No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
خوابِ عشقم
از واحبہ فاطمہ
Episode…. 4
آج صبح سے ہی سوہن کی طبیعت بوجھل سی تھی.اور ہلکا بخار تھا.. پتہ نہیں تھکاوٹ تھی کہ نظر لگی تھی کسی کی بری طرح..
جو بھی تھا.. وہ بیڈ پر فائزہ بیگم کی گود میں منہ دئے لیٹی تھی.. دلکش اور ماہ روش بھی پریشان تھیں.کیونکہ اگر سویرا بیگم کو اپنی لاڈلی کی طبیعت کا پتہ چل جاتا وہ تو بھونچال ہی مچا دیتیں..
وہ میڈیسن لے کر سارا دن سوئی رہی.. اسی لئے شام کو جب اٹھی تو قدرے فریش تھی..
سب تیار ہو رہے تھے.. وہ سستی سے بیڈ پر بیٹھی تھی.. دلکش اور ماہ روش بلکل تیار کمرے میں داخل ہوئیں اور اس کا پیرٹ گرین اور ییلو کلر کمبینیشن کا. لہنگا صوفے پر رکھا..
آج مہندی کا فنکشن تھا.
سوہن جلدی سے فریش ہو کر ڈریس پہن کر آؤ… پالر والی آ گئی ہے..
سوہن نے نفیس سے کام ولے ڈریس کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا..
کیا……… میں برائیڈل تو نہیں ہوں..
یار مجھ سے کیری نہیں ہوگا یہ ٹیپیکل پاکستانی ویڈنگ ڈریس… کل بھی اس ڈریس کو سنبھالتے میری جان نکل گئی تھی.. اس نے برا سا منہ بنایا..
کچھ نہیں ہوتا میری نازک سون پری…. پاکستانی تو ایسے ہی ڈریس ہوتے ہیں.. حالانکہ فائزہ مما نے ہمارے کہنے پر ابھی بلکل ہلکے کام والے کپڑے لیے ہیں… اور اگر سویرا مما کی ویڈیو کال آ گئی تو پھر.. وہ ناراض بھی ہوں گی اور ان کو تمھاری طبیعت کا بھی پتہ چل جائے گا..
دلکش کی بات سن کرمجبوراً وہ وہی ڈریس اٹھا کر واش روم میں گھسی. نہا کر نکلی.. پالر والی بھی آ چکی تھی..ہلکی جیولری… ہلکا میک اپ.. اور خوبصورت لہنگا… اور میچنگ نازک سا لمبی چین والا پرس جسے سکول والے بچوں کی طرح گلے میں ڈال کر ایک طرف کیا ہوا تھا.
تیار ہو کر اس کا نوخیز حسن اور کھل گیا تھا.. بخار کی حدت میں ہلکا سا تپہ معصوم چہرہ اور بھی حسین اور قیامت خیز لگ رہا تھا.
فائزہ بیگم نے جانے سے پہلے ان تینوں کی نظر اتاری.
❤️💕💞💞💞💝💝💖💝💝💝💝💝
وہ سب ہال میں پہنچ چکے تھے سوائے زیان کے… اس نے ابھی تیار ہو کر آنا تھا..
مہمان انا شروع ہو گئے تھے..
یشب، علی، بلال اور زین… اینٹرس کے بلکل سامنے والی ٹیبل پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے..
یشب کی پیاسی نگاہ بار بار بھٹک کر اینٹرس کی طرف جا رہی تھی.. وہ سب اس کی بے چینی نوٹ کر رہے تھے..
💝💞❤️💕💖💖💖💖💖💖💖💖
وہ تینوں زیان اور فائزہ بیگم کے ساتھ ہال میں پہنچیں تھیں وہ اوپر آئے.. ابھی ٹیرس پر پہنچے تھے کہ سوہن کا فون رنگ ہوا.. سویرا بیگم کی کال تھی.. اس نے فون یس کر کے کان کو لگایا سب رک گئے تو اس نے انھیں اندر جانے کا اشارہ کیا.. خود وہیں کھڑے ہو کر کال سننے لگی.. کیونکہ اندر کافی شور ہونا تھا.
وہ اندر چلے گئے….
اسلام و علیکم.. مما.. کیسی طبیعت ہے آپ کی.
میں ٹھیک… میری بچی کیسی ہے… صبح سے جانے کیوں دل بے چین ہے.. تم تینوں ٹھیک تو ناں
سویرا کی اتنی گہری محبت پر وہ اس کے نازک لب مسکرائے..
او مما آپ. بھی ناں بچوں کی طرح ہمیں مس کر رہی ہیں.. وہ کھلکھلائی..
سویرا بھی مسکرا دی.. سوہن کی فریش آواز سن کر انھیں تسلی ہوئی.. کچھ ضروری باتیں کرنے کے بعد اسے فنکشن اور اپنی تصاویر سینڈ کرنے کی ہدایت دیتی سویرا بیگم نے فون بند کر دیا..
سوہن نے مسکرا کر فون بند کیا پھر جھنجھلائی…پیروں سے نیچے تک جاتا لہنگا اور نازک ہائی ہیل سنبھالنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا..
اس نے نازک سے انداز سے لہنگا پکڑا اور سیڑھیاں چڑھنے لگی…
💖💝💞❤️💕💖💖💝💝💝💝
یشب بار بار پہلو بدل رہا تھا کہ پھر من چاہا منظر دیکھتے ہوئے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر اپنی سیٹ سے اٹھتا چلا گیا…
سامنے ہی وہ بےچاری سی شکل بنائے لہنگے سے الجھتی اپنی تمام تر نزاکت سمیت اس کے دل میں اتر گئی..
علی، بلال اور زین نے چونک کر پہلے یشب اور پھر اینٹرس کی طرف دیکھا.. جہاں انھیں ایک نازک سی گڑیا جیسی حسینہ اندر آتی دکھائی دی.
ایک نظر دیکھ کر انھوں نے فوراً بڑے احترام سے اپنی نظروں کا زوایہ بدلا تھا کہ وہ ان کے دوست کی امانت تھی.. اس کو دیکھنے کا حق صرف اور صرف یشب شاہ آفندی کا تھا..
وہ جا چکی اس کے باوجود یشب یونہی بت بنا کھڑا رہا.. علی نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ ہوش میں آیا.
میں نے کہا تھا ناں کہ میں نے اسے دیکھا… وہ آ گئ…
یشب نے اتنی بے خودی کے عالم میں بھی اپنے دوستوں کا احترام سے نظریں جھکانا نوٹ کر لیا تھا.کیونکہ وہ اس کے پاگل پن سے واقف تھے. . یشب کو ان کارٹونوں پر ٹوٹ کر پیار آیا..
ہاں… ہم نے بھی دیکھا.. بھابھی کو.. بلال نے آہستگی سے کہا.
تو اب کیا… علی نے سوال کیا..
میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں…اس سے ملنا چاہتا ہوں.. اس نے ایسے فرمائش کی جیسے بچہ چاکلیٹ مانگتا ہے..
اوکے.. فائن.. ہو گئی ملاقات سمجھو… ہم اپنے شہزادے کے قدموں میں دنیا جہان کی خوشیاں ڈال دیں گے…
یشب نے پیار سے علی کو گلے لگایا…
💞💕❤️💝💖💝💝💝💝💝
فنکشن اپنے عروج پر تھا رسم کی جا رہی تھی…
سوہن مسلسل خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں محسوس کر کے الجھ رہی تھی.. پھر سر جھٹک کر دلکش اور مہ روش میں الجھ جاتی…
اس نے دلہا دلہن کی اور سب کی تصاویر بنائیں پھر دلکش اور ماہ روش کے ساتھ بنائی..
کھانا شروع ہوا.. جانے کیا بات ہوئی کے ویٹرز ہر تھوڑی دیر بعد آ کر نظریں جھکائے پوچھ لیتے
میم….. کچھ چاہیے آپ کو….. ان تینوں کو حیرت ہوئی.. سوہن نے کندھے اچکا کر دلکش اور ماہ روش کو دیکھا آگے سے انھوں نے بھی نظروں سے اشارہ کیا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے…
فنکشن تقریباً ختم ہی ہو چکا تھا.. مہمان جانے شروع ہو گئے تھے..
دلکش ڈریسنگ روم بہت خوبصورت ہے آؤ ناں.. سیلفیز لیتے ہیں… مما کے پاس سینڈ کرنی ہیں..
نہیں بھئی ہم تو تھک گئے.. اب ہمارا کہیں جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے..
ماہی نے بھی کہا کہ اس کا بھی موڈ نہیں تو وہ انھیں گھورتی اٹھی اور خود ہی ڈریسنگ روم میں چلی گئی.
علی نے یشب کو اشارہ کیا….. یشب کی تو مانو روم روم میں سرشاری پھیل گئی.
یشب دھیمی چال چلتا آگے بڑھا اور بلال اور علی اس کے پیچھے تھے…
💖❤️💕💞💞💞💞💞💞💞💕❤️❤️💖💖
سوہن ڈریسنگ روم میں قد آدم شیشے کے بلکل سامنے کھڑی کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتی ایک ہاتھ میں موبائل پکڑے دوسرے سے وکٹری کا نشان بناتی سیلفیز لے رہی تھی..
کہ کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا… سوہن کو تو تب پتہ چلا جب اسے فون میں بلکل اپنے عقب میں ایک شخص پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے بڑے اطمینان سے خود کے نگل جانے والی نگاہ سے دیکھتے پایا..
وہ جھٹکا کھا کر پیچھے کی طرف مڑی..
یشب اس کے ایک ایک نقش کو اپنی پیاسی آنکھوں سے چھو رہا تھا.وہی مقناطیسی بھوری آنکھیں.. کمر سے نیچے تک بھورے گھنے بال… وہی یعقوتی نرم و نازک لب.. سمندر سے گہری جھیل سی بڑی بڑی حیرت سے پھٹی آنکھیں .پر ایک اضافی چیز بھی تھی اس کے نچلے ہونٹ کے تھوڑا نیچے بنا سیاہ تل .
وہ اس کے دیدار سے اپنی آنکھیں سیراب کر رہا تھا.
اے…… مسٹر.. کیا مسئلہ ہے…؟سوہن غرائی اس کی خود پر ایسی نگاہیں اسے کراہیت سے دوچار کر رہی تھیں
ٹھرکی.. لوفر کہیں کا… .بے حد غصے سے بڑبڑاتی اس کی دائیں سائیڈ سے نکل کر باہر جانے لگی.
یشب اطمینان سے لمبی لمبی سانسیں کھینچتا سکون اپنی روح تک اتارتا وہیں اسی پوزیشن میں کھڑا رہا..
وہ دروازے تک گئی.. باہر نکلنے ہی والی تھی کے دو اور لڑکے اس کہ راہ میں حائل ہوئے…ان کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں..
کیا تکلیف ہے… ہٹیے سامنے سے… وہ بھنا کر بولی.
دیکھئے محترمہ پہلے اس کی بات سن لیں.. پھر بے شک چلی جائیے گا.. علی نے سنجیدگی سے نظریں جھکائے کہا..
ان کو راستے میں پتھر بنا دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا وہ یوں نہیں ہٹنے والے.
اب کی بار تو وہ اس صورتحال سے اندر سے بری طرح نروس ہوئی.. پر سویرا بیگم نے انھیں ڈرنا ہر گز نہیں سکھایا تھا..
اس نے پلٹ کر اس لوفر… کی پشت کو گھورا.. جس کی خود پر پڑنے والی عجیب دہکتی نظروں سے ہی وہ خائف ہوئی جا رہی تھی..
وہ انھیں پیروں سے چلتی ہوئی ایک مرتبہ پھر یشب کے سامنے آئی..
جی… تو میں نے پوچھا کیا مسئلہ ہے آپ کو وہ دانت پیس کر طنزیہ بولی.
I love you heer..
یشب نے اس کے سر پر بم پھوڑا..
واٹ… وہ غرائی اسے لگا اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے..
ایکسکیوزمی…. ؟ سوہن نے دوبارہ پوچھا
I said I love you…
مجھے پتہ تھا تم ضرور آؤ گی اور دیکھو… میرے سامنے ہو.. ہیر
وہ حیرت سے منہ کھولے اسے یوں مشکوک نظروں سے گھور رہی تھی.. جیسے کہنا چاہتی ہو.. یہ پاگل کس نے پاگل خانے سے بھگا دیا..
اسے اب اس شخص سے ہمدردی ہو چلی تھی..
اور پھر واقعی اس نے زرا سا جھک کر اپنا پرس ٹٹولا اور اس میں سے ایک کارڈ نکالا. اس کی طرف بڑھاتی ہوئی ترحم بھری نگاہوں سے دیکھتی بولی.
You really need this.. Please consult with this number as soon as possible…
یشب نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ تھاما تو کسی سائیکولجیسٹ کا وزٹینگ کارڈ تھا.. یشب کی مسکراہٹ گہری ہوئی.
.. نیڈ کی کیا پوچھتی.. ہو… مجھے اس کی نہیں تمھاری.. صرف اور صرف تمھاری ضروت ہے.. اب تم مل گئ ہو تو کسی اور چیز کی طلب نہیں..وہ بے خود سا ہوا… اور اسے حقیقت میں ایک مرتبہ چھو کر دیکھنے محسوس کرنے کی خواہش اس شدت سے دل میں اٹھی کہ وہ مچل گیا…
مسٹر اپنی حد مم….. سوہن بولتے ہوئے ایک دم صدمے سے چپ ہوئی.. غصے اور حیرت سے آنکھیں پھٹ پڑی.. کیونکہ وہ اس کے دونوں نازک گداز بازوؤں کو اپنی نرم گرم مچلتی گرفت میں لے چکا تھا.. اور اس کے دیدار کرنے کو قریب ہوتا جا رہا تھا..
سوہن اب کی بار اس ساری سچویشن سےڈر کر اندر تک ہلی تھی.. خوف سے جان نکلنے کو تھی.. اس نے یشب کی دہکتی…. اپنی جانب لپکتی آنکھوں میں دیکھا.. اور یہ سوچتے ہی کہ وہ حیوان اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے سوہن کے سامنے دنیا گھوم گئی.
وہ تیورا کر پاس پڑے صوفے پر بیٹھنے کے انداز میں گری اور بے ہوش ہو کرایک طرف لڑھک گئی…
یشب کی گرفت بہت نرم تھی جیسے کسی کانچ کی گڑیا کو تھاما ہو… اسی لئیے وہ اس کی گرفٹ سے نکل کر صوفے پر جا گری..
اس سے پہلے کہ یشب تڑب کر اس پر جھکتا یا اسے دوبارہ چھوتا…
علی اور بلال نے اس پیچھے سے دبوچا..
علی… یہ… یشب نے بے بسی سے کہا…
چھوڑو اسے یشب… پاگل مت بنو… ابھی تمھارا اس پر کوئی حق نہیں… کوئی آ جائے گا.
مجھے اسے دیکھنا ہے… ابھی اور………. پلیز.. وہ بچوں کی طرح مچلا.
دماغ ٹھکانے پر ہے یشب. کنٹرول. یور سیلف… .وہ اس سب سے انجان ہے.. … چھوڑو اور چلو یہاں سے.. وہ اسے تقریباً گھسیٹتے وہاں سے لے گئے تھے.
💞❤️💖💕💕💕💕😍😍😍😍😍😍😍💝💝
ماہی…… کافی دیر ہو گئی.. سوہن نہیں آئی… دلکش نے پریشانی سے کہا… اتنے میں فائزہ بیگم اور زیان ان کے قریب آئے…
بلال یشب کو لے کر جا چکا تھا.. علی وہیں ڈریسنگ روم کے آس پاس اس انتظار میں تھا کہ کب کوئی اس کے یار کی زندگی کو آ کر دیکھے..فائزہ زیان اور دو لڑکیوں کو ڈریسنگ روم کی طرف دیکھتے دیکھ کر وہ انجان سا بنا قریب آیا.. اور ان کے پریشان چہرے دیکھ کر پوچھا کیا ہوا آنٹی..
وہ سوہن نہیں مل رہی… میری چھوٹی بہن جو دوبئی سے آئی تھی..
زیان نے فکر مندی سے کہا.
وہ پریشانی سے کھڑی ہوئیں.. کیونکہ سب مہمان تقریباً جا چکے تھے….
مما سوہن ڈریسنگ روم میں گئی تھی..
چلو دیکھتے ہیں..
وہ سب ڈریسنگ روم کی طرف بھاگے… جبکہ زیان کے منہ سے چھوٹی بہن سن کر علی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکی تھی..
وہ بھی ان کے پیچھے آیا.. وہ سب روم میں اندر آئے تو دم بخود رہ گئے.. سوہن صوفے پر ہوش و خرد سے بیگانہ ایک طرف گری پڑی تھی..
وہ تڑپ کر آگے بڑھے… زیان کی تو جان پر بن گئ..
اس کا سر اٹھا کر اپنے بازو کے اوپر رکھا..
سوہن میری گڑیا… سوہن… کیا ہوا. اٹھو گڑیا.زیان نے اس کا چہرہ تھپتھپاتے پکارا.. دلکش اور ماہی اس کے ہاتھ پاؤں مسل رہیں تھیں.. فائزہ بیگم تو باقاعدہ رونا شروع ہو گئی تھیں..
جبکہ علی دبخود سا لب سختی سے بھینچے یہ منظردیکھ رہا تھا…کیونکہ زیان اسے باتوں ہی باتوں میں سوہن کے بارے میں سب کچھ بتا چکا تھا.. اس کی منگنی کے بارے میں بھی…
بخار تو صبح سے ہی تھا میری بچی کو… پتہ نہیں کیسے طبیعت اتنی خراب ہو گئی…
افف.. مما آپ تو چپ کریں.پلیز. . مت پریشان ہوں.. دلکش پانی لے کر آؤ… دلکش بھاگ کر باہر سے پانی لے کر آئی
زیان نے اس کے منہ پر ہلکے سے پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے زرا سی آنکھیں کھولیں..اپنے اوپر زیان کو جھکے دیکھ کر وہ
بھیاااااااا… پکارتی ان کے سینے سے لپٹ گئی..
💕❤️💝💞💖💖💝❤️💕💕❤️💝💞💞
علی چپکے سے باہر نکلتا چلا گیا…
وہ از حد پریشان تھا…. اسی پریشانی میں گاڑی تقریباً اڑاتے ہوئے نور منزل پہنچا…
لاؤنج میں آیا تو سامنے ہی گرینی اور شزا بیٹھی تھیں.. شزا بھاگ کر اس کے پاس آئی..
بھیا… بھائی نے آ کر بتایا کہ آپ پتہ لگا لیں گے کہ ہیر بھابھی کون ہیں اور ان کے گھر والوں کے بارے… آپ نے پتہ لگا لیا ناں… کیا ہم صبح ملیں گے ان سے.؟ شزا کی آواز میں دبا دبا سا جوش تھا..
ہاں گڑیا ملیں گے ان سے بھی…. پر پہلے یہ بتاؤ یشب کہاں ہے..
اس کی غیر معمولی سنجیدگی دیکھ کر شزا چونکی.
بھائی.. تو اپنے کمرے میں ہیں.. اور کہا ہے کہ جب بھی آپ آئیں تو ……
علی پوری بات سنے بغیر سیڑھیاں چڑھا.
اس کے روم میں آیا تو حسبِ توقع وہ سکیچ کے سامنے راکنگ چئیر پر بیٹھا تھا.. آج تو اس کے پاس اس کے موبائل میں بے شمار تصاویر بھی تھیں..
یشب نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ علی کو اپنی طرف آتا دیکھا..سیدھا ہو کر بے حد فکر مندی سے پوچھا
ٹھیک تھی ناں وہ بلکل….
ہاں ٹھیک تھیں…….
جانتے ہو علی…… اس نے مجھے یہ دیا.. یشب نے وزیٹنگ کارڈ اس کے سامنے کیا……. میری جھلی. ہیر کو لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں…پر اسے ابھی یہ نہیں پتہ کہ اس کا یشب اسی کے پیچھے پاگل ہے… وہ خوبصورت سی ہنسی ہنسا.. جیسے خود ہی اپنی بات انجوائے کی ہو..
علی دھیمی سی چال چلتا اس کے پاس گیا اس نے زرا سا مڑ کر ایک نظر سکیچ دیکھا.. فوراً نظریں جھکائیں.. اور دل میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگا
کیونکہ سکیچ واقعی ہو بہو جیسے سوہن کو سامنے رکھ کر بنایا گیا تھا…
اس کے اس طرح دیکھنے پر یشب کو اس پر بے حد پیار آیا اور کھلکھلا کر ہنس پڑا..
تم کیا کنفرم کرنے آئے ہو کے وہی لڑکی میری ہیر ہے.؟ کر لیا کنفرم؟ .. دیکھ لو… میرے دماغ کا فتور نہیں یہ… یشب نے جتایا
اچھا یار اب اتنا نہ تڑپاؤ اور بتاؤ مجھے اس کے بارے میں… اب اور انتظار نہیں ہوتا یار… وہ بے چینی سے بولا
سوہن……. نام ہے…. ان کا.. علی نے بتایا..
سوہن… اس نے زیرِ لب عقیدت سے نام دہرایا.. وہ چونکا… یہ تو سنا تھا اس نے… جب اس دن وہ لڑکیاں اس کے نام سے چھیڑ رہی تھیں اسے…
یشب کو نام پہ اور نام والی پہ ٹوٹ کر پیار آیا..
جانتے ہو کون ہیں وہ… علی نے سنجیدگی سے کہا.. یشب نے اس کی غیر معمولی سنجیدگی تو اب نوٹ کی تھی..
وہ فوراً سیدھا ہوا.. کون ہے؟
آپ کی ہیر… ہمارے زیان کی دوبئی پلٹ سگی بہن سوہن ہے. علی نے اس کے سر پہ بم پھوڑا.
واٹ……..وہ شوکڈ سا تھا….
وہ زیان کی سویرا پھپھو کے پاس ہوتی ہیں… اور… علی خاموش ہوا
اور کیا؟
اور وہ شادی کے بعد واپس چلی جائیں گی.. اور
یشب کے دل کو کچھ ہونے لگا… اور کیا یار ایک ہی مرتبہ بتا دو بار بار کیوں اذیت دے رہے ہو.. یشب نے اذیت سے لب بھینچے..
اور وہ انھیں سویرا آنٹی کے بیٹے سے انگیجڈ ہیں. علی نے دھیمے سے لہجے میں کہا جیسے یہ اس کی کوئی غلطی ہو…
یشب کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکی… چہرے پر زلزلے کے سے آثار نمایاں ہوئے.. رگیں تن گئیں اور آنکھیں لال انگارہ ہو گئیں
جب بولا تو لہجہ کافی سرد تھا..
اٹس اوکے….انگیجمنٹس ٹوٹ بھی جاتی ہیں.. حادثے بھی ہو جاتے ہیں.. منگیتر مر بھی سکتا ہے.. اس نے ہوا میں بات اڑائی..
یشب…………… علی نے تنبیہی آواز میں اسے پکارا..
کیا یشب… مجھے کوئی بھی تنبہہ تم تب کرتے جب تم مجھ سے.. اس سب سے… میرے پاگل پن سے انجان ہوتے..
علی تم تو جانتے ہو ناں سب…یشب نے بے بسی کی انتہا پر پہنچ کر علی کے بازو جھنجھوڑے……. بولو…. جانتے ہو ناں سب.. وہ میری رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے… اب سے نہیں پچھلے کئی برس سے. علی.. علی میرے یار.. وہ مجھے چاہیے کسی بھی طرح… کسی بھی قیمت پر.. میں.. میں مر جاؤں گا اس کے بغیر..میں آگ لگا دوں گا پوری دنیا کو اگر کسی نے بھی اسے مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی..
یشب نے دیوانگی سے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے..
علی کے دل کو کچھ ہوا.. اوکے ریلیکس یار…… اس نے اسے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا…اور خود اس کے بازو پکڑے اس کے پاس بیٹھ گیا.
ہاں… زیان جانتا ہے سب تمھارے بارے.. مجھے یقین ہے وہ سمجھے گا..
ہیر صرف یشب کی ہے.. میرے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت اسے تم سے نہیں چھین سکتی… ریلیکس ہو جاؤ.. مجھے جانتے ہو ناں…. علی نے یشب کی آنکھوں میں جھانکا.. جب کوئی بات ٹھان لی تو مطلب وہ ہو گئی.. ہیر تمھاری ہوئی… وعدہ رہا…. علی نے یشب کے سامنے ہاتھ پھیلایا.. یشب نے اپنا مضبوط چوڑا ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا… اتنی دیر میں وہ پہلی مرتبہ لال انگارہ آنکھوں سمیت مسکرایا اور علی کے گلے لگ گیا..
تھینک یو…. علی……تھینک یو سو مچ..
💕💖❤️💝💝💝💝💝💝💞💞💞💞💞
سوہن کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر پایا.. سر بھاری ہو رہا تھا. دلکش اس کے پاس گہری نیند میں سو رہی تھی.
زیان نے جب اس پر پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے آنکھیں کھولیں تھیں… زیان کے سینے سے لگ کر رونے لگی اور پھر غنودگی میں چلی گئی..
وہ اسے لئے گھر واپس آئے.زیان نے نرمی سے اسے بیڈ پر لٹایا. اور ڈاکٹر کو فوری لے آیا..
ریلیکس… بخار اور تھکاوٹ کی وجہ سے غنودگی طاری ہو گئی تھی اب یہ بلکل ٹھیک ہیں.. آرام کریں گی تو اور ٹھیک ہو جائے گی… ڈاکٹر کی بات پر سب کی جان میں جان آئی.
دلکش نے سب کو زبردستی آرام کی غرض سے ان کے کمروں میں بھیج دیا اور خود اس کے پاس لیٹ گئی…
سوہن اٹھی… جا کر صوفے پر بیٹھی اور سائیڈ ٹیبل سے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیل کر پیا… صوفے سے ٹیک لگائی.. آنکھیں موندی اور اپنی کنپٹیاں سہلانے لگی…
کون تھا وہ…….. مجھے ہیر کیوں پکار رہا تھا….
میں تو اتنی brave ہوں… پھر کیوں اتنا ڈر گئی… رکھ کے ایک چماٹ کیوں ناں لگایا اس کی اتنی جرات پر…
کیا مجھے زیان بھائی، دلکش یا ماہی کو بتانا چاہیے..
نہیں ہر گز نہیں… بھیا اپنی شادی انجوائے کرنے کے بجائے پریشان ہو جائیں گے.. اور دل اور ماہی. منع کرنے کے باوجود ضرور سویرا مما کو بتا دیں گی..
اول تو اللہ کرے وہ منحوس سامنے ہی نا آئے… اور اگر آ بھی گیا تو اس بار میں خود ہی اس کا مزاج درست کر دوں گی…
یہ ٹھیک ہے… وہ زرا ریلیکس ہوئی..
اور دوبارہ سکون سے سو گئی……
❤️💖💕💞💝💝💝💝💝💝💝💝💝💞
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو کافی فریش تھی.. انگڑائی لے کر اٹھی…. واش روم میں گھسی. فریش ہو کر باہر آئی.. رائل بلو سادا کرتی شلوار میں دودھیا رنگ دمک اٹھا… وہ دل اور ماہی کی تلاش میں باہر آئی…
کافی گہماگہمی تھی… سب فائزہ بیگم کے بھانجے کی بارات میں شامل ہونے کیلئے تیار ہو رہے تھے….
یشب، اور علی آج صبح صبح ہی کامران مینش چلے آئے تھے… لاؤنج میں ایک الیکٹرک بورڈ میں شارٹ سرکٹ ہو گیا تھا جسے وہ تینوں کھڑے ٹھیک کر رہے تھے….
زیان نوٹ کر رہا تھا کے یشب کی بے چین نگاہ بار بار چاروں اور گھوم کر مایوس واپس لوٹ رہی تھی.. وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے….
یشب………… زیان نے پکارا..
ہوں……….. وہ کسی گہری سوچ میں تھا..
ہیر ملی کل؟…
ہاں…. اس نے سچ بولا….
کیا؟ واقعی؟…. کون ہے؟ نام کیا ہے؟
یشب اور علی نے پہلو بدلا……… کہ ان تینوں کو زیان کے عقب میں کوئل جیسی آواز سنائی دی..
بھیا……… آپ نے دل یا ماہی کو کہیں دیکھا ہے.. زیان پیچھے ہٹا اور سوہن کی طرف متوجہ ہوا..
ہاں وہ دونوں تو ردا آپی کے ساتھ بازار گئ ہیں.. گڑیا ادھر آؤ…. اس نے سوہن کو اپنے قریب کیا..
ان سے ملو یہ ہیں میرے بیسٹ سے بھی بیسٹ فرینڈ.. یہ علی ہے اور یہ یشب.
علی باہر دیکھ رہا تھا جبکہ یشب کی نگاہیں تو اس کے ملیح چہرے سے ہی چپک گئیں تھی.. اس کے معاملے میں اس کا خود پر اختیا ہی کب تھا.. نظریں ہٹانا دنیا کا مشکل ترین امر لگ رہا تھا اسے..
سوہن نے سامنے دیکھا تو بھونچکی رہ گئ..
ماتھے پر فوراً ناگواری کے بل نمودار ہوئے… جبکہ زیان کے دیکھنے پر پھیکی سی ہنسی ہنس دی.
زیان پہلے سوہن کے ماتھے کے بل پھر یشب کی محویت دیکھ کر بری طرح چونکا….. یشب نے تو کبھی کسی کو آدھی نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تو آج وہ سوہن کے چہرے سے نظریں کیوں نہ ہٹا رہا تھا..
سوہن نے اس شخص کی نظروں سے دل ہی دل میں دوانت کچکچائے…لیکن زیان کی موجودگی میں کچھ کر نہ پائی..
بھیا…. مجھے مما بلا رہیں تھیں… یہ کہہ کر وہ تیزی سے اندر غائب ہو گئی… یشب کی نگاہ نے دور تک اس کا تعاقب کیا…
زیان بہت غور سے یشب کے تاثرات اور علی کا پہلو بدلنا نوٹ کر رہا تھا… کسی اندھے کو بھی یشب کی آنکھوں کی تڑپ دکھائی دے سکتی تھی زیان تو پھر اس کا بیسٹ فرینڈ تھا
اسے سمجھنے میں دیر نا لگی کہ……………….. اسنے بےحد بے یقینی سے یشب کا دیکھا..
یشب نے جب زیان کی نظروں میں دیکھا تو دل چاہا ڈوب مرے… بے یقینی… بد اعتمادی…. شکوہ کیا نہیں تھا ان آنکھوں میں…اسکی رگیں تن گئیں…
یشب…… یہ……….. ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ یشب جھٹکے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا…
یشب…. میری بات سنو…….. زیان چلایا مگر وہ جا چکا تھا
💕💖💞💝❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
