Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

اس نے صبح سے دروازہ نہیں کھولا تھا وہ اسی طرح کمرے میں بند پڑی تھی نہ کچھ کھانے کا ہوش تھا نہ پینے کا۔
آسیہ بیگم صبح سے دروازہ پیٹ پیٹ کر تھک چکی تھیں۔ لیکن وہ کمرے میں جوں کی تو پڑی تھی۔ آسیہ بیگم کے لاکھ دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی اس نے دروازہ نہیں کھولا باہر سے آتی اپنی ماں کی آواز وہ بخوبی سن سکتی تھی لیکن اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ بے حس کی مانند اپنے کمرے میں بند تھی۔ اس کے اپنے باپ نے جس قسم کی بات ابھی ابھی ناشتے کی ٹیبل پر کی تھی اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کی اس کے اپنے بابا بھی دشمن کی صف میں جا کھڑے ہوں گے وہ بھی اپنی لاڈلی بیٹی کے لئے؟؟ کیا ان کو نہیں پتا تھا کی ان کی بیٹی حاذم عباس کس قدر نفرت کرتی ہے۔ ایسی نفرت جس کا اندازہ بھی کوئی نہیں لگا سکتا تھا۔
وہ حاذم عباس سے شادی کرنے کے بجائے مرنا زیادہ پسند کرے گی اور یہ بات اس نے طے کر لیا تھا وہ وہ کسی بھی قیمت پر شادی نہیں کرے گی جو کہ گھر کے سبھی افراد یہ انکشاف کھل کر سامنے آیا تھا۔
❤️❤️❤️

دوپہر کے تقریباً ایک بج رہے تھے۔ اور اس نے ابھی بھی دروازہ نہیں کھولا تھا عامر صاحب کمرے کا چککر کاٹتے ہوئے ایک ایک نکتے پر نظرثانی کر رہے تھے ان کے چہرے پر پریشانی صاف واضح ہو رہی تھی۔ بیٹی کی اس حماقت پر وہ نہایت ہی شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھی ان کی اپنی اولاد اتنی بدتمیز نکل گئی تھی وہ صدا افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
لیکن انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہیں جس طرح مہرماہ عزیز تھی ٹھیک اسی طرح حاذم بھی اتنا ہی عزیز تھا۔ انہوں نے بیٹی کے حق میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ حاذم کی شادی مہرماہ کے علاوہ وہ کسی سے نہیں کریں گے۔
وہ اپنی بیٹی کو کسی بھی طریقے سے اس رشتے کے لئے قائل کرنا چاہتے تھے۔
وہ اسے سمجھانا چاہتے تھے کہ حاذم اس کے لیے ہر ممکن طریقے سے بہتر تھا۔ انہیں یہ بھی اندازہ تھا کی ان کی کم عقل بیٹی کے دماغ میں کچھ بھی بیٹھنے والا نہیں ہے۔


حاذم ایک کرب کی کیفیت میں مبتلا تھا. اسے مہرماہ کا رویہ واقعی شاکڈ کر گیا تھا۔وہ آفس میں بیٹھ کر بھی مسلسل اسی کے بارے میں سوچے جا رہا تھا۔
جس لڑکی سے وہ انتہا کی محبت کرتا تھا اور وہ اس سے اس قدر نفرت کرتی تھی۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کی اپنے باپ کے فیصلے کو بھی وہ اس طرح رد کرے گی۔ مہرماہ نے جس طرح آج سب کے سامنے اس کی عزت نفس کو مجروح کیا تھا سب کے سامنے وہ چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا تھا۔ اس لڑکی سے کچھ بھی بعید کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اسے اس ردعمل کی ہرگز توقع نہ تھی۔
آفس کا ماحول اسے گھٹن زدہ محسوس ہو رہا تھا۔
وہ کھلی فضا میں سانس لینے کے لئے آفس کی ونڈو پر آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اور شکوہ کناں نظروں سے آسمان کی جانب دیکھا تھا۔ جس لڑکی کو اپنے رب سے دن رات اپنی دعاؤں میں مانگا تھا وہ لڑکی ملی تو کس طرح؟؟ وہ مہرماہ کو اپنی زندگی میں شامل تو کر سکتا تھا؛؛؛ لیکن اس طرح نہیں؛؛ اس کی مرضی کے بغیر نہیں وہ اسے عزت کے ساتھ اپنی عزت بنانا چاہتا تھا۔
اسی اثنا میں کھڑا اپنی سوچوں کی کشمکش میں تھا کی اس کا موبائل جیب کے اندر سے رنگ ہوا تھا تھا وہ موبائل ہاتھ کے ذریعے نکال کر اسکرین سامنے کیا تو ژالے کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔
وہ لمحے بھر کو سوچتا کال پک کر کے موبائل کان سے لگا لیا تھا۔
دوسری جانب ژالے کی چہکتی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔ وہ ژالے کے سلام کا جواب دے کر اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔
حاذم کہاں ہو تم؟؟ ژالے نے بے چینی سے پوچھا؛؛ اس کا سوال سن کر حاذم ایک لمبی آہ بھر کر رہ گیا۔
میں آفس میں ہوں؛؛ اس نے اطمینان سے نپاتلا جواب دیا۔
تم نے کچھ کھایا پیا کی نہیں؟؟ وہ فکر مندی سے پوچھ رہی تھی۔ حازم کو اس کا یہ سوال تھوڑا معیوب لگا تھا۔ لیکن اس نے کوئی تاثرات لائے بغیر آگے بولا تھا۔
جی میں نے کھا لیا ہے؛؛ صبح سے کھانے کا ایک نوالہ بھی اس نے منہ میں نہیں ڈالا تھا؛؛ بھوک تو جیسے مر چکی تھی؛؛ لیکن پھر بھی ژالے کے سامنے وہ اپنی کیفیت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا؛؛ اس لئے اس کو جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔
ژالے اس کا جواب سن کر من ہی من میں مسکرائی تھی؛؛؛ اس آواز کو سننے کے لیے وہ صبح سے بے چین تھی اور بہت سوچنے سمجھنے کے بعد آخر اس نے حاذم کو کال ملا ہی لی تھی؛؛ وہ چاہتی تھی آج صبح ہونے والے واقعے کے بارے میں حاذم اس سے کچھ گفتگو کرے لیکن حاذم کو خاموش دیکھ کر اس نے ہی بات کا آغاز کیا۔

حاذم میں تمہیں کیا بتاؤں مہرماہ تو حد سے زیادہ بدتمیز ہے؛؛ اس کو تو چچا جان کا بھی کوئی خیال نہیں ہے اس نے اس قدر بدتمیزی کی ہم سب شرمندہ ہیں؛؛؛ مہرماہ جیسی بدتمیز بدمزاج لڑکی کو کون اپنائے گا؟؟ تم شکر کرو کی تم بچ گئے اس جاہل اور گنوار لڑکی سے؛؛؛ زبان تو اس کی سو غز لمبی ہے۔ صبح سے کمرے میں بند ہے چچی جان کے لاکھ دروازہ کھٹکھٹانے پر بھی اس نے دروازہ نہیں کھولا ہے۔
ژالے کے میں جو بھی آ رہا تھا وہ بولے جا رہی تھی؛؛؛ اس بات سے بے نیاز کی اس کی ان سب باتوں سے حاذم کےاوپر کوئی اثر نہیں پڑنے والا تھث مہرماہ لاکھ چاہے اس سے بدتمیزی کر لے لیکن وہ مہرماہ کے بارے میں ایک لفظ غلط نہیں سوچ سکتا تھا۔
ژالے میں ابھی آفس میں مصروف ہوں میں تمہیں بعد میں کال کرتا ہوں اوکے اللہ حافظ؛؛ حاذم اس کی بات بیچ میں سے کاٹ کر فوراً اللہ حافظ کرتا فون بند کر کے واپس ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔
دوسری جانب ژالے حیرت زدہ ہوتی موبائل کی اسکرین کو گھور رہی تھی۔ اتنی بھی کیا جلدی تھی کی دو پیار کے بول بولنا بھی دشوار تھا۔ وہ منھ میں اول فول بکتی فون بیڈ پر پٹکی تھی۔
اس کے برعکس حاذم کا ذہن بالکل ماؤف ہو چکا تھا۔ اس کو شدید غصہ آرہا تھا اس پاگل لڑکی پر جو صبح سے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر کے بیٹھی تھی۔
حاذم کو اس کی طبیعت کا خیال آتے ہی ہونٹ بھینچ لیا تھا۔ آفس میں وہ زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکا اگر وہ یہاں پر زیادہ دیر رکتا شائد اس کا دم واقعی یہاں گھٹ جاتا۔
وہ چیئر سے اٹھ کر ٹیبل پر پڑا موبائل اور گاڑی کی چابی لے کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا آفس سے باہر نکلا تھا اس کڑی دھوپ میں بھی اس کو اپنے بجائے صرف اور صرف اس شیرنی کا خیال ستائے جا رہا تھا۔
وہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ چچا جان سے بات کرے گا اور اس رشتے کے لئے انکار کرے گا؛؛ کیونکہ محبت میں ایک دوسرے کی خوشی دیکھی جاتی ہے اور وہ ہر گز مفاد پرست نہیں ہو سکتا تھا خاص کر مہرماہ عامر کے معاملے میں تو بالکل بھی نہیں؛؛ وہ جیسے اپنی سوچوں کا پٹارہ بند کر کے ایک نتیجے پر پہنچ چکا تھا۔
آفس سے باہر نکلتے ہی وہ گاڑی میں جاکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے ان خالی راستوں پر دوڑانا شروع کر دیا تھا۔

اس نے گاڑی میں بیٹھ کر میوزک پلیئر آن کر دیا جہاں پر جون ایلیا کی غزلیں عروج کے ساتھ اپنی موسیقی سوز بھری آواز میں مدھر بکھیر رہی تھیں۔
اس گھٹن زدہ ماحول میں بھی ان کی آواز اسے کافی سکون بخش رہی تھیں۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ سیدھا گھر جائے گا اور چچا جان سے بات کرے گا اور اس رشتے کے لئے انکار کرے گا۔ وہ ان کی بیٹی سے بے انتہا محبت کرتا تھا لیکن اسے اس رشتے میں زبردستی باندھ کر گھسیٹ نہیں سکتا تھا۔ اور گھسیٹتا بھی تو کب تک؟؟ ایسے کمزور رشتے ایک نہ ایک دن اپنی عمر پوری کر ہی لیتے ہیں اور ایک کچچی ڈور کی مانند ذرا سی لچک پر ٹوٹ جاتے ہیں۔

❤️❤️❤️

شام کے پانچ بجے اس نے کہیں جا کر دروازہ کھولا تھا۔ اس کا حلیہ صاف یہ بتا رہا تھا کہ وہ بے انتہا روئی ہے سوجی سوجی آنکھیں جس میں ویرانیت کا عنصر صاف نمایاں تھا۔
وہ خالی خالی آنکھوں سے اپنے اس گھر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کو اپنا یہ گھر بھی اب اپنا نہیں لگ رہا تھا؛؛ وہ کمرے میں سے نکل کر سیدھا کچن کا رخ کی تھی؛؛ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے؛؛
ناشتے کی ٹیبل پر بھی اس نے محض چند لقمے ہی زہر مار کئے تھے.
بھوک کی وجہ سے اس کا ذہن کام نہیں کر رہا تھا تھا۔ وہ اپنے لئے چائے بنانے کی غرض سے کچن میں گئی تھی۔ وہاں پر جا کر اس کا سامنا گھر کے سبھی افراد سے ہوا تھا۔ جو شام کے کھانے کی تیاری میں لگے ہوئے تھے۔
عیشہ بھی کچن میں موجود تھی؛؛؛ وہ جائے چولہے پر چڑھا رہی تھی۔ مہرماہ سب کو نظر انداز کرتی عیشہ سے مخاطب ہوئی تھی۔
عیشہ میرے لیے بھی چائے بنا دو؛؛؛ مہرماہ سب پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر عیشہ سے مخاطب ہو کر چائے اپنے لئے بھی بنانے کا بولی تھی۔
آسیہ بیگم اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر بہت فکرمند تھیں ان کی سمجھ سے باہر کی بات تھی وہ کیا کریں؟؟؟ اتنا مجبور انہوں نے اپنے آپ کو کبھی نہیں پایا تھا۔
وہ بیٹی کو کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں دینا چاہتی تھیں۔
بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ان کا کلیجہ منہ کو آیا تھا۔
وہ دوڑ کر مہرماہ کے قریب آئی تھیں اور اس کے سر پر ہاتھ سہلانے کے لئے جیسے ہی اپنا ہاتھ بڑھایا اس نے ان کے بڑھتے ہاتھ کو پکڑ کر روک لیا تھا۔
وہ اب کسی کو بھی اپنا ساتھی نہیں سمجھ رہی تھی۔ اس کو لگ رہا تھا کہ اس رشتے میں سب کا ہاتھ ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ماں کا بھی؛؛ باپ تو اس کا پہلے سے ہی مرید تھا تھا اور اب ماں بھی ہو گئی تھی۔
اتنی دیر میں عیشہ نے چائے مگ میں انڈیل دی تھی وہ چائے کا مگ لے کر کچن سے فوراً نکل گئی تھی۔
اس وقت اس کو سب لوگ اپنے دشمن نظر آ رہے تھے۔ چائے لیکر وہ لان میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔
شام کے وقت ہلکی سی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی؛؛
موسم بھی کافی حد تک بہتر تھا آسمان پر بادل چھٹے ہوئے تھے۔ وہ ابھی چائے کا پہلا گھونٹ گلے کے اندر اتاری تھی کہ اس کی نظر سامنے اٹھی تھی جہاں حاذم اپنے مضبوط قدموں سمیت اسی کی جانب آ رہا تھا۔
حاذم پر نظر پڑتے ہی اس کا فشار خون بلند ہونے لگا آنکھوں کی چنگاری میں مزید تپش آگئی تھی۔
اسے چائے کا گھونٹ کسی زہر کی مانند لگ رہا تھا تھا؛؛ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے جلتے ہوئے کوئلے کو زبان پر رکھ لیا ہو۔ وہ برا سا منہ بناتی وہاں سے اٹھ کر جانے کے لئے کھڑی ہو گئی کیونکہ وہ اس شخص کا چہرہ تک دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس کے وجود سے اسے انتہا کی نفرت تھی اور اس کو دیکھ کر وہ اپنی طبیعت مزید خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر جانے کے لیے سیڑھیوں کی جانب رخ کی تھی اس کا ارادہ تھا وہ چھت پر جا کر چائے پئے گی جب ہی پیچھے سے حاذم کی پکار نے اس کے قدموں کو آگے بڑھنے سے روکا تھا۔
مہرماہ؟؟ حاذم نے اس کو سیڑھیوں کی جانب جاتا دیکھ آہستگی سے اس کو پکارا تھا۔ اس کی آواز میں ایک انسیت تھی۔
وہ کیوں اس کو پکار رہا تھا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
وہ اس کم عقل لڑکی کو سمجھانا چاہتا تھا کہ اب وہ جیسا چاہے گی؛؛؛ ویسا ہی ہوگا۔ خواہ اس کے لئے اس کو آج چچا جان کی نظروں میں گرنا ہی کیوں نہ پڑے۔
ایک دن میں اس نے یہ حالت کر لی تھی اپنی تو؛؛ باقی کی زندگی وہ تو جیتے جی مر جائے گی؛؛؛ حاذم اس کے بجھے بجھے چہرہ کی جانب دیکھ کر بیچیںن ہوا تھا۔
دوسری صورت میں اس کو یہ قابل قبول نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے سے مہرماہ عامر کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچے۔ یہ بھی اس کی شدت محبت کی ایک دلیل تھی۔
میرا نام اپنی زبان سے مت لو؛؛؛ میرے نام کی توہین ہو رہی ہے؛؛ تمہارے جیسے بے غیرت انسان سے مہرماہ عامر بولنا بھی پسند نہیں کرتی ہے۔ وہ اس کی پکار پر تڑخ سے جواب دیتی سڑھیوں پر دندناتی ہوئی چڑھنے لگی۔ حاذم عباس سے سامنا کرنے کو وہ ہرگز بھی تیار نہ تھی۔
مہرماہ میری بات سنیں پھر بے شک آپ کو میری شکل کیا میرا نام بھی کبھی نہیں سننا پڑے گا؛؛؛ حاذم دو قدم آگے بڑھ کر اپنی بات بات اس کے تک پہنچانے کی کوشش کیا تھا۔ اس کے برعکس مہرماہ اس کو کچا چبا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی گویا سالم کا سالم نگل جائے گی۔
تمہاری بکواس سننے کے لئے میرے پاس ہرگز وقت نہیں ہے؛؛؛ میں تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی اور تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری بات سنوں؟؟ اپنی شکل میرے سامنے سے گم کر لو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ وہ حقارت سے کہتی حاذم کے وجود کے پرخچے اڑا رہی تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کا منہ نوچ لے۔
میں جانتا ہوں کی آپ کو میری شکل نہیں پسند؛؛؛
لیکن فلحال میں جو بات کرنے جا رہا ہوں ہو اس میں آپ کو میرا ساتھ دینا پڑے گا میں اس چیز کا اکیلا ذمہ دار نہیں رہوں گا؛؛ آگے آپ کی مرضی!! وہ اپنی بات کہہ کر جانے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے مہرماہ کی آواز نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا اس کی پکار پر وہ پیچھے پلٹا جہاں وہ بت بنی کھڑی تھی اور خاموشی سے اپنی خطرناک تیور سمیت اسے گھور رہی تھی۔
کہنا کیا چاہتے ہو تم؟؟ مہرماہ کو جاننے کی بے چینی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے چہرے کے تاثرات کو چھپاتے ہوئے حاذم کو مخاطب کی تھی۔
اسی دوران بات کے بیچ میں ژالے کسی جن کی مانند نمودار ہوئی تھی۔
ان دونوں کو آمنے سامنے دیکھ کر ژالے کو مہرماہ سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔
“”لگتا ہے کی کوئی اہم بات ہو رہی ہے؛؛؛ اور میں نے بیچ میں دخل اندازی کر دی ہے؛؛؛ وہ وہ معصومیت بھری ایکٹنگ کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کے لبوں پر ایک کمینی سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی جس کو چھپاتے ہوئے اس نے معصوم بننے کی اداکاری کی تھی۔
نہیں کوئی اہم بات نہیں ہم بس ویسے ہی کھڑے تھے؛؛ حاذم بات بناتے ہوئے بولا۔
ارے حازم تم کب آئے؟؟؟ بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو؛؛؛ کیا میں تمہارے لئے چائے بنا کر لے کر آؤں؟؟ وہ حاذم کی کسی نہ کسی طرح توجہ پانے کی نا ممکن کوشش میں لگی ہوئی تھی۔
نہیں بہت شکریہ مگر مجھے چائے کی طلب نہیں ہو رہی ہے؛؛؛ فلحال میں اپنے کمرے میں جا کر فریش ہونا چاہتا ہوں؛؛؛ حاذم بغیر ایک بھی لمحہ ضائع کئے مہر ماہ پر ایک گہری نگاہ ڈالتا وہاں سے نکل گیا۔
حاذم کے فوراً جانے کے بعد ژالے نے مہرماہ کی جانب رخ کیا اور ہاتھ کو سینے پر باندھتے ہوئے اطمینان سے اس کے اور حاذم کے درمیان ہونے والی بات جاننے کی کوشش کی تھی۔
حاذم کیا کہہ رہا تھا؟؟؟ کیا وہ رشتے کو لے کر کوئی بات کر رہا تھا؟؟؟ وہ مہرماہ کی خیر خواہ بننے کی اداکاری کرتے ہوئے پوچھی تھی۔
اس کے سوال پر مہرماہ بے فکری سے اس کو و اس کے سوال کو نظر انداز کرتی کاندھا اچکا کر وہاں سے چلی گئی۔ وہ کسی کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی تھی۔
اس کی اس حرکت پر ژالے کا موڈ بری طرح سے خراب ہوا تھا۔ وہ غصے سے مہرماہ کو دیکھتے ہوئے من ہی من میں برا بھلا بول رہی تھی اس کو تو بس یہ جاننے کی بے چینی تھی آخر ان دونوں کے درمیان میں کیا گفتگو ہوئی ہوگی؛؛؛ کوئی سراغ نہ ملنے پر وہ بھی وہاں سے چلی گئی۔
آسیہ بیگم دور کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔ بیٹی کی اس حالت پر انہیں بے تحاشا ترس آ رہا تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کی وہ اپنی بیٹی کا دکھ کس طرح دور کر دیں اور ان ساری مصیبتوں سے کھینچ لائیں ان کی اکلوتی بیٹی کو نہ جانے کیا کیا سہنا پڑ رہا تھا۔

مہرماہ بے فکری سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی اور جانے ہی لگی تھی کی اس کت ہاتھ کی کلائی کو کسی نے زور سے پکڑ کر اندر کی جانب کھینچا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں موجودہ چائے کے مگ میں سے دو تین بوندیں اس کی سفید مرمری کلائی پر گر گئی تھیں۔ ہاتھ کی کلائی کو سامنے والے کی گرفت سے آزاد کرتی پہلے اپنے دوپٹے سے صاف کی تھی۔
صاف کرنے کے بعد اس نے سامنے کی جانب نظریں اٹھائی تھیں سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کا بی پی مزید ہائی ہوا تھا۔
رمیض یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟؟ مہرماہ آبرو اچکاتی غصے سے پوچھی تھی۔
میں جانتا تھا کہ تم غصہ کرو گی؛؛ لیکن میرے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں تھا؛؛؛ تم تو گھر میں مجھے دیکھتی نہیں ہو صبح سے کمرے میں بند ہو؛؛؛ بتاؤ؟؟ میں تمہیں کہاں سے ملوں؟؟؟ میں تم سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہوں اگر تم مجھے تھوڑا سا اپنا وقت دو تو؛؛؛ رمیض کی بے چینی اس کی آنکھوں میں جھلک رہی تھی؛؛؛
وہ نہ جانے ایسی کونسی بات کرنے کے لئے باولا بنا پھر رہا تھا۔ اس کی بات سن کر مہرماہ نے چائے کا کپ وہاں ٹیبل پر رکھتے ہوئے سامنے کی جانب نظریں اٹھائی اور سوالیہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھی!!!
ایسی کونسی بات ہے جس کے لیے تمہیں اتنی جلدی ہے؟؟ اور ساتھ میں اتنی بے چینی بھی؟؟ مہرماہ نے سلگ کر پوچھا۔
دیکھو مہرماہ میری بات دھیان سے سنو میں جانتا ہوں کی چچا جان تمہاری شادی حاذم سے کرنا چاہتے ہیں لیکن تم اس رشتے کے لئے تیار نہیں ہو؛؛؛ چچا جان کے سامنے مجبور ہو؛؛؛ تو میں تمہیں ایک اچھی صلاح دینا چاہتا ہوں تم اگر چاہو تو؛؛؛؛ رمیض اپنی بات کرنے کیلئے الفاظ کو ترتیب دینے کی ناکام کوشش میں لگا ہوا تھا۔ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق کسی نہ کسی طرح مہرماہ کو اپنے جال میں پھنسانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
ایسی کونسی صلاح ہے؟؟؟ بولو بھی؛؛؛ مہرماہ اس کی آنکھوں میں چھپے گھٹیا پن کو دیکھنے سے قاصر تھی۔ اس کو تو سوائے حاذم عباس کے گھٹیا انسان کے علاوہ کوئی تیسرا شخص لگ ہی نہیں سکتا۔
مہرماہ چچا جان تمہارا رشتہ کروانا چاہتے ہیں؛؛؛ وہ بھی حاذم کے ساتھ؛؛؛ تو میں چاہتا ہوں جب چچا جان تم سے زبردستی کریں یا تمہیں مجبور کریں تو؛؛؛ تم سب کے سامنے ڈٹ جاؤ مجھے حاذم نہیں کوئی اور پسند ہے پھر سارے لوگ تمہارے آگے مجبور ہو جائیں گے؛؛؛ اور اس طرح تمہیں حاذم سے چھٹکارا بھی مل جائے گا؛؛ رمیض اپنی بات کہہ کر اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو بغور تک کر رہا تھا۔ اس کی بات مکمل ہو جانے کے مہرماہ نے بولنا شروع کیا تھا۔
رمیض تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟؟؟ میں ایسی حماقت کیوں کرنے لگی؟؟؟ جب مجھے کوئی پسند ہی نہیں ہے؛ مہرماہ نے سر فوراً نفی میں ہلایا تھا۔ وہ ایسی حرکت کے لئے ہرگز راضی نہیں تھی۔
مہرماہ ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ یار!!! تمہیں صرف اتنا فوکس کرنا ہے کہ تمہیں حاذم سے چھٹکارا پانا ہے؛؛؛ اور اس کے لئے تمہیں یہ ڈرامہ کرنا پڑے گا ورنہ پھر حاذم کے ساتھ ساری زندگی پھانسی کے پھندے پر لٹکنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ رمیض اسے کسی نہ کسی طرح قائل کرنے کی ناکام کوشش میں لگا ہوا تھا۔
وہ نہیں چاہتا تھا کی مہرماہ اس کی بات کو رد کرے کسی بھی قیمت پر۔
رمیض جب بابا مجھ سے پوچھیں گے کی کون پسند ہے؟؟ تو میں کیا کہوں گی؟؟؟ مہرماہ کے اسی سوال کا تو رمیض کو بے صبری سے انتظار تھا۔
اس کے لبوں پر ایک شاطرانہ سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی۔ اب جاکر تو وہ اپنے منزل مقصود تک پہنچا تھا۔
مہرماہ تمہیں اپنے سامنے یہ چھ فٹ کا بندہ نہیں دیکھ رہا کیا؟؟؟ یار تم میرا نام لے لینا کی مجھے رمیض پسند ہے؛؛؛ پھر کیا پھر تمہارا رشتہ حاذم کے ساتھ نہیں ہوگا اور اس طرح تم بچ جاؤ گی؛؛؛ یار دیکھو تم میری کزن ہو اور میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔
کیا؟؟؟ مہر ماہ کی تو جیسے چیخیں نکل گئی تھی اس کی بات سن کر۔
ہاں یار تم میرا نام لے لینا؛؛؛ رمیض نے فوراً گردن ہاں میں ہلائی تھی۔
لیکن رمیض یہ پوسیبل نہیں ہے؛؛؛ میں تمہارا نام کیسی لے سکتی ہوں؟؟ یہ میرے لئے بہت بڑی بات ہے؛؛؛ ہاں بیشک میں حاذم سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہوں لیکن اس طرح نہیں؛؛؛ مہر ماہ کے چہرے سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی وہ رمیز کی بات تو سمجھ رہی تھی لیکن اس کی صلاح کو رد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
اس کا نام گھر کے سبھی افراد کے سامنے لینا ایک بہت بڑی حماقت ہوگی جس کو وہ کرنے کے لئے راضی نہیں تھی۔
مہرماہ تمہیں صرف اتنا یاد رکھنا چاہئے کی؛؛؛ تمہیں حاذم سے پیچھا چھڑانا ہے؛؛؛ اور اس کا یہی بہترین راستہ ہے ورنہ پھر دیکھو تمہاری مرضی؛؛؛ کیسے ساری زندگی حاذم کے ساتھ گزارو گی؟؟ ایک ایسے شخص کے ساتھ جس سے تم بے تحاشہ نفرت کرتی ہوں اور اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنا ایک ناممکن سی بات ہے یار؛؛؛ رمیض کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ مہرماہ کو اپنی باتوں میں کس طرح سے قائل کرے؛؛؛؛ اور اس کو یہ حماقت کرنے کے لئے کسی نہ کسی طریقے سے راضی کر لے۔
ویسے تم بھی صحیح کہہ رہے ہو مجھے اس کے متعلق سوچنا چاہیے؛؛؛ مہرماہ کو بھی رمیض کی بات کہیں نہ کہیں سہی لگ رہی تھی. اس وقت وہ رمیض کو اپنا سب سے بڑا خیرخواہ سمجھ رہی تھی؛؛؛ اس نے رمیض سے ان سب کے متعلق سوچنے کا تھوڑا سا وقت مانگا جس پر رمیض بھی راضی ہو گیا تھا۔
مہرماہ اس کے کمرے سے جا چکی تھی اور رمیض اب بے چینی سے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا تھا اسی اثنا میں مہر ماہ کی چائے بھی ٹھنڈی ہو چکی تھی ۔
اپنے کمرے کی جانب رخ کر ہی رہی تھی کہ اس کا سامنا حاذم سے ایک بار پھر ہوا تھا۔
حاذم عامر صاحب سے بات کرنے کی غرض سے ان کے کمرے کی جانب جا رہا تھا۔
حاذم کا تھکا تھکا سا حلیہ یہ پیشانی پر بکھرے بال تھکن سے چور متوالی آنکھیں و کالی گھنی مونچھوں تلے گلابی ہونٹ؛؛؛ وہ بلا کا جاذب نظر آ رہا تھا۔

مہرماہ اس کے حلیے پر ایک نظر ڈال کر یکلخت اپنی نظریں چرا لی تھیں۔ نفرت کا آلاو اپنی جگہ تھا لیکن حاذم کی پرکشش شخصیت کو نظر انداز کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ دیکھنے والا یقیناً کچھ پل کے لئے مبہوت ہو جاتا؛؛؛؛ لیکن در حقیقت سامنے مہرماہ عامر تھی جو کی کوئی عام لڑکی نہیں تھی یوں کسی پر پھسل جاتی۔

حاذم اس کو سرے سے نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا تھا پیچھے وہ اس کو جاتا دیکھ من ہی من میں تلملائی تھی۔

تم سے ہی تو سیکھا ہے نظر انداز کرنے کا طریقہ

اب تم پر ہی آزمایا تو حیرت کیسی؟؟

ہممم؛؛؛ جا رہا ہے اپنے چچا جان کی خوشامد کرنے؛؛ وہ حقارت سے اس کو جاتا ہوا دیکھ کر خود تن فن کرتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔

❤️❤️

حاذم عامر صاحب کے کمرے میں آ کر دروازے کو ہلکا سا نوک کیا تھا۔
اندر سے اجازت ملنے کی آواز آئی تھی۔ ویسے تو اس کو کمرے میں جانے کی اجازت نہیں لینی پڑتی تھی؛؛؛ لیکن پھر بھی وہ اجازت لیتا تھا۔
اندر داخل ہوتے ہی حاذم کی سب سے پہلی نظر عامر صاحب پر پڑی تھی۔
وہ بیڈ سے نیچے زمین بوس تھے۔ اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سہلا رہے تھے تکلیف سے ان کا چہرہ بالکل پیلا پڑ چکا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اب ان سے اپنی تکلیف کو برداشت کرنا بس سے باہر ہو۔
حاذم دوڑ کر ان کے قریب آیا تھا۔
اس کی عقل پر جیسے تالے پڑ گئے تھے۔ اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ کیا کرے؟؟ وہ ان کے قدموں میں زمین پر بیٹھ کر ان کا ہاتھ سہلا رہا تھا؛؛؛ اور انہیں پکار رہا تھا۔
چچا جان؟؟؟ چچا جان؟؟؟؟ پلیز آنکھیں کھولیں؛؛؛ کیا ہوگیا آپ کو؟؟ حاذم کا چہرہ پسینے سے تر ہو گیا تھا۔
اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسے حالات میں کیا کرے؟؟؟ دل و دماغ دونوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
یہ اچانک ہونے والی آفتاد نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ حاذم کو جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو اس نے عامر صاحب کو اپنے بازو کے سہارے سے اٹھایا تھا۔ گھر میں اس وقت افراد نہ ہونے کے برابر تھے۔
آسیہ بیگم کچن میں تھیں اور باقی کے افراد بھی اپنے اپنے کمرے میں تھے۔
مہرماہ بھی اپنے کمرے میں تھی۔
اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس کو پکارے؟؟ جب تک وہ کسی کو پکارتا ان کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی۔
حاذم ان کو اٹھا کر فوراً گاڑی تک لایا تھا۔
اس نے پیچھے کی سیٹ پر عامر صاحب کو لٹا دیا تھا۔
دل کی دھڑکن بہت کم ہو چکی تھی ان کی؛؛؛ آنکھیں ہنوز بند تھیں و دانت پر دانت جمے ہوئے تھے۔
حاذم ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر فوراً گاڑی سٹارٹ کیا اور تیز رفتاری سے گاڑی روڈ پر دوڑانے لگا؛؛؛ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔ گاڑی چلانے کے ساتھ ساتھ وہ بار بار پیچھے مڑ کر عامر صاحب کو دیکھ رہا تھا۔
گاڑی فل اسپیڈ سے روڈ پر دوڑ رہی تھی؛؛؛ حاذم کو نہ تو کسی ایکسیڈنٹ کا ڈر تھا اور نہ ہی کسی دوسری چیز کا اس کو بس کسی بھی قیمت پر ہسپتال پہنچنا تھا۔ وقت سے پہلے؛؛؛ اگر وہ ہسپتال وقت پر نہیں پہنچتا اور خدانخواستہ عامر صاحب کو کچھ ہوگیا تو وہ اپنی زندگی میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پائے گا۔
تقریباً آدھے گھنٹے کی فل اسپیڈ کے ساتھ گاڑی ہسپتال تک پہنچ ہی گئی تھی.
عامر صاحب کو ایمرجنسی میں ایڈمٹ کیا گیا تھا۔ حاذم بھی ہسپتال کے اندر گیا تھا۔ عامر صاحب کو فوراً آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا تھا۔
ایک افراتفری کا ماحول تھا؛؛؛ اس کے لبوں پر سوائے دعا کے اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا؛؛؛ وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بے بس انسان محسوس کر رہا تھا جو اپنے چچا جان کے لئے اس وقت کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا؛؛؛ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ انہیں کسی بھی طرح سے پہلے جیسا کر دے۔
تقریباً تین گھنٹے کے آپریشن کے بعد ڈاکٹرز آپریشن تھیٹر سے باہر آئے تھے ان تین گھنٹوں کے درمیان میں حاذم نے گھر میں بھی سب کو اطلاع دے دی تھی فون کر کے۔
گھر میں جیسے طوفان سا مچ گیا تھا۔
ہر فرزند کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
آسیہ بیگم کو تو لگ رہا تھا کہ ان کی دنیا یہیں سے اجڑ گئی ہے؛؛؛ جبکہ مہرماہ تو بے سدھ سی پڑی ہوئی تھی۔
گاڑی ہسپتال تک پہنچ چکی تھی؛؛؛ سبھی لوگ گاڑی سے اتر کر ہسپتال میں داخل ہوئے تھے اسی اثناء میں عامر صاحب کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔
حاذم آئی سی یو کے باہر کھڑا تھا۔
گھر کے سبھی افراد ہسپتال میں پہنچ کر آئی سی یو کے باہر کھڑے تھے۔
ہر کسی کے لبوں پر دعا کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
آسیہ بیگم تو رو رو کر اپنا برا حال کر لی تھیں۔ مہرماہ طیش کے عالم میں تن فن کرتی ہسپتال میں آتے ہی سب سے پہلے حاذم کا گریبان اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
گھٹیا انسان؛؛؛ بتاؤ تم نے کیا کیا ہے؟؟؟ میرے بابا کے ساتھ؛؛؛ ان کی اس حالت کے ذمہ دار تم ہی ہو؛؛؛؛ آخری بار تم ہی میرے باپ سے ملنے گئے تھے؛؛؛ تم ہی نے ان سے کچھ کہا ہوگا؛؛؛ تم نے کیا بات کی ہے کہ؟؟؟ ان کی یہ سچویشن ہوگئی ہے؛؛؛ تم یاد رکھنا حاذم عباس اگر میرے بابا کو کچھ ہوا تمہاری وجہ سے؛؛؛ تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں؛؛؛ مہرماہ اس کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑنے ساتھ ساتھ روئے بھی جا رہی تھی۔
حاذم بس خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا بول کچھ بھی نہیں رہا تھا۔
خود پر بہت ضبط کرنے کے بعد بھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس لڑکی کے گال پر ایک زور کا تھپڑ مارے؛؛؛؛ لیکن اس نے بڑی محنت سے خود پر کنٹرول کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر دوسری سائیڈ لے گیا مہرماہ اس کے ساتھ کھینچی چلی گئی تھی۔
حاذم اس کو ایک سائیڈ پر لے جاکر پٹکنے والے انداز میں دیوار سے لگایا تھا۔
مہرماہ عامر اپنی انا کو اور اپنی ضد کو پرے رکھ کر دیکھو؛؛؛ تمہارا باپ اس حالت میں کس کی وجہ سے آیا ہے؟؟؟ ان سب کی ذمہ دار کون ہے؟؟؟ اس حالت میں چچا جان کو لانے والی تم ہو۔ اپنی انا و ضدی طبیعت کی وجہ سے تم نے ان کو یہاں تک پہنچایا ہے؛؛؛ اور میں تمہیں وارننگ دے رہا ہوں اگر انہیں کچھ ہوا تو میں تمہیں ہرگز نہیں بخشوں گا؛؛؛ یاد رکھنا تم!!!!
ہاضم کا خود پر سے ضبط ختم ہو چکا تھا۔ وہ اب زیادہ دیر خود پر کنٹرول نہیں رکھ پایا تھا؛؛؛؛ اس نے مہرماہ عامر کو بازوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا.
اس کے برعکس مہرماہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس انسان کا یہ نیا روپ دیکھ رہی تھی؛؛؛ زندگی میں پہلی بار حاذم نے اس کے ساتھ اس طرح سے بات کی تھی۔
وہ تو ہمیشہ اس ک” آپ” کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔
لیکن آج تو بہت کچھ بدل گیا تھا آج اس نے جس طرح مہرماہ کو مخاطب کیا تھا یہ اس کے لئے کسی حیرانگی سے کم نہیں تھا۔
حاذم اس پر ایک غیر ارادی طور پر نظریں ڈال کر وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا تھا۔
پیچھے وہ اپنی انا و خوداری میں گھر کر رہ گئی تھی۔
وہ اپنے بابا کا سوچ سوچ کر زمین پر بیٹھ کر بے تحاشا چلا کر رونے لگی تھی۔
اگر واقعی اس کے بابا اس کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں تو اس کے لئے شرم سے ڈوب مر جانے کا مقام تھا۔
تقریبا 12 گھنٹے بعد ڈاکٹرز نے آکر یہ اطلاع دی کی پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے سبھی افراد نے اللہ کا شکر ادا کیا دعاؤں کا ذخیرہ ویسے ہی چل رہا تھا۔
آسیہ بیگم نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور باقی کے افراد نے بھی شکر کا سانس لیا تھا۔
حاذم کے دل و دماغ میں گویا سکون اتر آیا تھا؛؛؛ چچا جان کا ہوش میں آنا اس کی زندگی میں دوبارہ سے خوشی آنے کے برابر تھا۔
وہ اپنے چچا جان کو کبھی نہیں کھو سکتا تھا؛؛؛ اس پوری کائنات میں اس کے لئے ایک واحد انسان وہی تھے جو اسے اپنا سمجھتے تھے۔
اس بارہ گھنٹے نے ان کی زندگیاں تباہ کر دی تھیں۔ مہرماہ ڈاکٹرز کے پاس دوڑ کر گئی تھی وہ اپنے بابا سے ملنے کو ماہی بے آب کی مانند مچل رہی تھی۔
ڈاکٹر پلیز مجھے اپنے بابا سے ملنا ہے پلیز؛؛؛ مجھے اندر جانے دیں؛؛؛ میں ایک بار ملنا چاہتی ہوں میں ان کی بیٹی ہوں؛؛؛؛ مہرماہ ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنے باپ سے ملنے کی اجازت مانگ رہی تھی جبکہ دور کھڑا حاذم یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

“”سوری ٹو سے””” لیکن پیشئنٹ فلحال مسٹر حازم سے ملنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا اتنا کہنا تھا کہ مہرماہ کے مٹھیاں بھینچ گئی؛؛؛ اس نے پلٹ کر حاذم کی جانب دیکھا جو سرد نگاہوں سے اسے ہی گھور رہا تھا مہرماہ ڈاکٹر کے جانے کے بعد پیچھے ہٹ گئی۔
اتنی بڑی سچویشن کے بعد بھی سب سے پہلا نام یاد تھا تو حاذم کا؟؟؟ کیا انہیں اپنی اکلوتی بیٹی یاد نہیں تھی؟؟؟
حاذم آگے بڑھ کر آیا تھا اور ڈاکٹرز کے ہمراہ اندر گیا تھا۔
اندر عامر صاحب کاٹ پر لیٹے ہوئے تھے۔
ان کی حالت بتا رہی تھی کہ ان کی طبیعت کافی خراب ہے۔
تین گھنٹے سے اپنی بیماری سے لڑنے والا انسان اس وقت موت کی لڑائی لڑ کر باہر آیا تھا۔
وہ بہت کمزور سے لگ رہے تھے؛؛؛ حاذم چل کر ان کے قریب آ کر پاس رکھی چئیر پر بیٹھ گیا تھا۔
اور ان کا ہاتھ آہستگی سے اپنے ہاتھ میں تھام کر سہلاتے ہوئے اپنے لبوں کو اس پر رکھ دیا تھا۔ اور اس رب کی بارگاہ میں شکریہ ادا کیا تھا اس کے چچا جان سہی سلامت ہیں۔

تمہارا بہت شکریہ حاذم تم نے میری اتنی مدد کی؛؛؛ اگر تم وقت پر نہیں آتے تو شاید آج میں………. عامر صاحب آگے بولنے ہی والے تھے حاذم نے ان کے ہاتھ پر ہلکا سا زور دے کر انہیں خاموش رہنے کا کہا تھا۔
چچا جان پلیز ایسی باتیں نہ کریں آپ ہمارے اکلوتے اور ہمارے بڑے ہیں۔
ہم آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ حاذم کی آنکھیں لال ہونے لگی تھیں۔ اس نے اپنے باپ سے زیادہ اپنے چچا کی محبت پائی تھی جس کی وجہ سے وہ ان سے کچھ زیادہ ہی اٹیچ تھا۔
مجھے معاف کر دو بیٹا؛؛؛ میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر پایا؛؛؛ مہرماہ کی بدتمیزی کی وجہ سے آج میں اس حالات میں ہوں؛؛؛؛ میں بہت شرمندہ ہوں تمہارے لئے اور مہرماہ کی بدتمیزی کی معافی مانگتا ہوں مجھے سکون نہیں مل رہا ہے مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کی میری اپنی سگی اولاد مجھے یہاں تک پہنچا دے گی؛؛؛ یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ؛؛؛ بیٹا مجھے معاف کر دو۔
حاذم نے یکلخت ان کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کر اپنے ہاتھ میں تھاما تھا۔
ان ساری باتوں کے درمیان مہرماہ کے پاؤں سے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی ہو۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی۔

ڈاکٹرز کے جانے کے بعد وہ بغیر کسی اجازت کے اندر آ گئی تھی۔ اندر آنے پر ان دونوں کی گفتگو سن کر اس کے پیر زمین پر جم گئے تھے۔
اس کے اندر چلنے کی طاقت مر چکی تھی۔وہ بے جان جسم کی طرح کھڑی تھی اگر جو سامنے ٹیبل نہ ہوتا اور وہ اس کا سہارا نہ لیتی تو یقیناً زمین پر گر کر بے ہوش ہو جاتی۔
اس کو تو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کی اس کے بابا یہاں تک اس کی وجہ سے پہنچے ہیں اسکا مطلب کی حاذم سہی کہہ رہا تھا ان سب کی زمیدار صرف اور صرف میں ہوں؛؛؛؛ وہ تو اب تک حاذم کو ان سب کا قصوروار مانتی تھی۔
لیکن اپنے باپ کی زبان سے اپنے بارے میں اس قسم کی باتیں سن کر وہ مر جانے کے مقام پر کھڑی تھی۔

اس نے ایک لمحے میں فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنے بابا کو اب کسی بھی قسم کی تکلیف نہیں دے سکتی؛؛؛ اگر اس کی وجہ سے اس کے بابا کو کچھ ہوگیا تو وہ تو جیتے جی مر جائے گی وہ لرزتے قدموں سمیت چلتے ہوئے عامر صاحب کے پاس آئی تھی۔

گلابی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں وہ بلا کی پرکشش لگ رہی تھی۔ گلابی پنکھڑی جیسے ہونٹ یکدم سکڑ چکے تھے۔
وہ آنکھوں میں نمکین پانی بھرے ہوئے تھے۔ رونے کی شدت سے آنکھیں لال سرخ ہو چکی تھیں۔ گال ٹماٹر کی مانند تمتما رہے تھے۔ وہ نازک سی لڑکی اپنے اوپر من و من کا بوجھ لئے گھوم رہی تھی۔ اس کا ضمیر اسے لعنت و ملامت کر رہا تھا۔
حاذم سمیت عامر صاحب کی نظر اس پر پڑی تھی۔ عامر صاحب بیٹی کو دیکھ کر چہرہ پھیر لئے تھے۔
وہ بیٹی سے لاکھ محبت کرنے کے باوجود اس کی بد تمیزی کو بھلا نہیں پا رہے تھے۔ انہوں نے اس سے نہ تو کوئی گلہ شکوہ کیا بس اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہے تھے۔ مہر ماہ کے لئے یہ چیز کسی قیامت سے کم نہ تھی اس کا باپ اس کو دیکھنے سے منھ پھیر رہا ہو۔

بابا؟؟؟ وہ تکلیف کی شدت سے ان کو پکار رہی تھی؛؛؛؛ اس کی آواز میں ایک لرز تھی جوکہ وہاں پر موجود حاذم عباس بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔
اس کی پکار پر بھی عامر صاحب نے اس کی جانب نہیں دیکھا اس کا مطلب تھا کہ وہ بیٹی سے سخت ناراض ہیں۔
بابا؟؟؟؟ میں جانتی ہوں میں بہت بدتمیز ہوں اور بہت بری بھی لیکن پلیز میری جانب دیکھیں؛؛؛؛ بابا میں آپ کی رضا میں راضی ہوں؛؛؛ آپ جیسا چاہیں گے میں ویسا ہی کروں گی؛؛؛؛ بابا میری جانب دیکھیں پلیز بابا ؛؛؛ مہرماہ چھوٹے بچوں کی مانند بلک بلک کر رونے لگی۔
عامر صاحب زیادہ دیر خود پر جبر نہیں رکھ پائے۔ مہرماہ کو انہوں نے اتنی منت سماجت و دعاؤں کے بعد تو ان کے رب نے ان کی جھولی میں ان کی بیٹی کو دیا تھا۔
اور وہ اپنی بیٹی سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتے تھے۔
ان کو تو اپنی سماعتوں پر ہرگز یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کی بیٹی ان کی رضا میں راضی ہے۔
ان کے چہرے پر حیرت و خوشی کے دونوں ملے جلے تاثرات تھے۔
اس کے برعکس حاذم حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہا تھا۔ وہ مہرماہ سے کچھ بھی ایکسپیکٹ کر سکتا سوائے اس چیز کے ؛؛؛؛ مہرماہ کی جانب وہ جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ یہ لڑکی پل میں ماشہ پل میں تولہ کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟ حاذم کو اندر ہی اندر کہیں نہ کہیں خوشی بھی تھی۔ لیکن وہ اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تحریر کو بخوبی پڑھ سکتا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ کس لئے کیا ہے؟؟؟
“”یہ مجبوری بھی کیا بلا ہے؟؟ جو مہرماہ عامر کو بھی مجبور کر دیا۔
وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کس قدر اذیت سے اتنی بڑی بات کہہ گئی ہے۔
اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کہ آخر اس رضامندی کے پیچھے کیا مقصد ہے؟؟ کیا وہ اتنی مجبور ہوگئی ہے کہ اب وہ انکار نہیں کر سکتی اور اس سے شادی کرنے کے لیے راضی ہوگئی ہے؛؛؛
آخر کیا ہے یہ لڑکی؟؟؟ سمجھ سے بالکل باہر ہے؛؛؛ اب اس کا یہ کونسا نیا روپ دیکھنے کو مل رہا ہے؛؛؛؛ حاذم سوچتے ہوئے ٹھیک طرح سے مسکرا بھی نہیں سکتا تھا جس طرح اس نے سب کے سامنے اس کی عزت نفس کو مجروح کیا تھا؛؛؛ اس رشتے سے انکار کر کے؛؛؛ وہ چاہ کر بھی نہیں بھول پا رہا تھا۔ اس رشتے کو اگر کوئی نام دیا جائے گا تو وہ محض مجبوری کا نام ہوگا۔
اور دل بھی تھا کی ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ اس رشتے کے لئے تیار ہوچکی ہے۔

تیری معصوم نگاہوں کے تقدس کی قسم دل نے بھی تو کیا؛؛؛ روح نے بھی تجھے چاہا ہے

مہرماہ ابھی بھی باپ کے سینے سے لگی رو رہی تھی۔ وہ کتنی بھی سنگ دل کیوں نہ ہوتی لیکن درحقیقت وہ تھی تو ایک عورت اور عورت کا دل ویسے بھی نازک ہوتا ہے۔
عامر صاحب نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کو دعائیں دی تھیں۔ ان کی حالت اب پہلے سے کئی گنا بہتر تھی۔ ایک کے بعد ایک دیگرافراد وارڈ میں ملنے کے لئے آرہے تھے۔
کسی کو کانوں کان خبر تک نہ تھی کی مہرماہ عامر حاذم عباس سے شادی کرنے کے لئے اپنی رضامندی شامل کر دی ہے۔
ابھی سارے افراد اس بات سے بے خبر تھے کی وہ اور حاذم عباس ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بہت جلد جڑنے والے ہیں۔

وہ طلب نہ تھا؛؛ عطا تھا خواہش نہ تھا؛؛ دعا تھا وہ کبھی نہ جان سکے گا وہ میرے لئے کیا تھا