Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

صبح زری کی آنکھ کھلی تو کچھ بہت عجیب لگا… کمرے میں ایک عجیب سی اجنبی خوشبو تھی جو اسے گھبراہٹ سے دوچار کر رہی تھی. وہ دونوں کالج کے لئے تیار ہوئیں

قیصر کا ہی ڈرائیور انھیں کالج سے پک اینڈ ڈراپ کیا کرتا تھا.
وہ گاڑی میں نکلیں.. زری پھر بے چین سی تھی.. کیوں اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی.. اسنے سڑک پر ادھر ادھر دیکھا.. کافی ٹریفک تھی..
مگر ایسے محسوس ہوا کہ ایک ہیوی بائیک پر لڑکا جس کی وہ شکل نہیں دیکھ سکتی تھی ہڈی اور منہ پر بندھے رومال کی وجہ سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا. جب اس نے دیکھا تو وہ اپنے دھیان میں اپنا سفر طے کر رہا تھا.. وہ جھنجھنلائی..
اور سر جھٹک کر پھر ماہی کی طرف متوجہ ہو گئی.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟❤️💟

وہ کالج سے آ کر کھانا کھا چکی تھیں.. جب نازیہ بیگم نے انھیں ڈرائیور کے آنے کا بتایا.. ان کی طبیعت خراب تھی اور منال باہر جاتی ہی نہیں تھی اسی لیے ناچار حرا کی شاپنگ کرنے انھیں ہی جانا پڑا…

پرپل اور لائٹ پرپل کمبینیشن کی فراک اور حجاب لئے نیچے جینز کی ٹائٹس پہنے وہ آج ایک جیسے ڈریس میں تھیں..

مال پہنچیں… ڈرائیور لسٹ لے آیا تھا… پہلے گروسری لی.. اور ڈرائیور کو تھمائی.. وہ گاڑی کی طرف چلا گیا.. پھر بچوں کی شاپنگ کی..

زری پہلو بدل رہی تھی.. یوں جیسے کوئی سائے کی طرح اس کے پیچھے تھا.. اس کا سایہ بنا ہوا تھا.. بار بار ماتھے پر آیا پسینہ ٹشو سے صاف کر رہی تھی.
ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا وجود جل رہا ہے…زری نے جھر جھری لی.
ہر بار چونک کر ادھر ادھر دیکھتی وہ عجیب سے حلیے ہڈی اور منہ پر رومال والا لڑکا دکھائی دیتا مگر اس کی جانب ہر گز نہیں دیکھ رہا ہوتا تھا
بار بار دل میں خیال آ رہا تھا کہ یہ کہیں ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا.. مگر وہ تو ان کی جانب دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا تھا تو پھر یہ کیا تھا..

انھوں نے بہت سلیکٹیو چیزیں لیں تھیں بچوں کے لئے…
بچوں کی کچھ سکول کی چیزیں بھی لینی تھیں جب وہ چار لڑکے ہنسی ٹھٹھول کرتے مال میں داخل ہوئے لیکن ان کو دیکھ کر ٹھٹھک سے گئے..
پھر وہ بار بار ہوٹنگ کر رہے تھے..
ماہی تو بھڑ پڑتی.. مگر زری بے حد گھبرا رہی تھی…
پھر انھوں نے باقی کی شاپنگ پھر کسی دن کے لئے اٹھا رکھنے کا فیصلہ کیا اور وہاں سے نکلتی چلیں گئیں…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
یشار جو تاشی کو تنگ کرنے کے لیے صبح سے اس کا پیچھا کر رہا تھا..
مال میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہی تھا وہ تاشی کو پر حدت نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور وہ بار بار ماتھے سے پسینہ صاف کر رہی تھی.. وہ مخصوص حلیے میں گہرا سا مسکرا رہا تھا.
جب وہ چار لڑکے اسے تاشی کی طرف گندی نظروں سے دیکھتے دکھائی دیئے.
اس کا جی چاہا ان کی آنکھیں نکال دے.مگر وہ پبلک پلیس پر ان کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا
. اشتعال سے وہ پاگل ہو جاتا جب وہ تنگ آ کر مال سے نکلی تھیں.. وہ تن فن کرتا ان کے پیچھے ہی نکلا تھا

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ پارکنگ میں داخل ہی ہوئیں تھیں.. جب ایک سپورٹ کار ان کے پیروں میں آ کر رکی تھی..اور زور سے پہیے چرچرائے تھے

وہ اچھلیں اور دہشت زدہ سی ہو کر پیچھے ہٹیں.. زری کا تو چہرہ پیلا زرد ہو چکا تھا خوف سے ایسے جیسے سارا خون نچوڑ لیا گیا ہو.
اتنے میں کار کے دروازے کھول کر وہ چار بگڑے رئیس زادے باہر تشریف لائے تھے..
اور ان کی جانب بڑھے.

دیکھو تو زرا پاشا.. کتنی پیاری ڈول ہے.. بلکل میرے معیار کے مطابق…. وہ خباثت سے بولا.
ہاں…. یہ نیچرل بیوٹی پہلے کیوں نہیں نظر سے گزری ہمارے…… حیرت ہے…

اچھا ٹچ تو کر کے دیکھو.. سچ مچ کی ہے کہ کوئی ڈمی ہے.

اے خبردار میری بہن کو پریشان کیا… منہ نوچ لوں گی. ماہی غرائی

تو تم کو کر لیتے ہیں پریشان… کم تو تم بھی نہیں ہو بیوٹی فل…. اس نے مکروہ انداز میں آنکھ دبائی..

زری پوری ماہی کے پیچھے چھپی تھر تھر کانپ رہی تھی جب وہ لڑکا آگے بڑھا.
اے ہٹو سامنے سے… مجھے اس سے فرینڈ شپ کرنی ہے.. بے بی کو گھمانے لے جانا ہو..
ایک لڑکا ماہی کے سامنے آیا اور دوسرا گھوم کر اس کے پیچھے گیا..
ابھی وہ ہاتھ بڑھا کر زری کی کمر کو ہاتھ لگاتا کہ ایک پل بھی نہ لگا تھا.. اس کا ہاتھ ٹوٹ کر کلائی سے لٹک گیا تھا.

اور پھر اس کے سینے پہ دھماکے سے ایک چٹانی پاؤں بجا تھا جس سے وہ سوکھی لکڑی کی طرح ہوا میں اچھلا اور اپنے اس ساتھی کے اوپر جا کر گرا جو ماہی کے سامنے کھڑا تھا.
یہ سب اتنی اچانک ہوا تھا کہ وہ آنکھیں پھاڑے ہکا بکا کھڑے تھے… جبکہ زری اور ماہی نے پیچھے مڑ کر اپنے مسیحا کو دیکھا..
مگر صرف گرین آنکھیں دیکھ پائیں
گرے جینز اور بلو ہڈی میں منہ پر رومال باندھے وہ خونخوار نظروں سے ماہی اور زری کے سامنے آیا تھا اور ان لڑکوں کو بھسم کر دینے والی نظر سے گھور رہا تھا. اب اس کی چوڑی پیٹھ کے پیچھے وہ دونوں چھپ سی گئی تھیں.

زری کے رگ و پے میں ایسے سکون اور اطمینان دوڑا جیسے آج سے کئی سال پہلے اس کا اطمینان قابلِ دید ہوا کرتا تھا.

ٹوٹا ہاتھ لئے وہ امیر زادہ بکرے کی طرح چنگھاڑ رہا تھا..
اے کون ہو تم.. تمھاری جرات کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی.. ہمیں جانتے نہیں ہو تم….. چلے جاؤ یہاں سے.. اس کا چمچہ چنگھاڑا

بات کچھ یوں ہے کہ میں اسے اس کے کیے کی سزا دے چکا ہوں.. اگر تم لوگوں نے اپنی ہڈیوں کا سرما نہیں بنوانا تو دفع ہو جاؤ یہاں سے… غراہٹ ہڈیوں میں خون منجمد کرنے والی تھی.وہ ہاتھ میں ہاکی اپنے مخصوص طریقے سے گھما رہا تھا..

نہیں جائیں گے. تیری تو…

وہ تینوں اس کی جانب چاقو لئے لپکے.. نہیں جانتے تھے وہ سامنے والے کے لئے چیونٹیوں کے مترادف تھے.
کچھ ہی دیر میں وہ ان کا حشر بگاڑ چکا تھا..بجلی کی تیزی سے ہاکی ان کی ہڈیاں سینک رہی تھی . انھیں اس پاگل کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی جان چھڑانی پڑی.
دم دبا کر بھاگے تھے.
اب وہ اطمینان سے ان کی جانب پشت کیے کھڑا ہاتھ کی انگلیاں میں ہاکی گھما رہا تھا جسے دیکھ کر زری بے تحاشا چونکی تھی.اس کی روح فنا ہوئی تھی.. یہ منظر تو کچھ جانا پہچانا سا تھا..

مگر بے یقینی تھی کیونکہ اس کی آنکھیں تو بلو تھیں.. وہ غور سے اس کی پیٹھ کو گھور رہی تھی کہ پھر یشار کی غراہٹ سنائی دی.

کیا جائزے لے رہی ہیں.. جائیے گھر…..واپس بلاؤں لڑکوں کو.. اگر تھوڑا اور انٹرٹین ہونا ہے..

وہ دونوں اچھلیں..جی بھر کر شرمندہ ہوئیں
بدتمیز… ماہی دل میں جھلائی
جبکہ زری ہونٹوں میں بڑبڑائی..
کمبخت…..

کم بختی……یشار نے اطمینان سے کہا جسے سن کر
وہ اس افلاطون سے گھبرا کر سر پٹ بھاگی تھیں..

جب وہ نظروں سے اجھل ہوئیں تو یشار نے کھل کر قہقہہ لگایا..ااور پھر اپنی ہیوی سپورٹس بائیک کی جانب بڑھا.

انھوں نے گاڑی تک ہی آ کر سانس بحال کیا تھا.. سامان ڈرائیور کو پکڑایا اور فوراً گاڑی میں بیٹھیں..

زری بے حد الجھی ہوئی تھی.. یہ کیا ہو رہا تھا اس کے ساتھ….عجیب بہت عجیب.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

قیصر منزل پہنچیں تو سامان اندر لاؤنج میں رکھوایا..

زری تم یہ کپڑے اور بچوں کا سامان ان کے کمرے میں سیٹ کر دو جا کر میں گروسری کچن میں لگا دیتی ہوں..

ہر چیز سہی جگہ رکھنی ہوگی.. ورنہ چچی پریشان ہوں گی..زری کو حرا کی فکر تھی.

لگا دوں گی تم فکر نا کرو…
زری بچوں کا سامان اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی… جبکہ وہ گروسری کا سامان لئے کچن میں گھس گئی..حجاب اتار کر صوفے پر رکھا اور دوپٹہ کندھے سے لا کر کمر پر باندھا اور سب چیزیں اپنے ٹھکانے پر رکھنے لگی..

رزم کو کام کے دوران شدید کافی کی طلب ہوئی تھی تو اوپر سے سیڑھیاں اترتا لاؤنج میں آیا… کچن میں سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہیں تھیں..
شکر ادا کیا کہ کوئی ہے… جس سے کافی بنوا لے گا.. کچن کے اندر داخل ہوا.. تو حیران ہوا.
حرا پھپھو کی بجائے وہ پرپل فراک میں دوپٹہ باندھے گھنے سیاہ بالوں کی اونچی پونی ٹیل کیے.. کیبن کھولے سارا سامان بکھیرے کھڑی تھی..
اور پھر اس نے کیبن کے پاس لکڑی کا سٹول رکھا اور اس کے اوپر چھڑھ کر اوپر والے مصالحوں کے کیبن کھولنا چاہے.

بے وقوف لڑکی… وہ بڑبڑایا. اتنی دور سے اسے دکھائی دے گیا تھا کے سٹول کا ایک پاؤں ٹوٹنے والا ہے.. کیا اسے نہیں دکھا..
وہ اس پر چڑھ کر ابھی کیبن کھولنے ہی والی تھی کہ سٹول کا ایک پاؤں ٹوٹا.. اس کا توازن بگڑا.
آہہہہہہہہہہہہ. نازک لبوں سے چیخ نکلی اور اس سے پہلے وہ فرش پر گر کر اپنی کوئی ہڈی تڑوا بیھٹتی.. رزم بے اختیار تیزی سے آگے بڑھا تھا.
وہ ٹوٹی ڈال کی طرح اس کے بازوؤں میں گری تھی..خوف سے زور سے آنکھیں بند کیے خوشبوؤں میں بسا نازک وجود رزم کے آہنی بازوؤں میں تھا.

نہیں گری ہو آنکھیں کھول سکتی ہو… رزم نے سنجیدگی سے کہا…
اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں مگر اگلا منظر گرنے سے بھی زیادہ دل دہلا دینے وال تھا..وہ اس اجنبی کے بازوؤں میں تھی. خوف سے آنکھیں پوری کھولے اسنے بے اختیار دونوں نازک ہاتھوں سے پہلے اپنی گردن پکڑ کر رزم سے چھپائی. پھر زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی.
دل میں آلتو جلالتو آئی بلا کو ٹال تو کاورد کرتی وہ سخت خوفزدہ ہوئی.اور پھر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر مزاحمت کرنے لگی کہ اسے نیچے اتارا جائے
بولنے کی غلطی اس نے آج نہیں کی تھی
رزم اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا… اس کے چہرے پر خوف کے سائے دیکھے تو پھر چہرہ دھواں دھواں ہوا رزم کا.
اس نے نیچے اتارا اسے……. وہ بھاگنے کو پر تول رہی تھی جب پھر رزم کے زخم ادھڑے

(رازی مجھے تم سے ڈر لگتا ہے
دور رہو مجھ سے.. کسی کی غراہٹ کانوں میں گونجی.)

ماہ رخ اس کے دائیں سائیڈ سے نکل کر بھاگنے لگی جب پھر اس کا نازک بازو دبوچ کر اسے دیوار سے لگایا تھا رزم نے.
وہ پھر دہل گئی..
دد…. دیکھیں.. مم.. میں…. یہ… سامان….رکھنے آئی تھی یہاں… مجھے.. جانے……. دیں… اب……. نہیں……. آؤں…. گی… وہ کانپتی کہتی خوف سے بلکل سفید پڑ چکی تھی..
رزم کی پھر آنکھوں سے شعلہ نکلے.. ایک تو کل بھی وہ اس کی وجہ سے ڈھنگ سے نہیں سو پایا تھا آج پھر وہ چلی آئی تھی اس کی نیند اس کا چین برباد کرنے.

کیوں ڈر رہی ہو مجھ سے… میں نے تم سے کچھ کہا…رزم نے دانت پیسے

آ…. آپ…..نے….. کہا … تھا…. میں… سامنے…. نا….. آؤں…. آپ… مم… میری… گردن…

بازو پر گڑھے اس کے آہنی ہاتھ سے جب تکلیف ناقابلِ برداشت ہوئی تو اس کی آنکھیں چھلکیں..
ان بڑی بڑی کٹورا آنکھوں میں پانی دیکھ کر اسے اور تکلیف ہوئی.. بازو چھوڑا

کچھ نہیں کہتا. تمھیں ……..اب جاؤ..

وہ راہِ نجات دیکھ کر فوراً بھاگی تھی وہاں سے.
رزم نے بے دردی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے لب کچلے تھے.
افففففف. یہ پاگل لڑکی ضائع ہوگی کسی دن میرے ہاتھوں….. اس نے دانت کچکچائے.

❤️💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

یشار کھڑکی پھلانگ کر اندر داخل ہوا… ایک ہفتہ ہو چکا تھا اسے تاشی کا سایہ بنے.. راتوں کو اس کے کمرے میں آتے…اس کے ساتھ ساتھ وہ دونوں دشمن پر بھی گھیرا بہت تنگ کر چکے تھے.

یشار کو پتہ تھا وہ ڈرنے لگ گئ ہے بہت زیادہ.سہمی سہمی رہتی ہے… اس کے اسے دیکھنے اور ارتکاز سے وہ نیند میں بھی ڈسٹرب ہوتی تھی.
مگر وہ کیا کرتا وہ بے اختیار تھا.. بہت بےبس…
اب بھی اس کے پاس بیٹھے وہ اسے تکے جا رہا تھا.. پہلے دن کے علاوہ اس نے دوبارہ اسے چھونے کی گستاخی نہیں کی تھی.
اب بھی تاشی خواب میں ڈر رہی تھی شاید……. جو ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں نمودار ہوئیں تھیں.
یشار کا دل کیا اسے کھینج کر اپنے سینے میں بھینچ کر ہر خوف سے آزاد کر دے.. مگر ایسا کر نہیں سکتا تھا..اسی لئے سختی سے اپنے لب دانتوں سے کچل رہا تھا
اب وہ سیدھی لیٹی کسمسائی تھی اور بیڈ شیٹ اور کمفرٹر کو مٹھیوں میں بھینچ رہی تھی….
یشار کی جان لبوں پر آ چکی تھی..
اسے سینے سے لگانے کی خواہش بلکل منہ زور ہو چکی تھی..
اسے پتہ تھا وہ اٹھنے والی ہے اس لئے بمشکل خود کو گھسیٹ کر اٹھایا تھا.. اور پھر کمرے سے نکلتا چلا گیا..

تاشی خوفناک خواب کی تاب نا لاتی بے حد گھبرا کر چیخ مارتی اٹھی تھی..
ادھر ادھر دیکھا اور خوف سے زور سے چہرہ چھپایا… پھر وہ اجنبی خوشبو اس کے آس پاس تھی..وہ گھبرا کر اٹھی.. ٹیبل تک گئی جگ میں سے گلاس میں پانی ڈالے ایک ہی بار میں سارا پانی پی گئی..
ایک ہفتہ ہو گیا تھا… جیسے اس کی نازک جان کو سولی پر ٹنگے…
یوں محسوس ہوتا تھا کوئی سایہ اس کے تعاقب میں ہے دن رات…
راتیں گزارنا سب سے بھیانک ہوتا.. جب اسے خواب آتا کہ کوئی اس کے پاس ہے.. اس کے کمرے میں. وہ اب اس خوشبو سے بے حد ڈرنے لگی تھی جو اکثر اسے اپنے آس پاس محسوس ہوتی تھی.
اس نے پھر جھر جھری لی..
وہ تو آیت الکرسی کا ورد بھی کرتی رہتی تھی پر ایک انجانا……. ان دیکھا سایہ سا تھا جو اس کی جان کو چمٹ گیا تھا.
وہ اکتا گئی تھی.. خود سے اپنے خوف سے تنگ پڑ گئی تھی.. تیزی سے اٹھی اور برے برے منہ بناتی بیڈ پر اوندھے منہ گری.. اور تکیے میں سر دے لیا.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ بے زار سی شکل بنائے بینچ پر بیٹھی تھی.. پڑھائی میں زرا برابر بھی دل نہیں لگ رہا.تھا
ماہ رخ کمینی نے طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے چھٹی مار لی تھی. کہ مس شازیہ اسے اپنی جانب آتی دکھائی دیں…..
اس کا حلق پھر کڑوا ہوا..
پتہ نہیں کیوں پر زری ان سے خار کھاتی تھی.. عجیب نظریں ہوتی تھیں ان کی مردوں سے بھی زیادہ کراہیت میں مبتلا کرنے والی..
عجیب دکھاوے والا پیار تھا ان کا سٹوڈنٹس کے لیے مگر آنکھوں کا تاثر بے حد سرد اور عجیب ہوتا.

کیا بات ہے بیٹا… اداس کیوں ہو….

نہیں میم… بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی..
اور وہ تمھاری بہن بھی تمھارے ساتھ نہیں… انکی آنکھوں میں عجیب سی حیوانی چمک آئی
نہیں میم اس کی طبیعت خراب تھی.. اس نے چھٹی کی ہے.
تمھاری بھی ٹھیک نہیں لگ رہی آؤ میں تمھیں اپنے گھر لے جاؤں..
نہیں میم بہت شکریہ میں ٹھیک ہوں. اس نے سہولت سے انکار کیا

ارے ایسے کیسے.. میرا گھر قریب ہی ہے… تم چلو تو سہی.

نہیں میم شکریہ میں اپنے بابا کی پرمیشن کے بغیر کہیں کسی کے ساتھ نہیں جاتی.. زری نے بہانے بنانے کی بجائے ٹھوک بجا کر جواب دیا.
مس شازیہ نے بے حد برا سا منہ بنایا. اور چلی گئیں.
پھر چھٹی ہوئی تھی.. جب کافی بھیڑ ہونے کی وجہ سے سے گاڑی تھوڑے فاصلے پر کھڑی تھی وہ گاڑی کی طرف بڑھی……… جب ایک وین اس کے بلکل قریب آ کر رکی تھی…….
اس سے پہلے کہ اس میں سے نکلنے والا سانڈ نما آدمی نکل کر اسے بازو سے کھینچ کر وین میں گھسیٹتا… چار پانچ آدمی اچانک کہیں سے نکل کر ان کی گاڑی میں گھسے اور ان پر آفت کی طرح ٹوٹ پڑے تھے.. وہ دنگ ہوئی یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی یہ سب اتنی اچانک اور خاموشی سے ہوا تھا کہ اتنے رش اور بھیڑ میں کسی کو پتہ ہی نا چلا.. صرف زری کی جان نے جھیلا تھا یہ منظر اپنی آنکھوں پر کہ اچانک اس کی نظر بائیں جانب درخت کے پیچھے گئی..
وہ جلدی سے اس طرف لپکی
تو دیکھا وہ براؤن پینٹ کے اوپر براؤن ہڈی منہ پر رومال باندھے. نیلی آنکھوں سے پینٹ میں ہاتھ گھسائے بڑے اطمینان سے وہاں بے نیاز سا کھڑا تھا.
اس کے کلون کی خوشبو سے زری بے تحاشا چونکی..
وہ بے خوف ہو کر اس کے سامنے آئی تھی. وہ کیوں اس کی راہوں میں ہر وقت ہر سمت ہر جگہ اسے نظر آتا تھا…

کک…کون ہیں آپ

کیوں؟ آپ نے جان کر کیا کرنا ہے؟ لاپرواہ سا انداز تھا. (جبکہ یشار چونکا تھا کیا تاشی نے اسے پہچان لیا)
زری جی جان سے جلی
آپ میرا پیچھا کرتے ہیں؟ اب وہ ڈائریکٹ مدعے پر آئی تھی.
کیوں محترمہ . آپ میں کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں جو میں آپ کا پیچھا کروں گا… یا پھر آپ خود کو کسی کے لئے اتنا اسپیشل سمجھتی ہیں کہ وہ آپ کا پیچھا کرے.اس کا پھولا منہ یشار کو مزا دے گیا تھا

خیر جائیے آپ کا ڈرائیور آپ کا انتظار کر رہا ہے..
یہ کہہ کر وہ بھیڑ میں غائب ہو چکا تھا.. جبکی اس کی کسی کے لئے اسپیشل ہونے والی بات پر وہ بے طرح چونکی تھی.
وہ گاڑی میں بیٹھی جھنجھنا رہی تھی.. اسے کیسے پتہ چلا کہ میں اپنے آپ کو کسی کے لئے اسپیشل سمجھتی ہوں
میں تو شروع سے
ی… یش کے لیے خود……………..
لا حولہ ولا قوۃ……….
اسے لگا اس کا دماغ پھٹ جائے گا.. سر جھٹک کر بیک سیٹ سے ٹیک لگا لی.

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
/