No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 10
وہ کمرے میں آئی… بیڈ پر اوندھے منہ گری اور بے آواز آنسو بہانے لگی..آف وائٹ بیڈ شیٹ پر سرخ لباس میں وہ گلاب کا پھول لگ رہی تھی
یشب اس کے پیچھے آیا… تو حلق کڑوا ہوا ماتھے کی تیوری پر بل نمودار ہوئے..، دروازہ لاک کر کے اس کے پاس آیا اور بازو سے کھینچ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا..
ہنی… اب تم اس شیرو کے لئے آنسو-بہا کر مجھے اس سے جیلس کر رہی ہو.. اگر وہ مل بھی گیا تو اب اسے ان تمھارے آنسوؤں کی سزا اپنی جان پر بھگتنی پڑے گی..
وہ سنجیدہ سا بولا تو سوہن اپنے آنسو بھول گئ اور حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اس کا پاگل پن ملاحظہ فرمانے لگی. جو ایک معصوم سے جانور سے جیلس ہونے کی بات کر رہا تھا..اب سوہن کو اس سے ڈر یا خوف بلکل نہیں لگتا تھا
کیا….. تم صرف میری ہو.. تمھارا وجود.. محبت سوچ حتی کہ آنسو بھی صرف میرے لیے ہونے چاہیں… گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کے بہت قریب چلا آیا.
پہلے تو چھوڑ دیتا.. اب ان آنسوؤں کا حساب مجھے چاہیے. اگر شیرو چاہیئے تو بیٹ پوری کرو..
Come on Sohan jaan……
اچھی پھنسی تھی. کپکپاتی بولی..یہ….یہ کسی اور سے کروائیں آپ..
What………… Stupid girl….. I am your husband… You will do this.
وہ ناراض سا بولا.. اوکے میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں.. یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں
وہ قریب ہوئی..مخصوص مردانہ کلون کی خوشبو سے گھبرائی.. کپکپاتے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے..
وہ جو اس کے وجود کی مہک سے ہی پاگل ہو گیا تھا مدہوش سا ہوتا بلکل بھی صبر نہ کر سکا اور اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا..
سوہن تڑپی.. اس کی قربت میں پتہ نہیں کیوں پر سوہن کی جان پر بن جاتی تھی.حالانکہ اس نے بہت نرمی سے تھاما تھا اسے….. پر شاید اس کے لمس میں شدت اور تڑپ ہی سوہن کے لئے اتنی تھی کہ وہ سہہ نہیں پاتی تھی.
ابھی تو وہ سہی طرح اسے محسوس ہی نہ کر پایا تھا کہ دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی.
ظالم……. وہ بڑبڑایا..
اب.. مم… میرا شیرو دیں مجھے… وہ بے چین سی بولی..
ابھی تو میری جان آرام کرے گی… پھر صبح کو پہلی فرصت میں شیرو تمھارے پاس ہو گا وہ کہتا کپڑے لے کر واش روم میں چلا گیا..
سوہن دل میں تلملائی… اب اس بات کا بدلہ کیسے لے…… اس نے کچھ سوچا اور لائٹ بند کرتی سائیڈ ٹیبل لیمپ جلاتی کمفرٹر لے کر سوتی بن گئ..
وہ واش روم سے فریش ہو کر باہر آیا.. بالوں میں برش کیا اور صوفے پہ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹ گیا.. تقریباً آدھے گھنٹے بعد سوہن نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا..وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا
اتنی دیر ہو گئ ہے اب تو یقیناً ٹیڈی بئیر سو گیا ہوگا.. وہ دل میں اپنے آپ سے کہتی دبے پاؤں اٹھی اور دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ
کوشش بھی مت کرنا جان……. نہیں تو میں بیڈ پر تمھیں اپنے حصار میں لے کر سوؤں گا.. پھر تو کہیں نہیں جا پاؤ گی ناں؟………..
سوہن ٹھٹھکی… تیزی سے بیڈ کی طرف بھاگی. فوراً لیٹ کر کمفرٹر میں منہ چھپا لیا..
جائینٹ…..وہ بڑبڑائی
یشب بند آنکھوں سے ہی دل سے مسکرایا…
💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟
صبح سوہن کی آنکھ دروازے کی ناک سے کھلی.. اتنے میں یشب نے اٹھ کر دروازہ کھولا…
سامنے گرینی تھی… یشب انھیں بیڈ تک لے کر آیا… انھوں نے آ کر سوہن کے ماتھے پر بوسہ دیا.. اور بیٹھ گئیں. . جب اچانک ان کی نظر صوفے پر گئی.. سوہن گڑبڑائی. اور پہلو بدلا..
خیریت گرینی.. اتنی صبح آپ آئے.. مجھے بلا لیا ہوتا.. یشب ان کے سامنے دو زانو بیٹھا.. اور ان کی گود میں بازو رکھے
خیریت ہے بیٹا.. لیکن تمھارے گرینڈ پا کی رات کافی طبیعت خراب لگ رہی تھی. میری تو سنیں گے نہیں تم ساتھ لے جانا اور چیک اپ کروا لینا ان کا. پریشان تھی تو رہا نا گیا اس لئے چلی آئی.. پر اب اپنی گڑیا کا چہرہ دیکھ کر بلکل ٹھیک ہو گئ ہوں.. وہ مہربان سی مسکرائی
یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ان کے نواسے کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے ان کی اتنی محبت سوہن کو شرمندہ کر گئ
آپ بے فکر ہو جائیں.. میں شام کی آپائنٹمنٹ لے لیتا ہوں.. خود لے کر جاؤں گا.. انھیں
یہ کہتا وہ ٹاول لئے ایکسرسائز روم میں چلا گیا… گرینی نے پھر صوفے کی طرف دیکھا… جہاں کمفرٹر پڑا تھا.. اس سے یونہی ہلکی پھلکی باتیں کیں..
جلدی سے نیچے آ جاؤ بیٹا… ناشتہ ریڈی ہے.. وہ اس کے گال پیار سے تھپتھپاتی باہر چلی گئیں.
وہ اٹھی.. الماری کھولی.. چاکلیٹ براؤن کلر کی فراک اور پاجامہ والا ڈریس نکالا اور واش روم میں آئی.. جہاں یشب کا آج کا ڈریس لٹکا ہوا تھا..
رات کا بدلہ یاد آیا… ڈارک بلو شرٹ تھی..
فریش ہو کر گیلے بالوں میں ٹاول رگڑتی جلدی سے باہر آئی. شرٹ اٹھا کر لائی اور بیڈ پہ پھیلائی.. گولڈن نیل پالش سے جلدی سے جن والا ایموجی بنا کر ابھی Yashab لکھ ہی رہی تھی کہ کان کے بلکل قریب آواز آئی.
تمھیں میں جن لگتا ہوں…….. وہ بوکھلا کر پیچھے مڑی اور لڑکھڑائی اس سے پہلے کے گرتی یشب اس کی کمر اپنے حصار میں لے چکا تھا..
کھینچ کر اسے سیدھا کیا تو وہ اس کے سینے سے آ لگی… سوہن کے ہوش اڑے…
ہنی….جان بوجھ کر پنگے لے رہی ہو.. کیا نہیں جانتی کے اگر میں بدلے لینے پر اتر آیا تو تمھاری یہ چھوٹی سی جان برداشت نہیں کر پائے گی.. وہ گھمبیر آواز میں معنی خیز سا بولا..کالی آنکھیں بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں
چھچ….. چھوڑیں مجھے…. پپ… پلیز.. وہ مچلی
نہیں پہلے ڈیسائیڈ کرو کے میں جائینٹ ہوں یا ٹیڈی بئیر…یشب نے اس کے گیلے بالوں کی مہک اپنے اندر اتاری
وہ بے حد شرارت سے بولا.. سوہن کی جان نکلی.. وہ ان خطابات کو بھی جان چکا تھا جن سے وہ اسے نواز چکی تھی.اففففف
گھبراہٹ کے مارے اس کی آنکھیں نم ہو چلی تھیں جن کو دیکھ کر یشب نے نرمی سے اسے چھوڑ دیا.. لیکن جانے پھر بھی نہیں دیا..
اس نے شرٹ اٹھائی..
واہ.. تمھیں پتہ ہے میں یہ دونوں شرٹس فریم کروانے والا ہوں.. تاکہ اپنے بچوں کو دیکھا سکوں کے ان کی مما ان کی ڈیڈ کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتی تھی..
وہ گھبرائی.. چہرہ کانوں تک لال سرخ ہو گیا
وہ ہلکے سے اسے دھکا دے کر دروازے کی طرف بھاگ گئی.. یشب کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
💖💕❤️💝💟💟💖💕❤️❤️💝💟💟
وہ کمرے میں بیٹھی بور ہو رہی تھی.. رحیم ملک اور یشب آفس چلے گئے تھے شزا یونی اور گرینی عبادت میں مصروف تھیں..
دعا بھی اپنے کمرے میں تھی..
اس نے سائیڈ ٹیبل سے یشب کی فوٹو فریم اٹھائی.. بلیک تھری پیس سوٹ میں ہلکی دھاڑی اور تنی مونچھوں کے نیچے دلفریب سی مسکان کے ساتھ وہ بے حد ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہا تھا..
جائینٹ… وہ خود ہی اس خطاب پر ہنس دی… اور چونکی بے تحاشا حیران ہوئی.. کیا وہ اسے مس کر رہی تھی.. نہیں………
وہ جلدی سے فریم رکھ کر گھبرا کر الماری میں جان بوجھ کر یوں گھس گئی جیسے فریم میں وہ اس کی سوچ پڑھ رہا ہو.جیسے ہمیشہ کچھ کرنے اور سوچنے سے پہلے وہ اس کی ہر بات جان لیتا تھا.
. یونہی بے وجہ چیزیں ادھر ادھر پلٹنے لگی.. تو یشب کے کپڑوں کے نیچے ایک سرخ رنگ مخملی سی ڈائری نظر آئی..
تجسس اور بوریت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈائری اٹھائی اور بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی..
ڈائری کھولی…. ہر پیج پر ڈیٹ کے ساتھ الگ الگ اور بہت عجیب و غریب سے مناظر تحریر تھے.. جیسے کہ ایک پیج پر لکھا تھا..
آج ہم دونوں ایک گھر میں فرش پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے.. اس نے نیچے دیکھا تو ڈر کر میرے قریب آئی.. کیونکہ ہمارے قدموں میں ستاروں بھرا آسمان نظر آ رہا تھا.. وہ گر نہ جائے اس لئے میرے بہت قریب ہو گئی.
مخصوص گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو وہ ہڑبڑائی.. فورا اٹھ کر ڈائری وہیں رکھی.. اور گرینی کے کمرے میں بھاگ گئی.
آج وہ بے چین سا ہوا دو بجے ہی گھر واپس آ گیا تھا..
سب نے لنچ کیا…
گرینی پلیز میری کافی کمرے میں بجھوا دیں.. آپائنمنٹ تو رات کی ہے گرینڈ پا کی… میں تھوڑا آرام کروں گا.. یہ کہہ کر وہ سوہن کو آنکھوں میں فوکس کرتے کمرے میں چلا گیا..
وہ وہیں بیٹھی رہی رات کے لئیے اس نے کچھ پلان کیا ہوا تھا. وہ دل میں مسکرائی ابھی کیوں نہیں.. پھر اس کے سونے کا انتظار کرنے لگی..
💟💝❤️💕💖💟💟💟💟💟💟💟💟💟
وہ بیڈ پہ اوندھے منہ سو رہا تھا…. سوہن دبے قدموں کمرے میں آئی… اس کے قریب آ کر دیکھا.. ایک بازو کہنی پہ سے بیڈ سے نیچے لٹکائے ایک بازو گال کے نیچے رکھا ہوا تھا…. سوتے ہوئے اس کے چہرے پہ بے حد آرٹیفشل بھالوؤں جیسی معصومیت اور کیوٹنس تھی..وہ بے اختیار بڑبڑائی
ٹیڈی بئیر…….
کارپٹ پر دو زانو بیٹھی اور پھر آہستہ سے ویکس سٹریپ ریپر سے رب کی اور اس کے بازو پر چپکا دی..
دوسرا بازو… وہ سوچنے لگی وہ تو چہرے کے نیچے تھے.. اس ہاتھ کو ہلانے کا مطلب تھا سوئے شیر کو جگانا.. اس نے دوسری سٹریپ بیڈ کے نیچے اچھال دی اٹھ کر کھڑی ہوئی..
یشب جو اس کے وجود کی مہک سے اٹھ گیا تھا.. اچانک بولا.
دوسرے بازو پر بھی لگاؤ…
وہ اچھلی اور سیکنڈوں میں بھاگ جاتی اس سے پہلے وہ سیدھا ہو کر ایک جھٹکے سے اس کا نرم و نازک اور گداز وجود اپنے چوڑے سینے پر گرا چکا تھا..دونوں ہاتھوں اس کی کمر کے گرد حمائل کیے
وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بوکھلائی..
دوسرے بازو پر بھی لگاؤ
ی.. یہ…. میں نے تو نہیں کیا… سوہن کا اس کے سینے پر گرے اوسان خطا ہوئے. اس نے معصوم بننے کی کوشش کی.
اچھا یہ اگر تم نے نہیں کیا.. تو آج رات تمھیں یہیں.. ایسے ہی سونا پڑے گا..
نہیں.. نہیں.. یہ میں نے ہی کیا ہے… وہ مچلی.. اس سے کنفیس کروا کر گہری مسکراہٹ لبوں پر آئی
ہنی……. یہ جانے بغیر کہ بدلے میں اس کی کیا سزا ملے گی.تم نے پھر پنگا لیا…. اب میں اپنا بدلہ لوں گا اور تمھارے تل پر کس کروں گا..
چھوڑیں مجھے… ورنہ اچھا نہیں ہوگا.. وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی..گھنے بھورے بال یشب کے بائیں کندھے پر آبشار کی طرح گرے ہوئے تھے
اگر نہ چھوڑا تو…
تو………. تو میں دانتوں سے کاٹ لوں گی..اور سزا دوں گی
نہیں چھوڑوں گا… Ok now do it
اور پھر اس نے واقعی جھک کر اس کی گردن کے پاس کندھے پر اپنا پورا زور لگا کر کاٹا…
یشب نے آنکھیں بند کیں… اسے درد کب محسوس ہو رہا تھا… اسے تو وہ گلابوں جیسی نرمیاں لئے ہوئے مہکتے دہکتے لب اپنی گردن پر محسوس ہو رہے تھے.
جنگلی بلی…..وہ بڑبڑایا
کوئی اثر نہ دیکھ کر وہ جھنجھلائی سی پیچھے ہٹی..
میری جان.. تمھیں لگتا ہے کہ یہ میرے لیے سزا تھی… اس نے ایک ہاتھ اس کی گردن کے گرد لپیٹا.بلکہ اب تمھاری سزا ڈبل……………. . لہجے کی گمبھیرتا اور آنکھوں کی چمک سے
اب واقعی سوہن کی چھوٹی سی جان پر بنی..
اس سے پہلے کہ وہ قریب ہو کر اس کے تل پر اپنے لب رکھتا.
سوہن کو کچھ اور تو نہ سوجھا اپنے ہاتھ اس کے بازو پر رکھے اور سٹریپ کھینچ دی.
وہ درد سے بلبلایا.. گرفت ڈھیلی ہوئی.. وہ انتہائی تیزی سے اٹھی.. اور کھلکھلاتی باہر بھاگ گئی.
وہ اٹھ کر بیٹھا…
Ooooooo honey its hurting..
چھوڑوں گا تو میں بھی نہیں.. وہ اٹھ کا باہر آیا..
وہ جو سیڑھیوں پر کھڑی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی کہ وہ اس کے پیچھے نہیں آ رہا.. اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر پھر سے بھاگی.. اور سامنے آتی دعا سے ٹکرا گئی..اور فوراً اس کے پیچھے چھپی..
..
زہرہ بھابھی..بچائیں مجھے… یشب کی بازو پر نشان اس کا سرخ چہرہ اور سوہن کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر دعا کو بے تحاشا ہنسی آئی… وہ ویکس سٹریپ اسی سے تو لے کر گئ تھی.. اس نے دانت تلے لب دبا کر ہنسی روکی.
یشب کیوں تنگ کر رہے ہو اس معصوم سی گڑیا کو…
وااااہ….. دیکھو تو زرا معصومہ کو یہ دیکھو میرے بازو کا کیا حشر کیا…دعا پیچھے ہٹو میں چھوڑوں گا نہیں.. وہ بڑی چالاکی سے دعا کے پیچھے سے نیچے لاؤنج میں گرینی کے پاس بھاگ گئی..یشب تلملاتا پھر روم میں چلا گیا
دعا کا قہقہہ بے ساختہ تھا..
💝❤️💕💖💟💟💟💟💟💖💕❤️💝💝💟
رات گرینڈ پا کا چیک اپ اور ضروری ٹیسٹ وغیرہ کرواتے کافی لیٹ ہو گئے..
رات گیارہ بجے وہ گھر آئے.. وہ گرینڈ پا کے ہمراہ جب ان کے کمرے میں آیا… تو گرینی صوفے پر بیٹھی یٰسین سورت کی تلاوت کر رہی تھیں جب کے بیڈ پر سوہن کندھوں تک کمفرٹر لئے گہری نیند سو رہی تھی.
یشب دل میں سخت جھلایا… اففف یہ لڑکی.. جان لے گی میری کسی دن میری..
گرینی نے تلاوت مکمل کر کے قرآن پاک الماری میں رکھا..
اور رحیم ملک کے پاس آ بیٹھی.. تو کیا کہا ڈاکٹر نے کیا رپورٹس آئیں..
رحیم ملک انھیں رپورٹس کے بارے میں بتاتے رہے..یشب وہیں کھڑا ہاتھ پیچھے باندھے پاؤن ہلاتا رہا. دونوں نواسے کی چڑھی ہوئی تیوریاں ملاحظہ کرتے رہے.
رحیم آرام کرنے کا کہہ کر دوسرے روم میں چلے گئے..وہ بے چینی سے پہلو بدلتا رہا..
کیا بات ہے بچہ….. جاؤ آرام کرو.. رات بہت ہو گئ ہے.. تھک گئے ہو گے.. اب وہ انھیں کیا بتاتا کہ اس کا چین، آرام، سکون تو ادھر اس کمرے میں تھا وہ اپنے کمرے میں کیسے سو جاتا…
وہ جھٹکے سے اٹھا.. اور اپنے روم میں چلا آیا…
کمرے میں کہیں سکون نہ آیا.. اسے رہ رہ کر سوہن پر طیش آ رہا تھا وہ کیوں ہر بار اس کا ضبط آزماتی تھی.. کیوں نہیں سمجھ رہی تھی اسے یا سمجھ کر انجان بن رہی تھی. آج تو اپنا آپ بیڈ پہ بھی اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کہ انگاروں اور کانٹوں پہ گھسیٹ لیا گیا ہو.. سرخ انگارہ آنکھیں لیے اٹھ بیٹھا.. آدھی رات گزر چکی مگر نیند نے نہیں آنا تھا نہ آئی.. کنپٹیاں سہلاتا کمرے میں بے چینی سے ادھر ادھر چکر لگاتا رہا.. جب دل کی بھڑکتی آگ برداشت سے باہر ہوئی تو کمرے سے باہر نکلا .. رخ سیدھا گرینی کے کمرے کی طرف تھا.. ہلکے سے ناب گھما کر اندر آیا.. صد شکر کے گرینی اس سے تھوڑے فاصلے پر اور دوسری جانب رخ کیے لیٹیں تھیں..گرینی جو کہ اس کی آہٹ سے اٹھ گئیں تھیں.. مسکراہٹ دباتی سوتی بنی رہیں
اس نے سوہن کو بازوؤں میں بھرا… اٹھا کر اپنے کمرے میں لایا.. دروازہ لاک کیا..
وہ جو آج جلدی سو گئی تھی نیند پوری ہونے پر ہلکا سا کسمسائی اس کی آنکھ کھلی تو خود کو اس کے بازوؤں میں پا کر اور اس کی لال انگارہ آنکھیں دیکھ کر جان لبوں پر آئی
💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
