Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

صبح کے پہر آسمان پورا صاف تھا۔ موسم بھی کافی حد تک خوشگوار تھا۔
گھر میں ایک آفرا تفریح کا ماحول تھا۔
صبح سے شام ہونے کو آئی تھی مگر کام تھے کی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ خاندان کی دیگر لڑکیاں بھی آ چکی تھیں۔ جس سے گھر میں چار چاند لگ گیا تھا۔
مہرماہ تو ایک صبح سے کمرے میں بند تھی اس کی تیاریاں سوا نیزے پر تھیں۔ آج وہ دنیا کی خوبصورت ترین لڑکی دکھنا چاہتی تھی اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا وہ بلا شبہ کی بہت حسین تھی۔
مہرماہ مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے آج تم پر کسی نے واقعی اپنا دل ہار جانا ہے؟ ژالے اس کی تیاریاں دیکھ کر مسکرا کر بولی تھی۔
اس کی بات سن کر مہرماہ عامر کی گردن غرور سے مزید اکڑ گئی تھی۔
اس نے آئینے میں اپنا بھرا بھرا وجود دیکھا تھا کسی خوبصورت کانچ کی گڑیا کی مانند لگتی تھی وہ اور کچھ کچچی عمر کا بھی اثر تھا۔
شکل سے تو وہ بلا کی معصوم تھی لیکن نہ جانے ہر بار اس کی معصومیت حازم پر آ کر ختم کیوں ہو جاتی تھی۔
مجھ پر کوئی اپنا دل ہارے یہ نہ ہارے یہ میرا مسلہ نہیں ہے۔۔ میں تو بس چاہتی ہوں میں سب سے الگ دکھوں بہت زیادہ پیاری۔۔ آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنا آج رات کے فنکشن میں پہننے والا ڈریس اپنے اوپر رکھ کر ہر اینگل سے دیکھ رہی تھی اور خود کی بلائیں لے رہی تھی۔
ایک تم ہی نہیں؛؛؛؛ آج کے فنکشن میں کوئی اور بھی ہے جو تم سے بھی زیادہ لوگوں کو اپنی جانب اٹرئیکٹ کرنے کا پاس رکھتا ہے!!!! ژالے اس کا غرور میں غرق لہجہ دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھر کر بولی تھی۔
اس کی بات سن کر مہرماہ کی پیشانی پر بل کی لکیریں نمودار ہوئی تھیں۔ وہ اپنا ڈریس بیڈ کی دوسری سائڈ رکھ عین ژالے کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی اور سوالیہ نگاہوں سے اس کے جھکے ہوئے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھی تھی۔
بھلا وہ کون ہے؟؟؟ جو مہرماہ عامر سے بازی لے جائے گا؟؟ مہرماہ کو ژالے کی بات رتی برار اچھی نہیں لگی تھی اس نے بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ ژالے کی جانب جواب طلب نظروں سے دیکھا تھا۔
وہ کوئی اور نہیں۔۔۔۔ حازم ہے!!! جو مہرماہ عامر سے بازی لے کر جا سکتا نہیں جا چکا ہے خاندان کی لڑکیاں دیکھا ہے کیسے اس سے بات بات پر فری ہونے کی کوشش کر رہیں ہیں۔
ژالے آگے بولے جا رہی تھی اور اس کو لگ رہا تھا اس کے کان سے دھواں نکل رہا تھا دشمن اول کا نام سن کر۔۔۔۔ وہ ژالے کو نظر انداز کرتی گردن جھٹک کر پھر سے ایک بار اپنی میچینگ چوڑیاں ملانے میں جٹ گئی تھی۔ لیکن اندر کہیں نہ کہیں اسے حازم سے بری طرح جیلیسی محسوس ہوئی تھی اس بات سے وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی تھی کی کس طرح لڑکیاں حازم پر مرتی تھیں اس کی پرسنالٹی ہی ایسی تھی مہرماہ عامر خود بھی کبھی کبھی اس کی حیرت انگیز شخصیت کو دیکھ کر لمحے کے لئے مبہوت ہو جاتی تھی۔
مگر اس کی انا کو یہ کہاں گوارہ تھا کی وہ حازم عباس کو خود سے اونچے عہدے پر دیکھ سکتی۔
ژالے اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات کو دیکھ کر سمجھ گئی تھی حازم کا نام سن کر اس کا موڈ کس قدر خراب ہوا ہوگا لیکن وہ بھی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔
دن بدن اس پر یہ انکشاف ہوتا جا رہا تھا کہ حازم عباس ہی اسے پہلے زیادہ عزیز ہوتا جا رہا تھا اور وہ اس بات سے بھی انکاری نہیں تھی کی وہ حازم کی محبت میں پور پور مبتلا ہو چکی تھی۔
اس کا مسکرانا اس سے باتیں کرنا دو چند ہی سہی دل کو جیسے ٹھنڈک سی پہنچ جاتی تھی وہ بھی تو انہی لڑکیوں میں شمار تھی جو حازم عباس پر مرتی تھیں اس کے آگے پیچھے گھومتی تھیں تو گویا مجھے حازم عباس سے محبت ہو گئی ہے؟؟ وہ خود سے ہی سوال و جواب کر رہی تھی اور خود سے ہی الجھ رہی تھی۔
زندگی نے اسے عجیب سے دوراہے پر لا کر کھڑا کر دیا تھا جس سے چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی تھی۔
وہ بھی آج پوری طرح دل سے تیار ہونا چاہتی تھی محبت کا دھنک رنگ اسے اپنے لبادے میں دن بدن سمیٹے جا رہا تھا وہ بھی کچی کلی کی طرح نئی نئی محبت کے راستے پر اڑان بھر رہی تھی جس کے سبب سب اچھا بھی لگ رہا تھا اسے۔
وہ اپنے آپ میں مسکراتی کھلکھلاتی اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے تک آئی تھی۔ اسے بھی آج اس فنکشن میں خوبصورت دکھنا تھا تا کی حازم عباس کی نظریں اس سے نہ ہٹ سکیں وہ شرماتی لجاتی اپنی تیاریوں میں سرے سے مگن ہو گئی تھی۔

#

سب کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ لڑکیوں کی تو تیاری ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔
دلہن کو تو بیوٹیشن نے اپنے میکاپ کے کمال سے مزید خوبصورت بنا دیا تھا۔ لڑکے والے بھی تقریباً آ چکے تھے ان کے استقبال کے لئے گھر کے باقی افراد موجود تھے۔
روشنی کی چکاچوند نے ماحول کو چار گنا زیادہ خوبصورتی بخش دی تھی۔ ڈیکوریشن کے معاملے میں حازم نے اعلی درجے کی چیزوں کا انتخاب کیا تھا۔
پورے لان کو سفید پھولوں سے سجایا گیا تھا جس کی خوشبو بھی لوگوں کو اپنی طرف پوری طرح سے راغب کر رہی تھیں۔
رنگ برنگے لہراتے آنچل و اونچی آواز میں قہقہے لوگوں کی مدبھیڑ لڑکیوں کی الگ لگ ٹولی بنی تھی و عورتوں کی الگ۔۔مرد و حضرات کا الگ جشن لگا تھا عامر صاحب و گھر کے دیگر بڑے بھی موجود تھے۔
سب ہی خوش تھے صبا بیگم نے بھیگی آنکھوں سمیت اس سارے منظر کو دل ہی دل میں نظر اتاری تھی۔

#

حازم کام سے پوری طرح سے فارغ ہو کر اپنے مشترکہ کمرے کی جانب آیا تھا۔
صبح سے کام نبٹا کر اب کہیں جا کر اسے خود کے لئے وقت ملا تھا۔ تھکن کا غلبہ اس کے چہرے پر ڈھونڈنے سے بھی نظر نہیں آ رہا تھا وہ اپنے سادہ سے حلیے میں بھی بلا کا جازب نظر آ رہا تھا۔
اس نے سب سے پہلے شاور لیا تھا۔ شاور لینے کے بعد سیاہ رنگ کے پٹھانی کرتا و شلوار میں وہ اس کائنات کا کوئی شہزادہ لگ رہا تھا جس سے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں حیرت کا امکان ضرور نمایاں ہوتا۔
اپنے لمبے قد و قامت و حد سے زائد اسمارٹنیس ہونے کے باوجود اس کی آنکھیں اداس رہتی تھیں۔
اس کے چہرے پر واحد اس کی آنکھیں ہی تھیں جس میں خوشی کا کوئی تاثر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا وہ باہر سے دکھنے والا مضبوط ایصاب کا مالک اندر سے کسی معصوم بچے کی طرح تھا۔
جتنا وہ باہر سے کھڑوس وکم گو لگتا تھا اتنا ہی اندر سے کسی ٹوٹے ہوئے کانچ کی صورت اس کا دل ریزہ ریزہ تھا۔
نہ ماں نہ باپ نہ بہن نہ بھائی حتیٰ کی کچھ بھی نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔ تن و تنہا زندگی تھی اس کی یہاں تک کی وہ لڑکی بھی اس کی نہیں تھی جس کو اپنے دل کی دنیا میں نہ جانے کب سے راز کی صورت میں چھائے ہوئے تھا اس کو تو کوئی فرق بھی نہیں پڑنے والا تھا وہ چاہے جئیے یہ مرے۔۔۔۔۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے اضطراری ہاتھوں سے اپنے بالوں کو سیٹ کر رہا تھا۔

سنبھالا ہوش ہے جب سے؛ مقدر سخت تر نکلا پڑا ہے واسطہ جس سے؛ وہی زیر و زبر نکلا سبق دیتا رہا مجھ کو؛ سدا روشن خیالی کا اسے جب پاس سے دیکھا تو؛ خود بھی تنگ نظر نکلا سمجھ کر زندگی جس سے محبت کر رہے تھے ہم اسے جب چھوڑ کر دیکھا تو فقط خاکی بشر نکلا محبت کا نشہ اترا تو؛؛ تب ثابت ہوا مجھ کو جسے منزل سمجھتے تھے وہ بے مقصد سفر نکلا؛؛

گرے رنگ کی شال کاندھوں پر ڈال کر پہلے سے کہیں زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا فرفیوم کی بوتل اٹھا کر خود پر اسپرے کیا تھا۔
اس کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی تھی بلیک رنگ کے کرتا میں اس کا سفید آلود رنگ مزید نکھر رہا تھا۔ وہ تیار ہو کر لان میں آ گیا تھا۔ جہاں پر اس کابے صبری سے انتظار تھا تقریباً سبھی کو اس کا انتطار تھا لڑکیاں تو اسے دیکھ کر عش عش کر اٹھیں تھیں۔
وہ ان لوگوں کے درمیان و انکی نظروں کو دیکھ شرمندہ بھی ہو رہا تھا۔
مہمانوں سے ملنے کے بعد وہ مردوں کے بیچ میں جا کھڑا ہوا تھا جہاں گھر کے دیگر کزنز وغیرہ کھڑے تھے۔
اس کی پرسنالٹی کی تقریباً سبھی نے دل کھول کر تعریف کی تھی اور وہ ہلکی سی مسکراہٹ سمیت تعریف قبول کر رہا تھا۔
سب سے ملنے ملانے کے بعد اس کی آنکھیں فقط ایک ہی ہستی کے تلاش میں تھی جس کا سایہ تک دور دور نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ اس ہجوم میں ایک نظر دوڑاتا مہرماہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کیا تھا مگر وہ رہتی تو رکھتی نہ۔ وہ پھر سے لوگوں کے درمیان میں جا کھڑا ہوا تھا اور بے صبری سے اس اپسرا کو دیکھنے کی تمنا دل میں لئے انتظار کر رہا تھا۔

#

حازم عباس میری بلا سے تم بھاڑ میں جاؤ مرتی ہونگی ہزار لڑکیاں تم پر۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں مہرماہ ہوں مہرماہ عامر۔۔۔۔۔ تم جیسوں کو تو دیکھنا بھی نہ پسند کروں اور تو اور وہ لڑکیاں اندھی ہونگی جنہیں نہ جانے کیا دکھتا ہے تم میں۔۔۔۔ اس کا موڈ ژالے کی بات پر ابھی بھی خراب تھا وہ کان میں موتیوں سے لدے جھمکے ڈالتے ہوئے مسلسل حازم کو سوچے جا رہی تھی۔
گرین کلر کے غرارے میں وہ قدرتی مناظر کا کوئی سانحہ لگ رہی تھی۔
میکاپ کے کمال نے تو اس کی خوبصورتی مزید دوبالا کر دی تھی۔ کلائی میں غرارے کی ہم رنگ چوڑیاں پہن کر اس نے آئینے کے سامنے ہاتھ کو ہلایا تھا جس سے چوڑیوں کی کھنک کمرے کی فضا میں گونج اٹھی تھیں۔ اس نے نفیس سی جویلری پہنی تھی وہ ہاتھ میں چوڑیوں سمیت گجرے بھی پہنے تھے۔ مونگرے سے بنا گجرہ اس کی سفید رنگ کی کلائی میں بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا بالوں کو اس نے کھلا ہی چھوڑ دیا تھا جو کچھ پیچھے کی اور پشت پر و کچھ آگے کی طرف سینے پر بکھرے تھے۔
وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کی پچھلے دو گھنٹے کی مشقت بعد تیاری مکمل ہو ہی گئی تھی بیڈ پر پڑا موتیوں سے لدا دوپٹہ اٹھا کر اس نے کاندھے پر ڈالا تھا۔
مہرماہ عامر جیتی جاگتی مصور کی بنائی ہوئی کوئی تصویر لگ رہی تھی۔
افف اللہ جی ن میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں!!!! اس سے رہا نہیں گیا تھا خود کی ہی نظر لگ جانے کا خوف اسے ستا رہا تھا۔
تیار ہونے کے بعد بلا آخر وہ کمرے سے باہر آئی تھی سب کی نظریں لمحے کے لئے اس پر ٹھہر گئی تھی وہ عام سے حلیے میں بھی بلا کی پیاری لگتی تھی پھر تو آج بات ہی کچھ اور تھی۔

وہ چلکر سیدھا لان کی جانب آئی تھی جہاں مہمان کی آمد ہوچکی تھی حازم اپنے کسی دوست کی بات پر ابھی اچھے سے مسکرا بھی نہیں پایا تھا کہ سامنے سے آتی مہرماہ پر اس کی نظر پڑی تھی اس کو دیکھ کر اس کی آنکھیں لمحے کے لئے چراغ کی مانند اجاگر ہوئی تھیں۔
مہرماہ اس کو سیدھا آنکھوں کے ذریعے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ کئی لمحے اس کے چہرے سے نظریں ہی نہیں ہٹا سکا تھا یہ بھی محبت کی ایک علامت تھی محبوب چاہے حسین ہو یہ نہ ہو اس کو دیکھتے رہنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔
رمیض کسی سے فون پر بات کر رہا تھا یکایک مہرماہ کو سامنے سے آتا دیکھ وہ بھی کئی لمحے اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا تھا۔ مہرماہ اس کو یوں اپنی جانب متوجہ پا کر اس کے سامنے ہاتھ لہرا کر اسے ہوش کی دنیا میں کھینچ لائی تھی۔
اس طرح کیوں گھور رہے ہو مجھے؟ اس نے فوراً سے سوال کیا تھا۔
اس کا سوال سن کر رمیض بوکھلا گیا تھا۔
ارے پیاری لگ رہی ہو اسی لئے دیکھ رہا تھا؛؛؛؛ رمیض اپنے اندر کی فئیلنز کو قابو کرتا صاف جھوٹ بول گیا تھا۔
وہ تو میں ہوں ہی پیاری…. وہ اترا کر ایک ادا سے گردن اکڑا کر بولی تھی۔
تم تو واقعی بہت پیاری ہو مہرماہ عامر اس کا اندازہ تو مجھے آج ہو رہا ہے خواہ تم سے یوں ہی تو میں محبت نہیں کرنے لگا۔۔۔رمیض بلیک رنگ تھری پیس سوٹ میں اچھا لگ رہا تھا۔
تم بھی ٹھیک لگ رہے ہو۔۔۔مہرماہ نے کس لہجے میں بولا تھا مزاق کے یہ سئریس مگر جو بھی تھا رمیض کے دل کو جیسے خوشی سی ملی تھی۔
میں ذرا عیشہ سے مل لوں بیچاری کو مبارکباد بھی تو دینی ہے۔ رمیض سے اکسکیوز کرتی وہ اسٹیج کی جانب بڑھ گئی تھی۔ اور پیچھے رمیض کی تا دیتی نظریں بہت دور تک اس کا پیچھا کی تھیں۔

#

ژالے ہلکے سی گرین کلر کے لانگ فراق میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔
مانگ میں نازک سا ٹیکا اس کی نازک مزاجی کو اور بھی حسین بنا رہا تھا۔
وہ آج دل کھول کر تیار ہوئی تھی کس کے لئے ؟؟؟ یہ راز افشاں ہو چکا تھا اس پر حازم جے لئے تیار ہونا اس کی ایک نگاہ کرم کے لئے وہ پورے دل سے آج تیار ہوئی تھی۔
تیار ہو کر وہ لان میں آئی تھی دکھنے میں وہ بھی بہت پیاری تھی۔
وہ سب کی نظروں سے بچتی حازم کو ڈھونڈتی ہوئی اس کے نزدیک آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
لیکن حازم عباس کی ایک غلط نگاہ بھی سامنے کھڑی ژالے پر نہیں پڑی تھی اس کی نظروں کا تصادم ایک ہی جگہ موجود پا کر ژالے نے ذرا سی گردن گھما کر دیکھا تھا جہاں مہرماہ کسی کی بات پر کھلکھلا رہی تھی۔ وہ بھی محبت کی وادیوں میں قدم رکھ چکی تھی محبت کرنے والی آنکھ کو وہ باآسانی سمجھ سکتی تھی اور جتنی محبت و عزت کے ساتھ حازم مہرماہ کو دیکھ رہا تھا ژالے کے دل کے کچھ ہوا تھا وہ ہونٹ کا کونہ کچلتی حازم کی سائڈ سے نکل کر دوسری جانب چلی گئی تھی لیکن پھر بھی اس نے اپنے خیلات کو جھٹک کر اسے غلط قرار دیا تھا کہاں حازم عباس؟؟؟ کہاں مہرماہ عامر؟؟؟ دونوں کا تو کوئی جوڑ ہی نہیں تھا بس ایک نفرت کا آلاو تھا جو دن بدن گہرے سے گہرہ ہوتا جا رہا تھا۔
ژالے نے خود کو کمپوز کیا تھا اور بلا آخر وہ یہ خود کو یقین دلانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی کی جیسا وہ سوچ رہی ہے ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔
لیکن دل میں کہیں نہ کہیں یہ خواہش تھی کی وہ ایک نظر اس کی جانب اسی طرح ڈالے جس طرح وہ مہرماہ کو دیکھ رہا تھا پر شائد ایسا ممکن نہیں تھا۔
وہ حازم عباس تھا اس پوری کائنات میں وہ ایک ہی عورت پر مرتا تھا کسی دوسرے کی تو گنجائش ہی نہیں تھی۔ لیکن وقت کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا ہے شائد کل کو حازم عباس کی زندگی میں بھی بہت محبت کرنے والی کسی دوسری عورت کا بھی آنا لکھا ہو۔

مہرماہ کو دیکھ کر کچھ لڑکیوں کو تو اس پر رشک ہو رہا تھا۔ تو کچھ کو اس سے جلن محسوس ہو رہی تھی وہ ایک ادا سے چلتی اسٹیج کی جانب بڑھ آئی تھی جہاں عیشہ دلہن بن کر بیٹھی تھی عیشہ کو مبارکباد دیتی وہ اسے چھئڑ بھی رہی تھی۔

اوئے ہوئے!!!! مبارک ہو جی دلہے میاں تو کافی ہینڈسم لگ رہیں ہیں ۔ اس نے عیشہ کو شریر انداز میں چیھڑا تو عیشہ شرما گئی تھی۔ شرماتی لجاتی و گھبراتی عیشہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
عیشہ کو اچانک سے مہرماہ کی اکلوتی دوست عافیہ کا خیال آیا تھا جو فنکشن پر آنے والی تھی۔ لیکن ابھی تک وہ آئی نہیں تھی۔
اس نے اس کی دوست کے متعلق پوچھا تو مہرماہ نے بتایا کہ بس پانچ منٹ میں پہنچ جائے گی۔۔۔۔ اس نے اپنی اکلوتی دوست کو عیشہ کی منگنی پر مدعو کیا تھا جس کا وہ اب بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔

اسی طرح اسٹیج پر رونق لگی ہوئی تھیں عیشہ کو تو اس کی کزنز وغیرہ نے چھیڑ چھیڑ کر برا حال کر دیا تھا۔ جن میں اول درجے پر مہرماہ تھی۔

اسٹیج پر مہرماہ کو کھڑا دیکھ آسیہ بیگم نے دور سے ہی بیٹی کی نظر اتاری تھی انہیں اپنی بیٹی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی اتنی منتوں کے بعد تو اس سوہنے رب نے ان کی جھولی میں ڈالا تھا ماں کے اس قدر لاڈ پیار نے ہی تو اس کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ضدی ہٹدھرم تو وہ بچپن سے ہی تھی اس میں بھی اس کی ماں کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔

اسی اثناء میں اس کی اکلوتی دوست عافیہ جو اس کی کرائم پاٹنر بھی تھی تشریف لا چکی تھی اس کو دیکھ کر تو مہرماہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔
عافیہ کا استقبال اس نے بھرپور طریقے سے کیا تھا۔
اتنا لیٹ کیوں آئی تم؟ مہرماہ نے ناراضگی سے پوچھا تھا۔
یار بھائی کو ایمرجنسی ہو گئی تھی ابھی بھی وہ مجھے ڈراپ کر کے چلے گئے ہیں۔۔ عافیہ نے اسے اکسکیوز دیا تو وہ اپنی ناراضگی ختم کرتے ہوئے مسکرا دی تھی۔

مہرماہ اسے گھر کے ایک فرد فرد سے ملوا رہی تھی آخر میں اس نے رمیض سے عافیہ کو ملوایا تھا عافیہ رمیض کے بازو میں کھڑے ہینڈسم کو دیکھ کر ٹھٹھکی تھی اس نے آنکھ کے اشارے مہرماہ کو اشارہ کیا تھا کی اپنے اس ہنیڈسم کزن سے بھی ملواؤ اس کا اشارہ سمجھ کر مہرماہ کڑوا سا منھ بناتی عافیہ کا ہاتھ تھام کر حازم کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔
حازم کا چونکا دینے والا روپ دیکھ کر مہرماہ نے کن اکھیوں سے اسے چپکے سے دیکھا تھا۔

مہرماہ کو حازم سے۔۔۔۔۔ پہلے سے کہیں سے زیادہ جلن محسوس ہوئی تھی اس کی پر کمال شخصیت کو دیکھ کر وہ کن اکھیوں سے نا چاہتے ہوئے بھی بار بار حازم کو دیکھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ اس کی چوری حازم کی آنکھوں سے چھپی نہیں تھی اس کا بار بار دیکھنا حازم کو خوشی کے ساتھ ساتھ حیرتِ میں بھی مبتلا کر رہا تھا کہاں وہ ایک نظر ڈال کر دوبارہ پلٹ کر دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتی تھی کہاں آج چپکے چپکے اوپر سے نیچے تک اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ حازم اس کی اس بچکانہ حرکت پر مسکرا دیا تھا۔
عافیہ ابھی حازم کو منھ کھولے دیکھ ہی رہی تھی کی حازم موقع ملتے ہی مہرماہ کی گردن کے پاس اپنا منھ لے جا کر کان میں کچھ پھسپھسایا تھا۔
فکر نہ کریں آپ سے زیادہ پیارا نہیں لگ رہا میں!!! مہرماہ کے تو جیسے حواس ہی شل ہو گئے تھے وہ منھ کھولے حازم کے مسکراتے چہرے کی طرف کچا چبا جانے والی نظروں سے گھوری تھی یہ حملہ اتنا اچانک ہوا تھا کی مہرماہ کو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا تھا۔
اسے اپنے کان کے قریب حازم کی گرم سانسیں ابھی بھی محسوس ہو رہی تھیں وہ آئیں بائیں شائیں کرتی عافیہ کی جانب متوجہ ہو گئی تھی۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کی عافیہ وہاں پر موجود ہو کر بھی دیکھنے سے قاصر رہی تھی۔ اس نے فوراً سے بات پلٹ کر عافیہ کو حازم سے ملوایا تھا۔
یہ میرا کزن ہے حازم عباس…. اور یہ میری بیسٹ فرینڈ ہے عافیہ۔۔۔ مہرماہ یوں ایک دوسرے کو دلچسپی نہ ہونے کے باوجود ایسے ملوا رہی تھی جیسے کوئی بہت احسان کر رہی ہو حازم پر۔

میں جس کو سننا چاہتا ہوں مسلسل وہ شخص مجھ سے بات نہیں کرتا

حازم نرمی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر عافیہ سے ملا تھا۔ عافیہ تو اس کی ایک لمحے میں دیوانی ہو گئی تھی کچھ تو اس جازب شخصیت کے بنا پر تو کچھ اس کے انداز و اطوار کی وجہ سے۔

وآؤ آپ مہرماہ کے کزن ہیں آپ ہی حازم ہیں۔ مہرماہ آپ کے بارے میں بہت ذکر کرتی ہے آپ تو سچ میں بہت اچھے ہیں مہرماہ تو آویں ہی آپ کو کھڑوس کہتی ہے۔۔۔۔ عافیہ کے منھ میں جو جو آ رہا تھا وہ چہک چہک کر بولے جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کی مہرماہ اس کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی ہے۔

اب چلو گی یہ یہیں پر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے؟؟ مہرماہ جل بھن کر عافیہ سے پوچھی تھی۔
یار چل رہی ہوں نہ۔۔۔۔ آپ سے پھر ملاقات ہوگی۔۔۔۔ عافیہ نہ چاہتے ہوئے بھی حازم سے اکسکیوز کرتی مہرماہ کے ساتھ چل دی تھی۔
حازم ہولے سے مسکرا دیا تھا مہرماہ عامر اس کو کبھی کبھی بلکل ہی پاگل لگتی تھی چھوٹے بچوں کی مانند حرکتیں کرتی۔ اسے اتنا تو اندازہ بہت پہلے ہی ہو گیا تھا کی وہ اپنے دوستوں کے درمیان اس کو کون سا نام دی ہوگی۔

#

منگنی کی رسم شروع ہو چکی تھی۔ عیشہ کے ہونے والے دولہے نے اپنی دلہن کو انگھوٹی پہنا دی تھی لوگوں کی تالیوں کا ایک شور برپا ہو گیا تھا۔
رسم کی ادائیگی بھرپور طریقے سے ہو گئی تھی۔ سب ہی کے لبوں پر گہری مسکان تھی۔
سب کچھ بھلے طریقے سے ہو گیا تھا۔ کھانے کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ منگنی کی رسم کے بعد کھانے کا دور چلا تھا وئٹرز کی تعداد میں جگہ جگہ ٹولی کھڑی تھی حازم نے کھانے کا مینو بھی اے ون رکھا تھا۔ لڑکوں والوں کے یہاں سے جو مہمان آئے تھے ان کا خاص طور سے خیال رکھا جا رہا تھا۔

مہرماہ تمہارا فون کہاں ہے یار ؟؟ عافیہ اس کے ساتھ ایک ٹیبل کے پاس رکھی چئیر پر بیٹھتے ہوئے مہرماہ سے پوچھی تھی۔
یار میں تو روم میں ہی بھول گئی ہوں ایک منٹ لے کر آتی ہوں پھر سیلفیاں وغیرہ لیتے ہیں۔۔۔ مہرماہ جب تیار ہو کر باہر آئی تھی تو اس کا فون روم میں ہی رہ گیا تھا وہ بھی اسے یاد نہیں آتا اگر جو عافیہ اس سے فون کے متعلق پوچھتی نہ۔۔۔۔ وہ عافیہ کو رکنے کا کہہ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے غرارہ سنبھالتی وہ سیدھا روم میں آئی تھی۔
افف!!! اللہ میاں یہاں پر رکھ کر بھول گئی تھی یہ تو چارج بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ بیڈ پر پڑا اپنا موبائل اٹھا کر دیکھتی ہوئی خود میں ہی بڑبڑائی تھی ابھی وہ فون ہاتھ میں لے کر روم سے باہر آتی یکایک اس کے روم کی لائٹ بند ہونا شروع ہو گئی تھیں وہ نا سمجھی سے کمرے کے چاروں اطراف میں نظریں گھما کر دیکھ رہی تھی۔
لمحے کے اندر پورا کمرہ اندھیرے میں نہا گیا تھا۔
اس کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ اس سے پہلے کی اپنے فون کی ٹارچ آن کرتی کسی نے کمرے میں بڑے دھڑلے سے آ کر اندر سے دروازہ بند کر دیا تھا۔
مہرماہ کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ وہ اندھیرے کو چیرتی آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی جبھی اس کا پیر بری طرح بیڈ کے کونے سے ٹکرایا تھا۔
وہ مارے درد کے بلبلا اٹھی تھی فون بھی ہاتھ سے چھوٹ کر سیدھا بیڈ کر اندر چلا گیا تھا۔ خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں ہی نہیں کھل رہی تھیں۔
وہ منھ کھول کر جیسے ہی چلانے کی ناکام کوشش کی تھی اندر آنے والے شخص نے اس کے منھ پر ہاتھ رکھ کر اس چینخ کا گلا گھوٹ دیا تھا۔ مہرماہ کو ایسا لگ رہا تھا وہ اب اس کمرے سے کبھی باہر نہیں نکل پائے گی اس کے منھ پر بے دردی سے ہاتھ رکھ کر کسی نے بری طرح سے اس کا منھ دبایا ہوا تھا۔
اس کی سانسوں کی رفتار بھی دھیمی ہونے لگی تھی۔ باہر اس قدر شور و ہنگامہ تھا کہ کسی کے کانوں میں اس کی آواز دور دور تک نہیں پہنچ سکی تھی۔
کون ہو تم؟؟؟ کیا چاہئے تمہیں؟؟؟ اس کی آنکھیں مارے خوف سے پتھر کی مانند ساکت و جامد ہو گئی تھیں۔
ذہن بلکل ماؤف ہو چکا تھا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی مفلوج ہو چکی تھی وہ اندھیرے کی وجہ سے اس شخص کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکی تھی۔ کون تھا وہ؟؟ کیا گھر کا ہی کوئی فرد تھا؟؟کیا مہمانوں میں سے کوئی تھا۔ یہ پھر حازم عباس تھا جو اپنی تذلیل کا بدلہ لینے کے لئے اس حد تک گر گیا تھا۔ وہ اپنے کندہ ذہن پر زور ڈالتی اس شخص کا ہاتھ اپنے منھ پر سے ہٹانے کی جوڑ توڑ کوشش کرنے لگی تھی مگر اس کی کوشش بے سود ثابت ہوئی تھیں۔