58.7K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2


خوابِ عشقم
By Wahiba Fatima
Episode…… 2

وہ جھنجھلایا سا بیڈ سے اتر کر گھنے کالے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے کی اس سائیڈ آیا.جسے بڑے بڑے دبیز پردوں سے چھپایا گیا تھا. . آج پھر وہ بے بسی کی انتہا پر تھا..
وہ بے چین سا راکنگ چیئر پر بیٹھ گیا.. پچھلے تین دن سے پھر وہ اذیت سے دوچار تھا..

چھوٹی سی عمر سے اسے خواب آتے تھے تو وہ الجھ جاتا تھا.. پھر ٹین ایج تک اسے ان خوابوں کی اور خواب والی کی اتنی عادت ہو گئی.. اتنی ضرورت ہو گئ جیسے کسی انسان کو سانس لینا ضروری ہو.

پہلے وہ خواب میں آتی تھی تو وہ سارا دن مسرور سا رہتا.. بہت………….. بہت خوش.

پر اب پچھلے کچھ دنوں سے اسے پانے..حقیقت میں اپنے سامنے دیکھنے اور محسوس کرنے کی تمنا اتنی شدت اختیار کر گئ تھی.. اتنی بے چین کہ اپنی طبیعت خراب کر بیٹھا.. نہ کسی سے ملا نہ آفس گیا.

تڑپ…….
کیا ہوتی ہے یہ تڑپ…. انتہا کیا ہوتی ہے تڑپ کی… وہ کرب درد جو کسی آرے کی طرح دل کو اندر تک چیر دے..
وہ راکنگ چیئر پر آگے پیچھے جھولتا سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگاتا آج پھر اذیت کی انتہا پر تھا..سامنے کینونس پر بنے خوبصورت سکیچ کو دیکھ کر سینے میں سانس الجھی..اس نے سلگتی سگریٹ اپنی ہتھیلی پر لگائی لیکن یہ جلن اس جلن کے آگے ہیچ تھی جو جلن اسے پچھلے چودہ سال سے سلگا رہی تھی.

❤️❤️❤️💕💕💕❤️💕💕❤️💕

وہ چاروں اس عالیشان محل کے اس خوبصورت ترین بڑے کمرے میں داخل ہوئے تو یشب خان آفندی کو حسبِ معمول پھر دیوانگی کی انتہا پر کینوس کے سامنے پایا.

چاروں جا کر اسکے سامنے صوفے پر یوں بیٹھے کے کینونس ان کے درمیان تھا….
علی نے کینونس کی بیک سائیڈ کو نفرت سے گھورا.اور پہلو بدل کر کھڑا ہوگیا
آج پھر…. آج پھر تمھیں درشن ہوئے ہوں گے… رخِ روشن کے.. دانت پیس کر بولا

یشب ہلکے سے مسکرا دیا.. آنکھیں شدتِ کرب سے لال انگارہ ہوئیں تھیں آنکھوں میں نمی لئے ہوئے وہ بے حد خوبصورت لگ رہا تھا.

یشب خان یو رئیلی نیڈ آ سائیکاٹرسٹ….. زین نے بے بسی سے کہا…. جبکہ بلال اور زیان بھی ہمیشہ کی طرح اس پتھر سے سر پھوڑنے آ پہنچے تھے..

مطلب تم چودہ سال سے ایک سراب کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہے ہو.. یار اس نے ملنا ہوتا تو کب کی مل چکی ہوتی تم اس بات کو سمجھتے کیوں نہیں.. علی نے پھر دانت پیسے

جسے تم سراب بول رہے ہو وہ میری زندگی ہے یار.. مائینڈ اٹ… یشب نے بے بسی سے کہا..

کوئی زندگی وندگی نہیں ہے.. تم کیا پاگل ہو یشب چوبیس سال تمھاری عمر ہے.. چودہ سال سے تم جسے اپنے خوابوں میں دیکھ رہے ہو وہ صرف اور صرف تمھارے ذہن کا فتور ہے اور کچھ نہیں…آج پھر تمھیں وہ خواب میں نظر آئی اور ایک بار پھر تم دیوداس بنے یہاں بیٹھے ہو… خوابوں کا حقیقی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا یار.. اس نے سو مرتبہ کی کی ہوئی بات ایک مرتبہ پھر دہرائی

میرے ذہن کا فتور ہوتا تو اس کا سکیچ اس کینونس پر موجود نہ ہوتا… وہ درشتگی سے بولا.

اچھاااا…… سکیچ ہے… وہ خود کہاں ہے؟ کون ہے؟ ملی تمھیں؟.. علی طنزیہ بولا..

مل جائے گی.. اطمینان قابلِ دید تھا.

اچھا بات سنو… اگر منگنی شدہ ہوئی تو…علی نے اس کی دکھتی رگ چھیڑی.
تو وہ سو کالڈ منگیتر دنیا سے اٹھ جائے گا..یشب نفرت سے بولا.
اور اگر شادی شدہ بال بچوں والی نکلی تو….؟

تو وہ پہلے بیوہ ہوگی.. پھر اس کے بچوں کی ولدیت چینج کر کے اپنے نام کی کر دوں گا… یشب کے لہجے میں سفاکی اور آنکھوں میں خون اتر آیا.. یہ تو علی بول رہا تھا جس کا جواب وہ بول کر دے رہا تھا نہیں تو کوئی دوسرا ہوتا بولنے کے لیے زبان نہ بچتی منہ میں..

زیان نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے علی کو دیکھا… جو اسے اذیت سے دوچار کرنے سے باز نہیں آیا تھا.. آخر ان میں سے علی کی ہی تو جان اٹکی ہوئی تھی اپنے جگری دوست میں اور دوست کی اس کینونس کے سکیچ میں جو ان چاروں کو بھی دیکھنے کی اجازت نہیں تھی. وہ اس کے جنون اور دیونگی سے ڈرتے تھے.

یار ایسے تھوڑا ہوتا ہے کہ تم کسی سراب کو خواب میں دیکھو اور حقیقی زندگی میں اس سے ملنے کی تمنا کرو… ربش….. علی نے پھر افسوس سے کہا.

ملے گی…. میری ہے تو ضرور ملے گی… اللہ تعالیٰ نے اسے صرف اور صرف میرے لیے بنایا ہے اسی لئے تو اس کے ملنے…. اسے حقیقت میں اپنے سامنے دیکھنے سے پہلے اس کا تعلّق مجھ سے جوڑا…

وہ چاروں اس کے جنون سے خائف تھے… چودہ سال سے وہ ایک چہرہ خواب میں دیکھ رہا تھا.. حتی کہ کسی سکیچ بنانے والے ماہر سے اس نے اس سکیچ کو اپنے تخیل سے نکال کر حقیقت کا روپ دے دیا تھا..

اچھا بات سنو…. اگر وہ ملی تو کیا کرو گے.. علی نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی..

تو…. یشب مسکرایا.. تو پتہ نہیں کیا کر بیٹھوں گا… خود میں بھینچ لوں گا.. چھپا لوں گا دنیا سے…شاید خود پاگل ہو جاؤں یا اسے کر دوں گا.

لو جی… نہ ملی تو مصیبت… مل گئ تو یہ تو خود ہی پورا کر دے گا بیچاری کو… علی اس کی انوکھی بات سن کر زین، بلال اور زیان کے کانوں میں بڑبڑایا جس سے ان کو ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا.

اور اگر نہ ملی تو کنوار کوٹھڑا ڈال لینا اور ٹانگ لینا اس میں یہ سکیچ…. علی پھر پٹڑی سے اترا اور ناگواری سے بولا..
نہیں……… ملے گی… ہم ضرور ملے گے.. .. مجھے یقین نہیں…. میرا ایمان ہے.. یشب نے ایک خوبصورت گہری مسکراہٹ سے سکیچ دیکھتے ہوئے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ہارمونیکا نکالا اور انتہائی خوبصورت دھن میں یہ گانا بجانے لگا..

ملینگے………… ملینگے
ملینگے…………. ملینگے
آپ سے……….. یقیناً……. ملینگے ملینگے

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

علی نے قریب آ کر ہلکے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا..اس کی پیٹھ سکیچ کی طرف تھی. یشب نے ہارمونیکا نیچے کیا اور لال انگارہ نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.

ریلیکس یار گرینی بہت پریشان ہیں تمھارے لئے… پلیز یار ان کے لئے ہی ریلیکس ہو جاؤ… کمرے سے اس (منحوس) سکیچ سے باہر نکلو… آفس جاؤ… اپنا دھیان بٹاؤ گے تو طبیعت ٹھیک ہو گی….. پلیز یار ہماری خاطر
علی نے ملتجی لہجے میں کہا.. اور منحوس صرف دل میں بولا.

دیکھو یہ زیان کی شادی میں پندرہ دن رہ گئے ہیں… تم نے وعدہ کیا تھا فائزہ آنٹی سے کہ ہر کام میں ہاتھ بٹاؤ گے.. تو اس وعدہ کا کیا ہوا؟ اور زیان کا تو کچھ خیال کرو
بلال نے اسے باور کرایا… یشب کو اب واقعی اپنے آپ پر افسوس ہو چلا تھا زیان کی غیر معمولی سنجیدہ شکل دیکھ کر… جبکہ وہ تو اپنی شادی کو لے کر بہت خوش تھا.

اب اگر تم ایک سیکنڈ کے اندر نہیں ہلے تو میں پیچھے مڑ کر تمھاری ہیر میڈم کی تصویر دیکھ لوں گا..

وہ جو دل میں تو قائل ہو ہی چکا تھا کہ اسے اپنے دوست کی خاطر اس فیز سے باہر آنا ہے. علی کی بات پر تڑپ کر اٹھا. جس پر ان چاروں کا قہقہہ بے ساختہ تھا..

علی اس کے مقابل کھڑا اس ہینڈسم سے بندے کو غور سے دیکھ رہا تھا. اور اس کا پاگل پن ملاحظہ کر رہا تھا اس کے اس طرح دیکھنے پر یشب جھنجھلایا.

کیا…………… میں ہیر کی تصویر پر کسی کا سایہ نا پڑنے دوں تم دیکھنے کی بات کر رہے ہو.. یشب بھی کونسا کم تھا ڈھٹائی سے بولتا آگے ہوا اور کینونس پر بڑا سا سیاہ کپڑا ڈال دیا.

نور منزل کے اوپری منزل سے وہ سیڑھیاں جن پر میرون دبیز قالین بچھا ہوا تھا پانچوں چل کر ہنستے مسکراتے نیچے وسیع عریض لاؤنج میں اترے تو گرینی نے دھیمی مسکراہٹ سے دل میں شکر ادا کیا..

یشب آتے ہی ان کی گود میں سر رکھ کر صوفے پہ لیٹ گیا.وہ پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں. ماتھے پر بوسہ لیا..
کیا بات ہے بچہ…… کیوں اتنے اداس ہو… مل جائے گی وہ…. کیوں پریشان ہوتے ہو… میں روز دعاؤں میں اسے تمھارے لئے مانگتی ہوں..
گرینی کی بات وہ چاروں ہکا بکا منہ کھولے یشب کی طرف دیکھ رہے تھے.. یعنی کہ اس کے پاگل سے وہ ہی نہیں اس کے گھر والے بھی واقف تھے. علی حسب معمول تلملایا.

واہ……. خوب تو یشب شاہ اتنا بے شرم ہے کہ پورے زمانے میں اپنے پاگل پن کا ڈھنڈورا پیٹا ہوا ہے.
علی کی بات پر کافی دن بعد اس نے کھل کر قہقہہ لگایا.

یہاں جلنے کی بو آ رہی ہے. گرینی..
تم تو ایسے جل رہے ہو جیسے وہ تمھاری سوتن ہو.. یشب اپنی ٹون میں واپس آیا.

ہونہہ…… خوش فہمی…… میں کیوں جلوں گا… علی نے جل کر بولا سب ہنس پڑے

گرینی کی کیا بات کر رہے ہو…. یہاں تو گرینڈ پا اور چھوٹی کو بھی پتہ ہے.. یشب نے آنکھ دبا کر کہا… اور تمھیں پتہ ہے وہ تو ہر دوسرے دن اپنے کالج کی کسی سندری کی تصویر موبائل میں چوری سے کھینچ لاتی ہے.. کہ کہیں وہ اس کی بھابھی نہ ہو.

یشب نے دانت نکالتے بتایا تو ان چاروں کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیں…

بریک فاسٹ ریڈی ہے گرینی….. سرونٹ میگی نے آ کر اطلاع دی تو انھوں نے خوشگوار ماحول میں ناشتہ کیا..
وہ چاروں خوش تھے کہ یشب کا موڈ بحال کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے.

ابھی وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے کہ رحیم ملک اپنی مہربان شخصیت لیے وہاں آئے…
سب تعظیمً کھڑے ہو گئے…

ارے بیٹھو بیٹھو… بچوں… کیا حال ہے بھئ… کیا ہو رہا ہے اج کل. ؟
سب نے مسکرا کر باری باری جواب دیا… وہ کہیں جانے کہ لئے بلکل تیار تھے…

وہ زیان سے مخاطب ہو کر بولے… بچہ ہمیں بہت ضروری کام سے ملک سے باہر جانا پڑ رہا ہے.. بہت مجبوری ہے.. اس لئے ہم تو شادی میں شرکت نہیں کر پائیں گے..البتہ تمھاری گرینی اور چھوٹی بھر پور شرکت کریں گے…. .

چلو بھئی برخوردار…. ہمیں ائیر پورٹ پر چھوڑ کر آؤ… اور جب ہم آئیں تو ہمیں یہ خوشخبری مل جانی چاہیے کہ تم نے ہماری بہو کو ڈھونڈ لیا ہے.. انھوں نے یشب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا..وہ نظریں چرا گیا.. اس کے اس طرح لڑکیوں کی طرح شرمانے پر سب دبی دبی ہنسی ہنس دیے.

ارے ائیر پورٹ سے یاد آیا کہ آج دوبئی سے میری چھوٹی بہنیں آ رہی ہیں… شادی میں شرکت کرنے.زیان کو اچانک یاد آیا…
چھوٹی بہنیں؟. انھوں نے حیرت سے کہا تو زیان نے انھیں ہلکے پھلکے طریقے سے تفصیل بتائی.

یہ تو بہت اچھی بات ہے… پھر تو مجھے چھوڑنے کے بعد یشب ہی ان بچیوں کو رسیو کر لے گا… رحیم ملک نے کہا تو زیان مسکرا دیا..

نہیں گرینڈ پا.. امی نے عبداللہ کاکا کو بھیج دیا ہوگا ان کو لینے..مجھے بھی آفس میں ضروری کام تھا.. اس لئے میں بھی جا نہیں پایا..میں بھی چلتا ہوں..

چلیں ٹھیک ہے پھر ہم بھی نکلتے ہیں گرینڈ پا لیٹ ہو رہے ہیں.. یشب جلدی سے اپنے بیڈروم میں گیا. اپنا والٹ اور کیز اٹھائی اور نیچے آیا..
وہ سب نور منزل سےنکلے تھے

💕❤️💕❤️💕❤️💕❤️💕❤️💕💕❤️

وہ تینوں اسلام آباد کے ائیر پورٹ سے نکل کر بڑی شان سے مغرورانہ چال چلتی باہر آئیں…..

دبئی سے پورے 18 سال بعد پاک سر زمین پر پاؤں رکھتے ہی بازو وا کیے ایک گہری سانس اندر کھینچ کر پاک مٹی کی خوشبو اندر اتاری…

دلکش ، ماہروش اور سوہن بے حد خوبصورت نازک سے سراپے کے ساتھ، دودھیا رنگت،… گھٹنوں کے نیچے تک ریڈ فراک…… نیچے جینز کی ٹائیٹس پہنے گلے میں سکارف لئے براؤن مقناطیسی آنکھیں… گھنے کمر سے نیچے تک آتے براؤن بالوں کی اونچی پونی ٹیل کیے… تینوں ایک سے بڑھ کر ایک……. ایک جیسی ڈریسنگ کیے وہ تقریباً وہاں موجود ہر نظر کے محور کا مرکز بن رہیں تھیں…

یونہی ہنستی کھلکھلاتی ایک دوسرے سے مزاق کرتیں وہ پارکنگ ایریا میں آئیں… جہاں زیان بھائی کا پرانا ڈرائیور ان کا انتظار کر رہا تھا…
عبداللہ کاکا نے ادب سے انھیں سلام کیا….انھوں نے بھی احترام سے ان کو جواب دے کر حال احوال پوچھا…

ابھی وہ تینوں گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھیں کہ ہارمونیکا کی انتہائی خوبصورت دھن سنائی دی….

ملینگے……………. ملینگے
ملینگے……………… ملینگے
آپ سے……… یقیناً………. ملینگے…….. ملینگے

وہ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں گاڑی میں بیٹھنے کی بجائے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی اس سمت کی جانب چل پڑیں جہاں سے وہ خوبصورت سے میوزک کی آواز آ رہی تھی… کچھ دور جا کر انھیں ایک شاندار سی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے ایک لڑکے کی پیٹھ نظر آئی.. جو سر ہلکا سا جھکائے دنیا جہاں سے بے خبر وہ دھن بجا رہا تھا..

وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور اور قریب جاتیں کے پیچھے سے عبداللہ کاکا کی آواز آئی..

کیا ہوا سوہن بٹیا….. گھر چلیں زیان صاحب زرا سی دیر ہونے پر پریشان ہو جائیں گے..

مجبوراً ان تینوں کو واپس آنا پڑا.. (عبداللہ کاکا نے انھیں ان کی زندگی کی فاش ترین غلطی کرنے سے آخر بچا لیا) ..

آ کر گاڑی میں بیٹھی اور عبداللہ نے گاڑی زن سے بھگا لی.

❤️❤️❤️💕💕💕💕💕💕💕

یشب گرینڈ پا کو اندر چھوڑ کر واپس آیا… تو یونہی گاڑی سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں.. گرے شرٹ بلیک پینٹ… ماتھے پر بکھرے کالے سیاہ بال.. مضبوط اور کسرتی جسامت… میں وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا… کون نہیں جانتا تھا شہر کے امیر ترین کنوارے بزنس ٹائیکون یشب شاہ آفندی کو. ہر لڑکی بار بار مڑ کر اسے دیکھتی تھی. مغرور پر اثر خوبصورت شخصیت پر بے نیازی ہر لڑکی کو کسی مقناطیس کی طرح اپنی جانب کھینچتی تھی.

اس نے پینٹ کی پوکٹ سے ہارمونیکا نکالا اور مخصوص دھن بجانے لگا. پر

کچھ دیر بعد ہی یشب شاہ آفندی کو ہارمونیکا بجاتے ہوئے کچھ غیر معمولی پن محسوس ہوا تھا چودہ سال میں آج جانے کیوں اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ اس کے آس پاس ہے.. یہیں کہیں… اسے بھول گیا وہ کیا کرنے آیا تھا ائرپورٹ پر.اور کیوں ہے وہاں . وہ دیوانوں کی طرح ادھر سے ادھر جاتا کچھ تلاش کر رہا تھا..

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️💕💕💕💕💕💕

وہ تینوں گاڑی میں سیٹ سے سر ٹکا کر ریلیکس ہو کر بیٹھیں…

اس بات سے بلکل انجان اور بے خبر کے ان تینوں میں سے کسی ایک کا…. ایک پاگل دیوانہ چودہ سال سے انتظار کر رہا ہے…
ماہ روش نے اپنا موبائل نکالا اور لاؤڈ آواز میں گانا لگایا.. تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر دھیما سا مسکرائیں اور سکون سے آنکھیں موند لیں

گاڑی میں گانے کی معنی خیز سی آواز گونج رہی تھی..لیکن انھیں جیسے اس گانے کی بجائے ہارمونیکا کی پر سوز دھن سنائی دے رہی تھی.

ملینگے…………. ملینگے…………..
ملینگے…………. ملینگے
آپ سے……… یقیناً……. ملینگے……. ملینگے

❤️💕❤️💕❤️💕❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ گھر پہنچیں تو جیسے خوشیوں کا ایک طوفان سا آ گیا گھر پر… تھکے ہونے کے باوجود انھوں نے خوب ہلا گلا کیا..
پھر دوپہر کو پہلی دفعہ پاکستانی چٹ پٹا کھانا کھایا…
سوچا نہیں تھا اتنا انجوائے کریں گی..زیان سے بڑی تینوں آپیاں… ردا،،، ندا…..اورحنا بھی اپنے چنوں منوؤں کے ساتھ آئیں ہوئیں تھیں..

مائدہ بھی بچوں سمیت آئیں ہوئیں تھیں..

پھر پورا ہفتہ تو ان تینوں نے پاکستان کی ویڈنگ کے مطابق شاپنگ کرتے ہوئے شاپنگ مال چھان مارے…. کیونکہ تھیم ویڈنگ تھی.. اس لئیے اس مناسبت سے ڈریسز کے کلر بھی انھوں نے تھیم کے مطابق لئے.. اپنے ڈیزائن ایک جیسے ہی لئے….
زیان کی شادی اس کی خالہ زاد نور سے ہونی تھی… آج ہفتہ بھر پہلے ابٹن اور نکاح کی رسم ہونا تھی..نور کے دو بھائیوں کی شادی بھی ہونا تھی جس میں ان سب نے بھی شرکت کرنی تھی. . ابٹن اس کے اگلے دن مہندی. پھر نور کے ایک بھائی کی بارات.. اس سے اگلے دن دوسرے کی بارات..
ایک دن ریسٹ کے بعد زیان کی بارات اور نور کے بھائیوں کا ولیمہ تھا.. اس کے اگلے دن زیان کا ولیمہ

یعنی پورے ہفتے فنکشنز تھے…
آج ابٹن تھا… بہت گہماگہمی تھی. سب تیار ہو رہے تھے.. شاکنگ پنک اور اورنج کلر کی تھیم کے مطابق سب نے ڈریسنگ کی تھی…..