58.7K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ

Episode 14…

یشب اور رحیم ملک گھر سے نکلے تو گرینی نے دعا کو بلا کر تمام صورتحال سے آگاہ کیا.
اور اسے اس کے باپ کی شرط بتائی…
دعا بے حد پریشان ہوئی…. رحیم کہہ کر گئے تھے کہ سوہن کا خیال اب انھیں رکھنا ہے. ان کی ہوائیاں تو تب اڑیں جب نور منزل میں عفان شاہ اور یشب کے بھائی دلاور شاہ کو داخل ہوتے دیکھا… باہر ان کے ڈھیر سارے آدمی سیکیورٹی گارڈز اور تیمور پر حاوی ہو گئے تھے..
وہ لاؤنج میں داخل ہوئے…
ثروت نے تحمل سے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا..
بیٹا بیٹھ جاؤ.. معاملات غصے سے نہیں… بات چیت سے بھی حل کیے جا سکتے ہیں..
اب بات چیت کرنے کو بچا کیا ہے.. آپ کے نواسے نے میری بیٹی کی زندگی برباد کر دی.. اور آپ بیٹھی تماشہ دیکھتی رہیں… آپ کی اپنی بیٹی ہوتی تو تب دیکھتا.. عفان نہایت بدتمیزی سے کہتے ان کے سامنے صوفے پر فرعونیت لئے ہوئے بیٹھ گئے
بابا پلیز… گرینی سے بد تمیزی نا کریں یہ سب میری مرضی سے ہوا ہے…
تمھارا تو دماغ خراب ہو گیا ہے… تعویذ دھاگے کیے ہوں گے اس نے تم پر اور یشب پر… جو تم دونوں کا دماغ گھوم گیا ہے… پر میں یہ نہیں ہونے دوں گا میں اسے تمھارے راستے سے ہٹا کر دم لوں گا…

کیا ملے گا آپ کو ایک معصوم کی جان لے کر… بابا چلیں جائیں یہاں سے میری زندگی سے… میں ان دونوں کو خوش دیکھ کر خوش ہوں… دعا دھاڑی.
عفان نے حیرت سے اپنی اس بیٹی کو دیکھا جو ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنا تو دور کی بات کبھی نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں تھا.. اور آج…

وہ غصے سے چنگھاڑے
اس دو ٹکے کی چھوکری کے لئے اپنے باپ سے زبان چلا رہی ہے. بڑی دیکھی ہیں ایسی معصوم جو پیسے کے لئے امیر زادوں کو اپنے دام میں پھنساتی ہیں.. انھوں نے تمسخرانہ کہا..وہ راستے سے ہٹے گی… تو تم جب اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارو گی.. دعائیں دو گی اپنے باپ کو…

میں لعنت بھیجتی ہوں ایسی خوشیوں پر… جن کی بنیاد کسی معصوم کی قبر پر کھڑی کی جائے… بابا کان کھول کر سن لے میری لاش پر سے گزر کر آپ کو اس تک پہنچنا ہو گا..
یہ کہہ کر وہ بھاگی.. سوہن کے کمرے میں داخل ہوئی.. کھڑکیاں دروازے اچھے سے لاک کیے…
سوہن جو طبیعت خراب ہونے کے باعث بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی.. زہرہ آپ کیا ہوا؟ کی گردان کرتی رہی پر دعا نے کچھ بھی سنے بغیر
سوہن کو کمرے کے واش روم میں لاک کر دیا

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

وہ فارم ہاؤس داخل ہوئے تو داجی سے انھیں پتہ چلا کہ وہ بری طرح ٹریپ کیے گئے ہیں اور اس وقت گھر میں عفان اور اس کے سب سے بڑے بھائی دلاور اسلحہ سمیت موجود ہیں..
داجی نے یشب اور رحیم کی کوئی بھی بات سنے بغیر اس کے سامنے طلاق کے پیپر رکھ دیے
رحیم نے پھر بولنے کی کوشش کی.. تو داجی نے بری طرح انھیں جھڑک دیا
آپ تو خاموش ہی ہو جائیں تو بہتر ہے یہ سب کچھ آپ کی شہہ پر ہوا ہے.. اب مجھے اپنے طریقے سے یہ سب ہینڈل کرنے دیں.. تو بہتر ہے.
بھاڑ میں جاؤ…رحیم ملک غصے سے تلملائے اور خاموش ہو گئے.(دل میں بولے..ہونہہ. خونی حویلی کے بےوقوف سربراہ کرو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہونے والے وارث کی زندگی برباد.. بھلا تم لوگوں کو کہاں کوئی خوشی راس آ سکتی ہے…)

برخوردار… جلدی کرو فیصلہ… ٹائم نہیں میرے پاس… داجی نے لاپرواہی سے گھڑی دیکھتے ہوئے پوتے کا دھواں دھواں چہرہ دیکھا…

رحیم ملک نے بے بسی سے پہلو بدلہ… یشب نے شعلہ بار نگاہوں سے باپ اور بھائیوں کو دیکھا.جو سنجیدہ سے بے بس بیٹھے تھے.. کوئی اس کے حق میں نہیں بولا تھا..کہ پھر دا جی کی کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلتی آواز آئی

آخر ہو تو اسی خاندان کا خون…. تین مہینے تو بڑے ہیں یار عیاشی کرنے کے لئے …. آفندیز کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا.. پر اب اس طلاق نامے پر سائن کر کے اس عیاشی کے سامان کو وہیں پھینک دو جہاں سے اٹھا کر لائے تھے.. نہیں تو مجھے راستہ صاف کرنے کے اور طریقے بھی آتے ہیں. عفان کو صرف میرے اشارے کا انتظار ہے..اپنی ضد میں کیوں مجھ سے ایک چیونٹی جتنی معصوم جان ضائع کرواتے ہو…

او… رئیلی… آپ کو فرق پڑے گا ایک معصوم جان ضائع کرنے کا.. اب تک تو عادی ہو جانا چاہیے تھا آپ کو.. یشب غرایا
شٹ اپ… داجی دھاڑے…. اس معمولی سی چھوکری کے لیے اپنے دادا سے زبان لڑا رہا ہے…. جلدی فیصلہ کر طلاق یا موت

یشب کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا..
کیا آپ جانتے ہیں.. یہ کر کے آپ اپنے پوتے کو بھی کھو دیں گے..

اپنی دل پسند چیز کھونے پر وقتی دھچکا لگتا ہے.. پھر مرد خود ہی سنبھل جاتا ہے.. داجی نے ہوا میں بات اڑائی..
یشب کا فون رنگ ہوا… دعا کی کال تھی اس کی جان لبوں پر آئی..

سپیکر پر ڈال کر بات کر.. داجی نے نیا حکم صادر کیا

یشب کے اعصاب چٹخ رہے تھے.. رگیں پھٹنے والی ہوئیں.. اس کے غصے سے پورا آفندی خاندان خائف تھا پر آج اس کی کمزوری ان کے ہاتھ لگ چکی تھی

وہ بے بس تھا.. فون آن کر کے سپیکر پر ڈالا.. یشب کی روح فنا ہوئی

فون میں سے اس کی زندگی اس کی سوہن کی دل دہلا دینے والی دردناک چیخیں گونج رہی تھیں.. دعا بے تحاشا رو رہی تھی

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

دعا جو بے چین سی ادھر ادھر ٹہل رہی تھی… اسے سوہن کی دبی دبی چیخوں کی آواز سنائی دی. وہ لپک کر گئی اور واش روم کا دروازہ کھولا..
سوہن پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے دوہری ہو رہی تھی اور سسک رہی تھی..
سوہن.. گڑیا.. کیا ہوا.. دعا اسے بمشکل باہر لائی بیڈ پر لٹایا اور اس کا چہرہ تھپتھپایا..
زہ…. رہ……. آپی…. درد…… بہت…. ہوس…. ہوسپیٹل.. توڑ توڑ کر لفظ ادا کرتی..وہ بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑے تڑپ رہی تھی..
دعا کو سمجھ آئی تو روح فنا ہوئی…. بوکھلا کر یشب کو کال ملائی..
یشب نے کال رسیو کی… سوہن کی چیخیں نور منزل میں گونج اٹھی.
ادھر یشب کی کسی انہونی ہونے کے احساس سے زبان تالو سے چپک گئی.. آخر بے تحاشا روتے ہوئے دعا ہی بولی.
یشب… کہاں ہو.. تم پلیز آ جاؤ اپنی سوہن کے پاس اسے تمھاری ضرورت ہے.. شی از پریگننٹ… تم پاپا بننے والے ہو یشب..
اس بات پر داجی بے تحاشا چونکے..
یشب یہ بہت تکلیف میں ہے اسے ہوسپیٹل لیجانا ہوگا پلیز آجاؤ.. دعا ملتجی انداز میں بولی..
پھر یشب بولا داجی کی آنکھوں میں لال انگارہ آنکھیں ڈال کر.. نہایت سرد لہجے میں
دعا مرنے دو اسے … غیرت مند ماں باپ کی غیرت مند اولاد ہے اس کے پیٹ میں.. پیدا ہونے کے بعد جب اسے پتا چلتا کہ اس کی ماں کو عیاشی کا سامان کہا جاتا رہا ہے تو وہ تو تب بھی مر جائے گا.. اسی لئے اسے اس گندے خاندان کی نسل کا حصہ بننے سے بہتر ہے مر جانے دو…. یہاں ویسے بھی سب یہی چاہتے ہیں……… ..
دعا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے موبائل کی جانب دیکھا..
یہ سب کہتے ہوئے
یشب کی دل کی دنیا تہہ و بالا ہوئی.. پر وہ پھتر بنا بیٹھا رہا….
دا جی دھاڑے.. یشب………. دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا.. انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے عفان کو کال ملائی جو پہلی بیل پر رسیو کر لی گئی
یہ سب اتنی جلد اور اچانک ہوا کہ داجی کا تو بس نہیں چل رہا تھا.وہ اڑ کر نور منزل پہنچیں .. اپنی نسل کے امین کو بچانے کے لیے کیا کر بیٹھیں .
عفان نے کال رسیو کی..
ہاں عفان میری بات نہایت غور سے سنو.. بہو ماں بننے والی ہے.. اس کی طبیعت خراب ہے جتنی جلدی ہو سکے دعا کے ساتھ اسے ہسپتال لے کر پہنچو.. ہم سب آ رہے ہیں..
خوشی.. فکر…. اپنے وارث کو کھو دینے کا ڈر کیا کچھ نہیں تھا ان کے چہرے پر.

ابھی ابھی جو سوہن کے لئے اتنے ہتک آمیز جملے بول رہے تھے ان کے منہ سے اچانک بہو سن کر یشب بے حد تلخی سے تمسخرانہ سا ہنسا..
وہ آگے پیچھے بھاگے اور گاڑیاں لے کر نکلے…
رحیم نے پیچھے مڑ کر نواسے کا بگڑا ہوا پتھرایہ سا مزاج ملاحظہ کیا.. وہ ٹس سے مس نا ہوا تو وہ بھی جلدی سے وہاں سے نکلے..

عفان نے فون میں سے جب داجی کا نیا حکم نامہ سنا تو وہ بھی بوکھلائے.. جلدی سے ثروت سے سنجیدگی سے بولے.. آپ کی بہو کی طبیعت خراب ہے وہ شاید ماں بننے والی ہے داجی نے فوراً ہسپتال لے کر جانے کا بولا ہے.. ثروت کی جان میں جان آئی یقیناً اگر داجی کو بچہ کے بارے میں پتہ چل چکا ہے تو اب کم از کم سوہن کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے
وہ سب سوہن کے کمرے کی طرف بھاگے..
ثروت نے دعا کو آواز دی..
دعا…. دروازہ کھولو. سوہن کو ہوسپیٹل لے کر جانا ہے.. یہ سنتے ہی دعا نے بے یقینی سے دروازہ کھولا سامنے باپ کو دیکھ کر پھر دروازہ بند کرنے لگی تو دلاور نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا..
پاگل مت بنو دعا بیٹا… بچی کو ہسپتال لے جانے دو..دلاور جو سالہا سال سے حویلی میں بچے کی کلکاری کی گونج سننے کو ترس رہے تھے بے حد بے چینی سے بولے…..
گرینی سوہن کے پاس آئیں.. جو تڑپ تڑپ کر نڈھال سی ہو چکی تھی..
گگ.. گرینی.. مم.. میں مر..
گرینی نے اسے زور سے خود میں بھینچا..
دعا بڑی سی چادر اوڑھاؤ اسے جلدی..
دعا بھاگ کر چادر لے کر آئی.. اور سوہن کا پورا وجود چھپا دیا.. دلاور نے اسے بچوں کی طرح گود میں اٹھایا…. اور اسے لے کر ہوسپیٹل کے لئے نکلے..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

ہوسپیٹل میں icu کے باہر وہ سب بیٹھے تھے… جب شبیر شاہ آفندی اور ذیشان شاہ ہمرا اپنے بیٹوں کے بڑے کروفر سے ہسپتال میں داخل ہوئے… پورے ہسپتال میں جیسے کھلبلی سی مچ گئی تھی..
ہسپتال کے اونر بھی ان کے ساتھ تیز تیز قدم چلتے icu تک آئے..
شبیر شاہ آفندی بڑے رعب دار سرسراتے لہجے میں اونر سے مخاطب ہوئے.
ڈاکٹر اگر میری بہو یا اس کے بچے کو کچھ ہوا تو تمھارے پورے ہسپتال کو آگ لگا دوں گا..
(جیسے یہ ان کے یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں تھا)
انشاءاللہ دا جی… سب بہتر ہوگا.. اللہ تعالیٰ خیر کرے گا
اتنے میں ڈاکٹر اندر سے باہر آئیں…
شبیر شاہ کی بے چینی دیکھنے لائق تھی..
کیا ہوا ڈاکٹر… کیسی ہے میری بہو اور اس کا بچہ
جی الحمداللہ.. دونوں بلکل ٹھیک ہیں..بلکہ دونوں نہیں…. تینوں… جڑواں بچے ہیں…. ان کے…… شاید پریگنینسی سے پہلے ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے جس سے یہ تکلیف ہوئی انھیں… بہرحال اب ٹھیک ہیں.. کچھ ٹریٹ منٹ کے بعد انھیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا..
شبیر اور ذیشان کا تو چہرہ مسرت سے لال سرخ ہو گیا تھا… خوشی تو وہ تھی کہ بیان سے باہر…

داجی نے پورے ہسپتال میں مٹھائیوں کے ٹوکرے کے ٹوکرے بانٹ دیئے تھے…
غریب مریضوں کے لئے صدقے اور خیرات کے لئے خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے…ان سب کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے..
رحیم ملک طنزیہ سی مسکان کے ساتھ ان کی یہ کاروائیاں ملاحظہ فرما رہے تھے..
ایک دو مرتبہ شبیر شاہ نے دیکھا… آخر برداشت نہ کر سکے اور رحیم ملک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے دوستانہ سا بولے..
کیا.. یار………….. اگر وہ الو کا پٹھا، گدھا ہمیں پہلے اتنی بڑی خوشخبری سنا دیتا… تو اتنا بکھیڑا کھڑا ہی نہیں ہوتا..
وہ اب بھی یشب کی ہی غلطی گنوا رہے تھے..
اتنے میں نرس ان کے پاس آئی…. سر….. میم کو روم میں شفٹ کر دیا ہے… وہ بلکل ٹھیک ہیں آپ لوگ مل سکتے ہیں.. یہ کہہ کر وہ دوبارہ روم میں چلی گئ..
داجی بے چین سے ہو کر اندر جانے لگے تو رحیم نے انھیں روک لیا
شاہ صاحب… بچی انجان ہے آپ لوگوں سے… ابھی ڈر جائے گی.. پہلے ثروت بیگم کو اور مجھے ملنے دیں اس سے… پھر آپ لوگ آ جانا..
ٹھیک ہے…. وہ پہلی بار ایک دفعہ کے کہنے پہ ہی مان گئے آخر اپنے چشم و چراغ کی ماں کی صحت کا جو سوال تھا……
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

رحیم ملک دعا اور گرینی اندر داخل ہوئے تو وہ کمزور سی زرد چہرے کے ساتھ نڈھال سی بیڈ پر لیٹی تھی…ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی..
اس نے ان کے تعاقب میں دروازے کی جانب دیکھا… نظر ناکام لوٹ آئی… وہ دشمنِ جاں کہیں نہیں تھا… اسے تکلیف ہوئی..

وہ اس کے پاس آئے گرینی اور دعا اس کے سرہانے ہی بیٹھ گئیں
اس نے دعا کو اشارہ کیا تو دعا نے اسے تکیوں کے سہارے زرا سا نیم دراز کر دیا..
رحیم ملک آگے آئے اور سر خوشی میں اس کا سر چوما
جیتی رہو بچی….اللہ تعالیٰ تمھیں صحت دے
میں ٹھیک ہوں گرینڈ پا.. آپ لوگ پریشان نہ ہوں. وہ دھیمی سی آواز میں انھیں تسلی دینے کو بولی..
مجھے پتہ ہے میری گڑیا بہت بہادر ہے.. گرینی نے اس کا ماتھا چوما…..
وہ گرینی… وہ… سوہن جھجھکی..
بولو میری بچی کچھ چاہیے تمھیں….
گرینی… وہ…… کدھر ہیں…

دروازہ ناک ہوا… گرینی نے اس کا سوال نظر انداز کیا.. دعا جلدی سوہن کو چادر اوڑھاؤ.
دعا نے قریب رکھی چادر سے سوہن کا سر اور وجود ڈھانپا.
اندر آ جائیں.. رحیم ملک نے کہا..
داجی….. ذیشان، عفان. تینوں بھائی اندر داخل ہوئے..
سوہن اتنے سارے رعب دار شخصیت کے مردوں کو اندر آتا دیکھ گھبرائی… خوف زدہ سا ہو کر گرینی میں سمٹ گئی
داجی اور وہ سب اندر داخل ہوئے تو پہلے تو وہ جی بھر کر حیران ہوئے..
انھوں نے جو اپنے زہن میں امیج بنائی ہوئی تھی. ایک تیز طرار مکار لڑکی کی جو دولت کے لئے امیرزادوں کو پھانستی ہیں… پہلے تو اس کی نفی ہوئی… سامنے تو جو بیٹھی تھی.. اس کے چہرے پر فرشتوں جیسی معصومیت اور سادگی تھی..چادر میں لپٹی چھوٹی سی معصوم سی گڑیا
وہ دل ہی دل میں جی بھر کر اپنی سوچوں پر شرمندہ ہوئے… اس کا خوفزدہ ہونا بھی نوٹ کر چکے تھے
داجی اور ذیشان آگے آئے.. سوہن نے مضبوطی سے گرینی کے ہاتھ تھامے….
گڑیا… ڈرو نہیں یہ یشب کے دادا ہیں.. اور تمھارے داجی.. یہ یشب کے ڈیڈ ہیں تو تمھارے بھی بابا ہوئے ناں… گرینی نے بتایا تو اس نے بے حد حیرت سے گرینی کو دیکھا.. وہ آگے آئے اور شفقت سے اس گڑیا کے سر پر ہاتھ رکھا.

…. یہ یشب کے چچا ہیں اور یہ بڑے بھائی..
دلاور بھی آگے آئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا.. وہ حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی وہ تو آج تک گرینی اور گرینڈ پا کو یشب کے دادا دادی سمجھتی آئی تھی.. وہ بے حد الجھی..
پر ان کے چہروں پر خوشی دمکتی دیکھ رہی تھی.. حتی کے عفان بھی خوش تھے کیونکہ ان کے بھی بیٹے کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہو رہی تھی.. وہ سب صوفوں پر بیٹھے خوشگوار ماحول میں باتیں کر رہے تھے. ایسے جیسے کچھ گھنٹوں پہلے کچھ ہوا ہی نہیں تھا..
وہ تو حویلی میں بھی جشن کی تیاریوں کا فون کر چکے تھے..
جڑواں بچوں کا سن کر تو اور بھی ہواؤں میں اڑ رہے تھے…
سوہن گرینی کی گود میں ہی دواؤں کے زیر اثر سو چکی تھی..
داجی نے اسے پھر دیکھا..
بچی تو بہت معصوم اور پیاری ہے رحیم…. میں بھی کہوں میرا پوتا کیوں اتنا پاگل ہو رہا ہے.گدھا نالائق.. ان کے لہجے میں شہد ٹپک رہا تھا.. . داجی نے رحیم ملک کو چھیڑا…. اب تو وہ بھی کھل کر ہنس دئیے..
نام کیا ہے اتنی پیاری بیٹی کا… دا جی کے لہجے سے مٹھاس ہی نہیں جا رہی تھی
سوہن……. سوہن یشب آفندی نام ہے گڑیا کا..
واہ…نام بھی بہت پیارا ہے…

شبیر شاہ آپ لوگ جائیں نور منزل….. آرام کریں .. ہم لوگ لے آئیں گے سوہن کو گھر…. کچھ دیر بعد ڈاکٹر دوبارہ چیک کر کے پھر ڈسچارج کر دیں گے….
نہیں بھئی… ہم تو بہو کو ساتھ لے کر پھر ہی جائیں گے یہاں سے… ویسے بھی یہ آرام کرنے کا تھوڑی جشن منانے کا وقت ہے..
داجی نے جواب دیا… تھوڑی دیر بعد ہی سوہن کو ڈسچارج کر دیا گیا تو وہ سب اسے لئے نور منزل کی طرف روانہ ہوئے

❤️💝❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

یشب فارم ہاؤس میں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر چکر لگاتا آج پھر سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہا تھا… کبھی ڈاکٹر کے الفاظ یاد آتے تو کبھی دا جی کا طیش….
دو طرف سے پھنس گیا تھا.. دا جی سے گلو خلاصی ہوئی تو دوسری جانب سے فکریں لاحق ہو گئیں.

زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی بھی تو سوہن کی جانب سے پریشانی کے ساتھ یہ تو وہی جانتا تھا کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ابھی وہ کم از کم ایک سال کنسیو نہ کرے.. ورنہ اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے….
اس نے بے تحاشا دکھتی کنپٹیوں کو سہلایا….
تیمور فون کر کے بتا چکا تھا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے اور گھر آ گئ ہے… اس کے دادا کے بھی کارنامے بتائے تھے جنھوں نے خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے.. وہ پھر تلخ ہوا..
ہونہہ.. خود غرض.. اب تو نہیں ایک سیکنڈ کے لئے دعا کا خیال آیا ہو گا بچے کا سن کر…
بار بار فون پر سوہن کا نمبر جگمگا رہا تھا.. پر وہ کان بند کئے رہا.. میں زمہ دار ہوں اس سب کا جو اس کا اچھے سے خیال بھی نہیں رکھ پایا… کبھی اس کی نازک سی جان کو کسی مصیبت میں پھنسا دیتا ہوں کبھی کسی.. وہ خود اذیتی کی انتہا پر بار بار خود کو کوس رہا تھا..خود کو اذیت اور سزا دینا چاہتا تھا.. ایک مرتبہ پھر فون بجا… اپنی زندگی کی آواز سننے کو مچلا.. فون یس کر کے کان کو لگایا….

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟

اسے بہت آرام سے اپنے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا..پھر پیر بھی بستر سے نیچے نا رکھنے دیا گیا….
شام ہو چکی تھی اس ظالم کا کچھ اتا پتا نہیں تھی..سوہن نے کئی مرتبہ اسے کال کی بیل جا رہی تھی مگر وہ رسیو نہیں کر رہا تھا.. ..
وہ چھپ کر کئی مرتبہ اس کی بے عتنائی پر آنسو بہا چکی تھی.. اتنی تکلیف سے گزری تھی پر اس بے حس کو متعلق پرواہ ہی نہیں تھی جیسے..
دل و دماغ میں کئی منفی سوچیں حاوی ہو رہی تھیں.. اسے جب سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی وہ تو پتا نہیں کہاں جا چھپا تھا..
اتنی تکلیف… منفی سوچیں جھنجھلاہٹ، چڑچڑاپن نے اس کے اعصاب چٹخا دیئے تھے..
ایک آخری مرتبہ اسے کال کی.. اب کی بار کال رسیو ہوئی تھی… مگر دوسری جانب خاموشی تھی..
سوہن جب بولی تو اپنے حواس میں نہیں تھی…حقیقت جانے بغیر ابلتا لاوا آخر پھٹ پڑا… سرسراتی آواز تھی سوہن کی

یقیناً عشق کا بھوت سر سے اتر چکا ہو گا.. کیا بات… اتنی جلدی دل بھر گیا مجھ سے.. یہ کہہ کر وہ سسک پڑی
جبکہ دوسری جانب اس کے ہر لفظ سے یشب کے دل پر قیامت اور چہرے سے زلزلہ ہو کر گزرا.
سوہن…. وہ دھاڑا… جرات بھی نہ کرنا.. میری محبت کو گالی دینے کی..جان سے مار دوں گا تمھیں…..
تو اس بے عتنائی اور بے حسی کا کیا مطلب سمجھوں میں….. اس کا تو یہی مطلب ہے کہ آپ اکتا چکے ہیں مجھ سے.. وہ رندھی آواز میں بولی..
یشب کا جی چاہا.. پوری دنیا تہس نہس کر دے

مطلب میں آ کر سمجھاتا ہوں تمھیں… پاگل ہو گئی.. دماغ درست کرنے آ رہا ہوں میں… وہ سرسراتے لہجے میں بولا تو پہلی مرتبہ سوہن کو اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس اور اس سے خوف محسوس ہوا.. اس نے فون بند کر دیا..
یشب نے فون دیوار پر دے مارا..
اور تن فن کرتا فارم ہاؤس سے نکلا..

💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟