No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
خوابِ عشقم
واحبہ فاطمہ
Episode 12
وہ کمرے میں آیا تو کمرہ خالی تھا… اس نے گہری سانس بھری….. پھر گرینی، شزا اور دعا کے کمرے میں دیکھا وہ دشمنِ جاں وہاں بھی نہیں تھا.. پھر لان اور لاؤنج کچن ہر جگہ دیکھا..
اب اس کے ہوش اڑے……. کمرے میں آیا.. دوبارہ چاروں اور دیکھا.. صوفے پہ ایک چٹ نظر آئی..
جلدی سے آگے بڑھا… چٹ کھولی.
Catch me…………. if you can
واضح چیلنج تھا… وہ مسکرایا… ہہمم.. پھر پنگا…
سوہن جو بالکونی میں چھپ کر اس کی ساری کاروائی اور اس کا ڈھونڈنا تڑپنا دیکھ رہی تھی.. ناصرف دیکھ رہی تھی بلکہ انجوائے بھی کر رہی تھی..
آج زاویہ نظر مکمل بدلہ ہوا تھا..وہ اسے چھپ چھپ کر دیکھ رہی تھی.. براؤن تھری پیس سوٹ میں وہ بے حد ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہا تھا سوہن کے لبوں پر خواہ مخواہ ہی مسکان آئی جا رہی تھی..
اس کی معنی خیز مسکراہٹ دیکھ کہ وہ سٹپٹائی
ہنی…… بری بات….. جب تمھیں پتہ کہ میں تمھاری خوشبو اور آہٹ سے تمھاری موجودگی پہچان لیتا ہوں.تو یہ چھپنا فضول ہے . اب شرافت سے اندر آ جاؤ..
سوہن کی دل کی دھڑکن تیز تر ہوئی.. اپنے دل کی حالت بدلی ہوئی تھی.. سب سے زیادہ مشکل تو آج اس کے سامنے جانا لگ رہا تھا… پھر بھی وہ ہچکچاتی اندر آئی..
اب تم طے کرو اس کی سزا…. یشب کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے وہ مبہوت سا اس دیکھے گیا..
اورنج فراک چوڑی دار پاجامہ.. دوپٹہ کندھوں پر گرائے ہلکا سا اورنج گلوز شربتی لبوں پر لگائے وہ اس کے دل پر قیامت ڈھانے کو تیار تھی.
وہ اس کی نظروں کی تاب نہیں لا پا رہی تھی اسی لئے اس کا دھیان بھٹکانے کو تڑخ کر بولی
آپ تو ہیں ہی چیٹر… میرا دوپٹہ دیکھ لیا ہو گا…
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب گیا.. ابھی تو میں نے چیٹنگ کی ہی نہیں سوہن جان… لیکن تم مجھے مجبور کر رہی ہو یہ چیٹنگ کرنے پر.. وہ گھمبیر سی آواز میں بولا..
سوہن کی روخ فنا ہوئی اس سے پہلے کہ وہ اور قریب آتا سوہن کمرے سے سر پٹ بھاگی.. یشب کو بے تحاشا ہنسی آئی..دیدارِ یار ہو گیا تھا اب وہ سکون سے کپڑے لے کر فریش ہونے چلا گیا…
💖💕❤️💝💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
رات ڈنر کے بعد گرینی نے سوہن کو اپنے کمرے میں بلایا… وہ اندر آئی تو وہ تلاوت کر رہی تھیں…. اشارے سے اسے بیٹھنے کا بولا….وہ بیٹھ گئی
تلاوت مکمل کر کے انھوں نے اسے اپنے پاس بلایا.. وہ صوفے پر ان کے قریب بیٹھی…. انھوں نے اس کے چہرے پر پھونک مار کر دم کیا..
اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور ماتھے پر بوسہ دیا…
نظر نہ لگے میرے بچوں کو…….
گرینی آپ نے کچھ کہنا ہے.. کوئی پریشانی کی بات تو نہیں… وہ فکر مندی سے بولی.
ارے نہیں میری جان.. بس مجھے تو اپنی بیٹی سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں..
جی گرینی کہیے..
بیٹا سچ بتانا… تم یشب کے ساتھ خوش ہو.کیا اس رشتے کو دل سے قبول کر لیا ہے تم نے .. سوہن نے پہلو بدلا
دیکھو بیٹا…….. جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں… پاگل ہے میرا بیٹا.. تم سے بہت محبت کرتا ہے.. مانتی ہوں اس نے بہت غلطیاں بھی کی ہوں گی پر اس کا ارادہ کبھی غلط نہیں تھا.. وہ تو بس تم کو اپنانا چاہتا تھا..
گرینی کے لہجے میں دنیا جہان کی مٹھاس تھی. وہ پھر گویا ہوئیں..
وہ شوہر ہے تمھارا… مجازی خدا… اللہ تعالیٰ اپنی اس بندی سے سخت ناراض ہوتے ہیں جو شوہر کا خیال نہ رکھے اس کی خوشیوں کا خیال نہ رکھے.. سوہن نے شرمندہ سی ہو کر نظریں جھکائیں…
میری بیٹی تو بہت سمجھ دار ہے… ہے ناں
سوہن نے اثبات میں سر ہلایا..
تمھیں اب اپنے ساتھ ساتھ یشب کا بھی خیال رکھنا ہے.. اس رشتے کو سمجھو… یشب کو اور اس کی محبت کو سمجھو میری بچی….اس کے آرام کا خوشیوں کا اور ضرورتوں کا خیال اب تمھیں رکھنا ہے.. تب ہی اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوں گے… رکھو گی ناں
سوہن نے فوراً اثبات میں سر ہلایا…
ملتان میں میری بہن کی پوتی کی شادی ہے….. کل میں، تمھارے گرینڈ پا، شزا اور دعا جا رہے ہیں.تین چار دنوں کے کے لئے .تمھیں اس لیے نہیں لے کر جا رہے کہ تم اور یشب ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارو ایک دوسرے کو سمجھ سکو…ٹھیک ہے ناں… گرینی نے اس کی رائے لی.. اس نے پھر نظر جھکا کر اثبات میں سر ہلایا..
انھوں نے اسے سینے میں بھینچا.. مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سمجھدار ہے… اب جاؤ آرام کرو…
جی…. گرینی… گڈ نائٹ..
وہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف آئی..
اللہ کرے.. جائنٹ سو گیا ہو….. وہ با آواز بلند بڑبڑاتی کمرے میں داخل ہوئی..
کہ اچانک یشب نے اس کی کلائی تھام کر اپنی طرف کھینچا
آج تو یہ جائنٹ اپنی فیری کے ساتھ سوئے گا..
سوہن بوکھلائی.. وہ میں……. میں آپ کو تو نہیں کہہ رہی تھی میں تو شیرو کو کہہ رہی تھی… سوہن نے بالکونی کی طرف دیکھا..
اگلے دن ہی یشب… شیرو کو وعدہ کے مطابق لے آیا تھا… اب اس نے احتیاط کے طور پر اسے بالکونی میں رکھا ہوا تھا
اچھااااا… میں نے سمجھا مجھے بولا… پر یاد آیا میں تو ٹیڈی بیئر ہوں.. وہ معنی خیز سا مسکراتا اس کا دلکش سراپا دل میں اتار رہا تھا..
دلکش اور زیان سے ہوئی تمھاری بات..
جی روز ہی ہوتی ہے تقریباً..
سوہن نے مختصر جواب دیا
پلیز…. .بازو … چھوڑیں مجھے نیند آ رہی ہے… اس کی نظروں کی تپش سے گبھرا کر وہ بولی..
یشب نے نرمی سے اس کی کلائی چھوڑ دی….
فیری نہیں چڑیل ہو… یشب نے چھیڑا
سوہن کی صدمے سے آنکھیں پھٹیں…
واٹ….. میں چڑیل نظر آتی ہوں آپ کو..
.تو اور کیا… میرے دل کا سارا خون پی گئی ہو
میں گرینی کو بتاؤں گی آپ نے مجھے چڑیل کہا…
بتانا تو سہی… میں سزا دوں گا.
میں آپ سے نہیں ڈرتی.. وہ اطمینان سے بولی.
اچھاااا… وہ قریب آیا… سوہن بوکھلا کر ڈریسنگ روم میں بھاگ گئی.. وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا
💖💕❤️💝💟💟💖💕❤️💝💟💟💟💟💟
اگلا دن کافی ہنگامہ خیز تھا…. گرینی لوگوں کے نکلتے نکلتے دس بج گئے تھے… یشب آفس چلا گیا تھا..
وہ سب چلے گئے تو وہ بے حد بور ہوئی…. کمرے میں آکر ٹی وی دیکھا.. پر کب تک موبائل پر گیمز بھی کھیلیں… پھر بے زار ہو گئی.. آخر اٹھی اور الماری میں سے ڈائری نکالی..
اب پتہ نہیں کیوں..پر. یہ ڈائری پڑھنے کا شغل فرمانا اس کا فیورٹ ترین مشغلہ بن چکا تھا..
ڈائری پڑھتے پڑھتے پھر سو گئی…
دروازے پر ہلکی سی ناک سے اس کی آنکھ کھلی… شام کے چار بج رہے تھے.. وہ جلدی سے اٹھی..
اب کون ہے…. اگر یشب ہوتے توڈور ناک نہ کرتے.. وہ دل ہی دل میں بولتی دروازے تک آئی..
کون ہے؟
میم دروازہ کھولیں..
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے تیمور نظریں جھکائے ڈھیر سارے شاپنگ بیگز ہاتھوں میں لئے کھڑا تھا..
میم یہ سر نے بھیجا ہے سامان…. وہ سامنے سے ہٹی.. تیمور نے تھوڑا اندر آکر سامان رکھا.. اور فوراً نکلتا چلا گیا
اس نے الجھ کر اور تجسس سے بیگز دیکھے کہ فون کی میسج رنگ ہوئی.
اسے پتہ تھا کس کا میسج ہے… اس نے فوراً میسج کھول کر دیکھا..
Jaan_e_Yashab
aj jb me ghr aon. To mjhy in me sy kisi aik dress me nzr ana..
سوہن مسکرائی… شاپنگ بیگ کھول کر دیکھے تو مختلف کلر کی فراک تھیں…. بڑی بڑی پیروں تک جاتی… ایک بوکس میں مختلف ڈیزائن کی پائلیں….. بہت سارے باکس تھے جن میں کچھ نا کچھ تھا..
او تو یہ بات ہے…. اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی.. تو وہ پاگل دیوانہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں جینا چاہتا تھا..
ڈائری میں بارہا وہ اس طرح کے ڈریسز کا زکر پڑھ چکی تھی..
اس نے وائٹ کلر کی میکسی ٹائپ فراک کو چوز کیا… باقی کا سامان اپنی الماری میں رکھا..
بھوک لگی تھی لنچ بھی نہیں کیا.. کچن میں گئی.. کھانا گرم کیا اور کھایا..
پھر کمرے میں آئی.. فریش ہوئی.. وہ میکسی پہنی…بالوں کو یونہی کھلا چھوڑا.. ہلکی سی پنک گلوز لبوں پر لگائی.. ڈریس پہن تو لیا تھا پر عجیب بھی لگ رہا تھا اگلا اور پیچھے کا گلا کافی ڈیپ تھا..
کافی ٹائٹ بھی تھا.. جس سے اس کے جسم کی تمام رعنائیاں واضح ہو رہی تھیں..
وہ تو ابھی سے اس کی نظریں یاد کر کےسرخ ہوئی جا رہی تھی..اسی لئے دوپٹہ اپنے گرد اچھے سے لپیٹا..
انتظار… انتظار.. طویل ہی ہوتا جا رہا تھا.. وہ چھ بجے کی تیار تھی اور اب نو بج چکے تھے..بیڈ پر بیٹھی بچوں کی طرح پاؤں جھلا رہی تھی.
اب وہ بیزار سی ہونے لگی کہ تبھی مخصوص گاڑی کا ہارن سنائی دیا.. دھڑکنیں منتشر ہوئیں..
ایک ایک پل بھاری ہو گیا..
دروازہ کھلا… وہ اندر آیا.. پہلے تو اس پری پیکر کو دیکھ کر مبہوت سا ہوا.. پھر گہری مسکراہٹ سے آگے بڑھا..
وہ بھی تو آج بلیک پینٹ کے اوپر وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا..
مجھے جانے کیوں لگا کہ میری جان وائٹ پہنے گی.. See. میں نے بھی وائٹ پہنا ہے..
یشب نے اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے کی..
پلکوں کی جھالریں نیچے گرائے اس نے جھجھکتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا..
وہ اسے لئے باہر آیانیچے لاؤنج سے ہو کر وہ ڈرائینگ روم میں آئے…
سوہن کو حیرت ہوئی.. پورا کمرہ وائٹ اور ریڈ گلابوں اور بلونز سے سجایا گیا تھا.. ٹیبل پر ڈنر لگایا گیا تھا… اور ساتھ میں اس کا فیورت آلمنڈ کیک بھی رکھا ہوا تھا.
گلابوں اور دوسرے پھولوں کے ڈھیر سارے بوکے سجائے گئے تھے.. سوہن کے چہرے پر دبا دبا جوش تھا…
یشب نے دیکھا وہ خوش تھی..
جانِ یشب …… میں اس سے بھی زیادہ ارینج کسی ہوٹل میں یا کہیں بھی کروا سکتا تھا پر میں نہیں چاہتا تھا اس روپ میں اس ڈریس میں جس میں صرف میں دیکھنا چاہتا ہوں تمھیں کوئی اور دیکھتا.. کسی کی بھی نظر مجھے ڈسٹرب کرتی….
سوہن نے اس کی سلگتی نگاہیں اپنے آر پار محسوس کیں تو اس کا دھیان بٹانے کو منہ پھلا کر بولی
آپ اتنی لیٹ کیوں آئے..میں تو کب سے ریڈی تھی….
اچھا..زہے نصیب کہ میری جان میرا ویٹ کر رہی تھی…. اس کے معنی خیز سا کہنے پر سوہن پھر خجل سی ہوئی اور نظریں جھکا گئی..
پھر اس سے نرمی سے باتیں کرتے ہوئے ڈنر کیا… اور پھر کیک کاٹا…
یہ کس خوشی میں… سوہن نے خوش ہوتے ہوئے کیک کھایا
ہماری پہلی آفیشل ڈیٹ کی خوشی میں..یشب کا جواب سن کر سوہن نے بلش کیا…
میری جان کو سیلفیز لینے کا بہت شوق ہے اپنے نیو موبائل میں نہیں لی..
نہیں….
کیوں؟
پتہ نہیں…
چلو اب لیتے ہیں… یشب نے کہہ کر اس کا ہاتھ تھاما اور دونوں لان میں نکل آئے…. لان میں جھولے پر بیٹھ کر دونوں نے سیلفیز لیں…
اچانک سوہن کو یاد آیا….. مجھے ہارمونیکا سننا ہے..
واٹ…………….. یشب کو حیرت ہوئی…
میں نے کہا مجھے ہارمونیکا سنائیں..
تمھیں کیسے پتہ… سوہن…. وہ حیرت سے گنگ سا بولا
بس پتہ ہے.. آپ سنائیں… وہ ڈائری والی بات پی گئی
یشب اندر گیا ہارمونیکا اٹھا لیا پھر جھولے پر بیٹھ کر دھن بجائی
ملے ہو تم ہم کو… بڑے نصیبوں سے…
چرایا ہے میں نے..قسمت کی لکیروں سے….
سوہن کو بہت اچھی لگ رہی تھی وہ آواز وہ دھن اسے بجانے والا… پر ایک بات عجیب تھی.. وہ خاموش ہوا تو یشب کو ایک اور حیرت کا جھٹکا لگا
آپ نے ٹیون چینج کیوں کی… پہلے تو کوئی اور بجاتے تھے مجھے وہ سننی ہے… وہ اطمینان سے بولی
یشب نے اس کی جانب غور سے دیکھا وہ فوراً نظریں جھکا گئی…
یشب آنکھیں بند کر کے اپنی پہلی دھن بجانے لگا.. وہ دبے قدموں اٹھی.. اور اس سے دور بھاگ پڑی… (خواب میں بھی تو ایسا ہی ہوتا تھا) .. یشب نے آنکھیں کھولیں.. وہ دور کھڑی کھلکھلائی…. یشب کے دل کو کچھ ہوا.. وہ اس کے پیچھے بھاگا.. اس نے پھر دوڑ لگا دی…
ہیر….. ہیر رک جاؤ…… میرے پاس آؤ.
نہیں…… نہیں…… آؤں گی…
وہ ابھی اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات جی ہی رہے تھے کہ بجلی کڑکی.. موسم تو صبح سے ہی شدید ابر آلود تھا..
بجلی کڑکنے سے سوہن ڈر گئی.. ابھی وہ کچھ اور سوچتے کہ موسلا دھار بارش شروع ہوگئی. یشب نے سوہن کا ہاتھ تھاما اور اندر دوڑ لگا دی..
لاؤنج تک پہنچتے پہنچتے دونوں اچھے خاصے بھیگ چکے تھے…. وہ دونوں کمرے میں آئے…
سوہن نے دوپٹہ اتارا.. اور اسی دوپٹے سے خود سے پانی صاف کرنے لگی…
یشب نے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے زرا سا مڑ کر دیکھا تو نظر پلٹنا بھول گئ.
اس کے ہوش اڑے تھے…… ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی..
وائٹ فراک پہلے ہی ٹائٹ تھی اب گیلی ہو کر جسم سے اور بھی چپک گئ تھی.. بالوں سے گرتے پانی کے قطرے جو گلے اور گریباں میں گر رہے تھے… جنھیں دیکھ کر یشب کے حلق میں کانٹے سے اگنے لگے….
وہ لاپرواہ سی تھی.. اور اس کی یہی لاپروائی یشب کی جان لبوں پر لے آئی تھی..
یشب نے فوراً اپنا رخ اس کی جانب سے پھیرا..
سوہن… آواز میں سنجیدگی تھی.. وہ چونکی
جی…………
اپنا ڈریس لو اور یہ جو دروازہ ہے اس کے پیچھے روم ہے.. جا کر چینج کرو اور سو جاؤ..
کدھر؟ سوہن کو حیرت ہوئی..
اس روم میں جا کر سو جاؤ… یشب پھر بولا
مگر…………..
سوہن…… جاؤ
لیکن میں……………
سوہن………. پلیز…
سوہن نے نم آنکھوں سے اپنا ڈریس الماری سے نکالا اور غصے سے وہاں سے چلی گئ..
یشب کا سانس اٹک گیا تھا… خود کو روکنا ننگی تلوار پر چلنے کے مترادف تھا… خود کو روکتا نہ تو کیا کرتا.. ابھی تو اس پر اعتبار کرنا شروع ہوئی تھی کیسے توڑ دیتا اس کا بھروسہ.. اگر وہ یہاں چند سیکنڈ بھی اور رکتی تو قیامت آ جاتی..
اسے بھیج تو دیا تھا پر اب خود بے چین تھا. کپڑے چینج کر کے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہن کر بستر پر لیٹ گیا اب پچھتا رہا تھا.. یہ بھی نہیں سنا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھی.. بستر پر پھر کانٹے اگ آئے تھے..
ادھر سوہن چینج کر کے ہلکی سی گھٹنوں تک آتی فراک اور ٹراؤزر پہن کر بستر میں بیٹھی جھلا رہی تھی..
ٹیڈی بیئر نے یہ بھی نہیں سنا تھا کہ اسے ایسی طوفانی راتوں اور بجلی کے کڑکنے سے کس قدر خوف آتا تھا. غصے سے بار بار دروازے کو گھور رہی تھی..کس قدر تحفظ کا احساس ہوتا تھا اسے صوفے پر ہی لیٹے دیکھ کر…
بجلی چمکی کمفرٹر میں منہ دے لیا رات کے تقریباً بارہ بج چکے تھے… تنہائی، ڈر خوف طوفانی رات….. سوہن کی جان پر بنی ہوئی تھی..
پھر آخر نیند کی دیوی مہربان ہو ہی گئی
💖💝💕❤️💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
سوہن گہری نیند میں تھی جب غیر معمولی آہٹوں اور آوازوں پر اس کی آنکھ کھلی..
تنہائی کا خوف..بادلوں کی کڑک… طوفانی رات…. جان لیوا تھی… آج پتہ نہیں کیوں ٹیڈی بیئر نے اس کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا..
آوازیں پھر ابھری اور شیطانیت اور خباثت سے بھر پور تھیں ..
جتنے بھی گھر میں مرد ہیں…. ان کو ختم کر دو… اور جتنی بھی عورتیں ہیں ان کو اپنے قبضے میں … آخر اتنی بڑی واردات کا کچھ تو انعام ملے.. اپنی رات رنگین بنا کر..
سوہن کی یہ مغلظات سن کر روح فنا ہوئی پوری جان سے لرز گئی… پورا وجود پسینے میں نہا گیا..
وہ خوف و دہشت سے بیڈ سے نیچے اتری ایک ہی جست لگا کر اس درمیانی دروازے تک پہنچی.. جس کے پار اس کا ظالم محافظ اس سے غافل ہوا بیٹھا تھا اس نے بجلی کی رفتار سے دروازہ کھول کر لاک کیا
وہ جو بیڈ پر تڑپ تڑپ کر سویا….. ابھی ابھی گہری نیند میں گیا تھا.
سوہن نے اسے نازک سے ہاتھوں سے جھنجھوڑ ہی ڈالا..
یش…….. یشب…. اٹھیں… پلیز اٹھیں . وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی.. یشب کی آنکھ کھلی اور اسے اس طرح ہراساں دیکھ کر نیند بھک سے اڑی
سوہن…… جان…. میری.. جان کیا ہوا وہ بھی گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا..کہ
سوہن جو اس پر جھکی ہوئی تھی سیدھی ہو کر سختی سے اس سے لپٹی اور اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا..
یشب نے اس کے گرد مضبوطی سے اپنے بازو حمائل کیے
کیا ہوا… جان
وہ…… وہ… بب.. باہر کوئی ہے… مم… میں نے خود… سنا.. وہ…. سب کو مم…. مارنے کی بات. کک.. کر رہے تھے.. اور.. اور… مم… مجھے… لے جائیں گے..
یشب کا سارا خون سمٹ کر چہرے پر آیا.ماتھے کیو تیری چڑھی.. آہٹیں تو اب اسے بھی سنائی دے رہی تھیں..اس نے فوراً فون اٹھایا اور چند ضروری میسجز کیے
کچھ نہیں ہوگا… میری جان… یشب نے اس کے کان میں سرگوشی کی.. تمھارے قریب سے تو میں مخالف سمت سے آتی ہوا نہ گزرنے دوں… یہ کون ہوتے ہیں..
رکو..
یشب نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا اور الماری کی طرف بڑھا.. وہاں سیکرٹ کیبن سے گن نکالی..
سوہن نے گن دیکھی تو دہشت کے مارے پورا جسم ٹھنڈا پڑا گیا.. چہرہ پیلا زرد ہو گیا.. یشب گن لے کر دروازے کی طرف بڑھا کہ کمرے کے درمیان میں ہی سوہن نے بری طرح اس سے لپٹ کر اسے باہر جانے سے روک لیا . وہ سسک رہی تھی
نن….. نہیں… پلیز مت جائیں باہر… اگر….. آپ… کو کچھ. ہو گیا. تو..
وہ سسکتی اس کے سینے میں منہ دئیے اس کی شرٹ بری طرح مٹھیوں میں جکڑ کر توڑ توڑ کر لفظ ادا کر رہی تھی.
یشب نے بے یقینی سے اسے دیکھا.. اسے حیرت ہوئی.
لیکن پھر بولا…. سوہن جان… پلیز… بزدل نہیں ہوں میں..مجھے بزدل مت بناؤ……. دیکھنے دو مجھے باہر.
نن…… نہیں.. نہیں.. وہ اس کے سینے میں منہ دئے مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی..
پھر پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی اور بھاری بوٹوں کی آوازیں سنائی دیں…
نور منزل کو چاروں اور سے گھیر لیا تھا… وہ جو کوئی بھی تھے شاید یشب شاہ آفندی کو جانتے نہیں تھے جنھوں نے اس کے گھر میں گھس کر اس کی جان کو ہراساں کرنے کی جرات کی تھی..
اب ان کا انجام بہت بھیانک ہونے والا تھا..
پھر فائرنگ کی دل دہلا دینے والی آوازیں سنائیں دی.. سوہن کی بچی کچھی جان بھی لرز گئی.. وہ تیورا کر گر پڑتی کہ یشب نے اسے اپنے مضبوط حصار میں لیتے ہوئے تسلی دی کہ وہ اس کے پاس ہے..
پھر یشب کا فون رنگ ہوا… اس نے سوہن کو اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور فون رسیو کیا..
یس سر…. چار لوگ تھے…… دو جہنم رسید کر دئے گئے ہیں.. دو حراست میں ہیں… آپ باہر آ کر تسلی کر لیں… پورا گھر کلئیر ہے… شاید رحیم سر کے سیاسی حریفوں کی کارستانی ہے..
یشب نے سوہن کی غیر ہوتی حالت دیکھی.. فون رکھا..
سوہن جان سب ٹھیک ہے……. وہ جو کوئی بھی تھے پکڑے جا چکے ہیں میں باہر دیکھ کر آتا ہوں…
وہ یشب کی شرٹ چھوڑنے کو تیار نہیں تھی.. پھر یشب نے نرمی سے اسے اشارہ کرتے ہوئے شرٹ چھڑائی اور باہر چلا گیا….
💖💖💝💝💕💕❤️❤️💟💟💟💟💟💟💟
وہ کمرے میں آیا..دروازہ لاک کیا. سوہن بیڈ پر بیٹھی بے چینی سے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی..
آدھی رات سے بھی زیادہ کا وقت ہو چکا تھا.. یشب کو دیکھ کر وہ پھر اس کی طرف لپکی.. اور اس کے سینے سے لگ کر پھر رو دی…
سب ٹھیک ہے… سوہن….. اس نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی.. وہ لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں.. اب کوئی نہیں ہے گھر میں..سکیورٹی گارڈز باہر ہیں.. ڈرو مت میری جان..
یشب نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا. اور بیڈ پر بٹھایا.
چلو شاباش جلدی سے سو جاؤ… یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ سوہن نے تڑپ کر پھر اس کا بازو دبوچ لیا..
آ..آپ… آپ.. کہاں جا رہے ہیں..
دوسرے کمرے میں… وہ سنجیدہ سا بولا.. درمیان میں بس ایک ڈور ہی ہے………… میں جاگ رہا ہوں.. جان.. تم سو جاؤ
نہیں… آپ ادھر ہی سو جائیں…پلیز
کیوں…
مجھے ڈر لگ رہا ہے… وہ پھر سسکی…
اور مجھے اپنے آپ سے ڈر لگ رہا ہے…. بے تحاشا .. سوہن.. چھوٹی بچی ہو کیا… یار…. جو سمجھتی نہیں.. آج اگر میں یہاں رکا تو خود کو روک نہیں پاؤں گا..
وہ پھر اسے بیڈ تک لے کر آیا…. اور واپس مڑا
وہ بے بسی سے لب کاٹنے لگی کہ زور کی بجلی کڑکی اور سوہن کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوئے.
ایک دلخراش چیخ ماری اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
یشب بھاگ کر سوہن کے پاس آیا اور کھینچ کر اسے سینے سے لگایا.. تواتر سے بہتے آنسو اپنے لبوں سے چننے لگا..
اششششششش… خاموش بلکل.. خاموش میں یہیں ہوں تمھارے پاس تمھارے قریب…
اس نے سوہن کو بیڈ پر لٹایا اور زرا فاصلے پر خود بھی اس کے پاس لیٹ گیا….سوہن کھسک کر پھر اس کے قریب ہوئی اور اس کے سینے میں منہ دے لیا..
یشب نے گہری سانس بھری… آخر کتنا روکتا خود کو… کتنا سہتا…
تڑپ کر اسے بانہوں کے حصار میں جکڑا… اس قدر قریب نرم و نازک گداز مہکتا وجود اسے مدہوش اور بے خود کر گیا..اس کے بالوں کی محصور کن خوشبو روح میں سمائی.
رگوں میں اس کا عشق اور طلب خون بن کر دوڑا.. اس کی گردن پر جھکا اور اپنے دہکتے لب رکھے
اس کے ہاتھ اس کی نازک کمر پر شدت سے اپنا لمس چھوڑ رہے تھے.
سوہن نے آنکھیں سختی سے بند کیں… کمر پہ اپنی کھلتی زپ اور اس کی جسارتوں سے تڑپ کر اس نے یشب کی کمر سے پکڑی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا..
یشب نے اسے سیدھا کیا اور اس کے ہاتھ تکیے سے لگائے… اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھایا..
لمحے بے حد فسوں خیز تھے….
سوہن…… یشب نے جزبات سے بوجھل آواز سے اسے پکارا اور اپنا منہ اس کے بالوں میں چھپایا..
سوہن نے جواب نہیں دیا…
مجھے جانے دو…….. یشب نے کہا.
سوہن نے پھر گردن نفی میں ہلائی..
یشب کو سکون آیا… اس کا مطلب وہ اس کی پیش قدمی قبول کر رہی تھی.. اسے اپنا آپ سونپ رہی تھی..
کالی طوفانی رات…. کڑکتی بجلی.. ایک طوفان باہر تھا اور ایک اندر آ چکا تھا..
🙈🙈💕❤️💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
