Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

گھر میں گہماگہمی عروج پر تھی۔ رخصتی کی خبر سن کر سبھی حیران ہوئے تھے۔ مہرماہ غصے سے کمرے کا چکر کاٹ رہی تھی۔ وہ اس بات کو سرے سے ہضم ہی نہیں کر پا رہی تھی کی اس کی رخصتی ابھی اور اسی وقت یہ پوسیبل ہی نہیں تھا۔
عیشہ اس سے جا کر کہہ دو کہ وہ اپنی اوقات میں رہے رخصتی کا وہ سوچے بھی نہ؛؛؛ مہرماہ نے دانت پر دانت جماتے ہوئے کچکچا کر کہا۔
میں ہرگز اس رخصتی کے لئے تیار نہیں ہوں میں ابھی جا کر بابا جان سے بات کروں گی اور اس رخصتی کو یہیں پر روکوں گی۔
مہرماہ غرارے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دندناتی عامر صاحب کے کمرے کی جانب گئی تھی۔
عامر صاحب کال پر کسی سے گفتگو کر رہے تھے بیٹی کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر انہوں نے موبائل کو جیب میں رکھتے ہوئے اس کی جانب بڑھے تھے۔ جہاں مہرماہ دروازے سے لگی کھڑی تھی۔ بہت ہی کوئی احمقانہ گفتگو کرنے آئی ہو اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھتے ہوئے یہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا
کیا ہوا مہرماہ؟؟ کیوں پریشان لگ رہی ہو؟؟ عامر صاحب نے بیٹی کی جانب متغیر نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
بابا پلیز میں ابھی رخصتی کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں میری بات کا مان رکھتے ہوئے پلیز اس رخصتی کو کینسل کر دیں۔
وہ التماس بھرے لہجے میں بولی تھی۔
یکایک رخصتی کی خبر پورے گھر میں جنگل میں آگ کی مانند پھیل گئی تھی۔
عامر صاحب بیٹی کی بات سن کر حیران ہوئے تھے انہیں تو کانوں کان کوئی خبر نہیں تھی۔ انہوں نے تو رخصتی کے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔
حال کمرے میں بیٹھک لگی ہوئی تھی۔ گھر کے سبھی افراد موجود تھے۔ سوائے حاذم کے جو اس محفل میں حصّہ لینے کے بجائے اپنے دوست سے پچھلے آدھا گھنٹا سے گفتگو کرنے مصروف تھا۔
حاذم کہاں ہے؟؟ اس کو بلاؤ میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں؛ انہوں نے گھر کے ملازم کی جانب دیکھ کر حاذم کو بلانے کا اشارہ کیا تھا۔
کچھ ہی دیر بعد حازم حال کمرے میں سبھی لوگوں کے درمیان موجود تھا۔ اس کی نظروں کے عین سامنے مہرماہ غصیلی آنکھوں سمیت کھڑی اسے گھور رہی تھی گویا سالم کا سالم نگل جائے گی وہ ایک نظر اس انگارے برساتی نگاہوں کو دیکھ کر نظروں کا مفہوم پھیر کر رخ عامر صاحب کی جانب موڑ لیا تھا۔
خاموشی کا بھرم عامر صاحب نے اپنی آواز کے ذریعے توڑا تھا۔
برخوردار کیا تم ابھی رخصتی کرانا چاہتے ہو؛؛؛ وہ اپنا سوال پوچھ کر اس کے سنجیدگی بھرے چہرے کو دیکھتے ہوئے جواب کا انتظار کرنے لگے۔
رخصتی ابھی؟؟ وہ چونکا تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا یہ یکایک رخصتی کی بات کہاں سے آ گئی تھی بیچ میں؛؛؛ ہاں ہم نے سنا ہے کی تمہاری خواہش ہے کی رخصتی ابھی کر دی جائے؛؛ اگر تم ایسا چاہتے ہو تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے؛؛؛ عامر صاحب طمانیت بھرے لہجے میں کہہ کر حال کمرے میں سب کے سروں پر بم بلاسٹ کئے تھے۔
ہر کوئی اپنی جگہ ساکت کھڑا تھا۔ اتنی جلدبازی میں رخصتی کا فیصلہ کرنا یہ سبھی کے لئے حیران کر دینے والا واقع تھا۔
عامر صاحب کی بات پر حاذم لمحے بھر کو ساکت رہ گیا اس نے تو ابھی رخصتی کا کوئی ارادہ نہیں بنایا تھا یہ کیا ہو رہا تھا اس کی زندگی میں ایک کے بعد ایک حادثات؛؛؛ وہ اپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر جوں ہی کچھ بولنے کے لئے منھ کھولا تھا بیچ میں مہرماہ کود پڑی؛؛ بابا ایسا نہیں ہو سکتا میں نہیں تیار ہوں اس رخصتی کے لئے؛؛؛ اسے یکدم سے گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی سب کی باتیں سن کر؛؛ مہرماہ؛؛؛؛ حاذم آپ کا شوہر ہے آپ یہ بات مان لیں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ ایسی کوئی حماقت نہیں کریں گی جس سے مجھے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے؛؛؛ عامر صاحب کی ٹھوس آواز کمرے میں گونجی تھی وہ بات کو ہی گویا تمام کر دئے تھے۔ اب سارا کا سارا ملبہ حاذم کے اوپر گرا تھا آ کر؛؛؛ اس ذہن واقعی بلکل ماؤف ہو چکا تھا وہ عجیب سی کشمش میں الجھ کر رہ گیا تھا زندگی کا کوئی مقصد نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک طرف چچا جان تھے تو دوسری طرف ان کی لاڈلی بیٹی۔
بولو حاذم؛؛؛ تمہارا کیا فیصلہ ہے؟؟ عامر صاحب جواب طلب نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
جی چچا جان میں تیار ہوں اس رخصتی کے لئے؛؛ حاذم نے آہستگی سے کہا؛؛؛ اس کے یہ آرام سے کہے گئے الفاظ مہرماہ کے کانوں میں پگھلتے ہوئے شیشے کی مانند ٹکرا رہے تھے۔ رخصتی ابھی؛؛؛ سیریسلی؛؛؛؛ اس کو گویا مزاق لگی تھی یہ بات؛؛ وہ تمسخرانہ ہنسی؛؛ ہنسی تھی۔
حال کمرے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ رخصتی اتنی جلدبازی میں ہوگی؛؛ رخصتی کی تیاری کی جائے” تقریباً ایک گھنے بعد ہم رخصتی کر دیں گے مہرماہ کی؛؛؛ عامر صاحب اپنا اٹل فیصلہ سنا کر وہاں سے چلے گئے پیچھے سب کو ہکا بکا چھوڑ کر۔
جبکہ مہرماہ تو جیسے ہوش کی دنیا سے بے خبر ہو چکی تھی۔ اگر یہ خواب تھا تو بے حد بھیانک اور کے نتائج تو اس سے بھی زیادہ بھیانک ہونے والے تھے۔
سبھی لوگ اپنی اپنی جگہ ٹینشن میں تھے۔ سب کو ہی مہرماہ سے ہمدردی تھی۔ باری باری سب کے گلے لگ کر وہ گلا پھاڑ کر بس روئے جا رہی تھی۔ رمیض کورنر میں کھڑا یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا۔ سب کچھ پلان کے تحت بلکل الٹا ہو گیا تھا۔ لیکن اس نے بھی ٹھان لی تھی کہ وہ ایسے کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ بھلے اس کے لئے چاہے کتنا بھی وقت درکار ہو۔
کمرے میں آ کر حاذم کا سر چکرا رہا تھا۔ وہ خود سے زیادہ مہرماہ کے متعلق سوچ سوچ کر فکرمند ہو رہا تھا۔ کہیں وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے ویسے بھی اس پاگل لڑکی سے کچھ بھی بعید کیا جا سکتا تھا۔رخصتی کے متعلق تو اس نے ابھی کچھ بھی نہیں سوچا تھا لیکن چچا جان کے کہنے پر اسے سر خم کرنا پڑا وہ ان کی کسی بھی بات کو ٹال نہیں سکتا تھا اور ان کی باتوں سے حاذم کو کہیں نہ کہیں یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ خود بھی رخصتی چاہتے ہیں۔ ٹینشن سے اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔
لیکن کوئی بھی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ خیر چچا جان کی بھی بات صحیح تھی۔ مہرماہ اب اس کی بیوی تھی اس کی ساری ذمہ داریاں حاذم کے اوپر ہے اور اسے یہ ذمہ داریاں بخوبی پوری کرنی تھیں۔ اس نے روم میں ہی بیٹھ کر کراچی فون کر دیا تھا صغرا بی بی کو تاکہ وہ روم وغیرہ کی ڈسٹںنگ کروا دیں۔ تاکہ اس کے جانے کے بعد مہرما کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ تقریباً ایک گھنٹے کا بھی وقت گزر گیا تھا حالات ایسے تھے کہ کچھ کہو تو گویا الفاظ کھا جانے کو دوڑ رہے تھے۔
ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد گاڑی گیٹ پر لگ چکی تھی تو اب صاف ظاہر تھا کہ رخصتی کا وقت قریب آ چکا ہے یہ رخصتی نہیں مہرماہ کے لئے ماتم تھا اس کو تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی میت اس گھر سے جا رہی ہے۔
وہ سب سے ناراض تھی اس کی زبان پر فقل کے تالے پڑ چکے تو وہ کسی سے کچھ بھی بول نہیں رہی تھی۔
بس انکھوں سے نمکین پانی گر رہے تھے۔ سب کے لاکھ منع کرنے کے باوجود عامر صاحب کے آگے کسی کی نہ چل سکی۔ سبھی گھر والوں کا کہنا تھا کہ رخصتی ایک ہفتے رک کر کر لیتے ہیں ابھی مہرماہ فزیکلی اور منٹلی طور پر اس چیز کے لئے تیار نہیں ہے۔
لیکن یہ بات عامر صاحب سے کہنے کی ہمت کسی کی نہیں ہو رہی تھی گھر میں کسی کی نہیں چلتی سوائے عامر صاحب کے اور ان کے اس فیصلے کے آگے کسی کی بولنے کی جرت نہیں ہوئی تھی۔
آسیہ بیگم کا بھی رو رو کر برا حال تھا بیٹی کو اس حالت میں رخصت کرنا انہیں قابل قبول نہیں تھا لیکن شوہر کے آگے وہ کچھ بھی بولنے سے گریز کر رہی تھیں۔ ژالے و عیشہ بھی مہرماہ کی اس حالت پر سوائے افسوس کے اور کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ عیشہ نے تو اسے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی یہ سب تو ہونا ہی تھا تمہیں اس چیز کو قبول کر لینا چاہیے۔
لیکن مہرماہ اپنے آنسوؤں کے علاوہ کسی ایک کی سننے کو تیار نہ تھی اس کے ذہن میں بس ایک ہی چیز چل رہی تھی کہ وہ اس گھٹیا شخص کے ساتھ کیسے ایک گھر میں اکیلے رہے گی؟ اس نے تو اپنے خواب و خیالوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کے ساتھ زندگی یوں بسر ہوگی۔ جس شخص کے ساتھ وہ کبھی رات کے پہر گھر سے نہیں نکلی اب اس کے ساتھ راتوں رات ایک ہی گھر میں گزارنا اس کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ خیر سب لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لے رہے تھے کیونکہ وہ اب اس گھر کی کچھ ہی دیر کی مہمان تھی۔ رونے دھونے کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا مہرماہ کسی بت کی مانند اپنی ماں کا سہارا لے کر دروازے تک آئی تھی اور پیچھے گھر کے سبھی افراد کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔
سوائے رمیض و اس کی ماں کے؛؛؛ ژالے کا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔
اپنا من پسندیدہ شخص چھین جانے پر اسے اندر ہی اندر جیلسی بھی شدید فیل ہو رہی تھی۔ عامر صاحب نے شفقت سے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے گویا الودا کہہ ہی دیا۔ مہرماہ اپنے بابا سے اس قدر ناراض تھی کہ ان کی جانب پلٹ کر دیکھی بھی نہیں اس نے کسی کی طرف دیکھے بغیر چپ چاپ خاموشی سے جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ پھانسی کا پھندہ اس نے اپنے گلے میں ڈال لیا تھا۔
سبھی حیران تھے کہ اتنی آسانی سے مہرماہ گاڑی میں جا کر کیسے بیٹھ گئی لیکن سب کو خوشی بھی ہو رہی تھی کہ شائد اس نے اس چیز کو قبول کر لیا ہے۔
مہرماہ کی زبان پر فقل کے تالے پڑے تھے وہ ایک بھی لفظ کہنے سے گریز کی تھی اس نے خاموشی مکمل طور پر اختیار کر لی تھی۔
آسیہ بیگم بیٹی کو چٹا چٹ چومنے کے ساتھ و اس کی بلائیں لئے جا رہیں تھیں۔
انہوں نے کبھی گمان نہیں کیا تھا کہ بیٹی کو اس حالت میں الودا کہنا پڑے گا ان کی اکلوتی لاڈلی و سب سے ضدی بیٹی تھی۔ اسی اثنا میں حاذم م بھی آ چکا تھا حاذم وائٹ کلر کی شرٹ اور بلیک جئنز میں بے پناہ پرکشش لگ رہا تھا۔ اس کے گھنے و سلکی بال پیشانی پر پریشانی کی حالت میں بکھرے ہوئے تھے۔
اس کے چہرے کی ہوائیوں سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی اندر ہی اندر بہت ساری جنگیں لڑ رہا ہے مہرماہ کے لئے تو ہزار کاندھے تھے جس پر وہ سر رکھ کر رو سکتی تھی لیکن حاذم کا کیا اس کا تو کوئی نہیں تھا باپ بھی بس نام کا تھا جو کہیں دور سے کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ آخر کس کے سامنے روتا؟؟ حاذم نے خود پر کافی ضبط کیا ہوا تھا۔
امید ہے کہ میری بیٹی کا تم خیال رکھو گے حازم؛؛؛ میں اپنے جگر کا ٹکڑا تمہارے ہاتھ میں دے رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ میری بیٹی بہت ضدی ہے میں تم سے یہ امید بھی رکھتا ہوں کہ تم مجھے کبھی مایوس نہیں کرو گے وقت کے ساتھ ساتھ انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا میری مہرماہ کا خیال رکھنا؛؛ عامر صاحب اسے گلے لگا کر لرزتی ہوئی آواز میں بولے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کے متعلق وعدے لے رہے تھے حاذم کو اس وقت وہ دنیا کا سب سے بے بس باپ لگ رہا تھا۔ آپ بالکل بے فکر ہو جائیں چچا جان میں انشاءاللہ میں کبھی اپ کو مایوس نہیں کروں گا اس نے عامر صاحب کو یقین دلاتے ہوئے اطمینان بخش جواب دیا تھا۔ عامر صاحب مسکرا دئے اس کے بھی ہونٹوں پر معدوم سی مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔
اس مسکراہٹ میں رنج وغم سب ظاہر ہو رہے تھا۔ جس کو وہ لاکھ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا اسی دوران ملازم نے دو بیگ لا کر گاڑی کی ڈکی میں لا کر رکھ دئے تھے۔ اس بیگ میں مہرماہ کی ضروریات کی کچھ چیزیں آسیہ بیگم نے رکھ دی تھی۔ جو وہاں جا کر اسے اس کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔
حاذم باری باری سب سے ہاتھ ملاتا گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ سب کی انکھوں میں امید کی لہر تھی عیشہ کو تو کامل یقین تھا کہ یہ کپل دنیا کا سب سے بیسٹ کپل ہوگا جبکہ سبھی لوگ متلاشی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ واقعی وہ دونوں گاڑی میں ایک مکمل جوڑی لگ رہے تھے گویا رب تعالٰی نے دونوں کو ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا ہو۔
مہرماہ نے پیچھے پلٹ کر گھر والوں کی جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا وہ فقط اپنے ہاتھ کے ناخن کو گھور رہی تھی اس نے کسی کی طرف بھی دیکھنا کیا بات تک کرنا گوارہ نہیں کیا۔
اسے یہ لوگ اپنے دشمن نظر آ رہے تھے۔ بھلا کون سا باپ؛؛؛ اپنی بیٹی کی مرضی کے بغیر اس کی رخصتی کرتا ہے۔
اسے اپنے بابا سے بے پناہ محبت ہونے کے باوجود بھی آج سخت ناراض تھی۔ وہ ان کے اس فیصلے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی تھی۔ وہ تو انہیں دنیا کا سب سے اچھا باپ قرار دی تھی۔ لیکن آج اس کے ساتھ اس کے باپ نے بہت ناانصافی کی ہے اس کی سوچوں کا دائرہ بس عامر صاحب و آسیہ بیگم کے ارد گرد گھوم رہا تھا۔
شائد میں دنیا کی سب سے بے بس اور بد نصیب لڑکی ہوں؛؛؛ جو میرے حصے میں یہ Devil(شیطان) آیا ہے۔
گاڑی میں مکمل خاموشی کا سماں تھا۔
حاذم اسٹیرنگ پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے بیٹھا تھا اس کے ہاتھوں کی سختی سے اس کی نسیں ابھر کر سامنے آ رہیں تھیں۔ وہ گاڑی کو فل اسپیڈ سے سڑکوں پر دوڑا رہا تھا۔ رات کے اس پہر سڑک پر مکمل سناٹا چھایا تھا۔ بس ایکا دکا لوگ و گاڑیاں ہی سڑک کے کنارے نظر آ رہیں تھیں۔
مہرماہ ونڈو کھول کر باہر کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی سوچوں میں مگن تھی۔ باہر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ہواؤں کا ایک بہاؤ اسے تیزی سے چھو کر گزر رہا تھا۔
اللہ کرے یہاں پر ایک زبردست ایکسیڈینٹ ہو اور تم اسی میں بے موت مارے جاؤ حاذم عباس؛؛؛ بس تم میری زندگی سے نکل جاؤ تم مر جاؤ میں تمہیں بددعا دیتی ہوں کہ تم تمہارا ایکسیڈینٹ ہو جائے اور تم مر جاؤ میں تمہاری بیوی کیا؛؛؛ تمہاری دشمن بھی بننا پسند نہیں کروں گی؛؛؛ حاذم م عباس؛؛
اس کے سینے میں نفرت کی ایک لہر دوڑ رہی تھی اس کے زبان پر فقط ایک ہی بددعا تھی جو اس وقت اس کے دل سے نکل رہی تھی۔ کاش کہ ایکسیڈینٹ ہو جائے اور اس ایکسیڈنٹ میں حاذم عباس مارا جائے لیکن خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا سفر مکمل ہوتا جا رہا تھا اور اس کی دعاؤں کا ورد تیزی سے چل رہا تھا جبکہ دعائیں آسمان تک جانے سے پہلے زمین پر لوٹ آ رہی تھیں۔ شدت اختیاری سے رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوج کر لال ہو گئیں تھیں۔
گاڑی میں تقریباً دو گھنٹے کے سفر کرنے کے بعد وہ ہلکی غنودگی میں جانے لگی تھی آخر کب تک وہ اپنے بے جان جسم کو ہلکان کرتی رو رو کر ونڈو سیٹ پر ہی اس نے اپنا سر ٹکا لیا اور آنکھیں موند لیں ہواؤں کی سن سن بہتی لہریں اس کے چہرے پر کھیلتی زلفوں کو تنگ کر رہی تھیں۔
حاذم نے ایک نظر اس کے تیکھے نقوش پر ڈالی گویا نیند میں بھی وہ حاذم کو کچا چبا جانے کی طاقت رکھتی ہو۔ ہلکی سی ریڈ لپاسٹک جو سب ہونٹوں پر بس برائے نام ہی رہ گئیں تھیں۔ کاجل بہہ کر گال پر اپنا رنگ چھوڑ گئے تھے۔ گھنی سیاہ پلکیں آنسوں سے نم تھیں۔ وہ واقعی کوئی معجزہ لگ رہی تھی اسے معصومیت کا رنگ و ریز اس کے چہرے پر قوس قزح کی مانند سمٹا تھا۔ وہ کوئی ہوبہو اپسرا لگ رہی تھی مگر بہت بے جان و کمزور سی؛؛؛ ہوائیں مسلسل اس کے چہرے پہ کھیلتی زلفوں کو تنگ کر رہی تھیں جسے وہ کبھی ہاتھ کی انگلیوں سے کان کے پیچھے اڑستی یا کبھی ایسے ہی چھوڑ دیتی۔ حاذم اس کی جانب سے چہرے موڑ کر ڈرائیونگ پر فوکس کیا تھا۔
پندرہ منٹ کی فاسٹ ڈرائیو کے بعد وہ لوگ ولا میں پہنج ہی گئے تھے۔ گاڑی کا ہارن دینے پر نیند میں ملتی آنکھیں رگڑتا واچ مین نمودار ہوا اس نے نیند کی غنودگی میں ہی دونوں انکھیں میچ کر بڑا سا گیٹ کھولا تھا۔ حاذم لائٹس آن کرتا ہوا گاڑی پورچ میں لے جا کر کھڑی کیا تھا۔ اپنی سائڈ کا دروازہ بند کر کے وہ مہرماہ کی طرف مڑا تھا مہرماہ ابھی بھی غنودگی میں ہی تھی۔
دو سے تین بار پکارنے پر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تو مجبوراً
حاذم نے اپنا ذرا سا ہاتھ بڑھا کر اس کے کاندھے پر ہلکا سا زور دیا؛؛؛ مہرماہ کو جیسے کرنٹ چار سو چالیس واٹ کا لگا ہو اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولی اور حاذم کا ہاتھ اپنے بازوؤں پر دیکھ کر شدت سے چینخی تھی۔
اگر جو حاذم عین موقع پر اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھتا تو شائد دو چار اپارٹمنٹ کے لوگ تو واقعی جاگ جاتے کی خدا نخواستہ کوئی حادثہ ہو گیا ہو۔
یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے؟؟؟ یہ کون سا طریقہ ہے کسی کو ٹچ کر کے اٹھانے کا؟؟؟ حاذم کا ہاتھ اپنے منہ پر سے جھٹک کر اس نے لفظ ٹچ پر زور دیتے ہوئے چینخا۔
اپنی غلط فہمی دور کر لیں میں آپ کو ٹچ کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا بس آپ کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا اب ساری رات یہاں کھڑے رہ کر میں آپ کی پہرے داری تو نہیں کر سکتا نہ؛؛؛؛ اس نے اپنی صفائی دینا ضروری سمجھا۔ اس کا دو بدو جواب سن کر وہ تمسخرانہ ہنسی ہنسی تھی۔
ٹچ کرنے کا تم اپنے ڈریمز میں بھی مت سوچنا میں تمہیں یہ حق کبھی نہیں دوں گی کہ تم مجھے اپنے ناخن سے بھی ٹچ کر سکو۔ وہ اسے گھورتے ہوئے وارن کی تھی۔
بے فکر رہیں؛؛؛ میں اپنے ناخن سے ٹچ کر کے جراثیم کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔ حاذم نے دو بدو جواب دیا اس کا جواب سن کر مہرماہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گئے تھے اس نے کچا چبا جانے والی نظروں سے حازم کو گھورا تھا۔
اگر جو یہ کوئی صبح کا وقت ہوتا تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتی خیر رات کے ڈھائی بج رہے تھے اور وہ اس وقت لڑ کر اپنا موڈ مزید خراب نہیں کرنا چاہتی تھی جو آلریڈی خراب تھا پہلے سے۔
اب میرے سامنے سے ہٹو گے تو میں گاڑی سے اتروں گی نا؛؛؛؛ یہ میرے منہ پر چڑھ کر کھڑے رہو گے؟؟ وہ حقارت سے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ کر گاڑی سے نیچے اترنے کا راستہ مانگ رہی تھی۔
حاذم اس کا مطالبہ سن کر پیچھے ہٹ گیا اور اسے اترنے کا راستہ دیا تھا۔ وہ اپنا غرارہ دونوں ہاتھوں سے سنبھال کر بمشکل گاڑی سے نیچے اتری تھی۔
چاروں اور لائٹس جل رہی تھی جس کی روشنی کی بدولت وہ اپنے قدم جما جما کر زمین پر رکھ رہی تھی۔ اگر ذرا سی بھی جو اونچ نیچ ہو جاتی تو یقیناً وہ پھنس کر زمین پر گر جاتی۔ حاذم اپنے ایک ہاتھ میں گاڑی کی کیز و دوسرے ہاتھ میں سیلفون لیا تھا۔ جبکہ ملازم فوراً سے آ کر ڈکی کھول کر اس کے اشاروں پر دونوں بیگز کو اندر لے جا چکا تھا۔
حاذم اپنے قدم آہستہ آہستہ اگے بڑھا رہا تھا تاکہ مہرماہ اس کی برابری میں چل سکے جبکہ مہرماہ ایک قدم کو بڑھانے میں پانچ سیکنڈ کا وقت لے رہی تھی غرارہ تھا کہ اس سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا اور وہ خود بھی تپی ہوئی تھی۔ گویا پیر کے نیچے زمین نہیں کسی نے دہکتا ہوا کوئلہ لاکر رکھ دیا ہو۔
دونوں ولا کے اندر آ چکے تھے۔ وائٹ کلر کا یہ ولا واقعی خوبصورت سنگ مرمر کے پتھروں سے بنا ہوا تھا۔ اندر آنے کے بعد اس کے سامنے جو شخصیت آئی تھی اسے دیکھ کر مہرماہ کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ وہ سامنے کھڑی اس شخصیت کو دیکھ رہی تھی اور سوچوں کا تانا بانا اپنے ذہن میں بنے جا رہی تھی کہ بھلا اس سنسان گھر میں یہ کون ہے کہیں یہ حاذم کی تو؟؟؟؟ اس کے ذہن میں جھماکا ہوا تھا۔

,