No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 11.
چچھ…… چھوڑیں مجھے….. نیچے اتاریں.. پپ.. پلیز.. سوہن اس کے تیور دیکھ کر جی جان سے لرزی..نیند بھک سے اڑی خمار آلود نگاہیں پاگل کر دینے والی تھی
آج تو چھوڑنا ناممکن ہے سوہن جان…. کہا تھا ناں میں بدلا لینے پر آیا تو تمھاری چھوٹی سی جان برداشت نہیں کر پائے گی… پر تم نے نہیں سنا….بچے کی جان لو گی.
. اب بھگتو… اس کا خوشبوؤں میں بسا نازک اور گداز وجود بانہوں میں لئے وہ بیڈ تک آیا.
یہ کہہ کر اس نے اسے نرمی سے بیڈ پر لٹایا… سوہن تڑپ کر اٹھنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی وہ بیڈ پر لیٹ کر اس پر جھک چکا تھا..
سس… سوری.. پلیز. اب نہیں تنگ کروں گی آپ کو.. سوہن اس کے اس قدر قربت پر لرز اٹھی.. اس کے کلون کی خوشبو سے وہ گھبرائی ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے.. پھر بھر پور مزاحمت کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے اور اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی.لیکن یہ شیر کے سامنے ہرنی جیسی مزاحمت تھی
یشب نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بیڈ پر لگائے….. .وہ اب بھی کسمسا رہی تھی.
تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے جانِ یشب کہ تم اپنی کوششوں سے دور ہو مجھ سے… ہر گز نہیں..
یہ کہہ کر وہ جھکا اور اس کی گردن پر لب رکھے.. سوہن نے تڑپ کر آنکھیں زور سے بند کیں…یشب نے اپنے ہونٹوں سے اس کے کان کی لو کو کاٹا..اس کے لبوں کےدہکتے لمس سے سوہن کی سانس سینے میں الجھی…
بلکہ ابھی میں نے تم پر کوئی حق جتانے کی کوشش ہی نہیں کی جان…… نہیں تو اپنی اسی سچویشن سے اندازہ لگا لو کے میں اپنا حق کتنے حق سے وصول کر سکتا ہوں..
سوہن نے اپنا چہرہ بائیں جانب جھکایا ہوا تھا یشب کی دہکتی قربت سے وہ لرز رہی تھی..
وہ جو آج ابھی بن پئیے ہی بہک رہا تھا بلکل بے اختیار اور بے قابو ہو کر اس کا چہرہ ہاتھ سے اپنی طرف کیا.
You make me crazy………. Honey
کہہ کر اس کے تل پر لب رکھے پھر تڑپ کر نرم اور گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گداز لبوں کو اپنے لبوں سے قید کر لیا…
لمحے کافی فسوں خیز تھے… لیکن یشب کی محبت کی شدت اتنی ہی جان لیوا.
سوہن کی سانس جب اکھڑنے لگی تو آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے.. یشب کو جب اس کے آنسو محسوس ہوئے تو تڑپ کر دور ہوا.. اور نرمی سے اسے چھوڑ دیا..
وہ بھی تیزی سے اٹھ کر بیٹھی اور گہرے گہرے سانس لیتی کرب سے رو دی..نازک گردن پر اس کے پیار کے اور بازوؤں پر اس کے ہاتھوں کی شدت کے نشان آ چکے تھے
اس کے آنسو اور کرب دیکھ کر یشب کا دل کیا خود کو کچھ کر لے.. اپنی بالوں میں سختی سے ہاتھ پھیرتا وہ بیڈ سے نیچے اتر آیا.. شٹ………. کیوں وہ اس کے معاملے میں اتنا شدت پسند تھا… خود کو کیوں نہیں روک پاتا تھا.. خود کو دل میں کوس رہا تھا لیکن اب اپنی جان کو بھی تو سنبھالنا تھا..
سوہن…… اس نے نرمی سے پکارا. خاموش ہو جاؤ اپنے آنسو صاف کرو اور ریلیکس ہو کر سو جاؤ.. کچھ نہیں ہوا ہے…
وہ جو بیٹھی آنسو بہا رہی تھی..اس کی بات کا کچھ خاص اثر نہ ہوا…
آخر وہ اپنی ٹون میں واپس آیا.. سوہن جان… فوراً سے پہلے تمھارے آنسو نہیں رکے تو میں اسی طرح اور سزا دوں گا..یہ سنتے ہی اس نے گبھرا کر بیڈ پر ڈھلکے دوپٹے سے چہرہ صاف کیا..اور کمفرٹر اوڑھ کر فوراً لیٹ گئی..
یشب بھی صوفے کی طرف آیا..جیسے روح تک میں سرشاری اور سرور سا اتر آیا تھا کمفرٹر اوڑھ کر اپنے لبوں کو انگوٹھے سے چھو کر جیسے پھر سے وہ دلفریب لمس محسوس کیا.. اور مسکراتے ہوئے سکون سے گہری نیند سو گیا..
💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
صبح سات بجے یشب کی آنکھ کھلی .. وہ جو تھوڑا سا ہی مگر پرسکون گہری نیند سویا تھا.. اسی سے ہی نیند پوری ہو چکی تھی.. ضروری میٹنگ تھی اسی لئے جلدی سے اٹھا. تیار ہوا.. باہر نکلنے سے پہلے بیڈ کے قریب آیا..
جھکا اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی.گردن اور بازوؤں پر ہنوز نشان موجود تھے… سوری جان…. اس کے کانوں میں سرگوشی کی. . اور باہر نکلا… ہلکا سا ناشتہ کیا اور آفس کے لئے روانہ ہو گیا.
سوہن اٹھی….بے اختیار صوفے پر نگاہ اٹھی… رات کے مناظر یاد آئے.. سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ… اگر وہ چاہتا اس کی کوئی مزاحمت. کوئی احتجاج کوئی آنسو کام نا آتا…
مگر… وہ تو اس سے محبت ہی اتنی کرتا تھا. نہیں محبت نہیں عشق.. محبت کرتا تو اس کی پرواہ کیے بغیر اسے حاصل کر لیتا وہ تو عشق کرتا تھا.. جو یوں اس کی خواہشات اور مرضی کا احترام کرتا تھا..
… سوہن چونکی.. وہ دل میں اس کی اتنی زیادہ محبت کا اعتراف کر رہی تھی.
وہ سوچنے لگی تھی اس کے بارے.. بے اختیار اور لا شعوری طور پر ہی سہی..مگر سوچتی ضرور تھی اسے
یونہی سوچ رہی تھی کے ٹیبل پر نظر گئی.. بھاگ کر اٹھی.. ٹیبل پر چھوٹے سے ڈبے کے اوپر بے حد قیمتی موبائل فون اور ایک طرف اس کا سم کارڈ رکھا ہوا تھا.
دبے دبے سے جوش کے ساتھ فون اٹھایا.. اور الٹ پلٹ کر دیکھا… جلدی سے اس میں سم ڈالی. اور آن کیا..
فون فوراً رنگ ہوا…حیرت ہوئی نمبر پر سوہن کی جان لکھا تھا. اس نے دھڑکتے دل سے فون یس کر کے کان کو لگایا..
میں چاہتا تھا نئے فون میں سب سے پہلے میری جان میری آواز سنے..
گھمبیر آواز سے وہ گھبرائی لیکن برجستہ بول اٹھی
او.. ٹیڈی بیئر آپ اتنے بھی برے نہیں ہیں.. کہہ کر دانتوں تلے زبان دبائی
یشب نے قہقہہ لگایا……
اچھاااااا…. تو کتنا برا ہوں… اگر رات کا حوالہ دے رہی ہو تو اگر تم چاہو جان تو اس سے بھی برا ہو سکتا ہوں.
سوہن نے گڑبڑا کر فون رکھا..
افففففف… جائنٹ…..
💖💖💕💕❤️💝💝💝💝💟💟💟💟
وہ فریش ہو کر نیچے ناشتے کی ٹیبل پر آئی…… گرینی اور شزا نے تو بس جوس لیا.. اس نے اور دعا نے اکٹھے بیٹھ کر ناشتہ کیا…
شزا یونی چلی گئ.. وہ تینوں لاؤنج میں بیٹھ گئیں.. وہ دعا سے باتیں کر رہی تھی جب سوہن نے کہا.
زہرہ بھابھی آپ کو پتہ ہے……
او کم آن سوہن میں تم سے آٹھ دس سال بڑی ہوں.. بھابھی مت کہا کرو.. تمھاری بڑی بہن ہوں ناں.. تو گڑیا…………………. آپی بولا کرو مجھے
اوکے زہرہ آپی.سوہن نے خوش ہو کر کہا.
آپی آپ کے ہزبینڈ کدھر ہیں. میں نے کبھی دیکھا نہیں انھیں.
دعا گڑبڑائی…… پھر سنبھلی… وہ یورپ ہوتے ہیں بزنس کے سلسلے میں …. گڑیا
تو پھر آپ ان کے ساتھ کیوں نہیں گئیں…؟
اگر ان کے ساتھ چلی جاتی تو اس باربی ڈول سے کیسے ملتی.. دعا نے اس کے گداز گال کو کھینچا اور ٹالتے ہوئے کہا..
اوکے…… سوہن خوش ہوئی
. یہ چائے کے کپ مجھے دیں میں کچن میں رکھ دوں.. سوہن کپ لینے کے لیے اٹھی کے دوپٹہ جو کے اس نے اچھی طرح لپٹایا ہوا تھا بازوؤں میں ڈھلک گیا..
دعا نے چونک کر اس کی گردن اور بازوؤں کو دیکھا.. گرینی بھی دیکھ چکی تھی..
ارے یہ کیا گڑیا……. یہ نشان کیسے ہیں..
سوہن بوکھلائی… پھر لب کاٹتی وہاں سے اپنے کمرے میں بھاگ آئی..دعا اور گرینی یہ سمجھیں کہ وہ اپنی تکلیف شئر نہیں کرنا چاہتی
فون رنگ ہوا.. دلکش کا فون تھا..
اس نے فوراً یس کر کے کان کو لگایا اور اتنے دنوں بعد اس کی آواز سن کر رو پڑی.. دعا جو کے اس کو تسلی دینے کے لیے اس کے کمرے کی طرف آ رہی تھی اسے روتا دیکھ کر کچھ اور ہی سمجھی اور واپس پلٹ گئ.
ادھر فون پر بات کرتے ہوئے دلکش بھی رو پڑی تھی…
دل بہت بری ہو تم…. یہ میرے ساتھ کیا کیا….. مجھے خود سے سویرا مما سے دور کر دیا.. وہ ناراض ہوں گی مجھ سے.. مجھے کڈنیپ کر کے ایک انجان شخص کے حوالے کر دیا… یہ بہت برے ہیں… عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں… سوہن من بسور کر بول رہی تھی
اور دلکش کا جی چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے..
سوہن پاگل ہو گئی ہو اتنی محبت کرنے والا شخص تمھیں برا لگتا ہے… اور پھر دلکش کوئی بھی لگی لپٹی رکھے بغیر اسے سب بتاتی گئی.. سویرا کی ضد.. عمر کی بے اعتنائی…
یشب کے خواب.. اس کی محبت.. جنون دیوانگی.. پاگل پن سب… وہ سکیچ…..
اور تمہیں پتہ ہی یشب کو تو نکاح کے دن تک پتہ نہیں تھا وہ تو رحیم انکل اور زیان بھیا نے سب کچھ طے کیا تھا.. اور ہم نے تمھیں اس شخص کے حوالے کیا ہے جو دنیا میں سب زیادہ تم سے محبت کرتا ہے تمھارا خیال رکھ سکتا ہے اسے تو یہ تک فکر تھی کہ تمھارا شیرو تم تک کیسے پہنچائے… تمھاری حوالے سے اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ اور فکر کرتا ہے.. سوہن شرم کرو
دلکش نے اسے ڈپٹا…..
اور پھر اسے انسان بن جانے کی ہدایت دیتی اس نے فون بند کر دیا..
سوہن جہاں بیٹھی تھی وہیں بیٹھی رہ گئ…. حیرت سی حیرت تھی….. اس نے بھاگ کر الماری میں سے ڈائری نکالی…
تو وہ خواب لکھے ہوئے تھے… ڈیٹ کے ساتھ… کافی سال پرانی بھی ڈیٹس تھیں اس میں….
وہ سکیچ… کہاں گیا… اس نے کمرے میں ادھر ادھر دیکھا لیکن سکیچ کہیں نہیں تھا..
ڈائری کے چند صفحات دوبارہ پڑھے. اب وہ عجیب وغریب مناظر اسے سمجھ آ رہے تھے… ہر صفحے پر ہیر ہیر کی گردان تھی..
سوہن کو یاد آیا یشب نے شروع میں اسے ہیر کہہ کر پکارا تھا… پھر جب اس نے یشب کی انسلٹ کی اس کے بعد سے یشب نے اسے ہیر کہہ کر نہیں پکارا تھا.. شاید یہ بھی یشب نے اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہی کیا ہوگا کیونکہ کہ وہ چڑ گئ تھی یشب کے سوہن کو ہیر ہیر پکارنے پر
سوہن کو اپنی قسمت پر حیرت ہوئی اور یشب کے عشق کی تڑپ پر جو اسے دوبئی سے یہاں کھینچ لائی تھی.
کیا وہ اس قدر اہم تھی.. چاہے جانے کی اہمیت کا احساس تو اسے تب ہی ہو گیا تھا جب دلہن بنی بیٹھی تھی اور بار بار فون چیک کر رہی تھی..
اسے اپنے بدلتے دل کی کیفیت پر بھی حیرت ہو رہی تھی جو یشب شاہ آفندی کی حقیقت جان کر جھکا جا رہا تھا..
اس نے ڈائری کے صفحات دوبارہ پلٹائے.. ڈائری کے اینڈ کے صفحہ پر وہ سکیچ موجود تھا… جو اس دیوانے نے ناصرف ڈائری پر بنوایا تھا.. بلکہ دو تین کینونس پر بھی بنوایا ہوگا..
سکیچ کے نیچے جو ڈیٹ درج تھی وہ چار سال پرانی تھی.. اس نے غور سے دیکھا.. پھر بے اختیار ہو کر دراز میں سے مارکر نکالا اور سکیچ کے ہونٹ کے نیچے تل بنا دیا
Perfect…….
اور پھر ہیر کے آگے سوہن یشب آفندی بھی لکھ دیا…
💖💕❤️💝💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟
وہ آفس سے تھکا ہوا سا آیا…. تو دعا لاؤنج میں بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی..
یشب نے سرسری سی نظر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھنے والا ہی تھا کہ دعا نے پکارا
یشب روکو……… مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے…
وہ ٹھٹھک کر رکا اور دعا کی طرف متوجہ ہوا..
یہاں نہیں لان میں آؤ…
دعا پلیز……..
یشب ضروری بات ہے… اگر نہ ہوتی تو کبھی تمھیں نا کہتی.
وہ مجبوراً اس کی تقلید میں لان میں چلا آیا..
ہان بولو دعا کیا بات ہے؟
یشب تم اس معصوم کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو …تم…..تم نے زبردستی کی سوہن کے ساتھ؟……… آخر نکلے نا وہی عام سے مرد.. ویسے تو عشق عشق چلاتے ہو… لیکن کچھ دن بھی صبر نا کر سکے…
واٹ………………یشب ہکا بکا دعا کی گوہر افشانی ملاحظہ کر رہا تھا…. آخر چلایا… یہ….. کس نے کہا… سوہن نے کہا تم سے….
نہیں…. اس نے نہیں کہا… پر وہ نشان… اور وہ رو رہی تھی..
یشب کے تنے اعصاب ڈھیلے ہوئے.. ایسا کچھ نہیں کیا میں نے…. یار…. وہ بے زاری سے بولا.. اور فون دیا تھا میں نے اسے.. گھر بات کی ہوگی… اور رو دی ہوگی..
دعا نے یشب کو دیکھا جو کتنا جانتا تھا اسے…
کیا……….. کچھ نہیں کہا میں نے اسے….. اپنی طرف مشکوک سی نظروں سے دعا کو دیکھتے ہوئے وہ جھنجھلایا…
اور ایک بات تم مجھے بتاؤ دعا تمہیں اس کی اتنی فکر کیوں ہے… وہ کئی دنوں کا دل میں مچلتا سوال آخر پوچھ ہی بیٹھا….
کیونکہ……وہ تمھاری محبت ہے… تمھاری دیوانگی…. اور اس حوالے سے… بلکہ تمھارے حوالے سے وہ مجھے بہت عزیز ہے…
یہ کہہ کر دعا رکی نہیں…. اندر کی طرف چلی گئ اور وہ اس کی پشت کی طرف دیکھتا ماضی میں جھانکنے لگا اور اپنے خاندان کی عجیب و غریب روایات پر لعنت بھیجنے لگا..
دعا اس سے پانچ سال بڑی اس کے چچا عفان کی بیٹی..جس کا کوئی جوڑ نہیں تھا…. خاندان میں…
دا جی نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا… کہ وہ دعا کو اپنے نکاح میں لے لے… مگر اس نے نہیں ماننا تھا نہ مانا…
پھر شزا کو اس زندان سے نکالنے کا سودا کیا گیا اس سے.. بدلنے میں دعا سے نکاح کی صورت میں..
سودا مہنگا تھا پر اس نے شزا کے لئے منظور کر لیا.. اور دعا سے نکاح کر لیا… اس نے کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کیا.. بارہا دعا سے کہا کہ وہ اسے طلاق دے کر اس کی شادی کسی اچھی جگہ کرا دے گا.. پر دعا نہیں مانی..
بس اسے تو اس گھر میں کونے میں ایک جگہ اور یشب کا نام چاہیے تھا..
اس نکاح کا حویلی میں پتہ تھا سب کو مگر یہاں تو شزا تک لاعلم تھی… رحیم ملک اور ثروت کے علاوہ کسی کو خبر نہیں تھی
ویسے بھی اگر وہ اسے طلاق دیتا تو داجی ضد میں پھر شزا کی زندگی برباد کر دیتے…
یشب خیالوں کو جھٹک کر اندر کی جانب بڑھا یہ جانے بغیر کے گرینی ان دونوں کی گفتگو سن چکی ہیں…
انھیں یہ تو اندازہ تھا کہ سوہن نے یشب کو ابھی تک قبول نہیں کیا تھا
آج کنفرم بھی ہو گیا تھا یشب کے منہ سے حقیقت سن کر.. اب انھیں سوہن کو سمجھانا تھا.. اس رشتے کی اہمیت بتانی تھی.
💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟
Next kal
