58.7K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 7

سوہن غصے سے سرخ چہرہ لئے اس کے سامنے کھڑی تھی. وہ ہاتھ باندھے کھڑا غور سے اس کا تپا تپا چہرہ دیکھ رہا تھا…
یہ زلیل حرکتیں کر کے آخر آپ ثابت کیا کرنے چاہتے ہیں … دولت کی چمک دکھا کر خریدنا چاہتے ہیں مجھے.. تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے آپ کی .. نفرت کرتی ہوں میں آپ سے.. خود پر پڑنے والی آپ کی نظروں سے.. اتنی نفرت کہ مجھے میرے ہی وجود سے گھن آنے لگتی ہے.. جب آپ کو پتہ ہے کہ میں انگیجڈ ہوں اور پرسوں میرا نکاح ہونے والا ہے تو یہ ٹائم پاس کرنے کے لئے پلیز کسی اور کو پکڑ لیں.. مجھے کوئی دلچسپی نہیں.. ناں آپ میں ناں آپ کی دولت میں…
وہ لال بھبھوکا چہرہ لیے آج سارے حساب بے باک کرنے پر تلی ہوئی تھی
یشب کا چہرہ اس کے ہر لفظ پر دھواں دھواں ہو رہا تھا..

تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے ہیر….
او… شٹ اپ. پلیز.. میں کوئی ہیر ویر نہیں ہوں..
نہیں تم ہیر ہی ہو اور جو میں نے سکیچ کی پک بھیجی وہ تمھارے پاکستان آنے سے پہلے بنوایا میں نے.. تمہیں اپنے سامنے دیکھے بغیر..
واٹ ربش…… کچھ بھی…….. ہاں…… آپ کو کیا لگتا ہے کوئی بھی کہانی بنائیں گے اور میں بے وقوفوں کی طرح مان لوں گی.منٹوں میں سکیچ بنوانا کونسا مشکل ہوگا آپ کے لئے.. بقول آپ کے ہی اگر میرے موبائل سے پک ڈلیٹ کروا سکتے ہیں تو کچھ بھی کر سکتے ہیں . وہ تمسخرانہ ہنسی ہنس دی.
یشب نے تنی رگوں سمیت مٹھیاں زور سے بھینچیں…

اچھے سے جانتی ہوں میں آپ جیسے چیپ لڑکوں کو.. دولت کی چمک دکھا کر ہر کسی کو بےوقوف بنوانے والے.. لوز کریکٹر.. کان کھول کر سنیں میں صرف عمر وقار سے شادی کروں گی.. انھیں کی ہوں.. آپ جیسوں کو تو پلٹ کے دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتی ہوں.آپ کی دولت آپ کو مبارک.. .اپنے پرس میں سے اس نے چیک بک اور پین نکالا ایک بلینک چیک کاٹ کر اس کی طرف اچھالا اور
یشب شاہ آفندی پر قیامت ڈھاتی وہاں سے نکلتی چلی گئ.

.. وہ تو جا چکی تھی پر وہ اپنی کنپٹیوں کو سہلاتا وہیں زمین پر بیٹھتا چلا گیا..
اس کے پاکیزہ عشق کی اتنی توہین.اس کے صرف اور صرف اس کے لئے اتنے قیمتی جزبوں کی یہ اوقات تھی اس کی نظر میں. . اس کے کردار کی اتنی دھچیاں بکھیری گئیں تھیں کہ وہ اٹھ نا سکا.. اعصاب بری طرح چٹخ رہے تھے.. جیسے ابھی دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی…. سرخ آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ رہے تھے ہاں وہ چھ فٹ تین انچ کا لمبا چوڑا مضبوط مرد رو رہا تھا… کیا کرتا جو سامنے سے بول کر گئ تھی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا… وہ جھٹکے سے اٹھا اور گاڑی لے کر نکلا

💞❤️💝💖💕💝💝💝💝💝💝💝💝

ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس نے تیمور کو کال کی
اگے سے فون رسیو ہوا تو وہ چلایا.
تیمور گھر پہنچنے سے پہلے پہلے مجھے وہ چیز اپنی الماری میں چاہئے
مگر سر آپ…. تیمور بری طرح ہچکچایا
شٹ اپ تیمور… وہ دھاڑا جو بولا ہے وہ کرو.
پلیز سر… آپ نے پہلے کبھی.. تیمور منمنایا
پہلے کبھی میرا دل اور میری روح بھی تو نہیں روندی کسی نے… وہ چلاتا اپنے ہواس میں نہیں لگ رہا تھا فون بند کر کے سیٹ پر پٹخا..
طوفان کی طرح گھر پہنچا تو رحیم ملک نے اس کے تیور دیکھے.. اور اپنی بیگم کو اس طوفان سے نہ الجھنے کا اشارہ کیا..
ان کو پتہ تھا کہ ان کا نواسا ان دنوں کیوں اور کس لئے ماہی بےآب کی طرح تڑپ رہا تھا

یشب دھاڑ سے دروازہ کھول کر اپنے کمرے میں داخل ہوا… جلدی سے آگے بڑھ کر الماری کھولی… سامنے ہی وہ دو بوتلیں رکھیں ہوئیں تھیں..

آج یشب شاہ وہ کام کرنے چلا تھا جو کرنا اس کا پورا خاندان باعثِ فخر سمجھتے تھے.. پر اس نے کبھی حرام چیز منہ کو نہ لگائی..
جلدی سے ڈھکن کھول کر پوری بوتل اپنے اندر انڈیل لی..
رگ وپہ میں ایک سرور سا چھایا… آنکھیں لال انگارہ ہو گئیں.. رگوں میں سکون سا دوڑا.. تنے اعصاب ڈھیلے ہوئے.. اسی سرور کی کیفیت میں لڑکھڑاتے قدموں سے بیڈ تک آیا.. بیڈ پر اوندھے منہ گرا اور آنکھیں موند لیں.

آدھی رات کا پہر تھا.کمرے کا دروازہ کھلا.اور لاک ہوا. قدموں کی چاپ اور پائلوں کی چھنکار کی آواز بیڈ تک آئی. جب یشب نے نشے سے چور آنکھیں بمشکل کھولیں
وہ تڑپ کر لڑکھڑاتا اٹھا..
سو…… سوہن…..مم…… میری سوہن.. یشب نے وہ چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا…تت… تم… آ گئی ناں مم…… میرے پاس…
بب……… بہت محبت…….. کرتا ہوں تم سے.. مم…. مجھے چچ.. چھوڑ……… کر مت…… جانا.. پپ…… پلیز

سنیں آپ ہوش میں نہیں ہیں… میں سوہن نہیں ہوں… دعا ہوں… پلیز ہوش میں آئیں.. وہ نازک سا وجود جی جان سے لرزا.
ششششش…یشب نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی… کک… کچھ… نہیں بولو…. مم……. میرے……. قریب….. آؤ…. کک…. کچھ….. نہیں…. ہوگا… تت…. تم….. صرف. میری… ہو… کوئی…… کچھ…. نہیں…. کہے… گا…ہیر… میری… ہیر
یشب اس کے بہت قریب آیا… اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اسے اپنے سینے میں بھینچا.
وہ مچلی… اپنے ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے دور ہٹانے کی کوشش کی..
دیکھئے آپ غلط سمجھ رہے ہیں… ہوش میں آئیں.. مجھے جانے دیں..
نن……. نہیں….. یشب نے اسے اور قریب کیا… اب…. کک کہیں.. نہیں… جانے…. دوں… گا.. ہمیشہ…. اپنے… پپ… پاس….. رکھوں… گا… سوہن… I love you…
یہ کہتے یشب نے اس کے لب اپنے لبوں کی قید میں لئے..

وہ تڑپی…… مچلی….. پر یشب کی گرفت بہت مضبوط تھی.. ایک جھٹکے سے اس نے اپنا آپ یشب سے چھڑوایا اور دروازے کی طرف بھاگی..

مگر اس سے پہلے یشب نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے دروازہ کھولنے سے روکا..
اسے بازوؤں میں اٹھا کر بیڈ پر لایا… اور شراب کے نشے میں ہر حد پار کرتا گیا…
اور وہ جو اس کے پاس آئی تھی… آخر بارہ سال کے بعد یشب شاہ آفندی کی پیش قدمی بڑے اعزاز کے ساتھ قبول کرتی خود کو اس کے سپرد کر دیا..
سوہن کے صدقے سے ہی سہی…

💞❤️💖💕💞❤️💖💕💝💝💝💝💝💝

صبح جب یشب کی آنکھ کھلی تو سر بہت بھاری ہو رہا تھا… کچھ دیر یونہی لیٹا چھت کو گھورتا رہا… پھر رات کا ایک ایک منظر مد ہوش ہوتے ہوئے بھی کسی فلم کی طرح اس کے دماغ میں گھوما تو ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا…

سوہن…. لبوں نے دل سے پکارا… لیکن خوش فہمی کا کوئی علاج نہیں ہوتا
واش روم سے پانی گرنے کی آواز آئی.. وہ تڑپ کر بیڈ سے اٹھا… اس سے پہلے کے دروازے تک جاتا جو ہستی واش روم سے نکل کر تولیے سے بال رگرتی باہر آ رہی تھی اس کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر اس کا میٹر شارٹ ہوا…

تم یہاں کیا کر رہی ہو.. اس کے دھاڑنے پر دعا سہمی…تم باز نہیں آئیں ناں.. رات جب تمہیں پتہ تھا کے میں…………… .. تم کیوں آئیں میرے کمرے میں…

وہ.. دا جی نے بھیجا مجھے….دونوں حویلیوں سے نکال دیا.. کہا کہ اپنے شوہر کے پاس جاؤ. وہ چاہے تمھیں قبول کرے یا تم سے بھیک منگوائے.. اس کی مرضی.. وہ تلخی سے کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
یشب نے لب دانتوں تلے بے دردی سے کچلے…
دعا تمھیں پتہ ہے کہ یہ رشتہ میں نے کبھی تسلیم کیا ہی نہیں تو تم کیوں چلی آئیں میرے پاس…… اس سے پہلے کہ میں کچھ کر بیٹھوں.. دفعہ ہو جاؤ یہاں سے.. کہیں بھی جاؤ… پر میرے سامنے دوبارہ مت آنا…

یہ سوہن کون ہے……

دعا… گیٹ لاسٹ….وہ غرایا

میں ملنا چاہوں گی اس سے… دیکھنا چاہوں گی… شکریہ ادا کرنا ہے.. کہ تمھاری وجہ سے مجھے میرے عشق نے خراج بخشا…..

اس سے پہلے کہ یشب اپنا آپا کھوتا.. دعا کا بازو کھینچا اور اسے کمرے سے باہر پھینکا..

💞❤️💖💕💝💝💝💝💕💖❤️💞💝💝💝

آج زیان کی بارات تھی..
راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا..

پورا فنکشن بے حد سکون سے گزرا.. آج سوہن تو کچھ زیادہ ہی خوش تھی..
پورے فنکشن میں یشب شاہ آفندی کو غائب دیکھا تو خود کو داد دی کہ کیسے عقل ٹھکانے لگائی..
آج اس کا خون جلانے کے لئے کوئی نہیں تھا وہاں..

ہنسی خوشی نور بھابھی کو رخصت کروا کر گھر لے آئے.. سویرا بیگم نے کل کی ساری تیاری کر لی تھی.. کل ان کی زندگی کا بڑا دن جو تھا…
دلہنوں کے کامدار پیچ کلر میں لہنگے اور دلہوں کی شیروانیاں… سب تیاری مکمل تھی.
بس سب کو کل کا انتظار تھا.

💕💖❤️💞💝💕💖❤️💞💝💝💝💝

وہ راکنگ چئیر پر جھولتا…. سگریٹ کے گہرے کش لگا رہا تھا… شراب پینے کے بعد اس نے پتہ نہیں کتنی بار رو رو کر دل سے توبہ کی تھی…

وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا…پر چوٹ کچھ زیادہ ہی گہری تھی جو یوں تڑپا تھا… دروازے پر ہلکی ناک ہوئی… اور رحیم ملک اندر داخل ہوئے… انھوں نے آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا..
تو وہ ان سے لپٹ کر بے آواز رو دیا…

شیر بنو میرے بچے… شیر…ایسے ہمت نہیں ہارتے…
گرینڈ پا.. وہ مجھے آوارہ اور بد کردار سمجھتی ہے. اس نے میرے اتنے سالوں کے عشق کو ٹائم پاس کہا..

وہ اس لئے بچے کہ وہ ابھی تمھاری سچائی سے انجان ہے.. حقیقت نہیں جانتی.. جب جان جائے گی تو تم سے تمھاری محبت سے بھی زیادہ محبت کرے گی..

وہ دھیرے دھیرے اسے سمجھاتے رہے.. ان کے الفاظ تار تار ہوئے دل پر مرحم سا رکھتے رہے..
کل کے بعد آج اسے کچھ سکون ملا تھا.. اس نے ایک نظر سکیچ کو دیکھا اور مخاطب ہوا

سوہن جان.. اب تو تم سے تب ہی بات یا ملاقات ہو گی جب میرا تم پر مکمل حق اور اختیار ہوگا.. تب تم مجھے کم از کم ٹائم پاس نہیں بول سکو گی…

💕💖❤️💞💝💕💖❤️💞💝💝💕💖❤️

وہ صبح اپنی تمام تر رنگینیوں سمیت طلوع ہوئی تھی.. بہت گہما گہمی تھی… زیان کا ولیمہ اور ان تینوں کا نکاح..

سب تیار ہور ہے تھے…

زیان… اور عمیر… نور ،دل، ماہی اور سوہن کو پارلر چھوڑ کر گئے…
پہلے نور اور دل تیار ہوئیں… اور ویٹنگ روم میں بیٹھ گئیں پھر سوہن اور ماہی کی باری آئی..
پیچ کلر کے لہنگے اور ست رنگی کامدار دوپٹے میں وہ غضب ڈھا رہی تھی…
میم آپ کی مہندی کا بہت کلر آیا.. آپ چاروں میں سے سب سے زیادہ آپ کا کلر آیا ہے اس کا مطلب آپ کے ہونے والے ہزبینڈ سب سے زیادہ آپ سے محبت کرتے ہیں
پالر والی نے سوہن کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا… پھر اس کا میک اپ شروع کیا… اس نے ایک دو مرتبہ فون کو چیک کیا…
پتہ نہیں کیوں پر لاشعوری طور پر وہ کسی دھمکی بھرے میسج کا انتظار کرتی رہی… اسے لگا وہ پتہ نہیں کتنا ہنگامہ مچائے گا پر یہاں تو کچھ ایسا نہیں تھا. .. اتنی خاموشی بھی اس کو کھل رہی تھی..

اس نے سر جھٹکا… ہونہہ بھلا میں کیوں سوچنے لگی… اتنی انسلٹ کے بعد تو اچھے اچھوں کی عاشقی نکل جاتی ہے..
وہ تیار ہو گئی تو آئینہ بھی شرمانے لگا… بیوٹیشن بھی حیران سی اسے دیکھے گئی. کیا کسی پہ اتنا روپ بھی آ سکتا ہے..
دوپٹہ سیٹ کیا.. نازک سی ہیل پہنے وہ آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی.. دلہنیں تو وہ تینوں بھی تھیں لیکن سوہن کے معصوم چہرے پر ایک الوہی روپ تھا..
میم یہ جوس پی لیں…پارلر والی نے سوہن کو کیا..

پلیز مجھے میم مت کہیے..میرا نام سوہن ہے..
کیوں. میم….میرا مطلب سوہن جی
ہر وہ شخص جو مجھے میم کہتا ہے کسی کا زر خرید غلام لگتا ہے…سوہن خواہ مخواہ اسے یاد کر رہی تھی.اس سے ایسی محبت اور ایسی دیوانگی کا اظہار تو دور عمر نے کبھی اس رشتہ کے بارے میں ڈھنگ سے بات تک نہ کی تھی.. وہ لاشعور میں یشب شاہ کے رد عمل کا انتظار کر رہی تھی شاید.
پارلر والی چونکی اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا..
کس نے دیا یہ جوس.. میں نے تو نہیں آرڈر کیا… دلکش نے شیشے کے دروازے میں سے اشارہ کیا کہ میں نے دیا ہے..پتہ نہیں کتنی تھکاوٹ ہونے والی ہے اس لیے وہ پی لے..

پیاس تو لگی تھی اس نے چند گھونٹ میں ہی پی کر گلاس بیوٹیشن کو دے دیا… زیان اور عمیر لینے آ چکے تھے…

نور اور ماہی عمیر کے ساتھ بیٹھیں .. دل اور سوہن زیان کی گاڑی میں……. بیک سیٹ پر دونوں ریلیکس ہو کر بیٹھیں..
دل مجھے تو ابھی سے اتنے ہیوی ڈریس سے تھکاوٹ ہونے لگی ہے.. اس نے بےزاری سے کہا..
اچھا…. ادھر آؤ میرے کندھے پر سر رکھ کر تھوڑا ریلیکس کرو… ہال ابھی دور ہے… جب ائے گا تو تمھیں آواز دے دوں گی..
اوکے….. وہ آنکھیں موند کر دلکش کے کندھے پر سر رکھ کر سو گئی..

💞💕💖❤️💞💕💖❤️💝💝💝💝💝💝

سوہن کا سر بہت بھاری ہو رہا تھا.. کچھ دیر تو یونہی ملگجے سے اندھیرے میں خالی زہن کے ساتھ بہت ہی نرم بستر پر لیٹی رہی.. پھر اسے یاد آیا… وہ تو ہال میں جا رہے تھے.. وہ آیستگی سے اٹھ بیٹھی.. خود کو ایک پھولوں سےسجے سجائے بیڈروم میں پایا.. اووو…. عمر سے میری شادی ہو بھی گئی..

پر مجھے یاد کیوں نہیں آ رہا.. گاڑی میں سونے کے بعد سے لے کر اب تک… اس نے نرمی سے اپنی کنپٹیاں سہلائیں..
شاید تھکاوٹ سے ابھی زہن نہیں جاگا…

آنکھیں اندھیرے میں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو اس کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی… پورے کمرے کی دیواریں جیسے اس کے اوپر آ گریں.. دہل کر بیڈ سے نیچے اتری… سامنے بلکل دیوار پر یشب شاہ آفندی کی قد آدم تصویر لگی ہوئی تھی..

یہ کیا بے ہودہ مزاق تھا… ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور زیان اندر داخل ہوا..
بھیا……. وہ… وہ….. اس نے مڑ کر ڈرتے ہوئے تصویر کی جانب اشارہ کیا..
زیان نے نظر انداز کیا… میری بات غور سے سنو.. گڑیا ادھر میری طرف دیکھو.. زیان نے اس کے بازو پکڑ کر اپنی جانب رخ کیا..

میری گڑیا کو مجھ پر کتنا بھروسہ اور اعتبار ہے؟
وہ حیران ہوئی وہ کیا پوچھ رہی تھی اور زیان اس سے یہ کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا تھا..

بھیا… خود سے بھی زیادہ آپ پر بھروسہ اور اعتبار ہے..

سہی… تو تمھارا ولی ہونے کی حیثیت سے میں نے تمھارے لئے ایک فیصلہ لیا ہے… میں جو بھی فیصلہ کروں کیا تمھیں منظور ہوگا..
جی بھیا… لیکن… وہ

لیکن ویکن چھوڑو گڑیا میری بات سنو… اگر مجھ پر بھروسہ اور اعتبار ہے تو میں نے تمھیں یشب شاہ آفندی کے نکاح میں دینے کا فیصلہ کیا ہے… تمھیں منظور ہے..بولو

سوہن ہکا بکا زیان کا چہرہ دیکھتی گئی… وہ یہ کیا کہہ رہے تھے…
بھیا….. اس نے صدمے سے پھٹی آنکھوں سے کہا… لیکن بھیا سویرا اور فائزہ مما………

ان کی چھوڑو تم میرے فیصلہ کا بولو.. اگر مگر کرنا ہے.. یا یہ فیصلہ منظور ہے..

. دلکش بھی یہی چاہتی ہے وہ دیکھو.. زیان نے اشارہ کیا تو دلکش اندر داخل ہوئی.. اس کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر مہربان مسکان تھی… میری گڑیا میں بھی یہی چاہتی ہوں اب جو بھی ہو رہا ہے اسے چپ چاپ ہونے دو..پھر ہم نے ہال میں پہنچنا ہے..

سوہن نے روتے ہوئے کچھ کہنے کو لب کھولے…
آں… آں… چپ اور چلو.. دلکش نے باریک دوپٹے سے اس کا گھونگھٹ نکالا…
وہ دونوں اسے بازوؤں سے پکڑے بڑے سے لاؤنج میں لے کر آئے..
سوہن کو تو آج حیرت کے جھٹکے لگنے کا دن تھا..

لاؤنج میں گرینی.. گرینڈ پا… علی… بلال…. زین اور مولوی صاحب موجود تھے…

وہ خود شہزادوں جیسی آن بان لئے وہاں بلکل تیار سفید کلف لگے شلوار قمیض اوپر بلیک ویسکوٹ پہنے سنجیدگی سے سر جھکائے بیٹھا تھا..

ایجاب و قبول کا مرحلہ گزرا… وہ قیامت خیز مرحلہ تھا.. جب اس سے پوچھا گیا
سوہن کامران ولد کامران ملک آپ کو یہ نکاح با عوض ایک کروڑ حق مہر یشب شاہ آفندی کے ساتھ قبول ہے.. زیان اور دلکش نے اس کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا..

وہ کانپتے ہوئے دھیمے سے آخر بولی.
قبول ہے..
لرزتے ہاتھوں سے سائن کیے اتنی دیر میں یشب نے پہلی بار نظر اٹھا کر اس کے کانپتے مہندی لگے نرم و گداز ہاتھ دیکھے..

مبارک باد کی صدائیں بلند ہوئیں…زیان نے نم آنکھوں سے یشب کو گلے لگایا… اس کی آنکھیں بھی تشکر کے احساس سے نم ہوئیں..
وہ پتھر بنی بیٹھی بے آواز آنسو بہا رہی تھی.
کہ اسے سنائی دیا

پھولوں سے بھی نازک اپنی گڑیا کو تمھارے حوالے کر رہا ہوں یشب.. اسے توڑ نا دینا… اتنا خیال رکھنا جتنا ہم بھی نہیں رکھ پائے..

وعدہ کرتا ہوں…اتنا ہی خیال رکھوں گا کہ تمھیں کوئی شکاہت نا ہو…
یشب مڑا اور دلکش کے سر پر ہاتھ رکھا.. مجھے میرے جینے کا مقصد لوٹانے کے لئے میں کونسے الفاظ میں شکر ادا کروں اس چھوٹی لڑکی کا..
وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی… میری گڑیا کا بہت ہی زیادہ خیال رکھ کر..

اب ہمیں نکلنا ہو گا.. زیان نے عجلت میں کہا..
بھیا…….سوہن پہلو بدل کر کھڑی ہو گئی اور زیان کے بازو سے لپٹ گئی..
مجھے چھوڑ کے مت جائیں.. زیان نے گرینی کی طرف اشارہ کیا.. گرینی اور دلکش بہت پیار سے اسے لئے آئیں اور اسی بیڈ روم میں لا کر بٹھا دیا…

وہ بے تحاشا روتی ہوئی دلکش سے لپٹی جا رہی تھی.. بڑی مشکل سے دل اپنا آپ اس سے چھڑاتی وہاں سے نکلی..
وہ روتی ہوئی گرینی سے لپٹ گئی..

💞💕💖💝❤️💞💕💖💝❤️💝💝💝

زیان اور دلکش اسلام آباد کے سبزہ زار میں بنے یشب کے فام ہاؤس جہاں آس پاس گھنے درخت اور جنگلات سے تھے
نکلے…. ہال سے بار بار فون آ رہا تھا…

گاڑی میں گہری خاموشی تھی. جب زیان کے زہن میں پچھلے کچھ دنوں کا منظر گھوما… دلکش روتی ہوئی اس کمرے میں آ کر اس کے بازو پہ بچوں کی طرح لپٹی تھی…

بھیا …. وہ.
کیا ہوا… دل.. مجھے بتاؤ کیا ہوا.. زیان نے اسے صوفے پر بٹھایا اور جو اس نے بتایا زیان کو فیصلہ لینے میں چند سیکنڈز لگے

دلکش نے بتایا تھا کہ عمر شروع دن سے اپنی کسی یونیورسٹی فیلو میں انٹرسڈڈ ہے.. اسے سوہن میں کوئی دلچسپی نہیں.. وہاں بھی کئی بار وہ انھیں ملتے جلتے دیکھ چکی تھی.. پر اب تو وہ سویرا اور عمر کی ساری باتیں سن چکی تھی..
سویرا اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اسے اموشنل بلیک میل کر کے یہاں زبردستی لائی تھیں.. اور اب زبردستی نکاح کرنے پر تلی ہوئی تھی.
پہلے تو عمر نے یہ دھمکی دی کہ وہ نکاح کے بعد سوہن کو چھوڑ کر بھاگ جائے گا سوہن ساری عمر اس کے نام پہ بیٹھی رہے گی.. سویرا کو تو کوئی پرواہ ہی نہیں ہوئی پھر اس نے یہ دھمکی تک دے ڈالی کہ وہ عین نکاح کے دن بھاگ جائے گا..

زیان سوہن کی زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا..

وہ پھر دلکش کو یشب کے گھر لے کر آیا.. اسے سکیچ دکھایا اور ساری آنکھوں دیکھی تفصیل بتائی… دلکش تو بے حد خوش ہوئی کہ سوہن جیسی اس کی معصوم بہن کو اسی طرح کا چاہنے والا بندہ ڈیزرو کرتا تھا.

سوہن کو سویرا بیگم کو بتائے بغیر ان کی پہنچ سے دور کرنا بہت ضروری تھا… کیونکہ وہ اپنے پاگل پن میں سوہن کو اموشنل بلیک میل کرتی اسے واپس لے جا کر اس کی زندگی برباد کر سکتی تھیں. یہ بھی دلکش نے ہی کہا تھا.. کہ سویرا کتنی ضدی اور ہٹ دھرم ہیں اور سوہن کے معاملے میں کتنی شدت پسند…

اس لئے یہ سب ایسے کیا انھوں نے.. جوس میں بے ہوشی کی دوا خود ڈالی تھی اس نے.. پھر جب وہ بے ہوش ہوئی تو انھوں نے گاڑی فارم ہاؤس کی طرف موڑ لی.اتنی مقدار تھی دوا کی کہ وہ بہت .جلد ہی ہوش .میں آ گئی تھی.

ہال میں پہنچے تو پورا خاندان موجود تھا.. سب حیران ہوئے.. سویرا بیگم آگے بڑھیں.. زیان سوہن کدھر ہے..

پہلے آپ بتائیں آپ کا بیٹا کدھر ہے؟زیان پورے ہال میں نظر دوڑا چکا تھا… اس نے تلخ سے لہجے میں پوچھا تو سویرا چونک گئی

وہ اسے کوئی بہت ہی ضروری بزنس کا کام آ گیا تھا تو چلا گیا.. سویرا نے نظریں چرائیں لیکن پھر لہجہ میں رعب آ گیا جیسے سوہن ان کی زر خرید ہو… تم بتاؤ سوہن کدھر ہے میں واپس جا کر نکاح کر دوں گی..

او پلیز پھپھو… اب تو یہ جھوٹ بولنا بند کر دیں..اور پھر اس نے تمام بڑوں کی موجودگی میں عمر کی ایک ایک بات ان کے سامنے رکھ دی.
اور پھر ڈنکے کی چوٹ پر کہا… میں نے اپنی بہن کے ولی ہونے کی حیثیت سے اس کا نکاح اپنے دوست یشب شاہ آفندی سے کر دیا ہے.. میں اسے کسی بھی قسم کی خود غرضی اور ضد کی بھینٹ نہیں چڑھنے دے سکتا.اس نے تلخی سے سویرا بیگم کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھ کر اپنی بات جاری رکھی . کسی کو اس بات سے اعتراض ہے تو مجھے اس کی رتی بھر بھی پروا نہیں… وہ تو عمار اور عمیر دلکش اور ماہ رروش سے محبت ہی اتنی کرتے ہیں کہ میں یہ نکاح بھی ہونے دے رہا ہوں.. ورنہ تو میرا یہ ارادہ بھی بلکل نہیں تھا..

تم کون ہوتے ہو میری بیٹیوں کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے.

او کم آن پھپھو آپ صرف بیٹوں کی ماں ہیں.. اگر بیٹیوں کی ماں ہوتیں تو اتنی خود غرضی سے فیصلہ نا کرتیں..اور میں ان کا بھائی ہوتا ہوں.. جو ان کو ایک کھروچ بھی نہیں آنے دے سکتا……. زیان نے انھیں آئینہ دکھایا.. جس میں انھیں اپنا چہرہ نہایت بھیانک سا لگا..

کامران اور فائزہ نے فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھا جس نے کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اپنی بہن کی زندگی برباد ہونے سے بچا لی..

زیان شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا اور یشب کے خاندان سے کون واقف نہیں تھا.. اس لئے کسی کو بھی کوئی اعتراض اٹھانے کی جرات نہ ہوئی.

پھر دلکش اور ماہ روش کے نکاح ہوئے.. اور ولیمے کا فنکشن آخر اپنے احتتام کو پہنچا….

💞💕💖❤️💝💞💕💖❤️💝💝💝💝💝💝

وہ بیڈ پر بیٹھی بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے منہ بازوؤں میں دئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی…
کئی منفی سوچیں دماغ میں ہلچل مچا رہیں تھیں….
اس نے ہمیں کڈنیپ کیا ہو گا… بھیا اور دلکش کو ڈرایا دھمکایا ہوگا…اور بلیک میل کیا ہوگا اپنی طاقت کے بل پر…….
نہیں تو وہ مجھے ایسا کرنے کو کیوں کہتے…

اور اب تو اسے ایک اور… اور بلکل نئی فکر لاحق تھی.. وہ یہ کہ جتنی انسلٹ وہ اس کی کر چکی تھی تو کیا وہ اسے بخشے گا… اس دن کی بات یاد آئی جب وہ اس سے محض ڈر رہی تھی تو اس نے اپنے ہاتھوں کا کیا حشر کیا تھا… اور اب تو بڑی دیدہ دلیری سے وہ اسے کریکٹر سرٹیفیکیٹ دے چکی تھی تو اب وہ کیا پاگل پن کرنے والا تھا یہ سوچتے ہی خوف سے اس کا ننھا سا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا.. ہاتھ پاؤں سرد پڑ رہے تھے اور ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہو رہی تھی.
جب دروازہ کھلنے کی آہٹ پر وہ بری طرح سہمی اور خود میں سمٹ گئی…

💞💕💖❤️💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝