No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode. 1
فون رنگ ہوا… اپنے شاندار آفس میں بیٹھے فون پر جگمگاتے نمبر کو دیکھ کر یشب شاہ آفندی نے برا سا منہ بنایا. فون مسلسل رنگ ہوا تو مجبوراً یشب نے فون یس کر کے کان کو لگایا..
اسلام و علیکم… انداز لٹھ مار قسم کا تھا…
وعلیکم السلام… برخوردار.. کیا بات ہے بھول گئے… پر یہ تو نہیں بھولے کہ تمھاری جڑیں کہاں کی ہیں؟ فون میں سے شبیر شاہ آفندی کی بھاری رعب دار آواز گونجی.
اس نے بے زاری سے ہزار دفعہ کی سنی بات دوبارہ سنی..لمبا سانس سینے سے خارج کر کے گویا یوا
مجھے یاد ہے. داجی
تو میرے جگر واپس آ جاؤ ناں. انھوں نے تقریباً لجاجت سے کہا
آپ میرا فیصلہ جانتے ہیں داجی پھر اس ضد کا مطلب.. نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہوا.
ایک دن آئے گا برخوردار جب تم اپنے اصل کی طرف لوٹو گے. خون ہو تم ہمارا… ہمیں زبردستی کرنے پر مجبور مت کرو. میں اپنی طاقت سے نہیں محبت سے واپس لانا چاہتا ہوں تمھیں یار… جھنجھلایا لہجہ اپنی طاقت کے نشے میں چور جتاتی آواز میں بولے.
مجھے ابھی کچھ اور وقت چاہیے داجی…. پلیز…. یشب نے جان چھڑائی
سہی سوچو….. جلد….. سوچو میں کچھ دن کے بعد دوبارہ فون کروں گا. انھوں نے اللہ حافظ کہہ کر فون بند کر دیا.
اس نے فون ٹیبل پر پٹخا… اور چیئر کی سیٹ سے سر ٹکا کر ماضی کی تلخ یادوں میں کھو گیا.
مری کے ایک سبزا زار علاقے میں اس کا آبائی گاؤں تھا جس میں اس کے دادا شبیر شاہ آفندی وہاں کے گاڈ فادر تھے مطلب دولت ان کے گھر کی باندی تھی… آس پاس کے تقریباً سو گاؤں ان کی زیر سایہ تھے.
بےحد مغرور، انا پرست. کسی حد تک جابر اور بےحس بھی تھے.. ان کے دو بیٹے تھے ایک یشب کے والد ذیشان شاہ آفندی اور اس کے چچا عفان شاہ آفندی..
چچا کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی. جب کہ یشب خود چار بھائی اور ایک بہن تھی. پہلے چار بھائی چوتھا یشب جبکہ بہن سب سے چھوٹی تھی.. اس کے خاندان میں عجب دقیانوسی اور بےہودہ رواج تھا کہ دولت باہر نا جائے اس لئے خاندان کی لڑکیوں کی شادیاں خاندان سے باہر ہر گز.. کسی صورت نہیں کی جاتی تھیں..خود داجی کی بہن اماں فرزانہ جوڑ نہ ہونے کے سبب گھر بیٹھی ہی بوڑھی ہو گئی تھیں.. جبکہ اس کی دو پھپھیاں…. وہ جب بھی سوچتا اذیت کی انتہا پر پہنچ جاتا کہ کم عمر ہونے کی وجہ سے وہ انھیں بچا نہیں سکا..
وہ تو پہلے ہی خاندان کی رسموں سے باغی تھیں… پھر جب بڑی پھپھو سارا کا رشتہ اس سے پندرہ سال چھوٹے کزن سے کیا گیا تو بغاوت نے سر اٹھایا اور سارا نے کھلم کھلا رشتہ سے انکار کر دیا..
پھر کیا تھا… وسیع و عریض رقبے پر بنی حویلی کے باغ میں بنے کنویں میں سارا کی لاش ملی… بہانہ یہ گھڑا گیا کہ سارا کو نیند میں چلنے کی عادت تھی.نیند میں وہ کنویں میں گر گئی.. وہ بڑی حویلی اماں فرزانہ اور سارا کی جوانی نگل گئی تھی. اسی پر بس نہیں ہوا.. چھوٹی پھپھو ثانیہ کا خاندان کے باہر پسندیدگی کا اظہار ہی قیامت ثابت ہوا تھا..
جب ثانیہ کی لاش کنویں سے برآمد ہوئی تو دبی دبی چہ میگوئیاں ضرور ہوئیں کہ شاہ آفندی کی حویلی کی بیٹوں کو اتنا بڑا کنواں آخر نظر کیوں نہیں آتا.. لیکن کسی میں کھل کر اظہار کرنے کی جرات نہ ہوئی..
تین زندگیوں کی بربادی نے حویلی پر اپنا کالا سایہ پھیلا دیا… رات کو اکثر حویلی میں دبی دبی سسکیاں سنائی دیتی تھیں.. کئی معصوموں کی بدعائیں اور اپنے کئے گئے گناہ آفندی حویلی کو جکڑے ہوئے تھے . اسی لئے یشب کے تین بڑے بھائی شادی شدہ تھے لیکن بد قسمتی سے تینوں بے اولاد تھے.. ہزار حکیم، ڈاکٹر، ٹونے ٹوٹکے آزمائے گئے تھے لیکن بد دعاؤں کے کالے سائے اس حویلی کی نسل کو آگے بڑھنے نہیں دے رہے تھے….
اب دا جی کی آخری امید یشب سے تھی. جو بے حد لاڈلا ضدی.. اپنی منوانے والا غصیل اور ہٹ دھرم تھا. یہ ساری خصوصیات تو اسے دا جی سے ملی تھیں.
باغی تو وہ بھی ہو گیا تھا اپنے بے ہودہ رسم و رواج سے اسی لئے پورے خاندان کی مخالفت مول لیتا ہوا راولپنڈی اپنے نانا نانی کے پاس چلا آیا تھا..
ذیشان کی خاندان سے باہر پسند کی شادی ہوئی تھی.. کتنا کھلا تضاد تھا خاندان کے رسم رواجوں میں.. وہ اکثر تلخی سے مسکرا دیا کرتا.
اس کے نانا رحیم ملک بہت روشن خیال بہت پڑھے لکھے حساس… نرم دل اور مہربان انسان تھے.. دولت کی ریل پیل تو ان کے پاس بھی تھی کیونکہ وہ پنڈی کے ایک با اثر سیاسی لیڈر تھے.اسی لئے ذیشان اور اس کی مما نور بیگم کے رشتے سے کسی اعتراض نہیں ہوا.
گرینی ثروت بھی بہت پڑھی لکھی اور مہربان شخصیت کی مالک ڈاکٹر تھیں..
پورے خاندان کی ناراضگی اور مخالفت کے باوجود وہ چھوٹی بہن شزا کو بھی اپنے ساتھ ہی لے آیا تھا کیونکہ اب وہ اپنی بہن کو اپنے خاندان کے دقیانوسی روایات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہتا تھا..
وہ تو اپنی مما نور بیگم کو بھی لے آتا لیکن یہ بات سنتے ہی زیشان ہتھے سے اکھڑ گئے… اور روایتی بیویوں کی طرح نور بیگم نے حویلی سے آنے سے انکار کر دیا تھا.
اس کے غصے اور ضد سے تو سبھی ڈرتے تھے حتی کہ داجی بھی اس کے غصے سے خائف تھے اس لیے اس کو کوئی روک نہ سکا اور وہ اس زندان سے اپنی بہن کو نکال لایا.. یہاں وہ میڈیکل میں پڑھ رہی تھی. جبکہ خود اس نے MBA کر کے اپنا بزنس سٹارٹ کیا تھا..
اس کی محنت اور داجی کے چیلنچ کرنے کی ضد اور جنون میں اس نے اتنی محنت کی تھی کہ اب پورے پاکستان میں ہی اس کے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی چین تھی جو کامیابی سے چل رہی تھی.. اس کے علاوہ تین چار شاپنگ مالز بھی تھے جو اسی کے نام پہ چل رہے تھے..
یشب شاہ آفندی ان چند لوگوں میں سے تھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں
انٹرکام کی رنگ سن کر وہ ماضی کی تلخ یادوں سے باہر آیا.
یس…. فون اٹھا کر تھکے سے لہجے میں بولا.
سر… مسٹر زیان.. علی….. رضا اور بلال ملنے آئے ہیں آپ سے.. سیکرٹری نے اطلاع دی
ہاں فوراً بھیجو انھیں اندر… وہ سیدھا ہوا تو چاروں مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے ..
گرم جوشی سے انھیں گلے ملنے کے بعد انھیں ایک طرف صوفے پر بٹھایا…انٹرکام پر کافی لانے کو کہا
وہ چاروں ایک جان اور پانچ قالب تھے.. 😂.. کالج کے وقت سے ہی دوستی خون کے رنگ کی طرح گہری تھی..
اور بھئی میاں رانجھے کیسا چل رہا ہے… زیان نے یشب کو آتے ساتھ ہی چھیڑا.
ٹھیک ہوں… وہ دھیما سا مسکرایا.
امی نے بھیجا ہے اپنے لاڈلے کو پرسنلی طور پر کارڈ دینے کے لیے… زیان نے خوبصورت گولڈن کلر کا شادی کا کارڈ اس کے سامنے کیا. یشب کی فائزہ بیگم کی محبت سے مسکراہٹ گہری ہوئی.
ہمم تو بینڈ بجنے والا ہے ہمارے جگر کا ایک ماہ بعد .. یشب کی بات پر چاروں ہنسے..
کیا کروں یار امی کے کہنے پر بجوانا پڑا.. اس نے شرارت سے ایک آنکھ دبائی…
گرینڈ پا کو میں پرسنلی طور پر دے آیا ہوں کارڈ… زیان نے رحیم ملک کی بات کی.
ان کا تو مشکل ہے شادی میں شامل ہوں. وہ انھیں تاریخوں میں ملک سے باہر اپنے کسی ضروری کام سے جائیں گے.. یشب نے بتایا..
دلہا میاں یہ ہے ہم فضول میں ویلے اس کے ساتھ نائی بنے گھوم رہے ہیں.. علی نے جل کر کہا. سب کے قہقہے بے ساختہ تھے.
اوکے یار ہم چلتے ہیں…. کافی پی کر وہ جانے کے لئے کھڑے ہو گیے.. ہم سب نے کہیں نہ کہیں کارڈ لے کر جانا.. یہاں تو اکٹھے یہ تیرا پیارا سا تھوبڑا دیکھنے چلے آئے جو تم ہر وقت سجائے رکھتے ہو. پتہ نہیں کب دل سے مسکرایا کرے گا میرا یار….زیان مصنوعی ناراضگی سے بولا جبکہ یشب نے مسکرانے پر اکتفا کیا..
وہ چاروں چلے گئے تو یشب آفس میں بنے اپنے سپیشل کیبن میں آ گیا.. جہاں اس کے علاوہ کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی..
کیبن خوبصورتی کی مثال تھا. جہاں چھوٹی سی جگہ پر دنیا کی ہر آسائش موجود تھی..
پر وہ خود تشنا تھا. بے چین… بے سکون .چودہ سال سے وہ مسافر کی طرح اپنی منزل کی جستجو میں خوار ہوتے بھٹک رہا تھا.. . وہ کیبن میں جا کر ایک سنگل صوفے پر بیٹھا جہاں ایک خوبصورت کینونس پر لیڈ پینسل سے ایک خوبصورت سکیچ بنایا گیا تھا… لیڈ پینسل سے بنایا گیا بے رنگ سکیچ. جس نے اس کی زندگی کے تمام رنگ چرا لئے تھے. مگر سکیچ میں موجود آنکھوں اور بالوں کا رنگ بھورا تھا اور یاقوتی نازک لبوں کا رنگ گلاب کی ماند سرخ…
ہیر……میری ہیر… یار کب ملو گی مجھے… سب کو اپنے اپنے ساتھی مل گئے ہیں… بس ایک مرتبہ سامنے آجاو میرے. پھر میں تمھیں دنیا بھلا دوں گا… اتنی محبت کروں گا تم سے کہ تم خود کو بھلا دو گی….مجھے اتنا مت تڑپاؤ یار کہ اس تڑپ کے بدلے میں تم سے لوں..
وہ اس سکیچ کے سامنے بیٹھا باتیں کرتا کوئی جنونی لگ رہا تھا..
پھر سائیڈ ٹیبل کی دراز سے اپنا ہارمونیکا نکالا… اور اپنی مخصوص دھن بجانے لگا.. دھن بہت پر سوز تھی. اور اس کا پاگل پن شدید.
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دلکش میری شرٹ واپس کرو…. سوہن زور سے چلائی اور دل کے پیچھے بھاگی… ان تینوں نے لاؤنج میں ادھم چوکڑی مچائی ہوئی تھی…ماہروش بھی سوہن کا ساتھ دیتی دل کے پیچھے بھاگ رہی تھی لیکن وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل جاتی.
سویرا بیگم لاؤنج میں داخل ہوئیں تو ان کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیں یا ان تینوں کا..
یہ کیا ہو رہا ہے… انھوں نے ان تینوں کو ڈپٹتے ہوئے بولا
مما دیکھیں یہ دلکش میری شرٹ نہیں دے رہی. وہ رونی شکل بنا کر بولی.
یہ میری ہے… دلکش نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولا
جھوٹ….. مما اس کی شرٹ پھٹ گئی تھی اب یہ میری پر قبضہ جمانے کے چکروں میں ہے. سوہن نے پھر دہائی دی.
چپ ایک دم چپ… جب تم تینوں کو پتہ ہے کہ دلکش کی شرٹ خراب ہو گئی ہے تو میں یہ شرٹس تم دونوں کو بھی پہننے نہیں دوں گی تو اس بحث کا مطلب… سویرا نے انھیں جھاڑا
سوہن کی بڑی بڑی آنکھیں ڈبڈبائیں…. پر مما یہ مجھے بہت پسند تھی..
اس کی بھری آنکھیں دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سویرا موم کی طرح پگھلی….
اچھا ادھر آؤ میری گڑیا….. تم دونوں بھی… وہ تینوں پاس آئیں تو انھوں نے بچوں کی طرح پچکارتے ہوئے بولا میں اپنی ڈولز کو اس سے بھی زیادہ اچھی شرٹس لے کر دوں گی…
وہ تینوں بچپن سے بلکل ایک جیسے کپڑے پہنتی تھی.کلر مختلف ہوتے تو ڈیزائن ایک ہوتے… ڈیزائن مختلف ہوتے تو کلر ایک جیسے ہوتے پر زیادہ تر تو ایک جیسے ہی پہنتی تھیں.
حسب معمول وہ تینوں بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بہل گئی.ماہ روش اور دلکش بیس سال کی تھیں جبکہ سوہن اٹھارہ کی. . ماہ روش اور دلکش صوفے پر ڈھیر ہوگئیں.. جبکہ سوہن سویرا بیگم کی گود میں منہ دیئے لیٹ گئی.
اتنے میں سویرا کا فون رنگ ہوا…
پاکستان سے فائزہ بیگم کی کال تھی.
اسلام و علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ… اور سب کیسے ہیں کامران بھائی کا سنائیں… سویرا نے فون اٹھاتے ہی انتہائی محبت سے کئی سوال کر ڈالے.
وعلیکم السلام… بلکل ٹھیک ہیں… سب…. تم سناؤ سویرا… بھول ہی گئیں قسم سے… مانا کے تمھارے پاس دنیا کی خوبصورت ترین گڈیاں ہیں پر ایسا بھی کیا کہ بندہ اپنے بہن بھائیوں کو بھول جائے. فائزہ نے شکوہ کیا
سویرا ان کی بات پر مسکرا دیں…
ارے کہاں بھابھی… یہ تینوں آپ کی لاڈلیاں ہی ناک میں دم کیے رکھتی ہیں کچھ اور سوجھتا ہی نہیں.. سویرا نے جان نثار کرنے والی نظروں سے انھیں دیکھا جبکہ وہ اپنی شکایتوں پر شرارتی ہنسی ہنس دیں.
اچھا سنو ایک ضروری بات کرنی تھی. زیان کی شادی طے کردی ہے تمھارے بھائی نے بس ایک ماہ ہے جلدی سے تیاری پکڑو اور پہلی فرصت میں میری پریوں اور میرے بیٹوں کو لے کر پاکستان پہنچو…
اچھا… بہت خوشی کی بات ہے یہ تو… بھابھی میں بہت خوش ہوں… لیکن آپ کو پتہ تو ہے کہ وقار کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی.. ان کا سفر بند ہے… عمار اور عمیر تو ترکی گئے ہیں اپنی جاب کے سلسلے میں اور عمر بزنس کے ساتھ ساتھ اپنے ڈیڈ کی بھی دیکھ بھال کرتا ہے. ہم تو عین شادی کے قریب ہی شرکت کر سکیں گے… ہاں لیکن پریشان مت ہوں. ان تینوں افلاطونی ہواؤں کو بھیج دوں گی پندرہ دن پہلے.. آپ کے پاس… سویرا نے اپنی مجبوری بتانے کے ساتھ ساتھ انھیں خوشخبری سنائی..
چلو ٹھیک ہے… سویرا تم پریشان مت ہونا. میں سمجھ سکتی ہوں… بے فکر ہو کر وقار کی دیکھ بھال کرو.
میری گڈیوں سے تو میری بات کرا دو…
پھر وہ ان تینوں سے باتیں کرنے لگیں. اور سویرا کہیں ماضی میں کھو سی گئیں.
وہ چار بھائی بہن تھے… سب سے بڑے کامران پھر عمران… پھر فائزہ اور سب سے چھوٹی مائدہ.
کامران کی شادی سویرا کی بیسٹ فرینڈ فائزہ سے ہوئی تھی..سویرا کی شادی دبئی میں وقار سے…
کامران کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا زیان تھا… فائزہ کے تین بیٹے تھے. عمر کی پیدائش کے وقت کچھ ایسی پیچیدگیاں ہوئیں کے وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھیں . وقار اور ان کی لاکھ خواہش کے باوجود سویرا کے ہاں کوئی بیٹی پیدا نہیں ہوئی.
عمران کی دو جڑواں بیٹیاں تھیں گڑیوں کی طرح حسین ماہ روش اور دلکش.. جب وہ ایک سال کی ہوئیں تو ادھر فائزہ بیگم کے ہاں پھر خوشخبری سننے کو ملی… ان کو بھی اب کے بار جڑواں بچے پیدا ہونے تھے. فائزہ نے سویرا سے وعدہ کیا کہ اگر بیٹیاں پیدا ہوئی تو وہ انھیں سویرا کی گود میں ڈال دیں گی.. جب بچوں کی پیدائش ہوئی تو ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی. وعدہ کے مطابق فائزہ نے اپنی بیٹی سویرا کی گود میں ڈال دیا سویرا نے گود میں لیتے ہی اس پری کو سوہن کا نام دیا..
… چھ ما گزر گئے.. ابھی تو سہی طرح خوشیاں انجوائے نہیں کیں تھیں کہ عمران اور ان کی بیوی ایک حادثے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے.. پیچھے دو سال کی ماہ روش اور دلکش یتیم ہو گئیں..
وقار کے بے حد اصرار پر سویرا نے ان دو گڑیوں کو بھی گود لے لیا..پاکستان میں بھی ان کا بہت بڑا گھر تھا لیکن
وقار کا سارا کاروبار دوبئی میں تھا… تو سویرا بھی اپنے بچوں سمیت ان تینوں کو لے کر دبئی آ گئیں.
وہ بیٹوں سے زیادہ ان تینوں کے لئے پاگل اور پوزیسو تھیں. وہ ان تینوں کو لے کر اتنی حساس تھیں. بہت کم عمری میں ہی انھوں نے ان تینوں کو اپنے ہی تین بیٹوں سے منسوب کر دیا تھا… تاکہ وہ کبھی ان سے الگ نہ ہو پائیں.. انھیں چھوڑ کر نا جائیں..خاندان والے بھی ان کی حساسیت کو جانتے تھے کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا. . ماہ روش اپنے سے دس سال بڑےعمار سے… دلکش اپنے سے آٹھ سال بڑے عمیر اور سوہن اپنے سے چھ سال بڑے عمر سے منسوب تھی.
سویرا نے ان سے کچھ بھی نہیں چھپایا.. کیونکہ مستقبل میں ان کی شادیاں اسی گھر میں ہونی تھیں وہ الجھیں نہیں.. اسی لیے سویرا نے انھیں تمام حقیقت بتا دی. تھی. سویرا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ وہ ہر چیز کو پوزیٹولی لیا کرتی تھیں.
وہ محبت کرنے کے لیے اور محبتیں سمیٹنے کے لیے پیدا ہوئیں تھیں.. خود کو خوش قسمت سمجھتی تھیں کہ انھیں ہر طرف سے چاہے سگے والدین ہوں چاہے ان کے گارڈین انھیں اتنا پیار ملا تھا.
سویرا ان کا ہر طرح سے خیال رکھتی تھیں.. یہ بھی انھیں کا ہی خبط تھا کے کہیں ان کی کسی چیز میں فرق نہ آ جائے وہ انھیں ایک جیسی چیزیں کپڑے جوتے غرض ہر چیز ایک جیسی لے کر دیتی تھی کہ کوئی یہ نا سمجھے کہ کسی سے امتیازی سلوک ہوا ہے..
مما ہم بہت اکسائیٹڈ ہیں پاکستان جانے کے لئے… دلکش کی آواز سویرا کو ماضی سے باہر کھینچ لائی…
فون بند ہو چکا تھا… اب وہ تینوں سر جوڑے شادی کی پلاننگ میں مصروف تھیں… سویرا کا دل تو نہیں تھا.. انھیں خود سے دور کرنے کو پر اس شادی پہ انھوں نے بڑا فیصلہ لینا تھا… خاندان کے سامنے انھوں نے اپنے بچوں کا نکاح جیسا بڑا فریضہ انجام دینا تھا….
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
یشب مسجد میں وضو کر رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے ایک نسوانی آواز سنائی دی..
سنیں میں نے بھی وضو کرنی ہے یہ لوگ مجھے وضو نہیں کرنے دے رہے..
یشب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سفید پیروں تک فراک… سفید بہت ہی بڑے دوپٹے میں وہ ناک تک چہرہ چھپائے اس سے مدد طلب کر رہی تھی.. البتہ بھوری آنکھیں اور ماتھے سے بھورے بال نظر آ رہے تھے.
یشب نے ادھر ادھر دیکھا… مردوں اور عورتوں کا ایک جم غفیر تھا جو ہر طرف موجود تھا لیکن کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا… یشب نے اسے وضو کرائی… نماز کا تو پتہ نہیں پر منظر بدلا تھا اب یشب نے خود کو ایک باغ میں پایا تھا.. جہا چہار سو رنگ برنگے پھولوں کا دریا سا تھا باغ کے قریب ایک نہر تھی.. جس کے کنارے کنارے وہ سفید لباس میں فراک کو پکڑ کر تھوڑا اپر اٹھائے چل رہی تھی.
یشب ہمیشہ کی طرح اس کے پیچھے ہو لیا..
وہ کھلکھلائی اور اپنے قدم تیز کر لئے.. باغ میں اس کی پائل کی چھنکار اور ہنسی کی جلترنگ گونج رہی تھی.. سفید دوپٹہ اب اس کی گردن میں تھا دونوں پلو پیچھے کے طرف دائیں بائیں اڑ رہے تھے.. بھورے بال کمر کے نیچے تک جھول رہے تھے.. . یشب نے بھی قدم تیز کیے.
ہیر……… رکو. ہیر.. میری بات سنو… میرے پاس آؤ… اس نے دیوانہ وار اسے پکارا.. وہ چلتی رہی یشب نے اور تیزی سے چل کر اس کا بازو پکڑا اور رخ اپنی جانب کھینچا.. وہ اس کے بلکل مقابل اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی مسکرا رہی تھی..
یشب اسے دیوانہ وار دیکھے جا رہا تھا جیسے دیدار سے اپنی پیاسی آنکھیں سیراب کر رہا ہو..
وہ پھر کھلکھلائی اور بازو چھڑا کر پھر اس سے دور ہونے لگی… وہ تڑپ گیا..
ہیر ہیر……….
یشب شاہ ایک مرتبہ پھر خواب سے ہڑبڑا کر ہیر… ہیرپکارتا اٹھ بیٹھا
❤️💕💣💣💣💕❤️💕💕❤️💕❤️💕❤️
