Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
تقریباً ہسپتال میں تین دن گزرانے کے بعد عامر صاحب کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔
حاذم انہیں گھر لے کر آیا تھا۔ عامر صاحب کی طبیعت پہلے سے قدرے بہتر تھی وہ اب اپنے پیروں پر ہلکا پھلکا چلنے کی بھی کوشش کرنے لگے تھے۔
شام کے وقت سبھی افراد لان میں بیٹھ کر چائے وہ نگٹس کے ساتھ لطف اندوز ہو رہے تھے۔ سورج شب کی دہلیز پر اپنا قدم رکھ چکا تھا؛؛؛ گپ اندھیرا چھانے والا تھا؛؛؛ اندھیرا اپنا پیر پسار رہا تھا۔
نیم بارش کی بوندا باندی نے اپنے ٹھنڈے قطرات سے اس زمین کی تپش کو کسی حد تک کم کر دیا تھا۔ تمام چرند پرند اپنے اپنے آشیانوں کی جانب رواں دواں تھے و ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں موسم کو کئی گنا خوبصورت بنا رہی تھی۔
اس موسم میں چائے کا لطف کچھ الگ ہی ہو جاتا ہے۔
عامر صاحب سمیت سبھی لوگ چائے کی پیالی ہاتھ میں لے کر گفتگو کرتے ہوئے کسی بات پر مسکرا رہے تھے۔
سب کی زندگی میں گویا سکون آ گیا تھا۔ عامر صاحب کی طبیعت کی بہتری کی وجہ سے۔
ضامن کی بھی واپسی ہوگئی تھی وہ کچھ دن کے لئے شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔ اس وقت چھوٹے سے لے کر بڑے تک سبھی لوگ لان میں موجود تھے جبھی حازذم کو یہ موقع صحیح لگا تھا بات کرنے کا انہوں نے چائے کا ایک گھونٹ اپنے اندر اتارتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
چچا جان اب میں جانا چاہتا ہوں اور مجھے آفس کا کچھ کام ہے؛؛؛ تو کل انشاءاللہ میں صبح نکل جاؤں گا۔حاذم نے سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر اپنی بات کہی۔
عامر صاحب اس کی بات سن کر حیران ہوئے تھے۔
اتنی بھی جلدی کیا تھی؟؟ اس کو جانے کی؛؛؛ عامر صاحب چائے کی پیالی تخت پر رکھتے ہوئے ایک ہاتھ سے چشمہ آنکھ سے اتار کر رکھ کر اپنی بات کہنا شروع کئے تھے۔
حاذم لیکن اگلے ہفتے تو میں نے تمہارے نکاح کی تاریخ طے کی ہے؛؛؛ ابھی تو مجھے ہسپتال سے آئے ہوئے تین دن گزرے ہیں بیٹا؛؛؛ تمہیں اتنی جلدی کیوں ہے جاننے کی؟؟؟ اگلے ہفتے تمہارا نکاح ہے نکاح ہو جائے تو اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے کر جانا۔
عامر صاحب کو یہی موقع صحیح لگا تھا سب پر یہ بات واضح کرنے کا کی حاذم اور مہرماہ کا اگلے ہفتے نکاح ہے۔
وہاں پہ بیٹھے سبھی نفوسِ کو جیسے کرنٹ لگ گیا ہو؛؛؛ وہ حیرت زدہ نگاہوں سے عامر صاحب کی جانب دیکھ رہے تھے؛؛؛ انہیں تو اس بات کی خبر ہی نہیں تھی کی اتنا بڑا فیصلہ ہوگیا اور انہیں کانوں کان خبر نہیں ہوئی؛؛؛ سوچنے والی بات تو یہ تھی کہ یہ فیصلہ ہوا بھی تو کیسے؟؟؟ مہرماہ تو اس رشتے کے لئے راضی نہیں ہے۔
آسیہ بیگم شوہر کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
ہاں بھئی تو یہ میں سب کو بتا دوں کی اگلے ہفتے مہرماہ کا اور حاذم کا نکاح ہے؛؛؛ تو نکاح کی تیاری آج ہی سے شروع کی جائے؛؛؛ اور برخودار نکاح ہونے کے بعد تم بیشک چلے جانا۔
عامر صاحب بول رہے تھے جب کی عین حاذم کی چئیر کے سامنے والی چئیر پر ژالے بیٹھی ہوئی تھی؛؛؛ اس کو یوں محسوس ہو رہا تھا کسی نے اس کو بیچ کھائی میں دھکا دے دیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سمندر برپا تھا۔
ایسا نہیں ہوسکتا؛؛؛حاذم کا نکاح مہرماہ کے ساتھ؟؟؟؟ ایسا نہیں ہوسکتا؛؛؛؛ وہ تو حاذم سے بہت نفرت کرتی ہے؛؛؛؛ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی؛؛؛؛ وہ جیسے خود میں پاگل ہوئے جا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گال پر بکھرے تھے۔ اس نے تو ابھی محبت کو کھل کر جیا بھی نہیں تھا۔ یہ تھی اس کی قسمت ؟؟ اس کو یوں محسوس ہو رہا تھا کی اس کا سر چکرا رہا ہو۔ اور وہ کسی بھی پل زمین پر گر سکتی ہے۔
سبھی لوگ تقریباً حیرت زدہ ہی تھے؛؛؛ بڑی ہی جلدبازی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ کسی کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا؛؛؛ گویا سبھی لوگوں نے کچھ غلط سن لیا ہو۔
حاذم خود بھی اس چیز کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس کے لئے بھی یہ بات کسی بم کی مانند پھٹی تھی؛؛؛؛ اس نے چچا جان کی جانب حیرانگی سے دیکھا تھا۔ چچا جان نے تو اس سے بھی یہ بات چھپا لی تھی جبکہ وہ اس پر بات ظاہر کرتے تھے۔
“””اب تو آپ کی بیٹی مجھے زندہ نہیں چھوڑے گی چاچا جان؛؛؛؛ وہ من ہی من میں سوچ کر ہلکا سا مسکرایا تھا۔
مہرماہ سے اب سامنا کرنے کے لئے اسے بہت ہمت و طاقت کی ضرورت تھی؛؛ اب وہ سوائے لفظوں کی نہیں تلواروں سے بات کریں گی؛؛ جس کے لئے خادم کو مکمل طور پر اپنے آپ کو تیار کرنا تھا۔
بھائی صاحب لیکن اتنی بھی جلد بازی کیا ہے؟؟؟ ابھی تو آپ مکمل صحت یاب بھی نہیں ہوئے ہیں۔ رمیض کی ماں نے رمیض کی حالت کو بھانپ چکی تھیں اسلئے انہوں نے بنا دیری کئے فوراً اپنی بات رکھی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ رشتہ کسی بھی قیمت پر ہو؛؛؛ اور حاذم اس گھر کا داماد بنے؛؛؛ عامر صاحب کا یہ فیصلہ زیادہ تر لوگوں کا دل جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔
“””نہیں بھابھی بیگم میں نے فیصلہ کر لیا ہے اور اب یہ میرا اٹل فیصلہ ہے؛؛؛ عامر صاحب نے اپنا آخری فیصلہ سنا کر بات کو ختم کر دئے گویا ان کے اس فیصلے کے بیچ میں اب کوئی عمل دخل نہیں کرے گا۔
اس کے بعد پھر کسی کی ہمت نہ ہوئی کی ان سے کوئی سوال و جواب کرتا۔
دوسری جانب رمیض مٹھیاں بھینچ کر حاذم کو غصے سے دیکھ رہا تھا اس کے ساتھ یہ ایک ناانصافی ہوئی تھی۔
جس کا بدلہ لینے کے لئے وہ ایک پنجرے میں قید پنچھی کی طرح مچل رہا تھا۔ اسے مہرماہ کسی بھی قیمت پر چاہئے تھی؛؛؛ مہرماہ کو حاصل کرنے کا مطلب تھا کہ سب کچھ حاصل ہو جانا گھر سے لے کر پراپرٹی تک؛؛؛؛ وہ حاذم کو چیل سی نگاہوں سے دیکھتا اسے بہت کچھ جتانے کی کوشش کر رہا تھا؛؛؛؛ اور اسے تو مہرماہ پر غصہ آ ہی رہا تھا؛؛؛؛ اس کم عقل لڑکی کو اتنا کچھ سکھانے پڑھانے کے بعد بھی اس نے اپنی بات نہیں رکھی۔
❣️❣️❣️
آسیہ بیگم یہ خبر سنتے ہی مہرماہ کے کمرے میں آئی تھیں؛؛؛ دروازہ کھلنے پر اس کے کمرے میں کمرے میں داخل ہوئیں؛؛؛ تو دیکھا کہ مہرماہ آئینے کے سامنے بیٹھ کر اپنا عکس دیکھ سامنے رہی تھی۔ آسیہ بیگم آہستگی سے چل کر بیٹی کے قریب آئیں اور اس کی کمر تک جاتے سیاہ و سلکی بالوں کو سہلاتے ہوئے نرمی سے پیش آئیں.
, انہیں بیٹی کی حالت پر بہت ہی افسوس ہو رہا تھا وہ اپنے الفاظ کو ترتیب نہیں دے پا رہی تھیں کی اس سے کس طریقے سے بات کریں بات کرنے کا مطلب تھا کہ پھر سے ایک امڈتے ہوئے طوفان سے ٹککر لینا۔
مہرماہ؟؟ انہوں نے پیار سے اس کو پکارا۔
جی امی؛؛؛ ماں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمکین پانی بھر گئے تھے۔
میری بچی؛؛؛ تمہارے بابا نے ابھی ابھی اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے تمہارا نکاح ہے حاذم کے ساتھ؛؛؛ بیٹا میں بہت مجبور ہوں میں کیا کروں؟؟؟؟ اور مجھے لگتا ہے کہ تمہارے بابا نے تمہارے حق میں صحیح فیصلہ کیا ہے؛؛؛ ہاں پہلے مجھے حاذم سے کچھ خاص لگاؤ نہیں تھا لیکن اب بغض میں نے اپنے دل سے نکال دیا ہے؛؛؛؛ دیکھو میری لاڈو ماں باپ اولاد کے لئے کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے؛؛؛ ہماری عزت رکھ لو و اپنے باپ کا مان ؛؛؛؛مہرماہ تمہاری ماں کی یہ التجا ہے تم سے؛؛؛؛ انہوں نے اپنے ہاتھ کو اس کے سامنے جوڑتے ہو ئے التماس بھرے لہجے میں کہا۔
مہرماہ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔ اس نے اپنی ماں کا جڑا ہوا ہاتھ اپنے نرم گزار ہاتھوں میں تھام کر ان کے سینے سے جا لپٹی؛؛؛؛ اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
امی میں تیار ہو اس رشتے کے لئے؛؛ آپ نکاح کی تیاری کریں؛؛؛ وہ سسکیوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولی تھی۔
اب وہ اور کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ یہ رشتہ بھلے ہی مجبوری میں ہو رہا تھا لیکن اس میں اس کے ماں باپ کی بھلائی تھی۔
مہرماہ صرف اور صرف اپنے بابا کی بھلائی کا سوچ کر اس رشتے کے لئے ہامی بھری تھی۔
آسیہ بیگم بیٹی کے منہ سے اقرار سن کر اور بھی زیادہ حیران ہوئی تھیں۔
ان کے چہرے پر خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثرات نمایاں تھے۔ انہوں نے فوراً اس کی بلائیں لیں اور چٹا چومنے لگیں۔
انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹی اس رشتے کے لئے کبھی ہاں کرے گی؛؛؛ لیکن واقعی انہیں اس کے منہ سے یہ اقرار سن کر حیرت ہونے کے ساتھ ساتھ بے تحاشا خوشی بھی ہو رہی تھی کہ ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی بات کا مان رکھ لیا۔
ماں اور بیٹی کا کافی دیر تک رونے کا سلسلہ جاری رہا۔
ان کی نازوں میں پلی اکلوتی بیٹی بہت جلد پرائی ہونے والی تھی جس کا سوچ سوچ کر ان کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
❤️❤️❤️
لان سے اٹھ کر سبھی لوگ اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے؛؛؛؛ اسی درمیان میں حاذم کو آفس سے ایک اہم کال آئی تھی جس کے لئے اسے جلد بازی میں فوراً میٹنگ کے لئے روانہ ہونا پڑا۔ موسم بھی کافی سرد ہو چلا تھا رات کے وقت بھینی بھینی معطر ہوائیں موسم کو ٹھنڈک بخش رہیں تھیں۔ لیکن حاذم یہ میٹنگ کینسل نہیں کر سکتا تھا۔
رات کے تقریباً بارہ بجے اس کی واپسی ہوئی تھی آج کا دن اس کے لئے کافی تھکا دینے والا تھا۔
وہ بہت ہی زیادہ تھکا ہوا تھا؛؛؛ ساتھ ہی ساتھ اس کو شدید قسم کی بھوک کا احساس ہوا تھا۔
واہ آفس سے آنے کے بعد فوراً کچن کا رخ کیا تھا؛؛؛؛ سبھی لوگ اپنے اپنے کمرے میں نیند کے مزے لوٹ رہے تھے۔
۔حاذم کسی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے اس نے کچن میں آکر خود سے کچھ بنانے کا ارادہ کیا؛؛؛؛ وہ کچن میں داخل ہونے کے بعد پہلے تو لائٹس کی سوئچ آن کی چند لمحوں میں پورا کچن روشنی سے نہا گیا۔
اس نے فریج کو کھولا تو اس میں دیگر لوازمات رکھے تھے لیکن ان سب کو چھوڑ کر اس نے انڈے کو ترجیح دی کیونکہ وہ بنانے میں بھی کافی آسان تھا۔
اس نے سوچا کہ وہ انڈے کو فرائی کر کے کھا لے گا۔ اس نے انڈا فرائی کرنے کا اسٹیپ شروع کیا؛؛؛ بلیک کلر کے جینز اور سفید رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس یہ شخص کسی کی جان لینے کو جیسے تیار ہو؛؛؛؛ اس کے ساتھ ساتھ اس کی پراسرار شخصیت کے بنا پر بھی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا پوری قوت رکھتا تھا۔
اسی اثنا میں ژالے آمدگی کچن میں ہوئی تھی؛؛؛ وہ حاذم کے ہی انتظار میں نہ جانے کتنے گھنٹوں سے کھڑکی سے لگ کر کھڑی تھی اور اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی فوراً کچن میں آئی تھی۔ یہ گندمی رنگت والی لڑکی بھی کسی اپسرا سے کم نہ تھی۔
حازم کو انڈا فرائی کرتے دیکھ جلدی سے اس کے پاس آئی اور نرم گفتار لہجے میں اس نے حاذم سے کہا۔
حاذم تم رہنے دو لاؤ میں تمہارے لئے فرائی کر دیتی ہوں؛؛؛ ویسے بھی تم تھکے ہوئے ہو۔
ژالے اس کے ہاتھ سے انڈا لینے ہی لگی تھی کہ حاذم نے ہاتھ کے ذریعہ سے اس کو روک کر ہلکی سی اسمائل پاس کرتا اسے انکار کر دیا۔
نو تھینکس ژالے میں اتنا تو کر ہی سکتا ہوں؛؛؛ وہ کوکنگ تو تھوڑا بہت کر ہی لیتا تھا۔ کیونکہ وہ کراچی میں اکیلے رہنے کی وجہ سے بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ اور کچھ حالات نے بھی کرنا سکھا دئے تھے۔
ارے کوئی بات نہیں لاؤ دو میں بنا دوں تمہارے لئے؛؛؛ ژالے اس کے ہاتھ سے کسی نہ کسی طریقے سے لے کر خود بنانا چاہتی تھی اس کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے حاذم کچن میں کام کریں۔
ابھی وہ دونوں اپنی بات میں مشغول ہی تھے کہ اسی وقت مہرماہ کی کچن میں داخل ہوئی تھی فریج سے پانی کی بوتل لینے کی غرض سے۔
ان دونوں کو رات کے اس پہر کچن میں دیکھ کر اس نے ایک اچٹتی نگاہ ان پر ڈال کر فریج کی جانب بڑھ گئی اگلے لمحے بوتل نکال کر واپسی کے لئے جیسے ہی پلٹی جبھی اس کی سماعتوں سے حازم کی آواز ٹکرائی تھی۔
بہت شکریہ تمہارے ژالے؛؛؛؛ تمہارے ہاتھ کا بنا آملیٹ کھا کر تو میری بھوک واقعی مٹ جائے گی۔ حاذم نے اس کو فوراً آملیٹ کا پین پکڑایا تھا۔ جس کو ژالے خوشی خوشی تھام کر دھیمی آنچ پر پورے دل کے ساتھ بنانے میں جٹ گئی تھی۔
حاذم نے کن اکھیوں سے مہرماہ کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر جیلیسی کا تو پتہ نہیں ہاں البتہ غصے کی رمق صاف ظاہر ہو رہی تھی جس سے حازم بھرپور لطف اندوز ہوا تھا۔ و اس کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں اس کو مہرماہ کو جیلیس کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔
رسم الفت ہی اجازت نہیں دیتی ورنہ ہم تمہیں ایسا بھولیں کی صدا یاد کرو
جبھی اگلے لمحے آسیہ بیگم کچن میں آئیں تھیں۔
ژالے اور حاذم کو مسکرا کر بات کرتے ہوئے دیکھ انہیں بہت معیوب لگ رہا تھا؛؛؛؛ کیونکہ اگلے ہفتے حاذم اور مہرماہ کا نکاح تھ۔
لیکن انہیں یہ بات پسند نہیں آئی تھی کی ژالے حاذم سے اتنا لگاؤ رکھے؛؛؛؛ کیونکہ اب حازم ان کی بیٹی ان کا ہونے والا شوہر و ان کا ہونے والا داماد تھا۔ خیر انہوں نے زبان سے تو کچھ نہیں کہا۔
حاذم تھکے ہوئے لگ رہے ہو؟؟ کمرے میں جاؤ میں تمہارے لئے کچھ کھانے کا بھیجتی ہوں۔آسیہ بیگم نے حاذم کا حلیہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کافی تھک ہوا ہے؛؛؛
کیونکہ وہ شام کا گیا اب جا کر لوٹا ہے؛؛؛
حاذم ان خواتین کے بیچ میں سے نکل جانا ہی بہتر سمجھا تھا؛؛؛ وہ مہرماہ کی سائیڈ سے نکل کر چلا گیا تھا۔
اس نے مہرماہ کی جانب ایک غلط نگاہ بھی نہ ڈالی تھی؛؛؛ اسے نظر انداز کر کے گزرنا اس کے لئے آسان تو نہیں تھا لیکن اس کو نظر انداز کرنا بھی ایک آرٹ تھا جو کہ اب حاذم عباس بھی سیکھ چکا تھا۔
حاذم کے جانے کے بعد ژالے بھی کچن سے جا چکی تھی اس کو آسیہ بیگم نے آرام کا کہہ کر بھیج دیا تھا۔
مہرماہ بھی جانے کے لئے جیسے باہر کی جانب قدم بڑھائی تھی کہ آسیہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
میں یہ شامی کباب فرائی کرتی ہوں؛؛؛ تم جا کر حاذم کو اس کے کمرے میں دے کر آؤ
آسیہ بیگم اس سے کہہ کر کباب فرائی کرنے میں مشغول ہو گئیں تھیں۔
مہرماہ یہ ٹرے میں سجا کھانا اس کے کمرے تک لے جانے کا سوچ کر ہی جیسے ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔
امی میں نہیں لے کر جاؤں گی؛؛؛ اس نے سوچا کہ وہ اس کی کوئی ذر خرید غلام نہیں ہے؛؛؛ جو اس کا کھانے کا ٹرے سجا کر کمرے میں لے جا کر پہنچائے گی۔
بری بات ہے بیٹا؛؛؛ حاذم تھکا ہارا ہوا آیا ہے؛؛؛ جاؤ اس کو دے کر آؤ؛؛؛ اور اتنی ہی دیر میں سب کچھ تیار ہو چکا تھا جس کو آسیہ بیگم نے ترتیب سے ٹرے میں سجا کر اس کو پکڑایا تھا۔
مہرماہ کا موڈ بری طرح سے بگڑا تھا۔ وہ پیر پٹخ کر ٹرے تھامے حاذم کے کمرے کی جانب رخ کی تھی اور من ہی من میں بڑبڑائے جا رہی تھی خود پر ؛؛؛؛ آخر اس نے اس وقت کچن میں آنے کی حماقت ہی کیوں کی؟؟؟
اس کے کمرے کے پاس پہنچ کر اس نے دروازہ بہت تیزی سے نوک کیا گویا اگلے لمحے اگر دروازہ نہ کھلا تو وہ توڑ دے گی۔
کمینگ۔۔۔اندر سے حاذم کی بھاری بھرکم آواز گونجی تھی۔
مہرماہ تیزی سے چلتے ہوئے ہاتھ میں ٹرے تھامے اس کے بیڈ کے پاس آئی اور تقریباً ٹرے کو پٹخنے والے انداز میں رکھ کر اس کی جانب دیکھ کر زبان سے زہر اگلنا شروع کی تھی۔
میں تمہاری نوکر نہیں ہوں؛؛؛ جو تمہارا کھانا کمرے تک لے کر آؤں۔ اور یہ مت سمجھنا کی میں اس نکاح کے لئے تیار ہوئی ہوں تو؛؛؛؛ تم سے ڈر جاؤں گی؛؛؛؛ اپنی اوقات میں رہنا تم؛؛؛؛ اس نے آتے ہی ناگن کی طرح زہر پھونکنا شروع کر دیا تھا۔
اس کی زبان پر جو جو بھی آ رہا تھا وہ بغیر سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی۔
حاذم ایک لفظ نہیں بولا تھا وہ بس اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو غصے کی وجہ سے لال بھبھوکا ہو گیا تھا۔
اور ہاں!!!! اگر تمہیں لگتا ہے کہ یہ پلیٹ بھی میں اٹھا کر لے کر جاؤں گی؛؛؛؛ تو تمہاری غلط فہمی ہے خود جا کر تم کچن میں رکھ کر آؤ گے۔ مہرماہ کے پاس جب کچھ نہیں بچا بولنے کے لئے تو اس نے بات کو گھما کر دوسری طرف موڑ دیا۔
کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ کچی عمر کی لڑکی زبان کی اس قدر تیز ہو سکتی ہے؛؛؛؛ شکل سے بھی انتہائی معصوم دکھتی تھی۔
میں تیرا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا ہے کیا ہے؟؟
ہممم؛؛؛؛ وہ نفرت سے منہ موڑ کر اس کے کمرے سے تن فن کرتی باہر چلی گئی تھی؛؛؛؛وہ باہر جانے کے بعد بھی اس کے دروازے کو دھاڑ سے بند کرنا نہیں بھولی تھی۔ گویا سارا غصہ دروازے پر ہی نکال دی ہو۔
اس کے جانے کے بعد حاذم کے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ رینگی تھی؛؛؛ اس پر مہرماہ کے بولے گئے کسی بھی لفظ کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا؛؛؛؛
اس کو تو سوچ سوچ کر اس بات کی خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ کم ازکم اس نے اتنا تو کیا؛؛؛ کہ اس کے لئے کمرے تک کھانا لے کر آئی؛؛؛؛ یہ بات اس کے لئے اتنی حیران کن تھی کی وہ اپنے خوابوں و خیالوں میں بھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔
وہ یہ جانتا تھا کہ یہ ٹرے اس سے زبردستی بھجوائی گئی ہے؛؛؛؛ وہ خود تو کبھی مر کر بھی نہیں لے کر آنے والی؛؛؛ لیکن جو بھی تھا حاذم کو کچھ لمحے کے لئے یہ سب حقیقی خوشی ضرور بخش دیا تھا۔
جنگلی بلی تمہارا کیا ہوگا؟؟؟ اور مجھ بچارے کا تمہارے ساتھ کیسے گزارا ہوگا؟؟؟ اسے خود پر بے تحاشا رحم آیا تھا؛؛؛؛ اور ہنسی بھی آ رہی تھی کی ایک ایسی لڑکی اس کی قسمت میں آنے والی تھی؛؛؛ جس سے وہ کسی بھی بھی چیز کی اچھی توقع نہیں رکھ سکتا تھا۔
اس نے سوچتے ہوئے روٹی کا ایک لقمہ توڑ کر نوالہ بنا کر منھ میں رکھا تھا۔
نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اشارہ کوئی کیسے امید کا چمکے گا ستارہ کوئی
حد سے زیادہ نہ کسی سے بھی محبت کرنا
جان لے لیتا ہے جان سے پیارا کوئی
