Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
تقریباً ایک ہفتے کے بعد نکاح کا بھی دن آ گیا تھا۔ بہت سادگی سے نکاح ہونے کو طے پایا تھا۔ بس گھر کے افراد تھے باہری کسی شخص کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
نکاح شام کے وقت مقرر کیا گیا تھا؛؛؛؛ ہر کوئی اپنی اپنی تیاری میں مگن تھا۔
دوپہر کے دو بج رہے تھے؛؛؛ تیاریوں کا سلسلہ زور و شور سے ویسے ہی چل رہا تھا؛؛؛؛ نکاح سادگی سے حال کمرے میں رکھا گیا تھا۔ کیونکہ افراد کم ہونے کی وجہ سے کسی ریسٹورینٹ میں نکاح کی تقریب رکھنے سے حاذم نے انکار کر دیا تھا۔
مہرماہ کو گھر والے دلہن بنانے کے لئے اسے بیوٹیشن کے پاس لے جانے کے لئے فورس کر رہے تھے؛؛؛؛ لیکن اس نے سختی سے انکار کر دیا کہ وہ ہرگز بیوٹیشن کے پاس نہیں جائے گی جس کی وجہ سے پارلر والی کو گھر پر ہی بلا لیا گیا تھا۔
آخر وہ کس کے لئے تیار ہوتی اس شخص کے لئے جس کے لئے دل میں اس قدر نفرت تھی۔
وہ بے دلی سے نکاح کا غرارہ بڑی زور و زبردستی کے ساتھ پہنی تھی؛؛؛ اس کا تو ارادہ تھا کہ گھر کے ہی کسی سوٹ میں نکاح ہوجائے؛؛؛؛ لیکن آسیہ بیگم کی ضد کی وجہ سے اسے غرارہ زیب تن کرنا پڑا۔
کمرے میں ژالے اور عیشہ اسے تیار کرنے لگی تھیں؛؛؛ کیونکہ نکاح کا وقت قریب آ رہا تھا آسیہ بیگم نے حکم کر وہ دونوں بھی جلدی جلدی اپنا ہاتھ چلا رہیں تھیں۔
ڈیپ رئڈ کلر کے غرارے میں وہ کوئی اپسرا کی مانند لگ رہی تھی۔ گھر والوں کی ضد پر رات میں ہی اس کے دونوں ہاتھوں پر بھر بھر کے دلہن مہندی لگوائی گئی تھی۔ جس کا رنگ انتہائی گہرا آیا تھا۔ اس کے ہاتھوں پر بنے مہندی کے گل بوٹے بڑے ہی پرکشش لگ رہے تھے۔
و غرارے کے ہم رنگ اس کو ژالے نے بھر بھر کے چوڑیاں پہنائی تھیں۔ مانگ میں نازک سا ٹیکا لگا کر وہ گویا نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ نازک سی کلی کی مانند نتھیا ناک میں ڈالے وہ مکمل دلہن لگ رہی تھی۔
سبھی نے اس کی بلائیں لی تھیں۔ وہ دلہن بن کر بہت پیاری لگی رہی تھی؛؛؛
ہونٹ پر بلکل فقل کے تالے پڑے تھے۔ وہ صبح سے خاموش تھی۔ کسی بے جان گڑیا کی مانند وہ حرکت کر رہی تھی۔ بیوٹیشن نے میکاپ کا ایک آخری ٹچ اس کے گالوں پر دیا تھا۔
ژالے و عیشہ نے آگے بڑھ کر موتیوں سے لدا غرارے کا ہم رنگ دوپٹہ اس کے سر پر سجایا تھا۔ اس کی نگاہ پہلی بار آئینے کے سامنے اٹھی تھی۔ وہ واقعی کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔ رنگ و روپ اس پر ٹوٹ کر آیا تھا۔ اگر جو حالات کوئی اور ہوتے تو وہ اپنی بلائیں خود لیتی لیکن در حقیقت معاملہ یہاں یکدم الٹ تھا۔ وہ اپنے اوپر رحم کھاتی یہ ترس کھاتی اس کی اپنی کیفیت خود اس کے سمجھ سے باہر تھی۔
اس نے بیچارگی سے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے آنکھ میں مچلتے ان آنسوؤں پر کافی ضبط کر کے رکھا تھا۔ جو باہر آنے کے لئے صبح سے مچل رہے تھے۔ دل کہ دنیا یکدم ویران ہو چکی تھی؛؛؛؛ و چلنے پھرنے کی صلاحیت مفلوج ہو چکی تھی۔
مہرماہ تم تو دلہن بن کر بہت پیاری لگ رہی ہو؛؛؛؛ اور مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے کی میں اپنے کزن کی دلہن اپنے ہاتھوں سے تیار کر رہی ہوں؛؛؛ ژالے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر آئینے کی طرف دیکھتے ہوئے جبرن مسکراتے ہوئے ضبط کے ساتھ بولی تھی۔ آج اس نے اپنے ہاتھوں سے حاذم کی دلہن تیار کی تھی اس سے زیادہ اذیتناک چیز اس کے لئے کیا ہو سکتی تھی۔
جس جگہ آج مہرماہ بیٹھی تھی؛؛؛ وہ بھی تو ہو سکتی تھی اس جگہ؛؛؛ لیکن نہ تو قسمت نے اس کا ساتھ دیا تھا اور نہ ہی اس انسان نے جس کے لئے اس کے ننھے سے دل میں ابھی محبت کی کلیاں کھلنا شروع ہوئیں تھیں۔
وہ لاچارگی کی انتہا پر تھی۔ مہرماہ سے وہ جیلیس ہو کر بھی کیا کرتی؟؟ کیا حاصل کر لیتی؟؟ اس کے نصیب میں جب حاذم عباس تھا ہی نہیں؛؛؛ یکطرفہ محبت اتنی اذیت دیتی ہے ژالے کو آج احساس ہوا تھا۔
وہ بھی تو چھوٹے سے دل کی نازک گل اندام سی لڑکی تھی؛؛؛ اس نے کب کسی کا حق مارا تھا۔ مہرماہ سے وقتی وہ تھوڑا جلن محسوس کرنے لگی تھی لیکن قسمت کے آگے اس نے گھٹنے ٹیک دئیے تھے۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔
مہرماہ حاذم تمہیں دیکھ کر بے ہوش ہی نہ ہو جائے یار؛؛؛؛؛ عیشہ اس کو شرارت سے مسلسل چھیڑے جا رہی تھی۔ جس پر مہرماہ عامر نہ تو ہنس رہی تھی اور نہ غصہ کر رہی تھی۔ بس وہ بت بنی بیٹھی تھی۔ چند لمحے اور رہ گئے تھے پھر تو وہ ہمیشہ کے لئے جیتے جی مر جانے والی تھی۔
زندگی اس کے ساتھ اتنی بڑی ناانصافی کرے گی؛؛؛؛ اس نے کبھی اپنے خواب و خیالوں میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔
ژالے مجھے پیاس لگی ہے؛؛؛ اس کی چپپی ٹوٹی تھی۔ اس نے ژالے کی جانب دیکھ کر پانی کا کہا تھا۔ پیاس تو اسے اتنی شدت کی لگی تھی کی ہونٹ جن پر سرخ لال رنگ کی لپ اسٹک سجی ہوئی تھی سوکھ کر کانٹا ہو رہے تھے۔
اچھا ٹھیک ہے میں لے کر آتی ہوں؛؛؛ ژالے اس وئٹ کرنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئی تھی اس کے ہمراہ عیشہ بھی ہو لی تھی۔
اب کمرے میں صرف وہ اس کا بے جان سا وجود پڑا تھا۔ جس کو گھسئٹتے ہوئے وہ لڑکھڑاتے قدموں سمیت بیڈ تک آئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا کی اس کمرے کی ہر چیز تہس نہس کر دے۔ اور اپنے اس دلہن سے سجے سنورے روپ کو لمحے میں اجاڑ دے؛؛؛ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا؛؛؛ اس کے لئے یہ اقدام ہرگز مشکل نہ تھے وہ بیشک ایسا کر جاتی اگر جو اس کے دل میں اپنے بابا کا خیال نہ ہوتا تو؛؛؛
ابھی وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کی دروازے پر دستک ہوئی تھی اس نے گردن گھما کر دیکھا تو اندر آنے والا شخص کوئی اور نہیں رمیض تھا۔ جس نے سفید رنگ کے کرتا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔
ہیلو مائی ڈئیر کزن؛؛؛ رمیض اسے سامنے پا کر چہکا تھا۔
رمیض تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟ مہرماہ اسے یوں اپنے کمرے میں پا کر حیران ہوئی تھی؛؛؛؛ اسے تو اس وقت مہمانوں کے درمیان ہونا چاہئے تھا؛؛
میں نے سوچا؛؛؛ کیوں نہ ایک آخری بار اپنی شیرنی جیسی کزن کا دیدار کر لیا جائے؛؛؛ پھر کہاں یہ تمہارا دلکش روپ دیکھنے کو ملے گا؛؛؛ اس کے انگارے جیسے سراپے پر ایک غلط نگاہ ڈال کر رمیض کا گویا ایمان ڈگمگایا ہو۔
کیسی باتیں کر رہے ہو؟؟ ژالے کے سر کے اوپر سے اس کی یہ ساری بکواس باتیں گزری تھیں۔
مہرماہ تمہیں دیکھ کر میں واقعی بہت حیران ہوں اور افسوس کرنے آیا ہوں؛؛؛ میں تو سمجھتا تھا کی تم بہت بہادر لڑکی ہو؛؛؛ لیکن افسوس یار تمہاری یہ بہادری کس کام کی؟؟ جب تم اپنے لئے اسٹینڈ ہی نہیں لے سکی؛؛؛ رمیض نے فوراً موقع کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اس کے سینے میں تو ایک شعلہ بھڑک رہا تھا جس کو وہ بمشکل شانت کرائے ہوئے تھا۔
رمیض اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے؛؛؛ مجھ سے یہ سب بات نہ کرو پلیز؛؛؛ مہرماہ کی برداشت اب جواب دے رہی تھی۔ رمیض سہی ہی تو کہہ رہا تھا وہ اتنی بہادر تھی لیکن یہ بہادری کس کام کی تھی جب وہ اپنے لئے ہی کوئی اقدام نہ اٹھا سکی۔
مہرماہ ابھی بھی تمہارے پاس وقت ہے؛؛؛ یار تم ایک ایسے انسان کے ساتھ کیسے اپنی زندگی گزارو گی جس کا نام تک سننا تم گوارہ نہیں کرتی تھی؛؛؛ رمیض جلتی پر گویا نمک کا کام کر رہا تھا۔
رمیض میں نے کہا نہ پلیز خاموش ہو جاؤ مجھے اب کچھ نہیں سننا و کہنا ہے؛؛؛ مہرماہ کا بی پی ہائی ہونے کو تھا۔ وہ سرتاپا سلگ کر بولی تھی۔
مائی ڈئیر کزن میری ساری ہمدردی تمہارے ساتھ ہے؛؛؛ اور رہی بات حاذم کی تو اس کا تو پہلے سے ہی ارادہ تھا؛؛؛ کیا تم بھول گئی اس رات کو؟؟؟ رمیض نے ذرا سی نظر اٹھا کر اس کو دیکھا تھا۔ وہ اپنے جس مشن کے لئے اس کے کمرے میں آیا تھا؛؛؛ اس میں کامیاب سمجھو ہو ہی گیا تھا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟؟؟ مہرماہ نہ سمجھی سے اس کی طرف دیکھی تھی۔
وہ رات جس رات حاذم تمہیں بچانے آیا تھا۔ اور تمہارے سامنے ہیرو بن گیا تھا؛؛؛ رمیض اپنی بات کہہ کر رکا نہیں تھا۔ فوراً اس کے کمرے سے نکلا تھا۔ جبھی دروازے پر اس کا ٹکراؤ ژالے سے ہوا تھا۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟ ژالے اس کی جانب دیکھ کر پوچھی تھی۔
میں اپنی کزن سے ملنے آیا تھا؛؛؛ رمیض پیچھے پلٹ کر ایک نگاہ مہرماہ پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
جبکہ پیچھے مہرماہ حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی۔ اس کو اپنی سماعتوں پر گویا یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔
کیا حاذم عباس اتنا گر سکتا ہے؟؟؟ اس کا دل چاہ رہا تھا کی وہ دہاڑے مار مار کر روئے چینخیں چلائے اور ساری دنیا کو بتائے کی حاذم عباس کا اصل چہرہ کیا ہے؛؛؛
مہرماہ؟؟؟ مہرماہ؟؟؟؟ ژالے اس کو شانوں سے پکڑ کر جھنجوڑتے ہوئے ہوش کی دنیا میں لائی تھی۔
ہ۔۔۔ہا۔۔۔ہاں؟؟؟؟ مہرماہ کی زبان بھی اب اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔
یہ پانی لو پی لو؛؛؛؛ ژالے نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا؛؛؛ جس کو مہرماہ تھامتے ہوئے گلاس لبوں سے لگا کر پانی کو گٹا گٹ گلے سے نیچے اتاری تھی۔ تب جاکر اس کا سوکھا ہوا گلہ کہیں تر ہوا تھا۔ اور اکھڑتی ہوئی سانسیں بجال ہوئی تھیں۔
❤️❤️❤️❤️
حاذم گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں انتہائی جاذب نظر آ رہا تھا۔ وہ اپنے سیاہ گھنے و سلکی بالوں کو پیچھے کی جانب ہاتھ سے پھیرتے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک گہری نگاہ خود پر ڈالا تھا۔
اس کی سفید رنگت و کالی گھنی مونچھیں کے نیچے اس کے عنابی لب جس پر کھل کر مسکراہٹ بھی نہیں آ رہی تھی۔ وہ ہونٹ کچلتا اپنے سراپے پر ایک گہری نگاہ ڈالتا پرفیوم کی بوتل اٹھا کر خود پر اسپرے کیا تھا۔ ماحول میں یکدم سے خوشبو نے اپنا اثر بکھیرا تھا۔ وہ بظاہر تو اوپر سے نارمل نظر آ رہا تھا لیکن وہ اندر ہی اندر اپنے آپ سے جنگیں لڑ رہا تھا۔ آج اس کی زندگی کا صفحہ یکدم سے پلٹنے والا تھا۔
جہاں صرف ہمیشہ ایک “”کاش””” کی امید رہتی تھی؛؛؛؛ آج وہی “””کاش””” حقیقت میں تبدیل ہونے والا تھا۔
سب کچھ بہت اچانک سے ہوا تھا۔ گویا ایک طوفان آیا ہو اور اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے گیا ہو؛؛؛
جہاں وہ مہرماہ عامر کو صرف اپنے خیالات میں سوچتا تھا آج وہی لڑکی اس کی شریک حیات بننے جا رہی تھی۔ اس کے اندر خوشی حیرت دکھ تاسف سب کے سب تکلیف پہنچا رہے تھے۔
حاذم؟؟؟ جبھی پیچھے سے کسی کی آواز اس نے کانوں میں ابھری تھی۔
اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو ژالے اس کی نظروں کے عین سامنے کھڑی تھی۔
ژالے؟؟؟ وہ تھوڑا سا حیران ہوا تھا۔
ہممم؛؛؛ بھئ ہم کو تو بلکل بھول ہی گئے؛؛؛ ہم بھی تمہارے کزن ہیں؛؛؛ ژالے کا انداز اس کو چھیڑنے والا تھا۔ حاذم اس کے اس معصوم سے شکوے پر مسکرا دیا تھا۔
نہیں ہرگز نہیں؛؛؛ غلط سوچ رہی ہو تم بیوقوف لڑکی؛؛؛ حازم ہنسا تھا۔
ژالے اس کو ہنستا ہوا دیکھ اپنے اوپر بڑی مشکل سے جبر کئے ہوئے تھی؛؛؛ جس انسان کی ہنسی اتنی خوبصورت ہو سکتی ہے پھر وہ انسان کتنا خوبصورت ہو سکتا ہے؛؛؛ ژالے گویا اس کی ہنسی میں خود کہیں کھو گئی ہو۔
ہیلو؛؛؛ ہیلو؛؛؛؛ حاذم نے اس کی آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرایا تھا تب جا کر وہ کہیں ہوش کی دنیا میں آئی تھی۔ یہ محبت کا سلسلہ کب شروع ہوا اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔ کتنا مشکل وہ لمحہ ہوتا ہے جب اپنے من پسندیدہ شخص کسی اور کی جھولی میں دینا پڑے؛؛؛ ہم عورتوں کا دل واقعی بہت بڑا ہوتا ہے جو اتنی بڑی قربانی دے جاتی ہیں کسی دوسری عورت کے لئے؛؛؛
بہت پیارے لگ رہے ہو؛؛؛ ژالے کی زبان یکلخت پھسلی تھی جس کو اس نے دانتوں تلے دبا لیا تھا۔
ابھی وہ دونوں کوئی اور بات کرتے جبھی ضامن دروازے پر دستک دیتا کمرے میں داخل ہوا تھا۔
حاذم کی نظر جیسے ہی ضامن پر پڑی تھی اس نے خود کو قدرے نارمل کر لیا تھا۔
نکاح خواہ آ چکے تھے۔ ضامن حاذم کو اپنے ساتھ لینے آیا تھا۔
ضامن کے آنے کے بعد ژالے فوراً اسکیوز کرتی وہاں سے چلی گئی تھی۔
❣️❣️❣️
اس کے برعکس مہرماہ کو کمرے سے باہر حال کمرے تک کے سفر میں ایک بازو عیشہ و دوسرا بازوں ژالے نے تھاما ہوا تھا۔
حال کمرے میں سارے بڑے موجود تھے۔ عیشہ کے سسرالیوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ کسی مجبوری کے تحت نہ آ سکے تھے۔
مہرماہ مرے مرے قدموں سمیت ان کے ساتھ کسی روبوٹ کی مانند کھینچی چلی آ رہی تھی۔
اس کے کمرے داخل ہوتے ہی آسیہ بیگم آگے بڑھیں تھی؛؛؛؛ و بیٹی کی بلائیں لینے کے ساتھ ساتھ صدقہ اتاری تھیں۔ ان کے کلیجے کا ٹکڑا آج ان سے جدا ہونے والا تھا۔ نازو میں پلی اپنی مہرماہ کو غمگین نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ اور خود پر بڑا ضبط کئے تھیں۔ انہوں نے مہرماہ کے سامنے رونے سے گریز کیا تھا۔
عامر صاحب نے بھی بیٹی کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ اور اسے خود سے گلے لگاتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے تھے۔
یہاں آ کر مہرماہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ وہ ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہی تھی۔ حتیٰ کہ اس کا واٹر پروف کاجل بھی پھیل گیا تھا۔ بارہا سب نے اس کو چپ کرانے کی کوشش کی تھی؛؛؛؛لیکن وہ پہلے سے بھی زیادہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
بمشکل سب نے اس کو چپ کرایا تھا۔ اس کو لگ رہا تھا کی وہ حشر کے میدان میں تن و تنہا کھڑی ہے۔ کوئی اس کے ساتھ نہیں ہے۔
مہرماہ غلطی سے بھی آنکھ اٹھا کر سامنے کی جانب نہیں دیکھی تھی۔ سامنے ہی تو اس کی جان کا دشمن بیٹھا تھا۔ اگر وہ اس کو ایک نظر غلطی سے بھی دیکھ لیتی تو شائد یہ نکاح ڈیلے ہو جاتا۔
اس کے دل میں نفرت کا آلاو پک رہا تھا۔
❣️❣️
حاذم متغیر نگاہوں سے اس پتھر کی مورت کو دیکھ رہا تھا۔ جو سراپا دھکتے ہوئے انگارے پر بیٹھی تھی۔ اگر اس کو چھونے کی وہ ذرا سی بھی حماقت کرتا تو جل کر بھسم ہو جاتا۔
اس نے بھی اس کو نظر انداز کر دیا تھا۔ خیر دل تھا کی اندر ہی اندر ڈول رہا تھا اور ضد کر رہا تھا کی ایک اور نظر اس سنگ دل لڑکی کی جانب دیکھ لے۔ حاذم کے علم میں یہ بات تو تھی کی مہرماہ کسی ڈول کی مانند خوبصورت ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن بھی لگ سکتی ہے؟؟؟ جو اس کی آنکھوں کو خیر کر رہی تھی۔
تیری محبت حیات کو لکھوں کس غزل کے نام سے تیرا حسن جان لیوا تیری سادگی بھی کمال ہے
جو لڑکی بچپن میں اپنے لمبے لمبے ناخن کبھی اس کے گال میں تو کبھی ہاتھ میں دھنسا دیتی تھی۔ کبھی اس کے جوتے پر چڑھ کر گندہ کر دیتی تھی؛؛؛ تو کبھی اس کو گندے کیچڑ میں دھکا دے کر گرا دیتی تھی۔ آج اسی لڑکی کے ساتھ وہ اپنی بقیہ کی زندگی گزارنے والا تھا۔ یہ احساس خوبصورت بھی تھا اور بھیانک بھی۔
بڑوں کی اجازت پر نکاح کی رسم کا آغاز ہوا تھا۔
مولوی صاحب سب سے پہلے مہرماہ کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
مہرماہ عامر ولد عامر عباس آپ کا نکاح حاذم عباس ولد سعد عباس کے ساتھ دو لاکھ سکہ رائج الوقت مقرر کیا گیا ہے؛؛؛ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟ مولوی صاحب پوچھ رہے تھے اور وہ کسی برف کی مانند اپنی جگہ جم سی گئی تھی۔ زبان نے تو گویا ساتھ دینا ہی چھوڑ دیا تھا اور جیسے وہ اپنی سماعت سے محروم ہو چکی ہو پوری طرح سے۔۔
مولوی صاحب نے دوبارہ سے اپنی بات دہرائی تھی پھر بھی اس کی خاموشی ویسی کی ویسی ہی رہی؛؛؛ حال کمرے میں موجود سبھی افراد کا حال برا ہو رہا تھا۔ ایک مکمل موت سا سکوت چھایا ہوا تھا۔
مولوی صاحب نے آخری بار پوچھا تھا؛؛؛؛ آسیہ بیگم کے پیشانی پر پسینے کی بوندیں ٹپکنے لگی تھیں۔ انہوں نے بیٹی کا ہاتھ تھام کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تھا۔ وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی۔
سبھی کی سوالیہ نگاہیں اسی کو دیکھ رہی تھیں۔
ماں کے زور دینے پر اس نے ایک آخری بار اپنے بابا کی طرف دیکھا تھا؛؛؛ شائد وہ اس کے اوپر رحم کھا کر اس نکاح کو روک دیں؛؛؛؛ لیکن درحقیقت عامر صاحب بیٹی کی جانب خود لاچارگی سے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہیں ہو کی میری عزت کا مان رکھ لو بیٹا؛؛؛؛
قبول ہے؛؛؛ وہ باپ کے بیمار چہرے کو دیکھتے ہوئے زبردستی گردن کو آہستہ سے ہاں میں ہلائی تھا۔
یہ اس کی ہاں نہیں تھی؛؛؛ مجبوری تھی صرف اور صرف مجبوری؛؛ ایک ایسی مجبوری جس نے اس کو اندر سے ختم کر کے رکھ دیا تھا۔
اس نکاح نے کئی دلوں کو زخمی کیا تھا۔ ژالے کو اب وہاں کھڑے رہنا کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اپنی ڈبڈباتی آنکھیں سب سے چھپاتی وہاں سے نکل گئی تھی جس کو کسی نے بھی نوٹس نہیں کیا تھا۔
اب مولوی صاحب حاذم کی جانب گھومے تھے؛؛؛ جہاں وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھا لب بھینچے مہرماہ کو دیکھ رہا تھا۔
حاذم عباس ولد سعد عباس حیدر آپ کا نکاح مہرماہ عامر ولد عامر عباس کے ساتھ دو لاکھ سکہ رائج الوقت مقرر کیا گیا ہے؛؛؛ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟؟
کسی کو اپنی زندگی میں زبردستی شامل کرنا یہ کسی کی زندگی میں زبردستی شامل ہونا بھی ایک اذیت ہے؛؛؛ اور اس اذیت سے حاذم عباس دو چار تھا ان سب سے زیادہ اس کے لئے اذیت کی بات یہ تھی کی آج اسکے اتنے خواص دن پر بھی اس کا باپ اس سے کوسو دور کھڑا تھا؛؛؛ کیا آج کے دن بھی وہ اس کے پاس نہیں آ سکتے تھے؛؛؛ اس نے دور کھڑےسعد صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے دکھ سے سوچا تھا۔
مولوی صاحب نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہرائی تھی؛؛؛ اب سبھی لوگوں کا دھیان حاذم کی جانب مبذول تھا۔
جی قبول ہے؛؛؛ اس کی خوبصورت و بھاری بھرکم آواز موت سے سناٹے جیسے ماحول میں گونجی تھی۔
میرے ہمسفر تو یقین تو کر مجھے مانگنا تو نہ آ سکا میں نے پھر بھی مانگی یہی دعا کی گواہی دیگا میرا خدا میں جب بھی اس سے طلب کیا نہیں مانگا کچھ بھی تیرا سوا
یکایک عامر صاحب شفقت سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھے تھے۔ حاذم ایک کرب کی اذیت میں مبتلا تھا۔
کیا آج کے دن بھی چچا جان؟؟؟؟ کیا میرا باپ میری زندگی کے سب سے خاص دن پر بھی میرے ساتھ نہیں کھڑا ہے؛؛؛ اتنا بدنصیب ہوں میں؛؛؛؛ کیا اس کے بابا اتنا نہیں کر سکتے تھے کی اس کے نکاح پر تو کم از کم اس کے ساتھ چند لمحوں کے لئے ہی سہی آ کر کھڑے ہو گئے ہوتے۔
وہ کوئی کمزور مرد نہیں تھا اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لگا کر بیٹھ جانے والا؛؛؛ وہ حاذم عباس تھا؛؛؛ کوئی عام مرد نہیں؛؛؛ لیکن آج وہ کوئی چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا گویا ابھی پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔
نکاح کی رسم ادا ہو چکی تھی سب ہی ہاتھ دعا کی تقلید میں اٹھے تھے۔ و سب لوگ باری باری حازم کو اپنے گلے سے لگا کر مبارکباد دے رہے تھے۔
عامر صاحب کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ برسوں دیکھا گیا خواب آج حقیقت میں تبدیل ہو گیا تھا۔
رمیض ایک نفرت بھری نگاہ حاذم پر ڈالا تھا۔ اس کو تو سوچ سوچ کر غصہ آ رہا تھا کی اب مہرماہ کی ہر پراپرٹی پر حاذم کا حق ہوگا۔ وہ غصے سے بل کھاتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ و اس کی ماں نے بھی اس نکاح میں کوئی خاص لگاؤ نہیں دکھایا تھا۔
خیر نکاح کی یہ رسم شاندار طریقے سے مکمل ہو گئی تھی۔ اب یہاں سے اصل امتحان شروع ہونے کو تھا۔
کہتے ہیں کی نکاح ہونے کے بعد اللہ تعالٰی آسمان سے دونوں میاں بیوی کے دل میں محبت خودبخود پیدا کر دیتا ہے؛؛؛ لیکن اصل میں یہاں تو مہرماہ کو پہلے سے کہیں زیادہ حاذم سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ اس کو حاذم کا پورا وجود ہی ایک جھوٹ کا پلندہ لگ رہا تھا۔ اور اس رات کا سوچ سوچ کر وہ حازم کو پورے دل سے بدعائیں دے رہی تھی۔
❣️❣️❣️
نکاح کے فوراً بعد سعد صاحب اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے۔ اب یہاں زیادہ دیر کھڑے رہنا ان کا وجود اجازت نہیں دے رہا تھا۔
وہ کمرے میں آ کر بیڈ پر ڈھے سے گئے تھے۔ زندگی اتنی کیوں تکلیف دیتی ہے؟؟؟ اتنے امتحان کیوں لیتی ہے؟؟؟ وہ افسوس بے افسوس سے سامنے کھلی کھڑی کو دیکھ رہے تھے۔ جس پر ہر ایک منٹ میں کوئی پرندہ آتا اور ایک لمحہ رکے بغیر واپس اڑان بھر جاتا جیسے انہیں بھی ان پرندوں کو بھی اس کمرے میں اذیت محسوس ہو رہی تھی۔
وہ آتے جاتے پرندوں کو بغور تک رہے تھے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت گویا مفلوج ہو چکی ہو۔
اسی اثناء میں ان کے دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ نظریں اٹھا کر دیکھا تو ان کا جوان بیٹا جو قد و قامت میں ان سے بھی آگے نکل گیا تھا اپنے لڑکھڑاتے قدموں پر کھڑا تھا۔
انہیں تو پہلے حیرت ہوئی تھی کہ حاذم ان کے کمرے کی دہلیز بھی کبھی عبور کرے گا۔
آ جاؤ؛؛؛ انہوں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ ہر طرف سکوت چھایا ہوا تھا۔ وہ اندر آنے کے بعد اپنے باپ کے چہرے کو بغور تک رہا تھا۔ وہ ان کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھا۔
آخر کس بات کی سزا اس کے حصے میں لکھی گئی تھی۔
بابا؛؛؛؛؛ اس کی زبان لڑکھڑائی تھی۔ بابا لفظ تو وہ برسوں کا بھول چکا تھا ایک صدی کے بعد تو اس نے لفظ بابا کہا تھا۔ اس لفظ کی چاشنی گویا اس کے زبان میں گھل کر رہ گئی ہو۔
آج میری زندگی کا بہت خاص دن تھا؛؛؛ بابا آج کے دن بھی آپ نے مجھے چھوڑ دیا؛؛؛؛ آج تو کم از کم اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے؛؛؛؛ آج کے دن بھی چچا جان؟؟؟ کیوں بابا؛؛؛؛ کیوں مجھے اتنی بڑی سزا آپ نے دی ہے؟؟ اتنا غیر اہم ہوں میں آپ کے لئے؛؛؛؛ کیا آپ کو آج بھی مجھ پر رحم نہیں آیا؟؟؟
وہ کونسا باپ ہوگا جو بیٹے کے نکاح پر دور کھڑا بس یہ سب دیکھ رہا ہو؟؟ کاش آپ میرے پاس آتے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے؛؛؛ مجھے دعائیں دیتے؛؛؛؛ وہ واقعی چھوٹے بچوں کی طرح شکوہ کر رہا تھا؛؛؛ اس کی آنکھیں لال سرخ ہو گئی تھی۔ وہ اندر سے بلکل ٹوٹ چکا تھا۔ اس کی آواز میں لاچارگی بیچارگی سب تھی۔ وہ رونا چاہتا تھا بے تحاشا رونا چاہتا تھا؛؛؛؛ بچپن سے برداشت کرتے کرتے اب وہ ہمت ہار چکا تھا۔ اس کے دل میں جیسے درد اٹھی ہو وہ ایک کرب کے عالم میں اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔
سعد صاحب کا چہرہ کچھ تو دکھ و کچھ شرم کی وجہ سے جھک گیا تھا۔ سہی ہی تو کہہ رہا تھا وہ؛؛؛ وہ باپ کہلانے کے قابل ہرگز نہ تھے۔ وہ حاذم کو گلے لگا کر رونا چاہتے تھے لیکن ان کی ہمت نہ ہو سکی کی وہ اس کو خود سے گلے لگاتے۔۔
بابا ایک بات سچ سچ بتائیں؛؛؛؛ کیا میں واقعی میں آپ کی سگی اولاد ہوں؟؟؟؟ وہ آبدیدہ بھری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔ کیونکہ اگر وہ سچ میں ان کی سگی اولاد ہوتا تو؛؛؛؛ اتنا اپنے بیٹے سے کون سا باپ دور رہتا ہے وہ بھی اکلوتے بیٹے سے؛؛؛؛ اتنی دوری کی دونوں باپ بیٹے مل کر بھی مٹا نہیں سکتے تھے۔ جس عمر میں اس کو باپ کی انگلی پکڑ کر چلنا چاہیے تھا اس عمر میں اس نے چچا کی انگلی تھامی تھی۔
ہاں تم میرے بیٹے ہو؛؛؛ میری سگی اولاد ہو آیندہ یہ سوال نہ پوچھنا حاذم؛؛؛؛ سعد صاحب اس کے اس سوال پر وہ نہایت شرم و سار ہو گئے تھے۔ آج ان کا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا تھا کی اس قسم کے سوالات کر رہا تھا۔
بہت شکریہ بابا آپ کا؛؛؛؛ کہ آپ کو اتنا تو یاد ہے کی میں آپ کی سگی اولاد ہوں؛؛؛ وہ تاسف بھرے لہجے میں کہتا رکا نہیں تھا۔ کمرے کے دروازے پر وہ جیسے ہی پہنچا تھا سامنے کھڑے عامر صاحب کو دیکھ کر وہ بغیر کچھ کہے ان کی سائیڈ سے نکل گیا تھا۔
عامر صاحب اس کے جانے کے بعد بھائی کے کمرے میں آئے تھے؛؛؛؛ جہاں؛؛؛؛؛؛؛؛ کی آنکھوں میں نمکین پانی صاف چھلک رہے تھے؛؛؛ جس کو وہ صاف طور پر دیکھ سکتے تھے۔
حاذم بچہ ہے نہ سمجھ ہے؛؛؛؛ عامر صاحب بھائی کو اس اذیت سے باہر لانے کی کوشش کئے تھے۔
نہیں وہ سہی ہی تو کہہ رہا تھا؛؛؛؛ میں واقعی ایک اچھا باپ نہیں بن سکا؛؛؛؛ میں باپ کہلانے کے قابل نہیں ہوں عامر؛؛؛ نہیں ہوں میں باپ کہلانے کے قابل؛؛؛؛ وہ ناک پر ٹکا چشمہ اتار کر اپنے کمزور ہاتھوں سے اپنا آنسوؤں صاف کرتے ہوئے بھائی کے گلے سے لگ گئے تھے۔
ایسا کچھ نہیں ہے؛؛؛؛ حاذم کی نادانی ہے وہ حالات نہیں جانتا کی اس وقت کیا تھے؛؛؛ عامر صاحب بھائی کو گلے لگا کر خود بھی غمزدہ ہو گئے تھے۔
اپنے بھائی کے لئے وہ کچھ بھی نہ کر سکے اس بات کا افسوس انہیں زندگی بھر رہنے والا تھا۔
آج مہرماہ اور حاذم کا نکاح ہو گیا؛؛؛ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں بھائی صاحب؟؟؟
عامر صاحب بھائی کی پیٹھ سہلاتے ہوئے نرمی سے پوچھے تھے۔
نہیں عامر بھلا مجھے کیا اعتراض ہوگا؛؛؛ مہرماہ گھر کی بچی ہے؛؛؛؛ اس سے بہتر شریک سفر میرے بیٹے کو مل ہی نہیں سکتی تھی؛؛؛ دونوں بھائی آپس میں گلے مل کر ایک دوسرے سے دل کی بات بیان کئے تھے۔
کافی وقت گزرنے کے بعد عامر صاحب حال کمرے میں داخل ہوئے تھے؛؛؛ جہاں کانوں کان شور مچا تھا کی حازم کی مرضی ہے کی رخصتی آج ہی ہو بلکہ ابھی کیونکہ کراچی جا کر اس کو ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے؛؛؛ یہ خبر اڑتے اڑاتے کسی نہ کسی طرح مہرماہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی تب سے وہ حاذم سے دو دو ہاتھ کرنے کا سوچ رہی تھی؛؛؛ اس کی اتنی ہمت کی وہ آج ہی رخصتی کروائے؛؛؛؛ وہ بھی مہرماہ عامر کی مرضی کے بغیر؛؛؛؛ جبھی عین موقع پر عیشہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی؛؛؛؛ اور اس نے آتے ہی مہرماہ کو جو خبر سنائی پھر تو اس کو دن میں ہی تارے نظر آنے لگے؛؛؛؛ بھلا ایسے کیسے ہو سکتا ہے؛؛؛؛ وہ تو مر کر بھی یہ کام نہیں کرے گی؛؛؛؛ جو اس سے کرنے کے لئے عیشہ سمیت سبھی گھر والوں نے کہا تھا۔
