Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ جھنجھلائی ہوئی….. سی گرین فراک کے نیچے پاجامہ پہنے سی گرین دوپٹے کو حجاب سٹائل میں لئے قیصر منزل میں داخل ہوئی…
اسے رات کا سین یاد آیا…
پلیز ماہی مجھے اپنے روم میں سونے دو مجھے ڈر لگ رہا ہے..
اففف… زری کتنی ڈرپوک ہو… جاؤ اپنے کمرے میں اب مجھے اکیلے سونے کی عادت ہو چکی ہے.. تم میرے ساتھ سؤو گی تو مجھے نیند نہیں آئے گی…
ہر گز نہیں… وہ اس کے کمفرٹر میں گھسی… میں تو یہیں سوؤں گی..
زری آج یہ فرسٹ اور لاسٹ بار ہے آئندہ میں یہ فیور ہر گز نہیں دینے والی… اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی..
اوکے میری دادی.. آج تو سونے دو…

اور اب پھر اس زری کی بچی نے اس کی جان سولی پر لٹکا دی تھی… طبیعت خراب کہہ کر اسے بچوں کو پڑھانے بھیجا…
اب رات زری کو بریو بننے کے لیکچر دے دے کر خود کس منہ سے بولتی کہ قیصر منزل تو خود اس کے لئے کسی نائٹ مئیر سے کم نہیں
پتہ نہیں کیوں پر وہ اس شخص سے.. اس کی غصیلی سرد نظروں سے خائف تھی.. جن میں بیک وقت نرمی بھی ہوتی اور وحشت اور غصہ بھی..
وہ بچوں کو پڑھا چکی تھی… جب فرزانہ نے آ کر اسے حرا کے بلانے کا بولا.. جو کہ صفائی اور کپڑے برتن دھونے کے لئے ہائر کی گئی تھی.

وہ اندر گئی جب سامنے حرا کے ساتھ ہی وہ سنجیدگی سے اپنا لیپ ٹاپ کھولے کسی کام میں مگن نظر آیا.
اونہہ…. سڑیل…. دل میں بڑبڑائی

جی چچی…. آپ نے بلایا مجھے….

ہاں. وہ زری تو ٹھیک ہے ناں.. آئی کیوں نہیں…

رات ڈر گئی تھی خواب میں… آپ کو پتہ ہے سٹارٹ سے پہت ڈرپوک ہے.. سر میں درد کروا لیا.. بزدل.

ہاں اسے بلکل تمھارے جیسا ہونا چاہیے تھا… بریو…

وہ حرا کی بات پربمشکل مسکرائی.اور پہلو بدلا. جانے کیوں اس بندے کی آنکھوں میں مزاق اڑاتا تاثر نظر آیا.

.. جبکہ پاس بیٹھے رزم نے دانتوں تلے لب دبا کر بمشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا.. کیونکہ وہ اس کے بریوری کے مظاہرے خوب اچھے سے دیکھ جو چکا تھا…

اچھا سنو ماہ رخ…. بریانی بنانی ہے.. میں نے قورمہ، چاول اور ہر چیز تیار کر دی ہے… تم بس تہہ لگا کر دم لگا دو پلیز…..تمھارے ہاتھ سے بہت کھلی کھلی بنتی ہے بریانی..

جی کیوں نہیں چچی…. وہ یہ کہہ کر جلدی سے کچن میں چلی گئی..

بریانی دم لگائی…بس جلد از جلد وہ گھر پہنچنا چاہتی تھی.. یہ بھی نا دیکھا کہ کچن کے فرش پر جا بجا پانی گرا ہوا ہے… یہ یقیناً ان شیطانوں کا کام ہوگا… فریزر میں سے پانی نکال کر پیا ہوگا اور نیچے گرا دیا ہوگا.

وہ جلدی سے باہر کی جانب بڑھی تھی جب پانی پر سے پھسل کر بہت بری طرح پاؤں مڑا تھا..
آہہہہہہہہہ…. ایک دلخراش چیخ گونجی تھی قیصر منزل میں …

حرا بری طرح چونک کر اٹھنے لگی اس کی حالت کے پیشِ نظر رزم نے انھیں فوراً بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود کچن کی جانب بڑھا.

سامنے ہی وہ نیچے بیٹھی.. پاؤں گود میں رکھ کر دہری ہو رہی تھی…

وہ آگے بڑھا… اس پر جھکا..

ڈونٹ ٹچ می…….. وہ غصے سے پھنکاری… آخر یہ سب اس سڑیل کی وجہ سے تو ہوا تھا..

رزم کی تیوری پر فوراً بل نمودار ہوئے… اسے پتہ تھا کہ اس بے وقوف لڑکی کو کیسے ہینڈل کرنا ہے…

اسی لئے
اب اگر ایک بھی لفظ منہ سے نکلا تو گلا دبا دوں گا پہلے کی طرح. وہ غرایا..

تو وہ سسک پڑی.آنسو تواتر سے بہنے لگے. جو کہ سامنے والے کو جانے کیوں بے حد تکلیف سے دو چار کر رہے تھے. درد ناقابلِ برداشت تھا.. اور وہ ظالم چیخنے بھی نہیں دے رہا تھا.. ماہی کا چہرہ لال سرخ ہوا.

وہ پھر اسے اٹھانے اس کے قریب آیا…..

وہ بولے بغیر زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی…
رزم نے غصیلی نظروں سے اسے گھورا…
وہ تڑپ رہی تھی… رزم نے اس نازک سی جان کو بانہوں میں بھرا..نرم و نازک گداز وجود.. رزم کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی.. دل کی بے حد عجیب کیفیت ہوئی . ا لا کر نرمی سے اسے صوفے پر بٹھایا

وہ رو رہی تھی.. درد سے دہری ہو رہی تھی..
میرا خیال ہے موچ آئی ہے… رزم نے حرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا..
رزم پلیز کچھ کرو.. ماہی بہت تکلیف میں ہے.. حرا بھی پریشان ہوئی…
وہ اس کے سامنے دو زانو کارپٹ پر بیٹھا.. پاؤں کی طرف ہاتھ بڑھائے..
نہیں… نہیں…… اس نے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے
دیکھنے دو مجھے… رزم نے غصیلی نظروں سے دیکھا

نہیں.. مجھے درد ہو رہا ہے..
رزم نے حرا کی جانب دیکھا حرا نے اشارہ کیا..
اس نے زبردستی پاؤں پکڑ کر اپنے گھٹنے پر رکھا.. ماہی نے سسکی بھری اور زور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا..
رزم نے اس کا ہاتھ ہٹایا اور ایک جھٹکے سے پاؤں سیدھا کر دیا…

آہہہہہہہہہہہہہہ… دلخراش چیخ تھی.. رزم کا چہرہ وحشت سے سرخ ہوا… نفرت تھی اسے ان چیخوں سے..
حرا اندر فرسٹ ایڈ باکس لینے گئی تھی.

چپ……. ایک دم چپ… خاموش ہو جاؤ.. اب مجھے تمھاری ایک بھی چیخ سنائی دی تو بہت برا ہوگا.. وہ غرایا
ماہی نے زور سے ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی سسکیاں دبائیں…

حرا باکس لے آئی تو رزم نے موو کریم اس کے پاؤں پر لگائی.

پاؤں ہلاؤ…
نہیں…..
اگر میں نے ہلایا تو زیادہ تکلیف ہو گی…
اس سڑیل کے خوف سے اس نے پھر پاؤں ہلایا.. اسے حیرت ہوئی… وہ پاؤں ہلا پا رہی تھی.. درد بھی بس اتنا نہیں تھا..

بے تحاشا روتے ہوئے وہ ہنسی.. دیکھیں چچی میں ٹھیک ہو گئی.. میرا پاؤں ٹھیک ہو گیا.. دیکھیں میں پاؤں ہلا پا رہی ہوں..
ٹھہریں چل کر دیکھاتی ہوں.. وہ بچوں کی طرح بھیگے سرخ چہرے سے ہنستی ادھر ادھر چکر لگانے لگی..
یہ جانے بغیر کہ ایک کورے، پتھر نما چٹانی دل پر بے تحاشا ضربیں لگا رہی ہے.
رزم اٹھا اور ایک غصیلی نظر اسے دیکھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

زری اپنے بیڈ پر بیٹھی بے چینی سے انگلیاں چٹخا رہی تھی..
کیا کروں.
اپنا ڈر کیسے بھگاؤں….
پھر ایک کوندا سا لپکا دماغ میں… چھت پر ہی بنے ایک سٹور نما کمرے میں گئی…
واپس آئی….
اور پھر لائٹ آف کر کے سائیڈ لیمپ جلایا… اور مطمئن ہو کر سو گئی.
ایک بجے کا وقت تھا جب یشار اس کی کھڑکی تک پہنچا تھا.. لیکن پر جھنجھنا اٹھا…کھڑکی بند تھی..
اپنے سیکرٹ طریقے سے کھڑکی کھولی… لیکن ابھی آہستگی سے کھڑکی کے پٹ کھولے ہی تھے.. جیسے زلزلہ آیا تھا…
خاموش سی فضا میں سٹیل کے برتنوں کی دھمک دور تک گونجی تھی.😂

یشار بھی گڑبڑایا تھا..
اور فوراً وہاں سے ہٹا…

ادھر زری بوکھلا کر اٹھی تھی..
تو اس کا شک بے فضول نہیں تھا.. کھڑکی میں اور پورے کمرے میں جابجا سٹیل کے برتن رکھ دیئے تھے.. تاکہ اگر کوئی کمرے میں آئے تو شور سے اس کی آنکھ کھل جائے..
اور واقعی یہی ہوا تھا اب تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے یہ سوچ کر کے روز اس کے کمرے میں کوئی آتا تھا…
روح کانپ گئی تھی.

کس کو بتائے… نہیں کسی کو نہیں بتا سکتی تھی.. اسے خود ہی اس سائے سے نمٹنا تھا..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

رزم آج کی یشار پر بیتنے والی کاروائی پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا..

ہنسی تو اس کو بھی بے تحاشا آ رہی تھی.اس اپنی تاشی کی اس چالاکی پر ٹوٹ کر پیار اور ہنسی آ رہی تھی.تو اسے فائینلی اپنے یش کی موجودگی کا احساس ہو ہی گیا تھا. مگر اپنی خفت مٹانے کو غصے سے اس کو گھور رہا تھا..

واہ واہ…. تاشی جی… انٹیلیجنس آفیسر کا سایہ پڑ ہی گیا…
Tashi rocked Yashar shoked
ہاہاہا ہاہاہا…. رزم اسے چھیڑنے سے باز نہیں آ رہا تھا…

اس نے تکیہ اٹھا کر رزم کی درگت بنا دی…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

شمس نے آٹھ سال بعد قیصر منزل میں قدم رکھا تھا….
وہ لاؤنج میں داخل ہوا حرا سامنے لاؤنج میں بیٹھی تھی..
اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی.
وہ قریب آیا تو اسے سینے میں بھینچ لیا…

میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں.. شمس اتنے سالوں بعد آئے ہو… میں بہت خوش ہوں…
شمس مسکرایا.. حرا کو دیکھ کر پھر حیرت ہوئی کیونکہ نوال کے جانے کے بعد تو وہ مسکرانا بھول ہی گیا تھا.

آپ سنائیں کیسی طبیعت ہے آپ کی.

میں بلکل ٹھیک ہوں…

بچے نظر نہیں آرہے…

وہ نوال کے ساتھ کھیلنے گئے ہیں…
شمس چونکا….. کون نوال…. ؟

شمس تمھیں پتہ ہے نوال کی جڑواں بہن ہے منال… ہو بہو اسی کے جیسی….
شمس خاموش رہا…
اسی کی بیٹی ہے.. نوال… اس نے اپنی بہن کا نام دیا اپنی بیٹی کو……
آپ نے پہلے کبھی نہیں بتایا…. شمس کے لہجے میں کچھ تھا کہ حرا چونک گئی.
تمھیں پتہ ہے اس کے بارے میں…؟
ہاں میں نے اسے نوال کی قبر پر دیکھا تھا…. وہ افسردہ ہوا

تو حرا نے موضوع چینج کرنے کے لئے بات بدلی.. شمس تمھاری اجڑی زندگی دیکھ کر مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہے. دوسروں کے گھر بسانے والا خود کتنا تنہا ہے… پلیز شمس شادی کر لو….
کروا دیں…..
حرا کو خوشگوار حیرت ہوئی… واقعی شمس… چہرہ پر دبا دبا جوش تھا….
کروا دیں شادی… مگر صرف اور صرف منال سے……. شمس نے حرا کے سر پر بم پھوڑا.
واٹ……… شمس ہوش میں تو ہو… تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو صرف اس وجہ سے کہ وہ بلکل نوال جیسی ہے..
حرا کو صدمہ لگا.

نہیں میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے اس میں برسوں بعد وہی کشش محسوس ہوئی جو نوال کو دیکھنے پر محسوس ہوئی تھی.

شمس نوال اس سے کچھ نہیں چھپاتی تھی… اسے سب پتا تھا… اس نے قیصر سے بھی تمھارے متعلق بات کی تھی.. اور سب سے بڑی بات شمس وہ تم سے نفرت کرتی ہے جو بھی ہوا اس کا زمہ دار تمھیں سمجھتی ہے..

مجھے معلوم ہے.. اس دن میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے بے تحاشا نفرت دیکھی تھی… تو کوئی بات نہیں… ایک مرتبہ شادی ہو جائے میں اسے منا لوں گا…اس کی نفرت کو محبت میں بدل دوں گا… شمس نے ہوا میں بات اڑائی

شمس وہ کبھی نہیں مانے گی……

مجھے یقین ہے قیصر منا لیں گے اس کو…..
حرا حیران ہوئی.. وہ تو ساری پلاننگ کر کے بیٹھا تھا..

شمس وہ پہلے بہت تکلیفوں سے گزر چکی ہے.. بدنصیب…

میں جانتا ہوں… میں اس کے ہر دکھ درد تکلیف کا مداوا کرنا چاہتا ہوں…
جیتے رہو……. اگر یہ رشتہ ہو گیا تو سب سے زیادہ خوش مجھے ہی دیکھو گے. حرا نے اس کا ماتھا چوما.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

رزم وہ دو دنوں سے بچوں کو پڑھانے بھی نہیں آئی…. کالج بھی نہیں جا رہی.رات بھی وہ سب کچھ ہو گیا.. مجھے اسے دیکھنا ہے… وہ بچوں کی طرح مچلا
پلیز میرے بھائی کچھ کرو…. میرے سینے میں میرا سانس الجھ رہا ہے… وہ بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے اذیت میں تھا.
اوکے…. سمجھو ہو گیا…. اب یہ رونی شکلیں بنانا بند کرو…
اس نے کال ملائی جو کہ اگلی ہی بیل پر رسیو کر لی گئی..
جی سر…. حکم…
ہاں… کامی…….. یہ جو ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں… آج اس گلی کے تمام گھروں میں ڈینگی کے مچھروں کا سپرے کرواؤ
لیکن جس گھر کا ایڈریس میں بھیج رہا ہوں وہاں ہمارے علاوہ کسی اور نے پاؤں رکھا تو ٹانگیں سلامت نہیں چھوڑوں گا.
جی سر جو حکم دو گھنٹوں میں پوری گلی میں ہو جائے گا… سر حلیہ اپنے والا ہی ہو کیا…
ہاں بلیک پینٹس…. وائٹ ہڈی پر بلیک رومال سمجھ گئے ناں میری بات..
جی سر
رزم نے اطمینان سے فون رکھا…
تو یشار کا دل کیا اس کے صدقے چلا جائے…
یہ یقیناً تم نے اپنی ہونے والی محبوبہ کے دیدار کرنے کے لئے پلان بنا رکھا ہوگا..اس نے چھیڑا..
بلکل گدھے ہو تم یشار……… اب وہ اسے کیا بتاتا کہ چور تو اس کے دل میں بھی تھا… لاشعور میں ہی سہی وہ بھی کسی کو دیکھنا چاہتا تھا…
پھر ڈیڈھ گھنٹے بعد وہ کامی کی بیل دینے پر بلیک پینٹس اور وائٹ ہڈی میں منہ پر بلیک رومال باندھے عابد حسین کے گھر کے باہر کھڑے تھے..
بیل دی…
نازیہ بیگم باہر آئیں.
اسلام و علیکم آنٹی… ہم ڈینگی سروے کے لئے حکومت کے نمائندے ہیں.. یہ ہمارے آئی ڈی کارڈ ہیں… ہمیں آپ کے گھر کا سروے کرنا ہے اور سپرے بھی کرنا ہے…رزم پروفیشنل نمائندوں کی طرح بولتا گیا..
اس طرح کے سینکڑوں آئیڈینٹٹی کارڈز ان کے خاص کاموں کے لئے بنے ہوئے تھے
ہاں بیٹا آ جاؤ پورے محلے میں ہو رہا ہے…. کیا زیادہ مچھر ہو رہے ہیں محلے میں..
جی آنٹی بس کیا بتاؤں آپ کو..
اس نے یشار کی طرف طنزیہ سا دیکھا جیسے کہنا چاہتا ہو کہ مچھر تو اس کے دماغ میں ہو رہے ہیں جو اسے ٹکنے نہیں دیتے.
وہ اندر داخل ہوئے… تو لان میں لاؤنج میں جیسے ایک طوفانِ بدتمیزی سا برپا تھا… نوال، نائفہ اور محسن لاؤنج میں کھیل رہے تھے.. منال اپنے کمرے میں تھی. وہ دونوں گرین گھٹنوں تک آتی ٹی شرٹس کے نیچے ٹراؤزر پہنے سروں پر حجاب سٹائل سکارف باندھے کچن میں گھسی ہوئی تھیں..
جب تک وہ سروے کے بہانے نیچے گھوم پھر رہے تھے تو تب تک تو شانتی ہی رہی لیکن وہ سپرے ریڈی کرنے کا کہہ کر اوپر چھت پر آئے
تو نیچے ایک ہنگامہ مچ چکا تھا.
سپرے تو ریڈی تھے… وہ تو اطمینان سے سیڑھیوں میں کھڑے نیچے ان کی کارستانیاں دیکھ رہے تھے.

ماہی میری آئس کریم واپس کرو..تم اوربچے کھا چکے ہو.. بھوکڑ خاندان کی… زری نے دانت پیسے… اور ماہی کی طرف لپکی.. وہ لاؤنچ میں صوفے کے پیچھے ہوئی

مما یہ دیکھو مجھے کیا بول رہی ہے…….

مسز عابد آپ تو اس کی سائیڈ لینا ہی مت…… بہت بری پیش آؤں گی.. اور تم مما کی چمچی میں خود کے بنائے پاستے کا ایک چمچ بھی تمھیں نہیں دینے والی…. ماہی چڑیل…
میں تمھیں چڑیل نظر آتی ہوں.. ماہی کو صدمہ لگا… اور خود گرے آنکھوں والی بھوتنی…. ماہی نے حساب برابر کیا

او خدایا بھوتنیاں اس قدر خوبصورت ہوتی ہیں… صدقے جاؤں.. زری فرضی کالر جھاڑتی اشارے سے خود کے صدقے چلی گئی…

اونہہہہہہہہ. خوبصورت….. انسان جتنا مرضی خوبصورت ہو پر اپنی چمی نہیں لے سکتا. ماہی تلملائی

میں لے سکتی ہوں… یہ دیکھو…. زری نے مڑ کر لاؤنج کے آئینے میں اپنے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے.
زری نے مڑ کر دیکھا وہ اس کا دھیان بٹا کر ساری آئسکریم کھا چکی تھی
زری کی صدمے سے آنکھیں پھیلیں… ماہی چڑیل… وہ پھر ماہی کی طرف لپکی…
نازیہ بیگم نیچے منہ کئے مسکرا رہی تھیں… اور تو اور بچوں بھی ان کی لڑائی انجوائے کر رہے تھے.
جب کے اوپر قہقہے ضبط کرنے کے چکر میں ان دونوں کے چہرے لال سرخ ہو گئے تھے…..
بس کرو زری… ماہی.. میرا خیال ہے ہمارے گھر اجنبی موجود ہیں جو یہ سنیں گے تو کیا کہیں گے یہ لڑکیاں کتنی بدتمیز ہیں.. نازیہ بیگم نے مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا…

دا گریٹ زرتاشہ کو تو نہیں کہیں گے….. اس بھوکی کا پتہ نہیں…. زری نے پھر کہا.

بھوکی کسے بول رہی ہو… ابھی تو میں نے دا گریٹ تاشی کے ہاتھ کا بنا ہوا پاستا بھی کھانا ہے..
ماہی.. میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے… Don’t call me like taht…..
زری خفا ہو کر کچن میں واک آؤٹ کر گئی…

زری جھنجھنائی….. یشار چونکا. وہ اس نام سے اتنا کیوں خفا ہوئی تھی..سٹرینج……
پھر وہ بظاہر اپنے کام سے فری ہوئے اور لاؤنج میں آئے… کچن کی کھڑکی سے تمام نظارہ آنکھوں کے سامنے تھا..
نا صرف زری کو بلکہ آج تو ماہی کو بھی عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی.
انھوں نے کھڑکی سے باہر جھانکا…
یہ کون ہیں… ماہی چونکی……
ڈینگی سروے والے . زری نے سرگوشی کی
اتنے ہینڈسم…..
ہاں یہ تو ہے….. کھی کھی کھی…. وہ اپنی بات خود ہی انجوائے کر رہی تھیں یہ جانے بغیر کے وہ دونوں ان کی گوہر افشانیاں سن کر پھر محظوظ ہوئے ہیں

جی آنٹی… ہمارا کام ہو گیا… اب ہم چلتے ہیں… رزم نے کہا
نہیں بیٹا… تھوڑی دیر اور ٹھہر جاؤ پاستا کھا کے جانا.. پتہ نہیں کب سے بھوکے مارے مارے پھر رہے ہو.. ان کی آواز میں مامتا تھی.
زری… ماہی پاستا ڈال کر لاؤ….
جی مما…. زری نے آواز دی…
اب وہ بڑے تمیز کے دائرے میں دوپٹے اوڑھے سنجیدگی سے زری نے ٹیبل پر ٹرے رکھی…. اور ماہی نے کولڈ ڈرنک کی بوتل…
وہ گھبرائی سی اوپر اپنے کمروں میں جا چکی تھیں…
جب انھوں نے منہ پہ رومال ہٹا کر پاستا کھایا…
اور گھر کی راہ لی….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

آج زری گئے رات تک اس سائے کا انتظار کر رہی تھی… جو گہری نیند میں خوابوں میں بھی اسے بے چین اور خوفزدہ رکھتا تھا.. بے حد اور بے تحاشا..

.اس کی کلون کی خوشبو اسے گہری نیند میں بھی اپنے آس پاس محسوس ہوتی تھی. .. نیند سے جب اعصاب بوجھل ہوئے تو تھک ہار کر آنکھیں موند لیں.

وہ کچی نیند میں تھی.. جب وہ ہیولا کھڑکی پھلانگ کر ملگجے اندھیرے میں اندر آیا..

ہمیشہ کی طرح یشار اس پر جھکا..اسے تڑپتی برسوں کی پیاسی نگاہوں سے دیکھا…. اور اپنی ٹھنڈی سی سانس سے اس کے بے تحاشا حسین چہرے پر دھیمے سے پھونک ماری…
وہ ہڑ بڑا کر اٹھی تھی…وہ اطمینان سے دور جا کر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا..جیسے جانتا تھا کہ آج وہ اس کا انتظار کر رہی تھی.. اور جاگ بھی جائے گی

مم……. مجھے پتہ ہے… کک… کوئی ہے.. کک… کون ہے… خوف سے کپکپاتے جب اس کی نظر سامنے پڑی تو روح فنا ہو گئی..

ہمیشہ کی طرح وہ بلیک ہڈی میں منہ پر رومال باندھے تھا.. جو اس کا سایہ بن گیا تھا سائے کی طرح اس کا پیچھا کرتا تھا.. وہ کئی بار..، بارہا اسے اپنے آس پاس دیکھ چکی تھی.. مگر صرف آنکھیں.. وحشت زدہ آنکھیں.. اپنی طرف لپکتی تڑپتی آنکھیں…لیکن اج وہ آنکھیں بلو کی جگہ براؤن تھیں

اب بھی خود کی طرف لپکتی پرتپش دہکتی براؤن آنکھوں میں جھانکا تو زری کی ننھی سی جان کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی.. پسینے سے چہرہ بھیگ گیا وہ سمٹ کر ٹانگوں پر بازو باندھے خوف سے تھر تھر کانپتی اسے دیکھ رہی تھی..

دیکھتا ہی ہوں ناں… چھوا تو نہیں تمھیں کبھی……. جو انتظار کر رہی تھیں مجھ سے نمٹنے کے لئے..یشار کا سرسراتا سا لہجہ تھا..

. کک… کون ہو… تم… مم.. میں بابا.. کو بب… بتاؤں گی.. وہ بےبسی سے بے تحاشا رو دی..

تاشی…میری…. تاشی… اس پکار میں صدیوں کی تڑپ تھی.
وہ بے تحاشا چونکی…

ی…. ی… یش……. تت… تم….. ی…. یش…. ہو.. ناں

اس کے پھڑپھڑاتے لبوں سے اپنا نام سن کر مقابل نے سکون سے آنکھیں موند کر سر دیوار سے لگایا..اور لمبی سی سانس بھری.

تمھیں پتہ ہے تاشی .. میں کتنے برسوں سے ڈھونڈ رہا ہوں تمھیں..کتنے برس انتظار کیا تمھارا سرگوشی نما آواز اس کی جان ہلکان کر رہی تھی.. اس کا پورا جسم جیسے اس کی آنکھوں کی ٹرانس کے زیرِ اثر تھا.. شل ہوا وجود.. لاکھ کوشش کے بعد بھی وہ اٹھ کر بھاگ نا سکی.

تمھیں پتہ ہے جب تم 6th میں تھی اور میں 8th میں..
میں آخری بار تم سے ملنے آیا تھا…. میں نے اپنے ساتھ لے جا کر تم سے پیپر سائن کروائے تھے.. جو تم نے خوشی خوشی سائن کردیئے تھے.. جانتی ہو وہ کونسے پیپر تھے..

کک…. کون… سس.. سے.. وہ سسکی.

نکاح کے پیپر تھے وہ…ہم دونوں کے نکاح کے..

اس بات پر بیڈ پر سمٹا بیٹھا نازک سا وجود زلزلوں کی زد میں آیا تھا..

تاشی…. میری تاشی… اس نے سرخ انگارہ وحشت زدہ سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور بیڈ کی جانب بڑھا.. اس کے سامنے جھک کر بیڈ پر ہاتھ رکھ کر اس کی خوف سے سرد پڑتی آنکھوں میں جھانکا..

تاشی… تم اپنے یش کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو… نکاح پر نکاح کیسے کر سکتی ہو.تم تو میری امانت تھیں ناں.. صرف اور صرف یش کی.
. بچپن میں کسی نے تمھاری گردن پر اس تل کو چھونے کی کوشش کی میں نے اس کا ہاتھ توڑ دیا. تم اپنا سارا وجود میرے علاوہ کسی اور کے نام کیسے کر سکتی ہو… اس کی سرسراتی رگوں میں خون منجمد کرتی وحشت زدہ آواز تھی..

تاشی نے اپنی چیخوں کا گلا گھوٹنے کے لئے اپنے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھے ہوئے تھے..

وہ خوف و دہشت کی تاب نہ لاتے ہوئے دوسری طرف سے پلنگ سے اتر کر دروازے کی جانب بھاگی.

جب یشار کا آہنی بازو اس کے اور دروازے کے بیچ حائل ہوا تھا…وہ اس کے بےحد قریب کھڑا تھا کے اس کے بائیں کان کو یشار کی سانسوں کی گرماہٹ پگھلا رہی تھی. یشار نے بے قرار سی سرگوشی کی

With all my breath, in these eight years, I have cried out to you
My mind remembere you
Soul commits you
You are mine…. You was mine… You will be mine forever and ever my Ishq…

اس شخص کی خوشبو اور سانسوں کی تپش سرسراتا لہجہ اس کے ہوش گم کرنے کو کافی تھے..

تیورا کر دروازے سے لگی زمین بوس ہوئی تھی..وہ دو زانو بیٹھا… اتنی وحشت اور تڑپ کے باوجود اسے چھو نا سکا.. بستر سے کمفرٹر لایا اس کے اوپر اوڑھایا.. کمفرٹر میں لپیٹ کر اسے نرمی سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا.
پھر اس پر جھکا….
تمھیں کیا خبر تاشی… تم اتنے برسوں کی میرے عشق کی جائز تمنا ہو… میرا جنون میری دیوانگی ہو.. پر نہیں تمھیں کہاں خبر.
اگر خبر ہوتی تو یوں مجھ سے گریز نہیں برتتیں….
کتنا اکیلا ہوں میں تمھارے بغیر
ادھورا….. بلکل ادھورا

وہ اٹھا اور اس پر آگاہی کا عذاب نازل کر کے وہاں سے چلا آیا….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟