Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

مہرماہ کو گئے تقریباً دس منٹ سے زائد ہو چکے عافیہ کو بیچینی ہوئی تھی۔
وہ اٹھ کر مہرماہ کو دیکھنے جا رہی تھی جبھی اسے حازم کسی کام سے اس ٹیبل کے نزدیک آتا دکھائی دیا تھا۔
وہ سیدھا چل کر حازم کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی وہ اس گھر کے لئے بلکل نئی تھی۔ خود سے جا کر چیک کرنا اسے سہی نہیں لگ رہا تھا اور وہ مہرماہ کا کمرہ بھی نہیں جانتی تھی۔ جس کے لئے اس نے حازم کی مدد لینی چاہی تھی۔

حازم فون پر شائد کسی سے مصروف تھا۔
مگر عافیہ کے پریشان چہرے کی جانب دیکھ کر دیکھ کال کٹ کر کے اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔
حازم دراصل مجھے مہرماہ کا روم نہیں معلوم وہ اپنا فون لینے اپنے روم میں گئی تھی۔ مگر اس کو گئے تقریباً پندرہ منٹ ہو چکے ہیں پلیز اگر آپ مجھے اس کے کمرے کی ڈائریکشن بتا دیں تو میں جا کر اس کو بلا کر لاتی ہوں۔
آپ رہنے دیں میں بھیجتا ہوں آپ کی فرینڈ کو۔۔۔حازم اس کو اطمینان دلاتا فون جیب میں رکھ کر مہرماہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔


چھوڑو مجھے گھٹیا انسان میں تمہارا قتل کر دوں گی۔۔۔۔مہرمہاہ اپنے منھ پر اس شخص کا ہاتھ ہٹانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی اس نے اس کے ہاتھ میں اپنے دانت دھنسا دئے تھے جس کے بنا پر وہ شخص مارے درد کے بلبلا اٹھا تھا۔
میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں تمہاری اتنی ہمت تم مہرماہ عامر کو کیڈنیپ کرو۔۔۔۔۔مہرماہ اپنا دوپٹہ سنبھالتی بہ مشکل ہاتھ زمین پر رکھ کر سہارا لیتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔
اس سے پہلے کی وہ اس منھ دراز کا گریبان پکڑتی دروازے پر دستک ہو چکی تھی۔ مہرماہ کو گھبراہٹ کی وجہ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دروازے کی سمت دیکھ رہی تھی۔ اور وہ شخص اپنے ہاتھ کو پکڑ کر درد سے کراہ رہا تھا۔ جہاں پر مہرماہ کے دانتوں کے گڈھے پڑ چکے تھے۔

دروازے پر دوبارہ سے دستک ہوئی تھی۔ مہرماہ کو اس اندھیرے میں کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا وہ ہاتھ کے اشارے سے لڑکھڑاتے قدموں سمیت دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
اور وہ شخص دانت کاٹنے کی وجہ ہاتھوں میں درد ہونے کے باوجود اسے روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں سے خون کی چند بوندیں بھی ٹپک کر زمین پر گری تھیں۔ مہرماہ اس کا ہاتھ جھٹکارتی دروازے تک پہنچی تھی۔
اور اپنا ہاتھ بڑھا کر اندھیرے میں کنڈی ٹٹولی تھی جس سے تھوڑی سی مشقت کے بعد دروازہ کھل گیا تھا۔ وہ حواس باختہ سی اپنی جگہ کھڑی تھی۔
اس کی حالت دیکھ کر حازم ٹھٹھکا تھا۔ اور اوپر سے کمرے میں اندھیرا چاروں اور سے تھا وہ مہرماہ کی جانب نا سمجھی سے دیکھ رہا تھا۔
حازم تم۔۔۔۔ حا۔۔۔حازم وہ آدمی وہ مجھے۔۔۔۔وہ کون تھا۔۔۔۔و۔۔۔و۔۔۔۔ابھی کھڑکی سے کود کر بھاگ گیا ہے۔
مہرماہ اس قدر خوفزدہ تھی کی وہ اچانک سے حازم کے گلے لگ گئی تھی۔اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
حازم ابھی اس افتاد کے لئے ہرگز تیار نہیں تھا۔ وہ حیرت کے سمندر میں غرق مہرماہ کا یہ روپ دیکھ رہا تھا اسے مہرماہ کی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگی تھی۔
وہ چند لمحے کے بعد اسے اپنے سینے سے الگ کرتا اندر کمرے میں لایا تھا اور کمرے میں آنے کے بعد اس نے ساری سوئچ آن کر دی تھیں۔
جس سے کمرہ مکمل روشنی میں نہا گیا تھا۔
حازم اس کو بازوؤں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا تھا۔
مہرمہا آر یو اوکے؟؟ کون سا آدمی کون بھاگ گیا؟؟؟ وہ کمرے کے چاروں اطراف میں نظریں دوڑاتا مہرماہ سے پوچھا تھا حتیٰ اس نے دوڑ کر اس کھڑکی کی جانب بھی گیا تھا لیکن وہاں تو ڈھونڈنے سے بھی کسی ذی روح کا کوئی امکان نہیں تھا۔
حا۔۔۔حازم ائم ناٹ اوکے وہ ابھی یہیں تھا۔ وہ۔۔۔ کون تھا حازم۔۔۔۔اس نے مجھے کمرے میں اندر سے لاک کر دیا تھا۔
اور یہ سب لائٹس بھی اسی نے آف کی تھی۔ مہرماہ کے رونے میں مزید شدت آ گئی تھی۔ وہ ہچکولے لے لے کر رونے لگی تھی؛؛؛حازم کے لئے اس کو سنبھالنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔
اس وقت وہ کسی چھوٹی سی بچی کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہی تھی۔
حازم اس کی باتوں کا مفہوم سمجھتا اس کے نزدیک آیا تھا۔
اس کے آنسوں حازم کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔
مہرماہ کوئی نہیں ہے یہاں پر۔۔۔۔۔ میں نے سب جگہ چئیک کر لیا ہے مے بی یہ تمہارا وہم ہو؟؟ حازم اس کو کسی بھی طرح سے تسلی دے کر چپ کروانا چاہ رہا تھا۔
یہ بات اس کی بھی سمجھ نہیں نہیں آ رہی تھی اگر یہ مہرماہ کا کوئی وہم نہ ہوا تو وہ کون تھا جس کے اندر اتنی ہمت تھی کی وہ مہرمہاہ عامر کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتا۔ وہ تو زندہ زمین میں چنوا دیتا اگر جو اس کی جانب کوئی غلط نگاہ سے بھی دیکھتا تو۔
وہم نہیں میرا۔۔۔۔بلئیو می وہ یہیں تھا میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ وہ اور بھی تیز تیز رونے لگی تھی حازم اس کے قریب چل کر آیا تھا۔ اور اپنے ہاتھوں سے اس کے آبشار کی مانند ریشمی بالوں کو سیٹ کرتا اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کیا تھا۔
مہرمہاہ اگر وہ کوئی تھا بھی تو ڈونٹ وری میں اس کو زندہ نہیں چھوڑنے والے لیکن خدا کے واسطے رو رو خود کو ہلکان تو مت کرو اینڈ فرسٹ آف آل اب تم ٹھیک ہو میرے ساتھ ہو خطرے کی کوئی بات نہیں ہے ریلیکس۔۔۔۔حازم اسے چھوٹے بچوں کی طرح بالوں میں ہاتھ سہلاتے ہوئے بہلا رہا تھا۔ باہر مہمانوں کا ایک ہجوم تھا اگر غلطی سے بھی کسی کو اس بارے میں شک ہو جاتا تو لوگ طرح طرح کی باتیں مہرماہ کے بارے میں بتاتے جو وہ کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
مہرماہ کس حد تک خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہزار نفرت کے بیج سہی اس کے دل میں حازم عباس کے لئے تھے مگر وہ اتنا تو اپنے بچپن سے ہی اس کو جانتی تھی حازم کس قدر اس کے لئے تحفظ فراہم کرنے والا شخص تھا۔
یہ بات اس نے بھلے کبھی اقرار نہ کی ہو لیکن اتنا تو وقت کے ساتھ اسے سمجھ میں آ ہی گیا تھا کی حازم عباس کے رہتے ہوئے اسے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا تھا۔
یار میں بھول گیا تھا تمہاری بیسٹ فرئنڈ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے بیچاری کو اکیلا چھوڑ کر تم یہاں بیٹھی ہو۔۔۔حازم آہستگی سے اس کے بالوں سے اپنی انگلیوں کو الگ کرتا یاد آنے پر افسوس سے بولا تھا۔
مہرماہ کو فوراً سے عافیہ کا خیال آیا تھا وہ اپنے اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی اور اپنے آنسوں کو انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتی جبرن مسکرانے کی کوشش کی تھی۔
مہرماہ ایک منٹ؟!!!
باہر جا کر تم یہ بات غلطی سے بھی کسی کو نہیں بتاؤ گی چچا جان کو بھی نہیں اٹس مائی ریکوسٹ۔۔۔وہ اس کو دروازے کی سمت بڑھتا دیکھ روک کر بولا تھا۔

ٹھیک ہے۔۔ وہ اپنے گال پر گرتے آنسوں کو صاف کرتی کمرے سے چلی گئی تھی۔
لیکن یہ بات صرف وہی نہیں حازم عباس بھی سمجھتا تھا وہ ابھی بھی کس قرب سے گزر رہی ہے۔
ابھی بھی وہ اسی ٹرانس میں تھی لیکن کسی پر وہ کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔ اس لئے بہ مشکل خود کو کمپوز کرتی لان کی جانب بڑھ گئی تھی۔
اس کا جاتا ہوا دیکھ حازم نے ایک گہری سانس لی تھی اس کا ذہن بہت تیزی سے کام کر رہا تھا اور یہ بھی جانتا تھا مہرماہ کو نہ تو کسی قسم کا کوئی وہم ہوا اور نہ ہی وہ جھوٹ بول رہی ہے وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ تا خود کو ایک بے بس انسان محسوس کر رہا تھا۔
اس کے گھر میں موجود ہوتے بھی مہرماہ کے ساتھ اتنا سب کچھ ہو گیا تھا۔
مگر وہ تھا کون؟؟ آخر اس کی مہرماہ سے کیا دشمنی تھی؟؟؟
تم جو کوئی بھی ہو خبیث انسان میں تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ لاؤں گا اور تمہیں بتاؤں گا مہرماہ عامر کو تکلیف دینے کی سزا کیا ہوتی ہے؟؟ وہ اگر ابھی تک اتنے تحمل و اطمینان کا مظاہرہ کر رہا تھا تو صرف اور صرف مہرماہ کے لئے گھر میں اس وقت مہمانوں کی بھیڑ تھی وہ کسی بھی قسم کا تماشہ لگا کر مہرماہ کے کردار پر کوئی داغ نہیں لگنے دینا چاہتا تھا۔
اپنے بے قابو ہوتے غصے پر وہ گہری سانس لیتا اس کے کمرے کے چاروں اطراف میں ایک نظر ڈال کر باہر آیا تھا۔

#

رات گئے فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ تقریباً سبھی مہمانوں کی واپسی ہو گئی تھی سوائے عافیہ کے!!!
وہ اپنے بھائی کے انتظار میں بیٹھی میں تھی لیکن اس کا بھائی شہر سے باہر ہونے کے سبب عافیہ کو پک نہیں کر سکا تھا۔
وہ ٹینشن سے مہرماہ کے ساتھ منھ لٹکائے بیٹھی تھی۔ رات بھی کافی ہو گئی تھی۔ گھر پر اس کی امی اکیلی تھیں اس کا جانا بہت ضروری تھا۔
مہرماہ تو اسے آج کی رات روکنے پر بضد تھی مگر عافیہ تیار نہیں تھی۔
خواہ مہرمہاہ کو مجبوراً رمیض سے رکوئسٹ کرنی پڑی تھی۔ جس پر رمیض نے تو صاف انکار کر دیا تھا اسے شدید نیند آ رہی تھی۔
رمیض پلیز ہئلپ می!!! رمیض کے کمرے میں آ کر مہرماہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتی بیچارگی سے منت کر رہی تھی اس کی۔
بلکل نہیں مہرماہ میں بہت تھک گیا ہوں ڈرایئونگ کرنے کی تو بلکل بھی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔۔۔ اور میرے ہاتھ میں ویسے بھی بہت پین ہے پلئیز ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ!!! رمیض تو اس کی منت و سماجت کو بغیر کسی خاطر میں لائے صاف انکار کر دیا تھا۔

اففف اللہ!!! ایسا کزن اللہ تعالیٰ کسی کو نہ دیں جو کسی بھی مصیبت میں کسی کے کام نہ آئے میری بدعا ہے تمہیں پوری رات نیند نہ آئے کروٹ پر کروٹ لیتے رہو۔۔وہ غصے سے لال پیلی ہوتی تڑخ کر اس کو جھٹکارتی تن فن کرتی اس کے کمرے سے نکل گئی تھی۔
رمیض اپنے زخمی ہاتھ پر ایک نظر ڈالتا دور جاتی مہرمہاہ کو دیکھا تھا اور مسکرا دیا تھا۔
مہرماہ رمیض کے کمرے سے سیدھا عافیہ کے پاس آئی تھی اور افسوس سے اسے بتا رہی تھی کی رمیض تو بلکل بھی تیار نہیں ہے۔ اس کی بات سن کر عافیہ کو خاصی فکر ہو گئی تھی اس کی امی کی تین سے چار بار کالز آ چکی تھیں اور وہ انہیں بار بار جھوٹ بول رہی تھی۔
مہرمہاہ میں کیا کروں یار امی اکیلی ہیں بھائی آؤٹ آف سٹی چلے گئے ہیں میں کیا کروں یار؟؟ عافیہ رو دینے والی تھی۔
ٹینشن مت لو میں کچھ کرتی ہوں۔۔۔۔وہ اس کا کندھا تھپک کر یقین دہانی کروائی تھی۔ اس کو تو خود بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کریں بھی تو کیا کرے اس نے آسیہ بیگم سے بھی کہا تھا تو انہوں نے صاف کہہ دیا تھا۔ رمیض یہ حازم سے جا کر بولو کیونکہ ڈرائیور کے ساتھ جانا اس وقت معیوب لگ رہا تھا وہ بھی اکیلے۔ اور ڈرائیور بھی شائڈ جا چکا تھا۔
مہرماہ تم حازم سے کیوں نہیں بولتی شائد وہ ہاں کر دے….عافیہ کو جیسے اچانک سے حازم کا خیال آیا تھا۔
یار میں اس سے نہیں کہہ سکتی۔۔۔
مہرماہ برا سا منھ بناتی صاف انکار کر دی تھی۔ وہ حازم سے مدد لینے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی اس کی انا کو یہ قطعاً گوارہ نہیں تھا۔
لیکن کیوں یار پلیز مہرماہ آئی رئیکوئیسٹ یو۔۔۔۔ تم اگر نہیں کہو گی تو میں خود جا کر بولوں گی اور یار اوپر سے وقت بھی نکلا جا رہا ہے۔
عافیہ اسے کسی بھی طرح سے قائل کرنا چاہتی تھی۔ اس کی بات سن کر کب سے ایک ہی نقطے پر سوچتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔ اگر حازم کی ریکوسٹ بھی اسے کرنی پڑ رہی تھی تو صرف اور صرف عافیہ کے لئے ورنہ اسے کوئی غرض نہیں تھی خود سے چل کر وہ اس کے کمرے میں جاتی اور منت کرتی۔
یار لیکن میں اس سے کہوں گی کیسے؟؟ اسے تو سوچ سوچ کر ہی غصہ آ رہا تھا اور ساتھ ساتھ شرم بھی۔
مہرماہ کہنا کیا ہے پلیز یار میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے!!! عافیہ پریشانی سے واک کلاک کی جانب دیکھ کر بولی تھی۔
مہرماہ بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ منھ بناتی چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا کر حازم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
اس کے کمرے کے پاس آ کر وہ انگلی دانتوں کے درمیان میں پھنسا کر اسی کشمکش میں کھڑی تھی کی اندر جائے یہ نہیں ابھی کچھ دیر پہلے والے واقع کے بعد اس کے اندر اور بھی ہمت نہیں تھی کی و اس کا سامنا کرتی جس طرح سے وہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اسے سوچ سوچ کر اس چیز کا پچھتاوا ہو رہا تھا خواہ کی پھر سے اس کے کمرے میں جا کر اس کی مدد لینا اس کو بڑا بھاری پڑا تھا۔ پر اپنی سوچوں کا پلندا جھٹک کر وہ دروازہ ناک کر کے اس کی اجازت کا انتظار کرنے لگی تھی۔

مہرماہ کے ساتھ ہوئے حادثات کا سوچ سوچ کر وہ بے انتہا ڈسٹرب ہو گیا کمرے میں آنے کے بعد وہ کئی لمحے ایک ہی نقطے پر سوچے جا رہا تھا جب سے یہ بات مہرماہ نے اس کو بتائی تھی اس کا سکون غارت ہو گیا تھا۔ اسے رہ رہ کر مہرماہ کا آنسوں سے متورم چہرہ یاد آ رہا تھا۔
وہ خود کو کوستا بیڈ سے اٹھا تھا شاور لینے کے غرض سے۔ شائد کچھ سکون ملتا اسے۔
وہ تقریباً دس منٹ بعد جسٹ شاور لے کر واشروم سے باہر نکلا تھا کہ دروازے پر ہوئی دستک کو سن کر اس نے آنے والے کو اندر آنے کی اجازت دے کر خود آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔
وائٹ کلر کی شرٹ الماری سے نکال کر زیب تن کر کے بٹن بند کرنے کے لئے اس نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا تھا آیئنے میں اندر والے وجود کا عکس دیکھ کر وہ حیرت سے اپنی جگہ پلٹ کر سیدھا ہوا تھا۔
وہ دونوں عین ایک دوسرے کے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے۔
مہرماہ کے تو حلف تک خشک ہو گئی تھی اوپر سے اس کی شرٹ کے بٹنز کو کھلا دیکھ وہ اپنے من و من قدموں سمیت دروازے سے ہی چپک کر کھڑی ہوگئی تھی۔
حازم کی بھی کیفیت اس سے کچھ ملی جلی تھی۔ وہ گلا صاف کرتا فوراً سے بٹنز کو بند کیا تھا۔
لیکن ان کے علاؤہ اس کے لئے سب سے بڑا جھٹکا یہ تھا کہ مہرماہ عامر اس کے کمرے میں خود آئی تھی۔
وہ ہونٹوں کو آپس میں بھینچ کر مہرماہ کے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگوں کو دیکھ کر نہ جانے کیوں مسکرایا تھا۔
مہرماہ کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی تھی اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر اسے خود پر اب افسوس ہو رہا رہا تھا کس خوشفہمی کے تحت وہ اس کے کمرے میں آئی تھی اس کی مدد کے لئے۔
زیادہ مسکراؤ نہیں سمجھے؟؟؟ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو وہ نظروں کا رخ پھیر کر یہاں وہاں دیکھ کر غصے سے بولی تھی۔

میں مسکرا کب رہا ہوں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے!!! حازم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی لیکن موقع کی نزاکت کو سمجھتے وہ خود کو مسکرانے سے باز رکھا تھا۔
وہ۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔میں !!! مہرماہ اس کے چہرے کی جانب دیکھ کر ہکلائی تھی۔ اپنا مطالبہ بیان رکھنے کے لئے اسے سو سو جتن کرنے پڑ رہے تھے۔
آپ بولیں میں سن رہا ہوں!!! حازم ہاتھ سینے پر باندھ کر چہرے پر بلا کی سنجیدگی لئے اس کے چہرے کے اترتے چڑھتے رنگوں کو دیکھ کر ہم و تن گوش ہوا تھا۔
وہ مجھے ایک فئیور چاہیے تھی تمہاری۔۔۔میری فرینڈ عافیہ کو اس کے گھر ڈراپ کرنا ہے۔
اس کے بھائی شہر سے باہر ہیں تو کیا تم اس کو ڈراپ کر دوگے؟؟ وہ لب کا کونہ کچلتے ہوئے ایک ہی سانس میں اپنی انا کو بلائے تاک رکھ کر اپنا مطالبہ بیان کی تھی۔ اپنی بات کہہ کر وہ کھڑکی کے سائڈ دیکھنے لگی تھی۔ جیسے اب حازم سے نگاہ ملانا دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔
ایک شرط ہے میری اگر آپ وہ مانیں گی تو پھر ٹھیک ہے!!! حازم چند قدموں کا فاصلہ طے کرتا اس کے نزدیک آیا تھا۔
شرطِ کون سی شرط؟؟ اس کی بات سن کر مہرماہ کی پیشانی پر بل کی لکیریں نمودار ہوئی تھیں۔
میرے ساتھ آپ بھی چلیں گی!! حازم اس کا سوال سن کر فوراً جواب دیا تھا۔ ساتھ چلنے کا سن کر تو مہرماہ اپنی جگہ سے اچھل گئی تھی۔
م۔۔۔م۔۔میں ۔۔میں کس لئے جاؤں گی؟؟ وہ ناسمجھی سے پوچھی تھی۔
ایک اکیلی لڑکی کو رات کے اس پہر میں نہیں لے کر جا سکتا سوچ لیں آپ!!! حازم تو اپنی بات پوری کہہ کر پلٹ گیا تھا۔
اب فیصلہ مہرماہ کے ہاتھ میں تھا۔ وہ کنفیوز ہوتی سوچنے لگی تھی۔
اور اگر میں نہ جاؤں تو؟؟
تو پھر آپ بھول جائیں میں آپ کی فرینڈ کو ڈراپ کرنے والا ہوں۔
حازم اس کی بات سن کر واضح طور پر جواب دیا تھا۔ مہرماہ اسے آنکھوں کی پتلیوں سمیت گھورتی دانت پر دانت پیس کر تڑخ کر بولی تھی۔
ٹھیک ہے مجھے تمہاری شرطِ قبول ہے؟ وہ مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق مجبوری کے تحت تیار ہو گئی تھی وگرنہ وہ حازم کے ساتھ کہیں جائے یہ خواب و خیالوں میں ہی سوچا جا سکتا تھا۔
آپ چلیں میں گاڑی کی کیز لے کر آتا ہوں۔ حازم اس کے شرطِ قبول کر لینے پر دل ہی دل میں مسکرایا تھا اسے خوشی کے ساتھ ساتھ حیرتِ بھی ہو رہی تھی کی وہ اس کی شرط اتنی آسانی سے قبول کر لے گی۔ خیر اس کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھیں کی صرف وہ مجبور ہو کر اس سے مدد لینے کو آئی تھی۔
مہرماہ اس کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتی اس کے کمرے سے جا چکی تھی۔ حازم ڈیسک پر پڑی گاڑی کی کیز اٹھا کر موبائل جینز کی پاکٹ میں ڈالتا کمرے سے باہر آیا تھا۔
جہاں ژالے ہاتھ میں چائے کا کپ ٹرے میں پکڑے اسی کے کمرے کی طرف چلی آ رہی تھی۔
حازم کو کمرے سے باہر نکلتا دیکھ ژالے کے رفتار میں مزید تیزی آئی تھی وہ چل کر حازم کے پاس پہنچی تھی جو ابھی نیچے اترنے والی سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔
حازم یہ تمہارے لئے چائے!!! بہت تھک گئے ہو گے نہ؟؟؟ ژالے اسے سیڑھیوں پر ہی اچک لی تھی۔
حازم اس کی بات سن کر اس کے ہاتھ میں موجود ٹرے کو دیکھا تھا جس میں گرما گرم بھاپ اڑاتی چائے تھی۔
ائم سوری ژالے میں آ کر چائے پیتا ہوں فلحال چائے پینے کا بلکل وقت نہیں ہے۔۔ وہ نرمی سے مسکراتا ژالے کو اکسکیوز دے کر سیڑھیوں سے اتر کر نیچے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
ژالے چائے کا ٹرے تھامے اپنی جگہ دم سادھے کھڑی تھی۔
اس نے کتنی محبت سے حازم کی تھکن کا احساس کرتے ہوئے چائے بنائی تھی اور اس شخص کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کی وہ اس کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چائے کو پیتا۔
ژالے کا موڈ بری طرح سے خراب ہوا تھا۔
وہ ٹرے تھامے سیدھا نیچے آئی تھی حازم کی مصروفیات دیکھنے۔۔۔۔ ایسی بھی کیا تھی جس کے لئے اسے اتنا امئیرجنسی میں جانا پڑا۔
وہ نیچے آکر حازم کو گاڑی کے پورچ کی جانب بڑھتا دیکھ ٹھٹھکی تھی۔
رات کے اس پہر بھلا کہاں جانا پڑ گیا تھا اس کو۔ ابھی وہ کچھ اس سے پوچھتی کی دوسرے دروازے سے مہرماہ کالی شال اپنے ارد گرد سہی کرتی اپنی فرینڈ عافیہ کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی گاڑی تک آئی تھی۔
مہرماہ کو دیکھ ژالے کو بری طرح جیلیسی فیل ہوئی تھی۔
ابھی وہ کچھ سمجھتی کی دونوں افراد گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ چکے تھے۔
ژالے کی گرفت غصے کی وجہ سے ٹرے پر اور بھی مضبوط ہوئی تھی وہ غصے سے بل کھاتی گاڑی کی روشنی میں اندر بیٹھی مہرماہ کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر غصے سےبھپری تھی۔
گاڑی ریورس ہوتی مین گیٹ سے باہر جا چکی تھی اور پیچھے وہ اپنے ہاتھ میں موجود بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھ کر نفرت سے سوچی تھی۔
تو تمہاری مصروفیات کی یہ وجہ یہ ہے حازم عباس۔۔۔۔جس کے لئے تم مجھے نظر انداز کر گئے۔ وہ حازم کی محبت میں نہ جانے کب انگ انگ ڈوپ چکی تھی۔ وہ معصوم سی دل رکھنے والی لڑکی تھی لیکن آج تو اس کا رنگ و روپ دونوں کچھ الگ ہی داستان سنا رہے تھے۔ وہ نم پلکوں سمیت بوجھل قدموں تلے اندر آ گئی تھی۔

#

شکریہ حازم۔۔۔میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں کی میں کن لفظوں آپ کا شکریہ ادا کروں آپ نے ہمارے لئے اتنی بے آرامی اٹھائی۔۔۔۔
عافیہ جب سے گاڑی میں بیٹھی تھی مسلسل حازم کو کسی نہ کسی بات پر مخاطب کئے جا رہی تھی۔ جو کی مہرماہ سے بلکل بھی یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
ارے آپ شکریہ کر کے مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔۔۔ ہمارے لئے آپ ہماری مہمان ہیں اتنا تو کرنا ہمارا فرض تھا۔ حازم مسکرا کر سنجیدہ لہجے میں بولتا ایک نظر بیک و مرر سے مہرماہ کا سرخ مرچ کی مانند تمتناتا ہوا چہرہ دیکھ کر اپنی ہنسی پر ضبط کیا تھا۔
آپ کو شائد معلوم نہیں مگر آپ دکھنے میں بہت ہی زیادہ ہینڈسم لگتے ہیں!! عافیہ تو گویا اپنی پٹری سے اترنے لگی تھی اگر جو مہرمہاہ اس کی کمر میں کس کے چٹکی نہ کاٹتی۔ مہرماہ کے خنجر جسیے ناخون اپنی کمر میں دھنستا دیکھ وہ مارے درد کے بلبلا اٹھی تھی۔
اس کی یہ حرکت حازم کی شاطر نظروں سے چھپی نہیں تھیں۔
اس کو تو بے چاری عافیہ پر رحم آیا تھا جس کو اتنی خطرناک دوست ملی تھی۔
عافیہ اس ایک چٹکی پر پھر جو چپ ہوئی تو دوبارہ سے بولنے کی جرت نہیں کی تھی۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔
جسے توڑنے کی کوشش کسی نے نہیں کی تھی۔
کچھ دیر کی فاسٹ ڈرائو کے بعد بلا آخر وہ لوگ اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے تھے۔
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے ہر سو سناٹا چھایا ہوا سبھی کے گھروں کی بتیاں گل ہو چکی تھیں۔
مکمل خاموشی کا ایک راج تھا ساری دنیا نیند کے مزے لے رہی تھی۔
عافیہ گاڑی سے اتر کر تہہ دل سے حازم کا شکریہ ادا کی تھی جس پر حازم صرف مسکرا کر رہ گیا تھا۔
مگر وہ جاتے جاتے مہرماہ کے کان میں پھسپھسانا نہیں بولی تھی۔
دھیان سے ہاں!!!! تمہارا یہ کھڑوس کزن تو اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ہنیڈسم لگ رہا ہے۔ عافیہ اس کو چھیڑ کر دانتوں کی نمائش کرتی گھر کے اندر جا چکی تھی۔
اس کی بات سن کر تو مہرماہ کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔
عافیہ جب تک گھر کے اندر محفوظ طریقے سے پہچ نہیں گئی تھی۔
حازم وہیں پر کھڑا رہا ٹھیک اسے کے حفاظتی طور پر پہنچ جانے کے بعد وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر آ کر بیٹھا تھا۔
مہرماہ اپنی شال کا کونا پکڑے کھڑکی سے سے باہر جھانک رہی تھی۔
جہاں صرف اور صرف اندھیرے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
بس روڈ پر جلتی لائٹس کی روشنی و کناروں پر لگے اونچے اونچے گھنے درخت کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔
باہر ٹھنڈی یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں۔ حازم ونڈو کانچ اوپر کی جانب چڑھا دیا تھا۔ مہرماہ اسکی اس حرکت پر چونک کر اس کی جانب دیکھی تھی۔
باہر ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں آپ کو سردی لگ سکتی ہے!!! وہ اسٹئرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اس کے سوالیہ چہرے کی جانب مرمر میں سے دیکھ کر جواب دیا تھا۔
مجھے لگتی سردی تمہیں نہیں ؟؟؟ تمہیں میری اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے؟؟ مہرماہ جل بھن کر پوچھی تھی۔
کیوں کی آپ اس وقت میری زمیداری پر میرے ساتھ ہیں میں نہیں چاہتا میری وجہ سے آپ کو کسی قسم کی پریشانی اٹھانی پڑے۔ حازم صاف گوئی سے بولتا گاڑی سٹارٹ کر دیا تھا۔
ہممم!! مہرماہ اس کا جواب سن کر منھ بنا گئی تھی۔
مہرماہ؟؟ حازم عباس اس کا نام اپنی زبان سے اس طرح پکارا تھا گویا یہ نام اس کے نزدیک دنیا کا سب سے خوبصورت نام ہو۔
کیا ہے؟؟؟ مہرماہ عامر کا وہی روکھا پھیکا رویہ تھا جو سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں رہتا تھا۔
آپ کو ایک کہانی سناؤں؟؟ حازم عباس کے لئے اس کی موجودگی کسی خواب کی مانند خوبصورت احساسات سے کم نہیں تھی۔
سناؤ!!! مہرمہاہ بھی یقیناً بور ہو رہی تھی کثبھی یکدم سے کہانے سننے کی ہامی بھری تھی۔
مگر موڈ میں ذرا برابر کوئی فرق نہیں آیا تھا۔

کہانی بہت عام سی ہے۔
ایک لڑکا ہوتا ہے جو ہر رشتے سے محروم ہوتا ہے؛؛؛اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔ جب وہ چھوٹا تھا تو اس کی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ مگر اس نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا تھا۔ وہ پھر جب بڑا ہوا نہ اسے ایک لڑکی اچھی لگنے لگی تھی. لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس لڑکی سے بے پناہ محبت کرنے لگا تھا۔ مگر وہ لڑکی اس سے بے انتہا نفرت کرتی تھی اتنی کی شائد اس کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ جائیں۔
مگر وہ لڑکا پھر بھی پاگل تھا اسی لڑکی سے محبت کرتا تھا جو اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
پھر ایک دن لڑکا کہانی میں مر جاتا ہے تب جا کر اس پتھر کی مورت کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کی کوئی پاگل اس سے حد سے زیادہ محبت کرتا تھا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے بہت دیر۔۔۔۔۔۔۔۔ حازم کی آواز گاڑی میں کسی ساز کی مانند گونج رہی تھی اور مہرماہ کہانی سننے میں اتنی مگن تھی کہ اس کو اس بات کا احساس ہی نہ ہو سکا کی کہانی تو ختم ہو گئی تھی۔
پھر آگے کیا ہوا؟؟؟ مہرماہ بیچینی سے پوچھی تھی۔
اس کا سوال سن کر حازم مسکرا دیا تھا۔
اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔
واقعی وہ لڑکی سنگ دل تھی جبھی تو ابھی کہانی کا کردار کو سمجھنے کے بجائے اس کہانی کو اور بھی سننا چاہتی تھی۔
پھر آگے ہوا یہ کی وہ لڑکی شائد خوش ہوگی یہ شائد پچھتائے گی یہ پھر شائد بہت زیادہ وہ اس لڑکے کے لئے روئے گی اگر اسے اس بات کا احساس ہو گیا کی وہ لڑکا مرتا ہے اس لڑکی پہ۔
یہ الگ بات کی وہ کبھی ظاہر نہیں کرتا اور وہ ظاہر بھی کیونکر کرے جب اسے پتہ ہے آگے سے کونسا جواب ملے گا۔ حازم مرمر میں سے اس کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھ کر کہانی کی آخری لائن بولا تھا۔
اس کے لفظ لفظ درد کے احساس سے لپٹا تھا۔ مگر یہ پتھر کی مورت؛؛؛؛ نہ کبھی سمجھی تھی اور نہ ہی کبھی سمجھے گی۔
اتنی سنگ دل لڑکی کیسے ہو سکتی ہے اس کو احساس ہونا چاہیے کوئی اس سے اتنی زیادہ محبت کرتا ہے!!! مہرماہ کہانی کو اب ہر اینگل سے جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ ایسی ہی ہے اس کو کبھی احساس ہی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ خیر چھوڑیں آپ یہ تو ایک کہانی ہے صرف۔۔۔۔۔۔۔ کونسا حقیقت میں ہے یہ سب۔۔۔۔حازم کو ایسا محسوس ہوا تھا کی مہرماہ شائد تھوڑا ڈسٹرب ہو گئی تھی۔ اسی لئے اس نے بات ختم کرنی چاہی تھی۔
کہانی کے سلسلے کے دوران آدھے سے زائد سفر طے ہو چکا تھا بس کچھ ہی وقت اور درکار تھا اپنی منزل کو پہنچنے تک۔۔۔ وہ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ کہ
یکایک گاڑی کے ٹائر چرائے تھے گاڑی ڈسبلئنس ہوئی تھی۔
مہرماہ کی چینخ فضا میں بلند ہوئی تھی۔
وہ ہکا بکا سی ہوتی سئٹ کی پشت سے سر ٹکا گئی تھی۔
حازم سمجھداری سے کام لیتا گاڑی کو بمشکل درخت میں دھسنے سے بچایا تھا۔ اگر جو عین موقعے پر وہ گاڑی کو بریک نہیں لگاتا تو خطرناک اکیسڈنٹ ہو جاتا۔

مہرماہ کی تو سانسیں ہی پھولنے لگی تھیں۔ وہ ہکا بکا سی ہوتی حازم کی جانب دیکھ رہی تھی یہ حادثہ حازم کے لئے بھی بہت بڑا تھا۔
مگر وہ خود کو کمپوز کرتا گاڑی کا دروازہ کھول کر مہرماہ کی جانب دوڑا تھا اس کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اس نے مہرماہ کا سر بیک کی پشت سے اپنے نرم گزار ہاتھوں میں تھامتا اور ایک ہاتھ میں اس کا تھام کر گاڑی سے باہر نکالا تھا۔
باہر ایک چبوترا بنا تھا حازم مہرماہ کو اس پر بیٹھا کر گاڑی کے اندر سے پانی کی بوتل نکالا تھا۔ پانی کی چند چھینٹے مہرماہ کے اوپر مار کر اس کو ہوش کی دنیا میں لایا تھا۔
اس ایک لمحے میں اس کی دل کی دنیا ڈولا ڈول ہو گئی تھی۔
اگر جو مہرماہ کو غلطی سے بھی کچھ ہو جاتا تو وہ خود زندگی بھر کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
مہرماہ ویک اپ۔۔۔مہرماہ آپ ٹھیک ہیں کچھ نہیں ہوا آپ کو۔۔۔۔ حازم اس کا چہرہ تھپتپھا کر اسے پکارا تھا۔ مہرماہ کا سر حازم کے سینے سے لگا تھا و ہاتھ حازم کے ہاتھوں میں تھا۔
مہرماہ ؟؟؟ مہرماہ ؟؟؟ حازم اس کے منھ پر پانی کی چند اور قطرے ڈالا تھا وہ یکایک ہوش کی دنیا میں آئی تھی اور اس کے وجود سے اچھل کر الگ ہوئی تھی گویا کوئی بجلی کا کرنٹ ہاتھ لگ گیا ہو۔
وہ تو سدا شکر تھا کی کوئی بہت بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔ گاڑی بھی ٹھیک تھی بس گاڑی کے ٹائر پنکچر ہوئے تھے۔
آر یو کے ؟؟ حازم کو ذرا برابر اطمینان نہیں ہوا تھا۔
اس کے تو حواس مختل ہو گئے تھے۔
یس ائم اوکے۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہو گیا حازم۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو نہ تمہیں تو چوٹ نہیں آئی؟؟؟ وہ پریشانی سے اس کا انجانے میں ہاتھ تھام گئی تھی جس سے خون کے چند قطرے رس رہے تھے۔ حازم کو اس پتھر کی مانند دل رکھنے والی لڑکی اس وقت دنیا کی نہایت معصوم لڑکی لگی تھی۔ وہ اپنے لئے اس کو فکرمند ہوتا دیکھ ٹھیک سے مسکرا بھی نہیں پایا تھا زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ مہرماہ عامر اس کے لئے پریشان ہوئی تھی۔ اس کے زخموں کی پرواہ کی تھی۔
وگرنہ کہاں تو بڑے سے بڑا حادثہ ہو جائے اس کی خیر خیریت کیا ایک ہمدر بھری نظر بھی ڈالنا گناہ کبیرہ سمجھتی تھی۔
میں ٹھیک ہوں ریلیکس….حازم اس کو اطمینان دلایا تھا اس کے چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔
دل تھا کی پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھا۔ اس کی آنکھیں آنسوں سے لباب ہو گئی تھیں۔ اگر جو کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا تو وہ کیا کرتی اس نے فوراً اپنے رب کی بارگاہ میں شکر ادا کیا تھا۔
مہرماہ ابھی بھی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھی۔ حازم ساکت بھری نگاہوں سے اپنا ہاتھ اس کے نازک ہاتھوں میں بڑی غور سے دیکھ رہا تھا۔
میری اس رب العالمین سے دعا کے مہرماہ عامر تمارا یہ ہاتھ وہ ہمیشہ کے لئے میرے ہاتھوں میں دے دے میں قسم کھا کے کہتا ہوں میں کبھی یہ ہاتھ نہیں چھوڑوں گا۔ اس کے لبوں پر گہری مسکان تھی و دل میں خوبصورت دعا مہرماہ کا ستا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ کئی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکا تھا۔
مہرماہ حازم کو اپنی جانب متوجہ پا کر ہڑبڑائی تھی پھر اچانک سے جیسے اسے ہوش آیا تھا وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں کے درمیان سے نکال لی تھی۔ حازم اس کی اس حرکت پر دیکھتا رہ گیا تھا اسے۔
ابھی تو اس کی دعا ٹھیک طرح سے آسمان تک پہنچی بھی نہ تھی کی اس نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔
اس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آ گئی تھی۔ وہ اپنی سوچوں کا پلندہ جھٹک کر اپنی جگہ سے اٹھ کر گاڑی کے ٹائر بدلنے کے لئے کھڑا ہو گیا تھا۔
مہرماہ لب کا کونا دبائے اپنی اس احماکانہ حرکت پر افسوس کی تھی۔
ہواؤں کا بہاؤ بہت تیز تھا رات کے اس پہر سڑکیں سنسان خالی تھیں بس یکا دکا گاڑی نظر آ رہی تھیں جو بڑی تیزی سے اپنی منزل کی جانب بھاگی جا رہی تھیں۔
آس پاس کوئی میکینک بھی نہیں تھا جس کو وہ کال کر کے بلا لیتا جو بھی کرنا تھا اسے خود کرنا تھا۔
حازم پیچھے ڈگگی میں سے ٹائر ایکسچینجر نکالا تھا اور خود ہی گاڑی کے پاس ایک پیر پر بیٹھتے ہوئے ٹائر چینج کرنے لگا تھا۔ سڑک پر لگی لائٹس کی وجہ سے تھوڑا بہت روشنی ہونے کی وجہ سے دکھائی دے رہا تھا۔

مہرماہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے نزدیک آ کھڑی ہوئی تھی۔ جس کا نتیجا یہ نکلا تھا کی اس کی سائے سے تھوڑی بہت روشنی جو نظر آ رہی تھی وہ بھی غائب ہو جا رہی تھی۔
مہرماہ خدا کا واسطہ تھوڑا روشنی آنے دیں جبھی میں اپنا کام کر سکوں گا۔۔۔ حازم بار بار اندھیرا ہو جانے کی وجہ سے جھنجھالایا تھا۔
کیا آج ہم پوری رات اسی روڈ پر گزار دیں گے؟؟ تم کچھ کرو گے یہ نہیں؟؟ وہ غصے سے لال پیلی ہوتی حازم کی جانب غصے سے تلملا کر پوچھی تھی۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کی اڑ کر گھر پر پہنچ جائے تھکن کا شدید غلبہ طاری تھا اس پر۔
کر ہی تو رہا ہوں۔۔۔۔ اور آپ پلیز گاڑی میں جا کر بیٹھیں یہ روڈ رات کے اس پہر خطرے سے خالی نہیں ہے۔ گاڑی کے ٹائر کو نکال کر اس کو سہی کرتے وہ ذرا سی گردن گھما کر مہرماہ کی جانب دیکھ کر التجائیہ لہجے میں بولا تھا۔
میں یہی پر کھڑی رہوں گی مجھے نہیں جانا۔۔۔۔وہ منھ پھلا کر دونوں بازوؤں کو سینے پر باندھ کر بضد ہوئی تھی۔
مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا گاڑی کو اسی وقت خراب ہونا تھا ایسے بھی کیا فالٹ ہو گیا ہے اس میں جو تم سے ٹھیک ہی نہیں ہو رہی ہے؟؟؟ مجھے تو تمہاری پوری پلانئنگ لگ رہی ہے؛؛؛؛۔ اس کے منھ میں جو آرہا تھا وہ سلگ کر بولے جا رہی تھی۔
حازم کو اس کی اس قسم کی سوچ پر شدت سے افسوس ہوا تھا وہ اس کی بات کا جواب دئیے بغیر خاموشی سے اپنے کام میں مشغول رہا۔
اب تم کچھ بولوں گے یہ نہیں۔۔۔اس کی خاموشی پر وہ منھ پھلائی تھی۔ اس کو یہ بھی قبول نہیں تھا کہ وہ خاموش رہے۔
میں کیا بولوں؟؟؟ سب کچھ تو آپ نے ہی بول دیا ہے۔ اس نے نہ تو طنز کیا تھا اور نہ ہی غصہ بس سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔

حازم ؟؟؟؟؟؟؟ حازم؟؟؟؟؟؟؟ مہرماہ کی چینخ فضا میں بلند ہوتی آسمان کو چیرتی اس کے اطراف میں گونجی تھیں۔
حازم کو لگا اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے وہ بے یقین سا ہوتا مہرماہ کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے اس کے نزدیک آیا تھا۔
کیا ہوا؟؟؟ کوئی چڑیل دیکھ لی کیا آپ نے؟؟ حازم اس کی چینخ سن کر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
حازم وہاں دیکھو وہ۔۔۔۔۔کتا وہ تین چار ہیں۔ حازم وہ ہمارے قریب ہی آ رہیں ہیں۔ مہرماہ شہادت کی انگلیوں سے اس کو روڈ کے اس پار دوسری جانب تین چار کتوں کی ٹولیوں کی جانب اشارہ کی تھی۔
حازم کو بے اختیار اس پر افسوس ہوا تھا اگر چہ وہ کتے ان دنوں کو نظر انداز بھی کر دیتے لیکن مہرماہ کی چینخ سن کر یقیناً وہ سب خود ہی بیہوش ہو جاتے یہ ڈر کر بھاگ جاتے۔
حازم اگر وہ ہماری جانب آ گئے تو؟؟؟ اس کے چہرے پر خوف کا ملا جلا تاثر تھا۔
جبھی وہ کتے ساتھ میں ہی بھوکنا شروع ہو گئے تھے۔
مہرماہ کے تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے تھے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی ان کتوں کو تو کبھی حازم کی جانب دیکھ رہی تھی۔
حازم فضا میں ایک گہری سانسیں لیتا اس کی دودھیا رنگ کی کلائی اپنے ہاتھ میں تھام کر ذرا سا جھٹکا دیا تھا۔
اس اچانک افتاد پر اس کا توازن بگڑا تھا وہ لڑکھڑاتی ہوئی سیدھا حازم کے کشادہ سینے سے جا لگی تھی۔

,قربت کو تیری پیاس ہے ویسے تو ٹھیک ہوں ایک درد دل کے پاس ہے ویسے تو ٹھیک ہوں

اس کی سانسیں مزید رفتار سے تیز ہوئی تھیں۔
وہ ہک دک سی بہر بہوٹی سی اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی پلکوں کی جھالر مزید جھک گئی تھی۔
چ۔۔۔چھوڑو مجھے کیا کر رہے ہو؟؟ مہرماہ نے ہلکی سی مزاحمت کی تھی۔ جس کے نتیجے میں اور بھی قریب ہو گئی تھی اس کے۔
حازم اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کا اس کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا۔
مہرماہ کے لئے یہ سب ناقابل یقین تھا وہ اس سے پہلے کی کچھ بولتی حازم آہستہ سے اپنے ہاتھوں میں سے اس کی کلائی آزاد کر دیا تھا۔
دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو کر کئی لمحے تک نگاہ نہ ملا سکے تھے۔ دونوں کے درمیان چپپی نے سادھ لی تھی۔
وہ آئیں بائیں شائیں کرتی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی گویا اب تاقیامت حازم سے نظر نہ ملا سکے گی۔

کتے جا چکے ہیں!!! اب بے فکر رہیں آپ!! اس کی گھبراہٹ کو وہ محسوس کرتا ہاتھ کو آپس میں جھاڑ کر بولا تھا کچھ دیر کی مشقت کے بعد بلاآخر ٹائر چینج ہو ہی گئے تھے۔
وہ اپنی کب رکی ہوئی سانسیں بجال کرتی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھی اس بار وہ پیچھے بیٹھنے کے بجائے آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔
حازم اس کو آگے بیٹھتے دیکھ خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا تھا۔ کچھ پوچھ کر اس کا موڈ خراب کر کے وہ اپنے لئے ہرگز رسک نہیں لے سکتا تھا۔
گاڑی فل اسپیڈ سے روڈ پر دوڈ رہی تھی۔ دنوں کے درمیان مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
مہرماہ نے تو ایک غلط نگاہ بھی حازم کی جانب نہیں ڈالی تھی۔ کچھ غصے تو کچھ شرم کی وجہ سے۔

حازم اس پر ایک گہری نگاہ ڈال کر سامنے روڈ کی جانب نگاہ ٹکا گیا تھا۔ اس کے لئے بھی یہ احساس کن لمحہ بڑا خوبصورت تھا۔ اس نے تو محض کتے کی شاطر نگاہوں سے اسے بچانے کے لئے ہاتھ پکڑ کر خود سے قریب کیا تھا۔
اسے زیادہ حیرت تو اس بات کی ہو رہی تھی کی مہرماہ بجائے غصہ دکھانے کے خاموش کیوں بیٹھی تھی۔ اس حرکت پر تو وہ ایک سے دو تھپڑ جڑ دیتی اگر جو یہ بات ذرا بھی اس کے گراں گزرتی۔
اسی دوران عامر صاحب کی کال حازم کے فون پر آئی تھی
وہ پریشان ہوئے تھے کی اب تک وہ لوگ گھر کیوں نہیں پہنچے تھے۔ حازم انہیں تسلی دیتے ہوئے راستے میں ہے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔

بیس منٹ کی فاسٹ ڈرائیونگ کے بعد وہ لوگ گھر پہنچ ہی گئے تھے اس کے لگاتار ہارن پر واچمین نیند سے آنکھیں ملتا جلدی سے آ کر مین گیٹ کھولا تھا۔ گاڑی گھر کے اندر آ گئی تھی واچمین نے گیٹ دوبارہ سے بند کر دیا تھا۔
حازم گاڑی پورچ میں لا کر کھڑا کر دیا تھا۔ مہرماہ کرنٹ سی بل کھاتی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر کی جانب بڑھی تھی۔ اس کے قدموں کی رفتار دیکھ کر پتہ چل رہا تھا وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی۔
حازم اپنی سائڈ کا دروازہ کھولتا گاڑی سے باہر آیا تھا۔
مہرمہاہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اپنے کمرے میں آئی تھی کمرے کی لائٹس آف تھیں اس نے کمرے میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے سویچ پر ہاتھ رکھ کر سارے کمرے کی لائٹس آن کی تھیں۔ لمحے میں کمرہ مکمل روشنی میں نہا گیا تھا۔ وہ جیسے ہی لائٹس آن کر کے پلٹی تھی سامنے بیڈ پر بیٹھے وجود کو دیکھ کر خوفزدہ سی ہوئی تھی۔ رات کے اس پہر بھلا اس کے کمرے میں اس کا کیا کام تھا۔ اس وقت تو سبھی لوگ یقیناً تھک ہار کر سو رہے ہونگے پھر اس کا کمرے میں بیٹھے رہنے کا کیا مقصد تھا۔