Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

یہ تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟؟ گھٹیا شخص مجھے نیچے اتارو آخر ہاتھ بھی کیسے لگا سکتے ہو تم مجھے؛؛ تمہاری اتنی مجال؛؛؛ میں کہہ رہی ہوں مجھے نیچے اتارو؛؛ وہ غصے سے لال پیلی ہوتی؛؛؛ اس کے بازوؤں کے گھیراؤ میں ماہی بیاب کے مانند تڑپھڑا رہی تھی۔
حاذم اسے اس کے کمرے میں لے جانے کے بجائے سیدھا اپنے کمرے میں لا کر بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔ وہ ہونق سی بنی اپنی جگہ بیٹھی تھی۔
یہ تو میرا کمرہ نہیں ہے؛؛؛ پھر مجھے یہاں پر لانے کا مقصد؟؟ مہرماہ کے تیکھے نقوش تن گئے تھے۔
جی آپ کا کمرہ نہیں ہے لیکن فلحال آپ کچھ دیر کے لئے یہی پر رہیں گی؛؛؛ اس کے بعد ہمیں اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے۔ حاذم اسے اطمینان سے بتا کر اس نے سر پر بم پھوڑا تھا۔
السلام آباد لیکن کیوں؟؟ میں نہیں جاؤں گی؛؛ وہ منھ بسور کر تڑخ کر بولی تھی۔
ایک گھنٹے میں ہم نکل جائیں گے؛؛ تب تک کے لئے آپ آرام کریں میں صغریٰ بی سے سوپ بنانے کا کہتا ہوں؛؛ حاذم اس کی بات کو سرے سے نظر انداز کرتا کمرے سے چلا گیا تھا۔
اسلام آباد؛؛ اچانک سے لیکن کیوں؛؛؛ اس کا چہرہ لال بھبوکا ہو گیا تھا وہ الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے لگی تھی۔
🧡🧡🧡🧡

حاذم نیچے آیا تھا وہ صغریٰ بی کو سوپ بنانے کا کہہ ہی رہا تھا؛؛؛ جبھی اس کا موبائل رنگ ہوا تھا؛؛؛ اس نے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو اسکرین پر عامر صاحب کا نمبر جگمگا رہا تھا۔
وہ کال ریسیو کر کے لاؤنج میں آ کر کاوچ پر بیٹھ گیا تھا۔
سلام دعا کرنے کے بعد عامر صاحب اس کی خیر و عافیت دریافت کر رہے تھے۔
جی چچا جان الحمداللہ میں بلکل ٹھیک ہوں؛؛؛ بس ابھی ایک گھنٹے بعد اسلام آباد کے لئے نکل جاؤں گا۔ وہ انہیں اپنی خیریت دینے کے بعد آگے کے پلان کے بارے میں بتایا تھا۔
“””اچھا لیکن بیٹا کم از کم ایک ہفتہ تو رہ لیتے؛؛؛
عامر صاحب اس کے اتنی جلدی جانے کے فیصلہ سن کر متفکر ہوئے تھے۔
نہیں چچا جان؛؛؛؛ آفس کا بھی کام ہے؛؛؛ ایک دو میٹنگس تو میں پہلے ہی کینسل کر چکا ہوں؛؛ اب جانا ہی پڑے گا؛؛؛ اس نے آہستگی سے جواب دیا۔
ٹھیک ہے؛؛؛ جیسی تمہاری مرضی؛؛؛ اور مجھے امید ہے کہ اب تک مہرماہ کچھ حد تک سنبھل چکی ہوگی؟؟ عامر صاحب لاڈلی بیٹی کے متعلق پوچھے تھے۔ اپنی بیٹی کی ناراضگی سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔
جی جی؛؛ آپ فکر نہ کریں وہ بلکل ٹھیک ہے؛؛ آرام کر رہی ہے؛؛ حاذم ذرا محتاط انداز میں بولا تھا۔
مجھے تم سے یہی امید تھی حاذم؛؛ اس کا جواب سن کر عامر صاحب کافی حد تک پرسکون ہو گئے تھے۔
اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ ان کی لاڈلی ابھی چند منٹ پہلے ہسپتال سے آئی ہے۔
میں اور تمہاری چچی جان جلد ہی چکر لگائیں گے؛؛؛ انشاللہ؛؛؛ عامر صاحب کا فون اسپیکر پر تھا۔ ان کے آسیہ بیگم بھی موجود تھیں۔ بیٹی کی آواز سننے کو ان کے کان ترس گئے تھے۔
جی جیسی آپ کی مرضی چچا جان؛؛؛ حاذم ان کے آنے کی بات سن کر خوش ہو گیا تھا۔اور پھر چند یہاں وہاں و آفس کی باتیں کر کے اس نے کال کٹ کر دی تھی۔

🧡🧡🧡🧡

صغریٰ بی اسے سوپ پلانے کے بعد دوا دے کر چلی گئیں تھیں۔ وہ ابھی دواؤں کے زیر اثر تھی۔ نیم گنودگی میں اس نے آنکھیں بند کی ہوئیں تھیں۔
حاذم کچھ وقت بیت جانے پر کمرے میں آیا تھا؛؛؛ اور سامنے ہی بیڈ پر سوئی اس کی نظر مہرماہ پر پڑی تھی۔ چہرہ بلکل زرد پتوں کی مانند ہو گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک ہی لمحے میں اس کا سارا خون نچوڑ گیا ہو۔ وہ بہت کمزور سی لگنے لگی تھی۔
حاذم اس کو کمرے کی دہلیز پر کھڑے ہو کر بڑے فرصت سے دیکھ رہا تھا۔ ایسے تو وہ ہمیشہ ہی اس کو کاٹ کھانے کو دوڈتی تھی۔
مہرماہ نیند میں کسمکسائی تھی۔ حاذم نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔
مہرماہ نیم گنودگی میں ہونے کے باوجود اسے حاذم کی موجودگی کا کمرے میں ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔
اس نے کسممسکاتے ہوئے پوری آنکھ کھول دی تھی؛؛؛ طبیعت پر بوجھل پن کسی حد تک کم ہو گیا تھا؛؛؛ بخار بھی اتر گیا تھا۔
سامنے ہی حاذم دراز کھول کر اپنے کپڑے نکال رہا تھا۔
مہرماہ آنکھ ملتی تکیئے کا سہارا لے کر اٹھ کر بیٹھی تھی۔
اٹھ گئیں آپ امید ہے نیند اچھی آئی ہوگی؛؛؛ وہ ڈریسنگ ٹیبل کی درواز کھول کر کچھ تلاش کرتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا تھا۔
تم کہیں جا رہے ہو؟؟ مہرماہ کن انکھیوں سے اس کی پیکنگ دیکھ کر دلچسپی نہ ہوتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی تھی۔
میں نہیں ہم دونوں جا رہیں ہیں؛؛ وہ ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیومز کی شیشی اٹھا کر بیگ میں رکھتے ہوئے جواب دیا تھا۔
لیکن کیوں؟؟ مہرماہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھی تھی۔
کیونکہ ہم یہاں رہنے نہیں آئیں ہیں؛؛ بس میں کبھی کبھار یہاں آ جاتا ہوں؛؛ اور یہاں سے میرا آفس بھی دور پڑتا ہے۔ جس سے ٹریولنگ میں مجھے کافی مشکل ہوتی ہے۔ حاذم مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا۔
مہرماہ اس کا جواب سن کر خاموش ہو گئی تھی۔
آپ جلد از جلد فریش ہو جائیں پھر ہم نکلتے ہیں؛؛ حاذم کا رخ اب اس کی طرف تھا۔
ہممم؛؛ حکم تو ایسا دے رہا ہے؛؛؛ جیسے میں نوکر ہوں اس کی جو کہے گا وہ مانوں گی؛؛؛ وہ بھنویں سکوڑ کر خلاف توقع منھ بنا کر خود ہی میں سوچی تھی۔
اگر آپ تیار ہیں تو چلیں؟؟ حاذم کو یقین تھا کہ وہ ابھی واویلا مچانے کا سوچ رہی ہے؛؛؛ وہ اسے کوئی بھی موقع دئے بغیر جلدبازی کا مظاہرہ کیا تھا۔
اگر یہ یہاں نہیں رہے گا؛؛ تو میں کیسے رہوں گی؛؛؛ اکیلے اتنے بڑے گھر میں؟؟ وہ الجھی ہوئی گتھی سلجھانے میں لگی ہوئی تھی۔
حاذم سے لاکھ اختلافات سہی؛؛؛ لیکن وہ اس گھر میں اکیلے رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
مہرماہ؟؟؟ اسے کھویا ہوا پا کر حاذم نے دوبارہ سے اسے آواز دی۔
ہممم؛؛؛؛ وہ یکدم اپنی سوچوں کے دائرے سے باہر آئی تھی۔
چلیں؟؟ حاذم پوچھا تھا۔
ہمم؛؛ اس نے کچھ بھی بولنے سے گریز کیا تھا۔ اور بیڈ کا سہارا لے کر بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
اسی اثناء میں قادر بابا کمرے میں تشریف لائے تھے؛؛ حاذم انھیں دونوں بیگز پکڑایا تھا۔ وہ بیگز لے کر نیچے چلے گئے تھے۔
حاذم کیز ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھا کر خود نیچے کی طرف بڑھا تھا۔
جبکہ مہرماہ آہستہ آہستہ سڑھیاں اتر رہی تھی۔
پانچ منٹ کے وقفے کے بعد سبھی افراد گاڑی کے پورچ تک پہنچے تھے۔ قادر بابا دونوں بیگز کو گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اندر رکھے تھے۔
گھر کے تقریباً سبھی ملازم انہیں گاڑی تک پہنچانے آئے تھے۔
حاذم کا ان لوگوں سے بہت پرانا رشتہ تھا۔ وہ لوگ بھی حاذم کی دل سے عزت کرتے تھے۔
حاذم باری باری سب سے ملتے ہوئے کوئی نہ کوئی ہدایت دے رہا تھا۔
جبکہ مہرماہ سب کو نظر انداز کر کے گاڑی میں بیٹھ کر اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔
صغریٰ بی اسے منھ بھر بھر کے دعائیں دے رہی تھیں۔ اس نے فقط صغریٰ بی سے سلام دعا کی تھی کیونکہ وہ جب سے آئی تھی صغریٰ بی ہی صبح شام اس کے ساتھ رہتی تھیں۔
حاذم سب سے الوداعی ملاقات کر کے گاڑی میں آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ اور پھر کچھ ہی لمحوں میں گاڑی زن کرتی پیچھے دھول اڑاتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔

گاڑی میں دونوں خاموش بیٹھے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات کرنے کی کوشش نہیں کی؛؛ حاذم کا پورا دھیان فقط ڈراوئنگ پر تھا جبکہ مہرماہ ونڈو سے باہر بے دلی سے نیلے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔
ایک گھنٹے کی فاسٹ ڈرائیو کے بعد بلاآخر وہ دونوں پہنچ ہی گئے تھے۔ حاذم پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے پیچھے سے دونوں بیگز کو باہر نکالا تھا۔ خاموشی کا تسلسل اسی طرح تھا۔
مہرماہ اپنی جانب کا گیٹ کھول کر باہر آئی تھی۔ گاڑی لاک کر کے کیز کو جیب میں رکھ کر حاذم اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا۔ دونوں بیگز کو ہاتھ میں تھامے بلڈنگ کے اندر گیا تھا۔ اسلام آباد کے نہایت ہی خوبصورت علاقے میں اس کا فلیٹ تھا۔ اور یہی سے پندرہ منٹ کی دوری پر اس کا آفس بھی تھا۔
مہرماہ سب کچھ دیکھ کر کنفیوزڈ تھی۔ خیر وہ حاذم سے قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ اپنے فلیٹ میں پہنچ گئے تھے۔
حاذم بیگز کو صوفے پر رکھ کر خود بھی بیٹھ گیا تھا۔ تھکن کا شدید غلبہ طاری تھا اس پر؛؛؛ وہ صبح سے مسلسل ڈرائیو کئے جا رہا تھا۔
اس کے برعکس مہرماہ بلکل فریش تھی؛؛؛ اس کی تو نیند بھی پوری ہو گئی تھی۔ وہ کاندھے پر سے شال کو اتار کر صوفے پر اچھالی تھی۔ اور خود مزے سے بیٹھ گئی تھی۔
بظاہر تو اسے کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی وہ اس لکزریز فلیٹ کو دیکھ کر سراہے بغیر نہ رہ سکی تھی۔ وہ کن انکھیوں سے ہر چیز کو حسرتِ بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ سب پہلی بار دیکھ رہی ہو؛؛؛ ہاں البتہ اتنی خوبصورت ڈیکوریشن وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ ہر چیز بہت نفیس طریقے سے اپنی جگہ پر رکھی گئی تھی یوں لگ رہا تھا کہ کسی نے اسے کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔
تو اس کا مطلب حاذم یہی پر رہتا ہے؛؛؛ اس نے سوچتے ہوئے من ہی من میں بڑبڑایا۔
حاذم کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا؛؛؛ کچھ تو شدید تھکان کی وجہ سے تو کچھ نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے؛؛؛ وہ انگلیوں کی پوروں سے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ آہستہ آہستہ زور دے کر دبانے کی کوشش کیا تھا۔
میرا کمرہ کون سا ہے؟؟؟ مہرماہ اسے دیکھ رہی تھی کہ اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہو رہا ہے؛؛؛ مگر مجال تھی کی وہ سنگ دل لڑکی کبھی اس کے لئے جھوٹی نرمی کا ہی دکھاوا کر دیتی ضروری نہیں ہے کہ ہر چیز محبت ہونے پر ہی ہو کبھی کبھار بندے کو انسانیت بھی دکھا لینی چاہیے؛؛؛؛ اسے تو سرے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔ وہ لاپرواہی سے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھی تھی۔
میرا؟؟؟ میرا نہیں ہمارا کمرہ؛؛؛ چلیں آپ کو دکھاتا ہوں؛؛ حاذم اسے اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
کیا مطلب ہمارا؟؟ کہیں یہ اس خوشفہمی میں تو نہیں ہے کہ میں اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہوں گی؟؟؟ وہ قیاس آرائیاں کرتی ہوئی اس کے پیچھے لپکی تھی۔
حاذم اسے ایک بہت بڑے سے کمرے میں لے گیا تھا۔ بہت بڑا سا بیڈ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت خوبصورت سا ڈریسنگ ٹیبل بھی سائڈ میں لگا تھا۔ جس پر مختلف قسم کے الگ الگ برانڈ کے پرفیومز بھی رکھے ہوئے تھے۔
وہ ایک نگاہ کمرے پر دوڈا کر ٹھنڈی آہ بھر کر بولنا شروع کی تھی۔
یہ تو تمہارا کمرہ ہے نہ؟؟ میں نے میرا کمرہ پوچھا ہے؛؛؛ اس نے خود کو لاپروا دکھاتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
نہیں تو؛؛؛ یہ فقط میرا نہیں اب سے ہمارا کمرہ ہے؛؛ یعنی کی میرا اور آپ کا؛؛؛ حاذم نے فوراً اس کی غلطفہمی دور کی تھی۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو؟؟
نہیں تو؛؛؛
پھر تم نے کیسے سوچ لیا کہ ہم دونوں ایک ہی بیڈ پر سوئیں گے؟؟ وہ تشویش ناک لہجے میں بولی۔
آپ کو کوئی مسلہ ہے میرا ساتھ سونے میں؟؟ حاذم نے اطمینان سے پوچھا۔
آفکورس مسلہ ہے” مہرماہ چڑ کر بولی۔
تو آپ باہر صوفے پر سو جائیے گا؛؛؛ حاذم نے آرام سے مسلے کا حل نکالا تھا۔
وآٹ؟؟؟ میں باہر صوفے پر سوں؟؟ مہرماہ بے بقینی سے اسے دیکھی تھی۔
مسلہ آپ کو ہے تو آپ ہی سوئیں گی؛؛ اور زیادہ نہیں بس کبھی کبھار دو تین کالی جنگلی بلیاں آتی ہیں جو ساری رات جن و بھوت کی شکل میں آوازیں نکالتی ہیں؛؛ اور ہاں اتفاقاً کتے بھی آ جاتے ہیں جو باہر بھونکتے ہیں۔ حاذم کا وہی سنجیدہ لہجہ؛؛ لیکن آنکھوں میں شرارت کا عنصر صاف نمایاں ہو رہا تھا؛؛؛ جس کو مہرماہ دیکھنے سے قاصر تھی۔
جنگلی بلیاں؟؟ کتے؟؟ مہرماہ کو سوچ کر ہی خوف آیا تھا۔
جی؛؛؛ حاذم نے جی لفظ پر زور دیا تھا۔
مہرماہ پریشانی سے ہونٹ کا کونہ کچلنے لگی تھی۔
حاذم اپنی بے ساختہ ابھرنے والی مسکراہٹ کو بمشکل دباتے ہوئے دراز سے ٹاول و کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گیا تھا جبکہ وہ ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ وہ سوئے گی کہاں؟؟
دس منٹ بعد حازم شاور لے کر باہر آیا تھا۔ ہاف سی گرین کلر کی ٹی شرٹ و ٹراؤزر میں وہ انتہا کا جاذب شخصیت کا مالک لگ رہا تھا۔ تولیہ سے اپنے گیلے بالوں کو رگڑتے ہوئے وہ آئینے کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا۔ عین اس کی نظروں کے سامنے مہرماہ منھ بنائے بیٹھی تھی جس کو وہ آئینے کے اس پار صاف دیکھ سکتا تھا۔
اگر باہر یہ سب پرابلمز ہیں تو مجھے دوسرے کمرے میں رہنا ہے؛؛ آخر وہ کافی سوچ سمجھ کر بول ہی دی تھی۔ یہاں اس فلیٹ میں وہ اکیلے اسی کے رحم و کرم پر تھی سارے مطالبے اس کو اسی سے کرنے تھے۔
دیکھیں بیشک آپ دوسرے والے روم میں رہ سکتی ہیں لیکن میں پہلے سے آگاہ کر دیتا ہوں کہ اس روم میں اکثر و بیشتر سانپ نکلتے ہیں؛؛ تو خدا نخواستہ…..وہ اپنی بات کو ادھورا چھوڑ کر آئینے کے سامنے کھڑا خود پر نائٹ فرمیوز کی بوتل اٹھا کر چھڑکتے ہوئے معصومیت سے بولا تھا۔
سانپ؟؟ مہرماہ کے تو رونگٹے ہی کھڑے ہو گئے تھے۔
آپ اتنی بہادر ہیں یقیناً سانپ سے نہیں ڈرتی ہونگی؛؛؛ بلکہ وہ تو آپ کو ہی دیکھ کر ڈر کر بھاگ جائے گا انفیکٹ آپ سانپ سے زیادہ بہادر ہیں۔ حاذم معنی خیزی سے اس کے چہرے اترتے چڑھتے رنگ کو آئینے میں سے دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تھا۔
کیا مطلب؟؟ مہرماہ کا ذہن کہیں اور تھا جس وجہ سے وہ حاذم کی بات پر غور نہیں کر سکی تھی؛؛؛ اگر جو اسے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ ڈھکے چھپے لفظوں میں حاذم نے اس کا مذاق بنایا ہے تو وہ اسے کچا نگل جاتی۔
کچھ نہیں؛؛؛ حاذم نفی میں سر ہلایا۔
پھر آپ نے کیا سوچا؟؟ حاذم رخ اس کی جانب کرتے ہوئے اس کا آخری فیصلہ جاننا چاہا۔
ٹھیک ہے مجبوراً میں اسی کمرے میں رہوں گی؛؛؛ لیکن یہ مت سمجھنا کہ میں اپنی مرضی سے رہوں گی؛؛ بلکہ مجبوری میں رہوں گی؛؛؛ کیونکہ تمہارا آدھا گھر تو پہلے سے ہی چڑیا گھر بنا ہوا ہے کہیں کتے تو کہیں بلی تو کہیں سانپ آ جاتے ہیں؛؛ وہ غصے سے تلملا کر بولی تھی۔
لیکن ایک شرط پر؛؛ بیڈ پر بیچ میں کشنز رکھے ہونگے جس سے ہم غلطی سے بھی ٹچ نہ ہو؛؛؛ وہ اکڑ کر اسے وارننگ دی تھی۔ گویا یہ فیصلہ نہ ماننے پر وہ اسے بڑی سے بڑی سزا بھی دے سکتی ہے۔
یعنی آپ چاہتی ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کا بورڈر ہو؛؛؛ جس کو دونوں لوگ پار نہیں کر سکتے؛؛؛ وہ ہنسی کو ضبط کر کے اس کا مطالبہ سن کر جزباتی انداز میں بولا تھا۔
یہی سمجھ لو؛؛؛ اس نے بات ہی تمام کر دی تھی۔
جو حکم آپ کا؛؛؛ اس کو مجبوراً ماننا ہی تھا۔
حاذم ٹاول بیڈ پر اچھال کر کمرے سے جانے لگا تھا کہ پیچھے سے مہرماہ نے اسے آواز لگائی تھی۔
بات سنو؟
جی؛؛ وہ پلٹا تھا۔
یہ جو تم نے ٹاول بیڈ پر پھینکا ہے؛؛؛ تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اس کو اٹھاوں گی؛؛؛ اگر ہم ایک کمرے میں رہیں رہیں ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تمہارے سارے کام میں کروں گی؛؛؛ اس نے ہاتھ سے تولیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے منھ بسور کر کہا تھا۔
اوہ!!! محترمہ تو جتا ایسے رہیں ہیں کہ جیسے میرے کتنے کام کر دئے ہیں انہوں نے؛؛؛ حاذم اس کا طعنہ سن کر بیڈ سے ٹاول کو کھینچ کر اٹھایا تھا؛؛؛
دونوں ہی ایک دوسرے کو کڑے تیوروں سے گھور رہے تھے۔
حاذم ٹاول لے کر کمرے سے باہر آ کر لاؤنج میں بیٹھ گیا تھا۔ اس کے پیچھے مہرماہ بھی دندناتے ہوئے آئی تھی۔
مجھے بھوک لگی ہے”؟؟ مہرماہ چھوٹے بچوں کی طرح منھ پھلائے اس سے کہہ رہی تھی۔ بھوک تو اسے شدید قسم کی لگی تھی اس نے ولا میں محض صغریٰ بی کے بنائے ہوئے ہاتھ کا سوپ ہی پیا تھا اور تب سے بھوکے پیٹ تھی۔
اچھا کیا کھانا ہے آپ کو؟؟ اس نے جتنے مان سے پوچھا تھا اگر جو مہرماہ عامر کی جگہ کوئی دوسری لڑکی ہوتی تو اپنی قسمت پر واقعی رشک کرتی۔ حاذم کا سر درد سے برا حال ہو رہا تھا۔ مگر مجال ہے وہ اس کے سامنے اففف بھی کرتا۔
بریانی اور باہر سے آڈر نہیں کرنی ہے گھر کی بنی ہوئی بریانی کھانی ہے مجھے؛؛؛؛ مہرماہ جس ڈھٹائی سے بریانی کا مطالبہ کر رہی تھی حاذم کی جگہ کوئی دوسرا مرد ہوتا تو دن میں تارے نظر آ جاتے؛؛؛ لیکن وہ حاذم عباس تھا سب سے مختلف؛؛؛

پھر تو اس کے لئے آپ کو تھوڑا سا انتظار کرنا ہوگا۔
ہاں ٹھیک ہے؛؛؛ مہرماہ نے گویا احسان کیا ہو اس پر۔

میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا!! بربادیوں کا سوگ منانا فضول تھا بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا!! جو مل گیا اُسی کو مقّدر سمجھ لیا

جو کھو گیا میں اُس کو بھلاتا چلا گیا!!
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اُس مقام پہ لاتا چلا گیا!!

حاذم اسے کچھ پل کے لئے تکتا ہی رہ گیا تھا کون سا سحر تھا اس نازک سی لڑکی میں؛؛؛ جو اسے اپنی اور کھنچنے کا پورا ہنر رکھتی تھی۔
حاذم اس سارے واقعات کے بعد پہلی بار کھل کر مسکرایا تھا۔ اسے مہرماہ عامر فقط اچھی نہیں لگتی تھی وہ تو اس سے عشق کرتا تھا۔
کچن میں آ کر اس نے سب سے پہلے چکن فریج سے نکالا تھا جس کو صبح ہی حاذم نے اپنے دوست حمزہ کے ذریعے خرید کر رکھوا دیا تھا۔
وہ کھانا بنانے میں ایکسپرٹ تو تھا نہیں؛؛؛ لیکن پھر بھی اس نے اپنی جانب سے پوری کوشش تھی کہ اسے پسند آ جائے؛؛؛ کچھ تو وہ خود سے تو کچھ یوٹیوب کے ذریعے سے کسی نہ کسی طرح بنا ہی لیا تھا۔
عجیب بے حس لڑکی تھی؛؛؛ وہ اکیلے کچن میں کام کر رہا تھا اور وہ مزے سے لاؤنج میں بیٹھ کر ٹی وی لگا کر دیکھ رہی تھی۔
کچھ دیر کی مشقت کے بعد بریانی بن کر تیار ہو ہی گئی تھی۔ ویسے تو حاذم کبھی کبھار ہی گھر میں کوئی ڈش بناتا تھا؛؛؛ ورنہ زیادہ تر وہ باہر سے ہی کھاتا تھا۔ بریانی اس نے فرسٹ ٹائم ٹرائی کیا تھا۔
پلیٹ میں گرما گرم بریانی نکال کر وہ ڈائننگ ٹیبل پر لاکر رکھا تھا؛؛؛ جہاں مہرماہ پہلے سے ہی چیئر پر بیٹھی گال پر ہاتھ رکھ کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔
بھانپ اڑاتی گرماگرم خوشبودار بریانی مہرماہ کے منھ میں پانی بھر دئے تھے۔
رائتہ کہاں پر ہے؟؟ اس نے ٹیبل پر رائتہ کو نہ دیکھ کر اکھڑے ہوئے انداز میں پوچھا تھا۔
سوری میں بنا کر لاتا ہوں؛؛؛ حاذم عباس نہ تو کوئی کمزور مرد تھا اور نہ ہی بیوی کا مرید یہ تو اس کی پروقار شخصیت تھی؛؛؛ جو اسے ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی اور اپنے من پسند شخص کے لئے تو کچھ بھی کیا جا سکتا؛؛؛ مہرماہ عامر اس کی دن رات مانگی گئی دعاؤں کا سلہ تھی۔
مہرماہ اپنے پلیٹ میں بریانی نکال کر رائتے کا انتظار کر رہی تھی کچھ ہی دیر بعد حازم رائتے کا پلیٹ لا کر ٹیبل پر رکھا تھا۔ مہرماہ نے فوراً رائتے کو پلیٹ میں ڈال کر ایک ادا سے چممچ سے بریانی منھ میں ڈالا تھا۔
اس سے اتنی توقفیق نہیں ہوئی تھی کہ وہ حاذم کو بھی کھانے کا پوچھ لیتی۔ اسے محض اپنے آپ سے سروکار تھا حازم عباس بھوکا مرتا ہے تو مرے اسے قطعی پرواہ نہیں تھی۔
مہرماہ کو بریانی اس قدر لزیز لگی تھی کہ اس نے دوبارہ سے پلیٹ میں لیا تھا۔ مگر مجال ہے جو ایک لفظ تعریف کا منھ سے نکال دے۔ بلکہ منھ کا زاویہ بگاڑ بگاڑ کر چاولوں کو چبا رہی تھی کی کہیں حاذم کو یہ نہ خوشفہمی ہو جائے کہ اسے بریانی پسند آئی تھی۔
ڈائینگ ٹیبل پر مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں ہی خاموش تھے۔ ابھی اتنی کوئی ان کے درمیان انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرتے۔
حاذم سر درد کی وجہ سے بمشکل چند لقمے ہی زہر مار کر کے اٹھ گیا تھا؛؛؛ جبکہ مہرماہ مزے سے کھا رہی تھی۔ حاذم پانی کا گلاس لبوں سے لگا کر گھونٹ گھونٹ بھرتا سیدھا کمرے میں آیا تھا۔ دراز کھول کر اس نے سر درد کے آرام کے لئے دوا تلاش کیا تھا؛؛؛ کچھ دیر کی مشقت کے بعد دوا مل ہی گئی تھی اس نے فوری طور پر دوا کھایا تھا اب درد برداشت سے باہر تھا۔ دوا کھا کر وہ منھ کے بل بیڈ پر گرا تھا اور کچھ دیر بعد ہی وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا تھا۔
اس کے جانے کہ کچھ دیر بعد مہرماہ بھی کمرے میں ائی تھی؛؛؛ اس نے آتے ہی دیکھا کہ حاذم بیڈ پر منہ کے بل سویا ہوا تھا دنیا جہاں سے بے خبر تھکا تھکا سا حازم عباس نہایت ہی معصوم دکھ رہا تھا۔
میری زندگی برباد کر کے خود کیسے مزے سے سو رہا ہے؛؛؛
مہرماہ اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر سوچتے ہوئے پاس رکھے صوفے پر سے تقریباً چھ سات کشن گود میں پکڑ کر بیڈ تک لائی تھی۔
اس نے ایک ایک کشن کو ترتیب سے لائن میں رکھ کر گویا انڈیا اور پاکستان کا بارڈر واقعی میں بنا دیا ہو۔ یہ ایک بہت اہم کام تھا؛؛؛ جس کو وہ کر کے ہی دم لی تھی۔
حاذم عباس سے ذرا سا ٹچ ہو جانا اس کے نزدیک سانپ بچھو کے ڈنک مارنے کے برابر تھا۔
سارے کشنز کو لائین سے ٹرین کے ڈبے کی طرح رکھے ہوئے تھے۔ اور خود کلیچ سے بالوں کو آزاد کر کے سونے کے لئے لیٹ گئی تھی۔ پھر بھی اسے کہیں نہ کہیں خدشہ لاحق تھا؛؛؛ کہ کہیں وہ اس سے ٹچ نہ ہو جائے؛؛؛ وہ خود میں سمٹ کر بیڈ کے بلکل کنارے ٹکی ہوئی تھی اگر ذرا سی بھی لاپرواہی دکھاتی یقیناً نیچے گر جاتی۔
رات کے قریب دیوار گئیر میں لگی گھڑی ایک بجنے کا پیغام دے رہیں تھیں۔ مہرماہ کے ساتھ نہ جانے کیا مسلہ تھا کہ کروٹ پر کروٹ لے رہی تھی مگر نیند تھی کہ آنکھوں سے کوسوں دور؛؛؛ ایک تو حاذم کے ساتھ بیڈ پر سونے کا احساس اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
حاذم کی آنکھ رات کے نہ جانے کس پہر کھلی تھی؛؛؛ سر درد تو کسی حد تک کم ہو گیا تھا۔ مگر اسے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔ مہرماہ ایک کپ ادرک والی چائے بنا دو گی؟؟ اس نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر مہرماہ کی طرف دیکھ کر بڑے مان سے کہا تھا۔ گویا وہ ابھی اس کی جی حضوری میں اٹھ کر جا کر بنا دے گی۔
کیا؟؟؟ چائے بنا دوں میں تمہارے لئے؟؟؟ دماغ تو نہیں خراب ہو گیا تمہارا؟؟ میں کیوں تمہارے لئے چائے بناؤں؛؛؛ کیا ہو جاتا اگر وہ ذرا سی نرمی کا مظاہرہ کر دیتی؛؛؛ حاذم کی بات سن کر اس کے تیکھے نقوش فوراً تن گئے تھے۔
رات کے دو بجے اس کے منھ سے چائے کا مطالبہ سن کر وہ بگڑ ہی گئی تھی۔ خیر اگر دن کے اجالا بھی ہوتا تو وہ کونسا اس کو بنا کر پلا دیتی۔
حاذم اس کے جواب پر بلکل خاموش تھا۔ ہاں دل کہیں اندر ہی اندر مسوس کر رہ گیا تھا۔ وہ نہ جانے کن خیالوں میں گم تھا کہ اس سنگ دل لڑکی سے کہہ دیا تھا۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر خود کچن میں آ گیا تھا۔ بحث کر کے اسے اپنا سر درد مزید نہیں بڑھانا تھا۔ اس کو جاتا ہوا دیکھ مہرماہ اور بھی غصے میں آ گئی تھی۔ اس کا تو پورا ارادہ تھا لڑنے کا؛؛؛ اسے یوں محسوس ہوا تھا کہ حاذم نے اسے جواب نہ دے کر نظر انداز کیا ہے؛؛
حاذم کچن میں آیا تو ساری لائٹس ویسے کی ویسی ہی جل رہیں تھیں؛؛؛ اس نے لاؤنج میں نظر دوڑائی تو ٹی وی بھی ویسے ہی کھلا تھا۔ وہ ایک لمبی آہ بھرتا لاؤنج میں آ کر سب سے پہلے ٹی وی کو بند کیا تھا۔
کتنی خودغرض لڑکی تھی؛؛؛ کیا وہ اتنا بھی نہیں کر سکتی تھی؛؛؛ حاذم کو اچھے سے سمجھ میں آ رہا تھا کہ وہ یہ سب نفرت میں کر رہی ہے۔
وہ پھر سے کچن میں آیا تھا جبھی اس کی نظر ڈائننگ ٹیبل پر پڑی تھی؛؛ جہاں پر بریانی کھلی پڑی تھی۔ حتیٰ کہ اس کا جھوٹا پلیٹ و گلاس بھی بوتل بھی بغیر ڈھکن کے رکھا ہوا تھا۔
کتنی خودغرض ہو تم مہرماہ؛؛؛ اسے کم از کم اس سے یہ امید تو نہیں تھی۔ کیا وہ اتنا نہیں کر سکتی تھی کہ بریانی اٹھا کر کم از کم فریج میں رکھ دے۔
وہ چائے کا پانی چولہے پر چڑھا کر ڈائینگ ٹیبل سے بریانی کا پلیٹ اٹھا کر فریج میں رکھا تھا۔ اور سارے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر سنک میں رکھنے کے بعد اس نے ٹیبل صاف کیا تھا۔ اسے گندگی سے شدید نفرت تھی اس نے تو کبھی اپنا جھوٹا کپ بھی ایسے نہیں رکھا تھا۔
وہ سنک میں پڑے سارے برتنوں کو دھل کر رینک میں رکھا تھا۔ یہ تو حاذم کا صبر تھا کہ اس کی ناقابل حرکات کو بھی نظر انداز کر رہا تھا۔ ورنہ کونسے گھر کا مرد ہوگا جو رات کے دو بجے اٹھ کر بیوی کے ہوتے ہوئے بھی برتن دھلے۔ جب تک اس کی چائے بھی بن کر تیار ہو گئی تھی۔ وہ چائے کو کپ میں انڈیل کر لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا تھا۔
گرما گرم بھانپ اڑاتی چائے کا سپ لے کر وہ فقط ایک ہی نقطے پر نظر ثانی کر رہا تھا۔
کیا یہ سب اسی طرح چلے گا؛؛ کیا وہ چاہ کر بھی اس کی شدید نفرت کو محبت میں تبدیل نہیں کر پائے گا؟؟؟ وہ بھی انسان تھا اس کے اندر بھی احساسات تھے۔ اسے بھی محبت و چاہت کی ضرورت تھی۔ اس کا دل چاہ رہا اس سنگ دل لڑکی کو پکڑ کر جھنجھوڑ دے کی کہ کیا اسے دکھائی نہیں دیتا کہ وہ اس سے کس حد تک محبت کرتا ہے۔ اگر وہ ایک بار اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھ لے تو وہ محبت کا سراغ پا جاتی؛؛؛ کیونکہ حاذم عباس کی محبت لفظوں سے نہیں آنکھوں سے چھلکتی تھی۔ ابھی وہ جس طرح بے ر حمی سے اسے انکار کی تھی۔ اس کا دل سہی معنوں میں دکھا تھا۔ وہ ہارنا نہیں چاہتا اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ اس کا دل اپنی محبت سے جیت لے گا؛؛؛ لیکن مہرماہ کا رؤیہ اسے واقعی تکلیف دے رہا تھا۔

محبّت ہو بھی جائے تو میرا یہ بخت ایسا ہے!! جہاں پر ہاتھ رکھ دوں میں وہاں پر درد بڑھ جائے محبّت سرد پڑ جائے!!!

وہ اپنے پیر پر نظر ٹکائے بس اسی سنگ دل لڑکی کو سوچ رہا تھا۔ حتیٰ کہ اس کی چائے کا آخری گھونٹ رہ گیا تھا۔ وہ بے دلی سے اسے گلے کے نیچے اتارتا خالی کپ وہیں پر رکھ کر کمرے میں آیا تھا اب اور ہمت نہیں تھی۔
کمرے میں آتے ہی سامنے وہ ناز و بینار سی ایک بازو سینے پر رکھ کر گہری نیند میں سو رہی تھی۔
حاذم دروازے کا ٹیک لگا کر ہاتھ سینے پر باندھے یک ٹک اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا؛؛؛؛ کیا یہ وہی مہرماہ تھی جو لوگوں کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی تھی؛؛؛ دوسری کی مدد کے لئے اپنی جان کی بازی لگا دیتی تھی۔ پھر آخر اسی کے معاملے میں وہ اتنے بے رحم کیوں تھی۔ حاذم اسے کرب کی کیفیت میں کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل اس کے ذہن حتیٰ کہ اس کی سوچوں پر بھی وہ لڑکی آج سے نہیں پندرہ سالوں سے قبضہ کئے بیٹھی تھی۔ اب جبکہ وہ اس کی دسترس میں آ چکی تھی؛؛؛ اس کے نکاح میں تھی؛؛؛؛ پھر بھی اس سے پندرہ سال پہلے وہ جتنی دور تھی اس سے کئی گنا زیادہ دور تھی۔
حاذم ہونٹ بھینچتا دبے پاؤں چل کر بیڈ تک آیا تھا؛؛؛ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے اس کی نیند میں خلل پڑے؛؛؛؛ وہ بیڈ پر بیٹھ پر ایک لمبی لائن کشنز کی دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دیا تھا؛؛؛ اسے یہ کافی بچکانا حرکت لگ رہی تھی مہرماہ کی؛؛؛؛ اتنی لمبے بٹوارے کے بعد بھی تین چار کشنز تو اس نے خود نیند میں اپنے پیروں سے مار مار کر نیچے گرا دیئے تھے۔ جسے حاذم نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا تھا اور ٹھیک اسی طرح رکھ دیا جس طرح مہرماہ رکھ کر سوئی تھی۔ ورنہ صبح اُٹھتے ہی وہ سب سے پہلے کشنز کو جان بوجھ سے ہٹانے کا واویلا مچا کر اس کے اوپر الزام لگاتی۔
وہ بیڈ پر لیٹ گیا؛؛ اور جبرن آنکھ بند کر سونے کی کوشش کیا تھا۔

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کی لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کر جا نے کے لئے آ
پہلے تو مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کی لئے آ
کچھ تو میرے پندار محبت کا بھرم رکھ لے
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جتانے کے لئے آ
جیسے تجھ کو آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی کسی روز نہ جانے کئے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رُلانے کے لئے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہے امید
ہی آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ