58.7K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 9.

ادھر آؤ سوہن…
نہیں…

کچھ نہیں کہوں گا…

یشب اس کے پاس بیٹھا.. سوہن کی سانس رکی..وہ قریب ہوا… سوہن نے زور سے آنکھیں بند کر لیں.. یشب نے نرمی سے اس کی شرٹ میں ہاتھ ڈال کر پانی سے نرم ہوئی ڈریسنگ اتار لی… وہ یونہی بیٹھی ہلکے سے کپکپا رہی تھی.
آنکھیں ہنوز بند تھیں.

سوہن… اس نے نرمی سے پکارا… سوہن نے آنکھیں کھولیں.. وہ مسکرا رہا تھا..

میں ڈریسنگ اتار چکا ہو.. میری.. جان…….

اسے یشب کی نرمی پر حیرت ہوئی….. وہ جس کے دیکھنے پہ اسے گھن آتی تھی آج اس کے چھونے پر ایسا کچھ محسوس نہیں ہوا…
اسی حیرت سے وہ بے اختیار اسے دیکھے گئی.
جانم… ایسے مت دیکھو…. محبت ہو جائے گی مجھ سے..
سوہن نے سٹپٹا کر آنکھیں پھیر لیں..

وہ پھر انگلیاں چٹخا رہی تھی.. یشب سمجھ گیا..کہ اسے کچھ کہنا ہے
کچھ کہنا ہے…؟

وہ… وہ… میرا فون
کون سا فون.. یشب انجان بنا حالانکہ اس کا فون اسی کے پاس تھا.. مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ سوہن اسے سمجھے بغیر سویرا سے رابطہ کرے.. زیان نے بھی یہی کہا تھا.
اوہ… وہ فون تو زیان کے پاس ہے.. زیان کو کال کرنی ہے تو میرے فون سے کر لو.
یشب نے اس کی طرف اپنا فون بڑھایا
سوہن نے پہلو بدلہ..
باہر سے گرینی اور شزا کی آواز آئی تو اس نے یشب کو غصے سے گھورا…. وہ ڈھٹائی سے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا کپڑے نکال کر واش روم میں گھس گیا
جھوٹے…..
ہونہہ……..جتنا مجھے پریشان کیا… ایسا پریشان کروں گی کہ پچھتائیں گے کہ کس مصیبت کو گلے ڈال لیا.. سوہن با آواز بلند بڑبڑائی… یہ جانے بغیر کی وہ اندر کھڑا اس کی گوہر افشانی سن کر چھت پھاڑ قہقہہ لگا چکا ہے..

بڑبڑاتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر آئی.. وہ دل میں پکا ارادہ کر چکی تھی یشب شاہ آفندی کا بینڈ بجا دے گی.
وہ آہستگی سے لاؤنج میں آئی جہاں زہرہ بھی بیٹھی تھی..
وہ قریب آئی..
اسلام و علیکم.. کیسی ہیں آپ.. سوہن نے ہاتھ آگے بڑھایا
دعا زہرہ اپنی جگہ سے بے اختیار اٹھی..
اس سے ہاتھ ملانے کے بجائے سوہن کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا.. بہت پیاری اور معصوم ہو تم… دعا نے اس کے ماتھے کو عقیدت سے چوما.. وہ یشب شاہ آفندی کی زندگی تھی.. جب اسے چوٹ لگی تو دعا دیکھ رہی تھی کہ کیسے یشب شاہ آفندی بے آب مچھلی کی طرح تڑپ گیا تھا.. وہ یشب کی محبت، عشق، جنون دیوانگی تھی تو دعا زہرہ کو اس سے عقیدت کیوں ناں ہوتی.
سوہن خجل سی ہو گئی.. دعا نے مہربان سی مسکان کے ساتھ اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا..
جانے کیوں گرینی اور شزا نظریں سی چرا رہی تھیں..
کیسی ہو.؟ طبیعت کیسی ہے.؟
میں ٹھیک ہوں بلکل.. سوہن مسکرائی…
میگی نے آ کر اطلاع دی کے ڈنر لگا دیا گیا ہے..

اتنے میں یشب گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا لاؤنج میں آیا.. رحیم ملک بھی آ چکے تھے.. وہ ڈائیننگ ہال میں جانے لگے.. سوہن اٹھنے لگی تو یشب نے اس کے جانب اپنا مضبوط ہاتھ بڑھایا..
سب معنی خیز سا دیکھ رہے تھے.. تو اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا. یشب نے اسے اٹھنے میں مدد دی. ڈائننگ ٹیبل پر وہ اس کے پاس بیٹھی.سوہن نے ہاتھ چھڑانا چاہا لیکن اس کی گرفت مضبوط تھی.. مجبوراً اسے ایسے ہی ایک ہاتھ سے کھانا پڑا..
سوہن نے بل کھایا.. دل ہی دل میں اور پختہ ارادہ بنایا اسے ستانے کا..
شزا نے اور اس نے کھانا کھا لیا تو وہ باہر لاؤنج میں آ گئیں.. سوہن اس کے قریب ہوتی بڑی رازداری سے پوچھنے لگی..
سنو شزا… میری فرینڈ ہو تو سچ بتانا.. وہ کونسی چیز ہے جس سے یشب سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں.. اس کی معصومیت کی ہی انتہا تھی کہ وہ اسی کی بہن سے اسے پریشان کرنے کے مشورے مانگ رہی تھی..
شزا نے بہت سوچا.. پھر داناؤں کی طرح پرسوچ سی بولی
سوہن آپ…
سوہن اچھلی… مطلب وہ مجھ سے پریشان ہیں کیا؟؟ .سوہن…… روہانسی ہوئی
اففف.. شزا کا دل کیا ماتھا پیٹ لے.. میرا مطلب ہے کہ آپ کا دور ہونا وہ چیز ہے جس سے بھائی سب سے زیادہ پریشان ہو سکتے ہیں. سوہن سٹپٹائی.

شزا نے افسوس سے اسے دیکھا حیرت ہے یہ بات شزا کو پتہ لگ چکی تھی لیکن سوہن ابھی انجان بنی ہوئی تھی..
تو پھر ٹھیک ہے چلو.. وہ شزا سے بولی.. اور اسے لئے کمرے میں آئی.. بڑی جلدی سوہن کے بیڈ میں کمفرٹر میں گھسی اور آنکھیں موند لیں..
شزا ہکی بکی دیکھتی رہ گئی کہ وہ اس سے مشورے واقعی اس کے پیارے بھائی کو پریشان کرنے کے لیے مانگ رہی تھی.. اس نے کندھے اچکائے اور خود پرھنے بیٹھ گئی.

یشب کمرے میں آیا.. لیکن کمرہ خالی تھا.. وہ انھیں پیروں واپس گیا.. گرینی کے پاس بھی نہیں تھی.

پھر اس کا رخ شزا کے کمرے کی طرف تھا.. وہ ہلکے سے ناک کر کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا..
شزا بھی یشب شاہ آفندی کی ہی بہن تھی… کونسا کم تھی.. اس کے سونے کے بعد اپنی کتابیں اور سامان اٹھا کر سٹڈی میں جا گھسی تھی..

سامنے ہی وہ دشمنِ جاں اس کی تڑپ. بے چینیوں کی پرواہ کیے بغیر جان بوجھ کر اس سے دور ہونے کے چکر میں یہاں گہری نیند سوئی تھی… وہ گہری مسکراہٹ سمیت آگے بڑھا اسے بہت نرمی سے اپنی بانہوں میں اٹھایا.. اپنے کمرے میں داخل ہو کر پیر سے دروازہ بند کرتا اسے بیڈ پر لٹایا ..

برسوں کے بھڑکتے الاؤ پر اب کہیں جا کر ٹھنڈی محبت کی پھوار پڑی تھی.کہ اس کے روم روم میں سرشاری اور سرور سا پھیلا ہوا تھا.. وہ اس ایک ایک پل کو ہزار مرتبہ جی رہا تھا.روح تک کو قرار آ گیا تھا… اب تو وہ ایک پل بھی اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دے سکتا تھا.. بغیر دیکھے پاگل تھا اب تو وہ اڈیکٹ ہو چلا تھا اس کا..

یشب خود بھی اس کے پہلو میں لیٹ گیا… معصوم چہرہ.. تیکھے نقوش.. پنکھڑیوں جیسے سرخ لب…اور ان لبوں کے نیچے دربان کی طرح بٹھایا ہوا وہ قاتل تل.. جسے چھونے کی تمنا پتا نہیں کب سے اس کے دل میں مچل رہی تھی.. اور پھر آخر اس نے اپنی خواہش پوری کر ہی لی… شہادت کی انگلی سے اسے چھوا. پھر آہستگی سے جھکا اور اپنے لب اس پر رکھے..
وہ بے قابو ہوا.. تل کے بلکل قریب ہی تو محبت کا جام تھا جسے پینے کو وہ مچلا.

نہیں… ابھی…. نہیں.. اندر اٹھتے جزبوں کے ریلے پر لعنت بھیجی

لب دانتوں تلے کچل کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا اور صوفے پر لیٹ گیا..

💝💝💝💝💝💝💝💝💝💟💟💟💟

اگلی صبح سوہن کی آنکھ کھلی.. اپنی کامیابی پر مسکراتی ایک جان لیوا انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی.. سامنے یشب شاہ کو بے حد شرارت اور چمکتی آنکھوں سے اپنی جانب دیکھتے دیکھا تو حیرت کے جھٹکے سے بازو ہوا میں ہی رہ گئے..
گڑبڑا کر سیدھی ہوئی.. وہ یہاں اس کمرے میں کیسے آئی.. اپنے پلان کے فیل ہونے پر کلس کر رہ گئ..

کوشش بھی مت کرنا ہنی……. اپنی ننھی سی جان کو کیوں ہلکان کرتی ہو..مجھ سے مقابلہ نہیں کر پاؤ گی..

کھلا چیلنج.. وہ اسے خود اکسا رہا تھا.. تاکہ اس کا ڈر اور خوف دور ہو جائے . وہ چھیڑتا ٹاول لے کر ایکسرسائز روم میں چلا گیا…
اونہہ…. اب دیکھنا یشب شاہ.. سوہن یشب آفندی کو ہلکے میں لے رہے ہیں.. وہ جلدی سے اٹھی.. واش روم گئی.. اس کا آج کا ڈریس واش روم میں لٹکا ہوا تھا وائٹ شرٹ… اس نے سوچا.. بھاگ کر ڈریسنگ کے پاس آئی.. اپنا کام کر کے خود کو داد دی..

ٹوتھ برش میں ڈھیر سارا نمک ڈال دیا. نیچے آئی میگی جو اس کے لئے اورنج جوس لے کر جا رہی تھی آواز دی اور پہلے اسے جوس دینے کو بولا..

میگی نے فوراً وہ گلاس ٹیبل پر رکھا اور اس کے لئے جوس لینے چلی گئی.. اس نے جلدی سے ڈھیر ساری کالی مرچیں جوس میں ڈال دیں..

پھر اطمینان سے لاؤنج میں بیٹھ گئی. میگی نے اسے جوس لا کر دیا.گرینی اور شزا بھی آ گئیں . اتنے میں وہ ٹاول سے پسینہ صاف کرتا ان کی طرف آیا.. میگی نے ٹیبل سے اٹھا کر جوس اسے تھمایا.

اس نے گلاس لبوں کو لگایا.. گلا بری طرح جلا.. اسے اچھو لگ گیا.. گرینی اور شزا نے چونک کر دیکھا.. یشب نے اس کی طرف دیکھا تو وہ انجان بن کر ادھر ادھر دیکھنے لگی..
آنکھوں میں پانی آ گیا لیکن وہ مسکرایا.
سوہن نے اس کی حالت انجوائے کرنے کے لیے پھر اس کی طرف دیکھا تو یشب نے اس کی طرف دیکھ کر آنکھ دبائی اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر دیا.. وہ منہ کھولے ہکا بکا رہ گئی..
واش روم میں گھسا تو ٹوتھ برش منہ میں ڈالتے ہی اسے ابکائی آئی.. یخ…. پہلے مرچیں اور اب نمک.. اس نے دانت پیسے.. بس چکن رہ گیا ہے.. اور میرا چکن تو تم خود ہو سوہن جان..
تمھارا تو پیار کا سالن میں بناؤں گا.. یشب
جلدی سے نہا کر ڈریس پہن کر نیچے آیا… بہت ضروری میٹنگ تھی.. پہلے ہی لیٹ ہو چکا تھا.. واپس آ کر حساب برابر کرنے کا ارادہ کر کے پورچ تک آیا..

یشب گاڑی میں بیٹھنے لگا تو تیمور نے آواز دی.. علی بھی دیکھ چکا تھا..
سر آپ کی شرٹ……..
کیا ہوا.. ؟
تیمور نے پیچھے سے شرٹ کی پک کھینچ کر دکھائی.. وائٹ شرٹ کی بینڈ بجی ہوئی تھی.. مسکارے سے جن والا ایموجی بنا کر Yashab لکھا ہوا تھا..
وہ جی جان سے یہ سب کرنے والی پہ فدا ہوا.. مسکراہٹ گہری ہوئی.
او تو بھابھی میدان میں اتر آئی ہیں.. علی نے آنکھ دبائی.

تو اور کیا یار صبح سے ناک میں دم کر رکھا ہے.. وہ محبت میں ڈوبے لہجے میں بولا. علی نے اس کا ترو تازہ روشن چہرہ دیکھا اس سے پہلے وہ کبھی اتنا خوش نظر ہی نہیں آیا..
تمھیں ہی قیامت مچی ہوئی تھی.. اب بھگتو.. بھابھی تو چھوٹی سی شرارتوں کی آفت نکلیں.. علی نے اسے چھیڑا
اے خبردار میری بیگم کو کچھ کہا.. تمھیں کیا پتہ میں یہ شرارتیں کتنی انجوائے کر رہا ہوں
تو پھر کرتا رہ انجوائے اور اسی شرٹ کے ساتھ باہر جا کر دوسروں کو بھی کروا.
ہاہاہا ہاہاہا.. یشب نے قہقہہ لگایا
وہ کمرے میں گیا اور شرٹ چینج کر کے واپس آیا..تیمور کو ضروری ہدایات دیں.

💕💖❤️💕💖❤️💟💝💟💟💟💟💟

وہ شام کو پانچ بجے جلد ہی گھر آ گیا.. جب جینے کی وجہ ہی گھر میں موجود ہو تو کس کم بخت کا دل کرتا ہے باہر جانے کو.. علی اور رحیم ملک کے ایک بے حد وفادار مینیجر نے پورا آفس سنبھالا ہوا تھا. پورا گھر دیکھا وہ کہیں نہیں تھی..

پھر لان میں نکلا تو وہ جھولے پر منہ بسورے بیٹھی تھی.
سرخ فراک اور پاجامے میں دوپٹہ لاپروائی سے کندھوں پر گرائے وہ سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی.. پر منہ پھولا ہوا تھا..
یشب نے بھی اتفاقاً سرخ شرٹ کے اوپر براؤن جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ قریب جا کر جھولے پر بیٹھا اور آہستہ آہستہ جھولا جھلانے لگا..
اس نے تو نوٹس ہی نہ لیا یوں بیٹھی رہی جیسے وہاں کوئی ہو ہی ناں
سوہن جان……. آج اداس ہے..خیر ہو….

آپ یہ مجھے جان وان… اور ہنی نہ کہا کریں.. وہ جھلاتی اس کی طرف مڑی
تو اور کیا کہا کروں…. وہ اس کے تپے تپے روپ پر فدا ہوا

سوہن….. سوہن یشب آفندی نام ہے میرا.. اس نے فخریہ بتا کر فوراً دانتوں تلے زبان دبائی اور رخ موڑ گئ.. اپنی چلتی زبان کو کوسا.
یشب کا دل کیا بھنگڑے ڈالے… یعنی وہ مان چکی تھی کہ وہ سوہن یشب آفندی ہے…قہقہہ ضبط کیا
آپ مجھ سے بات ہی نا کیا کریں.. اس نے خجالت چھپانے کو کہا…
کیوں؟
کیونکہ زہر لگتے ہیں آپ مجھے…
تم نے ابھی مجھے چکھا ہی کب ہے سوہن جان میں تو شہد کی طرح میٹھا ہوں…. وہ معنی خیز سا بولا.. سوہن کا دل کیا ڈوب مرے.. چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا. اسے چھیڑ کر خواہ مخواہ خجل ہی ہو رہی تھی

جھنجھلا کر اٹھ کر جانے لگی… یشب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے روک لیا
اچھا بتاؤ… مجھے.. میری جان سیڈ کیوں ہے..اسے روک کر اس نے ہاتھ ہٹا لیا.
میں اپنے شیرو کو مس کر رہی ہوں..

یشب کی مسکراہٹ گہری ہوئی… اچھا اگر میں تمھیں تمھارا شیرو لا کر دوں تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا،

سوہن کو حیرت کا جھٹا لگا.. اس نے یہ تو پوچھا نہیں شیرو کون ہے اور لا کر دینے کی بات کر رہا تھا.. یعنی وہ اسے بے وقوف بنا رہا تھا.

جو آپ کہیں… میں وہ دوں گی….. وہ بے خوفی سے بولی.

اچھااااااااا… سچ میں.مزاق سمجھ رہے ہیں لوگ میری بات کا حالانکہ جانتے ہیں میں جو کہتا ہوں کر کہ دکھاتا ہوں . واضح چیلنج تھا..

آپ ڈرا رہے ہیں مجھے… میں کسی سے نہیں ڈرتی.. وہ زیادہ ہی پھیل رہی تھی.

تو… سوہن جان شیرو لانے کی شرط یہ ہے کہ تم مجھے ہگ کرو گی…

وہ جی جان سے لرزی… پر اس کی چالاکی سمجھتے ہوئے آرام سے بولی… مجھے منظور ہے..

یشب کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو ہوا…یشب، دلکش سے مسلسل ٹچ میں تھا جب اسے سوہن کے شیرو کا پتا چلا تب دلکش نے اسے وہاں سے بھجوا دیا وہ جانتی تھی سوہن شیرو کے معاملے میں کتنی ٹچی ہے.

یشب نے فوراً تیمور کو کال ملائی.. اس نے پک کی..
ہاں.. تیمور زرا. اپنی میم صاحبہ کا شیرو تو لا کر دو یار…

تیمور فوراً بوتل کے جن کی طرح پچھلی طرف بنے ہوئے سٹور روم سے نمودار ہوا.. اس کے ہاتھ میں بے حد خوبصورت چھوٹا پنجرہ تھااور اس میں اس کا شیرو(طوطا)
شیرو نے اسے دیکھتے ساتھ ہی
سون یشب.. سون یشب کہ رٹ لگا دی….. . اب پھر سوہن نے آنکھیں پھاڑیں… وہ تو صرف دلکش کے سکھانے پر اسے سون سون کہتا تھا..

سوہن کو تو جھٹکے پر جھٹکے مل رہے تھے… پھر وہ بے حد خوش ہوتی جھولے سے اتری اور تیمور کے ہاتھ سے پنجرہ لیتی اس سے باتیں کرنے لگی….
تیمور چلا گیا.. وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا..
شیرو میں مصروف ہوئی وہ یکسر فراموش کر چکی تھی کہ ابھی ابھی وہ کیا شرط لگا چکی تھی.

سوہن جان اپنی بیٹ پوری کرو اب … اس کی آواز پر سوہن کے اوسان خطا ہوئے…لیکن پھر سنبھلی اور بڑے کانفیڈینس سے بولی..
آپ کے پاس پہلے سے ہی شیرو تھا… آپ نے پہلے چیٹنگ کی.. اب میں کوئی بیٹ ویٹ پوری کرنے کی پابند نہیں ہوں..اطمینان قابل دید تھا.
پر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ سامنے یشب شاہ آفندی ہے جس سے الجھنے کا مطلب اس کی نازک صحت کے لیے برا ہو سکتا ہے.

گہری مسکان سے بولا… ٹھیک ہے ہنی.مکر جاؤ.. لیکن اگر میں نے فارم ہاؤس سے اپنی بیری(بلی). منگوا لی تو وہ تمھارے شیرو کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوگی.

منگوا لیں.. میں اپنے شیرو کی حفاظت کر لوں گی.. اس نے ہوا میں بات اڑائی اور اندر چلی گئ…

شیرو کی پڑی ہے شوہر چاہے تڑپے مرے…….. شدت پسندی تو اتنی تھی کہ اسے شیرو سے بھی جیلسی ہوئی …………یشب معنی خیز ہنسی ہنسا…

اندر آ کر سوہن نے کوریڈور میں محفوظ سی جگہ پر پنجرہ رکھا… اور شیرو کے ناز نخرے اٹھانے لگی…

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ڈنر کرنے کے بعد سب اپنے کمروں میں گئے… سوہن ایک نظر شیرو کو دیکھنے پنجرے کی طرف آئی لیکن پنجرا دیکھ کر تھرا اٹھی… دروازہ کھلا تھا اور شیرو غائب.. وہ گھبرائی.. پیچھے مڑ کر بھاگنے والی تھی کے یشب کے چوڑے سینے سے ٹکرائی..

کیا ہوا ہنی……
وہ….. وہ… شیرو.. نہیں ہے… سوہن کی آنکھیں ڈبڈبائیں

میں ڈھونڈ کر لاؤں گا تمھارا شیرو لیکن اگر تمھاری آنکھ سے ایک بھی آنسو گرا تو گارنٹی نہیں دوں گا…
سوہن نے کیوٹ سے انداز میں پلکیں جھپک جھپک کر آنسو اندر دھکیلے…
نن. نہیں.. آئے آنسو.. اب مجھے لا کر دیں ناں… وہ بچوں کی طرح مچلی..

سوہن جان… کچھ لوگ اپنی بیٹ کے بارے میں تو مکر ہی گئے تھے…. اس کا کیا؟؟؟ ..

وہ…… میں.. اس کے نازک لب کپکپائے.. وہ اس کے پہلو سے نکلی اور کمرے میں آ کر سانس لیا…

💖💕❤️💝💝💝💝💟💟💟💟💟💟