Khuwab e Ishqam By Wahiba Fatima Season 1 Readelle50085 Last updated: 16 July 2025
Rate this Novel
Khuwab e Ishqam Season 1
By Wahiba Fatima
وہ کمرے میں آئی... بیڈ پر اوندھے منہ گری اور بے آواز آنسو بہانے لگی..آف وائٹ بیڈ شیٹ پر سرخ لباس میں وہ گلاب کا پھول لگ رہی تھی یشب اس کے پیچھے آیا... تو حلق کڑوا ہوا ماتھے کی تیوری پر بل نمودار ہوئے..، دروازہ لاک کر کے اس کے پاس آیا اور بازو سے کھینچ کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا..
ہنی... اب تم اس شیرو کے لئے آنسو-بہا کر مجھے اس سے جیلس کر رہی ہو.. اگر وہ مل بھی گیا تو اب اسے ان تمھارے آنسوؤں کی سزا اپنی جان پر بھگتنی پڑے گی.. وہ سنجیدہ سا بولا تو سوہن اپنے آنسو بھول گئ اور حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اس کا پاگل پن ملاحظہ فرمانے لگی. جو ایک معصوم سے جانور سے جیلس ہونے کی بات کر رہا تھا..اب سوہن کو اس سے ڈر یا خوف بلکل نہیں لگتا تھا
کیا..... تم صرف میری ہو.. تمھارا وجود.. محبت سوچ حتی کہ آنسو بھی صرف میرے لیے ہونے چاہیں... گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کے بہت قریب چلا آیا.
پہلے تو چھوڑ دیتا.. اب ان آنسوؤں کا حساب مجھے چاہیے. اگر شیرو چاہیئے تو بیٹ پوری کرو.. Come on Sohan jaan......
اچھی پھنسی تھی. کپکپاتی بولی..یہ....یہ کسی اور سے کروائیں آپ..
What............ Stupid girl..... I am your husband... You will do this. وہ ناراض سا بولا.. اوکے میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں.. یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں وہ قریب ہوئی..مخصوص مردانہ کلون کی خوشبو سے گھبرائی.. کپکپاتے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے.. وہ جو اس کے وجود کی مہک سے ہی پاگل ہو گیا تھا مدہوش سا ہوتا بلکل بھی صبر نہ کر سکا اور اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا..
سوہن تڑپی.. اس کی قربت میں پتہ نہیں کیوں پر سوہن کی جان پر بن جاتی تھی.حالانکہ اس نے بہت نرمی سے تھاما تھا اسے..... پر شاید اس کے لمس میں شدت اور تڑپ ہی سوہن کے لئے اتنی تھی کہ وہ سہہ نہیں پاتی تھی.
ابھی تو وہ سہی طرح اسے محسوس ہی نہ کر پایا تھا کہ دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی. ظالم....... وہ بڑبڑایا..
اب.. مم... میرا شیرو دیں مجھے... وہ بے چین سی بولی..
ابھی تو میری جان آرام کرے گی... پھر صبح کو پہلی فرصت میں شیرو تمھارے پاس ہو گا وہ کہتا کپڑے لے کر واش روم میں چلا گیا.. سوہن دل میں تلملائی... اب اس بات کا بدلہ کیسے لے...... اس نے کچھ سوچا اور لائٹ بند کرتی سائیڈ ٹیبل لیمپ جلاتی کمفرٹر لے کر سوتی بن گئ..
وہ واش روم سے فریش ہو کر باہر آیا.. بالوں میں برش کیا اور صوفے پہ کمفرٹر اوڑھ کر لیٹ گیا.. تقریباً آدھے گھنٹے بعد سوہن نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا..وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا
اتنی دیر ہو گئ ہے اب تو یقیناً ٹیڈی بئیر سو گیا ہوگا.. وہ دل میں اپنے آپ سے کہتی دبے پاؤں اٹھی اور دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ
کوشش بھی مت کرنا جان....... نہیں تو میں بیڈ پر تمھیں اپنے حصار میں لے کر سوؤں گا.. پھر تو کہیں نہیں جا پاؤ گی ناں؟...........
سوہن ٹھٹھکی... تیزی سے بیڈ کی طرف بھاگی. فوراً لیٹ کر کمفرٹر میں منہ چھپا لیا.. جائینٹ.....وہ بڑبڑائی
یشب بند آنکھوں سے ہی دل سے مسکرایا...
