Girhan by Zoya Hassan NovelR50726 Girhan by Zoya Hassan Episode03
No Download Link
496.4K
14
Rate this Novel
Girhan by Zoya Hassan Episode01 Girhan by Zoya Hassan Episode02 Girhan by Zoya Hassan Episode03 (Watching)Girhan by Zoya Hassan Episode04 Girhan by Zoya Hassan Episode05 Girhan by Zoya Hassan Episode06 Girhan by Zoya Hassan Episode07 Girhan by Zoya Hassan Episode08 Girhan by Zoya Hassan Episode09 Girhan by Zoya Hassan Episode10 Girhan by Zoya Hassan Episode11 Girhan by Zoya Hassan Episode12 Girhan by Zoya Hassan Episode13 Girhan by Zoya Hassan Last Episode
Girhan by Zoya Hassan Episode03
Girhan by Zoya Hassan Episode03
چلو یہ تو پتا چلا کہ مولوی کی بیٹی ان پانچ لڑکیوں میں سے ہی ہے۔۔۔۔” اس نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ وہ لڑکیوں سے کافی فاصلے پہ تھا۔ سوچ سوچ کے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں عاصم والا حال نہ ہو۔۔۔۔
کالونی کی حالت بتا رہی تھی کہ یہاں غریب طبقہ آباد ہے۔ مین گلی سے لڑکیاں چھوٹی گلیوں میں گھس گئیں۔ ان چھوٹی گلیوں سے گزرتے گرزتے وہ پانچوں ہی ایک ہی گھر میں داخل ہوئیں۔ عاصم نے اسی گھر کا پتا دیا تھا
“اف۔۔۔۔ ! یہ تو ساری ایک ہی گھر میں چلی گئی ہیں، اب کیسے پتہ چلے گا کہ اصل والی کون ہے” وہ پریشان ہوا۔ دس منٹ وہاں پہ رکا ، بائیک واپس موڑی ایکدم سے اس گھر سے چار لڑکیاں باہر نکلیں۔۔۔۔
“تھینکس گاڈ۔۔۔۔ !” اس نے اپنے آپ سے کہا۔
چلو اب لڑکی ڈھونڈنے میں زیادہ محنت نہیں لگے گی۔ اس نے اپنے آپکو تسلی دی اور بائیک گھر کی طرف موڑ لی
تابش نے عاصم کا نمبر ڈائل کیا
“ہیلو۔۔۔ !”
“کیا پروگرس ہے؟” عاصم نے پوچھا
“یار۔۔۔۔ ! اسکا گھر تو میں نے دیکھ لیا ہے، لیکن اسکےساتھ اور بھی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ اس تک رسائی کیسے ممکن ہے؟” تابش نے سوال کیا
“میری جان۔۔۔۔ ! یہی کام تو تمہیں سونپا ہے، اس تک رسائی آسان ہوتی تو یہ کام میں خود نہ کر لیتا” عاصم نے جواب دیا
“دوست۔۔۔ ! سچی پوچھو تو دل اب بھی نہیں مان رہا۔۔۔۔ میں نے دیکھا وہ باپردہ اور شریف لڑکیاں ہیں۔۔۔ ایسے میں انکے ساتھ کچھ غلط کرنا۔۔۔۔ ” تابش بولا
“بھئی۔۔۔۔ تم بس پردہ دیکھ کے ہی متاثر ہو رہے ہو۔۔ اندر سے ساری لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ میرا یقین کرو ایک بار تم اس لڑکی سے ہیلو ہائے سٹارٹ کرو پھر دیکھنا تمہیں ٹرائی کرنے کی بھی ضروت نہیں پڑے گی وہ خود ہی لائن پہ آجائے گی”عاصم پھر سے برین واش کرنے لگا
“چل یار۔۔۔۔ دیکھتا ہوں۔۔۔۔ لیکن یہ کام اتنا بھی آسان نہیں ہے۔۔۔”
“چِل مین۔۔۔۔۔۔ وش یو گڈ لک۔۔۔!” عاصم نے ہنستے ہوئے فون بند کردیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تابش موبائل فون پہ گیم کھیلنے میں مصروف تھا
“بھائی ۔۔۔ ! بابا بلا رہے ہیں۔۔۔” فرّی نے آکے بتایا
“کیوں۔۔۔؟ خیریت۔۔۔؟” تابش نے موبائل سے نظریں ہٹا کے اسکی طرف دیکھا
“پتا نہیں۔۔۔۔ خود ہی پوچھ لیں۔۔۔” یہ کہہ کہ وہ واپس مڑی
“فرّی۔۔۔۔ سنو۔۔۔۔!” تابش نے آواز دی
” جی۔۔۔۔ !” وہ رک کے بولی
“بابا کا موڈ کیسا ہے۔۔۔۔۔۔؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“خود ہی آکے دیکھ لیں۔۔۔۔” یہ کہہ کے وہ چلی گئی
تابش نے بال اور کپڑے ٹھیک کیے اور بابا کے کمرے کی طرف چل پڑا
بابا بیڈ پہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھے تھے۔ امی الماری سے کچھ نکال رہی تھیں
“جی بابا۔۔۔۔۔ ! آپ نے بلایا۔۔۔۔؟” وہ سامنے جا کے کھڑا ہوگیا
بابا نے کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ سر جھکا کے بیٹھ گیا
“بیٹا۔۔۔۔ ! میں نے بہت سوچا کہ کس طرح تمہیں سمجھاؤں، ذمہ داریوں کا احساس دلاؤں۔۔۔ لیکن اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پہ میں نے یہی فیصلہ کیا کہ عمر کے جس حصے سے تم گزر رہے ہوں۔ اس میں نہ تو کسی کی نصیحت سمجھ آتی ہے اور نہ ہی حالات کی نزاکت کا اندازہ ہوتا ہے” انھوں نے ایک گہری سانس لی۔
تابش سر جھکائے انکی بات سنتا رہا۔ انھون نے بات جاری رکھی
“دنیا کی ریت ہے جب اولاد جوان ہوتی ہے تو ماں باپ کو انکے ہر فیصلے پہ سر جھکانا پڑتا ہے۔ میں بھی وہی کر رہا ہوں۔ تمہیں اگر باہر جانا ہے تو بے شک جاؤ، میں تمہیں نہیں روکوں گا” یہ کہہ کے وہ چپ ہوئے اور ناصرہ بیگم کو اشارہ کیا
ناصرہ بیگم نے زیوارت کے چند ڈبے تابش کے سامنے ٹیبل پہ رکھ دیے۔
“یہ تمہاری ماں کے اور ناصرہ کے زیورات ہیں، آجکل سونے کا بھاؤ کافی ہے، انھیں بیچ کر کافی پیسے مل سکتے ہیں۔ فریحہ اور فائزہ کی پڑھائی کے لیے چند لاکھ روپے بنک میں جمع کیے تھے وہ بھی لے لو۔۔۔۔ ایک دو جاننے والوں سے پیسے ادھار لینے کی بات کی ہے، اگر اللہ نے چاہا تو وہاں سے بھی کچھ انتظام ہو جائے گا۔ پھر بھی رقم کم پڑی تو اس گھر کو گروی رکھوا دیں گے۔ یہ سب حاضر ہے اب تم باہر جانا چاہتے ہو تو ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی” ابا جی کی آواز بھرائی
یہ سب دیکھ کے تابش ششدر رہ گیا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ کرسی سے اٹھ کے ابا جی کے بیڈ کے پاس نیچے کالین پہ بیٹھ گیا
“بابا ۔۔۔۔ ! میں اپنے خواب ضرور پورے کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ کا سب کچھ داؤ پہ لگا کہ ہرگز نہیں۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ اتنی رقم جمع کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن ماں کے زیور بیچ کے یا پھر بہنوں کا حق مار کے میں کبھی اطمینان سے نہیں جی سکتا” اسکی آنکھیں نم تھیں
“پھر کیسے یہ ممکن ہو پائے گا۔۔۔تمہارے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے۔ کیسے کرو گے؟” بابا نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“وہ آپ مجھ پہ چھوڑ دیں۔ میں خود کچھ نہ کچھ انتظام کر لوں گا، جہاں آپکی مدد کی ضرورت ہوئی تو ضرور بتاؤں گا۔۔۔ آپ بالکل فکر نہ کریں” اس نے ابا جی کو تسلی دی اور اٹھ کھڑا ہوا
ابا جی کے دل میں کئی طرح کے واہموں نے جنم لیا۔
“تابش۔۔۔۔!” انھوں نے آواز دی
“جی۔۔۔۔ بابا۔۔! ” اس نے سوال کیا
“بیٹا۔۔۔۔ ایسا کچھ مت کرنا۔ جس کے لیے بعد میں تمہیں پچھتانا پڑے”
“آپ بالکل فکر مت کریں، میں کچھ غلط نہیں کروں گا”
وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ کے عاصم کی بات مان لوں کیونکہ اب یہی ایک راستہ ہے جس سے مجھے میری منزل مل سکتی ہے” اس نے دل ہی دل میں ٹھان لی
عاصم ہر روز تین نمبر بس کے سٹاپ پہ کھڑا ہوجاتا اور مولوی کی بیٹی ہر روز لڑکیوں کے جھرمٹ میں گھر سے نکلتی اور واپس لوٹتی۔ پہلے پہل تو اسے سب لڑکیاں ایک ہی جیسی لگتی تھیں، اندازہ لگانا مشکل ہوتا کہ ان سب میں سے مولوی کی بیٹی کونسی ہے۔ پر ہر گزرتے دن کے ساتھ، اسکی چال ڈھال اور جھکی نظریں پہچان میں آنے لگیں
اب جب لڑکی کا پتا چل گیا تو اس تک رسائی کیسے کی جائے۔ انجان علاقہ ہے۔ کسی کو پتا چلا تو لڑکی بھی ہاتھ سے جائے گی اور عزت کا بھی فالودہ ہو جائے گا۔ عاصم سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ اس نے بھی ہاتھ کھڑے کرلیے۔
کام مشکل ضرور تھا نا ممکن نہیں۔ بلآخر گہری سوچ و بچار کے بعد اس نے یہی نتیجہ نکالا کہ جب تک مولوی کے گھر کے اندر رسائی نہ ہو لڑکی کو جال میں پھنسانا آسان نہیں ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا گھر میں بس دو ہی افراد ہیں، لڑکی کی ماں وفات پا چکی ہے، کوئی بھائی یا بہن بھی نہیں ہے۔ باپ بیٹی ہی رہیتے ہیں۔ لے دے کے یہی ایک راستہ بچتا تھا کہ مولوی کا اعتماد حاصل کرکے ہی آگے کچھ ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ظہر کی اذان ہوئی تو تابش اس مسجد کی طرف بڑھا جس میں مولوی نماز پڑھاتا تھا۔ مسجد کے دروازے پہ قدم رکھتے ہی اسکے پاؤں جم سے گئے۔
“ایسا تو شائد کوئی کافر بھی نہ کرے جو گناہ مجھ سے سرزد ہونے جارہا ہے۔ میں مسجد میں عبادت کے لیے نہیں بلکہ اس شخص کے گلے پہ وار کرنے آیا ہوں” تابش کے ضمیر نے اسے جھنجھوڑنا شروع کیا
وہ دو قدم پیچھے ہٹا اور مسجد میں داخل ہونے کی بجائے واپس مڑا
“بھائی جان۔۔۔۔ ! جماعت کھڑی ہوگئی۔ جلدی چلیں” مسجد میں داخل ہوتے ایک نمازی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
نماز کے وقت مسجد کے دروازے سے مڑ کے جانا بد بختی ہے یہ سوچ کہ وہ اس نمازی کے ساتھ جا کے جماعت میں کھڑا ہوگیا۔ دل ندامت کے بوجھ تلے دبتا جارہا تھا۔ نماز کے بعد ایک ایک کرکے سبھی نمازی مسجد سے نکلنے لگے۔ تابش نے بھی واپسی کا رستہ پکڑا
“برخودار۔۔۔۔۔ !” کسی نے پیچھے سے آواز دی
“جی۔۔۔۔۔ !” وہ واپس مڑا، یہ مولوی صاحب تھے جن کے چکر میں تابش نے مسجد کا رخ کیا۔ انھیں دیکھ کے ایک پل میں ہی تابش کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں نمودار ہوئیں
“آپ سے ایک بات کہوں برا تو نہیںمانیں گے۔۔۔۔؟” انھوں نے پوچھا
“جی۔۔۔ بولیں۔۔۔” اسکا گلہ خشک ہورہا تھا
“اللہ پاک نے آپکو خوش شکل بنایا ہے، اگر چہرے پہ داڑھی بھی ہوتی تو اس خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے۔۔۔۔” انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا
“با لکل آپ نے بجا فرمایا۔۔۔۔ میں کوشش کروں گا کہ آپکی اس نصیحت پہ عمل کر سکوں۔۔۔” اس نے سر جھکا کے جواب دیا
“آپکو پہلے نہیں دیکھا یہاں پہ۔۔۔۔۔؟” مولوی صاحب نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
“دراصل ایک کام کے سلسلے میں نکلا تھا۔۔۔ نماز کا وقت ہوا تو سوچا یہیں پہ نماز پڑھ لوں۔۔۔” مسجد میں کھڑے ہوکے اس نے بڑی صفائی سے جھوٹ بول دیا
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ اس عمر میں کم ہی لوگ عبادت کی طرف راغب ہوتے ہیں۔۔۔ آپ سے مل کے بے حد خوشی ہوئی” مولوی صاحب نے تابش کا کندھا تھپتھپایا
تابش نے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا۔ سبھی نمازی جا چکے تھے۔ تابش بھی مولوی صاحب کو سلام کرکے مسجد سے باہر نکل آیا۔
مولوی صاحب سے ملاقات کے بعد جہاں اسے راہ راست پہ آجانا چاہیے تھا، وہیں اسکی ہمت بڑھنے لگی اور کچھ دیر پہلے جو ندامت دل و دماغ پہ ڈیرہ ڈال کے بیٹھی تھی وہ جاتی رہی۔ شیطان نے بری طرح اسے جکڑ لیا تھا۔ باہر جانے کے خواب حقیقت میں بدلتے نظر آرہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شام میں گھر پہنچا تو فیزی اور امی صحن میں سبزی کاٹ رہی تھیں۔
“فیزی۔۔۔۔۔ پلیز ایک کپ چائے بنا دو، سر درد کررہا ہے” یہ کہہ کے وہ اپنے کمرے میں گھس گیا۔
کچھ دیر بعد فیزی چائے لے کے کمرے میں آئی تو وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے چہرے کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ فیزی نے چائے ٹیبل پہ رکھ دی اور باہر جانے لگی
“سنو۔۔۔ !” تابش نے اسے آواز دی
“جی بھائی۔۔۔۔۔!” وہ بولی
“میرے چہرے پہ داڑھی کیسی لگے گی۔۔۔۔” اس نے اپنا رخ فیزی کی طرف کیا
“اچھی لگے گی۔۔۔۔ کیوں؟ آپ داڑھی رکھنے والے ہیں۔۔۔؟” فیزی نے حیران ہو کے پوچھا
“کیوں۔۔۔۔ ؟ میں داڑھی نہیں رکھ سکتا کیا۔۔۔؟” وہ تیوری چڑھا کے بولا
“بالکل رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ویسے بھی آجکل مردوں میں سٹائلش داڑھی رکھنا فیشن ہی بن چکا ہے۔۔۔۔۔ ” فیزی نے طنز کی
“ارے ۔۔۔ نہیں بھئی۔۔۔ ! میں فیشن کے لیے نہیں رکھ رہا” تابش نے اسے وضاحت دی
“تو۔۔۔؟ کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ عبادت گزار بن گئے ہیں۔۔ اور سنت پہ عمل کر رہے ہیں؟” وہ حیران ہوکے بولی
“کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔” تابش نے کندھے اچکائے
جواباً فیزی ہنس پڑی
“اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔؟” وہ جھلا کے بولا
“جو دل سے قرآن اور سنت پہ عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں، وہ آئینے میں چہرہ دیکھ دیکھ کے جائزہ نہیں لیتے کہ داڑھی کیسی لگے گی۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔۔ آپک اس عبادت گزاری میں بہت بڑا جھول نظر آرہا ہے۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے باہر چلی گئی
“لو۔۔۔ ! ایک تو دنیا کسی حال میں بھی نہیں جینے دیتی۔۔۔۔” تابش نے منہ بنا لیا
اگلے کچھ دنوں تک تابش نے مولوی صاحب کے گھر آنے جانے کے اوقات پہ نظر رکھی۔ انکا گھر مسجد سے کافی فاصلہ پہ تھا کبھی کوئی نمازی انھیں کالونی کی مین گلی تک چھوڑ جاتا اور کبھی وہ پیدل ہی گھر پہنچتے تھے۔
ایک دن عصر کی نماز کے بعد وہ پیدل ہی گھر طرف چل پڑے۔ تابش نے موقع غنیمت جانا اور انکے پاس جا کے بائیک روک دی اور سلام کیا، انھوں نے بھی مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔
“برخودار ۔۔۔ ! میں نے آپکو پہچانا نہیں۔۔۔۔” مولوی صاحب نے پوچھا
تابش نے ہیلمٹ اتاری اور بولا
“آپ سے کچھ دن پہلے مسجد میں ملاقات ہوئی تھی۔۔۔۔ ” اس نے یاد دلانے کی کوشش کی
“مسجد میں۔۔۔۔۔۔ بیٹا اتنے نمازی آتے جاتے ہیں۔۔۔ اس عمر میں اتنے چہرے کہاں یاد رہیتے ہیں” مولوی صاحب نے جواب دیا
“آپ نے مجھے داڑھی رکھنے کی نصیحت کی تھی۔۔۔۔ ” تابش نے گزشتہ ملاقات کی گفتگو یاد دلائی
“اچھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ ہاں یاد آگیا۔۔۔۔ بالکل۔۔۔۔ ماشاء اللہ آپ نے میری نصیحت پہ عمل کرنا شروع کردیا ہے۔۔۔۔۔ ” مولوی صاحب کی نظریں تابش کی بڑھی ہوئی شیو پہ تھیں
“جی بس۔۔۔۔ آپکی نصیحت تھی اور اللہ پاک نے ہدایت دی۔۔۔۔ ” تابش نے سر جھکایا
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ اللہ پاک مزید اچھے اعمال کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔۔۔” مولوی صاحب بہت خوش ہوئے
“میں یہاں سے گزر ہی رہا تھا، آپ پہ نظر پڑی تو سوچا سلام کرلوں اور آپکی دعائیں لے لوں۔۔۔ ” تابش نے رکنے کی من گھڑت وجہ بتائی
“اللہ پاک آپ کے لیے آسانیاں پیدا کرے بیٹا۔۔۔۔۔ ” مولوی صاحب دعا دینے لگے
“آپ جا کہاں رہے ہیں۔۔۔۔ میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔” تابش اصل مدعے پہ آگیا
“میرا گھر یہاں پاس ہی ہے۔۔۔۔ نماز پڑھا کے ابھی فارغ ہوا ہوں تو گھر ہی جانا ہے” انھوں نے بتایا
“میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔ بیٹھیں آپ۔۔۔۔” تابش نے انھیں پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا
“نہیں ۔۔۔۔ بچے۔۔۔ ڈاکٹر نے پیدل چلنے کے مشورہ دیا ہے۔ اسی لیے پیدل آتا جاتا ہوں۔ ورنہ تو نمازی چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔۔ ابھی بھی ایک بچہ ضد کررہا تھا میں نے اسے بھی منع کردیا۔۔۔۔ آپ جائیں۔۔۔ کام سے نکلے ہیں دیر ہورہی ہوگی” مولوی صاحب نے منع کرتے ہوئے بولے
“مولوی صاحب۔۔۔ کام تو ہوگیا ہے۔ میں بھی بس گھر ہی جارہا ہوں۔ آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اسی بہانے آپ سے فیض حاصل کرنے موقع ملے گا۔ منع مت کریں” تابش کسی صورت یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا
مولوی صاحب نے ہار مان لی
کالونی کی مین گلی میں پہنچتے ہی مولوی صاحب نے تابش کو رکنے کا کہا۔
“برخودار۔۔۔ ! یہاں پہ ہی اتار دو۔۔۔ آگے میں خود چلا جاؤں گا”
“ارے نہیں مولوی صاحب۔۔ اب یہاں تک آیا ہوں تو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ ” تابش نے جواب دیا
“بیٹا۔۔ خوامخواہ آپکو تکلیف ہوگی۔ آگے تنگ گلیاں ہیں” مولوی صاحب بولے
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔ بس آپ مجھے بتاتے جائیں کہ کس طرف مڑنا ہے۔۔۔۔” ساری گلیوں سے وہ پہلے ہی واقف تھا پھر بھی انجان بننے کی کوشش کرنے لگا
“اچھا بیٹا۔۔۔ جیسے آپکی مرضی”
گھر کے دروازے پہ پہنچ کے مولوی صاحب نے بریک لگوائی۔
“بس بیٹا۔۔ میرا گھر آگیا ہے۔۔” مولوی صاحب بائیک سے نیچے اترے
“آپ گھر جا کے آرام کریں میں نکلتا ہوں۔۔۔۔ “تابش نے کہا
“اب آپ یہاں تک آئے ہیں تو چائے کا ایک کپ تو پینا ہی پڑے گا” مولوی صاحب نے ضد لگا لی
“اور کیا چاہیے۔۔۔۔۔ !” تابش دل ہی دل میں مسکرایا
“آپ اگر ضد کر رہیں تو ٹھیک ہے۔۔۔۔” اس نے جواب دیا
مولوی صاحب نے بیٹھک کا دروازہ کھولا اور تابش کو اندر بٹھایا۔ اور خود گھر کے اندر چلے گئے
بیٹھک کے اندر دروازے کے بالکل سامنے لکڑی کی پرانی چند کرسیاں پڑی تھیں۔ درمیان میں ایک میز تھا اور دروازے کی بائیں جانب ایک چارپائی تھی جس پہ نیلے اور سفید رنگ کی پھولدار چارد بچھی تھی۔ بیٹھک کا دوسرا دروازہ جو گھر کے اندر کھلتا تھا اس کی دائیں جانب ایک بڑی سی الماری تھی جس میں اوپر نیچے کتابوں کا ایک ذخیرہ کرینے سے سجا کے رکھا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد مولوی صاحب واپس لوٹے۔
“ماشاء اللہ کتابوں کا کافی ذخیرہ ہے آپکے پاس۔۔۔۔” تابش نے پوچھا
“بس جی۔۔۔۔ شوق بھی ہے اور ضرورت بھی۔۔۔۔ بچپن سے بڑھاپے تک کی تمام کتابیں سنبھال کے رکھی ہیں۔۔ لگ بھگ سبھی مشہور اسلامی تصانیف موجود ہیں۔ میری تو اب عمر ہوگئی ہے۔ اس لیے زیادہ پڑھا نہیں جاتا۔ اس لیے یہ ذخیرہ اب دختر کے حوالے کر دیا ہے۔۔۔” مولوی صاحب بتانے لگے
“بابا۔۔۔۔ !”
دروازے کی دوسری طرف سے ایک کھنکتی ہوئی آواز تابش کے کانوں میں پڑی۔
مولوی صاحب دروازے کی طرف بڑھے۔ ایک حسین ہاتھ نمودار ہوا جس نے سفید رنگ کی طشتری تھام رکھی تھی۔ اس طشتری پہ چائے کے دو کپ تھے۔
“نور ۔۔۔۔۔ ! بیٹا۔۔۔ کوئی بسکٹ وغیرہ بھی ساتھ رکھ دیتی” مولوی صاحب نے طشتری پکڑتے ہوئے کہا
“جی بابا۔۔۔۔۔ !” مدھم سی آواز پھر سے تابش کے کانوں میں پڑی
اسکے دل و دماغ کے ہر کونے میں ایک ہی نام گونجنے لگا
“نور۔۔۔۔۔۔ !”
جاری ہے
