No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
منال کی رخصتی کے وقت ان سب کی آنکھیں بھیگی ہوئیں تھیں…
منال بھی نازیہ بیگم سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی..
اور پھر قیصر نے اسے گاڑی میں بٹھایا… تو وہ سمٹ کر ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی.. نوال کو گود میں بٹھا لیا…
شمس اس کے ساتھ بیٹھا.. گاڑی چل پڑی..
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی… صرف نوال نے ہی شور مچا رکھا تھا.. وہ کنفیوز سی تھی..
شمس نے ہاتھ بڑھا کر نوال کو اپنی گود میں لے لیا.. منال نے پہلو بدلہ.. مگر ڈرائیور کے سامنے کچھ بول نہیں پائی. اسی لئے خاموش تماشائی بن گئ..
وہ نوال کو گود میں لئے ایسے پچکار رہا تھا جیسے پتا نہیں کتنا مانوس ہوں ایک دوسرے سے.
نوال بے بی… اب چاکلیٹ کھائے گی.. اس نے اپنے کوٹ کی پاکٹ سے چاکلیٹ نکال کر نوال کو دی جسے وہ پا کر بے حد خوش ہو گئی..
این مینشن میں ان کے استقبال کی شاندار تیاری تھی.. گیٹ سے لے کر شمس کے کمرے تک پھولوں کی راہ گزر بنا دی گئ تھی..
منال دل میں اپنی حالت پر خوب کلس رہی تھی…
مگر حرا اور قیصر کی وجہ سے خاموش تھی..
کچھ رسمیں کرنے کے بعد اسے کمرے میں لایا گیا تھا.. حرا اس کے پاس بیٹھی تھی..
پھر ایک مہربان سی عورت کمرے میں داخل ہوئی.. چہرے پر بہت نرمی تھی…
منال ان سے ملو یہ شمس کے بہت ہی وفادار ملازم کم اور دوست زیادہ اعظم ان کی بیوی سارا ہیں… اپنی اولاد نہیں ہے.. آج سے نوال کی دیکھ بھال یہ بہت محبت سے کریں گی..مجھے پورا بھروسہ ہے ان پر. یہ بلکل ساتھ والے کمرہ نوال کے لئے سیٹ کروایا ہے شمس نے…
منال نے منع کرنا چاہا مگر اس نے دیکھا کہ کچھ دیر میں ہی نوال ان سے کس قدر مانوس ہو چکی تھی.ان کی آنکھوں میں بھی ممتا کا ایک جہان آباد تھا.. اسی لئے منال منع نہیں کر پائی..
جب نوال کھیل کر تھک چکی تو سارا اسے دوسرے کمرے میں لے گئی.
تم آرام کرو منال میں شمس کو بھیجتی ہوں.. حرا کی بات پر منال اندر سے لرزی تھی.حرا جا چکی تھی.وہ پریشان تھی. اس وقت باپ کا سوچ کر رشتے کے لئے ہاں کر چکی تھی… پر اب اس رشتے کو قبول کرنے میں اس کی روح فنا ہو رہی تھی.
جب کچھ دیر میں شمس بہت خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا..
منال اس عالیشان کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جس سے اس نے زندگی میں سب سے زیادہ نفرت کی تھی..
اس کا جی چاہا ہر چیز تہس نہس کر دے.
یہ قسمت نے کیا کھیل کھیلا تھا اس کے ساتھ..
اس نے جھر جھری لی…
نوال تمھاری جگہ میں…
اور وہ اشتعال اور وحشت کی انتہاؤں پر پہنچی تھی اور اٹھ کر اسپیشل انٹیرئر ڈیزائنر سے سجوائے گیے روم کو تہس نہس کر دیا.
مسہری کے ارد گرد لگائے گئے سارے پھول نوچ نوچ کر پھینک دئیے بیڈ شیٹ کھینچ کر نیچے پھینکی…
ڈریسنگ کے سارے پرفیوم اٹھا کر فرش پر پٹخے.
کچھ ہی لمحوں میں کمرہ یوں منظر پیش کر رہا تھا جیسے بہت بڑا ہوا کا بھنور وہاں سے گزر کر تباہی مچا گیا ہو..
اب وہ بیڈ کے کنارے فرش پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی.بس یہی سوچ روح فنا کر رہی تھی کہ
اگر اس نے مجھے چھونے کی کوشش کی تو….. تو میں خود کو آگ لگا لوں گی..میں کبھی اس کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گی..
شمس جو بڑی دیر سے یہ سب اطمینان سے پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے دیکھ رہا تھا. جیسے معلوم تھا کہ یہی سب کچھ ہونے والا ہے..
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھا..
آہٹ پاتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا تھا……
ہممم……. Not bad…… مسز شمس…. شکر ہے اتنی عقل تو ہے.. میں نے اس کمرے کو دیکھ کر کیا کرنا تھا.صرف اپنی وائف کو دیکھنا تھا. پر صد شکر کے تم نے اپنا حلیہ نہیں بگاڑا….
وہ اتنی سیریس سچویشن میں بھی بظاہر سنجیدگی سے کہتا اسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا.
وہ بپھری شیرنی تیزی سے اٹھی.. ڈریسنگ کے سامنے جا کر خود سے ایک ایک چیز نوچ کر پھینکنے لگی. وہ چپ چاپ پیچھے کھڑا آئینے میں اس کا ہر انداز دیکھ رہا تھا.. جب چوڑیاں نوچتے ہوئے کافی ساری ٹوٹ کر اس کی نازک کلائی کو زخمی کر گئیں تھیں… منال کے منہ سے تکلیف سے سسکی نکلی اور خون کی بوندیں تیزی سے باہر آئیں…
اب شمس کا میٹر شارٹ ہوا تھا.. تیزی سے اس کی جانب بڑھا.. اسے اچانک بازوؤں میں بھر کر بیڈ تک لایا اور بیڈ پر پٹخا..
یہ کیا بد تمیزی ہے… وہ چلائی اور اس سے پہلے تیزی سے اٹھ کر بیڈ سے اترتی.. شمس اس پر جھک کر اس کے بازو بیڈ سے لگا چکا تھا..
دور رہیں مجھ… خبردار میرے قریب آئے… مجھے چھونے کی کوشش کی… چھوڑیں مجھے… وہ بہتی آنکھوں سمیت غرائی.
Don’t you dare Mrs Shams khan…..
جو چاہو گی وہی ہوگا… اگر کہو گی قریب نا آؤ…. تو نہیں آؤں گا.. تمھاری مرضی کے بغیر نہیں چھوؤں گا تمھیں.. لیکن اگر خود کو نقصان پہنچانے کا سوچا بھی تو قریب بھی آؤں گا… اور روکوں گا بھی تمھیں… سمجھیں.اس نے جھک کر اس کے آنسو اپنے لبوں سے چنے…اس کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا پیار بھرا لمس چھوڑا
وہ اس کے دہکتے لمس سے بے چینی سے مچلی… شمس نرمی سے پیچھے ہٹا.. دراز میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا
اور اس کی جانب بڑھایا..
مجھے ضرورت نہیں..
ابھی ابھی جو اس نے تڑپتی سلگتی حرکت کی منال سرخ ہوئی بمشکل بولی..
منال اپنے زخم صاف کر کے آئنٹمنٹ لگاؤ.. پھر اگر یہ کرنے میں قریب آیا تو تمھیں ہی شکا یت ہوگی…
شمس نے سنجیدگی سے کہا.. لیکن آنکھوں میں شرارت کی چمک تھی.
اتنے برسوں بعد یہ سونا اور برباد ہوا کمرہ آباد ہوا تھا اس کے دل کی طرح.. ایک سرور سا تھا جو رگ و پے میں سرائیت کر گیا تھا.
اسے چھیڑ کر… تپا کر شمس کو بہت مزا آ رہا تھا
منال نے شرافت سے باکس تھام لیا.. اور اپنے زخم صاف کرنے لگی..
کمرے میں اس کی چوڑیوں کی معنی خیز سی کھنک گونج رہی تھی… وہ اٹھی.. ڈریسنگ روم میں گئی.. باہر آئی تو سادے سے حلیے میں تھی.
وہ اندر گئی تو شمس نے کمرے کی کچھ حالت سدھاری.
شمس اپنا کوٹ اتارے بیڈ پر نیم دراز تھا.. اسے صوفے کی جانب بڑھتے دیکھ بھنا کر اٹھ بیٹھا..
مسز شمس بیڈ پر چلی آؤ… رائٹ ناؤ… کہا ہے نا.. کچھ نہیں کہوں گا… تو اعتبار کرو… نہیں کرو گی تو میں بھی خود کو نہیں روکوں گا….
منال جھنجھلائی… مگر اس ظالم کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا.. بیڈ کی ایک سائیڈ پر سمٹ کر لیٹ گئی ایک تکیہ اپنے اور اس کے درمیان رکھااور کمفرٹر سر تک تان کر سوتی بن گئی.
شمس کو ہنسی دبانا مشکل ترین امر لگ رہا تھا..
پرسکون اور لمبی سی سانس خارج کر کے سکون سے سو گیا…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
وہ اپنے بیڈ میں نیم دراز سے بے چینی سے ناخن چبا رہی تھی…
نیند گرے آنکھوں سے کوسوں دور تھی…. اپنا آج کا رویہ جب فرصت میں سوچا تو خود پر بے تحاشا حیرت ہوئی..
وہ اس کے پیچھے سٹور روم میں آیا تھا..وہ تنہا تھے.. مگر وہ ڈری نہیں.
اس نے تاشی کے پاؤں کو ہاتھ لگایا.. تاشی کو عجیب نہیں لگا..
یش مجھے درد ہو رہا ہے…. کتنی آسانی سے اپنی تکلیف میں اس نے اسے پکارا تھا.
اس نے تاشی کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا.. اسے ایک سیکنڈ کے لئے بھی جھجھک محسوس نہیں ہوئی اس کا ہاتھ تھامتے..
ایسا کیوں تھا.
وہ پاگل ہونے کو تھی سوچ سوچ کر…….. اور اپنے ہی شوہر کا ہاتھ اس نے تھامنے سے انکار کر دیا تھا.
یش کا لمس اس کے لئے کیوں اتنا کمفرٹیبل تھا..
اففففففففففف.ابھی وہ ان سوچوں کے گرداب میں پھنسی بیٹھی تھی.جب وہ مانوس سی خوشبو والا ہیولہ کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوا.
گرین پینٹ پر گرین ہڈی… براؤن آنکھیں.. مگر اب وہ رومال نہیں باندھ کر آیا تھا.
وہ نا چونکی نا ہلی نا سر اٹھا کر اسے دیکھا اسی اطمینان سے ٹانگیں فولڈ کیے کمفرٹر گود میں لئے بیٹھی ناخن ہی چباتی رہی.. کھلی سی ٹی شرٹ میں کندھوں پر بکھرے بال، سکارف گلے میں ڈالا تھا..
جانے کیوں………….. نا اس کے آنے پر خوفزدہ ہوئی.. نا غصہ…. اور نا ہی اب تک اسے جانے کا کہا
یش آ کر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا.اسے پتہ تھا جب اس کی تاشی بے حد اپ سیٹ ہوتی تھی تو ناخن چباتی تھی..
میرے بارے میں سوچ رہی تھیں.. تاشی
وہ سختی سے اس کی بات نہیں جھٹلا سکتی تھی.. کیونکہ وہ ایسا ہی کر رہی تھی جھوٹ بولتی تو اس کا یش سیکنڈز میں پکڑ لیتا.
معلما کے پاس ہمارے نکاح کی حقیقت پوچھنے گئی تھیں..؟
تاشی نے چونک کر سر اٹھایا..
میں نے بھی پوچھا تھا. ایک قاری صاحب سے.. اس نے کہا ہمارا وہ نکاح ویلِڈ نہیں… یش کی آنکھوں میں بے تحاشا کرب تھا.
لیکن جانتی ہو مجھے کیا لگتا ہے… مجھے لگتا ہے تمھیں صرف میرے لئے بنایا گیا ہے… اس دنیا میں تم صرف میرے لئے آئی ہو.. میری ہو… صرف اور صرف میری… یش کی آنکھوں میں جنون اور دیوانگی سی تھی.
اور اس کے ہر لفظ پر تاشی جی جان سے لرز رہی تھی..وہ تو آگے اتنی الجھی بیٹھی تھی اب یش اسے اور پریشان کر رہا تھا.. فوراً اس کی آنکھیں بھیگی تھیں.
دنیا میں تم صرف میرے ساتھ کمفرٹیبل رہ سکتی ہو.. اپنا آج کا رویہ یاد کرو..تم نے میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ کیوں تھمایا تھا تاشی…. جبکہ اسے منع کر دیا.
پلیز یش……. پلیز…… خاموش ہو جاؤ پلیز… تاشی نے وحشت زدہ سا ہو کر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے.. دل کمبخت بغاوت پر اترتے ہوئے اس کی ہر بات پر ایمان لانے کو بول رہا تھا. اپنی اس حالت پر وہ بے تحاشا رو دی تھی.
یش چونکا… اور تڑپ کر بیڈ کے قریب آیا… تاشی روؤ مت پلیز.. میرا مقصد تمھیں ہرٹ کرنا نہیں تھا..اس کے کلون کی قریب آتی خوشبو تاشی کو اور بد حواس کر رہی تھی..
اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے.
یش نے گلاس میں پانی ڈالا اور اس کی جانب بڑھایا…
یہ لو تاشی….
وہ گلاس پکڑنے ہی والی تھی جب گلاس اس کے ہاتھ سے پھسلا اور پانی گود میں گرا.. وہ ہڑ بڑا کر بیڈ پر کھڑی ہو کر نیچے اترنے لگی تھی جب اس کا پاؤں کمفرٹر میں الجھا.. وہ اوندھے منہ فرش پر گرتی جب ایک مضبوط ہاتھ کی نرم مگر دہکتی گرفت اسے اپنے پیٹ پر محسوس ہوئی.. تاشی نے دونوں ہاتھوں سے اس کا کندھا تھاما.. اس کا پورا وزن یش کے کندھے پر آیا تھا.. مگر وہ اپنی جگہ سے آدھا انچ بھی نا ہلا تھا.
کھلے بال آبشار کی طرح اس کے کندھے پر گرے تھے.. یش نے نرمی سے اسے نیچے اترنے دیا.. اور فوراً اس کے پیٹ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تھا…مخصوص سٹائل میں ہڈی میں ہاتھ ڈالے تھے.
تم ٹھیک ہو تاشی…
دل پر تاشی کی قربت سے قیامت گزرنے کے بعد بھی وہ اطمینان سے اس سے پوچھ رہا تھا تاکہ وہ نروس نا ہو..
اس نے نفی میں سر ہلایا.. یش چونکا
کیا مطلب تم ٹھیک نہیں ہو…
نہیں میں ٹھیک ہوں.. دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آئے گا..وہ بے حد گھبرا رہی تھی.. اپنے آپ سے . وہ دھڑکتے دل کے شور سے گھبرا کر واش روم میں گھس گئی..اس کے کمرے میں ایک غیر اور اجنبی موجود تھا… آخر تاشی کو اس بات سے کوئی فرق کیوں نہیں پڑ رہا تھا.
یش نے ٹھنڈی اور پرسکون سی سانس کھینچی اپنے اندر… اپنا بایاں ہاتھ سامنے پھیلا کر دیکھا…… اور وہاں سے نکل آیا…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
ماہی شدید غصے سے پھنکارتی اپنے کمرے میں ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی.
اس کی حرکت پر بار بار طیش آ رہا تھا
بد تمیز، کمینہ، آوارہ ۔ لوفر کہیں کا..
اتنے شدید غصے کے باوجود اس بے ہودہ انسان سے خوفزدہ ہو کر اس نے صبح کالج جانے کا ارادہ کر لیا تھا..
وہ لیٹنے لگی کہ فون رنگ ہوا.
نمبر دیکھا تو پھر حلق کڑوا ہوا..
اونہہ…. بدتمیز… کمینہ… ایسی حرکت کرنے کے باوجود اسے لگتا ہے میں اس کے منہ لگوں گی…
کان لپیٹ کر یونہی بیٹھی رہی.. فون رنگ ہو ہو کر اچانک خاموشی چھائی اور پھر میسج رنگ ہوا..
اس نے ڈرتے ڈرتے میسج اوپن کر کے ریڈ کیا تو پھر کانوں تک سرخ ہو گئی.
ڈارلنگ…. آئی تھنک تمھیں میرا دن کا پیار اتنا اچھا لگا کہ اب فون نا اٹھا کر مجھے ضد دلا کر تم وہ عمل دہرانا چاہتی ہو..
ماہی تلملائی.
اففففففف سڑیل…. بدتمیز…
فون رنگ ہوا… تو بڑی شرافت سے اٹھا کر کان کو لگایا مگر خاموش رہی.
تو پھر کیا خیال ہے ڈئیر وائفی. کالج جانا ہے کہ میرے پاس آنا ہے… لہجہ بے حد معنی خیز تھا…
ماہی تپی…. مم….. مجھے کالج جانا ہے….اب جلدی سوؤں گی تو صبح کالج کے لئے اٹھوں گی… اس نے اپنی دانست میں طنز کیا پر سامنے رزم علی تھا… اس کی بولتی بند کرنا جانتا تھا.
تو ڈارلنگ سو جاؤ… کس نے کہا کہ اپنے ہبی کے کئے گئے پیار کے خیالوں میں کھوئی رہو….
ماہی نے ہڑبڑا کر فون رکھا تھا
رزم قہقہہ لگا کر ہنس پڑا. اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا… وہ اس کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا مگر جا رہا تھا.. اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر کر رہا تھا..
اس سے محبت تو ہر گز نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ کسی مقناطیس کی طرح اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی.
اسے تپانا…. پٹانا… پریشان کرنا.. اس کا ہونق زدہ چہرہ… گھبراہٹ… خوف… ایک ایک ادا دل میں سوئی کی طرح اندر تک چبھ جاتی تھی..
آج اسے چھونے…. محسوس کرنے کا من کیا تو دل کی فرمائش پر عمل کرتے ایسا کر بھی گزرا….
نہیں… مجھے اس سے دوررہنا ہے……. بہت دور…..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
صبح شمس کی آنکھ کھلی تو مسکرا اٹھا..
قریب ہی بلکل اس کا پہلو ایک خوشبوؤں میں بسے وجود سے آباد ہو چکا تھا..
وہ اٹھا اور اس کے قریب آیا.
غور سے اسے دیکھا… بلکل نوال کی شباہت تھی اس میں
پر اس کے وجود کی اپنی کشش تھی.
رات کو جو شیرنی بنی ہوئی تھی… اب چہرے پر بچوں کی طرح معصومیت تھی.
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے بالوں کی لٹ کی نرمی سے پیچھے کیا….
وہ کسمسائی…..
وہ جھکا اور اس کی پیشانی پر دہکتے لب رکھے…. اس کے لمس کی تپش کا احساس تھا کہ وہ اچانک جاگی..
اسے خود پر جھکے دیکھا تو جھٹکا کھا کر اٹھی
ماتھے پر بل آئے..
فوراً بیڈ سے نیچے اترنے لگی جب شمس نے اس کا بازو تھام کر روکا تھا.
تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو… ڈرتی ہو کہ کہیں قریب آئی تو مجھ سے محبت نا ہو جائے.. شمس صبح صبح اسے چھیڑ کے اپنا دن خوشگوار بنانا چاہتا تھا.
اونہہہ… ڈرتی ہے میری جوتی آپ سے.. میں کیوں ڈروں گی بھلا… یہ لیں یہیں بیٹھی ہوں… تو.. اور نفرت کرتی ہوں میں آپ سے… زہن میں اچھی طرح بٹھا لیں یہ بات
وہ بلکل سیدھی ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئی
شمس نے ہنسی روکنے کے لئے دانتوں تلے لب دبایا.
اچھا… مسز شمس.. میں نے سنا ہے کسی سے نفرت کرنا طوفانی قسم کی محبت کا آغاز ہوتا ہے.
تو پھر میں آپ سے نفرت نہیں کرتی.. بلکہ محب…….. منال نے دانتوں تلے لب دبایا وہ اسے باتوں میں الجھا کر کیا کہلوانے والا تھا..
وہ جھنجھلا اٹھی.
شمس کا قہقہہ بلند ہوا..
وہ فوراً اٹھی اور کپڑے لے کر واش روم میں گھس گئی…
نوال اٹھ گئی ہوگی اسی لئے فریش ہو کر جلدی دوسرے کمرے کی جانب بڑھی.
سب نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا..منال کو مسلسل خود پر اٹھتی اس کی والہانہ نظریں ڈسٹرب کر رہی تھیں.
شمس نوال کو گود میں لئے باہر لان میں چلا گیا….
تومنال نے سکون کا سانس لیا.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
