Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Girhan by Zoya Hassan Episode02

Girhan by Zoya Hassan Episode02

“کیسا کام۔۔۔۔۔۔؟” تابش نے پوچھا

“کام بس اتنا ہے کہ مولوی کی بیٹی کو کسی بھی طرح میرے پاس لانا ہے۔۔۔۔ اب یہ تٌو کیسے کرے گا۔۔۔ میں نہیں جانتا۔۔۔۔ جس دن یہ کام ہوگیا تجھے تیرے پیسے مل جائیں گے۔۔۔۔۔ یہ دونوں گواہ ہیں۔۔۔۔۔” اس نے اپنی بات مکمل کر دی
تابش ، عمار اور نومی کی حیرت زدہ نظریں اسکے چہرے پہ جم گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم میرا مذاق اڑا رہے ہو۔۔۔۔۔” تابش نے خفگی سے کہا
“بالکل نہیں۔۔۔۔۔ میں اس بارے میں بالکل سنجیدہ ہوں۔۔۔۔ تم میرا کام کرنے کے لیے تیار ہو تو میں اپنی بات پہ قائم ہوں” عاصم نے سنجیدگی سے جواب دیا
“عاصم۔۔۔۔ کیا پاگل پن ہے یار۔۔۔۔۔ فارگٹ دیٹ پلیز۔۔۔۔”عمار نے کہا
“بھائی۔۔۔۔ سیدھی سی بات ہے مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پہ چاہیے۔۔۔ تم تینوں میں سے جو بھی یہ کام کردے میں منہ مانگی قیمت دوں گا” یہ کہہ کے اس نے سگریٹ کا ایک کش لیا
“دس از ٹو چیپ۔۔۔۔۔ ہم یہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔ “نومی نے ہاتھ کھڑے کیے
“ہیرو۔۔۔۔ ! تمہارا کیا جواب ہے؟” عاصم تابش کی طرف متوجہ ہوا
“نہیں یار۔۔۔۔۔ میں بھی یہ نہیں کر سکتا” تابش نے بھی نہ کردی
“لیکن پرابلم کیا ہے۔۔۔۔۔ ؟ میں جانتا ہوں تمہارے لیے یہ بڑا کام نہیں ہے۔۔۔۔ ” عاصم نے کیا
“یار۔۔۔ کم آن۔۔۔ میرے پاس کوئی جادو نہیں ہے جو میں جا کے اس لڑکی پہ پھونک ماروں گا اور وہ چپ چاپ میرے پیچھے چلی آئے گی۔۔۔۔۔ تم نے کوشش کی نا؟ پھر کیا ہوا۔۔۔ اسکا باپ شکائیت لے کے آ گیا۔۔۔۔ اگر ایسی شکائیت میرے گھر والوں تک پہنچی پھر تو میرا کام تو تمام سمجھو۔۔۔۔۔۔ سوری آئی کانٹ ڈو دس” تابش نے بات ختم کردی
“بھائی۔۔۔۔ میں نے جو بیوقوفی کی سو کی۔۔۔۔ تم دماغ سے کرنا سب۔ میں یہ نہیں کہہ رہا تم جاؤ گے اور وہ فوراً تمہارے پیچھے پیچھے آ جائے گی۔۔۔۔ “
“تو ۔۔۔۔؟ کیسے ہوگا۔۔۔۔؟”
“سمپل ہے۔۔۔ لڑکی کو محبت کے جال میں پھنساؤ۔۔۔۔ تمہارے لیے تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے”
“اوہ۔۔۔۔ یو مین ٹو سے پہلے میں اس سے پیار محبت کا کھیل کھیلوں اور پھر اسے بہلا پھسلا کے تمہارے پاس لے آؤں۔۔۔۔؟”
“یس۔۔۔۔ اسی طرح ہی یہ پاسیبل ہے۔۔۔۔۔”
“کم آن بڈی۔۔۔۔۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔” یہ کہہ کے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور گھر جانے لگا
“ہے۔۔۔ لِسن۔۔۔۔ سوچ کے جواب دینا۔۔۔ جلدی نہیں ہے۔۔۔۔۔ لائف بنانے کا اس سے آسان طریقہ نہیں ملے گا تمہیں۔۔۔۔” عاصم نے اسے پیچھے سے آواز دی۔ وہ بنا کوئی جواب دیے کلب سے باہر نکل آیا۔
رات کے ایک بجے وہ گھر کے دروازے پہ پہنچا تو دروازہ بند تھا۔ فرّی کو کال کی تو اس نے چپکے سے دروازہ کھول دیا۔
“بابا کا موڈ کیسا ہے۔۔۔۔۔؟” تابش نے پوچھا
“بہت زیادہ خراب ہے۔۔۔۔ آپ ایسا کیا کہہ کے چلے گئے وہ تب سے پریشان ہیں۔۔۔” فرّی نے اسے بتایا
“میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا” تابش بولا
“آپ نے باہر جانے کی بات کی۔۔۔۔؟” فرّی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
“ہاں۔۔۔۔ تو؟ میں اپنے زندگی سنوارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اور ایسا کرنے کا پورا پورا حق ہے مجھے۔۔۔۔” وہ بولا
“بھائی۔۔۔۔ ! آپ اتنے سیلفش کب سے ہوگئے۔۔۔۔؟” فرّی کو حیرانی ہوئی
“اس میں سیلفش والی کیا بات ہے۔۔۔۔” اس نے پوچھا
“آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں گھر کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ بابا اتنے اخراجات اٹھا سکیں۔۔۔ پھر بھی آپ ان پہ یہ بوجھ ڈالنا چاہتے ہیں؟” وہ بولی
“مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔۔۔۔ پوری زندگی ایسے ہی خوار ہوتا رہوں۔۔۔۔؟” اس نے پوچھا
“آپ یہاں پہ رہ کے سب کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔صرف باہر جا کے ہی زندگی نہیں سنورتی۔۔۔۔۔ آپ یہاں پہ جاب ڈھونڈیں مجھے یقین ہے ضرور اچھی جاب مل جائے گی ” وہ اسے سمجھانے لگی
“یہاں۔۔۔۔ نو وے۔۔۔۔ مجھے باہر جانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے” وہ فیصلہ سنا کے اپنے کمرے میں چلا گیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تابش کے کمرے کا دروزاہ ناک ہوا،
“کیا ہے۔۔۔۔۔ صبح صبح کیوں جگا دیا” آنکھیں مسلتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا
سامنے فیزی کھڑی تھی
“بھائی۔۔۔۔ ! یہ کچھ سوٹ صفیہ تائی کو پہنچانے ہیں” ایک بڑا سا شاپنگ بیگ اس نے تابش کی طرف بڑھایا
“اس وقت۔۔۔۔۔ ابھی تو صرف آٹھ بجے ہیں۔۔۔۔” اس نے اکتاہٹ میں کہا
“آپ نیند پوری کرلیں۔۔۔ اسکے بعد چلے جائیے گا، فرّی اور میں کالج جا رہی ہیں۔ امی نے ماموں کی طرف جانا ہے، اس لیے یہ کام آپکو کرنا پڑے گا” اس نے واضح کیا۔
“اچھا بابا۔۔۔۔ دے آؤں گا۔۔۔۔ ایک تو وہ رہیتی اتنی دور ہیں۔۔۔۔۔” یہ کہہ کے اس نے دروازہ بند کیا اور پھرسے سو گیا
بارہ بجے دوبارہ آنکھ کھلی ۔ فریش ہوکے کمرے سے نکلا تو پورا گھر خالی تھا۔ کیچن میں گیا تو امّی ناشتہ بنا کے رکھ گئی تھیں۔ ناشتہ گرم کر کے کھایا۔ تبھی یاد آیا کہ صفیہ تائی کی طرف جانا ہے۔ جلدی سے بائیک نکالی ، شاپنگ بیگ بائیک پہ لٹکایا اور نکل گیا۔
صفیہ تائی کے گھر پہنچنے میں پورا ایک گھنٹہ لگتا تھا۔ اس لیے انکی طرف جانے میں تابش کی جان جاتی تھی۔ اوپر سے گھر میں داخل ہوتے ہی انکے نئے قصے کہانیاں سننے کو ملتی۔ کبھی شوہر کی شکائیتیں تو کبھی نالائق اولاد کے رونے۔۔۔ تابش کو اس سب میں بالکل دلچسپی نہیں تھی۔
آدھے راستے ایک ڈرنک کارنر پہ جا کے بائیک روکی، گرمیوں کی دوپہر تھی، کافی پیاس لگ رہی تھی۔
کولڈ ڈرنک پی کے اس نے سگریٹ سلگائی۔ اور سوچوں میں ڈوبا وہ سگریٹ کے کش لگانے لگا۔
“مدرسۃالبنات”
سامنے لگے بورڈ پہ نظر پڑتے ہی اسے عاصم کی بات یاد آگئی۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور اسکاکا نمبر ڈائل کیا
“ہیلو۔۔۔۔ !
“یار وہ مولوی کی لڑکی کس مدرسے میں پڑھاتی ہے؟” تابش نے سوال کیا
“اوہ۔۔۔۔ تو تٌو تیار ہے میرے کام کے لیے۔۔۔۔ گڈ” عاصم ہنس کے بولا
“ارے نہیں یار۔۔۔۔۔ میں ایک مدرسے کے سامنے کھڑا ہوں، ایسے ہی پوچھ رہا ہوں یہیں تو نہیں پڑھاتی” اس نے وضاحت کی
“مدرسۃالبنات میں پڑھاتی ہے۔ ہماری سوسائٹی سے یونیورسٹی کی طرف جو روڈ جاتا ہے اسکے تیسرے رائٹ ٹرن پہ ہے۔۔۔۔” اس نے پورا نقشہ سمجھایا
“او کے۔۔۔۔ میں اسکے سامنے کھڑا ہوں۔۔۔۔” تابش نے بتایا
“کیا بات ہے ہیرو تو مجھ سے بھی تیز نکلا۔۔۔۔۔۔ ” عاصم نے ایک قہقہہ لگایا
“نہیں یار ۔۔۔ میں اپنے تایا کی طرف جا رہا تھا ۔ راستے میں اس مدرسے پہ نظر پڑی۔۔۔۔ ” اس نے بتایا
“اینی وے۔۔۔۔ میری آفر کے بارے میں کیا سوچا۔۔۔۔۔ ؟” عاصم نے پوچھا
اتنے میں مدرسے سے چھٹی ہوئی اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد مین گیٹ سے باہر نکلنے لگی۔ باہر مدرسے کی کچھ بسیں کھڑی تھیں۔ کچھ اس میں سوار ہونے لگیں اور کچھ روڈ کے ساتھ ساتھ چلنے لگیں
“اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔۔!” تابش کے منہ سے نکلا
“کیا ہوا۔۔۔۔۔” عاصم نے پریشان ہوکے پوچھا
“بڈّی ۔۔۔۔ یہ لڑکیاں سر سے پاؤں تک با پردہ ہیں۔۔۔۔ ہاتھ اور پاؤں تک نظر نہیں آرہے۔۔۔۔ میں چھ مہینے بھی یہاں پہ کھڑا رہوں تب بھی تیرے والی لڑکی نہیں ڈھونڈ پاؤں گا” تابش نے سامنے والی صورت حال اسے بتائی
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یارتو وہ مجھ پہ چھوڑ دے۔۔۔۔ میں تجھے مولوی کے گھر کا پتا بتاتا ہوں۔۔۔ آگے تو جان اور تیرا کام” عاصم نے اسے کہا
“چل ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں اب تایا کی طرف نکلتا ہوں، تو پتہ ایس ایم ایس کر دے۔۔۔ ” یہ کہہ کے اس نے کال کٹ کردی۔
جب خواہش جنون کی شکل اختیار کرلے تو وہ جنون آگ کے شعلوں کی طرح انسان کے سبھی حواس اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ تب غلط کیا ہے اور صحیح انسان یہ سجھنے کے اہل نہیں رہیتا۔ یہی کچھ تابش کے ساتھ ہورہا تھا۔
تایا کے گھر سے واپسی پر وہ پھر سے اس مدرسے کے سامنے رکا۔ دل و دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں کہ اسکا یہ فصیلہ ٹھیک ہے یا غلط۔ اگر ماڈرن خیالات کی لڑکی ہوتی تو اسکے ساتھ یہ سب کرنا قدرے آسان ہوتا۔ لیکن ایسی لڑکی جسکا حلیہ ہی اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ وہ کتنی پاکباز ہے اس کے ساتھ ایسی حرکت کرنے پہ دل راضی نہیں تھا۔ سوچوں میں ڈوبے اس نے ڈرنک کارنر سے ایک کولڈ ڈرنک لی۔
“چاچا جی۔۔۔۔۔ ایک بات پوچھوں” کولڈ ڈرنک کا پہلا گھونٹ گلے سے اتارتے وہ عمر رسیدہ دکاندار سے مخاطب ہوا
“جی بیٹا۔۔۔ پوچھو۔۔۔۔۔ !” دکاندار نے سر ہلایا
“مدرسے میں پڑھنے پڑھانے والی لڑکیاں کیسی ہوتی ہیں۔۔۔۔ میرا مطلب کردار کے لحاظ سے کیسی ہوتی ہیں” تابش نے پوچھا
“بیٹا۔۔۔۔ یہ لڑکیاں بھی باقی لڑکیوں جیسی ہی ہوتی ہیں اور کیس ہوں گی” دکاندار نے گول مول جواب دیا
“چاچا جی۔۔۔ یہ باپردہ گھر سے نکلتی ہیں، قرآن و حدیث کو خوب سمجھتی ہیں تو کردار تو اچھا ہی ہوگا نا؟” تابش نے مزید پوچھا
“بیٹا۔۔۔۔ باپردہ ہونے اور با کردار ہونے میں بہت فرق ہے۔۔۔۔۔ کئی لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ لڑکی باہر سے جتنی باپردہ ہوگی اندر سے اتنی ہی بدکرادر۔۔۔۔۔ کچھ لوگ اسکے برعکس سوچتے ہیں” دکاندار نے ابھی بھی کوئی صاف جواب نہیں دیا
“آپکو کتنا عرصہ ہوگیا ہے اس مدرسے کے سامنے کام کرتے ہوئے۔۔۔۔۔؟” تابش نے دکاندار کو مزید گھیرا
“کم سے کم پندرہ سال ہوگئے ہوں گے،،،،،،” اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا
“پندرہ سال ایک بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ آپ اپنے مشاہدات کی بنا پہ جواب دیں ” تابش نے اس سے ذاتی رائے مانگی
دکاندار ہنس پڑا
“بیٹا۔۔۔ ! شیطان انسان کو نماز کی حالت میں بھی نہیں چھوڑتا۔۔۔۔ ہم اس ذات پاک کے سامنے سجدہ ریز ہوکے بھی جھوٹ، فریب، ریا کاری، زنا جیسے گناہوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں۔ تو کیا شیطان محض ایک جسمانی پردہ داری سے پیچھے ہٹ جاتا ہوگا۔۔۔۔؟ میں نے ان پندرہ سالوں میں اس مدرسے سے پاکباز خواتین کو بھی نکلتے دیکھا ہے اور بد کردار کو بھی۔۔۔۔ سب کے بارے میں رائے دینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ اس ذات پاک کو پتا کون کتنے پانی میں ہے۔۔۔۔۔” دکاندار نے بات مکمل کی
تابش نے دکاندار کو سلام کیا ، بائیک سٹارٹ کی اور گھر کی طرف چل پڑا۔ دکاندار کی باتوں نے اسے مزید الجھا دیا تھا۔
جب اپنی ذات کے اندر انسان اور شیطان کی جنگ شروع ہوجائے تو اپنے آپکو ڈھونڈنے کا یہی صحیح وقت ہوتا ہے۔ لیکن انسان بھی کس عجیب مخلوق کا نام ہے، جب خود کو ڈھونڈنے کی باری آتی ہے تو اسکے سوال کسی اور کی ذات کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور تب ہی شیطان انسان پہ حاوی آجاتا ہے۔
گھر پہنچ کے بھی اسکے دل کو سکون میسر نہیں تھا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ سگریٹ سلگائی اور صحن میں چہل قدمی کرنے لگا۔ کیچن کی لائٹ آن ہوئی تو وہ کیچن کی طرف چلا آیا۔ فیزی چائے بنا رہی تھی۔
“اس وقت چائے۔۔۔۔۔ ؟” اس نے اندر داخل ہوتے ہی پوچھا
“بھائی۔۔۔۔۔ ! آپ۔۔۔ ہاں وہ کل ہمارا منتھلی ٹیسٹ ہے اسی کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں۔ آپ پئیں گے چائے؟” فیزی نے اس سے پوچھا
“آں۔۔۔۔ ٹھیک ہے میرے لیے بھی بنا لو۔۔۔۔” اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا
“آپ چلیں میں چائے لے کے آتی ہوں۔۔۔۔۔” فیزی نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں تم لوگوں کے ساتھ ہی چائے پئیوں گا، وہیں لے آؤ۔۔۔” وہ یہ کہہ کے فیزی اور فری کے کمرے میں چلا گیا۔
فری کارپٹ پہ بیٹھی نوٹ بک کچھ لکھ رہی تھی، تابش کو دیکھ کے چونکی
“بھائی۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ خیریت اس وقت۔۔۔؟’ اس نے سوالیہ نظروں سے تابش کو دیکھا
“ہاں بھئی۔۔۔۔ کیوں میں تم لوگوں کے کمرے میں نہیں آ سکتا۔۔۔۔” وہ صوفے پہ بیٹھ گیا۔
“ارے۔۔۔۔۔ آپکے لیے تو الویز ویلکم۔۔۔۔ میں تو اس لیے حیران ہوں کہ یہ تو آپکا سپیشل ٹائم ہے نا۔۔۔” فری کے ہونٹوں پہ معنی خیز مسکراہٹ تھی
“سپیشل ٹائم۔۔۔۔۔؟ کیا مطلب؟” اس نے سوالیہ نظروں سے فری کو دیکھا
اتنے میں فیزی بھی ہاتھ میں چائے کی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی
“سپیشل ٹائم۔۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔ گرل فرینڈ ٹائم۔۔۔۔۔۔۔ ” فیزی جلدی سے بولی
فیزی اور فری ہنسنے لگیں اور وہ شرمندہ ہوگیا
“میں نے سوچا۔۔۔۔ گرل فرینڈز سے تو روز ہی بات کرتا ہوں آج ان لومڑیوں کو ٹائم دیتا ہوں” تابش نے دونوں کے چہروں پہ نگاہ دوڑائی
“فیزی ۔۔۔۔ ! مجھ سے لکھوا لے کل کا ٹیسٹ بہت اچھا ہونے والا ہے۔۔۔” فری نے فیزی سے کہا
“کیسے۔۔۔۔ تمہیں کیسے پتا۔۔۔۔۔ ؟ فیزی نے حیران ہو کے پوچھا
“بھئی۔۔۔۔ ہمارے مھان بھائی جان جو ہمیں ٹائم دے رہے ہیں۔ کچھ تو اثر ہوگا نا؟” وہ ہنستے ہوئے بولی
“اوہ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ یہ تو ہے۔۔۔۔۔ ویسے بھائی۔۔۔۔۔ ہماری کلاس کی اکثر لڑکیاں ہم سے آپکے بارے میں پوچھتی ہیں۔۔۔۔ جب آپ کبھی کبھار ہمیں کالج چھوڑنے جاتے ہو تو وہ پوچھتی ہیں۔۔۔۔ ‘یہ ہینڈسم لڑکا کون ہے؟’ تو ہم بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ یہ ہمارے بھائی ہیں۔۔۔۔” فیزی نے تابش کی طرف دیکھ کے کہا
“اوہ۔۔۔ رئیلی۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگا
“جی۔۔۔۔۔ !” فری بولی
“اسکا مطلب تمہارے بھائی کی مارکیٹ ویلیو کافی ہے۔۔۔۔” تابش نے مسکراتے ہوئے کہا
“اب یہ تو قیمت لگوا کے ہی پتا چلے گا۔۔۔۔۔۔” فیزی نے جواب دیا اور وہ دونوں ہنس پڑیں
قیمت کی بات سن کے اسے فوراً عاصم کی آفر یاد آئی۔ اور دل ہی دل میں وہ بولا
“اپنی قیمت تو میں پہلے ہی لگوا چکا ہوں۔۔۔۔۔”
“اچھا مجھے ایک بات بتاؤ۔۔۔۔ تم لوگوں کے حساب سے میری کیا قیمت ہونی چاہیے؟” اس نے دونوں کی طرف دیکھا
“ارے ۔۔۔ آپ تو انمول ہیں۔۔۔۔ آپکی قیمت کوئی لگا ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی تو ہم دونوں آپ سے پیار نہیں کرتیں۔۔۔۔۔” فیزی نے جواب دیا اور فری نے بھی سر ہلایا
“پھر بھی سوچ لو۔۔۔۔۔ اگر کوئی قیمت لگائے تو کتنے پیسوں میں بک جانا چاہیے۔۔۔؟” اس نے پھر سے پوچھا
“بھائی آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔۔۔۔؟ بتایا نہ کہ کوئی بھی آپکی قیمت نہیں لگا سکتا۔۔۔ فرض کریں اگر ایسا کوئی کرتا بھی ہے تو ہمیں پورا یقین ہے آپ بکنے والی چیز نہیں ہیں” فیزی نے جواب دیا
“اچھا۔۔۔۔ چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ایسا ہو کہ کوئی مجھ سے آکے کہے۔۔۔ تم اپنے آپکومجھے بیچ دو اور اپنے خواب پورے کرلو۔۔۔۔۔ پھر کیا کرنا چاہیے؟” اس نے پوچھا
“بھائی۔۔۔ ایسے خواب خرید کے کیا کرنا جب اپنے آپکو ہی بیچنا پڑے۔۔۔۔ اور قیمت انسان کی نہیں لگتی بلکہ انسان کے ضمیر کی لگتی ہے۔ ایسے خواب جن کی قیمت ضمیر بیچ کے چکانی پڑے انکا گلہ گھونٹ دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔” فیزی کافی سنجیدہ ہوگئی
“لیکن آپ آج ایسے اوٹ پٹانگ سوال کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔؟”فری نے فوراً سوال کیا
“بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ تم لوگوں کا مائنڈ ریفریش کررہا تھا۔۔۔” اس نے بہانہ کیا
وہ دونوں ایکدوسرے کا چہرہ دیکھنے لگیں
“چلو۔۔۔ تم لوگ پڑھائی کرو۔۔۔ میں جا کے سوتا ہوں۔۔۔۔۔ وش یو گڈ لک” یہ کہہ کہ وہ اپنے کمرے میں آگیا
پھر سے دماغ میں سوالوں کا مجموعہ گردش کرنے لگا۔ اپنی زندگی سنوارنے کے لیے کسی اور کی زندگی برباد کرنا کہاں تک صحیح ہے؟ شش وپنج میں مبتلا اسکی آنکھ لگ گئی۔
صبح آنکھ کھلی تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ موبائل پہ عاصم کے تین چار میسجز اور کالز آئی ہوئی تھیں۔ تابش نے اسکا نمبر ڈائل کیا
“ہیلو۔۔۔!”
“کہاں ہو یار تم۔۔۔۔۔ ؟” وہ بولا
“گھر پہ۔۔۔۔ کیوں۔۔۔” تابش نے جواب دیا
“کم آن یار۔۔۔۔ تمہیں یاد نہیں آج کیا کرنا تھا؟”
“کیا کرنا تھا۔۔۔؟”
“لگتا ہے تم نیند میں ہو ابھی تک۔۔۔۔۔ مولوی کی بیٹی کا پیچھا کرنا تھا اسکے گھر سے۔۔۔۔”
“اوہ۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ لیکن یار۔۔۔ دل نہیں مان رہا ۔۔۔۔۔ میں نے بہت سوچا”
“واٹ۔۔۔۔۔ مرضی ہے تمہاری۔۔۔۔۔ باہر جانے کا ارادہ بدل دیا؟”
“جانا ہے یار۔۔۔۔ پر ایسے نہیں۔۔۔”
“ویل۔۔۔۔ پھر ضرور تمہارے ابا جی نے پیسوں کا انتظام کرلیا ہوگا؟
“نہیں۔۔۔ پیسوں کا انتظام تو نہیں ہوا۔۔۔۔ “
“تو پھر۔۔۔۔۔؟کیوں یہ موقع گنوا رہے ہو؟ دیکھو۔۔۔ تم یہ کام نہیں کرو گے تو میں کسی اور سے کرالوں گا، لیکن تمہیں پوری زندگی یہ چانس دوبارہ نہیں ملنا۔۔۔۔ سوچ لو۔۔۔۔” عاصم نے اسکے دماغ پہ وار کیا
“میں تمہیں سوچ کے بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ ” تابش پھر سے سوچوں میں ڈوب گیا
“او کے۔۔۔ اگر ارادہ بن جائے تو مدرسے میں ایک بجے چھٹی ہوتی ہے اور وہ مدرسے کی تین نمبر بس میں آتی جاتی ہے۔۔۔۔ گھر کا پتہ میں نے پہلے ہی تمہیں بھیج دیا ہے” یہ کہہ کے اس نے فون بند کردیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوپہر تک اس نے عاصم کی آفر قبول کرنے کا فصیلہ کرلیا، بائیک نکالی اور سیدھا مدرسے کی طرف بڑھا۔ وہ جیسے وہاں پہنچا تو مدرسے کی بسیں جانے کے لیے تیار تھیں۔ اس نے تین نمبر بس کے پیچھے اپنی بائیک لگائی۔
بس مختلف رستوں سے ہوتی ہوئی اس کالونی کی مین گلی پہ رکی جس کا پتہ عاصم نے بھیجا تھا۔ بس سے قریب سات لڑکیاں نیچے اتریں، ان میں سے پانچ کالونی کا گیٹ کی طرف بڑھیں اور دو سڑک پار کرکے دوسری جانب مڑ گئیں۔
“چلو یہ تو پتا چلا کہ مولوی کی بیٹی ان پانچ لڑکیوں میں سے ہی ہے۔۔۔۔” اس نے اپنے آپ کو تسلی دی۔ وہ لڑکیوں سے کافی فاصلے پہ تھا۔ سوچ سوچ کے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں عاصم والا حال نہ ہو۔۔۔۔
کالونی کی حالت بتا رہی تھی کہ یہاں غریب طبقہ آباد ہے۔ مین گلی سے لڑکیاں چھوٹی گلیوں میں گھس گئیں۔ ان چھوٹی گلیوں سے گزرتے گرزتے وہ پانچوں ہی ایک ہی گھر میں داخل ہوئیں۔ عاصم نے اسی گھر کا پتا دیا تھا
“اف۔۔۔۔ ! یہ تو ساری ایک ہی گھر میں چلی گئی ہیں، اب کیسے پتہ چلے گا کہ اصل والی کون ہے” وہ پریشان ہوا۔ دس منٹ وہاں پہ رکا ، بائیک واپس موڑی ایکدم سے اس گھر سے چار لڑکیاں باہر نکلیں۔۔۔۔
“تھینکس گاڈ۔۔۔۔ !” اس نے اپنے آپ سے کہا۔
چلو اب لڑکی ڈھونڈنے میں زیادہ محنت نہیں لگے گی۔ اس نے اپنے آپکو تسلی دی اور بائیک گھر کی طرف موڑ لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *