Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Girhan by Zoya Hassan Episode06

Girhan by Zoya Hassan Episode06

نور نے گرنے کی آواز سنی تو بد حواس ہوکے اسکی طرف لپکی اس وقت نہ تو اسے پردے کا ہوش تھا اور نہ زمانے کی فکر
زانوں کے بل فرش پہ بیٹھ کے اس نے تابش کے ماتھے کے بال ہٹائے اور رستے ہوئے خون پہ اپنا دوپٹہ رکھ دیا۔۔۔۔۔
تابش کی آنکھیں اسکے چہرے پہ جم گئیں۔۔۔۔ درد اور تکلیف سے بے خبر وہ اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
“اپنی آنکھیں بند کریں۔۔۔ !” اسے تابش کی کی تلواز نظریں اپنے وجود پہ محسوس ہوئیں تو وہ ہڑبڑا کے بولی۔
جیسے ایک فرمانبردار غلام اپنے مالک کا حکم بجا لاتا ہے۔ ویسے ہی تابش نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
“آپ بیٹھک تک خود جا سکتے ہیں۔۔۔۔؟” ماتھے سے خون صاف کرتے ہوئے وہ بولی
تابش نے سر ہلا کے اشارہ کیا لیکن نور کو اشارہ سمجھ نہیں آیا
“میں نے آنکھیں بند کرنے کا کہا ہے، منہ کھول کے بتا سکتے ہیں” وہ گھورتے ہوئے بولی
“نہیں ۔۔۔۔ جسم حرکت نہیں کررہا ۔۔۔۔” تابش نے کرہاتے ہوئے جواب دیا
ہلکی ہلکی بارش کی بوندیں پڑنے لگیں
“کسی کو بلانا پڑے گا۔۔۔۔ بابا پتا نہیں کب آئیں گے۔۔۔۔” وہ یہ کہہ کے کمرے کی طرف بڑھی
کمرے میں جا کے اس نے اپنا فون بیگ سے نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگی
“اسلام علیکم۔۔۔۔۔ !” فاطمہ کی ماں نے فون اٹھایا
“وعلیکم سلام۔۔۔۔۔! خالہ میں نور بات کررہی ہوں” وہ جلدی جلدی بولنے لگی
“جی بیٹا بولو۔۔۔۔۔!” انھوں نے پوچھا
“خالہ کیاآپ سکندر بھائی کو ہمارے گھر بھیج سکتی ہیں۔ ۔۔” وہ پریشان ہوکے بولی
“کیوں بیٹا خیریت۔۔۔۔ ؟” وہ بھی پریشان ہو گئیں
“خیریت نہیں ہے۔۔۔۔ ہمارے مہمان کو بجلی کا جھٹکا لگا ہے۔ وہ فرش پہ بری حالت میں پڑے ہیں۔۔۔ بابا گھر پہ نہیں ہیں۔۔۔ اس لیے آپ سے مدد مانگ رہی ہوں۔ سکندر بھائی بس انھیں بیٹھک تک چھوڑ دیں، باقی بابا خود آکے دیکھ لیں گے”
“اچھا بیٹا۔۔۔ میں ابھی بھیجتی ہوں۔۔۔۔” یہ کہہ کے انھوں نے فون بند کر دیا
بارش تیز ہونے لگی۔
وہ باہر آئی تو تابش اٹھنے کی کوشش کررہا تھا۔
“بس دو منٹ صبر کر لیں۔۔۔۔ میں نے کسی کو مدد کے لیے بلایا ہے” وہ پاس آکے بولی، اب کی بار اس نے اپنے آپکو چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔
تابش نے اسے پاس آتا دیکھا تو پھر سے آنکھیں بند کر لیں۔ اور اپنا سر فرش پہ ٹیک دیا۔ اسکے بائیں گھٹنے اور کندھے پہ شدید چوٹ لگی تھی۔
کچھ ہی دیر میں فاطمہ اور اسکا بھائی سکندر پہنچے۔ سکندر نے تابش کو سہارا دیا اور بیٹھک میں لے جا کے لٹا دیا۔
نور نے فاطمہ کو سارا واقعہ بتایا۔ اتنے میں مولوی صاحب بھی گھر پہنچے۔ ساری صورت حال دیکھ کے وہ بھی پریشان ہو گئے۔ محلے کے ایک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر نے تابش کی مرہم پٹی کی۔ اور کچھ پین کلرز بھی دیں۔
“بیٹا۔۔۔۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ ہماری وجہ سے آپکو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی” مولوی صاحب تابش کے پاس آکے بیٹھ گئے
“نہیں۔۔۔ نہیں مولوی صاحب ۔۔۔۔ آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں۔ بس یہ حادثہ لکھا تھا۔۔۔۔ اس میں کوئی کچھ نہیں کر سکتا” تابش نے انھیں کہا
“آپ اپنے گھر والوں کو اطلاع کردیں” مولوی صاحب بولے
“مولوی صاحب۔۔۔ میں اپنے گھر والوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ اور ویسے بھی اتنی سی تو چوٹ ہے۔ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“بیٹا جیسے آپکی مرضی۔۔۔ میں تو بس یہی چاہ رہا تھا کہ اس حالت میں آپکے گھر والے زیادہ بہتر طریقے سے خیال رکھتے آپکا۔۔۔۔” مولوی صاحب نے جواب دیا
درد کم ہوا تو تابش کی آنکھ لگنے لگی۔ مولوی صاحب بھی گھر چلے گئے۔
“نور بیٹا۔۔۔۔ !” مولوی صاحب نے نور کو آواز دی
“جی بابا۔۔۔۔۔!” نور انکے پاس آکے بیٹھ گئی
“میں سوچ رہا تھا تابش کو اسکے گھر بھجوا دیتے ہیں، گھر والے زیادہ اچھی طرح سے اسکا خیال رکھیں گے، ہم کس طرح اسے سنبھالیں۔۔۔؟” مولوی صاحب کے چہرے پہ پریشانی کے آثار تھے
“آپ بجا فرما رہے ہیں ، لیکن کیا یہ بہتر ہوگا کہ ایسی حالت میں ہم اسے جانے کا کہہ دیں۔۔۔۔ میرا مطلب وہ اپنی مرضی سے جانا چاہتا ہے تو کوئی بات نہیں۔ ہم اسے جانے کا کہیں یہ مناسب بات نہیں ہے۔۔۔” نور نے مولوی صاحب کو سمجھایا
“شائد ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔۔ خیر۔۔ اللہ پاک اس بچے کو جلد صحت یاب کریں۔۔۔ ” یہ کہہ کے وہ کمرے میں چلے گئے
نور کیچن کے کام سمیٹنے لگی۔
نور کے دل میں ایک عجب سی الجھن تھی۔ حادثاتی طور پہ ہی سہی لیکن ایک نا محرم کے وہ اتنے قریب تھی، یہ بات اسے بار بار پریشان کررہی تھی کہ جذبات میں بہہ کر اس نے کچھ غلط تو نہیں کر دیا۔بستر پہ آکے لیٹی پر جیسے ہی آنکھیں بند کیں تابش کی وہی تندو تیز نگاہیں۔۔۔ پھر سے بے چین کرنے لگیں۔ خدایا خیر کرنا۔۔۔۔ دل میں اٹھتے سوال دھڑکنیں بے ترتیب کررہے تھے۔
صبح کی اذان کی آواز اسکے کانوں میں پڑی
“نور بیٹا۔۔۔ اذان ہورہی ہے۔ اٹھو جاؤ۔۔۔۔ نماز پڑھ لو۔۔۔” مولوی صاحب نے نور کو آواز دی
“نیند آئی کہاں تھی جو اٹھ جاؤں۔۔۔۔” وہ دل ہی دل میں بولی
“جی ۔۔۔ بابا۔۔۔ اٹھ گئی ہوں۔۔۔” نور نے جواب دیا
نماز سے فارغ ہوکے نور بابا کے کمرے میں گئی۔ وہ ہاتھ میں تسبیح لیے وظیفہ پڑھ رہے تھے۔ نور کو دیکھ کے انھوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“کوئی بات ہے۔۔۔؟” مولوی صاحب نے سوالیہ نظروں سے نور کو دیکھا
نور نے سرجھکا دیا
“بتاؤ بیٹا۔۔۔۔ کیا پریشانی ہے۔۔۔؟” مولوی صاحب اسکے اداس چہرے کو دیکھ کے اندازہ لگانے لگے
“بابا۔۔۔ میرے دل پہ ایک بوجھ ہے۔۔۔۔ جو سکون نہیں لینے دے رہا” وہ آنکھیں نیچے کرکے بولی
“کیسا بوجھ۔۔۔؟ کھل کے بتاؤ۔۔۔” مولوی صاحب بھی پریشان ہوگئے
“کل رات جب وہ دیوار سے نیچے گرا تو میں خوفزدہ ہوگئی تھی۔ کسی انہونی کے ڈر سے میں دوڑتی ہوئی اسکے پاس پہنچی۔۔۔۔ میرے حواس ایسے کھو سے گئے تھے کہ میں اپنا پردہ نہیں سنبھال پائی۔۔۔۔ اسکے پاس پہنچ کے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔۔۔۔ میں نے اسکے زخمی ماتھے پہ دوپٹہ رکھ دیا۔۔۔ میرے ہاتھ اسکے چہرے کو چھوتے رہے۔۔۔ ” اسکی آنکھیں چھلک پڑیں
مولوی صاحب خاموشی سے سنتے رہے
“بابا ۔۔۔ ! وہ میرے لیے نامحرم ہے۔ میں کیسے بے پردہ اسکے اتنے قریب پہنچ گئی۔۔۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے۔ میں اپنی اس غلطی پہ بے حد شرمندہ ہوں۔۔۔۔ میں آپ سے اور اس خالق سے اس گناہ کی معافی مانگتی ہوں” وہ سسکیاں لینے لگی
مولوی صاحب اٹھ کے نور کے قریب آئے اور اسکے سر پہ ہاتھ رکھ دیا
“بیٹا۔۔۔ ! ایک باپ کی نظر سے بیٹی کا کسی نا محرم کے پاس بے پردہ ہو کے جانا نا قابل برداشت چیز ہے۔ لیکن اگر میں اسے انسانیت کی نظر سے دیکھوں تو کسی کی جان بچانا ہر چیز سے افضل ہے۔ گناہ اور ثواب سب نیت پہ منحصر ہوتا ہے۔ تم جس نیت سے اسکے پاس گئی وہ گناہ کی نیت نہیں تھی۔ اس لیے اپنے آپ کو مجرم تصور مت کرو۔ وہ ذات سبھی کے دلوں کے راز خوب جانتی ہے” مولوی صاحب نے اسے تسلی دی
“چاہے کچھ بھی تھا، لیکن مجھے اپنے پردے کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ میں نادم ہوں۔۔۔” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
“بیٹا۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے تم نے غلط کیا ہے تو میں تمہیں معاف کرتا ہوں اور میرا اللہ بھی تمہیں معاف کرے۔ اب رونا بند کرو اور ناشتہ بناؤ۔ مہمان کو دوائی بھی دینی ہے” مولوی صاحب نے اسکا کندھا تھپتھپایا
نور کیچن کی طرف چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مولوی صاحب تابش کے لیے کچھ ضروری دوائیاں لینے گئے ہوئے تھے۔ نور رات کا کھانا بنانے میں مصروف تھی، بیٹھک سے کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ نور چونکی اور دروازے کے پاس گئی۔ اندر بالکل خاموشی تھی۔ وہ پھر سے کیچن میں آگئی۔ لیکن نظریں بار بار بیٹھک کے دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں، ایک عجیب سی بے چینی تھی کہ پتا نہیں اندر کیا ٹوٹا۔۔۔۔ تابش کی حالت سے واقف تھی۔۔۔ کہیں اسے کسی چیز کی ضرورت نہ ہو۔۔۔ خود سے سوال جواب کرتی وہ پھر سے دروازے کے پاس پہنچی۔ پھر بھی تسلی نہیں ہوئی تو اس نے برقعہ اوڑھا اور بیٹھک میں چل گئی۔ بیٹھک کے فرش پر کانچ کے جگ کی کرچیاں پھیلی تھیں۔ تابش کی آنکھیں بند تھیں دروازہ کھلنے پہ اس نے آنکھیں کھولیں تو نور پردے میں سامنے کھڑی تھی۔ تابش نے پھر سے آنکھیں موند لیں۔
“کچھ چاہیے آپکو۔۔۔۔” نو ر نے پوچھا
“جی۔۔۔ ! پانی ۔۔۔ چاہیے تھا۔ جگ تک ہاتھ بڑھایا لیکن وہ گر کے ٹوٹ گیا” تابش آنکھیں بند کیے بتانے لگا
نور واپس مڑی اور اسکے لیے پانی کا گلاس لے آئی۔
“یہ لیں۔۔۔۔ !اٹھ کے پانی پی لیں۔۔۔۔” نور نے پانی کا گلاس تابش کی طرف بڑھایا
تابش نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ہمت نہیں کر پایا۔ مولوی صاحب تو اپنے ہاتھ سے پانی پلا دیتے ہیں لیکن نور سے کیسے کہے۔۔۔
“ایک منٹ رکیں۔۔۔۔” نور نے اسے روکا
اور پانی کا گلاس اسکے ہونٹوں سے لگا دیا۔ تابش نے بنا آنکھیں کھولے سر تھوڑا اوپر اٹھایا اور پانی پینے کی کوشش کرنے لگا۔
“آپ آنکھیں کھلی رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔ میں پردے میں ہوں۔۔۔۔ ” دبی سی ہنسی ہنستے وہ بولی۔
تابش نے آنکھیں کھول دیں۔ اسے پانی پلانے کے بعد نور نے جلدی سے کانچ کے ٹکڑے اٹھائے۔ اور بیٹھک سے باہر نکلنے لگی۔ جاتے جاتے وہ ایک پل کے لیے رکی، تابش کی آنکھیں سامنے والی دیوار پہ ٹکی تھیں
“میں معافی چاہتی ہوں۔۔۔ میری وجہ سے آپ اس حادثے کا شکار ہوئے۔۔۔” وہ پیچھے مڑے بنا ہی بولی
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ آپ معافی مت مانگیں۔۔۔” تابش نے آہستگی سے جواب دیا
وہ بنا کوئی جواب دیے آگے بڑھی
“پانی پلانے کا شکریہ۔۔۔۔۔” تابش کی آواز اسکے کان میں پڑی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دروازے پہ دستک ہوئی۔ نور دروازے پہ پہنچی
“کون۔۔۔۔ !”
“میں ہوں۔۔۔۔”
فاطمہ کی آواز پہچانتے ہی نور نے دروازہ کھول دیا
“یہ لو۔۔۔۔” فاطمہ نے نور کے ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھمایا
نور نے اسے چار پائی پہ بٹھایا۔ اور خود شاپنگ بیگ کھولنے لگی۔
“اوہ۔۔۔۔۔۔ ! کتنی پاگل ہو تم۔۔۔” نور چڑ کے بولی
“لو۔۔۔۔۔ میں نے کیا کیا۔۔۔۔؟” فاطمہ نے حیرانی سے پوچھا
“تمہیں پتا ہے نا۔۔۔۔۔ میں پھیکے رنگ پہنتی ہوں۔۔۔۔ تم اتنا بھڑکیلا رنگ لے کے آئی ہو۔۔۔۔ اور ساتھ میں یہ چنری۔۔۔۔ سارے پیسے ضائع کروا دیے۔۔۔۔” نور تپ کے بولی
“ہا ہائے۔۔۔۔ ایک تو اتنی تگ ودو کے بعد یہ سوٹ لے کی آئی ہوں۔۔۔ بجائے شکریہ ادا کرنے کے نقص نکال رہی ہو۔۔۔۔۔۔ ” وہ خفا ہو کے بولی
“مجھے تمہاری مشقت پہ کوئی شک نہیں لیکن رنگ تو میرے حساب سے لاتی نا۔۔۔۔؟” نور شاپنگ بیگ سائیڈ پہ رکھ کے بولی
“محترمہ۔۔۔۔ ! شادی بیاہ کے لیے یہی رنگ چلتے ہیں۔ تم ان دیواروں سے نکلو تو پتا چلے نا۔۔۔۔۔ تمہارے لیے تو شادی اور ختم میں کوئی فرق ہی نہیں۔۔۔۔” فاطمہ ناک چڑھا کے بولی
“اف ۔۔۔۔۔ ” نور اکتا کے بولی
“کیا اف۔۔۔۔ حد ہے نور ۔۔۔۔۔ اچھی خاصی شکل وصورت ہے تمہاری۔۔۔ جوان ہو۔۔۔۔ پتا نہیں کیسے پھیکے رنگ پہن لیتی ہو۔۔۔ تمہارا کبھی خود سے سجنے سنورنے ہو دل نہیں کرتا۔۔۔۔؟” فاطمہ بولی
“ایسا نہیں ہے فاطمہ۔۔۔۔۔ ! تم سمجھتی نہیں ہو، عورت ذات کا بے وجہ سجنا سنورنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔” نور اسے سمجھاتے ہوئے بولی
“خدا کی پناہ۔۔۔ تمہارے چچازاد بھائی کی شادی ہے اور تم اسے بلاوجہ کا سجنا سنورنا کہتی ہو۔۔۔۔۔” فاطمہ چڑ گئی
نور خاموشی سے اسکا چہرہ تکتی رہی
“دیکھو نور۔۔۔۔ ! عزیز و اقارب میں خوشیوں کی تقریبات ہوں تو اسی حساب سے پہننا پڑتا ہے ورنہ لوگ کئی طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ اور ویسے بھی بھڑکیلا رنگ پہننے میں کونسی بے حیائی ہے۔۔۔۔۔ یہ رنگ تم پہ خوب اٹھے گا۔۔۔۔ اور اس چنری میں تم شہزادی لگو گی۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے بولی
“چل ۔۔۔ بے شرم۔۔۔ !”نور شرما گئی۔۔۔
“وعدہ کرو تم یہی سوٹ پہنو گی۔۔۔۔” فاطمہ نے ضد لگا لی
“اچھا بابا۔۔۔۔ ! یہی پہنوں گی۔۔۔۔۔” نور نے ہار مان لی
“یہ بتاؤ۔۔۔۔ تمہارا مہمان کیسا ہے اب۔۔۔۔۔؟” فاطمہ نے تابش کے بارے میں پوچھا
“بابا۔۔۔ بتا رہے تھے زخم اب ٹھیک ہو چکے ہیں۔۔۔۔ چل پھر بھی لیتے ہیں۔۔۔۔۔ ” نور نے بتایا
“چلو ۔۔۔ ! اللہ پاک کا شکر ہے۔۔۔۔ ویسے کافی دن لگے ٹھیک ہونے میں۔۔۔۔” فاطمہ بولی
“ہاں۔۔۔ چوٹیں بھی بہت گہری تھیں نا۔۔۔۔” نور بولی
“اچھا میں اب چلتی ہوں۔۔۔۔ تم یہ سوٹ ایک بار پہن کے اچھی طرح دیکھ لو، کوئی مسئلہ ہوا تو بتانا۔۔۔۔ تبدیل کرا لیں گے” فاطمہ یہ کہہ کے اپنے گھر چلی گئی
نور باقی کام نمٹانے لگی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تابش نے بیٹھک کے سامنے بائک کو بریک لگائی۔ مولوی صاحب گلی میں کھڑے تھے۔
تابش نے سلام کیا
“بیٹا اچھا ہوا ۔۔۔۔ آپ آگئے۔۔۔ میں آپکا ہی انتظار کررہا تھا۔۔۔” مولوی صاحب تابش سے مخاطب ہوئے
“خیریت۔۔۔۔۔ مولوی صاحب؟” تابش نے پوچھا
“بیٹا ۔۔۔ گلی کی لائیٹ خراب ہوگئی ہے۔ رات میں کافی اندھیرا ہوتا ہے۔ اگر آپکو تکلیف نہ تو گھر کی چھت پہ چڑھ کے بلب بدل دیں گے؟” مولوی صاحب نے پوچھا
“ہاں ۔۔۔ بالکل ۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔۔ میں ابھی بدل دیتا ہوں۔۔۔۔” تابش نے کہا
مولوی صاحب گھر میں داخل ہوئے۔ نور اپنے کمرے میں نیا سوٹ چیک کررہی تھی۔ ہرے رنگ کی چنری سر پہ سجائے وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگی
“نور ۔۔۔۔ باہر مت آنا۔۔۔ تابش بیٹا چھت پہ جارہا ہے” مولوی صاحب نے صحن میں کھڑے ہو کے آواز دی
نور کو ٹھیک طرح سے سنائی نہیں دیا۔ وہ سمجھی شائد مولوی صاحب تابش کے کھانے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں
“جی بابا۔۔۔۔ ” اس نے جواب دیا
تابش چھت پہ چلا گیا اور مولوی صاحب گلی میں آگئے۔۔۔
نور جلدی سے کیچن میں آئی اور تابش کے کھانے کی طشتری ہاتھ میں پکڑےباہر نکلی۔اسکی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ تابش صحن میں موجود ہے۔
تابش کی نظر جب اس پہ پڑی، وہ ہرے رنگ کی چنری میں بہت حسین لگ رہی تھی، تابش اپنے آپکو روک نہیں پایا اور بالکل اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔
“نور۔۔۔۔ !” تابش کے منہ سے نکلا
نور نے جیسے ہی سراٹھا کے اسکی طرف دیکھا ہاتھ سے کھانے کی طشتری چھوٹ گئی۔ ۔۔۔۔۔ اسکے جسم پہ ایک کپکپی سی طاری ہوئی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *