Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

لو جی جناب پہنچ گئے گھر… حرا کے پاس چلتے ہیں.. ویٹ کر رہی ہو گی..
پلیز قیصر چاچو مجھے وہاں نہیں جانا مجھے اپنے گھر جانا ہے.. منال نے پہلو بدلتے ہوئے کہا.

ٹھیک ہے منال… انھوں نے اس کی حالت سمجھتے ہوئے کہا اور انھیں اگلی گلی میں ان کے گھر لے گئے.
جہاں پہلے سے سامان صحن میں رکھا تھا.. گاڑی اندر پورچ میں داخل ہوئی..

زری اور ماہی تیزی سے نکل کر باہر آئیں.
راستے بھر کی جو کوفت پریشانی اور گھبراہٹ تھی اپنا دس مرلے پر بنا اتنا خوبصورت گھر دیکھ کر سیکنڈوں میں ہوا ہوئی تھی.. اب چہروں پر دبا دبا جوش اور خوشی تھی.
چھوٹا سا لان تھا.. وہ گھوم پھر کر سارا جائز لینے لگیں.
پھر اندر گئیں.. چھوٹا سا لاؤنج اور پھر ان کے پیچھے بنے چار کمرے.. اور ایک طرف کچن تھا..
عابد اور نازیہ اپنے بچوں کے چہرے پر خوشی دیکھ کر نہال ہوئے…

لاؤنج کے ایک جانب اوپر جاتی سیڑھیاں دیکھیں تو زری اور ماہی اوپر بھاگ گئیں اوپر بھی تین کمرے تھے..

ماہی میں تو ٹیرس والا کمرہ لینے والی ہوں.. اففف اتنا پیارا گھر ہے ہمارا.. زری نے بچوں کی طرح خوش ہو کر کمروں کا جائزہ لیا…..
ہاں بہت پیارا گھر ہے…. ماہی بھی اکسائیٹڈ تھی.
وہ دوبارہ نیچے آئیں.. اتنے میں حرا اور اس کے پانچ سالہ بیٹا محسن اور بیٹی نائفہ بھی ساتھ ہی تھیں. وہ کھانا لے کر آئی تھی.. سب سے مل کر وہ زری کی جانب آئیں تو مبہوت رہ گئیں..
بابھی کیا یہ وہی ڈول ہے جس کا نام زرتاشہ ہے..حرا نے اس کا گال چھوا.. کم حسین تو ماہی بھی نہیں تھی.. مگر زری کی گرے آئیز اسے سب سے منفرد بناتی تھیں
حرا کی بات پر نازیہ مسکرا دیں.. محسن اور نائفہ بھی اس کے پاس آئے اور نائفہ نے اسے نیچے آنے کا اشارہ کیا.. وہ گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی تو نائفہ نے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے گال چھوئے..

مما یہ تو بلکل میری باربی ڈول جیسی ہیں بلکل… دودھیا رنگت.. براؤن بال اور گرے آنکھیں.. خوبصورت تیکھے نین نقش.. نائفہ نے حیرت سے اپنی ماں کو کہا تو سب ہنس دئیے..

اور کم پیاری تو یہ ڈول بھی نہیں ہے.. زری نے پیار سے اس کے گال پہ بوسہ دیا.. تو انھوں نے ہاتھ آگے کیے
فرینڈز…

یس…. فرینڈز… زری نے ان کے چھوٹے پیارے سے ہاتھ محبت سے تھامے..تو دو سالہ نوال اپنی آنی کو کسی اور کے ساتھ فری ہوتے دیکھ اب زیادہ برداشت نہ کر پائی… اور آ کر پورے حق سے اس کی گود میں سوار ہو گئی.. پھولے گالوں والی وہ پیاری سی خوبصورت بچی بھی محسن اور نائفہ کو بہت پسند آئی..
بہت خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا.

بچے آپس میں گھل مل گئے اب نوال نائفہ اور محسن کے ساتھ کھیلنے میں مگن تھی…
حرا تمھاری بچوں کو پڑھانے والی ٹینش تو دور ہو گئی ہے… میں نے آتے وقت گاڑی میں ان کے لئے ایک ٹیچر ہائر کر لی ہے… جو کہ بے حد ذہین ہے..قیصر نے بہت پیار سے زری کی جانب دیکھا تو مسکرا دی.

بھئی میں تو سکھ کا سانس لوں گی.. اگر ان آفتوں کو کوئی کنٹرول کر لے تو.. حرا جو اسپیکٹ کر رہی تھی.. طبیعت خراب رہتی تھی. اب یہ سن کر سکون کا سانس لیا تھا.
وہ پہلے ہی گاڑی میں میں اس سے بات کر چکے تو وہ خوشی خوشی مان گئ

پھر اگلا ایک ہفتہ بے حد تھکا دینے والا تھا.. عابد حسین نے اپنی ڈیوٹی جوائن کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کے لئے کوششیں کی ہوئیں تھیں.
گھر کی سیٹنگ میں سب کی جان ہلکان ہو گئی.. حرا کی طبیعت کچھ اور بگڑی تو ماہی اور زری اکثر اس کے پاس قیصر منزل چلی جایا کرتیں تھیں.

زری نے بے حد شرارتی محسن اور نائفہ کو بھی قابو کر لیا تھا.. اور انھیں روز دو گھنٹے پڑھا رہی تھی.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

یشار اور رزم ایک مخصوص علاقے میں ایک گھر میں داخل ہوئے…. ایک نیم تاریک راہداری سے ہو کر وہ ایک ہال میں داخل ہوئے… رزم نے زمین سےکارپٹ ہٹایا اور ایک دروازہ کھولا.. بیسمنٹ کی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے..
یہ ان کا ٹاچر سیل تھا جہاں بڑے بڑے سورما یشار کے سامنے طوطے کی طرح فر فر بول پڑتے تھے.

سامنے ہی کالی ایک کرسی سے جکڑ کر بندھا ہوا تھا.آج بے بس تھا…. مگر ان لوگوں نے سنا تھا کہ اس کا طریقہ واردات انتہائی بھیانک تھا….. جانے کتنی ہی تتلیوں کو پہلے کسٹمر کو دیتے تھے.. پھر وہاں سے لا کر سب خود درندگی کا نشان بنا کر دریا میں پھینک دیتے تھے..

. ایک طرف فرید ہاتھ باندھے کھڑا تھا..

یشار کے اشارہ کرنے پر فرید نے اس کے منہ پر سے ٹیپ کھینچ کر اتاری.. وہ بلبلا گیا..اور غرایا
کون ہو تم.. جانتے ہو میں کس کا آدمی ہوں.. ایس اے… ایس اے کا

میں ایس اے کا باپ ہوں… تم سے نمٹ کر پھر اسی کی باری ہے.وومن ٹریفکینگ میں اس کا نیٹ ورک کافی سٹرونگ ہے.. . اب صرف دو منٹ ہیں تمھارے پاس ایس اے کے بارے میں جتنا جانتے ہو منہ کھول دو تو سکون میں رہو گے ورنہ میں دوسری مرتبہ ہر گز آفر نہیں دیتا..یشار مخصوص سٹائل میں اپنی ہاکی اپنی انگلیوں میں گول گول گھما رہا تھا..

سرسراتا سرد لہجہ، بلیک ہُڈی میں رومال سے باندھا گیا منہ.. صرف شعلہ برساتی دو براؤن آنکھیں نظر آ رہی تھی.. دوسرا جو اس کے پیچھےاطمینان سے پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا.. تقریباً سیم حلیہ تھا پر اس کی آنکھیں سبز تھیں.. کالی کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف سے سنساہٹ ہوئی..

جو کرنا ہے کر لو میں کچھ نہیں بتانے والا…

او رئیلی.. یشار نے فرید کو اشارہ کیا.. اس نے دوبارہ اس کے منہ پر ٹیپ لگا دی.. اور اس کے ہاتھ میں ایک تیز دھار کٹر تھمایا..

یشار نے کرسی پر باندھے گئے ہاتھ کو پکڑ کر پہلے اس کی ایک انگلی کاٹی… وہ تڑپا.. پھر دوسری… درد کی شدت سے چہرہ سیاہ سے سیاہ ترین ہوا. اور پھر تیسری.. اب کی بار تو اس کی گلے کی رگیں یوں تنی جیسے ابھی پھٹ پڑیں گی.. اسے اس پاگل آدمی سے اپنی خلاصی اسی میں نظر آئی کے زور زور کے اثبات میں سر ہلانے لگا. کہ وہ بتائے گا………

یشار تمسخرانہ مسکرایا.. فرید نے آ کر ٹیپ اتاری تو پہلے تو وہ جی بھر کر چلایا یشار نے کٹر پھر اس کے ہاتھ کی جانب بڑھایا تو وہ پوپٹ کی طرح بول پڑا.
ہم نے کبھی ایس اے کو براہ راست نہیں دیکھا.. کبھی کوئی آدمی ہوتا ہے کبھی کوئی.. جو خود کو ایس اے کہتا ہے.. مگر ایک بزنس مین ہے سعید نامی جو ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہتا ہے.. ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں… اسی سے رابطہ ہوتا ہے ہمارا.. اس نے ضرور اصلی ایس اے کو دیکھا ہوگا…اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا..

ہمم… گڈ… اگر اس کے علاوہ تم کچھ نہیں جانتے تو میرے کسی کام کے نہیں

کیا مطلب وہ چونکا..
فرید نے اس کے منہ پر ٹیپ لگائی..
یشار اور رزم وہاں سے نکلتے چلے گئے.. باقی کا کام فرید کا تھا جو اب تک اس درندے کو جہنم واصل کر چکا تھا.
یشار اور رزم آ کر گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی زن سے بھگائی

سعید….یعنی ایس… اس کا مطلب یہ بھی ایس اے ہو سکتا ہے… یشار نے کہا..
ہمم. ہوم ورک کرنا پڑے گا.. اس کے بارے میں.. پھر ہی ہاتھ ڈالیں گے اس پر..
یشار چونکا… مجھے یاد آیا وہ جس ہاؤسنگ سوسائٹی کا نام لے رہا تھا وہاں تو حرا پھپھو بھی رہتی ہیں.
چلو یہ بھی اچھا ہو گیا اب وہاں رہ کر ہم یہ کام کر سکتے ہیں.. رزم نے لیپ ٹاپ آن کیا
یہ تو ہے…

یشار زونی تم میں انٹرسٹڈ ہے یار..انھوں نے اپنی ساتھی انٹیلیجنس آفیسر زونیہ ملک کا نام لیا.. جو ان کی مشترکہ فرینڈ بھی تھی..
مجھے پتہ ہے مگر میں نہیں ہوں.. یشار نے سنجیدگی سے کہا..
اس نے شمس لالہ سے بھی بات کر لی ہے.. تم سے شادی کے بارے میں..رزم نے بتایا تو یشار چونکا پھر دانت پیسے..
دماغ خراب ہو گیا ہے.. اس لڑکی کا..

اور تمھارا ٹھیک ہے جو کہ ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو…..
وہ سراب نہیں میری زندگی ہے… رزم مائینڈ اٹ
رئیلی… کدھر ہے..
یہاں.. یشار نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا تو رزم کا دل کیا ماتھا پیٹ لے.
وہ کرب سے مسکرا دیا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

حرا پھپھو…… میں آپ کا دور کا رشتہ دار یوسف ہوں اور یہ علی..اور ہم یہاں بیرونی ملک سے گھومنے آئے ہیں . آپ سمجھ رہی ہیں ناں میری بات…

ہاں ہاں سمجھ رہی ہوں… کل کے پیدا ہوئے لڑکے… مجھے سمجھا رہے ہو.. جانتی ہوں تم لوگوں نے اپنی پہچان چھپانی ہے.اور یہ عجیب عجیب شکلیں بھی اسی لئے بنائے گھوم رہے ہو.. بلکل یشار اور رزم نہیں لگ رہے… حرا نے یشار کا کان مروڑا مگر اس پہ خاطر خواہ اثر نہیں ہوا.

وہ کچھ دیر پہلے ہی قیصر منزل پہنچے تھے.اپنے اپنے چھوٹے سفری بیگ لے کر جیسے باہر سے آئے ہوں . اور اب وہ حرا کو تمام تفصیل بتا کر اسے سمجھا رہا تھا.
اس کے آنے پر حرا نے اسے چٹا چٹ چوم ڈالا تھا.

تم لوگ اوپر والے کمرے میں چلے جاؤ.. جب سے نوال گئی وہ کمرہ یونہی ویران پڑا ہے.. وہ کوئی آتا جاتا نہیں ہے..ان کے لہجے میں حسرتیں تھیں
نوال کے نام پر یشار چونکا..

یو مین پھپھو.. نوال بھابھی…
ہاں وہی بد قسمت… جو تمھارے باپ اور میرے بھائی کی انا کی بھینٹ چڑھ گئی.. اور اب سب کچھ کھو کر بھی جن کی اکڑ ہنوز برقرار ہے..حرا نے نفرت سے کہا
یشار نے لب بھینچے… کوئی بات نہیں پھپھو.. جو جھکتا نہیں وہ ٹوٹ جاتا ہے.

وہ اوپر آئے.. اور کمرے میں سامان رکھا….

یشار فریش ہونے چلا گیا جبکہ رزم نے آنکھیں موند کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی.
کانوں میں ایک نسوانی آواز اور کھلاہٹ سنائی دی.

رازی… میں تو تمھیں ایسے تنگ کروں گی…کھلکھلاہٹ….

کیا کروں گے..مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے تم آئے بڑے سورما..

جاؤ میں نہیں بولتی.. منہ پھولا ہوا.
پھر یہی کھلاہٹیں درد ناک چیخوں میں بدل گئیں..
راضی. میری پرواہ مت کرنا… ان درندوں کو ان کے انجام تک پہنچانا.
سسکیاں.. آہیں… بین… راضی میں بہت تکلیف میں ہوں..
دلدوز چیخیں..مجھے موت دے دو

رزم گھبرا کر اٹھ بیٹھا….. ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے تھے..
یشار جو کے نہا کر نکلا تھا پھر اسے اذیت کی حدیں چھوتا دیکھ پاس آیا اور کندھے پر ہاتھ رکھا..

یقین کیوں نہیں کر لیتے کہ وہ سب تقدیر کا فیصلہ تھا… اس میں تمھاری کوئی غلطی نہیں تھی….
وہ لال انگارہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے تلخی سے مسکرایا.

اٹس اوکے…. میں ٹھیک ہوں.. رزم نے تسلی دی.. یشار بھی وحشت زدہ سا ہو کر باہر نکلا…
باہر چھوٹا سا صحن تھا…. خوبصورت گملے اور پودے رکھے ہوئے تھے.
وہ یونہی جائزہ سا لیتا باہر آیا.. سامنے گلاس وال کے پاس گملے رکھے ہوئے تھے.. وہ گلاس وال کے قریب گیا.. اوپر کھڑے ہو کر ارد گرد ہر چیز کا جائزہ لیا…

پھر نظر سامنے گیٹ پر پڑی… اور جیسے پلٹنا بھول ہی گئی.. گرے اور ریڈ کمبینیشن میں کرتی اور پٹیالہ شلوار پہنے. ریڈ اور گرے سکارف سے حجاب باندھے دودھیا رنگت اور بلیک آنکھوں والی وہ لڑکی گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھی..
کچھ تو تھا.
کوئی خاص بات
کچھ عجیب سی کشش کہ وہ نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا.. خود کو سرزنش کر کے دوسری جانب دیکھنے کی کوشش کی مگر نظر بھٹک بھٹک کر پھر نیچے کی طرف طواف کر رہی تھی.
کیا میں صرف اس کے حسن سے متاثر ہو رہا ہوں.. تف ہے میری سوچ پر..
مگر ایسا ہر گز نہیں تھا…. ایک سے ایک حسین ترین لڑکی دیکھی تھی اس نے لندن میں مگر یوں کبھی بے اختیار نہیں ہوا تھا
ویسے میری تاشی میرے خیال کے مطابق بلکل ایسی ہوتی.. آنکھیں بس گرے ہوں تو…اب وہ لڑکی لان میں بیٹھی نائفہ اور محسن کو پڑھا رہی تھی.
اففف لعنت ہے میری سوچ پر…اب وہ دل ہی دل میں سخت کوفت میں مبتلا ہو چکا تھا خود سے بھی اور اس لڑکی سے بھی.. پھر ایک جھٹکا سے وہاں سے ہٹتا چلا گیا.
اندر آ کر بیڈ پر ڈھے گیا.
اپنی سوچوں پر لعنت بھیجی… کیا مجھے میری تاشی کے علاوہ بھی کسی لڑکی میں اتنی کشش محسوس ہو سکتی ہے…
دماغ خراب ہو گیا ہے میرا…… Shhitttttttttttttt.
تنگ آ کر تکیے میں منہ دیا.. رزم اس کی حرکتیں دیکھ کر حیران ہوا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

زری بچوں کو پڑھا رہی تھی جب اپنے وجود کو کسی کی نظر کے حصار میں محسوس کیا..
اس نے ادھر ادھر دیکھا… مگر وہاں تو کوئی نہیں تھا

وہ سر جھٹک کر پھر پڑھانے میں مگن ہو گئی…
یشار کو بلکل بھی سکون نہ آیا ایک عجیب سی بے چینی اور بے سکونی سی تھی..
دل ہمک ہمک کر چاہ رہا تھا کہ وہ اٹھے اور گلاس وال کے قریب جا کر کھڑا ہو جائے..بھنا کر اٹھا…

تن فن کرتا لاؤنج سے نیچے اترا….. اور لان میں نکل آیا..

اب لان میں حرا بھی موجود تھی……
آؤ یوسف…. بیٹھو ادھر آکر…. حرا نے کہا.. تو وہ یونہی پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ دیئے.. تھوڑا آگے ہوا…
سوالیہ نگاہوں سے حرا کی آنکھوں میں دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو یہ نمونہ کون ہے.
زری نے بچوں سے نظریں ہٹا کر دیکھا تو ایک اول جلول سے حلیے میں لڑکا اسی کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتا دکھائی دیا.. زری کو اس کے حلیے پر ہنسی آئی
مگر اس کی سرد بے تاثر سبز آنکھوں میں کچھ تو تھا جو وہ چونک گئی.
زری ان سے ملو… یہ میری خالہ کے دیور کا بیٹا یوسف ہے… باہر سے یہاں گھومنے آیا ہے اور یوسف اس سے ملو یہ زری ہے قیصر کے بھائی کی بیٹی…
حرا نے تعارف کروایا تو
ہائے… زری نے رسماً بول دیا.

مگر وہ منہ کے زاویے بگاڑتا مڑا….. اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا گیٹ سے نکلتا چلا گیا

افف کیا ہو کیا رہا ہے مجھے… میں تاشی کے علاوہ کیوں کسی کو اپنے دل و دماغ پر اتنا سوار کر رہا ہوں.
وہ یونہی آگ کو گولہ بنا سڑکیں ناپتا پھرتا رہا..تاشی حرا پھپھو کے گھر کیسے ہو سکتی..
وہ قیصر کے بھائی کی بیٹی کیسے ہوسکتی……… ناممکن…

اففففف آج تو پاگل ہو جائے گا یشار خان یوسف……

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟