Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

ملن کی گھڑیاں آن پہنچی تھیں..
وقت کیسے گزرا ….
یش کو تو ان آٹھ سال سے زیادہ بھاری یہ تین چار ماہ لگے جو تڑپ تڑپ کر گزارے تھے.. کیسے ایک ایک پل اپنی جان پر جھیلا خود کو اس سے دور رکھ کر…وہ جو اس کی ہر آتی جاتی سانس میں بسی تھی.

اور اس آگ میں وہ اکیلا کہاں جل رہا تھا… ایک اور چھوٹی سی نازک سی جان تھی جو سولی پر ٹنگی ہوئی تھی. پر یش اپنی تاشی کے عشق سے بے خبر تھا.
خبر ہو جاتی تو پتہ نہیں کیا قیامت ڈھاتا.

دوسری طرف جہاں رزم بے قرار تھا وہاں یہی بے قراری ماہی کی جان کو بھی چمٹ گئی تھی..
مگر اب اس کے دماغ میں ایک نئی خرافات نے جنم لے لیا تھا..
جب جسم اور روح کے زخم مندل ہوئے تو ایک اور سوچ روح کو دن رات کچوکے لگا رہی تھی..

کہ اس کے جسم میں ڈرگ انجیکٹ کرنے کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا ان درندوں نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا… یہ سوچ اسے آگے کچھ سوچنے ہی نہیں دے رہی..

شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں… وہ دونوں مایوں بیٹھ چکی تھیں
محبت کی منزل پا لینے کا سرو سا تھا جو رگ و پہ میں سرایت کرہا تھا.
محبت کو اپنی منزل ملنے والی تھی.. خوشیاں تھیں کہ دلوں میں دستک دے رہیں تھیں.
پر کیا محبت کو پانا
اور یہ سب اتنا ہی آسان تھا…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

آج ابٹن کا فنکشن تھا..شمس نے جانے کیوں کس خدشے کے تحت آج ہی نکاح جیسے پاکیزہ بندھن میں باندھ دیا تھا یش اور اس کی تاشی کو
سائن کرتے ہوئے تاشی اپنے رب کا لاکھوں اور کروڑوں مرتبہ شکر ادا کر رہی تھی.

تاشی اپنے یش کی ہو چکی تھی ہمیشہ کے لئے.
باہر یش کی بھی کیفیت کچھ ایسی ہی تھی… ایک سکون اور سرور سا تھا جو اسے ہمیشہ کے لئے اپنے نام کر لینے کے احساس سے رگوں میں دوڑ رہا تھا.

وہ دونوں لیمن ییلو شراروں میں آسمان سے اتری پریاں لگ رہیں تھیں. کھلے بال بائیں جانب گرائے ان میں موتیے اور گیندے کے پھول سجائے ہوئے تھے.
دوپٹے سر پہ سیٹ کیے ہوئے تھے.

ابھی تیار ہو کر کمرے میں بیٹھی تھیں.
دونوں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں.. وہ یہیں موجود تھے… یہی بات گھبراہٹ سے دوچار کرنے کو کافی تھی.
تاشی یونہی بیٹھی ناخن چبا رہی تھی جب فون پر میسج رنگ ہوا. Unknown نمبر تھا.
اس نے اوپن کر کے ریڈ کیا تو بوکھلا گئی.

ناخن چبانا بند کرو جان… اچھے بچے نروس نہیں ہوتے.
تیرا چہرہ دیکھ لوں گر ایک بار..
شکر کرتے کرتے یہ زندگی دوں گزار.

الفاظ نہیں تھے یش کے دل کی خواہش تھی اس کی تڑپ… فرمائش.. اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اس کی تاشی نروس ہو کر ناخن چبا رہی ہوگی.
وہ اتنے دنوں بعد اس کا من موہنا مکھڑا ایک مرتبہ دیکھنا چاہتا ہے..
پر سامنے بھی تاشی تھی..
اونہہ.. یش….اور جو مجھے اتنے دن پریشان کیا اس کا کیا..بدلہ تو میں لوں گی آپ سے

منال انھیں نیچے رسم کے لئے لینے آئی تو تاشی نے دل میں شرارت لئے منال کو مصنوعی بے چارگی سے کہا

منال آپی میں نیچے نہیں جاؤں گی…. بہت نروس ہوں.. یا تو اس بیٹ پر جاؤں گی کہ آپ یہ دوپٹے کا گھونگھٹ اوڑھا دیں
پلیز آپی میرا بھی… ماہی بھی روہانسی ہوئی بولی..
افف کیا مصیبت ہےتم دونوں کو شوہر ہیں تمھارے کوئی غیر تھوڑی ہیں…

(اللہ کی شان………… کہہ کون رہا ہے.. جس نے خود بیچارے شوہر کو پانچ ماہ ہوئے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے) منال کے ضمیر نے اسے اندر سے آئینہ دکھایا.. وہ تو خود گرین اور ییلو لہنگے میں نک سک سی تیار شمس کی نظروں سے خائف سی چھپتی پھر رہی تھی.

ان کی ضد پر منال نے ان کے دوپٹوں سے انھیں گھونگھٹ اوڑھا دییے.

آہستگی سے نیچے اتریں. دونوں دولہوں نے ان کے اس ظلم پر پہلو بدلے.
لان میں سجائے گئے صوفے پر تاشی کو یشار اور ماہی کو رزم کے پہلو میں بٹھا دیا گیا.
آخر مہمان ہی کتنے تھے.. چند دوست احباب، قیصر اور رضیہ کی فیملی…

وہ دونوں سمٹ کر زرا ان سے فاصلے پر بیٹھ گئیں.
رسم شروع ہوئی….

تاشی کے موبائل پر پھر میسج رنگ ہوا.. اس نے گھونگھٹ میں ہی اوپن کر کے دیکھا..

Tashii plzzzzz
ایک التجا، ایک آرزو ایک تمنا…
مگر تاشی ڈھیٹ… وہ جو یش کی خوشبو سے ہی مدہوش سی ہوئی بیٹھی تھی.. دانتوں تلے لب دبا کر شدید ہنسی ضبط کی.

ادھر رزم نے ماہی کی جان کو مشکل میں ڈالا ہوا تھا.
کبھی اس کے پیر پہ پیر مارتا تو کبھی سب سے چھپا کر اسے بازو مار دیتا…. سخت تاکید تھی کہ گھونگھٹ ہٹاؤ

مگر وہ بھی ماہی تھی.ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی.

تاشی کے موبائل پر پھر میسج آیا… اوپن کیا.

Ready to pay for it…Tashi Jaan
جب دیدار کی جگہ جسم سے روح میں اتروں گا.. پھر میری شدتیں سہنا…. مگر شکایت ہر گز مت کرنا.

تاشی کے ہتھیلیاں اور ماتھا پسینے سے بھیگا تھا….
اففففففففف…… یش بے شرم… وہ دل و جان سے کانپتی جھلا کر رہ گئی اور جلدی سے موبائل ہی منال کو پکڑا دیا.

اس نے پہلے ہی منال آپی سے کہہ رکھا تھا کہ وہ موبائل میں ان کی پکچرز بنائے..
رسم تمام ہوئی مگر ان کا گھونگھٹ نہیں ہٹنا تھا نا ہٹا

اگر زرا سا بھی عابد، نازیہ اور رضیہ بیگم ادھر ادھر ہوتے تو یش تو ایک سیکنڈ نا لگاتا اور اس کا وہ یش کی جان کا آزار بنا گھونگھٹ پلٹا دیتا.
وہ پہلو بدلتے رہے مگر آنکھوں کی پیاس نا بجھ سکی اور وہ اٹھ کر اوپر چلیں گئیں.
وہ دونوں سخت جھنجھلائے ہوئے تھے.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ دونوں طرف کی زمہ داری نبھانے اور بھاگ دوڑ کے چکر میں ہلکان ہو گئی تھی.حالانکہ حرا بھی اس کے ساتھ تھی اور یہیں پر رہ رہی تھی .

ابھی بھی نوال کو دیکھ کر کے وہ سو گئی ہے تھکن سے چور کمرے میں داخل ہوئی
اور یونہی چینج کیے بغیر اسی قیامت خیز حلیے میں بیڈ پر اوندھے منہ گر کر آنکھیں موند لیں.. اور شمس کے بارے میں سوچنے لگی جس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا.. پلٹ کر کبھی اپنا حق نہیں جمایا. یہی بات منال کو متاثر کر گئی تھی مگر شمس نے اسے ایک ڈائمنڈ چین ضرور لا کر دی تھی کہ جب وہ اس رشتے کو قبول کرے تو وہ اس چین کو پہن لے.. تب وہ سمجھ جائے گا کہ منال اسے اور اس رشتے کو قبول کرنا چاہتی ہے.
وہ اس دشمنِ جاں کے بارے میں سوچنے لگی تھی.
اس کی محبت کے سامنے جھک گئی تھی… مگر ایک ہچکچاہٹ اور فطری گھبراہٹ تھی.. جس سے وہ دوچار تھی.. مگر وہ چین اس کی گردن میں کچھ دنوں سے موجود تھی.. جس کے بارے میں شمس تو شاید بھول ہی گیا تھا.

تبھی شمس کمرے میں داخل ہوا لاک لگایا اور آگے بڑھا..
اس خوشبوؤں میں ڈوبے نازک وجود کے قریب آیا…

منال چینج کر لو پہلے.ان کمفرٹیبل رہو گی ساری رات .. نرمی سے کہتا وہ ڈریسنگ کی جانب پلٹنے لگا جب اچانک بے تحاشا چونک کر پھر اس کی جانب پلٹا.

لہنگے کی کرتی کا پچھلا گلا کافی گہرا تھا.. جس میں سے وہ جگمگاتی چین اسے نظر آئی..

غود سے دیکھا وہی تھی.. لبوں پر گہری مسکراہٹ آئی
ہمممم… تو یہ بات ہے…مسز شمس….. اتنی بڑی چینجینگ آئی اور ہمیں پتہ ہی نا چلا.
شرٹ اتار کر اس نے صوفے پر رکھی.. اور اس پر جھکا.. بیڈ پر رکھے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑے اور پچھلے گلے پر اپنے دہکتے لب رکھے.

منال کی نیند بھک سے اڑی تھی… جب وہ تیزی سے سیدھی ہوئی..
شمس بلا جھجھک اس پر جھک کر اس کے بازو بیڈ سے لگا چکا تھا..

شمس……. آ… آپ یہ کک….. کیا

کیا… میں کیا؟ پہلے تم بتاؤ جانِ شمس یہ کیا ہے؟ شمس نے شہادت کی انگلی اس کی چین میں پھنسا کر تھوڑا اوپر کھینچا. جزبات سے بوجھل اور گھمبیر آواز میں اس سے پوچھا.. آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی

یہ……… وہ….. وہ… منال سے بات نہیں بن پا رہی تھی جب لال ٹماٹر چہرہ اسی کے سینے میں چھپا لیا. شمس قہقہہ لگا کر ہنس پڑا..
ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی.
کمرے میں معنی خیز خاموشی تھی.. شمس اپنی اتنے سالوں کے انتظار تڑپ اور محبت کا خراج وصول کر رہا تھا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

مہندی کا فنکشن اپنے عروج پر تھا.
آج بھی وہ ظلم کے پہاڑ توڑتی ملٹی کلر کے لہنگوں میں گھونگھٹ میں ہی تھیں..

پر آج دولہوں کی طرف سے بڑا سکون اور خاموشی تھی. جیسے کچھ پہلے سے انھیں سرپرائز دینے کا کوئی پلان طے کر کے بیٹھے ہوں.

سفید کلف لگے شلوار قمیض میں پیلے رنگ کی چنریاں گلوں میں ڈالے وہ شہزادے لگ رہے تھے..
نازیہ بیگم نے ان کی نظر اتاری.. اسی محفل میں دو نظریں تاشی کی جانب بڑی حسرت اور حسد سے اٹھ رہیں تھیں.

فنکشن ختم ہوا.. تو وہ اپنے کمروں میں آ گئیں…
تاشی نے چینج کیا….. اب وہ روز ٹراؤزر کے اوپر یش کی ہڈی ہی پہن کر سوتی تھی.

بیڈ پر بیٹھی…. موبائل فون میں اس کی آج کی پکس دیکھ کر مسکرائی
یش…… اچھا ہے… یو ڈیزرو اٹ… اسے تنگ کر کے تپا کر بہت انجوائے کر رہی تھی..

یہ جانے بغیر کہ وہ تمام حساب کتاب لینے چپکے سے بالکونی میں اینٹر ہو چکا تھا.
مگر اس کے آنے سے پہلے کھڑکی سے اس کی خوشبو اندر آئی اور تاشی کو الرٹ کر گئی.

وہ بے تحاشا چونکی.. پھر ایک بھی پل ضائع کیے بغیر بجلی کی سی تیزی سے اٹھی… اور واش روم میں گھس کر خود کو لاک کر لیا.

یش اس کی پھرتی ملاحظہ فرما چکا تھا… پر صرف ہلکی سی پیٹھ نظر آئی…
وہ بھنا کر واش روم کے دروازے تک آیاَ.
تاشی کے تو اوسان یوں خطا ہوئے کہ یش اس کے جسم پر اپنی ہڈی نا دیکھ لے..

Tashi that’s not fair…. Jaan
باہر آؤ.. نہیں تو میں دروازہ توڑ دوں گا.. اب اور پیشنس نہیں رکھ پا رہا میں….

وہ جی جان سے لرزی… مگر یونہی دم سادھے کھڑی رہی.پھر آخر بولی…

ی……….. یش… پلیز…. مجھے پریشان مت کریں….. اور ویسے بھی تاشی ناراض ہے آپ سے..اس نے منہ پھلایا

یش کے چہرے پر گہری مسکان آئی.. کیوں…….. اور میری تاشی کیوں ناراض ہے مجھ سے… رہی بات پریشان کرنے کی وہ تو کل کرنے والا ہوں میں.. آج کچھ نہیں کہوں گا.بس دیکھنا ہے تمھیں . باہر آؤ.. تاشی.. ذومعنی لہجہ..

تاشی پھر لرزی….

ی…….. یش….. پپ… پلیز…آپ کو میری قسم..
تاشی نے بات ہی ختم کر دی….

Ok. I am going..
بٹ…….. کل تو نہیں ناں دو گی قسم..میں کچھ سنوں گا بھی نہیں.. تاشی…میرے اتنے سالوں کا انتظار اور عشق تمھیں اپنی چھوٹی سی جان پر بھگتنا پڑے گا..آئی سوئیر
یہ کہہ کر.. اسے چھیڑ کر وہ جا چکا تھا..

جبکہ تاشی نے اگر دروازہ نا تھاما ہوتا تو کب کی نیچے جا پڑتی.
وہ کانوں تک سرخ ہوئی…
اسے پتہ تھا.. قسم کی وجہ سے یش جا چکا ہوگا… اس لئے اطمینان سے باہر آئی…
باہر آ کر گہرا سا سانس لے کر اس کی خوشبو اندر اتاری.
بھاگ کر بیڈ تک آئی..
بیڈ پر چاکلیٹس، تازہ پھول اور ایک مخملیں ڈبیہ میں وائٹ گولڈ نازک بریسلیٹ تھا…

گہری مسکراہٹ لبوں پر آئی…
Oohh.. Yash I Love you so much

اپنے آپ سے خود ہی بول کر خود ہی شرم سے دوہری ہو گئی….

ادھر رخ نے قسم کھا رکھی تھی رزم کو کانٹوں پر گھسیٹنے کی…. جب وہ چپکے سے روم میں داخل ہوا تو خالی کمرہ منہ چڑھا رہا تھا.. واش روم میں دیکھا وہ بھی خالی تھا.

اسے شاید اپنے دولہے کی اتنی خاموشی اور سکون ہضم نہیں ہوا تھا اسی لئے ڈرنے کے بہانے نازیہ نیگم کی آغوش میں جا گھسی تھی..

اور اب رزم جھنجھناتا پیر پٹختا وہاں سے نکلا تھا..
کوئی بات نہیں ڈارلنگ… کل کا دن تو ہمارا ہوگا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟😂😂