67.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


خوابِ عشقم

از واحبہ فاطمہ
Episode…. 8

آہٹ پر وہ خود میں سمٹی… پورا وجود ہلکے ہلکے کپکپا رہا تھا.. یشب بیڈ کے قریب آیا..

کتنا دلکش تھا یہ احساس کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کی ہو چکی ہے. جیسے کسی کو برسوں کی ریاضت اور تڑپ کا صلہ ملا ہو. . رگ و پہ میں ایک سرور کی سی کیفیت تھی.. کل کا سارا غم و غصہ کہیں دھوئیں کی طرح ہوا میں تحلیل ہو گیا تھا.. اب تو اس کی روح تک میں سرشاری کی کیفیت پھیلی ہوئی تھی.. وہ بے تحاشا بے تحاشا خوش تھا. پر وہ اپنی جان کو اتنے سستے میں بخشنے کا ہر گز ارادہ نہیں رکھتا… اتنا تو اس کا حق بھی بنتا تھا..وہ جو سامنے سجی سنوری نرم و گداز وجود لئے بیٹھی تھی اس کے دل پر قیامت ڈھا رہی تھی. اسے تنگ کرنے کو یونہی

مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بولا… بسس……. ابھی سے ڈر گئیں میری جان… ابھی تو کافی حساب کتاب نکلتے ہیں تمھاری طرف… وہ معنی خیز سا بولا.
وہ جو اپنی محبت کی بات کر رہا تھا.. وہ نادان سمجھی کے اپنی انسلٹ کا کہہ رہا ہے.. سوہن نے جھکا سر اٹھا کر خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھا..

تمھیں کیا لگا میں تمھیں ایسے ہی جانے دوں گا… آج رات سب حساب بےباک کرنے والا ہوں میں..تمھاری تو خیر نہیں
یشب نے اسے چھیڑا..
حالانکہ اس کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا.. لیکن یشب کو کیا پتہ کہ وہ مزاق میں ہی سہی اس کو ہراساں کر گیا تھا.. وہ ابھی کچھ اور کہتا.. کہ دروازہ ہلکا سا ناک ہوا..
باہر تیمور تھا.. اس نے کوئی بات کی تو یشب مسکرانے لگا.. گارڈز ، نوکر اور چوکیدار وغیرہ مبارکی مانگ رہے تھے..
تم جاؤ میں آتا ہوں…
میں ابھی تمھاری جان کا صدقہ دے کر آیا.. میری جان…….. پھر یہیں سے ہی continue کریں گے.. نہیں بلکہ میری سب سے بڑی وش سے سٹارٹ کریں گے.. اس نے شرارت سے اپنے لب پر سوہن کے تل کی جگہ پر انگلی رکھی اور باہر نکل گیا.

وہ جو ہراساں ہوئی بیٹھی تھی.. ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
نہیں… میں ہار نہیں مانوں گی… پتہ نہیں وہ پاگل آدمی کیا سلوک کرے گا میرے ساتھ… مجھے نکلنا ہو گا یہاں سے… ابھی.. موقع ہے.. اس نے دیکھا دروازہ کا لاک کھلا تھا..
وہ دبے قدموں باہر نکلی… طویل راہداری سے ایک جانب شور.. شرابے.. میوزک.. قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں.. وہ فارم ہاؤس کی بیک سائیڈ پر آئی
اس نے چپکے سے دوسری جانب دوڑ لگا تھی.
اس کی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی
.. کہ پچھلے دروازے پر چوکیدار موجود ہی نہیں تھا وہ تیزی سے چھوٹا سا باغیچہ پار کر کے اس زندان سے نکلتی چلی گئ

تیمور کی جو کسی چیل کی طرح ہر طرف نظر ہوتی تھی… اسے پتہ تھا کے دونوں گیٹ کے چوکیدار اپنی بخشیش لینے کے لیے یہاں ہیں. اسی لئے اس نے ایک مرتبہ جا کر اپنی میم صاحبہ کے کمرے کا جائزہ لینا ضروری سمجھا..

دروازہ کھلا دیکھ کر ہی وہ سمجھ گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے.. وہ بھاگ کر یشب کے پاس آیا..
سر مجھے لگتا ہے میم اپنے کمرے سے باہر نکلیں ہیں..

اس نے ایک ہی سانس میں کہا اور پچھلے دروازے کی طرف دوڑ لگا دی. یشب بھی تیر کی طرح کمرے کی طرف بھاگا.
کمرہ خالی منہ چڑھا رہا تھا.. وہ سب سمجھ کر پچھلے دروازے کی طرف جنگل کی طرف بھاگے..

💖❤️💞💕💝💖💞💕💝❤️💖❤️💞💝

وہ اندھا دھند سنگلاخ پتھروں پر اور گھنے درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان بھاگ رہی تھی..

سوہن…. سوہن… رک جاؤ…. ابھی کہ ابھی واپس آؤ, ..
اپنے پیچھے یشب شاہ کی دل چیرتی دھاڑ سنائی دی.. تو اس نے قدموں کی رفتار اور بڑھائی.. اپنے قریب آتے بھاری قدموں کی دھمک اور پتوں کی سر سراہٹ سے اس کی جان لبوں پر آئی ہوئی تھی..

بھاری لہنگے کو ہاتھوں سے زرا سا اوپر کیے وہ پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھی.. جھاڑیاں اس کے لباس اور دوپٹے سے الجھ رہی تھیں..اور کانٹوں سے الجھ کر دوپٹے میں جگہ جگہ سوراخ ہو رہے تھے پر اسے پرواہ نہیں تھی .. اندھیرا، جنگلی جانور.. کیڑے مکوڑے اور سب سے بڑھ کر یشب شاہ آفندی کے غضب کا خوف اس قدر حاوی تھا کہ اس کے قدم رک نہیں رہے تھے.

وہ ایک درخت کی اوٹ میں روکی…. اتنا بھاگنے اور مسلسل رونے سے سانس لینے میں شدید تکلیف ہو رہی تھی.لمبے لمبے سانس بھرے سامنے دیکھا گھنی جھاڑیوں میں راستہ ہی نہیں تھا.. دائیں طرف تھوڑا راستہ نظر آیا…

اس طرف رخ کر کے بھاگنے ہی والی تھی کہ کسی چیز میں پاؤں اڑا اور وہ دائیں کروٹ ایک نوکیلے اور سنگلاخ پتھر پر گری..
پتھر کی دو تین نوکیں پہلو میں اندر تک پیوست ہوتی چلی گئیں… پوری جان لگا کر پتھر سے اٹھی..

آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ.. اس کی دلدوز اور دلخراش چیخ مارگلا کے پہاڑوں میں گونج اٹھی.

ادھر.. علی ،بلال، رضا تیمور، گارڈز اور یشب جو اس کے تعاقب میں دیوانوں کی طرح بھاگ رہے تھے… اس دلدوز چیخ پر ٹھٹھک گئے..

سوہن…میری سوہن…. یشب دیوانہ بنا دھاڑا..

سوہن نے اپنے پہلو میں درد سے بے تحاشا روتے ہاتھ رکھے.. گرم سرخ سیال بہت تیزی سے بہہ رہا تھا..اس نے خون سے رنگے اپنے ہاتھ دیکھے. اس نے خود کو گھسیٹ کے بمشکل ایک درخت سے ٹیک لگائی.اور کیڑوں کے ڈر سے دوپٹہ جو کہ سر پر سیٹ کیا ہوا تھا اس کا ایک پلو خود سے لپیٹا

بے تحاشا درد…. میں اس نے سوچا کے اگر وہ یہی پر مر گئی اگر اس کے زخم میں خون کی خوشبو پا کر کیڑے مکوڑے گھس گئے… اور اس اگر سے آگے سوچنا اس کی روح تک کو جھنجھوڑ گیا تھا.. درد سے بے تحاشا تڑپتے آخر اس کے لب پھڑ پھڑائے
یش……….. یشب… زندگی کی ڈور ہاتھوں سے چھوٹنے کے اور اپنے اندر کیڑوں کے گھسنے کے خوف سے اپنی تمام تر توانائیاں جمع کرتی اس نے اس دشمن جاں کو پکارا…
یشب……

وہ لوگ جو اس کے آس پاس تھے… یشب نے اس کی پکار سنی تو اس سمت بھاگا…

ایک طرف آیا تو وہ درخت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی.. بھاگنے والی حرکت پر ناراض ہوتا وہ قریب کھڑا اسے نروٹھے پن سے گھور رہا تھا.

یش……. یشب.. اس کے لب کپکپائے

یشب کو لگا وہ اندھیرے اور جنگل کے خوف سے سہمی بیٹھی ہے.اس کے لبوں سے اپنا نام سننا اس کے لئے آبِ حیات پینے کے مترادف تھا. . وہ اس کے قریب گیا..دو قدم پھر پیچھے رک گیا

سوہن اپنا پورا زور لگا کر درخت کا سہارا لے کر کھڑی ہوئی.. آہستگی سے دو چھوٹے سے قدم آگے آئی.. اور اس کے گردن میں دونوں بازو لپیٹ کر اس کے چوڑے سینے میں چھپ گئ.. یشب نے بے یقینی سے اسے دیکھا..اور بولا

It’s my pleasure….. My love
روح تک سرشار ہوتا اس نے اس کی نازک کمر کو اپنے حصار میں لیا.
اپنے ہاتھوں پر کچھ گرم اور گیلا سا محسوس کر کے یشب نے اسکی پشت کے پیچھے سے ہی ہاتھ اپنے سامنے پھیلا کر غور سے دیکھا..
صدمے سے اس کی آنکھیں پھٹیں…خون کی بو اس کے ناک سے ٹکرائی.اس کے سر پر آسمان گرا.. جو محسوس ہو رہا تھا.. تہہ دل سے دعا نکلی کے سوہن کو کوئی چوٹ نہ لگی ہو
سوہن میری جان…. آواز میں صدیوں کی تڑپ تھی زرا سا ہلانے پر وہ ہوش و خرد سے بیگانہ اس کے کندھے پر سے کٹی ڈال کی طرح اس کے بازوؤں میں آ گری…
وہ اسے بانہوں میں بھرتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا..
سوہن… سوہن….. آنکھیں کھولو… میری جان. خدا کے لئے.. مجھ پر اتنا ستم مت ڈھاؤ میں مر جاؤں گا…. اس نے پاگل ہو کر نبض چیک کی… کچھ خاص محسوس نہیں ہوا تو وہ رو پڑا… سوہن خدا کے لیے آنکھیں کھولو… میں تمھیں کہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا… کہیں نہیں جانے دوں.. کبھی تمھیں پریشان نہیں کروں گا… آنکھیں کھولو

علی… علی…. دیکھو میری سوہن کو کیا ہوا ہے..وہ دھاڑا

وہ جو سوہن کے مل جانے پر کچھ فاصلے پر کھڑے تھے اس کے دھاڑنے پر بوکھلا کر آگے بڑھے… .علی اس کے قریب آیا.

وہ اسے سینے میں بھینچے روئے جا رہا تھا…. یشب کیا ہوا…یشب….
یشب نے اپنے خون سے رنگے ہاتھ اس کے سامنے پھیلائے..
علی نے آگے بڑھ کر اس کی نبض چیک کی.. جو کہ تقریباً تھم چکی تھی..

💝💞💖💕❤️💝❤️💕💞💖💝💝💝

ہاسپٹل کے سرد سے کوریڈور میں یشب دونوں ہاتھ باندھے ماتھے پر ٹکائے لال انگار آنکھیں لئے بیٹھا تھا.وہ اس سب کا زمہ دار خود کو سمجھ رہا تھا.. اپنی محبت کی تڑپ میں اس نے حرام چیز منہ کو لگائی تھی. اور اب وہی محبت اس سے دور جا رہی تھی.. اس نے ابھی ابھی ہسپتال کی چھوٹی سی مسجد میں جا کر سجدے میں گر کر اپنے گناہ کی معافی مانگی تھی اور سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے اپنی محبت کی سلامتی کی دعا مانگی تھی .. کیا تھا اس کا نصیب وہ جب بھی اپنی محبت کی جانب ایک قدم آگے بڑھتا تھا… تو وہ دو قدم اس سے پیچھے اس سے دور ہو جاتی تھی..اندر ایمرجنسی میں icu میں اس کی سرجری کی جا رہی تھی.. زخم کافی گہرے تھے اور خون کافی بہہ چکا تھا
علی، بلال اور زین بھی تھے اور

پاس ہی بینچ پر زیان.. دلکش اور ماہ روش بیٹھیں تھیں.. وہ دونوں تو رو رو کر ہلکان ہو رہی تھیں…زیان نے سوہن کو خون دیا تھا… وہ بھی پریشان تھا اسے سوہن سے اس بے وقوفی کی امید ہر گز نہیں تھی.

جب ہی ایک لیڈی ڈاکٹر icu سے باہر آئیں.. یشب لپک کر ان کی جانب گیا…

ڈاکٹر.. کیسی ہے وہ..
الحمداللہ وہ بلکل ٹھیک ہیں.. سرجری کر دی ہے… ابھی کچھ دیر بعد انھیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا. اور تھوڑی دیر بعد ہی ہوش آ جائے گا..

یشب نے وہی کوریڈور میں سجدہ شکر ادا کیا.. اس کی توبہ قبول ہوئی تھی.. اسے اس کی محبت لوٹا دی گئی تھی..

اسے روم میں شفٹ کیا گیا تو یشب روم میں آیا… وہ اس کے بلکل پاس آ کر چئیر پر بیٹھ گیا.. مرجھایا چہرہ، زرد رنگ.. بلکل کمزور سی.اس سے دیکھا نہ گیا تو زور سے آنکھیں بند کیں اور لب بے دردی سے کچلے

سوہن جب ہوش میں آئی تو اس کو اپنے قریب بیٹھے اور آنکھیں بند کیے دیکھ کر جلدی سے آہستگی سے پھر سے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں..

یشب کے دل کو کچھ ہوا.. وہ تو زمانے بھر کی خوشیاں اس کے قدموں میں ڈالنا چاہتا تھا… یہ کیا حال ہو گیا تھا اس کا… اس کی آنکھوں میں نمی تھی.. وہ کھڑا ہوا.. اس پر جھکا اور اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں ہلکے سے پھیری..

میری جان… ایک مرتبہ.. بس ایک مرتبہ ٹھیک ہو کر میرے پاس آ جاؤ… کانٹے تو دور تمھیں پھولوں سے بھی تکلیف نہیں ہونے دوں گا.. سارے جہاں کی خوشیاں تمھارے قدموں میں ڈال دوں گا.. مجھے معاف کر دو میں تمھاری حفاظت نہیں کر پایا… پر اب ایک پل کے لیے بھی تمھیں اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں کروں گا… وعدہ رہا.. بھاری جزبات سے بوجھل نم لہجے میں بولتا ہوا وہ اس کے چہرے پر جھکا خود سے وعدہ لے رہا تھا.. شاید وہ اس کی لرزتی پلکوں سے جان گیا تھا کہ وہ سن رہی ہے

اور پھر جھک کر اس کی پیشانی پر انتہائی نرمی سے اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی…..

زیان لوگوں نے اندر اس سے ملنے آنا تھا تو وہ اٹھا اور باہر نکلتا چلا گیا… سوہن نے آنکھیں کھولیں.. اور اس کی پشت کو گھورا.. وہ تو خود اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی.. خود سے زیادہ تو وہ اسے مریض لگا.. ہلکی بڑھی ہوئی شیو… بکھرے بال… زرد رنگ.. جیسے خون سوہن کا نہیں یشب شاہ آفندی کا ضائع ہوا ہو…

زیان… دل اور ماہ روش اندر داخل ہوئیں تو اسے کچھ سکون آیا…وہ ہلکے پھلکے انداز میں ان سے باتیں کر رہی تھی اور سب کا پوچھ رہی تھی..

زیان نے گھر میں اس حادثے کا کسی کو بھی نہیں بتایا تھا.. خواہ مخواہ سویرا حقیقت جانے بغیر طنز کرتیں کے بہن جس کے حوالے کر کے آئے ہو وہ تو ایک دن بھی حفاظت نہیں کر پایا..یشب شیشے کی کھڑکی کے پار کھڑا اس کی مسکراہٹ دیکھتا رہا..

💝❤️💞💖💕💖💞❤️💝💝💝💝💝

آج پانچویں دن سوہن کو ڈسچارج کیے جانا تھا…
اس نے اپنی نیندیں.. چین.. سکون سب برباد کر کے اس کا جی جان سے خیال رکھا تھا.. سوہن بھی نوٹ کرتی رہی.. زیان، رحیم ملک، اور گرینی نے بہت کوشش کی لیکن وہ راتوں کو خود اس کے پاس رکتا رہا..
آفس اور سوہن دونوں کو ٹائم دینے میں اس نے خود کی جان ہلکان کر لی تھی..

وہ سب کمرے میں بیٹھے تھے.. علی ڈسچارج پیپر بنوانے گیا تھا جب نرس روم میں داخل ہوئی …
مسٹر یشب شاہ آفندی آپ کو ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے کیبن میں بلایا ہے….

وہ اٹھ کر نرس کے ہمراہ ڈاکٹر کے کیبن تک آیا..
آئیے مسٹر یشب شاہ.. مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی..
سب خیر تو ہے ناں. ڈاکٹر..سوہن ٹھیک تو ہے ناں.. یشب نے پہلو بدلہ
ڈاکٹر اس کی بے چینی پر مسکرا دی… مسز یشب بلکل ٹھیک ہیں.. لیکن میں آپ سے کھل کر بات کروں گی.. آپ کی مسز کو چوٹ اتنی گہری تو نہیں لگی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہو لیکن بہرحال اتنی گہری ضرور تھی کہ ان کی یوٹرس پر بھی زخم آئے تھے.. اسی لیے ابھی کوشش کیجئے گا کے وہ کچھ عرصہ مطلب سال دو سال کنسِیو نہ کریں..
وہ بہت کمزور بھی ہیں اور ان زخموں کیوجہ سے ان کی پریگنینسی دردناک یا ان کی جان کے لئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے..وہ مکمل صحت یاب ہو جائیں اس کے بعد آپ اپنی فیملی پلان کر سکتے ہیں..

یشب کو دل میں ہنسی آئی.. کہاں وہ اس سے.. اس رشتے سے دور بھاگ رہی تھی اور کہاں ڈاکٹر دور کی باتیں لے کر بیٹھ گئیں تھیں..لیکن وہ بولا تو صرف اتنا کہ

ڈونٹ وری ڈاکٹر.. میری مسز سے بڑھ کر دنیا میں میرے لئے کوئی چیز امپورٹنٹ نہیں ہے.. آپ جو سمجھانا چاہتی تھیں میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں.. میں اپنی مسز کا بہت خیال رکھوں گا.

💕💞💖❤️💝💕💞💖❤️💝💝💝💝💝

زیان نے اسے وہیل چئیر سے اٹھا کر نرمی سے گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بٹھایا.اسے لگا زیان ڈرائیونگ کرے گا مگر وہ تو گرینڈ پا والی گاڑی میں جا بیٹھے. دلکش اور ماہ روش اس سے مل کر واپس جا چکی تھیں.. کیونکہ ان کی فلائٹ تھی.. ان سب نے آج واپس چلے جانا تھا…
ڈرائیونگ سیٹ پر یشب کو براجمان ہوتے دیکھ کر ایک لمحے کو وہ سمٹی..
ریلیکس ہو کر بیٹھو ہنی.. زخم تازہ ہے ابھی.. سوہن نے چونک کر اسے دیکھا.. لیکن وہ تو سنجیدگی سے سامنے دیکھ رہا تھا..

وہ نور منزل کی جانب چل پڑے… اب فارم ہاوس جانے کی ضروت ہی نہیں تھی..
وہ گھر آئے… پورچ میں دونوں گاڑیاں رکیں.. پہلی گاڑی سے رحیم گرینی اور زیان اترے سوہن نے بھیا کی طرف دیکھا پر وہ تینوں تو گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر چلے گئے.. اس نے پہلو بدلہ….

تبھی یشب نے اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولا.. اور بڑی خاموشی سے بغیر اس کی آنکھوں میں دیکھے نرمی سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا..
چھوڑیں مجھے… نیچے اتاریں………
یشب نے ایسے اگنور کیا جیسے سنا ہی نہیں… وہ اندر آیا… لاؤنج سے گزر کر سیڑھیاں چڑھا.. اور آخر کار اپنی برسوں کے خواب کو پورا کر، حقیقت میں لئے اپنے کمرے میں داخل ہوا… لا کر اسے بیڈ پر زرا سا درمیان میں نرمی سے لٹایا…اور خود بھی اس سے زرا فاصلہ رکھ کر اس کی جانب پشت کئے بیٹھ گیا.
دل میں مچلتے سوالوں سے وہ بے چینی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی… اور اپنے نازک ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی. یشب بغیر دیکھے بھی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا

ہنی جو پوچھنا ہے.. مجھ سے پوچھ سکتی ہو.. مجھے کوئی دقت نہیں ہو گی جواب دینے میں.. وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا..
یہ گھر کس کا ہے..آخر مچلتے سوال اور تجسس کے ہاتھوں مجبور ہر کر پوچھ ہی لیا..
تمھارا… جواب کافی برجستہ تھا…

یہ کمرہ کس کا ہے؟

ہمارا..

گرینی کدھر ہیں؟

کیوں..

مجھے ان کے کمرے میں جاناہے…..

میری جان اگر تم چاہتی ہو ایک مرتبہ پھر میں تمھیں اپنی بانہوں میں اٹھا کر گرینی کے کمرے میں لے کر جاؤں اور وہاں سے یہاں لے کر آؤں تو its my pleasure

سوہن خجل سی ہوئی دل کیا اس کی پشت پر ایک دھموکا ہی جڑ دے…….😂

میں نےگرینی کے کمرے میں رہنا ہے…

یشب کو مسکراہٹ ضبط کرنا مشکل ترین لگ رہا تھا.. لیکن ابھی وہ کوئی شوخ و شرارت والی کوئی بات کر کے اسے چپ نہیں کرانا چاہتا تھا… وہ تو چاہتا تھا وہ بولتی جائے بس… اس سے بے تکلف ہو.. وہ سر جھکائے گہری مسکان سے گہرے سانس لیتا اس کی اپنی زندگی میں اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر موجودگی محسوس کر رہا تھا…

بری بات ہنی… تمھاری شادی مجھ سے ہوئی ہے گرینی سے نہیں…..

مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا……..

کیوں………………؟

آپ بہت برے ہیں ۔…… منہ بنا کر بولی

اچھا….. ٹھیک سے یاد کر کے بتاؤ کیا برا کیا میں نے…

سوہن نے دماغ پر زور دیا.. اور واقعی اسے یاد نا تھا کہ یشب شاہ نے اس کے ساتھ کیا برا کیا تھا.. پھر آخر ایک بات یاد آ ہی گئ.

آ…………….. . آپ نے مجھے کڈنیپ کیا..

وہ تو تمھارے بھیا اور بہن نے کیا…. یشب نے ہنسی ضبط کی

آپ نے انھیں بلیک میل کیا ہوگا…

تمھاری قسم…. نہیں کیا…..
چلو جی یشب شاہ نے تو بات ہی سائیڈ پر لگا دی قسم کھا کر..

بھیا کدھر ہیں؟

چلا گیا ہے…

کیوں؟ مجھ سے ملے بغیر چلے گئے.. روکا نہیں کسی نے.سوہن بے چین ہوئی

بری بات ہنی. نئی نئی شادی ہوئی ہے ایسے کباب میں ہڈی نہیں بنتے… (اب ہر کوئی تمھاری طرح اپنے کباب کا کچرا تو نہیں کرتا)… آخری جملہ بس خود کو بڑبڑایا
آپ نے کچھ کہا…

نہیں……تم نے کچھ سنا..؟

نہیں

اتنے میں ہی میگی ناک کئے ٹرے پکڑے سوپ کا باؤل لائی. اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر چلی گئی.

اب جلدی سے یہ پورا باؤل finish کرو… ہنی پھر میڈیسن لینی ہے..

مجھے بھوک نہیں…وہ بے زاری سے بولی
اگر تم چاہتی ہو کہ یہ میں اپنے ہاتھوں سے تمھیں پلاؤں تو مجھے کوئی پرابلم نہیں..

سوہن نے چپ چاپ باؤل اٹھایا اور سوپ پینے لگی… آدھا پی کر اس نے باؤل سائیڈ پر رکھ دیا
ہنی… Finish کرو اسے..
میں کوئی پہلوان نہیں ہوں جو زیادہ کھاتی ہوں…
اس کی مثال پر یشب کو ہنسی آئی… فون رنگ ہوا.. تو وہ فون کان سے لگائے ٹیرس کی جانب مڑ گیا.
سوہن نے اسے غور سے دیکھا..

وہ جب کال سن کر اندر آیا تو وہ ایک بازو آنکھوں پر رکھے… کمفرٹر سینے تک لئے… ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے سوتی بن گئ.. اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی… وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھا…. کپڑے اٹھا کر واش روم گیا… نہا کر تولیے سے بال رگڑتا باہر نکلا…. آف وائٹ ٹی شرٹ اور گرے ٹراؤزر میں وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا… جانے اسے کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ دشمنِ جاں اس کے جائزے لے رہی ہے..
ہائے رے… خوش فہمی تیرا آسرا…. وہ بڑبڑاتا صوفے پر جا کر دراز ہو گیا… یونہی آنکھیں موندے لیٹ گیا.. جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ ریلیکس ہو کر سو چکی ہے تب وہ بھی گہری نیند سو گیا…

💕💞💖❤️💝💕💞💖❤️💝💝💝💝

آج ان کے نکاح اور سوہن کے ساتھ ہوئے حادثے کو دس دن ہو چکے تھے…
ان دنوں یشب نے اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا.. بہت خیال رکھا.. دن میں سارا دن گرینی اور شزا اس کے ساتھ ہوتیں………. سوہن گرینی اور شزا سے کافی بے تکلف ہو گئی تھی..
گرینی سے اسے سویرا اور فائزہ کی خوشبو آتی تھی… اور شزا سے اچھی خاصی فرینڈ شپ ہو گئی تھی. کھلے دروازے سے اسے اکثر ایک اور پیاری سی لڑکی چلتی پھرتی نظر آتی. مگر وہ کبھی اندر اس کے پاس نہ آئی.. گرینی سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ یشب کے بڑے بھائی کی بیوی زہرہ ہے.. لیکن حیرت تو اس بات کی تھی کہ وہ کبھی اندر اسے کہ پاس کیوں نہ آتی تھی.

سوہن کو کیا معلوم کہ اسے تو اجازت ہی نہیں تھی اس کے پاس آنے کی..

وہ گرینی کے اور شزا کے ساتھ ہنستی بولتی پر یشب سامنے آتا تو ایک مرتبہ پھر اپنے خول میں سمٹ جاتی….
اس نے آہستہ آہستہ چلنا پھرنا بھی شروع کر دیا تھا.. آج اس کی ڈریسنگ کھلنی تھی..

کبھی گرینی کبھی میگی اس کی ڈریسنگ پر میڈیسن لگاتی تھیں … شام کا وقت تھا… یشب آفس سے اپنے کمرے آیا..
وہ گرینی اور میگی کو بول آیا تھا کہ وہ آج خود اس کی ڈریسنگ کھولے گا…
واش روم سے پانی گرنے کی آواز آئی… وہ نہا کر بےبی پنک کلر کی کرتی وائٹ ٹراؤزر کے ساتھ پہن کر گیلے بالوں کے ساتھ آہستہ سے باہر آئی..

سامنے اسے دیکھ کر جلدی سے دوپٹہ اٹھایا.. وہ جو اس گداز سے وجود میں کھویا تھا.. فوراً نظریں ہٹائیں…

وہ بیڈ پر فرسٹ ایڈ باکس رکھے کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا.. سوہن چونکی…

ہنی ادھر آؤ.. بیڈ پر بیٹھو…
کیوں ،؟
ڈریسنگ کھولنی ہے..
وہ اچھلی… گگ… گرینی کدھر ہیں..

وہ تو گرینڈ پا کے ساتھ اپنا ریگولر چیک اپ کروانے گئیں ہیں.. اس سے پہلے کہ وہ لب کھولتی…
میگی اپنے کوارٹر میں ہے اور شزا گرینی کے ساتھ گئیں ہیں

میں ویٹ کر لوں گی.. وہ بیڈ پر بیٹھتی بولی….

ہنی… بری بات ایسے تنگ نہیں کرتے… ڈریسنگ گیلی ہے تمھارے کپڑے خراب ہو رہے ہیں..

میں آپ سے ڈریسنگ ہر گز نہیں اترواؤ گی.

کیوں..؟

کیونکہ……. اس سے بات نہیں بن رہی تھی یشب نے اپنی ہنسی دبائی
کیونکہ آپ لڑکے ہیں.. یشب کا قہقہہ ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ سرخ ہو گیا

اور تمھارا کیا ہوں……محرم ہوں…
وہ لاجواب ہوئی

مجھے نہیں پتہ.. وہ بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی…

❤️💕💞💖💝💝💝💝😂😂😂😂😂😂😂