No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode……. 3
شہر کے بڑے سے ہال میں ابٹن اور نکاح کا فنکش ارینج کیا گیا تھا سب پہنچ چکے تھے..
وہ تینوں بھی پالر سے تیار ہو کر ہال میں موجود تھیں.. نظر نہیں ٹھہر رہی تھی ان پر.. شاکنگ گھٹنے سے زرا نیچے کرتیاں اور اورنج پٹیالہ شلواروں میں دوپٹے گلے میں بل دے کر یوں ڈالے ہوئے تھے ایک پلو آگے اور ایک پیچھے خوبصورت ہیر سٹائل کے ساتھ وہ آسمان سے اتری پریاں لگ رہی تھی..
سب شاداں و فرحاں ہال میں بیٹھے تھے.. پورا خاندان اکٹھا ہوا تھا…
نکاح ہو چکا تھا.
کامران کا خاندان نا اتنا براڈ مائینڈڈ تھا کہ مرد و خواتین کو اکٹھے کر دیتے نا اتنا دقیانوسی تھا کے بلکل ہی الگ کر دیتے.. اسی لیے بڑے سے ہال کو لکڑی کے منقش خوبصورت جالی دار تختوں سے الگ الگ کر دیا گیا تھا…
وہ تینوں سٹیج سے زرا پیچھے لکڑی کے تختہ کے بلکل پاس والے ٹیبل پر بیٹھ گئیں تھیں…
❤️❤️❤️❤️💕💕💕💕💕💕💕💕
یشب خالص اس زنانہ سے فنکشن میں آ کر کافی بوریت محسوس کر رہا تھا. اس نے تو فنکشن میں شامل ہو کر ہی زیان پر احسان کر دیا تھا.. ڈریس وہی simple بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ وہاں کئی حسیناؤں کے دل دھڑکا رہا تھا
.. بلال اور علی سٹیج پر زیان کے ساتھ تھے..
زین کو اس کا پرانا دوست مل گیا تھا تو وہ اس کے پاس چلا گیا تھا..
وہ ماتھے پر بل لیے سٹیج سے زرا ہٹ کر لکڑی کے منقش جالی دار تختے کے پاس جا کر بیٹھ گیا.
فون نکالا اور اس میں ضروری میسیجز چیک کرنے لگا
کہ اپنے عقب سے نسوانی کھلکھلاہٹوں کی جلترنگ سنائی دی..
♥️💖💕❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سوہن سویرا بیگم کو مس کر رہی تھی اسی لئے سیڈ سا منہ بنائے بیٹھی تھی.. دلکش کو اس معصوم چہرہ پر اداسی اچھی نہ لگی اس لئیے ہمیشہ کی طرح اسے ہنسانے اور چھیڑنے کے لئے بولی
ماہی……. شکر ہے شادی پنڈی میں ہے.. ملتان میں نہیں ہوئی..
کیوں دل…. ماہ روش نے معصومیت سے کہا..
اگر وہاں شادی ہوتی…. تو ہر طرف سے آواز آتی سون(حلوہ) پلیز……… سون(حلوہ) پلیز
دلکش نے ہمیشہ کی طرح اس کے نام سوہن کو بگاڑ کر سون کہا…
پھر بیچاری ہماری سوہن کبھی ادھر بھاگتی کبھی ادھر… کہ مجھے کون پکار رہا ہے… ہاہاہا ہاہاہا ان کی کھلکھلاہٹیں عروج پر تھیں.
یہ جانے بغیر کے ان کی یہ مہان گفتگو کوئی بڑی گہری مسکراہٹ اور دلچسپی سے سن رہا ہے..
اور تمھیں پتہ ہے دلکش وہ ویٹر تمھیں غور سے دیکھ رہا ہے اسے لگ رہا ہے کہ تمھارے گال پر مکھی بیٹھی ہے…سوہن نے اس کے گال پر بنے تھوڑے موٹے سے تل پر چوٹ کی،…. اپنا حسب بے باک کیا.. اور کھلکھلا کر ہنس پڑی…
اس کا موڈ بحال ہوتے دیکھ کر دلکش پر سکون ہوئی.
یشب شاہ ان کے بلکل عقب میں بیٹھا ان کی گفتگو سن رہا تھا.. جانے کیوں تیسری آواز اور ہنسی کی جلترنگ پر بری طرح چونکا… ابھی پیچھے مڑ کر دیکھتا کہ علی نے اسے آواز دی وہ علی کی طرف متوجہ ہو گیا..
❤️❤️❤️❤️💕💖💖💖💖💖💖💖
سوہن ڈئیر….. ایشو کیا ہے یار… مما کو مس کر رہی ہو تو فون کر لو انھیں..
پر یہاں بہت شور ہے میوزک کا.. اس نے اداسی سے کہا…
اففففف.. ماہ روش نے اپنا ماتھا پیٹا.. تو میری جان پاؤں پہ مہندی تو نہیں لگی باہر تشریف لے جاؤ..
اوو…. وہ خود بھی اپنی بے وقوفی پہ شرمندہ ہوتی فون لے کر اٹھی… اور منہ چڑاتی باہر کی سمت چلی گئ. ہال سیکنڈ فلور پر تھا.. ہال کے بہت بڑے سے دروازے سے گزر کر سیڑھیاں اتر کر بڑا سا ٹیرس تھا پھر اس ٹیرس کے ایک طرف فرسٹ فلور کی سیڑھیاں تھیں..
ٹیرس پر قدرے سکون تھا اس لیے وہ وہیں کھڑے ہو کر سویرا بیگم سے فون پر بات کرنے لگی…
💖❤️❤️❤️💖💖💖💖💖💖💖💖
یشب سٹیج پر گیا… زیان کو مبارکباد دی… اور ان کو واپسی کا بول کر اپنے فون پر مصروف سے انداز میں باہر آیا..
سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ نظر سامنے اٹھی اور پلٹنا بھول گئی…
وہ فون پر بات کرتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف پلٹی تھی..
وقت تھم گیا تھا…ہواؤں کا رخ بدلا… دل کے اندر تک ٹھنڈ سی پڑی… اس کے زخمی زخمی چھلنی وجود پر جیسے کسی نے مرحم کے پھائے رکھ دئیے..
روح پرور سا منظر تھا.. بے یقینی سی بے یقینی تھی.
یشب کے پاؤں وہیں جم سے گئے… دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آئے گا.
یشب کو خود پر حیرت ہوئی.
کیا اس کی imaginations اتنی strong ہو گئ تھی کہ اب تصور اور تخیل سے نکل کر وہ اسے اپنے سامنے اپنی طرف ہی آتی دکھائی دے رہی تھی.
سوہن فون پر بات کر رہی تھی کہ سویرا نے اس سے دلکش اور ما روش سے بات کروانے کا بولا.. وہ بات کرتے کرتے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کے اسے رکنا پڑا..
اوپر کھانا کھایا جا چکا تھا اور کافی سارے لوگ اتر کر نیچے آئے اور رستہ بلاک ہو گیا…
یشب بہت غور سے آنکھیں بار بار جھپک کر اپنے سے دو ایک سیڑھی نیچے اپنے بلکل سامنے اپنی ہیر کو دیکھ رہا تھا وہ سانس بھی مشکل سے لے رہا تھا کہ کہیں وہ ہلے اور اتنا مسرور کن منظر آنکھوں سے غائب ہو کر (خواب کی طرح) ہوا میں تحلیل نہ ہو جائے.
لیکن وہ تو بلکل سامنے فون کان سے لگائے بےحد کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتی باتیں کر رہی تھی ..
یشب کو کچھ سناہی کب دے رہا تھا… اس کا پورا وجود تو آج آنکھیں بن گیا تھا…
سوہن کو رش کم لگا تو راستہ بناتی بائیں جانب سے وہاں سے نکل گئی..
وہ وہیں پتھر بنا کھڑا تھا… کہ ہیر وہاں سے نکلی… جاتے وقت اس کے دوپٹے پر لگی پن جو کہ وہ اتارنا بھول گئی تھی بری طرح یشب کے ہاتھ کی پشت پر چبھی.
جب ہاتھ پر جلن سی ہوئی تو آگے کر کے غور سے ہتھیلی کی پشت کو گھورا… جس پر پن کی کھروچ اور ننھے ننھے خون کے قطرے تھے اور پھر
وہ بری طرح چونک کر ہوش میں آیا…
او… خدایا… تو کیا….. تو کیا سچ میں اس نے اپنی ہیر کو دیکھا تھا….. اس کی ہیر اسے اپنے وجود میں موجود ہونے کی نشانی خود ہی دے کر گئ تھی.
اس کھروچ کی صورت..اور… اور اسے ہیر کی دلفریب خوشبو بھی تو محسوس ہوئی تھی..
وہ اسے باور کرا گئی تھی کہ وہ……… ہے… اس کے آس پاس… بہت قریب..
اففف… وہ پیچھے مڑ کر دیوانہ وار بھاگا……. اندر ہال میں گیا.. کافی حد تک مہمان جا چکے تھے… اتنا بڑا بزنس ٹائیکون یشب شاہ آفندی پاگلوں کی طرح ہر کونے میں جا کر کچھ ڈھونڈ رہا تھا..
سوہن جو اندر آئی تو وہ دونوں ٹیبل سے غائب تھیں اس نے ردا آپی سے ان کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ برائیڈل روم میں ہیں..
وہ بھی ان کے پیچھے برائیڈل روم میں جا گھسی.
وہ جنونی انداز میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ وہ چاروں اس کے پاس آئے..
ارے تم تو جانے والے تھے.. گئے نہیں.. بلال نے حیرت سے پوچھا.
اس کے چہرے پر کچھ تو ایسا تھا جو کہ انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا جو انھیں بری طرح چونکا رہا تھا.. خوشی کی انتہا سے دمکتا… تمتماتا چہرہ..
وہ…وہ…. علی میں نے.. اسے دیکھا… ابھی ابھی.. اپنے بہت پاس… مجھے لگا میرا وہم ہے.. پر یہ دیکھو.. اس نے اپنی ہتھیلی کی پشت سامنے کی.. یہ دیکھو اس کے دوپٹے کی پن لگی مجھے.. تو مجھے پتہ لگا کہ وہ میرا تصور میرا خیال نہیں ہے.. میں نے اسے دیکھا یار..
وہ علی کی شرٹ مٹھی میں جکڑے ابھی ابھی خود پر گزرے قیامت خیز منظر کی روداد سنا رہا تھا.
وہ چاروں شوکڈ سے اسے دیکھے گئے..
یار وہم ہوگا تمھارا. ایسے کیس…… ….
چودہ سالوں میں تو مجھے کبھی وہم نہیں ہوا یا میں نے کہا ہو کہ مجھے وہ خواب کے علاوہ کہیں نظر آئی ہے.. یشب نے علی کی بات بیچ میں ہی اچک کر جواب دیا..
اس کی بات میں وزن تھا..انھیں ایمان لانا پڑا کہ یشب کی ہیر آ چکی ہے.
کہاں… کہاں دیکھا..نام پوچھا؟ کوئی بات کی؟
بلال نے بے چینی سے پوچھا
نہیں بات نہیں کی… پر اس نے اورنج اور شاکنگ کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا..
او میرے بھائی یہاں میرے پورے خاندان کی خواتین نے اسی کلر کے ڈریس پہنے ہوئے تھے… آخر زیان بھی بول پڑا..کچھ اور بتاؤ یار.. ہماری فیملی میں تو تم سب کو جانتے ہو مجھے لگتا ہے کہ ہماری ہونے والی بھابھی… نور کی کسی فیملی یا فرینڈز میں سے ہوگی. زیان پر سوچ سا بولا.
اب تو پھر کل ہی پتا چلے گا ابھی آج تو سب چلے گئے اور رات کے ایک بج گئے ہیں یار… علی نے کہا تو اس کے منہ پر پھر بارہ بج گئے.
اب منہ نا لٹکاؤ…. اس بات پھر ہمیں زبردست سی پارٹی دے کر جشن مناؤ کہ ہیر بھابھی مل گیئں ہیں…
یہ کل کب آئے گی یار… یشب نے منہ بنایا
اے خبردار جو میرے خاندان کی خواتین کو تاڑا تو… زیان نے اسے چھیڑا..
وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گیا.
سوری یار.. مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہوگا..
ابے…. چِل کر یار.. میں تو مزاق کر رہا تھا… میں تو خود کو خوش قسمت سمجھوں گا کہ میرے ہیرے جیسا بلند کردار دوست ہمارا دور کا ہی سہی رشتہ دار بن جائے گا..
ہاہاہا ہاہاہا.. اس کی بات پر سب ہنس دیئے..
فنکشن اختتام پذیر ہوا تو سب پنے اپنے گھر واپس آگئے
💖❤️❤️❤️💖💖💖💖💕💕💕💕💕💞💝
وہ بے حد خوش اور آکسائیٹڈ سا نور منزل پہنچا… اپنی پراڈو پورچ میں کھڑی کی اور گنگناتا گرینی کے پاس ان کے کمرے میں پہنچا…
گرینی اور شزا جو کہ اسی کا ویٹ کر رہی تھیں اسے اس قدر خوش سے اپنی طرف آتا دیکھ کر حیران ہوئیں..
اس نے آتے ساتھ ہی انھیں خوشی سے گھمانا شروع کر دیا…
ارے ارے یہ کیا کر رہے ہو بچے….
گرینی کے شور مچانے پر اس کے بلند قہقہے نور منزل میں گونجے…
Guess… What happened today?
اس نے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر پوچھا… خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی..
اس کی چمکتی آنکھیں دیکھ کر گرینی اور حتیٰ کے شزا کو بھی سمجھنے میں ایک پل نہ لگا کہ اس کو اس کی زندگی مل گئ ہے..
Ohhh… Bhai don’t say that
کہ آپ نے ہیر بھابھی کو دیکھا..زیان بھائی کی شادی میں پلیز جلدی بتائیں ناں.. شزا خوشی سے پاگل ہونے کو تھی…
یس میری جان…. ایسا ہی ہے
گرینی کا بھی چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا.. آگے بڑھ کر یشب کے ماتھے کا بوسہ لیا اور اس کی خوشیوں کی نظر اتاری.
مجھ سے تو انتظار نہیں ہو رہا.. بچے.. کب ملواؤ گے اس سے.
ہاں بھائی صبح ہی چلیں گے..
وہ دن بھی آئے گا.. جلد.. پر ابھی انتظار کرنا پڑے گا.. کیونکہ ابھی میں نے دیکھا ہے صرف تمھاری بھابھی کو.. ڈھونڈنا باقی ہے
پھر اس نے مختصر الفاظ میں ساری بات انھیں بتائی.
یشب اپنے گرینڈ پا کو بتایا تم نے.. تم نے انھیں پرامس کیا تھا کے سب سے پہلے انھیں بتاؤ گے..
او گاڈ…… میں تو بھول ہی گیا.. اکسائٹمنٹ میں..
پھر انھوں نے رحیم ملک کو ویڈیو کال کی… یشب نے انھیں خوش خبری سنائی.. وہ بھی بے حد خوش ہوئے….
💖💕❤️❤️💕💖💖💖💖💖💖💖💖💖
اگلا دن تمام تر رونقیں اپنے اندر سمائے ظہور پذیر ہوا تھا.
سب مہندی کی تیاریوں میں مصروف تھے
آج تو یشب بھی وقت سے پہلے ہی کامران مینشن آ گیا تھا
اور آکر شادی کے کاموں میں زیان کا ہاتھ بٹا رہا تھا.
زیان سمیت سب نے چھیڑ چھیڑ کر اس کے ناک میں دم کر رکھا تھا..
واہ بھئی کیا بات آج ہمارے شہزادے کام کر رہے ہیں…. اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے..زیان نے چھیڑا
کیا کروں.. وہ کہتے ہیں ناں کہ ضرورت کے وقت گدھے……
یشب…….. زیان احتجاجاً چلایا… یشب کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
💖💕❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
