Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

رزم بھی جا چکا تھا
شاید دونوں فلیٹ میں گئے تھے…
شمس نے ٹھنڈی آہ بھری اور اعظم کو کال ملائی فون پہلی بیل پر ہمیشہ کی طرح رسیو کر لیا گیا..

جی سر… حکم

اعظم تم نے یشار کو سمیر کے متعلق بتایا…. ؟

جی سر… اس نے قبول کیا.

اور تاشی کو؟

سمیر نے سر… رزم بابا نے مجھے ریکارڈنگ بھیجی.. وہ میں آپ کو بھیج رہا ہوں.. بس اسی لیے بتایا کہ یشار بابا بہو کی یہ غلط فہمی دور کر سکیں.

بھیج دو اور اس دن والی بھی بھیجو.. جب اس خبیث سے ڈیل ہوئی تھی.. اور اب مجھے وہ اس شہر میں نا نظر آئے..

وہ تو سر… رزم بابا نے پتا نہیں کیا درگت بنائی اس کی….. پہلے ہی ملک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے..

ٹھیک ہو جو کہا ہے وہ کرو…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

شمس نوال کے کمرے میں آیا تو منال اس کے انتظار میں جاگ رہی تھی.
ریڈ پاؤں تک میکسی پہنے ہلکا سا تیار ہوئی وہ قیامت ڈھا رہی تھی.
آپ نے مجھے انتظار کرنے کو کیوں کہا… اور کمرے میں جانے سے کیوں منع کیا.. وہ حیران ہوئی.
سرپرائز جانِ شمس.. وہ آگے بڑھا اور اسے بازوؤں میں بھرا.

یہ…. کک… کیا کرہے ہیں شمس… کوئی دیکھ لے گا…وہ مچلی
شمس کو دل میں ہنسی آئی اپنے بھائیوں کی درگت پر.. پھر بھی ہنسی ضبط کر گیا.

کوئی نہیں ہے.. چپ بلکل چپ.. وہ اسے یونہی اٹھائے روم تک لایا..
کلوز یورز آئیز ڈارلنگ…..
مگر شم…….
نو اگر مگر….
منال نے آنکھیں بند کیں.. وہ کمرہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا لاک لگایا..
منال کی سانسوں میں گلاب اور موتیے کی خوشبو بسی.

آنکھیں کھول سکتی ہو جان.

اس نے آنکھیں کھولیں تو حیران ہوئی… پھر بے تحاشا شرم سے چہرہ لال سرخ ہوا..
اس کمرے کو بھی بلکل باقی دلہنوں والے کمروں کی طرح سجایا گیا تھا..
بیڈ پر گلابوں سے ہارٹ شیپ بنی ہوئی تھی.
پورا کمرہ پھولوں سے جیسے بھر دیاگیا تھا.

میرے کمرے کی پہلی والی سجاوٹ تو میری جان کو پسند نہیں آئی تھی.. اس لئے اس کی حالت بگاڑ دی..
منال شرمندہ ہوئی.مگر شمس کی آنکھوں میں واضح شرارت تھی.
اب میں نے سوچا کیوں نا دوبارہ ٹرائی کیا جائے..

منال نے شمس کے سینے میں منہ دیا

شمس پلیز مجھے نیچے اتاریں..میں نے چینج کرنا ہے.

اتار دوں گا جان… مگر نیچے نہیں.. بیڈ پر… وہ کہتا اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھک چکا تھا.
بہت قریب ہوا اور اس کے ہاتھ میں ایک بریسلیٹ پہنا دی.

یہ رہی منہ دکھائی… اور اب اس سپیشل نائٹ کا باقی کا کام شروع کریں..

شمس قسم سے آپ بہت خراب ہیں.. وہ روہانسی سی ہو کر اس کے سینے میں منہ دے گئی.
شمس نے قہقہہ لگایا اور محبت کا خراج لینے اسے مکمل اپنی آغوش میں لیا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

اگلا دن بے حد بوجھل سا تھا.
وہ رات یونہی روتے ہوئے کب نیند کی وادی میں اتری پتہ ہی نا چلا.. سر بہت بھاری ہو رہا تھا.. کمرہ ہنوز خالی تھا..

اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں…
یش پوری رات ہی کمرے میں نہیں آئے.. اور اب تک کدھر ہیں… اب اسے اپنے ہتک امیز رویے اور اتنے سنگین الفاظ کا احساس ہوا تو تڑپ گئی…
ابھی اٹھ کر سیدھی ہی ہوئی تھی… کہ دروازے پر ہلکی سی ناک ہوئی….

اس نے جلدی سے اٹھ کر خود پر دوپٹہ لپیٹا اور دروازہ کی جانب بڑھی..
دروازہ کھولا.. تو نظریں جھک گئیں…

اسلام و علیکم… شمس لالہ…

جیتی رہو.. شمس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا.. وہ دروازے سے ہٹی شمس دھیمے سے اندر آیا

بیٹھیے نا لالہ…. وہ صوفے پر بیٹھا…

بیٹھو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے..

وہ بیڈ پر ٹک گئی.

یشار کہاں ہے؟ شمس نے جان بوجھ کر پوچھا.

اس کی نظریں دوبارہ جھکیں.. اور نروس ہو کر ناخن چبانے لگی.

مجھے تمھارے اور یشار کے بارے میں مری میں پتا چلا… یشار بہت بکھرا ہوا تھا.. میں نے کبھی اس کی وہ حالت نہیں دیکھی جو اس دن تمھیں کھونے کے ڈر سے اس کی ہو گئی تھی… وہ بھی مرنے والا ہوا تھا.
بس اسی لئے ایک بھائی کی تڑپ اور تکلیف ایک بھائی سے دیکھی نہیں گئی اور میں نے وہ سب کر دیا… مطلب سمیر سے وہ ڈیل میں نے کی تھی…

تاشی بے تحاشا چونکی..

یشار کو تو تمھاری طرح کل ہی اس بارے میں پتہ چلا.. وہ سب میں نے کیا.. اگر اسے تمہیں کسی غلط طریقے سے پانا ہوتا.. تو کب کا پا چکا ہوتا.. تمھارے کمرے تک جاتا رہا ہے.. آگے تم خود سمجھدار ہو.
یہ مت سمجھنا کہ میں اپنے بھائی کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہوں.. ویڈیو بھیجی ہے تمھیں دیکھ لو..شاید اسی دن کے لئے رکھی تھی تاکہ تم یشار کو غلط مت سمجھو.

وہ کہتا اٹھا… ایک مرتبہ پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھا.. اور وہاں سے نکلتا چلا گیا… وہ پتھرائی سی بیٹھی تھی

تاشی… شمس لالہ کی ہر بات پہ ایمان لے آئی تھی…
فون میں ویڈیو دیکھی… اور سر تھام لیا.

اففففف… تاشی ڈوب مرو……اپنے آپ کو کوسا…. الو کی پٹھی….. ایک مرتبہ سن تو لیتی کے یش کیا کہنا چاہتے تھے… اور بنا سوچے سمجھے جو منہ میں آیا بک دیا… تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ یش صرف تمھارا جسم……….. چھی…… گدھی… اگر ایسا ہوتا تو وہ مری کی اس بھیانک رات کو کیوں پیچھے ہٹتا جب تم مکمل بے بس اور اس کی دسترس میں تھی..
Shhhiiiiitttttttttt

پچھتاوے تھے کہ ناگوں کی طرح ڈس رہے تھے.. لیکن پھر کھوپڑی الٹی گھومی…

اونہہہ کیا تھا جو تھوڑی وضاحت کر دیتے…. بیشک مجھے ڈانٹ دیتے… جھڑک دیتے مگر کچھ تو کہتے… اور اب تک مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر پتہ نہیں کدھر خوار ہو رہے ہیں.
مطلب حد ہو گئی. وہ ناراض ہیں تو میں بھی ناراض ہوں مجھے کیوں چھوڑ کر گئے..سخت تلملائی
اور اب تو میں کتنا مس بھی کر رہی ہوں….وہ بھی بہت سارا… فون چیک کیا نا کوئی میسج نا کال…

وہ جھلائی…..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ناشتے کی ٹیبل پر سب موجود تھے…. عابد اور نازیہ بیگم ان کا ناشتہ لے کر آئے تھے
حرا قیصر اور بچے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے..

مگر ان میں سے دو نفوس تھے جو بہت بے چینی سے بار بار پہلو بدل رہے تھے.ایک تاشی اور دوسری رخ. ان کی یہ بے قراری ہر کوئی معنی خیزی سے نوٹ کر رہا تھا.

نظریں بار بار ڈائینگ ہال کی کھڑکی میں سے داخلی بڑے سے دروازے کی جانب اٹھتیں اور مایوس واپس پلٹ آتیں.

لیکن تاشی کو حیرت تو اس بات کی تھی کہ گھر والے تو کیا….. خود بابا اور مما نے یش اور رزم کے بارے میں پوچھا ہی نہیں کہ وہ کہاں ہیں ناشتے پر کیوں نہیں موجود…
وہ اس بات سے انجان تھی کہ ان سب کو پتہ تھا کہ وہ کہاں ہیں.

بڑی مشکل سے چند نوالے زہر مار کیے.. ان کو تو کچھ اچھا ہی نہیں لگ رہا تھا… ماہی بھی ساری رات آگ کے بستر پر پہلو بدلتی رہی مگر نا نیند آئی نا آنسو رکے.. وہ خود اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی کہ کیا چاہتی ہیں.. شاید اندر کہیں محبت بری طرح اپنی جڑیں پھیلانا شروع کر چکی تھیں تبھی اس دشمنِ جاں کی تلاش میں بار بار نظر بھٹک رہی تھی.

وہ جلد ہی ناشتے کی ٹیبل سے اٹھ آئی….
بے چینی حد سے سوا تھی..
یونہی فون اٹھا کر چیک کیا تو رزم کا میسج تھا… بے تحاشا خوش ہو کر میسج ریڈ کیا تو پھر روح فنا ہوئی.. جیسے جسم سے جان کھینچی گئی ہو.

جان…. بہت ہی خطرناک مشن پر ہوں… دعا کرنا شہید ہو جاؤں… تمھاری اور میری جان چھوٹ جائے گی اس روز روز کی اذیت سے…..
صرف تمھاری محبت میں پاگل.. تمھارا رزم

وہ بیڈ پر گر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اس ستمگر کے سہی سلامت لوٹنے کی دعائیں مانگنے لگی….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

تاشی بے چینی سے کمرے میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھی.
عابد اور نازیہ جا چکے تھے….
یہاں تو کسی نے ولیمہ کی تقریب کا بھی ذکر نہیں کیا تھا.

دولہے ہی غائب تھے.

بار بار آنکھیں بھی ڈبڈبا رہیں تھیں.
صبح کی چھتیس سو مرتبہ یش کو کال ملا چکی تھی. مگر فون سوئچ آف تھا.

اور اب تو دوبارہ رات ہونے کو آئی تھی..
اب تو تاشی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی.
جب بے چینی حد سے سوا ہوئی تو کمرے سے باہر آئی..

سٹڈی کا دروازہ ہلکا سا ناک کر کے اندر داخل ہوئی
شمس لیپ ٹاپ پر کام میں بزی تھا..

آؤ… گڑیا… ادھر کیوں کھڑی ہو… اندر آ جاؤ.ادھر بیٹھو

وہ آئی اور اندر ان کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھ گئی.
بری طرح انگلیاں چٹخاتی بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی

شمس سمجھ گیا وہ ہچکچا رہی ہے.. اسی لیے نرمی سے بولا… گڑیا پوچھ لو جو پوچھنا ہے….. ہچکچاؤ مت

وہ…. لالہ…… وہ کدھر ہیں….. شمس کے اصرار پر اس نے جھجھکتے پوچھ ہی لیا.

شمس کی مسکراہٹ گہری ہوئی.. وہ کون.. اسے چھیڑا.. حالانکہ جانتا تھا کہ وہ اپنے یش کے لیے بے قرار ہے

لالہ….. پلیز.. وہ روہانسی ہوئی… شمس نے قہقہہ لگایا…
وہ سخت جھنجھلائی.
لالہ یش کدھر ہیں.. اب کے بار اس نے جھلا کر پوچھ ہی لیا…
شمس سنجیدہ ہوا….

گڑیا… کیا تمھیں پتہ ہے کہ تمھارا یش پاکستانی آرمی کا انٹیلیجنس آفیسر ہے…..
تاشی کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں…

لالہ…. یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ.. وہ جی جان سے لرزی.

ہاں…بیٹا…سچ ہے یہ… اور اس وقت وہ ایک انتہائی خطرناک مشن پر ہے.. کچھ غیر ملکی صحافیوں کو دہشت گردوں نے پکڑ لیا…. انھیں ایمرجینسی کال آئی.. تو وہ انھیں چھڑانے چلے گئے…
بہت ہی نڈر بہادر بے خوف اور طاقتور ہیں قوم کے بیٹے..مرد مجاہد… دشمن تھر تھر کانپتا ہے یش کی ہاکی اور رزم کی گن سے…… مجھے میرے بھائیوں پر فخر ہے. بس دعا کرو غازی ہو کر لوٹیں… نہیں تو شہادت ملنے کی تمنا تو ہر مرد مجاہد کی پہلی آرزو ہے.

شمس کے ہر لفظ پر تاشی کا چہرہ خطرناک حد تک سفید پڑ چکا تھا…
کہ شمس بھی گھبرا گیا اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا.
وہ یا تو اب اسے حقیقت نا بتاتا یا پھر مشن کا نا بتاتا..

گڑیا گھبراؤ نہیں دعا کرو….وہ جلد سہی سلامت لوٹ آئیں. گھبراؤ نہیں..

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی تھی.
کمرہ لاک کیا بیڈ پر گری اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی..

مسہری کے پھول بھی مرجھانے لگے تھے..

یش……… تڑپ کر پکارا…. پلیز ائم سوری….. مجھے معاف کر دیں…. اب کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گی….
پلیز واپس آ جائیں….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟