No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode 5
زیان جھنجھلایا سا علی کی طرف مڑا..علی تم مجھے بت… . اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ بھی ہواؤں سے باتیں کرتا یہ جا وہ جا..
یہ ہو کیا رہا ہے یہاں… زیان تلملاتا…… فائزہ بیگم کو ضروری کام کا بتا کر گاڑی لے کر نکلا…
نور منزل کے پورچ میں جھٹکے سے گاڑی روکی.. تیزی سے باہر نکلا..
لاؤنج میں آیا سامنے ہی گرینی بیٹھی تھیں…
اسلام و علیکم… گرینی یشب کدھر ہے…ااس نے بے چینی سے پوچھا
وہ تو اپنے بیڈ روم میں ہے…. لیکن ہوا کیا بچہ.. وہ بھی یونہی طوفان بنا آیا اور کمرے میں گھس گیا آج تو نور بیٹی کے بھائی کی بارات ہے ناں..
جی… اسی لئے لینے آیا ہوں اسے…
وہ تیزی سے کہتا سیڑھیاں پھلانگتا اوپر پہنچا.. دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
سامنے یشب آج کینونس کی بیک سائیڈ پر بنے صوفے پر سر ٹکائے آنکھیں موندے سگریٹ پی رہا تھا..
زیان کی آہٹ پر اس نے سرخ آنکھوں سے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سامنے دیکھتے ہوئے پھر وہی شغل فرمانے لگا..
زیان تیزی سے آگے بڑھا.. کینونس پر سے کپڑا ایک جھٹکے سے کھینچا…. اور سامنے گیا…
ایک پل کو تو زیان بھی دنگ ہوا تھا..
سوہن.. وہ زیرِ لب بڑبڑایا . یہ قسمت نے کیا مزاق کیا تھا…
وہ تھکے قدموں اور جھکے کندھوں سے چلتا آ کر یشب کے پاس صوفے پر ڈھے گیا..
یشب اسی پوزیشن میں بیٹھا کسی غیر مرئی نقطہ کو گھور رہا تھا..
زیان کے دماغ میں پچھلے کچھ سالوں کے واقعات کسی فلم کی طرح چلے..
اپنے دوست کی محبت جنون دیوانگی کی سچائی.. بلکہ محبت نہیں عشق کی سچائی…
وہ تو یہ بھی جانتا تھا کی اب اگر اس کی محبت کو کسی نے اس سے چھیننے کی کوشش کی تو وہ جی نہیں پائے گا.. مر جائے گا..
وہ دونوں یوں خاموش تھے جیسے الفاظ اپنی موت آپ مر گئے ہوں….
یشب….. زیان نے پکارا..
ہوں……….
جلدی سے تیار ہو کر فنکشن پر پہنچو…یہ کہتے زیان تیزی سے نکل گیا…
جس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی وہ اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا.. اور اس کا یہ بھی مطلب تھا کہ وہ اس سے ناراض نہیں ہے.. کیونکہ اس میں یشب کا کوئی قصور نہیں تھا..
💕💖💞❤️💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
زیان گھر پہنچا تو خوشگوار سی حیرت ہوئی.. سامنے ہی لاؤنج میں سویرا بیگم فائزہ کے پاس بیٹھی نرم مسکراہٹ کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں..
اس نے جھک کر سر پر پیار لیا…
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز… پھپھو آپ کب آئیں…
آؤ بھئی دلہے میاں… صدا خوش رہو.. انھوں نے اس کے سر پر بوسہ دیا..
سرپرائز ہی ہے بیٹا… کسی کو نہیں پتہ تھا کہ ہم آ رہے ہیں..
دلکش.ماہروش اور سوہن کے تو چہرے دیکھنے والے تھے.. سویرا جیسے ابھی بھی تصور میں وہ سین اور ان کے خوشی سے دمکتے چہرے سوچ کر انجوائے کر رہی تھیں.
ہم…. مطلب اور کون آیا ہے… زیان نے ادھر ادھر دیکھا..
تینوں بھائی بھی آئے ہیں تمھارے….
او یہ تو بہت خوشی کی بات ہے.. ہیں کدھر شہزادے
دل ، ماہی اور سوہن کی تو شرارتیں پتہ ہی ہیں تمھیں.. آرام بھی نہیں کرنے دیا اور لے کر نکل پڑی شاپنگ پہ تینوں کو..فائزہ بیگم محبت سے بولیں.
او… اچھا… ٹھیک ہے… نور کے گھر سے فون آیا ہے مما پلیز سب کو کہیں جلدی سے ریڈی ہو جائیں وہ عجلت میں کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا.
❤️💕💖💞💝💝💝💝💝💞💖💕💕
یشب بارات کے لئے ریڈی ہو رہا تھا… بلیک کلر کے شلوار سوٹ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا.سندھی ڈیزائن کی چھوٹی سی چنری گلے میں ڈالی .. بلیک کلر میں سرخ و سپید رنگ دمک رہا تھا..
ہلکی بڑی ہوئی داڑھی.. گھنی سیاہ تنی ہوئی مونچھیں.. چوڑا مظبوط کسرتی جسم.
بے حد قیمتوں گولڈن ڈائل واچ کلائی میں پہنتا مصروف سا انداز تھا.. کہ فون رنگ ہوا.
نمبر دیکھ کر اس نے فون اٹینڈ کرنا ضروری سمجھا.
فون یس کر کے کان کو لگایا..
ہاں بولو… بھاری آواز اور رعب دار لہجہ تھا
وہ……. وہ.. سر… وہ…… سامنے والا ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس کے غصے سے پتہ نہیں کتنا خائف ہو
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے… تیمور جلدی بولو.. وہ بے زاری سے بولا…
وہ سر… میڈم جی یہاں شاپنگ مال میں اپنی بہنوں اور ان لڑکوں کے ساتھ ہیں جو ابھی کچھ دیر پہلے دوبئی سے آئے ہیں..
یشب کا دل چاہا یہ خبر سنانے پر تیمور کا سر پھوڑ دے… پر بولا تو اتنا کہ ٹھیک ہے اور کوئی خاص بات ہو تو بتانا…
تیمور اس کا ذاتی خاص الخاص وفادار آدمی تھا.. جس کے کام نہایت اہم ذاتی اور خاص نوعیت کے ہوتے تھے.
یشب نے سرخ چہرے کے ساتھ ٹیبل سے والٹ چابیاں اٹھائیں اور تیزی سے باہر نکلا.
💝💕💖💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
وہ شاپنگ کر کے ان کے ساتھ ہنستی کھلکھلاتی گھر پہنچیں..
گھر میں پارکنگ کے لئے جگہ نہیں تھی اس لئے گاڑی باہر گلی میں ایک طرف گاڑیوں کی قطار میں پارک کی.
ماہ روش اور دلکش اتری اور اندر چلی گئیں.. عمار اور عمیر نے شاپنگ کا سامان اٹھایا اور اندر چلے گئے.. سوہن اپنی سینڈل کی سٹریپ ٹھیک کر کے سیدھی ہوئی تو وہ دونوں غائب تھیں.
اس نے سوالیہ نظروں سے عمر کو دیکھا…عمر ہنس پڑا. وہ اندر چلے گئے اور اب چلو تم بھی.. کہ گاڑی میں ہی بیٹھنا ہے..
جی عمر بھائی..(وہ تینوں ابھی انھیں بھائی ہی کہتی تھی اور وہ بھی احترامً بلکل نارمل کزنز کی طرح بی ہیو کرتے تھے) . وہ گاڑی سے باہر آئی اتنے میں ہی گلی سے ڈھیر سارے لڑکے کرکٹ یونیفارم پہنے آئے اور راستہ بلاک ہو گیا وہ ڈر سی گئ..
وہ عمر کے پیچھے کھڑی تھی… گاڑی سے لگی… عمر اس کے بلکل قریب پیٹھ کیے کھڑا تھا. ایک ہاتھ گاڑی پر رکھے اس کے گرد ایک حفاظتی دیورا بنا..
تحفظ کا گہرا احساس اس کے رگ وپے میں دوڑا تو معصوم چہرہ پر پرسکون سی مسکان سج گئی.
اس نے عمر کے مضبوط بازو پر نرمی سے اپنے کومل اور مخملیں ہاتھ رکھے اور زرا سا پاؤں اٹھا کر ان بے شمار لڑکوں کو دیکھنے لگی جو کرکٹ یونیفارم پہنے ان کی گلی سے پلے گراؤنڈ کی جانب گامزن تھے..
یشب جو وہیں گاڑی سے ٹیک لگائے اس کا انتظار کر رہا تھا یہ منظر دیکھ کر جی جان سے جلا…
تبھی سوہن کو اپنے اوپر کسی کی پر تپش دہکتی نگاہوں کا احساس ہوا… دائیں طرف نگاہ اٹھی.. تو ریڑھ کی ہڈی میں خوف سے سنساہٹ سی ہوئی..
یشب شاہ آفندی اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا.. خونخوار اور شعلہ بار نگاہوں سے بھسم کر دینے والے انداز میں اسے گھور رہا تھا. غصے سے آنکھیں لال انگارا اور ماتھے کی رگیں تنی ہوئی تھیں جیسے ابھی پھٹ پڑیں گی..
اس نے یشب کی آنکھوں میں دیکھا.. یشب کی آنکھیں اس کی آنکھوں سے ہوتی ہوئیں اس کے نازک ہاتھوں تک آئیں..
بہت واضح تنبیہ تھی.. یشب کی شعلہ بار آنکھوں میں جیسے کہہ رہا ہو.. ابھی کہ ابھی ہاتھ ہٹاؤ.
اس کی تو جیسے روح ہی فنا ہوئی تھی،،، ہڑبڑا کر ہاتھ پیچھے کھینچے…
راستہ صاف ہو گیا تھا. لڑکے گزر گئے تھے…
سرخ چہرہ لئے عمر کے پیچھے سے نکلی.. اور بھاگ کر گھر میں آ کر اپنے کمرے میں بیڈ پر گر گئی…
ذرا خوف کم ہوا تو غصے سے جھنجھنا اٹھی…
How dare he……….. . Shitttttttttt…….Dog…..
الو کا پٹھا…. زلیل.. اس کی ہمت کیسے ہوئی.
اور میں… مجھے کیا ہوا تھا.. کیوں اتنا خوفزدہ ہو گئی تھی.. اس کے گھورنے پر آخر میں نے ہاتھ کیوں پیچھے. کیے…
ہوتا کون ہے وہ؟
کیا حق ہے اس کا مجھ پر..؟.. عمر میرا فیانسی ہے. وہ مجھے چھوئے یا میں اسے… آخر اسے کیا تکلیف ہے..؟
ہوتا کون ہے وہ مجھے میرے ہی فیانسی سے دور کرنے والا..
ہونہہ پاگل.. اب دیکھنا میں کیسے اس کی جان جلاتی ہوں جیسے میرا خون جلایا اس ایڈیٹ نے..
وہ بلکل غلط تہیہ کرتی پنک کرتی وائٹ پٹیالہ ڈریس لے کر واش روم میں گھس گئی یہ جانے بغیر کہ اس کے ہر عمل کا ردعمل ہوگا جسے وہ برداشت نہیں کر پائے گی..
❤️💖💕💝💞💖💖💖💖💖💖💖
وہ سب ایک بجے کے قریب نور کے گھر پہنچے اور وہاں سے بارات لے کر ہال میں….
وہاں ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا..
یہاں خواتین اور مرد حضرات اکٹھے تھے… سب اپنی اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھے تھے…
سویرا اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ بہت مسرور سے بیٹھی تھیں…
ان کے ٹھیک سامنے ٹیبل پر یشب، بلال، علی اور زین تھے جبکہ زیان فائزہ اور نور کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھا تھا..
یشب مسلسل اس کو اپنی نظروں میں فوکس کیے ہوئے تھا…رائل بلو گھٹنوں تک فراک نیچے ٹراؤزر پہنے وہ باربی ڈول لگ رہی تھی..
سوہن پہلے تو سویرا بیگم سے باتوں میں مگن رہی.. لیکن جب خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں پایا تو سامنے نظر اٹھی…
چھچھورا… لوفر… بدتمیز.. اس نے دل میں اس کو کوسا.. اور پھر ایک بات یاد آئی..
دل میں شیطانی سی ہنسی ہنس دی..
نکاح ہو چکا تھا.. کھانا کھانے کے بعد.. سب دلہن دلہے کو سلامی اور گفٹس دے رہے تھے. سویرا بھی اٹھ کر سٹیج پر چلی گئیں تھی..
اس نے ایک مرتبہ سامنے دیکھا.. وہ اسی طرف دیکھ رہا تھا… پھر ٹیبل سے فون اٹھا کر اٹھی اور پہلے عمار اور عمیر بھائی کے ساتھ اکٹھی سیلفیز لیں…
پھر عمر کا بایاں ہاتھ تھام کر اسے اٹھایا… عمر بھائی پلیز اٹھے ناں.. میرے ساتھ سیلفی لیں.. ابھی وہ مسکراتا اٹھ ہی رہا تھا کہ سوہن کے موبائل میں ایک unknown نمبر سے میسج رسیو ہوا…
اس نے یونہی میسج کھول کر پڑھا تو ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں…
Don’t you dare to do this….my love
Mut kro esa….. Agrr kia to
Then… Be ready to pay for it..😡😠
سوہن نے غصے سے لب بھینچے.. اور ریپلائی دیا…
Go to he’ll….
اور عمر کا بایاں ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا… اور اس کے سامنے بلکل قریب ہو کر مسکراتے ہوئے سیلفی لی…
یشب بھنا کر اٹھنے لگا علی نے وہیئں اس کا ہاتھ دبوچ لیا..
یشب نے تیمور کو میسج کیا… اور کوئی ضروری بات کہی. اس کے چہرے پر انتہائی سفاک سی مسکان آئی..
یشب…. پلیز… کنٹرول.. علی نے دبے سے لہجے میں اسے باز رہنے کو بولا کیونکہ وہ اس کی ہنسی سے ہی جان گیا تھا کے یشب کچھ برا کرنے والا ہے…
رخصتی ہوئی.. وہ سب ہنسی خوشی دلہن لے کر نور کے گھر آ گئے…یشب رخصتی کے بعد سے ہی غائب تھا علی پریشان ہوا کہ یہ لڑکا اب کیا قہر ڈھانے والا ہے..
نور کے گھر سے شام چھ بجے کے قریب تھکے ہارے اپنے گھر واپس آئے… سوہن دلکش اور ماہ روش ابھی کمرے میں آ کر سانس بھی ناں لیا تھا کہ سویرا بیگم کی دلخراش چیخ سنائی دیں….
وہ تینوں بوکھلا کر باہر نکلی تو دہل گئیں سامنے صوفے پر عمر اپنا بایاں ہاتھ لہولہان لئے بیٹھا تھا… سویرا رو رہی تھیں اور سب ارد گرد جمع تھے..
سوہن کی صدمے سے آنکھیں پھٹ پڑی…
آخر ہوا کیا؟ بچے……. فائزہ بیگم نے پوچھا.. زیان اس کا ہاتھ وقتی طور پر کپڑے سے باندھ کر کھڑا تھا.. ڈاکٹر کو فون کر دیا تھا…
پتہ نہیں مامی…. میں یونہی باہر نکلا… تین نقاب پوش تھے… بلکل اچانک گاڑی سے نکل کر دو نے مجھے پکڑا اور ایک نے بائیں ہاتھ پر کسی تیز دھار آلے سے کٹ لگا دیئے… جب تک مجھے کچھ سمجھ آتا تینوں فرار ہو گئے…
وہ درد ضبط کرتا سنا رہا تھا..
سوہن کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی تھی…زہن میں کچھ الفاظ گونجے..
Be ready to pay for it..
اس کا دل چاہا.. اسے ابھی جا کر شوٹ کر دے…. وہ اس سب کا زمہ دار خود کو سمجھ رہی تھیں.. آنکھیں ڈبڈبائیں…..
کوئی اس کی نم آنکھیں دیکھ نا پائے.. اس لئے منہ پر ہاتھ رکھا… اور پچھلے پیروں بھاگی کمرے میں آ کر لاک لگایا اور اوندھے منہ بیڈ پر ڈھے گئی.. آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے..
یہ کس مصیبت میں اس کی نازک سی جان پھنس چلی. تھی.. یہ سب آخر اس کے ساتھ ہو کیا رہا تھا.. وہ اس لمحے کو کوس رہی تھی جب اس نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا..
وہ دبی دبی سسک رہی تھی جب اسے کوئی آہٹ اور خود پر وہی روح جھلساتی نظر کا احساس ہوا… مردانہ کلون کی خوشبو بھی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی.. وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی..
سامنے دیکھا تو روح فنا ہو گئی.. سامنے وہ بڑی شان اور مغرورانہ انداز سے جتاتی نظروں کے ساتھ ٹانگ پر ٹانگ جمائے برجمان تھا…
سامنے موت نظر آئی تو اس نے حلق کے بل چلانے کو منہ کھولا.. جب یشب نے بجلی کی سی تیزی سے اسی کا بڑا سا دوپٹہ اپنے ہاتھوں میں لپٹا کر ایک ہاتھ سے اس کا منہ بند کیا اور دوسرا اس کے بالوں میں رکھا. گرفت نرم تھی..وہ دوبارہ اسے ڈائریکٹ چھو کر پہلی غلطی نہیں دہرانا چاہتا تھا…
وہسے بھی وہ کسی حق کے بغیر اس کو چھونا ہی نہیں چاہتا تھا.
سوہن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں وہ بری طرح مچلی اور اپنے نازک ہاتھوں سے وہ آہنی ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی…اپنے ناخن اس کے ہاتھوں کی پشت پر بری طرح گاڑے کہ خراشیں اور ننھی ننھی خون کی بوندوں سے ہاتھ لال سرخ ہو گئے.. وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت یوں مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا جیسے جانے کتنے اعزاز کی بات تھی وہ تو اس کے ہاتھوں کا نرم گرم لمس سے ہی مسرور ہوا جا رہا تھا.
Told you my love.. My life…. U will pay for it
پر تم نے میری بات اگنور کر دی….اس کی جزبات سے بوجھل آواز پر سوہن مرنے والی ہو گئی.
ہیر……. تم صرف اور صرف میری ہو….. اس نے سوہن کی آنکھوں میں جھانکا ..سوہن نے دیکھا…
کیا تھا ان آنکھوں میں عشق، شدت، پانے کی چاہ.. تڑپ درد اور جانے کیا کیا..
پہلی اور آخری وارننگ دے رہا ہوں… ہیر……. دور رہو اس سے…
وہ کہتا….. نرمی سے اسے چھوڑتا.. اطمینان سے کھڑکی سے پھلانگتا غائب ہو گیا..
پیچھے وہ پھر بیڈ پر ڈھے سی گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. اس کے دل سے شدت سے یہ دعا نکلی. کہ جلد از جلد یہ شادی ختم ہو اور جلد از جلد وہ اس سب سے….. اس جھنجھٹ سے دور پھر اپنی پرسکون زندگی میں واپس لوٹ جائے جہاں اس پاگل آدمی کا سایہ بھی اس کی پر سکون زندگی پر نا پڑے..
جہاں نا یہ پاگل پن ہو ناں یہ دیوانگی.. نہ ضد اور دھونس نہ خون خرابہ….
💖❤️💞💔💕💖❤️💞💖💖💖💖💝💝💝
ڈاکٹر نے آ کر پٹی کی تو عمر کو سکون ہوا.. پاس کھڑا زیان آج کے سارے واقعات اپنے زہن میں دہرا رہا تھا..
سوہن کا عمر کا ہاتھ پکڑنا اور یشب کا خونخوار نظروں سے یہ منظر دیکھنا….
تو کیا یہ سب یشب کے پاگل پن کا نتیجہ ہے…
دماغ نے تصدیق کی تو بھنا اٹھا..
فوراً گھر سے نکلا.
💖💝❤️💞💞💞💕💕💝💝💝💝💝
وہ گرینی اور شزا کے ساتھ بیٹھا…… ڈنر کر رہا تھا… علی بھی اس کے ساتھ ہی آیا تھا اور اس نے ہی بھوک کا شور مچایا ہوا تھا…..
ہاتھوں کی خراشیں چھپانے کے لئے دونوں ہاتھوں پر رومال باندھ لئے تھے..
بھائی یہ آپ کے ہاتھوں پر کیا ہوا…
کچھ نہیں…. ایک جنگلی بلی نے حملہ کر دیا تھا. وہ کھانے کی پلیٹ پر جھکا اپنی گہری مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا.
کہیں اس جنگلی بلی کا نام ہیر تو نہیں…… گرینی کے ڈائریکٹ پوچھنے پر وہ جھینپ کر اور پلیٹ پر جھکا..
شزا اور علی کو اپنی بتیسی چھپانا مشکل ہو گیا… کیونکہ وہ شرمایا ہی اس کیوٹ انداز سے تھا..
زیان افتاں خیزاں کچن میں داخل ہوا تو سب نے مڑ کر دیکھا اور چونکے…گرینی نے سوالیہ نظروں سے علی کو دیکھا تو علی نے انھیں بعد میں بتانے کا اشارہ کیا
وہ یشب کے قریب آیا یشب بھی کھڑا ہو گیا…
یشب یہ تم نے کیا ناں….. زیان نے اس کی آنکھوں میں جھانکا…
ہاں………………
اس کے اتنے اطمینان سے کہنے پہ زیان نے غصے سے لب بھینچے.. رگیں تن گئیں.. اب کے بار بولا تو لہجہ کافی سرد تھا…
یشب دور رہو سوہن سے…اس سے جڑے ہر شخص سے…
یشب نے زیان کو دیکھا.. اور کچن میں موجود ایک سیکریٹ کیبن سے گن نکلالی…
علی… گرینی اور شزا حیرت سے یشب کو دیکھنے لگے.. وہ زیان کی جانب بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو گن تھمائی… اور ٹھیک اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہو گیا…
گرینی آپ سب لوگ گواہ رہنا کے میں یشب شاہ آفندی پورے ہوش ہواس میں اپنا خون زیان ملک کو معاف کرتا ہوں..
زیان…….
You must be shoot me…
کیونکہ میں اس سے دور نہیں رہ سکتا… تو مجھے اس سے دور کرنے کے لیے صرف تمھارے پاس یہی آپشن ہے…
یہ کہہ کر وہ سرخ آنکھیں لئے خاموش ہو گیا…. جبکہ زیان افسوس سے سر ہلاتا اس سائیکو کو ملاحظہ کر رہا تھا.
جتنے غصے میں زیان آیا تھا… پر اب اس کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے اس سے آگے کچھ بولنے کو.. اس نے گن ٹیبل پر رکھی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا…
وہ بھی جھلاتا اپنے روم میں آکر بند ہو گیا بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں لیٹا…. اس کا سخت موڈ خراب ہوا تھا کہ اچانک ہی نظر ہاتھوں پر گئ… جلدی سے رومال کھولے… اور سفید مضبوط ہاتھوں پر خراشیں دیکھنے لگا.. ہونٹوں پر دلفریب مسکان آئی…. اور اپنے ہاتھوں کی خراشوں کو اس عقیدت سے چوما جیسے اس کی انگلیوں کو چوم رہا ہو… لمبی سی سانس اپنے اندر اتاری جیسے ان خراشوں میں سے اس کے لمس کی خوشبو محسوس ہوئی ہو..
میری جنگلی بلی….
مسکراتے ہوئے سکون سے آنکھیں موندیں…….
❤️💕💞💖💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝💝
