Girhan by Zoya Hassan NovelR50726

Girhan by Zoya Hassan NovelR50726 Last updated: 24 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Girhan by Zoya Hassan

غضب خدا کا بس یہی دیکھنا باقی تھا۔۔۔۔ میں پہلے ہی کہتی تھی یہ لڑکا ایک نہ ایک دن گل کھلائے گا۔ ۔۔۔۔۔" ناصرہ بیگم کے کانپتے ہاتھوں میں پستول تھا اور وہ چلا چلا کے سبھی گھر والوں کا اکھٹا کررہی تھیں
"کیا ہوا۔۔۔ امی۔۔۔؟" فرّی اپنے کمرے سے نکل کے ڈرائنگ روم میں پہنچی
"یہ دیکھ۔۔۔۔ دیکھ اپنے لاڈلے بھائی کی کرتوت۔۔۔۔ یہ اسکے کمرے کی الماری سے نکلا ہے۔۔۔۔ " انکا اشارہ پستول کیا جانب تھا
پستول کو دیکھتے ہوئے پہلے پہل تو فرّی کے بھی چھکے چھوٹے لیکن جلدی اس نے خود کو سنبھالا اور ماں کے ہاتھ سے پستول پکڑ لیا۔
"کیا ہوا۔۔۔۔۔ ؟ اتنا شور کیوں ڈالا ہوا ہے"سیڑھیاں اترتے ہوئے فیزی بھی فرّی کے پاس آکے کھڑی ہو گئی۔ پر جیسے ہی نظر پستول پہ پڑی تو اسکے بھی رونگٹے کھڑے ہوئے۔
"گَنّ ۔۔۔۔۔ اوہ مائی گاڈ۔۔۔۔۔ فرّی کسی کا قتل کرنے جارہی ہو۔۔۔۔۔ ؟۔۔۔۔۔ خدارا مجھے بخش دینا" اس نے فرّی کی طرف ڈرتے ہوئے دیکھا۔جواباً فریحہ نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
"ہو نہ ہو۔۔۔ یہ پستول میرے لیے ہی رکھی ہوگی۔ ادھر میں نے کوئی ایسی ویسی بات کی ادھر اس نے میرے سر کا نشانہ لینا تھا" ناصرہ بیگم کو اپنی جان کے لالے پڑنے لگے۔
"اف ہو امی۔۔۔ آپ بھی حد کرتی ہیں۔۔۔ بھائی ایسا کیوں کرے گا؟ " فرّی جھلا کے بولی
"ارے۔۔۔۔ ! مجھے کوئی بتائے گا کہ یہ چل کیا رہا ہے۔۔۔۔؟" فیزی پھر سے بولی
"امی کو بھائی کی الماری سے یہ گن ملی ہے۔۔۔ تب سے انھوں نے شور ڈالا ہوا ہے" فرّی نے اسے بتایا
"امی۔۔۔۔ آپ بھائی کے کمرے میں کیا کررہی تھیں۔۔۔۔؟ اور کیوں انکی الماری کی تلاشی لے رہی تھیں۔۔۔۔ آپکو پتا ہے نا۔۔۔۔ انکو بالکل پسند نہیں ہے کہ کوئی انکے کمرے میں گھسے یا سامان نے کی تلاشی لے۔۔۔۔۔" فیزی نے ماں کو لتاڑنا شروع کیا۔
"اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔ ہر بار جھگڑے کی شروعات آپ ہی کرتی ہیں۔۔۔۔۔ " فرّی نے بھی فیزی کا ساتھ دیا۔
"یہ لو۔۔۔۔۔ ! شروع ہوگئیں دونوں ۔۔۔۔ ماں کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔۔۔ سوتیلے بھائی کی فکر ہے بس۔۔۔۔۔ " ناصرہ بیگم غمزدہ ہوئیں
"اف۔۔۔ امی آپ پھر سے سگے سوتیلے کا پاٹ پڑھنے لگیں۔۔۔۔ خدارا بس کریں" فرّی بولی
"تابش بھائی آپکے لیے سوتلیے ہوں گے پر ہمارے لیے وہ سگے ہیں۔۔۔ بلکہ سگوں سے بھی بڑھ کے۔۔۔۔۔۔ " فیزی نے بھی طرفداری شروع کر دی
"بس کرو تم دونوں ۔۔۔ بہت ہوا ۔ آنے دو تمہارے ابا کو۔۔ یہ پستول والا کارنامہ تو بتا کے ہی رہوں گی۔۔۔۔ " ناصرہ بیگم پھر تلملا گئیں
"امی۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ نے ابا سے کوئی بات نہیں کرنی۔ پہلے ہم بھائی سے خود بات کریں گے اسکے کے بعد دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔" فیزی نے ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے
"ہائے۔۔۔ میرے خدایا۔۔۔ میری سگی اولاد میری نہیں رہی۔۔۔۔۔ مالک ۔۔۔! مجھے اٹھا ہی لے۔۔۔۔ " ناصرہ بیگم نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیے
فرّی اور فیزی دونوں ماں کی طرف بڑھیں اور انکے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیے۔ ناصرہ بیگم نے دونوں کے ہاتھ جھٹکے دیے
"کرو ۔۔۔۔ جو بھی کرنا ہے۔۔۔۔ میں کچھ نہیں بولوں گی۔۔۔ پر یاد رکھنا یہ لڑکا غلط رستوں پہ چل رہا ہے۔۔۔۔۔ " یہ کہہ کے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھیں۔
فرّی اور فیزی ایکدوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔
"فیزی ۔۔۔۔ ! یہ گن جا کے بھائی کی الماری میں رکھ دے۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ جب وہ آئیں گے تو ان سے بات کرتے ہیں" فرّی نے گن فیزی کی طرف بڑھائی
"نہ بابا۔۔۔۔۔ مجھے بڑا ڈر لگتا ہے ایسی چیزوں سے۔۔۔۔۔ خود ہی جا کے رکھ دو۔۔۔۔" وہ خوفزدہ ہو کے پیچھے ہٹی
"ڈرپوک۔۔۔۔۔۔۔ ! " فرّی تیوری چڑھا کے تابش کے کمرے کی طرف چل پڑی
"فرّی۔۔۔۔۔!" فیزی نے آواز دی
"اب کیا ہے۔۔۔۔۔؟" وہ پیچھے مڑی
"سنبھال کے ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔ کہیں غلطی سے چل گئی تو میں اکیلی ڈاکٹر بن کے کیا کروں گی۔۔۔۔۔۔؟" فیزی نے اسے چھیڑا
"شٹ اپ۔۔۔۔۔۔ ! " فریحہ ہنستے ہوئے اندر چلی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *