No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 13
صبح یشب کی آنکھ کھلی تو بے حد پریشانی سے اٹھ بیٹھا.. کمرہ خالی تھا.
افففف…. یہ کیا کیا میں نے… اس کے ڈر اور خوف کا فائدہ اٹھایا… وہ بھی نہیں ہے.. اس نےبے چینی سے ادھر ادھر دیکھا… یقیناً کہیں چھپ کر رو رہی ہو گی.. چیخ چلا رہی ہوگی.
وہ تڑپ کر اٹھا… لاؤنج میں آیا.. کچن سے آوازیں آ رہی تھیں..
اووو……Not bad… . تو یہ بات ہے. … وہ دروازے کی چوکھٹ پر ٹیک لگائے ہاتھ باندھے کھڑا دلچسپی سے سوہن کو دیکھ رہا تھا جو اس کی لائی فروزی فراک میں فریش سی کھڑی میگی سے یشب کا اور اپنا ناشتہ بنوا رہی تھی..
تو محترمہ بھی عشقِ آتش میں جل رہی ہیں..اسے سوہن کی خود سپردگی کا عالم یاد آیا تو روح تک میں سکون پھیل گیا..
ہممم محبت ہے… پر اظہار نہیں ہے. پر اسے اپنی جانم سے باتیں کنفیس کروانی آتی تھیں .. وہ دل میں سوچ کر مسکرائے جا رہا تھا..
سوہن مڑی… اسے اپنی جانب مسکراتا دیکھ کر سٹپٹا گئی… جلدی سے میگی کو دیکھا.. وہ کام میں مصروف تھی…
پلکوں کی جھالریں گرائے وہ بولی..
آپ فریش ہو جائیں… ناشتہ تیار ہے…
اوکے.. وہ کہتا مسکراتا کمرے میں آیا.. کپڑوں کے لیے الماری کھولی.. تو چونک گیا.. ڈائری کدھر گئی.. مڑ کر دیکھا سوہن کے تکیے کے نیچے سے نظر آئی..
بیڈ کے پاس آیا.. ڈائری کھولی.. مسکراہٹ گہری ہوئی.. اوو تو یہ بات ہے… سکیچ دیکھا. جس پر مارکر سے اس نے تل بنا دیا تھا اور ہیر کہ آگے سوہن یشب آفندی لکھ کر نام مکمل کر دیا تھا..
اس نے گہری سی سانس لے کر سکون اپنے اندر اتارا.. اور آج وہ اس نام کی طرح خود بھی مکمل ہو گئے تھے.
❤️💖💝💕💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
رات وہ آفس سے گھر آیا تو وہ صوفے پر بیٹھی تلاوت کر رہی تھی… وہ وہیں اس کے پاس صوفے پر بیٹھا ٹیک لگائے آنکھیں موند گیا..
کچھ دیر بعد اپنے اوپر ٹھنڈی سی ہوا محسوس ہوئی تو آنکھیں کھولیں.. وہ اس پر دم کر رہی تھی..
وہ مسکرایا…
آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں…
کیا بنا ہے؟
بریانی، مٹر قیمہ اور میں نے پاستا بنایا ہے.. آپ کے لئیے.
وہ شرارت بھرے لہجے میں بولا.. پر مجھے تو رات والی ڈش کھانی ہے…
سوہن کے طوطے آڑے.. چہرہ لال ٹماٹر ہو گیا.. جلدی سے اٹھی دروازے کی طرف بھاگتی نروٹھے پن سے بولی.
قسم سے بہت خراب ہیں آپ..
… ہاہاہا ہاہاہا یشب کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
ڈنر کے بعد وہ کمرے میں آئے….. یشب آ کر بیڈ پر براجمان ہو گیا…. سوہن خواہ مخواہ الماری میں منہ دئے کوئی نادیدہ چیز ڈھونڈنے لگی…
سوہن… یشب نے گھمبیر سی آواز میں پکارا…
جی…….
ادھر آؤ… میرے پاس.. یشب نے اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی. اس نے جھجھکتے ہوئے اپنا نازک ہاتھ یشب کے ہاتھ میں تھمایا.
یشب نے اسے اپنے قریب بٹھایا.. کیا ڈھونڈ رہی ہو..
کچھ نہیں……… سوہن نے انگلیاں چٹخائیں
یشب نے لائٹ آف کی اور سائیڈ لیمپ جلایا..
ادھر آؤ.. سو جاؤ….. یشب نے اسے قریب لٹا کر اپنے حصار میں لیا.
سوہن……. یشب نے بوجھل سی آواز میں پھر پکارا..
جج……جی…وہ بمشکل بول پائی
I Love you so much……….. میری زندگی
یشب نے بول کر انتظار کیا.. آخر اس کی سماعتوں کو وہ دلفریب آواز سنائی دی.
یش……… یشب…
جی جانِ یشب…
وہ…… میں….. I……..
ہممم بولو میری جان..
وہ……..مم….. . میں… بھی… یہ بول کر اس نے اپنا چہرہ مضبوطی سے اس کے سینے میں چھپا لیا..
وہ گہرا سا مسکرایا..
This is not fair….. Honey
جیسے میں نے بولا مجھے answer بھی ایسے ہی چاہیے.. میں بھی کیا… مجھے سمجھ نہیں آئی.. اس نے معصومیت سے کہتے اس کا چہرہ اپنے سامنے کرنے کی کوشش کی..
لیکن سوہن ٹس سے مس نہ ہوئی.
یشب کو ہنسی آئی… وہ ہلکے سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا.. تھوڑی دیر بعد ہی سوہن کی بھاری ہوتی سانسوں کی آواز آئی تو وہ بھی. سکون سے آنکھیں موندے سو گیا
💝❤️💖💕💟💝❤️💖💕💟💟💟💟💟
چار دن بعد گرینی لوگ بھی آ گئے… گرینی ، دعا اور شزا تو سوہن کے الوہی اور نکھرتے روپ کو دیکھ کر کھو گئے.. یشب اور سوہن کے چہرے پر الگ ہی سکون… اور خوشی تھی…
گرینی نے سکھ کا سانس لیا..یعنی دونوں نے اپنے رشتے کی خوشگوار شروعات کر لی تھی…
💝❤️💖💕💟💟💟💟💟💟💟💟
سوہن آج کامران ہاؤس آئی ہوئی تھی…
تین ماہ ہو گئے تھے. شادی کو…. یہ تین ماہ یشب اور سوہن نے ایک دوسرے کی سنگت اور قربت میں کیسے گزارے پتہ ہی نا چلا…
وہ آفس میں بیٹھا…. کسی ضروری فائل پر کام کر رہا تھا.. آج اسے زیان کے کہنے پر فائزہ بیگم کے پاس چھوڑ کر آیا تھا… واپسی پر لینے جانا تھا..
وہ اپنے کام میں مصروف سا تھا.. جب فون رنگ ہوا… نمبر دیکھا تو ماتھے پر بل پڑ گئے.
ایک تو ان کو چین نہیں… وہ بڑبڑایا.. فون یس کر کے کان کو لگایا..تو دا جی کی سرسراتی آواز کانوں سے ٹکرائی.
کیوں… بیٹا جی.. بڑی ہواؤں میں اڑ رہے ہو… تم کیا سمجھتے ہو ہم انجان ہیں… سب خبر ہے ہمیں.. اس بغاوت اور گستاخی کا کیا مطلب سمجھوں میں؟
دا جی آپ کیا بول رہے ہیں مجھے بلکل سمجھ نہیں آ رہی.. یشب نے جان بوجھ کر جان چھڑانے کو کہا….
اچھا میں سمجھاتا ہوں… دا جی نے دانت پیس کے کہا.. تمھاری جرات کیسے ہوئی… خاندان سے باہر شادی کرنے کی……
جیسے آپ کے بیٹے کو ہوئی تھی…وہ نڈر سا بولا
میرے بیٹے کی پہلی خاندانی بیوی نہیں تھی… یشب شاہ.. میں عفان کو کیا جواب دوں..
آفندیز رکھ لیتے ہیں جی بہلانے کا سامان.. تم اس معاملے میں بھی خود پسند ہو. بازار سے خریدنے کے بجائے خاندان کی پاک صاف لڑکی لے آئے… پر اسے اپنے گلے کا ڈھول مت بناؤ.. میں آ رہا ہوں شہر اس سے پہلے پہلے اس چھوکری سے جان چھڑا لینا ورنہ اچھا نہیں ہوگا…
یشب کا دل کیا ان کے اتنے گھٹیا الفاظ پر کچھ کر گزرے… پر ضبط سے بولا
تو پھر آپ بھی سنیں داجی… وہ میری بیوی ہے.. میری زندگی میری محبت.. آپ کو یہ تو پتہ چلا کہ میں نے شادی کی ہے.. میرے پاگل پن کا نہیں پتہ چلا آپ کو.. میں مر جاؤں گا پر اسے خود سے الگ نہیں ہونے دوں گا..
تو پھر دیکھتے جاؤ یشب شاہ.. اب بھی وہ اپنی ماں کی طرف ہے ناں……. اسے کیسے تمھاری زندگی سے نکال کر پھینکتا ہوں..
یشب نے موبائل سامنے دیوار میں دے مارا……..
💝❤️💖💕💟💟💟💟💟💟💟💟💟
سوہن فائزہ بیگم کی گود میں منہ دیئے لیٹی تھی……رات کے آٹھ بج چکے تھے…. سوہن کی طبیعت بہت عجیب ہو رہی تھی…
جب مخصوص کلون کی خوشبو آس پاس مہکی…
اسلام و علیکم.. یشب کی بھاری آواز سنائی دی
وعلیکم السلام… بیٹا بہت جلد نہیں آ گئے… فائزہ نے چھیڑا وہ ہلکا سا مسکرایا…
آج اس کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی… سوہن نے نوٹ کیا…
بس آنٹی… کام ختم ہوا تو آفس سے جلد اٹھ آیا….
چلو ٹھیک ہے یہ تو تیار ہے… کب سے تمھاری راہ دیکھ رہی ہے..سوہن نے فائزہ بیگم کی طرح خفت سے دیکھا تو وہ ہنس دیں…
ان کے گلے مل کر سوہن یشب کے ہمراہی میں باہر آئی… گاڑی کی طرف آئی ہی تھی کے نگاہوں کے سامنے دنیا گھوم گئی… وہ لڑکھڑا کر گر پڑتی کے یشب نے بوکھلا کر اسے سنبھالا
سوہن…… کیا ہوا.. طبیعت ٹھیک ہے نا تمھاری
جی ٹھیک ہوں میں… وہ نقاہت آمیز لہجے میں بولی… بس تھکاوٹ سی ہے گھر جا کر آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی… سوہن نے اسے تسلی دی..
یشب نے اسے کمر سے تھام کر گاڑی میں بٹھایا… اور خود فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا..
آپ کچھ پریشان نظر آ رہے ہیں… سوہن نے کہا.
نہیں… ہنی بلکل بھی نہیں…
گھر پہنچے تو گرینی، شزا، اور دعا ڈنر پر ان کا ویٹ کر رہیں تھیں… گرینڈ پا بھی آ گئے…
سب ڈنر کر رہے تھے….. سوہن بے زار سی منہ بنائے بیٹھی. تھی.. یشب نے ٹوکا..
سوہن…. پہلے تھکاوٹ ہو رہی ہے… اب کھانا بھی سہی سے نہیں کھا رہی…سہی طرح کھانا کھاؤ.. یشب نے اس کی پلیٹ میں اور چاول ڈالے جن سے وہ پہلے ہی ہاکی کھیل رہی تھی..
یقین کریں میرا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا کھانے کو.. وہ روہانسی سی ہوئی. …… یشب کھانا کھا چکا تو اس نے گریند پا کو اشارہ کیا..
ہنی مجھے گریند پا سے بزنس کے سلسلے میں ضروری بات کرنی ہے.. یہ finish کر کے اٹھنا ہے تم نے یہاں سے.. یشب نے سنجیدگی سے کہا اور گرینڈ پا کے ساتھ سٹڈی میں چلا گیا..
سوہن نے برا سا منہ بنایا… پھر کچھ سوچ کر فریزر کی طرف گئی… جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں اچار کا جار تھا اور آنکھوں میں ایک چمک سی.. پھر اس نے دال چاول کافی سارے اچار کے ساتھ چٹخارے لے کر کھائے.. گرینی نے معنی خیز نگاہوں سے دعا کی طرف دیکھا.
کچھ دن سے وہ سوہن کی گری گری طبیعت اور چڑچڑا پن سا نوٹ کر رہی تھیں… پر خونی حویلی کی داستان کی وجہ سے بے یقینی سی بے یقینی تھی…
دعا بھی سوہن کو دیکھ رہی تھی.. جو اب اچار میں سے صرف کیری کی پھانک مزے سے کھا رہی تھی..
وہ بھی حیرت سے گنگ سی تھی.. اور حقیقت بھی یہی تھی کہ بھلا خونی حویلی کے کالے سائے اس معصوم تک کیسے پہنچ سکتے تھے.. وہ تو فرشتوں جیسی پاک اور معصوم تھی.
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو کنفیوز سی ہو گئی…
وہ گرینی پتہ نہیں کیوں مجھے اچار بہت اچھا لگ رہا ہے… اس نے معصومیت سے کہا
گرینی ہنسی.. کوئی بات نہیں بیٹا… اور اٹھ کر اس کا ماتھا چوما.
جاؤ بیٹا اپنے کمرے میں آرام کرو.. طبیعت ٹھیک نہیں تمھاری..
جی.. وہ کہہ کر کمرے میں آ گئی.. کافی دیر انتظار کرنے کے بعد یشب لال انگارہ آنکھیں لئے کمرے میں داخل ہوا..
وہ پریشان سی قریب آئی
کیا بات ہے… خیریت ہے… آپ کو کیا ہوا…وہ گھبرایی سی قریب آئی.. یشب نے تڑپ کر اس کو خود میں بھینچا.. گرفت بہت سخت تھی..
سوہن کو تکلیف ہوئی…
یش……. یشب…. مجھے درد ہو رہا ہے….. سوہن نے گھٹی سی آواز میں کہا.. یشب نے اچانک اسے چھوڑا… اور دانتوں تلے لب کچل کر واش روم چلا گیا…
سوہن بہت الجھ گئی… صبح سے وہ اسے ڈسٹرب سا لگ رہا تھا….
وہ کافی دیر بعد باہر آیا… شاید خود کو ریلیکس کرنے کے لیے کافی دیر تک شاور کے نیچے رہا ہوگا…
ہنی… اب تک کیوں بیٹھی ہو … چلو لیٹو
سوہن نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھا… اپنا عادی بنا کر اب وہ اسے کہہ رہا تھا کہ اس کے بغیر سو جائے…اس کی شکایتی نظریں دیکھ کر
وہ قریب آیا… بیڈ پر لیٹ کر اسے حصار میں لیا…
سو جاؤ ہنی….. اس نے دھیمی سی سرگوشی کی..
آپ کو کیا…
ششششش. یشب نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی.. سو جاؤ
اور پھر وہ خاموشی سے سو گئی.. جبکہ یشب کی نیندیں داجی نے حرام کر رکھی تھی.. اب بھی رحیم ملک نے انھیں سمجھانے کی بہت کوشش کی.. پر ان کی وہی رٹ تھی. وہ کسی طور نہیں مان رہے تھے اور بار بار اسے سوہن کے حوالے سے دھمکیاں دے رہے تھے..
یشب نے نفرت سے دانت بھینچے.اور آخر سوہن کی قربت میں اس نے ہر ڈر کو سر سے جھٹکا اور سکون سے سو گیا….
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
اگلی صبح معمول کے مطابق وہ ناشتہ کر کے آفس چلا گیا.. دل بے حد پریشان تھا کسی انہونی کے ہونے کا ڈر بار بار ستا رہا تھا..
سوہن گرینی کے کمرے میں ان کی گود میں سر دئے لیٹی تھی.. یشب نے ناشتے میں زبردستی جو ایک دو بریڈ کے سلائس کھلائے تھے.. ان سے سخت قسم کا دل متلا رہا تھا..
آخر وہ ایک زبردست قسم کی ابکائی لے کر اٹھی… واش روم بھاگی.. دعا جو اسے ہی دیکھنے آ رہی تھی ایک دم گبھرائی..
کیا ہوا گرینی…..
سوہن کی طبیعت زیادہ بگڑ رہی ہے.. اسے چیک اپ کے لئے لے کر جانا پڑے گا.. یہ اب تک باہر کیوں نہیں آئی.. گرینی نے پریشانی سے کہا
دعا نے جا کر دیکھا تو اوسان خطا ہوئے..
گرینی… دیکھیں. سوہن بے ہوش ہو گئی ہے.. وہ دونوں اسے اٹھا کر بیڈ تک لائیں… گرینی نے اپنی فیملی ڈاکٹر کو فون کیا…
ان کی گبھرائی ہوئی سی آواز سے وہ پانچ منٹ میں ہی نور منزل چلی آئیں…
انھوں نے تفصیلی چیک اپ کیا.. اور گہرا سا مسکرا دیں..
مبارک ہو ثروت آنٹی.. آپ کے نواسے کی بیگم پریگننٹ ہیں…
گرینی اور دعا بے حد خوش ہوئیں.. خوشی سے ایک دوسرے کو گلے سے لگایا… سوہن جو کہ ہوش میں آ چکی تھی.. اب بھی نقاہت محسوس کر رہی تھی..
کمزور ہے بہت… بہت زیادہ خیال رکھنا ہوگا آپ کو اس چھوٹی سی گڑیا کا…ابھی وقتی طور پر میں میڈیسن دے رہی ہوں.. پھر ہوسپیٹل آ کر تفصیلی چیک اپ کروائیے گا..
بس اب آرام کرے یہ..
گرینی نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور انھیں رخصت کر کے سوہن کے سرہانے آ کر بیٹھ گئیں.. دعا بھی پر جوش سی وہیں بیٹھی تھی..
میگی جوس دے کر گئ تو دعا نے اسے تکیہ کے سہارے اٹھ کر بٹھایا…
چندا یہ جوس پیو اور سارا فنش کرو.. دعا نے اس کے لبوں کے ساتھ جوس لگایا جو اس نے بمشکل آدھا پی کر بے زاری سے منہ پیچھے کر لیا..
گرینی مجھے نہیں پینا.. وہ کڑوے کڑوے منہ بنا رہی تھی.. گرینی مجھے کیا ہوا ہے.. ڈاکٹر نے کیا کہا ہے.. وہ اپنی اس حالت سے جھنجھلائی ہوئی سی تھی..
گرینی نے اس کا منہ چوما ہے.. میری بچی میرا پگلا بیٹا پاپا بننے والا ہے…
سوہن کی دونوں آنکھیں تحیر سے کھلیں اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی..
ہیں… گرینی کب ہوا یہ… کیسے… انھوں نے مجھے تو نہیں بتایا..
دعا اور گرینی تو ہنس ہنس کر بے حال ہی ہو گئیں اس کی بونگیوں سے
گڑیا وہ تو تم اسے بتاؤ گی کہ تم مما بننے والی ہو… تو پھر ہی تو اسے پتا چلے گا کہ وہ پاپا بننے والا ہے….
اب سوہن کا تمام بات سمجھ کر چہرہ لال ٹماٹر ہوا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے معصومیت سے اپنا چہرہ چھپا گئی جیسے یشب شاہ دیکھ رہا ہو…
اس نے اپنا منہ گرینی کی گود میں چھپایا…. میں نہیں بتاؤں گی ان کو گرینی آپ بتا دینا پلیززز.. و روہانسی ہوئی
.. نہیں بابا.. میں تو نہیں جس نے یہ اتنی بڑی خوشی دینی ہے اسے وہی بتائے..
دعا آپ بتا دینا… پلیزز
کیوں بھئی… تم ہی بتانا… میں تو نہیں بتا رہی بلکل بھی.. دعا نے ہری جھنڈی دکھائی…
وہ جھلا کر کمبل میں منہ دئیے لیٹ گئی
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
رات کو جب ڈنر کرنے کے بعد وہ کمرے میں آئے تو وہ بے چینی سے بیڈ پر بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی..
یشب کسی گہری سوچ میں تھا.. اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے… داجی اسکے پاپا چچا ان کا خر دماغ بیٹا اور سارے بھائی ضد بازی میں آج ہی سب یہاں آئے ہوئے تھے اور فارم ہاؤس میں رکے تھے… صبح داجی نے اسے اور رحیم ملک کو فارم ہاؤس بلایا تھا اور دھمکی بھی دی تھی کہ اگر وہ نا آئے تو وہ خود نور منزل آ جائیں گے…
یہ بلکل ٹھیک نہیں ہو رہا تھا… یشب کی سوہن کے حوالے سے جان پر بنی ہوئی تھی.. وہ اپنوں کے لئے اپنوں سے ہی کیسے لڑ سکتا تھا.. بہت پریشان تھا
اور اس پریشانی میں اپنی جانم کی انگلیاں چٹخانا بھی اگنور کر چکا تھا جنہیں دیکھ کر ہمیشہ اسے پتہ چل جاتا تھا کہ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے.
وہ غائب دماغی سے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر بیڈ تک آیا..
بیڈ پر بیٹھا..
سوہن کھسک کر قریب ہوئی…
یش…… یشب……وہ جھجھکی..
ہوں……..
مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے….
کہو میری جان……
یشب….. وہ… آپ….. میں ….وہ بری طرح دوپٹہ سے کھیلتی کنفیوز ہو رہی تھی.
یشب کا فون رنگ ہوا… وہ فون کی طرف متوجہ ہوا.. رگیں تن گئیں آنکھیں لال سرخ ہو گئیں..
سوہن…… میری جان…. تم سو جاؤ مجھے گرینڈ پا سے ضروری بات کرنی ہے… یشب نے اس کے ماتھے پر نرمی سے بوسہ لیا
مگر مجھے…….
سوہن……. سو جاؤ
لیکن……..
شششش.. بس لیٹ جاؤ اور آرام کرو…اس نے اسے لٹا کر اوپر کمفرٹر دیا
یشب ایک جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکلتا چا گیا…
سوہن اٹھی… اور رو دی…. کچھ یوں بھی طبیعت بوجھل تھی.. کچھ یشب کا رویہ سمجھ سے بالاتر تھا..
یہ مجھے اگنور کیوں کر رہے ہیں.. مجھ سے ناراض تو نہیں… اسے نئی فکریں لاحق ہوئیں.. آخر رو رو کر نیند کی وادی مہربان ہو ہی گئی…
یشب کمرے میں آیا تو بیڈ پر لیٹا… سوہن کو دیکھا تو چونک گیا.. مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان اب بھی چہرے پر موجود تھے.. اس نے لب بھینچے.. سوہن کے قریب آیا اسے بے حد احتیاط سے اپنے بازوؤں کے حصار میں لیا. اور سینے میں بھینچ لیا..
میری جان تمھارے لیے.. تمھاری جان کی حفاظت کے لیے ہی یہ دیوانہ بن آب مچھلی کی طرح تڑپتا پھر رہا ہے.. یشب کی آنکھ سے ایک باغی سا آنسو نکلا اور سوہن کے بالوں میں جزب ہو گیا…..
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
صبح یشب آفس نہیں گیا… رحیم بھی پریشان سے تھے… گرینی نے کمرے میں جا کر ان کی پریشانی کا سبب پوچھا تو انھوں نے سب بتا دیا….
گرینی بھی بے حد پریشان ہوئیں..
شبیر شاہ آفندی کا دماغ خراب ہو گیا ہے… پورے خاندان کے دماغ میں گند بھرا ہے جو اتنی معصوم سی بچی کو عیاشی کا سامان اور اس طرح کے گندے لفظوں سے نواز رہے ہیں.. یہ جانے بغیر کہ اس کی کوکھ میں انھی کا ہی وارث پل رہا ہے..
کیا….. رحیم نے حیرت اور سر خوشی میں کہا
ثروت ابھی جو آپ نے کہا…… کیا میں نے سہی سنا
جی ہاں….. رحیم ہمارا یشب پاپا بننے والا ہے…
اوہ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے.. شبیر شاہ آفندی کو پتا چلا تو وہ خوشی سے جانے کیا کر بیٹھے.. رحیم بے حد خوش ہوئے…یشب کو پتا ہے..
نہیں میرا خیال وہ پگلی اسے بتا ہی نہیں پائی..
اتنے میں یشب ہلکی سی ناک کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا… چہرہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا
چلیں گرینڈ پا… ثروت کچھ بولنے لگی تو انھوں نے اشارے سے خاموش کرا دیا…
کہ سب ٹھیک ہونے کہ بعد اسے یہ خوشخبری سنائی جائے.
ثروت خاموش ہو گئی.. وہ دونوں فارم ہاؤس کے لئے نکلے.
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
