Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

یشار اس کے سر پر بم پھوڑ کر گھر واپس آیا گلاس وال کے قریب کھڑا ہوا… اور آٹھ سال پہلے کے وہ دن یاد آئے..

اعظم یہ کون ہے… وہ اعظم کے ساتھ گھونگھٹ میں لپٹی ایک گٹھڑی سی کو دیکھ کر حیرت سے بولا.

یہ…… یہ میری دوست ہے یشار بابا…اعظم ہچکچایا… بھلا اتنے سے بچے کو بیوی لفظ کے کیا معنی بتاتا.. اور یشار بابا تو سوال ہی اتنے کرتے تھے کہ پسینے چھوٹ جاتے.

دوست ہے تو تمھارے ساتھ کیا کر رہی ہے اعظم… اس کی فیملی نے اسے کیوں بھیجا تمھارے ساتھ.. اور آنے دے دیا.. یشار کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں.

ہاں یشار بابا… میں نے اس سے دوستی کے ایگریمنٹ کا پیپر سائن کروایا ہے اب یہ میرے ساتھ رہ سکتی ہے.. اب میری یا اس کی فیملی کہ گھر والے ہمارے ایک ہی گھر میں رہنے پر کوئی اوبجیکشن نہیں کر سکتے.

ہممم. اوکے… یشار گہری سوچ میں چلا گیا تھا…

جب دو دن بعد اس نے اعظم کے سر پر بم پھوڑا تھا… اعظم میں بھی ہمیشہ کے لیے اپنی فرینڈ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں.. ایک ہی گھر میں اس لئے مجھے بھی وہ فرینڈ شپ کے ایگریمنٹ کا پیپر سائن کرانا ہے تاشی کے ساتھ.

اعظم کے تو پسینے چھوٹ گئے تھے…

اب کیا کرے پھر اس نے لاکھ یشار بابا کو سمجھانے کی کوشش کی… مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا… اور اپنی ضد پر اڑا رہا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

تاشی صبح بھاری ہوئے سر کے ساتھ اٹھی تھی.. جب رات کے وہ قیامت خیز لمحے یاد کر کے ایک مرتبہ پھر اس کے اوسان خطا ہوئے تھے.

وہ لوٹ آیا…… وہ واپس آ گیا….
افففففف
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی…
وہ پاگل… بلکل.. پاگل… نا کسی سے بات کرنے دیتا تھا… نہ کسی سے فرینڈ شپ کرنے دیتا تھا…
اور وہ یہ کیا کہہ کر گیا تھا… اسے یاد آیا..
آٹھ سال پہلے…. جب وہ اسے ساتھ لے کر گیا تھا..

وہ گاڑی میں سے اترے تھے… وہ چھوٹی سی حیران حیران آنکھوں سے اس بڑی سی بلڈنگ اور گارڈن کو دیکھ رہی تھی.
یش….. ہم کدھر آئے ہیں….
یہ ہمارا فارم ہاؤس ہے تاشی….. آ جاؤ
پر ہم یہاں کیوں آئے ہیں… معصومیت سے پوچھا..
وہ اندر آئے… اوکے میں بتاتا ہوں…
دیکھو تاشی.. میں تمھارا بیسٹ فرینڈ ہوں ناں اور تم میری….
ہاں… اس نے اثبات میں سر ہلایا.

تو آج ہم اپنی فرینڈ شپ کے ایگریمنٹ کے پیپر پر سائن کریں گے… پھر کوئی بھی ہمیں یہ نہیں کہے گا کہ اکٹھے مت کھیلو… کہیں اکٹھے مت جاؤ… پھر میں تمھارے ہاؤس آ سکوں گا اور تم میرے….. ہم ایک ہی ہاؤس میں بھی رہ سکتے ہیں.. ساتھ کھیل سکتے.. ساتھ چاکلیٹ کھا سکتے ہیں… ساتھ ویڈیو گیمز کھیل سکتے ہیں..
یشار نے اپنی عقل کے مطابق اسے سمجھایا…

اوکے.. ہم سائن کر لیتے ہیں یش… وہ بے حد خوش ہوئی تھی.. بہت.. اس کا محافظ ہمیشہ اس کے آس پاس رہتا…
تاشی اور جب انکل کچھ بھی پوچھیں تو تم یس کہنا اوکے

اوکے یش

وہ لاؤنج میں آئے تو مولوی صاحب بھی ایک مرتبہ تو ان چھوٹے دلہا دلہن کو دیکھ کر بھونچکے ہوئے تھے.
اعظم نے اشارہ کیا کہ جو کہا جائے وہ کر دو..
پھر ان دونوں نے فرینڈ شپ کے پیپر پر سائن کیے تھے.. پھر گھر آئے.. اس کے بعد یش گیا تھا تو لوٹ کر نہیں آیا تھا..اسے یہی تو سب سے بڑا دکھ تھا کہ یش نے تو اپنا فرینڈ شپ کا ایگریمنٹ تک توڑ دیا تھا
تاشی نے جھر جھری لی… وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی جب فون رنگ ہوا..
منال کو حیرانی ہوئی چچی کی کال تھی.. اس نے فون یس کر کے کان کو لگایا…..
سلام دعا کے بعد منال کو جب حرا کی سسکی کی آواز آئی تو تڑپ گئی.
کیا بات ہے چچی… آپ رو کیوں رہی ہیں.. آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں..،؟
میری طبیعت ٹھیک ہے منال.. مگر کسی بھی وقت خراب ہو سکتی ہے.. اس سے پہلے میں تم سے معافی مانگنا چاہتی تھی..
مجھ سے معافی مگر کیوں چچی…

کیونکہ تم ہمیں نوال کی موت کا زمہ دار سمجھتی ہو اسی لئے تو ہمارے گھر نہیں آتی…..وہ پھر سسکی
نہیں چچی ایسی کوئی بات نہیں.. میں تو اسی لئے نہیں آتی کہ وہاں سے میں ہمیشہ کے لیے اپنی بہن سے بچھڑ…….. خیر…….. مگر جو آپ سوچ رہی ہیں ایسی کوئی بات نہیں..

اگر نہیں تو چلی آؤ میرے پاس .. میری طبیعت ٹھیک نہیں… زری اور ماہی ابھی بچیاں ہیں.. وہ مجھے نہیں سنبھال سکیں گی…

ٹھیک ہے چچی میں آتی. ہوں.. مگر آپ نے کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہیں لینی…

منال نے بوکھلا کر فون بند کیا نوال کو اٹھائے نازیہ بیگم کے پاس گئ… اور انھیں قیصر منزل جانے کا بتایا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟 💟

منال زری اور ماہی حرا کے کمرے میں ان کے ساتھ بیٹھی تھیں…جب کمرے میں قیصر حسن داخل ہوئے تھے… سب کو خوشگوار حیرت ہوئی…

منال، زری اور ماہی اٹھ کر ان سے لپٹ گئیں… انھوں نے تینوں کے سر پر پیار دیا..

جیتی رہو بچیو…

واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز چاچو… بتایا نہیں…

اگر بتا کر سرپرائز ختم کر دیتا تو یہ اتنی پیاری پیاری شکلیں کیسے دیکھتا تمھاری چاچی سمیت.. انھوں نے چھیڑا اور آ کر حرا کے سرہانے بیٹھ گئے.. حرا نے بلش کیا..
وہ تینوں ہنس پڑیں

بچے باہر کھیل رہے تھے…

زری تمھارے ہاتھ کی چائے پینے کا دل کر رہا ہے بےبی کا.. حرا نے شرما کر کہا.. تو وہ مسکرا کر کچن میں چائے بنانے چلی گئی..

لان میں سے نوال کے رونے کی آواز آئی تو ماہی گھبرا کر باہر کی جانب بھاگی تھی…

منال بیڈ پر بیٹھی حرا کا ہاتھ تھامے ان دونوں سے باتیں کر رہی تھی کہ کوئی دستک دے کر اندر آیا….
منال نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو فوراً نفرت سے منہ پھیرا جو سب نے نوٹ کیا…

اسلام و علیکم… شمس سب پر سلامتی بھیجتا اندر آیا..
حرا نے قیصر کو سب بتا دیا تھا.اور .. اب قیصر سیدھا این مینشن سے ہو کر شمس سے تفصیلی بات کر کے اسے لے کر گھر آئے تھے.. وہ تو بہت خوش تھے.. وہ دونوں ان کے دل کے بہت قریب تھے.. دونوں کی زندگی اجڑی ہوئی تھی جو وہ ایک ساتھ مل کر آباد کر سکتے تھے.

مگر ابھی منال کو منانے کا ایورسٹ سر کرنا تھا.
اس کے لئے بھی قیصر نے کچھ سوچ رکھا تھا.
وہ حرا کے قریب آیا تھا.. منال کی پشت کے بلکل قریب کھڑا تھا… وہ پہلو بدل رہی تھی.
کیسی طبیعت ہے آپ کی پھپھو…..
ٹھیک ہوں بلکل تم سناؤ… کیسے ہو…
ٹھیک ہوں…
وہ وہیں صوفے پر ٹک گیا..
منال کو اپنی کمر پر پرحدت نگاہوں کی تپش محسوس ہوئی تو دل کیا اس بندے کو شوٹ کر دے..
چچی میں چلتی ہوں امی اکیلی ہوں گی… زری اور ماہی نوال کو لے کر آ جائیں گی..
ہر گز نہیں.. زری چائے بنا رہی ہے… پی کر جانا… حرا نے اس کا ہاتھ تھاما تو اس نے بے بسی سے لب کاٹے.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ماہی لان میں نوال کے پاس آئی تھی.. وہ گر گئی تھی اب وہ اسے گود میں لئے بہلا رہی تھی.. جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیرت سے دنگ رہ گئی..
رزم بیگ ہاتھ میں تھامے لاؤنج سے باہر آ رہا تھا… مگر آج دکھنے میں وہ بلکل مختلف بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا..نیلی آنکھیں اس کی طرف اٹھیں.. تو پھر ماتھے پر بل آئے..
بے وقوف لڑکی… پتہ نہیں کیوں حواسوں پر سوار ہو جاتی ہے….
اونہہہ… سڑیل شکر ہے جا رہا ہے.. جان چھٹی لاکھوں پائے….. وہ بڑبڑائی
آپ نے کچھ کہا.. وہ پتہ نہیں کیوں پر اس سے آخری بار الجھنا چاہتا تھا…
نہیں میں نے تو کچھ نہیں کہا… وہ معصوم بنی…
اور سڑیل کس کو کہا… ماہی اب کے بار تو بوکھلائی تھی…

میں نے تو نہیں کہا… آپ نے سنا کیا… وہ پھر مکری…

رزم نے لب بھینچے.. وہ بھی تو یونہی پیروں پر مکر جاتی تھی… وہ ایک جھٹکے سے بیگ لیے باہر نکلا تھا اب اسے اس کی شکل کبھی نہیں دیکھنی تھی..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ کچن میں اپنے دھیان میں چائے بنا رہی تھی جب وہی احساس ہوا.. پھر سر جھٹک دیا.. اب اسے اس سے نا ڈرنا تھا نا اس سے کوئی واسطہ رکھنا تھا…. کبھی نہیں…

تاشی….بھاری گھمبیر آواز سنائی دی تو وہ اچھلی.. اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو حیرت سے گنگ رہ گئ

سامنے یوسف تھا مگر بہت ہی الگ حلیے میں.. براؤن آنکھیں.. گرے پینٹ.. بلیک ہڈی والی شرٹ.. مگر آج چہرے پر رومال نہیں تھا… بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشنگ.. مہربان سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا حیران ہونا اور آنکھوں میں بے تحاشا خوف نوٹ کر رہا تھا.

کیا یار تاشی….. پہچانا نہیں تھا… میں یشار خان یوسف تھا… وہ اتنا بے تکلف تھا جیسے پتہ نہیں ان کے بیچ کتنی گہری دوستی ہو…
اس نے مڑ کر چائے کپس میں ڈالنی شروع کی…

مجھ سے ناراض ہو تاشی؟ آواز میں صدیوں کا درد تھا…

کیوں بھلا میں آپ سے ناراض کیوں ہونے لگی… آپ کا اور میرا تعلق ہی کیا ہے..
میرا تو تم سے میری روح کا تعلق ہے اور……..
پلیز… مجھ سے ایسی باتیں کرنا بند کریں… آپ بھی جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے تو پھر…؟
تاشی…..
پلیز…….. یش……… میرا مطلب ہے یشار خان یوسف

نہیں یش ہی بولو…. اپنا سا لگتا ہے…. اس نے بے دردی سے لب دانتوں تلے کچلے..
یشار ان نازک پنکھڑیوں سے اسے یہ سلوک کرتے دیکھتا خفا سا ہوا..مگر اس سے پہلے وہ اسے ٹوکتا وہ چائے کی ٹرے اٹھائے وہاں سے نکلتی چلی گئی.
اس نے ٹھنڈی سی آہ بھری.. ظالم…… چائے بھی نہیں پوچھی….وہ ٹھنڈی سی آہ بھرتا وہاں سے بیگ لیے نکلا… شمس نے اپنی گاڑی میں آنا تھا…. شمس لالہ نے کہا تھا کہ اس کے آنے تک وہ گھر ہی رہیں کیونکہ انھوں نے ان سے کوئی ضروری بات کرنی تھی.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ چائے لے کر اندر آئی…. جب ایک اجنبی کو وہاں بیٹھے دیکھا… اس نے سلام کیا…
جاؤ زری ماہی کی چائے اور اپنی چائے لان میں لے جاؤ…
ہمیں منال سے ضروری بات کرنی ہے…
زری حیران ہوتی وہاں سے چلی گئی…
منال نے پھر پہلو بدلا..

منال شمس تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے

مگر چاچو میں ان سے کچھ نہیں سننا چاہتی…..
منال نے درشتی سے کہا

کہ شمس بولا…. میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں…

دماغ جنھجنھایا تھا. منال کا… جیسے پہلے کی تھی چھپ کے… بزدلوں کی طرح…
شمس کا چہرہ دھواں دھواں ہوا… فوراً اٹھا..قیصر اب تو یہ شادی پوری دنیا کے سامنے کروں گا تب ہی ہوگی….. .اور باہر نکلتا چلا گیا…

منال نے شکایتی نظروں سے قیصر کو دیکھا.. مگر انھوں نے سنجیدگی کہا منال پرانی باتیں بھول جاؤ تمھارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے…
چاچو مگر میں اس شخص سے ہر گز شادی نہیں کروں.. یہ میرا آخری فیصلہ ہے……ااس نے نفرت سے کہا.
قیصر نے افسوس سے سر ہلایا…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ تینوں کھانے کی ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے جب شمس نے انھیں تمام تفصیلات بتاتے ہوئے یہ گڈ نیوز سنائی تھی کہ وہ منال سے شادی کر رہا ہے..

وہ دونوں بے حد بے حساب خوش تھے… جب رزم نے شمس کو کچھ بتانے کے لئے منہ کھولنا چاہا.. تو یشار نے آنکھوں سے منع کر دیا..
شمس کے جانے کے بعد… تم نے مجھے لالہ کو تاشی کے بارے میں بتانے سے کیوں روکا…
کیونکہ میں نہیں چاہتا وہ اتنے سالوں بعد اتنی خوشی کے موقع پر کچھ اور سوچیں یا پریشان ہوں… جب سہی وقت ہوگا میں خود ہی بتا دوں گا…
آئی ایگری……
وہ دونوں اپنے کمرے میں آئے تھے تیاری کے لیے کیونکہ زونی نے بہت کام کی انفارمیشن دی تھی…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ہائے ماہی زری نہیں آئی آج کیا…..زونی نے اس کو اکیلے بیٹھا دیکھا تو اس کے قریب چلی آئی… چھٹی کا وقت ہو چلا تھا
نہیں… آئی طبیعت خراب تھی اس کی اسی لئے…
اتنے میں ہی مس شازیہ بمشکل چلتے ہوئے ان کے قریب آئی تھی….
ماہ رخ اور زینیہ میری طبیعت بہت خراب بیٹا کیا تم دونوں آج مجھے گھر تک چھوڑ دو گی…قریب ہی ہے… کچھ وقت لگے گا..مجھے سے چلا نہیں جا رہا. بچو
ماہی پہلے ہچکچائی… مگر زونی کے اشارہ کرنے سے مطمئن ہو گئی…اور دل میں سوچا ٹیچر ہیں ہمارا فرض بنتا ہے ان کی مدد کرنا…..

وہ دونوں میم شازیہ کو سہارا دیئے نکلیں…… اور آ کر ان کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھ گئیں…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

مچلی کانٹے میں پھنس چکی ہے یشار…. اب بس اسے پکڑنے کی ایسی پلاننگ کرنی ہے کہ کہیں سے بھی بچ نکلنے کا راستہ نا ہو…
ایسا ہی ہوگا… ڈونٹ وری…. کوئی اور خبر..
زونی کے ساتھ تاشی کی سسٹر ماہ رخ بھی ہے..
واٹ… یشار پریشان ہوا… ایسا کیوں.
وہ میڈم ہے… میڈم………… ایک شکار نہیں پھنساتی… اگر زونی اسے منع کرتی تو جتنی وہ شاطر ہے اسے اندازہ ہو سکتا تھا.. اسی لئے اسے بھی ساتھ لے جانا پڑا…ویسے بھی میڈم کا پہلا ٹارگٹ وہی تھی.. رزم کا اندازہ لاپرواہ سا تھا
مگر یشار اب بے چین تھا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
تقریباً تین بجے وہ میڈم کے گھر پہنچی تھیں …. انھیں سہارا دے کر اندر ان کے لاؤنج تک لائیں.. یہ بڑا سا گھر تھا… مگر عجیب اور ویران… انھوں نے شازیہ کو صوفے پر بٹھایا…
اوکے میم ہم چلتے ہیں… دیر ہو جائے گی.. ماہ رخ گھبرائی سی تھی اس لئے یہاں سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی
ارے ماہ رخ بیٹا… ایسے کیسے تم لوگ اتنی دور مجھے چھوڑنے آئی میں تمھیں کچھ کھائے پئے بغیر نہیں جانے دوں گی….
ان کے اشارے پر ملازمہ فوراً جوس کے گلاس اور لوازمات لے کر آئی تھی… جیسے پہلے ہی تیار بیٹھی ہو.
مجبوراً انھیں بیٹھنا پڑا…
پھر ہچکچاتے انھوں نے ایک ایک پیٹیز اٹھائی… اور جوس کا گلاس ختم کر کے اٹھ کھڑی ہوئیں…
اوکے میم ہم چلتے ہیں… جب ان کے سامنے دنیا گھوم گئی تھی…
شازیہ کے چہرے پر خباثت ٹپکی
چلی جانا… اگلی دنیا میں… مگر ہمارا کام کر کے…
ان کے یہ جملے بےہوش ہوتے ہوئے بھی بڑے واضح زونی اور ماہی نے سنے تھے…
ماہی نے بے اختیار اللہ کو مدد کے لیے پکارا تھا….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

زری گھر سے نکلی تھی قیصر منزل کا بول کر اور اب محلے میں موجود مدرسے میں جہاں بچیوں کا حفظ اور ترجمہ و تفسیر سکھائی جاتی تھی.. وہاں داخل ہوئی…
آخر کچھ انتظار کے بعد عالما اور فاضلہ باجی سے ملاقات کرنے کا وقت مل ہی گیا….
پھر اس نے اپنی دوست کا بول کر انھیں ساری تفصیل بتائی اور مسئلہ پوچھا…

دیکھو بیٹا….. تمھاری اس دوست کے پہلے نکاح کی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں…
ایک تو بچپن… دوسرے جب دلہا دلہن کو پتہ ہی نہیں کہ وہ کونسے مقدس رشتے میں بندھنے جا رہے ہیں تو یہ نکاح تو ویلِڈ ہو ہی نہیں سکتا.. اور تیسری بات.. دلہن کے ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں ہے… تو اس پہلے نکاح کی کوئی اہمیت نہیں
ہاں جو دوسرا ہے.. وہ حیثیت رکھتا ہے.. وہ دلہن کی رضامندی اور اس کے ولی کی سرپرستی میں ہوا ہے.. دلہن نے اس رشتے کو دل سے تسلیم کرتے سوچ سمجھ کر نکاح کیا ہے…

اس نے سکون کی لمبی سانس بھری… ضمیر پر ایک بوجھ سا تھا جو سرک گیا تھا….
مگر اس کا خوف تھا جو رگوں میں سرایت کر چکا تھا
وہ جانتی تھی اس کا جنون.، عشق، دیوانگی… خود کے لیے اس کے پاگل پن سے بے حد خوفزدہ تھی.
وہ پر سکون ہو کر گھر آئی تھی..
جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی اس دن کی.وہاں سے قیصر منزل گئی.
گھر آئی… تو ان دیکھی پریشانی سی محسوس ہوئی شام کے چھ بج چکے تھے.. ماہی کا کچھ اتا پتا نہیں تھا…
عابد اور قیصر ہر جگہ پتہ کر چکے تھے.. پریشانی حد سے سوا تھی…

اور اب تو رات کے آٹھ بج چکے تھے…. اب تو نازیہ، منال حرا اور زری نے رونا شروع کر دیا تھا..
محلے والے بھی آ آ کر کن سوئیاں لے رہے تھے.. اور تماشا دیکھ رہے تھے… دبی دب سرگوشیاں تھیں جو کانوں کے لئے اذیت کا سبب بن رہی تھیں..