No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
پورے چھ گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے ساتھ وہ اب کہیں جا کر مری پہنچے تھے..
لیکن مری کے جنت نظیر سبزہ زاروں میں آ کر ساری تھکاوٹ دور ہو چکی تھی.
تمام سٹوڈنٹس نے سامان وغیرہ ہوٹل میں رکھا.. ایک کمرے میں دو سٹوڈنٹس کے رہنے کا انتظام تھا.. آرام کا وقت نہیں تھا ابھی..
آبادی سے زرا ہٹ کر جنگل کے قریب پہلے بہت بڑا ہوسپیٹل تھا اس سے زرا نیچے اترائی پر کالج تھا..
انھوں نے سارا دن ہوسپیٹل اور کالج میں سیکھتے گزارا…
واپسی پر جب ہوٹل آ رہے تھے تو تاشی کو وہی جانا پہچانا سا احساس ہوا اور لبوں پر مسکان رینگ گئی..
آتے ہوئے بھی اس نے ایک دو مرتبہ اسے گاڑی میں بیٹھے اپنی بس کے آس پاس دیکھا تھا.
وہ یقیناً اس کی حفاظت کے لیے اس کے آس پاس تھا.
اس نے ٹھنڈی سی آہ بھری کاش سمیر کو بھی اس کی اتنی ہی فکر ہوتی… وہ تو اپنی جاب میں بزی تھا… جب پتہ چلا کہ وہ جا رہی ہے بس فون پہ ہی بیسٹ وشز دے دیں.. اسے سی آف بھی نہیں کرنے آیا…
اس نے سر جھٹکا بھلا وہ ان دونوں کا موازنہ کیوں کر رہی تھی.
ہوٹل پہنچ کر فریش ہو کر بستروں پہ گرتی چلی گئیں… اتنی تھکاوٹ تھی کہ گرتے ہی گہری نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
یش جو کہ ان کے پیچھے ہی آیا تھا..ہر طرف نظر تھی اس کی…. اس ہوٹل کے پاس والے ہوٹل میں ہی ٹھہرا تھا.
اگلی صبح بہت روشن اور خوبصورت تھی…
رات بہت پر سکون اور بھرپور نیند لی…( یہ جانے بغیر کے اس سے اگلی رات اس پر کیا قیامت لانے والی ہے.)
اٹھیں تیار ہوئیں…
تمھیں پتہ زرتاشہ آج بس آدھا دن جو کل کی سرچ باقی تھی وہ پوری کرنی ہے باقی سارا دن گھومیں گے… یس.. نور اس کی کلاس فیلو اور روم میٹ ایکسائٹمنٹ سے بولی..
تو وہ ہنس دی.
تاشی نے بلیک خوبصورت فراک پاجامے کے اوپر بلیک اور شاکنگ حجاب لیا.. اوپر یونیفارم کا ڈاکٹر والا وائٹ کوٹ پہنا تھا..
وہ سب ہوٹل سے نکلے… اور ہوسپیٹل پہنچے.
پھر کالج گئے اور کینڈا سے آئے ہوئے ڈاکٹرز کی ٹیم سے خصوصی لیکچر لئے..
تین بجے فری ہوئے تھے…
بمشکل تین گھنٹے بچے تھے گھومنے کے لئے… چھ بجے نکلنا تھا یہاں سے واپسی کے لئے سو وہ بس اسی حلیے میں ادھر ادھر بکھر گئے… نور اور تاشی چلتے چلتے بازار آ گئیں تو انھیں شاپنگ کا خیال آیا…
ابھی شاپنگ کر ہی رہی تھیں جب کچھ بگڑے بدتمیز لڑکوں کا گروپ مال میں داخل ہوا…
جتنی شاپنگ کی تھی.. سو. کی..ان کو دیکھ کر نور نے چپکے سے تاشی کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے نکلتی چلیں گئیں.
مگر ان میں سے ایک خبیث اتنی خوبصورت گرے آنکھوں والی لڑکی کو وہاں سے نکلتے دیکھ چکا تھا..
مال میں کہاں گھسے جا رہے ہو اصلی مال تو باہر گیا.اس نے مکروہ سے لہجے میں کہا اور وہ سب کتوں کی طرح باہر لپکے.
ابھی نور اور تاشی کچھ ہی دور نکلیں تھیں کہ وہ ان کے پاس آئے اور اردگرد چکر لگاتے ہوٹنگ کرنے لگے.. سب تماشہ دیکھ رہے تھے. کسی میں ہمت نہیں تھی ان بگڑے نواب زادوں سے الجھنے کی. جن کے پاس شاید پسٹل بھی تھے.
نور کی جان پر بنی تھی… مگر تاشی اطمینان سے وائٹ کوٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے خاموشی سے کھڑی تھی..
جانتی تھی وہ آس پاس ہے.. اس کی خوشبو محسوس کر سکتی تھی.. بھیڑ میں دیکھ چکی تھی. بلو پینٹ کے اوپر ییلو ہڈی میں منہ پر رومال باندھے دو غصیلی سرخ اور براؤن آنکھیں… تو بھلا وہ کیوں ڈرتی.
ارے بے بی تو بلکل ڈمی بن گئی ہے… ہاتھ لگا کر دیکھوں کہ سچ مچ لڑکی ہے یا ڈمی..
او رئیلی….. تاشی کی طنزیہ آواز پر وہ چھ کے چھ چونکے تھے…ہاتھ لگانا ہے….. چلو کوشش کر کے دیکھو…اگر ایک ہی باپ کے ہو تو کرو کوشش
واضح چیلنج.. انھیں اس لڑکی کے کانفیڈینس پر حیرت ہوئی..
یش اپنی ہڈی کی بیک میں ہاتھ ڈال کر اپنی ہاکی نکال چکا تھا
ان میں سے ایک بھنا کر آگے بڑھا اور ہاتھ آگے بڑھایا..
تاشی تمسخرانہ سا ہنسی. کیونکہ اگلا منظر کافی جانا پہچانا تھا وہ ٹوٹا ہاتھ لہراتا چلانے میں مصروف تھا..
تیری تو… گالی دی اور ان میں سے دو نے اپنی پینٹ سے گن نکالنے کی کوشش کی… مگر اگلے پل وہ بھی دھول چاٹ رہے تھے..
باقی تین بھی یش کی جانب لپکے.. مگر اپنی ہڈیاں تڑوا کر سٹرک پر پڑے چنگھاڑ رہے تھے… یش نے تاشی کو اشارہ کیا وہ نور کو لئے وہاں سے ہٹتی گئی..
پھر یش بھی بھیڑ میں اچانک یوں غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں..پورا بازار ان لڑکوں کی درگت بنے دیکھ ہکا بکا تھا کہ یہ ہوا کیا تھا.
مگر دو اور اجنبی اور خبیث آنکھوں نے تاشی کا دور تک پیچھا کیا.
فون ملایا اور بولا..ایس اے سر وہ ہاکی والے کو دیکھا میں نے آج.. مگر چہرہ نہیں دیکھا.. ہاں مگر اس کا جس سے تعلق ہے اسے ضرور دیکھا ہے.. پھر اس نے آج کا سارا واقع بتایا.. وہ لڑکی بڑے اعتماد سے بات کر رہی تھی…. سر…… جیسے پتہ ہو کہ اس کی حفاظت کے لیے وہ ہاکی والا اس کے آس پاس ہی ہے.
تو حرام خور مجھے کیا سنا رہے ہو جا کہ اٹھاؤ اس لڑکی کو… اتنی مشکل سے اس ہاکی والے کی کوئی کمزوری کوئی نشانی ہاتھ لگی ہے… مری والے اڈے کے سارے آدمی بلا لو..میں بھی اپنے آدمی لے کر پہنچتا ہوں.. لڑکی ہاتھ سے نکل گئی تو تیری لاش بھی پہچانی نہیں جائے گی سمجھے
ٹھیک ہے سر… جو حکم وہ گھگھیا گیا.. فون بند کر کے فوری اپنے بندوں کو فون ملایا.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
بسیں واپسی کے لئے نکلی تھیں …. ابھی ایک گھنٹہ ہی سفر کیا تھا…
بسیں زرا ویرانے اور جنگل کے بیچ میں سے گزری تھیں.. جب اچانک بسوں پر حملہ ہوا تھا…خاموش فضا میں دلدوز چیخ و پکار گونجی تھی جب پانچوں گارڈز کو شہید کر دیا گیا تھا..
تعاقب میں آتا یش بھی بے تحاشا چونکا تھا… چھٹی حس نے غیر معمولی ہونے کا سگنل دیا تو اس نے چند ضروری میسیجز سینڈ کیے اور گاڑی ریورس کر کے حملہ آوروں سے چھپائی..اگر ابھی ان پر حملہ کرتا تو کئی معصوم جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں…
وہ ڈاکو نما نقاب پوش تھے… دونوں بسوں میں آ کر غرائے… ہمیں تم لوگوں سے کوئی مطلب نہیں بس تم میں سے ایک لڑکی سے ہے… وہ ہمیں چاہیے کسی بھی قیمت پر.. گرے آنکھیں ہیں اس کی..
جلدی سے اسے سامنے کر دو ورنہ ایک منٹ کی دیر ایک لاش بچھا دے گی..
تاشی جو کہ سہمی سی نیچے جھکی بیٹھی تھی اس کی بات پر تھر تھر کانپنے لگی.
جب کسی نے منہ نا کھولا تو وہ بدتمیزی سے خود ہی اندر گھس آئے اور ایک ایک کا چہرہ پکڑ کر دیکھنے لگے.
وہ درندہ تاشی کی جانب بڑھا تھا…. تو آنکھوں میں عجیب سے چمک آئی… سر مل گئی ہے…. دیکھیں زرا یہی ہے…. اس نے تاشی کو بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹا..
سر بھی خباثت سے اسے دیکھ کر خوش ہوا..
ہاں یہی ہے… لے آؤ اسے….
اے چھوڑو اسے… چھوڑو… ایک جانباز ٹیچر اس درندے کی راہ میں حائل ہوئی تھی… جب دو فائر کی آواز آئی اور ٹیچر کو شہید کر دیا گیا.
اب کوئی بچانے آئے گا اسے……. وہ تمسخرانہ سا ہنسا.دفعہ ہو جاؤ یہاں سے…… اس نے بس ڈرائیورز سے کہا تو وہ تیزی سے وہاں سے گاڑیاں نکالتے چلے گئے
وہ تاشی کو گھسیٹ کر باہر اپنی گاڑیوں تک لائے…. وہ بھر پور مزاحمت کر رہی تھی..
دو نے اس کے ہاتھ جکڑے ہوئے تھے جب کے وہ درندہ جسے سب سر کہہ رہے تھے تاشی کے حجاب سمیت بال مٹھی میں جکڑے…
اے بلاؤ اس ہاکی والے یار کو… میں بھی تو دیکھوں کتنا دم ہے اس میں..
وہ بزدل کہتا ہوا یہ بھول گیا کہ خود ایک کمزور لڑکی کے بل پر دم خم دکھا رہا تھا..
تاشی نے اپنی پوری جان لگا پکارا…
یش…….. بچاؤ مجھے….. یش……. میری ہیلپ کرو…
یش نے خاموش فضا میں تاشی کی چیخ و فریاد سنی تو دیوانوں کی طرح گاڑی سے اتر کر آواز کی جانب بھاگا..
مگر وہ اسے گاڑی میں ڈال کر لے جا چکے تھے…
وہ فتح کے نشے میں چور اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے….اس بات سے بے خبر کے کس طوفان سے ماتھا لگا بیٹھے ہیں.
وہ اپنے اڈے پر پہنچے… تاشی کو گھسیٹ کر باہر نکالا..
چھوڑو مجھے…… چھوڑو مجھے… بزدل… یش نہیں چھوڑے گا تم لوگوں کو…
سر نے زور دار تھپڑ تاشی کو مارا تھا… کہ اس کا سر گھوم گیا اور ہونٹ پھٹ گیا تھا..
وہ تیرا یار…. ہاکی والا…. ابھی تک تو آیا نہیں… اے بند کرو اسے اندر کمرے میں..
سر مال بے تحاشا خوبصورت ہے… کیا خیال ہے ہمیں انعام تو دے دیں…
ان میں سے ایک درندہ خباثت سے بولا..
تاشی کی روح کانپی تھی… پہلے صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ اور پھر یش کو پکارا…
نہیں ابھی نہیں… ایس اے کا اگلا حکم ملنے تک صبر کرنا پڑے گا…… سر کی سرسراتی آواز آئی
ان میں سے ایک نے لا کر تاشی کو ایک گندے سے جالے لگے کمرے میں پھینکا.. اور خود لاک لگا کر وہاں سے نکل گیا.. وہ بے تحاشا رو دی…
یش ان کا تعاقب کرتے کرتے اس جنگل اور ویرانے کے بیچ وبیچ اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کے پاس پہنچا تھا… جہاں سخت قسم کا پہرا تھا…
جلدی جلدی دماغ چلایا….. فون نکال کر دیکھا… رزم کے میسیجز آ چکے تھے… وہ مطمئن ہوا… اب اسے کسی نقل حرکت کا انتظار کرنا تھا..
اسے اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا… اسے پبلک پلیس میں یوں اپنی ہاکی نہیں استعمال کرنی چاہیے تھی… یقیناً ایس اے کے کسی کتے نے دیکھ لیا ہوگا..
اور تاشی کے اعتماد سے اس کا تعلق تاشی سے ہے اس کتے کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہوگا.
تاشی صرف اس کی وجہ سے اتنی بھیانک مشکل میں پھنس گئی تھی… یہ بات ہی اسے بے حد تکلیف کو کافی تھی..
ان کے پاس ہر صورت حال سے نمٹنے کیلئے ایک پلان ہوتا تھا..اذیت ناک تھا مگر اسے دو تین گھنٹے انتظار کرنا تھا
جب ان کی منشاء کے مطابق ہاکی والا ان کے سامنے نا آتا تو تلملا کر ضرور کوئی غلطی کرتے
اس نے ڈھائی گھنٹے صبر آزما انتظار کیا… اور پھر پلان کے مطابق ان درندوں کو جہنم واصل کرنے آہستہ سے عمارت کی جانب بڑھا..
تین گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد بھی جب کوئی اسے بچانے نا آیا تو اس نے…. ایس اے کو فون ملایا….
سر تین گھنٹے ہو گئے…. وہ ہاکی والا نہیں آیا..
ابے حرامی…… غلط چھوکری کو تو نہیں اٹھا لائے..
نہیں نہیں….. سر لڑکی تو وہی ہے…..
ابے پاگل کتے تو وہ ضرور تیرے آس پاس ہے… جانتا نہیں تو اسے….. چھوکری کو قابو کر… نوچ کر پھینک اسے… اس کی چیخیں سن کر ضرور آئے گا سامنے…میں بھی بس پہنچنے والا ہوں.
اس درندے نے ہڑ بڑا کر فون رکھا اور اپنے تین آدمیوں کو لے کر تاشی کے کمرے کی جانب لپکا…دھاڑ سے دروازہ کھولا تھا…. تاشی جو سہمی بیٹھی تھی… چونکی….
وہ اس کی جانب لپکے اور دو جانوروں نے دائیں بائیں بازو سے اسے دبوچا..
اس درندے نے اس کا حجاب نوچ کر پھینکا. وہ بری طرح چلانے لگی..
چیخ اور چیخ… بلا اپنے یار کو……. آ کر بچائے تجھے ہم سے اس نے یہ کہہ کر تاشی کے دودھیا نازک بازو پر چاقو سے وار کیا تھا…
اس کی دلخراش چیخ جنگل کی خاموشی کا سینا چیرتی دور تک سنائی دی تھی..
ایسے نہیں آئے گا……… اے لٹا اسے سیدھا کر… ان دونوں نے تاشی کو زمین پر پٹخا تھا… جب وہ درندہ اپنی قمیض اتار کر تاشی پر جھکنے لگا…
کیلوں والی سنسناتی کوئی چیز آئی تھی جو اس کی کنپٹی پر بجی تھی.وہ سوکھی لکڑی کی طرح اچھلتا پیچھے گرا تھا.. وہ چنگھاڑ کر اٹھا تھا…..
سامنے ہی کالی پینٹ اور ہڈی میں منہ پر باندھا گیا کال رومال… مگر دو براؤن لہو ٹپکاتی آنکھیں اور ہاتھ میں کیلوں والا ہاکی دکھائی دیا تو ایک مرتبہ تو خوف سے رونگٹے کھڑے ہوئے.
تاشی لپک کر اٹھی تھی اور اس کے سینے سے لگی تھی.. نازک سی جان جی جان سے لرز رہی تھی.
وہ درندے اب کھڑے یش کو گھور رہے تھے… باہر سے بھی تین چار اندر آ چکے تھے.. ان سب کے ہاتھوں میں تیز دار بڑے بڑے چاقو تھے….
اس نے تاشی کو خود سے الگ کر کے دیوار کے ساتھ لگایا..
تاشی یہاں کھڑی رہنا…. اپنی آنکھیں بند کرو…
وہ بے تحاشا روتی نفی میں سر ہلا رہی تھی……
تاشی میں نے کہا آنکھیں بند کرو.. اب کی بار اس نے غراتے کہا تو اس نے زور سے ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا…
اب اس کے سامنے وہ درندے کھڑے تھے جنھوں نے اس کی تاشی کو چھونے کی جرات کی تھی. وہ تو نارمل دشمنوں کے چہرے بگاڑ دیا کرتا تھا… اب تو دشمنی زرا پرسنل ہو گئی تھی…
وہ ان کا کیا حشر کرنے والا تھا.خود بھی نہیں جانتا تھا.. وہ نہیں چاہتا تھا اس کا یہ حیوانی روپ تاشی دیکھے…وہ تو بس اسے نارمل اپنے لئے ہاکی سے لڑتے دیکھتی آ رہی تھی
..
وہ سب اکٹھے سر کے علاوہ اس کی جانب لپکے تھے…….. مگر دس منٹ میں کمرے میں خون کی ندی بہا دی تھی اسنے…..
یہ منظر دیکھ کر اس باقی بچے درندے کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے تو چلا کر بولا…… ہمیں مار رہے ہو.. بچو گے تو تم بھی نہیں پہنچنے والا ہے ایس اے اپنی پوری فوج کے ساتھ.. بڑے حساب نکلتے ہیں تیری طرف .. تیرے سامنے تیری اس آئٹم کو نوچے گا… کچھ نہیں کر پائے گا تو… ہاہاہا ہاہاہا
موت سامنے دیکھ کر وہ کتا شاید پاگل ہو گیا تھا..
پھر یش کی ہاکی نے اس کی ساری چمڑی ادھیڑ دی تھی..
کہ اچانک خاموش فضا میں ڈھیر سارے پہیے چرچرانے کی آوازیں سنائی دیں
تو یش چونکا……. اسے جلد از جلد تاشی کو کسی محفوظ مقام تک پہنچانا تھا… خود تو اکیلا چاہے ہزار بندوں سے نمٹ لیتا… مگر اس وقت صرف وہ تاشی کی جان وعزت کی سلامتی چاہتا تھا.
اسی لئے جیسے شیر بھر پور حملہ کرنے کو دو تین قدم پیچھے لیتا ہے اسی طرح اسے بھی اس ایس اے کا سر کچلنے کے لئے چند قدم پیچھے لینے تھے. بیک اپ پلان ریڈی تھا اسے صرف عمل کرنا تھا.. وہ انھیں اپنے تعاقب میں بھگا کر وقت کا ضیاع کرنا چاہتا تھا.. تاکہ جب فورسز آ کر اس کا سر کچلیں تو وہ بھاگ نا پائے.
اسی لئے بجلی کی تیزی سے اس نے تاشی کا بازو کھینچا…
تاشی ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا… سمجھ رہی ہو نا میری بات….. ادھر مت دیکھو… صرف میری طرف دیکھو… اس نے تاشی کو ان ادھڑی لاشوں کو دیکھنے سے منع کیا…… اور تیز ترین رفتار سے اسے لے کر وہاں سے بھاگا….
وہ جنگل میں دو تین گھنٹے سے وقفے وقفے سے بھاگ رہے تھے.تاشی بلکل نڈھال ہو چکی تھی.. گہری رات میں پیچھے ان کے تعاقب میں آتے ڈھیر سارے بندوں کے بوٹوں کی دھمک سنائی دیتی تو پھر بھاگنے لگتے..
وہ بھاگتے ہوئے ایک جھونپڑی کے قریب سے گزرنے لگے جب ایک فقیر نما بابا نے یش کو ہاتھ کے اشارے سے روکا..
وہ رکا تو اس کا ہاتھ پکڑے دائیں جانب لپکا…..
یہاں جنگلی لٹیرے رہتے ہیں جو آئے روز کسی نا کسی خاندان کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں.. ایک دو میاں بیوی کی میں جان بچا چکا ہوں ان سے……..
بھروسہ رکھو… جہان چھپاؤں گا صبح تک وہیں دبکے رہنا تو وہ سایہ بھی نہیں ڈھونڈ پائیں گے تمھارا..
وہ بابا یہ کہتے ہوئے انھیں لئے ایک کھائی کے پاس آیا.. جہاں بظاہر نیچے اترنے کا کوئی راستہ نہیں تھا مگر ایک بہت بڑے سے پتھر کے بائیں جانب سے گھوم کر وہ انھیں اس پتھر کی نیچے لایا جہاں ایک بہت چھوٹا سا عار کا من بنا تھا..
بابا نے انھیں جلدی سے اندر جانے کا کہا.. یش تاشی کو لیے بیٹھ کر اس کے اندر آیا تو اس کے منہ کے مقابلے اندر سے وہ غار کچھ کشادہ تھا.. جہاں آسانی سے بیٹھا جا سکتا تھا.
وہ بابا جلدی انھیں چھپا کر پلٹا اور جھونپڑی میں گھس کر سوتا بن گیا..
بھاری بوٹوں کی آواز بلکل ان کے سر پر سے آ رہی تھی…
ابے حرام خوروں کہاں گئے وہ… ڈھونڈو اسے … مل گئے تو چھوکری آج رات کے لئے تم سب کی دلہن ہوگی…..ایس اے ناکامی نظر آنے پر کتے کی طرح بھونک رہا تھا…
جبکہ تاشی یہ سن کر نڈھال ہوئی جان کے ساتھ پھر جی جان سے لرزی بے تحاشا روئی تھی…
ی…..یش…یش… وہ… یہ… مجھے لے جائیں گے… میرے ساتھ…… وہ سسکی…..
یش نے اسے سینے میں بھینچا.اور بلکل آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کی… .. کبھی نہیں….. ہو ہی نہیں سکتا میری جان. جب تک میں زندہ ہوں تم پر کسی کا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا… تم صرف میری ہو… تم پر صرف میرا حق ہے… تمھیں صرف میں چھو سکتا ہوں….
اوپر اب بھی ایس اے چیخ چھنگھاڑ رہا تھا.. جس سے تاشی خوفزدہ ہو کر سسک رہی تھی.. اس کی سسکیاں بلند تر ہوتی جا رہی تھیں..
اششششششششش… تاشی خاموش ہو جاو….. میں ہوں ناں کچھ نہیں ہونے دوں گا تمھیں…یش نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کرانا چاہا… مگر وہ شاید صدمے میں اپنے حواسوں میں نہیں تھی…
نہیں… یش… وہ مجھے لے جائیں… میں مر جاؤں گی…… مم…. مجھے… کچھ…… . وہ ہزیانی سی ہو کر چلانے والی تھی جب یش نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لیا.. تھا.
وہ نڈھال سی خود پر اس کو وزن برداشت نہیں کر پائی اور پیچھے ڈھلانی زمین پر گرتی چلی گئی… یش اسے ریلیکس کرنے اس پر جھکا تھا… جب اس نے مزاحمت کرنا بند کی اور اوپر سے بھی شور آنا بند ہوا تو یش نے اسے نرمی سے چھوڑ دیا.. اس کے پاس بیٹھا…
اس کے بازو پر زخم محسوس ہوا تو اپنی ہڈی اتار کر اس کے زخم پر باندھ دی……
اب وہ صرف پینٹ اور وائٹ بنیان میں تھا……اب انھیں انتظار کرنا تھا… دو بج چکے تھے…
وہ بھی نڈھال سا ہو کر تاشی کے قریب ڈھلوان پر نیم دراز ہو کر سر ٹکا چکا تھا…
یش…. اگر. ….. وہ.. دد… دوبارہ آ گئے… تت… تو…
تاشی خوفزدہ ہو کر اس کے پاس کھسک آئی تھی…… یش نے اس کی کمر کے نیچے سے بازو نکال کر اسے بازوؤں میں بھر لیا…جب اس نے تکلیف سے ایک سسکی بھری…تاشی کو پاوں کے اندر تک سوئی سی چبھتی محسوس ہوئی… وہ جان چکی تھی کہ اسے کسی چیز نے کاٹ لیا ہے…
کوئی نہیں آئے گا میری جان…. تمھیں کوئی نہیں چھو پائے گا… تمھاری طرف بڑھنے والے ہاتھوں کا میں کیا حشر کرتا ہوں جانتی ہو ناں…..
تاشی مزید اس میں سمٹی تھی..
مکمل اندھیر…خاموشی .. تنہائی… اور اس کی بانہوں میں اس کی تاشی….
وہ مکمل اس پر جھکا اس کی قربت میں ڈوبا ہوا تھا…
اس کی گردن پر جھکا مچل کر اس کے تل پر لب رکھے..
وہ جو نڈھال سی بے جان لیٹی تھی… اپنی تمام تر ہمتیں جوڑ کر اسے پکارا..کہ شاید اس کے یش کو اپنی تاشی پر رحم آ جائے. وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اسے اپنی رگوں میں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی.. کیونکہ اسے کسی چیز نے کاٹ لیا تھا…
ی……… یش…… یش…
یش نے زرا سا سر اٹھا کر اس کے کپکپاتے زخمی لب دیکھے.. اور ان پر جھکتا چلا گیا..
وہ بن پئے بہک گیا تھا… مکمل بے خود اور مدہوش..
اسے زرا بھی ہوش ہوتا تو وہ یہ سمجھتا کہ اس وقت اس کی بانہوں میں کسی اور کی منکوحہ ہے..اور وہ یش کے لئے حرام ہے.
اسے زرا بھی ہوش ہوتا تو وہ جانتا کہ وہ اپنی تاشی کو تکلیف پینچا رہا ہے..اس کے زخمی لب کو اور زخمی کر رہا ہے..
اسے زرا سا بھی ہوش ہوتا تو وہ یہ دیکھتا کہ تاشی بلکل مزاحمت نہیں کر رہی .. نیلے پڑتے وجود کے ساتھ وہ نیم مردہ… نیم جان سی اکھڑے اکھڑے سانس لے رہی ہے..
مگر وہ ہوش میں ہوتا تو تب ناں.
وہ خود کو روک نہیں پا رہا تھا.. ایک آگ تھی جو سینے میں جل اٹھی تھی.
اسے دہکتے کوئلوں کی بھٹی میں جیسے جھونک دیا گیا تھا.
ایک آگ کا دریا تھا جو سینے میں جل اٹھا تھا.
وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اپنی برسوں کی پیاسی روح کو سیراب کر رہا تھا..
پھر ہونٹوں سے گردن تک آیا. مکمل مدہوشی میں وہ اس کے کندھے سے اس کی شرٹ کھسکا چکا تھا..بے دردی سے اپنے دانت اس کے کندھے پر گاڑھے..
یہ جانے بغیر کے جب عشق کا امتحان اس کے سر پر آ پہنچا تو وہ کس قدر کمزور ثابت ہوا تھا.
یہ جانے سمجھے بغیر کے اگر آج وہ اپنے نفس کے ہاتھوں کمزور ہو کر فیل ہو گیا تو اس کی تاشی.اس سے ہمیشہ کے لیے دور .. فنا ہو جائے گی.. مر جائے گی…
عشق کا امتحان سر پہ تھا.. اسے بس خود سے تاشی کو بچانا تھا..
مگر کاش یہ اتنا آسان ہوتا.. وہ ناکام، نامراد، شکست اور فیل ہونے کے قریب تر ہوتا جا رہا تھا.
یشار خان اس سے پہلے کہ اپنی ہر حد پار کرتا اس کے کانوں میں بابا کے الفاظ گونجے تھے.
تیرے ماتھے پر لکھا ہے
عشق
امتحان
.. وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ کر تاشی سے یوں پیچھے ہوا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو… یا وہ خود تاشی کے لئے اچھوت ہو..
یش کو اس پل خود سے بے تحاشا نفرت، کراہیت ، اور گھن محسوس ہوئی تھی..
وہ کتنی دیر تک یونہی بت بنا اپنے آپ سے نفرت محسوس کرتا رہا جب دور بہت دور کہیں سے فجر کی اذانیں سنائیں دیں..
اس کے بعد جنگل کی پوری فضا گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے گونج اٹھی…
یقیناً اس کا یار رزم فورسز کو لے کر پہنچ چکا تھا… اور اب اس کو کتوں کی طرح ڈھونڈتے دشمنوں کو جہنم رسید کر چکا تھا…. آدھے گھنٹے فائرنگ کا تبادلہ ہوا…
مگر وہ تاشی کو یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا…
پھر فوجیوں کی مخصوص بوٹوں کی دھمک چاروں اور…. سنائی دی تو اس نے سکھ کا سانس لیا.
تاشی کے قریب ہوا.
تاشی ہل نہیں رہی تھی…..
تاشی………. تاشی… یش نے اس کے گال تھپتھپائے…
اور پھر یش کی جان لبوں پر آئی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ تاشی کی سانس تھم سی رہی ہے…
تاشی… اس نے بے قرار سا ہو کر اسے پکارا..
یشارخان…
قریب ہی کہیں شمس لالہ اور رزم کی پکار سنائیں دی تھیں..
یش نے نرمی سے اسے بازوؤں میں بھرا…..اور لے کر باہر نکلا آسمان کا رنگ سیاہ سے گہرا نیلا ہو گیا تھا…..
رزم……. یشار نے آواز دی تو کئی قدموں کی آوازیں اسے اپنی جانب بے چینی سے لپکتی سنائی دیں…
یشار……… وہ ان کے پاس پہنچے… رزم نیچے اترا اور اسے سہارا دے کر اوپر لایا…
یشار کو سہی سلامت دیکھ کر شمس نے سر خوشی میں اس کا ماتھا چوما.
رزم… جلدی کرو تاشی کو ہوسپیٹل لے کر جانا ہوگا… یشار چلایا تو شمس نے اس کے بازوں میں ڈھلکے سر اور نیلے پڑتے ہونٹ لئے زری کو دیکھا….دوپٹے ندارد بے حال سی زری…
تاشی،؟. شمس الجھا…… رزم نے جلدی سے ہیلی کاپٹر لانے کا اشارہ کیا…ان سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں.. کسی نے تاشی کی جانب نہیں دیکھا تھا…
یشار کی آنکھیں خون رنگ میں نہائی ہوئی تھیں..
رزم چادر لاؤ……. وہ پھر دھاڑا.
رزم چادر لے آیا… اور تاشی کے اوپر پھیلا دی
ہیلی کاپٹر آیا…. اور یش اسے لئے ہیلی میں بیٹھا…
وہ سب جلد از جلد ہوسپیٹل پہنچے تھے….
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
