی ڈوری میں الجھے… جھٹکے سے ڈوری ٹوٹ کر اس کے موتی کارپٹ پر جا بجا بکھرے تھے.

تاشی کی سانس اکھڑنے لگی….اگر یش نے مضبوطی سے تھاما نا ہوتا وہ کب کی پگھلتی زمین بوس ہو چکی ہوتی.
یش نے نرمی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشی…

اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا…… اور خود اس کے اوپر جھکا..اس کے دونوں ہاتھوں میں اپنے ہاتھ پھنسائے..

یش………….. وہ… مم….. میں..تاشی اس کا پاگل پن سہہ نہیں پا رہی تھی..
یش کا فوکس تاشی کے کپکپاتے لب ہی تھے… وہ ایک مرتبہ پھر محبت کا جام پینے اس کے بھیگے لبوں پر جھکا…
تاشی مچلی…..تڑپی…
اس کی بڑھتی جسارتیں تاشی کی روح فنا کر رہی تھیں.

وہ لبوں پہ سے اس کی گردن تک آیا….

اس کے کندھے پر اپنے ہی دانتوں کے نشان دیکھے..

ایک سیکنڈ لگا تھا جب تمام جزبات بھک سے اڑے تھے…
اسے چھوڑ کر سیدھا ہوا….
یش کو اپنے آپ سے بے حد خوف محسوس ہوا.. کچھ اور الفاظ کانوں میں گونجے… .. قیمت……… وصول…..
گہرے گہرے سانس بھرتی تاشی کو کھینچ کر سینے پہ لٹایا.

سو جاؤ تاشی…..
ی………….. یش

شششششش…… سو جاؤ… تاشی… میری شدتیں برداشت نہیں کر پاؤ گی ابھی……. . مر جاؤ گی….

تاشی اب اپنے یش کی پناہوں میں تھی.. اسی لئے بہت جلد گہری نیند میں چلی گئی…
یش نے گہری سانس لی….. کروٹ لی اور اسے خود میں بھینچا..
اور آنکھیں سکون سے موند لیں……

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

صبح رزم کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے بازوؤں میں گہری نیند سو رہی تھی…
چہرے پر الوہی سی معصومیت تھی..

رخ……. اس نے پکارا.. وہ کسمسائی.. مگر اٹھی نہیں..
رزم کو بھی شرارت سوجھی.
اس کی گردن پر جھکا… ہلکی بیئرڈ سے گدگدی محسوس ہوئی..
اس نے نیند میں برا سا منہ بنا کر اسی کے سینے میں فوراً منہ چھپایا.

رزم نے اسے سیدھا کیا… اور اس کے لبوں پر جھکا.

نیند میں جب اسے خود پر ڈھیر سارا وزن اور سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئیں تو جھٹ سے آنکھیں کھولی.

رزم کی شرارت سمجھ کر اس کے سینے پر مکا جڑا..

وہ قہقہہ لگاتا پیچھے ہٹا..
وہ لمبے سے سانس بھرتی.. غصے میں پھنکاری..

یہ کیا طریقہ تھا اٹھانے کا رزم… قسم سے آپ بہت بد تمیز ہیں….

میں تو روز اسی طریقے سے اٹھاؤں گا…. ڈارلنگ… بڑا کار گر رہا….. تم فوراً اٹھ بھی گئیں..
رخ دانت کچکچاتی تکیہ لے کر اس کی جانب لپکی…

اب پورا کمرہ جنگ کا میدان بن چکا تھا… رزم اس کے ہاتھ نہیں آ کر دے رہا تھا… اس کے کئی وار خالی گئے.. جب وہ روہانسی ہوئی چند ایک جان بوجھ کر کھا بھی لیے.

یہ تو رزم کے لئے پھولوں کی بارش تھی… جس سے اپنی نازک سی جان ہلکان کر رہی تھی…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

تاشی سو کر اٹھی..
خود کو یش کی آہنی گرفت میں پایا..

اس کی نیند خراب نا ہو اسی لئے دھیرے سے اپنی کمر پر بندھے اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی..

تاشی کے گھنے لمبے بال آبشار کی طرح یش کے سینے پر بکھرے ہوئے تھے.
.
رات پچھلے گلے کی ڈوری ٹوٹنے کی وجہ سے اب اگلا گلا گہرا ہو گیا تھا.

جس سے جسم کی تمام رعنائیاں واضح ہو رہی تھی… وہ شرم سے دوہری ہوئی.چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا.. اس نے ایک ہاتھ سے سارے بال اکٹھے کر کے اپنے گلے پر گرائے.
یہ جانے بغیر کے یش تو اسکے جاگنے سے پہلے کا جاگ چکا تھا
اور اب اس کی ایک ایک معصوم حرکت نوٹ کر رہا تھا.
.
یش کے اٹھنے سے پہلے تاشی اپنا آپ چھڑوا کر چینج کرنا چاہتی تھی.. مگر پانچ چھ منٹ کی تھکا دینے والی مشقت کے باوجود اس کے کسرتی بازوؤں کا حصار توڑ نا سکی اور نڈھال سی ہو کر اس کے سینے پر گر گئی.

یش کا قہقہہ بلند ہوا.. تاشی نے چونک کر سر اٹھایا..

یش………… وہ روہانسی ہو کر چلائی… یش ہنستا چلا جا رہا تھا. تاشی نے اس کے سینے پر چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مکے برسائے..

میں کب سے گھل رہی ہوں آپ کے ان ڈولے والے بازوؤں سے اور آپ تماشہ دیکھ رہے ہیں … مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی…چھوڑیں مجھے…وہ یش سے الجھتی اپنی حالت اور سچویشن بلکل بھول ہی گئی. جبکہ یش کی حالت غیر ہو چکی تھی اسے اس طرح دیکھ کر

Yash little part 2
اگر ہمت ہے تو چھڑوا لو مجھ سے اپنا آپ…. یش نے اسے پھر چھیڑا اور ستایا.

یش پلیز… میں نے چینج کرنا ہے.. چھوڑیں مجھے.رات آپ نے میری شرٹ خراب کر دی.. تاشی کی زبان پھسلی…مگر فوراً دانت تلے لب دبایا.

میں نے کیا کیا….. میں نے تو کچھ نہیں کیا تھا… وہ صاف مکرا….
تاشی کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں…

اور میری ڈوری کس نے توڑی……. فورا کہہ کر ہاتھوں میں شرم سے منہ چھپایا.
یش کا قہقہہ جاندار تھا.. یہی معصوم ادائیں تو اس کی جان لیوا تھیں..

یش نے کروٹ بدلی اور اس پر حاوی ہوا..
چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹائے… جھک کر اس کی بیوٹی بون پر اپنے دہکتے لب رکھے..
تاشی کے رونگٹے کھڑے ہوئے..

یش…….بب….بریک فاسٹ پر سب ویٹ کک… کر رہے ہوں گے……
وہ بیوٹی بون سے اس کی گردن کے تل تک آیا تھا.

تاشی… جزبات سے بوجھل بھاری آواز میں اسے پکارا…

..ی….. ….یش……

ششش…. وہ مکمل اس پر جھکا گردن میں منہ دئیے بولا. تاشی میں جب بھی تمھارے قریب آیا… تو مجھے بس تمھارے اس تل کو اپنے لبوں سے چھونے کی خواہش ہوئی اس کے علاوہ اور کچھ نہیں….
اس نے ایک مرتبہ پھر اپنے دہکتے لب اس کے تل پر رکھے…اور اس سے پہلے وہ اپنی باتوں کی وضاحت دیتا
اور اس سے پہلے کوئی اور گستاخی کرتا.

دروازہ ناک ہوا تھا.. وہ سخت جھنجھلایا…. تاشی کو بھی بلکل اچھا نہیں لگا.. وہ اسے سننا چاہتی تھی.

مگر یش اس سے دور ہوا…. اوراسے گلے کی طرف متوجہ کرتا ڈریسنگ روم میں جانے کا اشارہ..
وہ ہڑبڑا کر اٹھی.. اور ڈریسنگ روم بھاگ گئی..
یش گہرا سا مسکرایا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ناشتے کی ٹیبل پر ایک اور سرپرائز ان کا منتظر تھا..

شمس لالہ نے ان کا شمالی علاقہ جات میں جانے اور گھومنے پھرنے کے تمام انتظامات مکمل کیے ہوئے تھے
انھیں آج ہی جانا تھا.
رزم اور یش تو گہرا سا مسکرائے

تھینکس لالہ… مگر مزا تو تب آتا جب آپ لوگ بھی ساتھ چلتے…
نہیں… نوال ابھی چھوٹی ہے… اور ادھر ابھی برفباری کا موسم ہے… تم لوگ انجوائے کرو جا کر… مجھے آفس میں بھی چند بہت ضروری کام ہیں….

تاشی کے چہرے پر خوف کے سائے تھے.. یش نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے حوصلہ دیا……

پیکنگ وغیرہ کرنے میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا.

وہ لاہور سے اسلام آباد بائی ائیر آئے…….
پھر وہاں سے اپنی اپنی گاڑیوں میں ایبٹ آباد کے لئے روانہ ہوئے

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟