No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
وہ نوال کو کاٹ میں سُلا کر ابھی اٹھی تھی کے دراوزے پر ہلکی سی ناک ہوئی..
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو عابد حسین اندر آ رہے تھے..
ارے بابا یہ کیا بات ہوئی اگر کوئی کام تھا تو مجھ سے کہہ دیتے.. میں آ جاتی… منال خفا ہوئی.
انھوں نے مہربان سی مسکراہٹ سے اسے ساتھ لگایا..
کوئی بات نہیں بیٹا… ادھر آؤ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے.
جی بابا حکم کریں…
وہ دونوں صوفے پر بیٹھے..
بیٹا میں گھما پھرا کر بات نہیں کرنا چاہتا.. سیدھی بات کروں گا… حرا کا بھتیجا ہے شمس… وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے..قیصر نے مجھ سے بات کی ہے… بہت عزت اور احترام سے اتنے بڑے آدمی نے تمھارا رشتہ مانگا ہے… مجھے تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں لگی تمھاری کیا رائے ہے…
منال کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی..بے چینی سے پہلو بدلا.
بابا آپ انکار کر دیں.. مجھے یہ شادی نہیں کرنی…
اور اگر ایک باپ اور ایک دوست ہونے کی حیثیت سے میں انکار کی وجہ پوچھوں تو کیا تم مجھے بتاؤ گی..
بابا بس آپ انکار کر دیں..
بیٹا میں نے وجہ پوچھی ہے..
بابا آپ حقیقت نہیں جانتے…
اگر تم نوال سے اس کے نکاح کی بات کر رہی ہو اور اس ایکسیڈنٹ کی تو قیصر نے مجھے شروع دن سے ہر بات بتا دی تھی..
منال کو بہت بڑا دھچکا لگا تھا..
بابا آپ پھر بھی مجھ سے یہ سب کہہ رہیں ہیں وہ شخص میری بہن کی موت کا زمہ دار ہے… قاتل ہے اور مجھے اس سے نفرت ہے… منال سسک پڑی.
بری بات بیٹا.. بہت بری بات.. میں نے تمھاری تربیت ایسی تو نہیں کی.کہ تم اللہ کی لکھی مصلحت پر کوئی سوال اٹھاؤ یا کوئی بھی انسان کسی اچانک ہوئے حادثے کا زمہ دار نہیں ہو سکتا… یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں.. تم قسمت کا لکھا اس بیچارے کے سر نہیں تھوپ سکتی جس نے ایک دن پہلے اپنی زندگی میں بہت محبت سے شامل کی ہوئی اپنی بیوی کھو دی.نوال بس اتنی ہی زندگی لکھا کر آئی تھی.. اس میں اس کا کوئی قصور نہیں… تو تم اسے قاتل کہہ کر گناہ گار مت بنو…
تمھارے انکار کے یہ جواز انتہائی بودے ہیں.. اب اگر کوئی اور اعتراض ہے تو بتاؤ..
منال نے بے بسی سے لب کچلے… بابا میں شادی ہی نہیں کرنا چاہتی..
یہ بھی کوئی بات نہیں ہوئی… دیکھو بیٹا تم مجھ پر بوجھ نہیں… کوئی بھی بیٹی اپنے باپ پر بوجھ نہیں ہوتی.میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں.. تمہیں سہارا دینے کو تمھارا تو کوئی بھائی بھی نہیں ہے. شادی تو رسمِ دنیا ہے.. جو کہ نبھانا پڑتی ہے.. میں تمھیں اپنے گھر کا کر دوں تو ماہی اور زری کا سوچوں گا.. تم لوگوں کو بے سہارا چھوڑ کر دنیا سے جانا نہیں چاہتا… تم لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں بستے دیکھ کر ہی چین سے مر پاؤں گا..اور وہ شخص تو ہے ہی بہت اچھا اپنی محبت کی قربانی دے کر اپنی ماں جیسی پھپھو کا گھر بسایا.. اور سب سے بڑی بات وہ نوال کو اپنا نام دے کر اپنانا چاہتا ہے..
بابا پلیز……. وہ رو دی.
میری بیٹی بہت سمجھدار ہے.. یقیناً ہر پہلو پر غور کر کے مجھے فیصلہ سنائے گی…اور اپنے بابا کو مایوس نہیں کرے گی…
منال کو ایک ہفتے پہلے کا تماشہ یاد آیا… جو کہ لوگوں نے اپنی اپنی غرض کو پانے کے لئے عابد حسین کی بیٹی کا لگا دیا تھا..اور اگر ان کے بابا کو کبھی کچھ ہو جاتا تو دنیا تو بھیڑیوں کی طرح انھیں نوچ کھائے گی. اور تو اور وہ اپنی بہنوں کی بھی شادی میں رکاوٹ بنتی..اور اس کی اپنی بیٹی کا کیا مستقبل تھا. کچھ نہیں …. اپنے باپ کے جھکے کندھے یاد آئے.. اور ایک سیکنڈ لگا زندگی کا عذاب ناک فیصلہ کرنے میں…
وہ اٹھ کر جھکے کندھوں سے وہاں سے نکلنے والے تھے جب منال نے دھیمے سے انھیں پکارا تھا.
بابا. میرے لئے جو آپ مناسب سمجھیں… مجھے منظور ہے..
عابد خوشگوار سی حیرت سے مسکرائے.. اس کے سر پر پیار دیا… اور کمرے سے نکلے…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
این مینشن میں اس وقت جشن کا سا ماحول تھا.. یشار زونی.نائفہ، محسن اور رزم کھڑے ہو کر ہاتھ لہرا لہرا کر تیز میوزک پر جھومنے میں مصروف تھے.
شمس چمکتے چہرے کے ساتھ مسکراتا بیٹھا ان کی کاروائیاں دیکھ رہا تھا.
حرا بھی تالیاں بجا کر ان کا ساتھ دے رہی تھی
پاس کھڑا اعظم بھی ہنس رہا تھا.
جب سے قیصر نے اطلاع دی تھی.. کہ منال نے ہاں کر دی ہے اور قیصر نے اس جمعے کو سادگی سے نکاح طے کر دیا تھا…
تین دن باقی تھے..
پھر انھوں نے تیاریاں کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی.. یشار نے بہترین انٹیریئر ڈیزائنر سے شمس کے کمرے کی سیٹنگ کروائی تھی…. وہ سب بہت خوش تھے.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
زری اور ماہی تو اچھل ہی پڑی تھیں منال کی شادی کا سن کر.. بہت خوش ہوئیں تھیں…. پھر دونوں کی خوشی پر اوس پڑی تھی جب زری کو پتا چلا کے منال آپی کی شادی یشار کے بڑے بھائی کے ساتھ ہے..
اور ماہی کو پتہ چلا کہ منال آپی کی شادی رزم کے بڑے بھائی کے ساتھ ہے..
دونوں کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے..
رشتہ داری ہونے کے باعث ان کا سامنا بار بار ہونے والا تھا. اففففففف
لیکن اس کے باوجود وہ منال کے لیے بہت خوش تھیں. بہت زیادہ.
اسی لئے نازیہ بیگم کے ساتھ مل کر تیاریاں کروانے لگی.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
آج جمعہ کا دن تھا اور بے حد افراتفری تھی… حرا اور بچے تیار تھے…..
یشار اور رزم نے وائٹ شلوار قمیض کے اوپر بلیک ویسکوٹ پہنی تھی.. چمکتی ڈائمنڈ کے ڈائل والی گھڑی ڈالے . جیل سے بالوں سیٹ کئے.. سن گلاسز لگائے وہ وڈیرے بنے کسی ریاست کے شہزادے لگ رہے تھے.
شمس بھی بلو تھری پیس میں وائٹ شرٹ پہنے صوبر سے انداز میں شہزادہ لگ رہا تھا.. حرا نے ان کی نظر اتاری تھی.
تقریباً دو بجے کے قریب وہ گھر سے نکلے تھے..
زری اور ماہی منال کو لئے کمرے میں گھسی ہوئیں تھیں.. پارلر والی اس بے زار سی دلہن کو چار چاند لگانے میں مصروف تھی جس نے ریڈ اور بلو کمبینیشن کا بھاری کامدار لہنگا پہنا ہوا تھا. دلہن یہ ہر گز پہننا نہیں چاہتی تھی.. مگر کیونکہ یہ دلہا کی طرف سے آئا تھا اسی لئے
ماہی اور زری نے مہندی بھی زبردستی لگائی تھی اسے.منال پر انوکھا ہی روپ آیا تھا..چھوٹی نوال بھی ریڈ لہنگا پہنے تیار تھی.
دلہن کو تیار کر کے پالر والی نے انھیں تیار کیا… اورنج کرتیاں گھٹنوں تک جاتی نیچے پٹیالہ شلواریں.دوپٹے سیٹ کیے .. ہائی ہیل… ہلکا میک اپ.. بالوں کے خوبصورت سٹائل.. وہ آسمان سے اتری پریاں لگ رہیں تھیں.
مہمانوں میں بس اس کی پھپھو اور سمیر شامل تھے…سمیر بھی گرے ٹو پیس میں اچھا خصا ہینڈسم لگ رہا تھا…
تبھی قیصر نے آ کر بتایا کہ دلہا والے آ گئے..عابد اور نازیہ بھی سواگت کے لئے آگے بڑھے
وہ پھول لے کر ان کے سواگت کے لئے بھاگیں…جو کہ ان پر پڑی نظروں کی وجہ سے پل صراط سے گزرنے کے مترادف مشکل ہوا.. یشار مبہوت سا اپنی تاشی کو دیکھے گیا.یہ جانے بغیر کے وہاں اس کا شوہر موجود ہے تاشی کو دیکھنے کا حق صرف اس کا ہے.. وہ نروس سی ہو کر پہلو بدلتی رہی.. مگر یشار کی نظریں ہٹ کر نہیں دے رہیں تھیں.
ادھر ماہی بھی بے چین سی تھی.. اس سڑیل کی نظریں خود پر محسوس ہو رہیں تھیں مگر جب وہ دیکھتی تو وہ کہیں اور متوجہ ہوتا…
وہ آ کر لاؤنج میں بیٹھے… سب موجود تھے..حرا کے چہرے پر انوکھی ہی خوشی تھی….. حرا نے کوئی کثر نہیں اٹھا رکھی تھی کہ دنیا کی ہر چیز منال کے لئے خرید لیتی. انکی جانب سے لائے گئے مٹھائیوں اور پھلوں کے ٹوکرے تحفے.. ڈھیرو ڈھیر بری کا سامان.رضیہ بیگم تو حیرت سے دنگ ہی تھیں . اور مرعوب ہوئیں ..
وہ دونوں دلہن کے پاس اوپر چلی گئیں…
نکاح ہوا… ہر طرف مبارک کی صدا بلند ہوئی…
کھانا کھایا گیا..
ان دونوں نے اوپر منال کے ساتھ کھانا کھایا… نا نا کرنے کے باوجود ان دونوں نے منال کو کھلا دیا……
نائفہ آئی تھی نازیہ بیگم کا پیغام دینے…
آپی برائیڈل کو نیچے لے آئیں… دادو بول رہی ہیں..
اوکے ہم آتے ہیں… آپ جاؤ…
اوکے……
زری تم آپی کو لے کر جاؤ… نوال سو رہی ہے.. میں اس کے پاس ہوں… کبھی اٹھ کر رونے لگے اور سیڑھیوں کی جانب نا نکل آئے..
اوکے….. زری نے منال کو تھاما اور نیچے کی جانب بڑھی.شمس کی نظر سیڑھیوں کی کانب اٹھی اور پلٹنا بھول ہی گئی… سوگوار سی دلہن بنی وہ سیدھا اس کے دل میں اتر گئی… زری نے لا کر اسے شمس کے پہلو میں بٹھایا تو وہ زرا سمٹ کر فاصلے پر بیٹھ گئی… شمس کو ہنسی آئی…
ان کی جانب سے آیا فوٹو گرافر دھڑا دھڑ تصویریں بنا رہا تھا جب اس نے کہا سر برائیڈل کے تھوڑا کلوز ہوکر بیٹھیں..
منال کے ہوش اڑے.. شمس کے چہرے پر گہری مسکان تھی.
اے منال چندا شرما کیوں رہی ہو تمھارا شوہر ہے.. جیسا یہ فوٹو کھینچنے والا کہتا ویسے کرو..
منال نے پہلو بدلا. شمس قریب ہوا اور اپنا بازو صوفے کی پشت پر رکھا. جب شمس کا بازو منال کے کندھے کی جگہ پر ٹچ ہوا. اس نے سانس بھی روک لی.. شمس کو قہقہہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا.
سب نے دلہا دلہن کے ساتھ تصوریں بنوائیں.. پہلے عابد اور نازیہ بیگم… پھر حرا اور قیصر… اور پھر جب رضیہ بیگم نے کہا کہ
بیٹا زرا میرے بیٹے اور بہو کی بھی اچھی سی بنانا… زری ادھر آؤ… انھوں نے زری کو منال کے ساتھ بٹھایا… پھر اس کے ساتھ سمیر بیٹھا…
تو اس محفل میں بیٹھے ایک شخص نے پہلو بدلہ اور آنکھیں خون رنگ میں نہا گئیں…کہ تاشی بھی تیکھی نظروں سے دیکھتی خوفزدہ ہوئی تھی.
یشار فوراً وہاں سے اٹھ کر لان میں نکلا تھا..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
واقعی عشق اتنا آسان نہیں تھا… اس وقت یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے اس کو سلگتے کوئلوں کی بھٹی میں جھونک دیا ہو..
باہر کین کی کرسی پر بیٹھا.. اپنے مخصوص سٹائل میں پاؤں جھلاتا.. اندر اٹھتے اشتعال کے طوفان کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا..
جب وہ دشمنِ جاں اندر سے نکل کر پیچھے بنے چھوٹے سے سٹور روم کی طرف جاتی دکھائی دی. وہ تن فن کرتا اٹھا تھا جیسے اس میں سارا قصور تاشی کا ہو.
اس کے پیچھے آیا..
وہ جو اپنے دھیان میں منال کا رکھا گیا سامان لینے یہاں آئی تھی آگے بڑھی…پر سامنے ہی پڑی الماری کو ٹوٹا لٹکا ہوا شیشہ نہیں دیکھ سکی… جو کہ سینڈل میں مقید سیدھے پاؤں کے بائیں جانب بری طرح پیوست ہوا تھا..
ہلکی سی چیخ مار کر وہ بیٹھتی چلی گئ.. یشار جو غصے میں اس کے پاس آ رہا تھااس کی چیخ سن کر بھاگ کر اس کے پاس آیا..اس کی ڈبڈباتی آنکھیں دیکھ کر تڑپا
کیا ہوا تاشی…….رو کیوں رہی ہو..؟
اس نے اپنا خون میں نہایا پاؤں اس کے سامنے کیا…
تو یشار نے سختی سے دانتوں تلے لب دبائے..
تاشی دیکھ کر کیوں نہیں چلتیں… سٹارٹ سے لاپرواہ ہو یار اور تمھیں پتہ بھی ہے تمھاری تکلیف مجھے ہرٹ کرتی ہے… یہ کہہ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر پاؤں سامنے کیا… سینڈل کا احتیاط سے سٹیپ کھول کر اتار دیا…
اپنی ہاکی سے دشمنوں کے چہرے بگاڑنے والا اپنی تاشی کے پاؤں کو یوں چھو رہا تھا.. جیسے وہ موم کا بنا ہو..
اس نے رومال نکال کر زخم پر رکھ کر ہلکا دباؤ دیا تاکہ خون رک سکے..
تاشی نے ایک سسکی بھری.. آنسو ٹوٹ کر نیچے گرا
ی……….. یش… مجھے درد ہو رہا ہے…
یشار نے چونک کر اسکے کپکپاتے پنک گلوز لگے لبوں کو دیکھا…اور فوراً نظریں چرائیں…
تاشی… ریلیکس بلیڈنگ رک چکی ہے… اس نے اپنی پاکٹ سے سنی پلاسٹ کے تین چار سٹریپ رب کر کے زخم پر لگا دیئے.. اور مخملی نازک پاؤں میں سینڈل پہنا کر پھر سٹیپ لگا دیا…
اوکے ہمت کرو.. اٹھو….. اس نے اپنا چوڑا مضبوط ہاتھ آگے بڑھایا… جو کہ تاشی نے بلا جھجھک تھام بھی لیا تھا… بھلا وہ کیوں جھجھکتی وہ تو بچپن سے عادی تھی اسکا ہاتھ تھام کر چلنے کی..
کیا کرنے آئیں تھیں یہاں.. اسے لا کر کین کی کرسی پر بٹھایا…
منال آپی کا سامان لینے آئی تھی…
کدھر رکھا ہے؟
وہ……. الماری کے پیچھے پڑا ہے بیگ….
اوکے میں لے کر آتا ہوں…
یہ کہہ کر وہ سٹور کی جانب جا چکا تھا…جب اندر سے سمیر اس کی جانب آتا دکھائی دیا..
مامی کہہ رہیں ہیں کہاں رہ گئی ہو زری…. آئی نہیں ابھی تک..
وہ.. مجھے چوٹ لگ گئی تھی.. اس نے پاؤں کی جانب اشارہ کیا…
اوو…. یہ کیسے ہوا.. چلو میں تمھیں اندر لے کر چلوں.. سمیر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا…
نہیں… اٹس اوکے.. میں خود چل سکتی ہوں….
یشار جو کہ سامان لے کر باہر نکلا تھا تاشی کو اپنا ہاتھ اسے تھمانے سے انکار کرتے دیکھ ایک مرتبہ پھر گہرا سا مسکرایا تھا…
. چلو.. اندر… وہ سامان لے آئے..
اسے سمیر کا محویت سے اپنی جانب دیکھنا بھی عجیب سے احساس سے دوچار کر رہا تھا اسی لئے اس کا دھیان دوسری جانب بٹانے کو بولی.
چلو چلتے ہیں…
وہ آہستہ آہستہ چلتی اندر کی جانب بڑھی. اپنے رویے پر بلکل غور کیے بغیر….
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
انکل ماہ رخ کدھر ہے.. قیصر انکل نے کہا وہ کالج نہیں جانا چاہتی.. میں نے اسے فون کیا مگر پھر بھی اس نے انکار کر دیا.. میں ایک مرتبہ پھر اس سے بات کرنا چاہتا ہوں… رزم نے عابد صاحب سے کہا
ہاں بیٹا ہم بھی کوشش کر چکے ہیں پر وہ مان کے نہیں دے رہی.. اپنے کمرے میں ہوگی بیٹا اسے ضرور ایگری کر لینا.. اس حادثے کی وجہ سے سے اپنا فیوچر برباد کرنے پر تلی بیٹھی ہے..
جی ضرور انکل……. بظاہر فرما برداری سے بولا لیکن دل میں اس کا دماغ ٹھکانے لگانے کی نیت سے اوپر کی جانب بڑھا…
وہ کمرے میں آیا.. کمرے کو لاک کیا.. مگر وہ اپنے ہی خیالوں میں صوفے پر بیٹھی بے دردی سے انگلیاں چٹخا رہی تھی…نک سک سی تیار ہوئی بے تحاشا خوبصورت لگ رہی تھی..
میرے بارے میں سوچ رہی ہو… ڈئیر وائفی…
وہ حواس باختہ سی ہو کر اٹھی تھی…اسے سامنے دیکھ کر روح فنا ہوئی..
آپ… آپ میرے کمرے میں کیوں آئے ہیں..
.
کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے تو میں ان کی بریوری چیک کرنے آیا تھا. رزم اس کے ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں دیکھ کر تمسخرانہ سا بولا..ہاتھ باندھے کھڑا وہ اس کو جانچ رہا تھا
چلیں اچھا ہے. آپ خود ہی آ گئے مجھے بھی آپ سے بات کرنی تھی. اب وہ کانفیڈینس بحال کرتی بولی.. اب جبکہ سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے تو آپ مجھے ڈائیورس دے دیں.
واٹ……. رزم دھاڑا تھا… وہ پھر سہمی.. کیا کہا ابھی زرا دوبارہ کہنا…رزم نے اسکے بازو دبوچے کھینچ کر اپنے سامنے کیا.
وہ….مم. میں نے کہا کہ آپ مجھے چھوڑ………
کیا بکواس کر رہی ہو ہوش میں تو… کھیل سمجھ رکھا ہے کیا نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کو..
. مم.. میں آ…. آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی…
کیوں؟
کیونکہ آ… آپ بب… بہت برے ہیں… رزم کی نظر اس کے پنک گلوز لگے لبوں پر ٹھہریں.
کچھ زیادہ ہی نہیں بولنے لگی ڈئیر وائفی.. چپ کرواؤں کیا..
وہ اپنے بازوؤں سے اسکے آہنی ہاتھ ہٹانے کی کوششوں میں ہلکان ہو گئی.. مگر وہ پتھر بنا کھڑا رہا.
کیا کریں گے آپ.. گلا دبائیں گے.. دبا دیں.. ایک ہی مرتبہ مار ڈالیں مجھے.. بازوؤں کی تکلیف سے آنکھیں بھر آئیں
نہیں اس مرتبہ تمھیں چپ کروانے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈا ہے میں نے… رزم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی جانب کھینچا اس نے رزم کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس کے اوپر گرنے سے روکا..
کچھ بھی کریں.. میں آپ سے……
اس کی بولتی بند ہوئی تھی.. آنکھیں پھٹ پڑیں جب رزم اچانک اس کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اسکے نرم اور گداز لبوں پر جھکا تھا..
وہ تڑپی…. مچلی… پر سامنے والے کی گرفت آہنی تھی…آنکھوں سے آنسو جاری تھے
رزم کے جانے کیوں پر برسوں کے بھڑکتے دل کو کچھ سکون ملا تھا..
جب اس کی سانس اٹکنے لگی تو رزم کو رحم آیا.. اور نرمی سے اسے چھوڑ دیا.
وہ صوفے پہ گرنے والے انداز میں بیٹھی.. اور سانس ہموار کرنے لگی.
رزم نے غور سے اس کے سرخ آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو دیکھا.
یہ تو ایک چھوٹا سا ڈیمو تھا ڈارلنگ کل سے اگر کالج نہیں گئی تو سوچو رخصتی کے بعد کیا کیا کر کے تمھارا حشر بگاڑوں گا….
وہ کہتا باہر آیا… اپنے آپ کو کوس رہا تھا.. اس کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے پنک لبوں کو دیکھ کر وہ بے خود اور بے اختیار کیوں ہو گیا تھا.. اتنا کمزور تو ہر گز نہیں تھا وہ..
وہ تو پہلے اس سے بدگمان تھی اب کیا سوچے گی اس کے بارے میں…
Shhhhiiiiiittttttttttt….
تو غصہ بھی تو اسی نے دلایا تھا علیحدگی کی بات کر کے.. وہ اب اس کی زندگی میں شامل ہو چکی تھی.. وہ عزت تھی اس کی… وہ اس کے جسم و جاں کا مالک تھا…
تو وہ اتنی آسانی سے کیسے وہ سب کہہ سکتی تھی…
بے وقوف لڑکی….
رزم بڑبڑایا تھا…
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
